جہاد اور فساد – تحقیقی جائزہ:


میانمار (برما) میں مسلمان ( روہینگیار) اقلیت کیقتل عام سے نسل کشی کی جا رہی ہے- اقوام عالم، اسلامی دنیا کی خاموشی اور بے حسی کی وجہ سے پاکستان کے مسلمان اس ظلم  پرمحسوس کر رہے ہیں کہ جہاد کا اعلان  کیا جائیے تاکہ مظلوم مسلمانوں کی کھل کر مدد کی جا سکے- یہ واضح ہو کہ جہاد “فی سبیلاللہ” (الله کے لئے) ہوتا ہے- ہر وہ جنگ جو مسلمان لڑے جہاد نہیں ہوسکتا-  جہاد کی تمام شرعی شرائط کو پورا کرنے کے بعد جس میں جید علماء سے مشاورت شامل ہو جہاد  کا اعلان اور اس پر عمل درآمد کرنا اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے- اس کے علاوہ علماء ،گروہ یا افراد کی طرف اعلان جہاد، فسادفی الارض ہے-

Image result for rakhine burma map
Image result for ‫برما  قتل عام‬‎
There is no time to lose! We cannot afford to dither. Our leaders must force the federal government of Myanmar to intervene and re-establish order now! Before we have another Rwanda on our hands. And we must make direct contact with our elected representatives to make them aware of the situation and urge them to action. Aung San Suu Kyi must be stirred into action, and if she is not willing, or able, to intervene swiftly, then it is time to deploy UN peacekeepers with or without her consent. If we do not, this will not be just on her. This will be on us too!
Jihad is to be ordered by and conducted under state not individuals >>> Keep reading >>>

Rohingya Genocide of Muslims in Mayanmar (Burma) >>> Updates >>>>

کچھ مسلمان سمجھتے ہیں کہ کسی بھی شخص کو چاہے وہ  دین کا تھوڑا بہت علم رکھتا ھو یا نہ، حالات کو دیکھ کر جہاد کا اعلان کر سکتا ہے کیونکہ جہاد کی آیات بہت واضح ہیں- وہ لوگ ’’پرائیویٹ جہاد‘‘کو شرعاً درست سمجھتے  ہیں-  ہر کسی کو کسی بھی معاملے میں اپنی رائے قائم کر نے کا حق حاصل ہے ، مگر واضح دلیل قرآن و سنت سے ہونا لازم ہے-  دوسری طرف دہشت گردوں کی طرف سے مسلمانوں کی تکفیر اور قتل عام ہوتا ہے اور قرآن و احادیث کی تحریف کر کہ اپنی مرضی کا مطلب نکلتے ہیں- امت مسلمه کے علماء کا ایسے تکفیری، خوارج کے گمراہ ہونے پر اجماع ہے- ان لوگوں سے بحث مباحثہ فضول ہے- ان کوکہیں .. سلام!

علماء کا قرآن و سنت کی روشنی میں اجماع ہے کہ جہاد کے اعلان کا حق صرف مسلمانوں کی حکومت کو ہے- تمام انبیاورسل کے اسوہ سے بالکل واضح ہے کہ جہاد ہمیشہ علانیہ اور حکومت کے تحت ہوتا ہے

حق جہاد بحیثیت جماعت دیا گیا ہے:

لسانی اسالیب سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ قتال کی جو آیتین بھی قرآن میں آئی ہیں، مسلمان اپنی انفرادی حیثیت میں اُن کے مخاطب ہی نہیں ہیں۔ حدودوتعزیرات کی طرح اِن آیات کے مخاطب وہ بحیثیت جماعت ہیں۔ لہٰذا اِس معاملے میں کسی اقدام کا حق بھی اُن کے نظم اجتماعی (حکومت)  ہی کو حاصل ہے۔ اُن کے اندر کا کوئی فرد یا گروہ ہرگز یہ حق نہیں رکھتا کہ اُن کی طرف سے اِس طرح کے کسی اقدام کا فیصلہ کرے۔ سورہ حج کی آیات( الحج 2:39،40)

میں ‘اُذِنَ’ کا لفظ اِسی حقیقت پر دلالت کرتا ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ قتال سے متعلق پہلا مسئلہ جوازوعدم جواز کا ہے۔

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا، وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِ ھِمْ لَقَدِیْرُ،نِالَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّا ۤاَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ.( الحج 22:39،40)

”جن سے جنگ کی جائے، اُنھیں جنگ کی اجازت دی گئی، اِس لیے کہ اُن پر ظلم ہوا ہے، اور اللہ یقینا اُن کی مدد پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ وہ جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیے گئے، صرف اِس بات پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اللہ ہے۔” ( الحج 22:39،40)

یہ قرآن کی پہلی آیات ہیں جن میں مسلمانوں ( مہاجرین) کو اِس بات کی اجازت دی گئی کہ وہ اگر چاہیں تو جارحیت کے جواب میں جنگ کا اقدام کر سکتے ہیں۔
قرآن نے بتایا ہے کہ یہ وہ لوگ تھے جنھیں بالکل بے قصور محض اِس جرم پر اُن کے گھروں سے نکلنے کے لیے مجبور کر دیا گیا کہ وہ اللہ ہی کو اپنا رب قرار دیتے ہیں۔ قریش کے شدائد و مظالم کی پوری فرد قرارداد جرم، اگر غور کیجیے تو اِس ایک جملے میں سمٹ آئی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے وطن اور گھر در کو اُس وقت تک چھوڑنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا، جب تک اُس کے لیے وطن کی سرزمین بالکل تنگ نہ کر دی جائے۔ ‘بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا’ کا اشارہ اِنھی مظالم کی طرف ہے اور قرآن نے اِنھی کی بنیاد پر مسلمانوں کو یہ حق دیا ہے کہ اب وہ جارحیت کے خلاف تلوار اٹھا سکتے ہیں۔


اللہ تعالیٰ نے قریش کی طرف سے ظلم و عدوان کے باوجود زمانہ رسالت میں  قیام حکومت کی جس شرط کے پورا ہو جانے کے بعد مسلمانوں کو اِس کی اجازت دی، اُس کے بغیر یہ اب بھی کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہو سکتا۔


نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی بنا پر فرمایا ہے:


انما الامام جنۃ، یقاتل من ورائہ و یتقی بہ.( بخاری،رقم ٢٩٥٧)


”مسلمانوں کا حکمران اُن کی سپر ہے، قتال اُسی کے پیچھے رہ کر کیا جاتا ہے اور لوگ اپنے لیے اُسی کی آڑ پکڑتے ہیں۔”


اِآج کل بعض لوگ اِس کی تردید میں صلح حدیبیہ کے بعد قریش کے خلاف ابو بصیر(رضی اللہ عنہ) کی غارت گری سے استدلال کرنا چاہتے ہیں۔ یہ محض علم و نظر کا افلاس ہے ۔قرآن مجید نے سورہ انفال (٨) کی آیت ٧٢ میں پوری صراحت کے ساتھ فرمایا ہے کہ جو لوگ ہجرت کر کے مدینہ منتقل نہیں ہو سکے، اُن کے کسی معاملے کی کوئی ذمہ داری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ریاست مدینہ کے مسلمانوں پر عائد نہیں ہوتی۔ پھر یہی نہیں، بخاری کی روایت (رقم ٢٧٣١ ) کے مطابق خود حضور نے ابو بصیر کے ایک اقدام پر یہ تبصرہ فرمایا ہے کہ ‘ویل امہ مسعر حرب لو کان لہ احد’ (اِس کی ماں پر آفت آئے، اِسے کچھ ساتھی مل گئے ہوتے تو جنگ کی آگ بھڑکا دیتا)۔ اِس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اِس معاملے میں آپ کی راے کیا تھی۔


حکومت پر بین الاقوامی معاہدات اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ حکومت کے ادارے تمام معاملات کو ملحوظ خاطر رکھ کر قومی پالیسیاں بناتے ہیں، جزباتی ہجوم اور حکومت میں فرق ہوتا ہے۔
رویت ہلال کمیٹی رمضان ، عید کے چاند کا اعلان کرتی ہے ، تمام قوم لبیک کہتی ہے سوائے چند فسادیوں کے۔ہم نے جہاد کو مذاق بنا رکھا ہے .. جس کا دل میں اے جہاد کا اعلان کر دیتا ہے- یہ غلط ہے ،امت علماء کا اس پراجماع ہو چکا ہے کہ جہاد اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے ، کسی فرد اور گروہ کی نہیں- (علا وہ  تکفیری، خوارج داعیش، طالبان پاکستان ، بوکو حرام اور ان جیسی دہشت گرد تنظیمیں اور گروہ) اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ جہاد نہیں فساد ہو گا-

  

حکام وقت کی اطاعت احادیث نبویہ ﷺ کی روشنی میں:

جس معاشرہ میں حاکم ، حکمران کی بات نہ مانی جائے وہاں  حکومت اور قانون کی عملداری ختم ہو جاتی ہے- معاشرہ فساد اور انارکی کا شکار ہو جاتا ہے جس پر دوسرے مظبوط ملک قابض ہو جاتے ہیں-(لیبیا، شام ، صومالیہ وغیرہ) ان حالات سے بچاؤ کے لیئے حاکم اگر برا بھی ہو تو اس کی دنیاوی معاملات میں عطاعت ضروری ہے-چند احادیث سے یہ واضح ہو جاتا ہے:
1۔ ابوہریرہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
“جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے امیر کیااطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی ۔” (بخاری: 2957، الفاظ بخاری کے ہیں، نیز دیکھئے مسلم:1835)


2۔ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:
“ایک مسلمان پر سمع واطاعت فرض ہے چاہے اسے پسند ہو یا نا پسند ہو، الا یہ کہ اگر اسے نافرمانی کا حکم دیا جائے ، اگر امیر اسے نافرمانی کا حکم دے تو نہ تو اس پر سننا ہے او نہ ماننا۔ ” (بخاری 7144، مسلم: 1839 الفاظ مسلم کے ہیں)۔


3۔ حذیفۃ بن الیمانؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہا آپ ﷺ نے فرمایا
“میرے بعد ایسے امام ہوں گے جو نہ تو میری سنت پر چلیں گے اور نہ میرے طریقے کی پیروی کریں گے ان میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن کے جسم انسانوں کے ہوں گے اور دل شیطان کے۔
میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں ایسے لوگوں کو پالوں تو کیا کروں؟
آپﷺ نے فرمایا: حاکم وقت کی سنو اور اس کی اطاعت کرو، اگرچہ تمہاری پیٹ پر مارے اور تمہارا سارا مال لے لے۔ سنو اور اطاعت کرو۔ (مسلم:1847)۔


4۔ علقمۃ ابن وائل اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئےفرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا:
سلمۃ بن یزید بحفیؓ نے رسول اللہﷺ سے سوال کیا، وہ کہتے ہیں کہ : ہم نے کہا:اے اللہ کے نبی اگر ہم پر ایسے امراء مسلط ہوجائیں جو ہم سے اپنا حق مانگیں اور ہمارا حق روکیں تو ایسی صورت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سنو اور اطاعت کرو، ان کا کام وہ ہے جو انہیں سونپا گیا ہے اور تمہارا کام وہ ہے جو تمہیں سونپا گیا ہے۔ (مسلم:1846)


5۔ عیاض بن غنم ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
جو کوئی کسی صاحب منصب کو نصیحت کا ارادہ کرے تو اسے علانیۃ ظاہر نہ کرے بلکہ اس کا ہاتھ تھامے او اسے اکیلے میں لے جائے، اگر وہ اس کی بات سن لے تو ٹھیک ورنہ اس نے اپنی ذمہ داری ادا کردی۔ (السنۃ لابن ابی عاصم 1096، نیز البانی نے حدیث کو صحیح کہا ہے۔(


6۔ام سلمۃؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نےفرمایا:
عنقریب ایسے امراء ہوں گے جن کی بعض باتیں تمہیں اچھی لگیں گی اوربعض بری ، چنانچہ تو جوان کی غلط باتوں کو پہچان لے اس کا ذمہ بری ہوگیا، اور جس نے ان پر انکار کیا اس کا ذمہ بری ہوگیا لیکن جو راضی ہو گیا اور اسی صورت کے پیچھے چل پڑا ،
صحابہ نے فرمایا :کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں؟
آپﷺ نے فرمایا : نہیں جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں۔ (صحیح مسلم:1854)۔


7۔ ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
جو اطاعت سے نکلا اور جماعت سے الگ ہوا اور اسی حال میں مرگیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔ (مسلم: 1848)


8۔ عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
جس اپنے امیر کی کوئی بات بری لگے تو اس کو چاہئے کہ اس پر صبر کرے ؛ کیونکہ جو بھی امیر کی اطاعت سے ایک بالش بھی باہر نکلا اور پھر اسی حال میں مرگیاتو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوئی  ۔ (بخاری:7053، مسلم: 1849 الفاظ مسلم کے ہیں)


9۔ عرفجہ اشجعیؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
جو تمہارے پاس اس حال میں آئے جبکہ تم پر ایک امیر قائم ہے اور تمہاری اجتماعیت کو توڑنے کی کوشش کرے یا اس میں انتشہار وتفرق پیدا کرنے کی کوشش کرے تو اس کو قتل کردو۔ اور ایک روایت میں ہے : تو اس تلوار سے اس کی گردن ماردو جو بھی ہو۔ (مسلم:1852)۔


10۔ نیز عبد اللہ بن عمر وبن عاص کی طویل مرفوع حدیث میں ہے:
جو کسی امیر کی بیعت کرے اور اسے اپنی وفاداری سونپ دے ، دل سے اس کی اطاعت پر راضی ہو جائے تو اسے چاہئے کہ حتی المقدور اس کی اطاعت کرے پھر اگر کوئی دوسرا آکر انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرے تو اس کی گردن ماردو۔ (مسلم :1844)۔


11۔ ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :
جب دو امیروں کی بیعت ہو تو ان میں سے دوسرے کو قتل کردو۔ (مسلم)


12۔ عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:
جو ہم پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔
اور ایک روایت میں ہے:جو ہم پر تلوار سونتے وہ ہم میں سے نہیں ۔ (مسلم :98۔99)


13۔ حزیفۃ بن یمانؓ سے روایت ہے کہ آپ فرماتے ہیں :
لوگ رسول اللہﷺ سے بھلائی کے بارے میں سوال کرتے تھے جبکہ میں آپﷺ سے شر(برائی) کے بارے میں سوال کرتا تھا کہ کہیں مجھ تک نہ پہنچ جائے چنانچہ میں نے کہا:
اے اللہ کے رسول ﷺ ہم جاہلیت اور شر کی دلدلوں میں پھنسے ہوئے تھے پھر اللہ تعالی نے ہمیں یہ خیر عطا فرمائی تو کیااب اس خیر کے بعد بھی شر ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، میں نے کہا: کیا اس شر کے بعد پھر خیر ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ، لیکن اس میں دھواں ہوگا، میں نے کہا : دھواں کیسا؟ فرمایا : ایسے لوگ ہوں گے جو میری سنت کو چھوڑ کر دوسری سنتیں اختیار کریں گے، اور میرے طریقے کو چھوڑ کر دوسرے طریقے اختیار کریں گے ، تم ان کی بعض باتوں کو پہچانو گے اور بعض کا انکار کرو گے، میں نے کہا : تو کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں جنہم کی طرف بلانے والے لوگ ہوں گے، جوان کی دعوت قبول کرے گا وہ اسے جنہم میں پھینک دیں گے،میں نے کہا: اے اللہ کے رسول آپ مجھے ان کے اوصاف ونشانیاں بتادیں (کہ وہ کیسے ہوں گے) آپﷺ نے فرمایا: ہاں وہ ہماری طرح کے ہی ہوں گے اور ہماری ہی زبان بولیں گے،
میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ اگر مجھے یہ زمانہ مل جائے تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟
آپﷺ نے فرمایا: تم مسلمانوں کی جماعت اور اس کے امیر کو لازم پکڑنا ،
میں نے کہا : اور اگر ان کی نہ کوئی جماعت ہو اور نہ امام؟
آپ ﷺ نے فرمایا: پھر ان تمام فرقوں سےا لگ ہوجانا اگرچہ تمہیں درخت کی ٹہنی سے ہی لٹکنا پڑے ، یہاں تک کہ تمہیں موت آجائے اور تم اسی طریقے پر ہو۔
(بخاری:7084، مسلم:847 الفاظ مسلم کے ہیں)۔


امام نووی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حدیث حذیفہ میں اس طرف اشارہ ہے کہ :
مسلمانوں کی جماعت ار اس کے امام کو لازم پکڑنا چاہئے ، اس کی اطاعت کرنی چاہئے اگرچہ وہ فسق وفجور یا دیگر معصیت میں مبتلا ہو لوگوں کا مال غصب کرتا ہو یا دیگر گناہوں میں ملوث ہو ایسی صورت میں اگر وہ گناہ کا حکم نہ دے تو اس کی اطاعت فرض ہے۔
(شرح مسلم 12/237) ط۔دالفکر بیروت۔)


14۔ ابوہریرہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:
بنواسرائیل کے امور کی تدبیر انبیاء کے ذمے تھے، جب بھی کوئی نبی وفات پاتا اس کے بعد ایک اور نبی آجاتا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، لیکن خلفا، بکثرت ہوں گے ،
صحابہ کرام نے فرمایا : اے اللہ کے رسول پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟
آپﷺ نے فرمایا: جو پہلے امیر بنے اس کی بیعت نبھاؤ اور وفا کرو، ان کو ان کا حق دو: کیونکہ اللہ نے ان کے سپرد جو کیا ہے اللہ ان سے اس بارے میں پوچھے گا۔  
(بخاری 3455، مسلم 1842)


15۔ ابن مسعود سے روایت ہے کہا آپﷺ نے فرمایا:
امیری و تونگری عام ہوجائے گی، اور ایسے امور ظاہر ہوں گے جن کو تم براجانو گے،
صحابہ کرام نے عرض کی:
اے اللہ کے رسول! آپ ایسی حالت میں ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟
آپ نے فرمایا: جو تمہارے ذمے ان کا حق ہے اس کو ادا کرنا اور اپنا حق اللہ سے طلب کرنا۔   
(بخاری: 3603، مسلم :1843)۔
عوف بن مالکؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا :
تمہارے بہترین امراء وہ ہیں جن سے تم محبت رکھتے ہو اور وہ تم سے محبت رکھتے ہیں، اور جن کے لئے تم دعا کرتے ہو اور جو تمہارے لئے دعا کرتے ہیں، جبکہ تمہارے بدترین امراء وہ ہیں جن سے تم نفرت رکھتے ہو وہ تم سے نفرت رکھتے ہیں اور جن پر تم لعنت بھیجتے ہو اور جو تم پر لعنت بھیجتے ہیں، صحابہ نے عرض کی :
اے اللہ کے رسولﷺ کیا ایسے موقع پر ہم ان سے جنگ نہ کریں؟


آپﷺ نےفر مایا: نہیں، جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں، سن رکھو کہ جس پر کوئی امیر ہو اور وہ اسے کوئی ناجائز کام کرتا دیکھے، تو وہ اس نا جائز کام کو ناپسند کرے اور ہر گز اس کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچے ۔ (مسلم:1855)۔


17۔ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:
جس نے امیر کی اطاعت سے ہاتھ کھینچا اس کے لئے قیامت کے دن کوئی حجت نہیں ہوگی، اور جو اس حال میں مراکہ وہ جماعت سے الگ تھا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔  (السنۃ/ابن ابی عاصم 1075، البانی نے حدیث کو صحیح کہا ہے)


18۔ حارث ابن بشیرؓ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
میں تمہیں پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں: جماعت کو لازم پکڑنے کا، سننے اور اطاعت کرنے کا ، ہجرت کا، اللہ کی راہ میں جہاد کا، اور جو جماعت سے ایک بالش بھی باہر ہوا تو اس نے اسلام کا پٹہ اپنے گلے سے اتار پھینکا۔  (ترمذی:2863، البانی نے حدیث کو صحیح کہاہے)


19۔ عرباض بن ساریہؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: رسول اللہﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا جس میں آپ نے فرمایا:
اللہ سے ڈرو ، اور سنو اور اطاعت کرو اگر چہ تمہارے اوپر ایک حبشی غلام امیر بنادیا جائے ،تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ سخت اختلافات دیکھے گا، اس لئے تم میری سنت کو لازم پکڑو اور میرے بعد میرے ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت کو لازم پکڑو او اس سے تمسک اختیار کرو۔ (اخرجہ ابن ابی عاصم السنۃ 54، البانی نے حدیث کو صحیح کہا ہے)


20۔ عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہﷺ نے بلایا ، ہم نے آپ ﷺ کی بیعت کی آپ نے ہم سے جن امور پر بیعت لی وہ یہ تھے کہ ہم سنیں اور اطاعت کریں چاہیں وہ کام ہمیں پسند ہو یا نہ ہو۔ اور ہمیں اس میں مشکل پیش آئے یا آسانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ہم امراء سے بغاوت نہ کریں.
اور آپ نے فرمایا: سوائے اس کے کہ تم ان میں واضح کفر پاؤ جس پر تمہارے پاس اللہ کی طرف سے واضح وصاف دلیل ہو۔  
(صحیح مسلم، باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ ، وتحر یمھافی المعصیۃ)


21۔ انسؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اصحاب رسول اللہﷺ میں سے کبارصحابہ نے ہمیں سختی سے منع کیا: فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے:
نہ تو اپنے امراء کوگالی دو اور نہ ان کے پاس زیادہ جاؤ اور نہ ان سے بغض رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو؛ کیونکہ وقت بہت قریب ہے۔


22۔ تمیم داریؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: دین نصیحت وخیر خواہی کا نام ہے۔ ہم نے کہا کس کی؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے لئے اس کی کتاب کے لئے ، مسلمان امراء کے لئے اور عام مسلمانوں کے لئے۔ (صحیح مسلم:55)


حکومت پر پریشر ڈالنا:
اگر مسلمان ملک کی حکومت جہاد کی ضرورت کے با وجود اعلان نہیں کرتی تو بغاوت کوئی آپشن نہیں- مذہبی سیاسی پارٹیاں رائے عامہ کو ہموار کر کہ حکومت پر پریشر ڈالیں تاکہ وہ میانمار (برما ) کے رهنگیا مسلمانوں  کی مدد کرے۔ حکومت کی طرف سے سفارتی ، مالی، بنیادی انسانی ضروریات اور دوسری مدد ہو سکتی ہے- انٹرنیشنل کمیونٹی، اقوام متحدہ ، اسلامی ممالک کی تنظیم اور ممالک کی طرف سے حکومت برما پر اخلاقی ، انسانی ، معاشی دباو ڈالا جا سکتا ہے- مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کی مسیحی اقلیتوں کو اقوام متحدہ کے زریعے آزادی دلائی گیئی، ایسا برما کے مسلمنوں کے لیۓ کیوں نہیں ہو سکتا؟ حکومت ہرمناسب طریقه سے مسئلہ کاپرامن حل نکالنے کی مخلصانہ کوشش کرے-
…………………….


جہادِ فی سبیل اللہ کے اہداف و مقاصد:
جہاد عظیم تر اہداف و مقاصد کا حامل ہے۔ مسلمان تو مسلمان غیرمسلم بھی اُس کے فوائد و ثمرات سے محروم نہیں رہتے۔ جہاد اسلامی ریاست کی پرشکوہ عمارت کا مضبوط اور ناقابلِ شکست ستون ہے۔ اسلام کے دیگر ارکان اُس کے سہارے اپنا وجودقائم رکھتے ہیں- جہاد کے مقاصد درج زیل ہیں:
  1. اسلامی عقیدے کی آزادی کا تحفظ
  2. عبادات اور مقاماتِ مقدسہ کا تحفظ
  3. فساد فی الارض کا خاتمہ
  4. آزمائش، تربیت اور اصلاح
  5. کافروں کو دہشت زدہ، مرعوب و رسوا کرنا اور اُن کی تدابیر کو ناکارہ کرنا
  6. منافقین کی پردہ دری
  7. اقامتِ دین
  8. کافروں کے ظلم و ستم کا خاتمہ
  9. کافروں کے لشکر مسلم علاقوں پر حملہ آور ہوں تو روکنا
  10. کافر بھی مظلوم ہو تو اُس کی مدد
  11. اگر کافر دعوت دین کے کام میں رکاوٹ ڈالے تو اُس کا ہاتھ روکنا-
آج کے دور میں سواۓ چند ممالک کے تمام دنیا میں قانونی طور پر مذہبی آزادی ہے- مسلمان اسلام کی تبلیغ بغیر کسی قانونی رکاوٹ کے یورپ اور امریکہ میں کر رہے ہیں- اسلام تیزی سے پھیلتا مذھب ہے- اس لیے آج کے دور میں تبلیغ کے لیے جہاد کی ضرورت نہیں- البتہ فلسطین ، کشمیر اور برما وغیرہ میں مسلمانوں پر ظلم کے جارہا ہے ان کو ان کے گھروں سے نکالا ج رہا ہے تو جہاد فرض بنتا ہے-


قرآن تو واضح طور پر کہتا ہے
وَجـٰهِدوا فِى اللَّهِ حَقَّ جِهادِهِ…﴿٧٨﴾…سورة الحج
اللہ کی راہ میں ایسے جہاد کرو جیسے جہاد کرنے کا حق ہے۔


جہاد اور قتال ایک چیز نہیں
جہاد کو مسلسل عمل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ کی رو سے اس کی درج ذیل اقسام ہیں:
1.جہاد بالعلم
2.جہاد بالمال
3.جہاد بالعمل
4.جہادبالنفس
5.جہاد بالقتال


جہاد بالعلم:
یہ وہ جہاد ہے جس کے ذریعے قرآن و سنت پر مبنی احکامات کا علم پھیلایا جاتا ہے تاکہ کفر وجہالت کے اندھیرے ختم ہوں اور دنیا رشد و ہدایت کے نور سے معمور ہو جائے۔


جہاد بالعمل:
جہاد بالعمل کا تعلق ہماری زندگی سے ہے۔ اس جہاد میں قول کے بجائے عمل اور گفتار کی بجائے کردار کی قوت سے معاشرے میں انقلاب برپا کرنا مقصود ہے۔ جہاد بالعمل ایک مسلمان کیلئے احکامِ الٰہیہ پر عمل پیرا ہونے اور اپنی زندگی کو ان احکام کے مطابق بسرکرنے کا نام ہے۔


جہاد بالمال:
اپنے مال کو دین کی سر بلندی کی خاطر اﷲ کی راہ میں خرچ کرنے کو جہاد بالمال کہتے ہیں۔


جہاد بالنفس:
جہاد بالنفس بندۂ مومن کیلئے نفسانی خواہشات سے مسلسل اور صبر آزما جنگ کا نام ہے۔ یہ وہ مسلسل عمل ہے جو انسان کی پوری زندگی کے ایک ایک لمحے پر محیط ہے۔ شیطان براہ راست انسان پر حملہ آور ہوتا ہے۔ اگر نفس کو مطیع کر لیا جائے اور اس کا تزکیہ ہو جائے تو انسان شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔


جہاد بالقتال:
جہاد بالقتال کا حکم نبوت کے مدنی دور میں نازل ہوا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے قریش اور مسلمانوں میں بدر کے مقام پر غزوہ ہوا، جس میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔ كيونكہ جہاد ميں جان لی اور دی جاتی ہے اور جان لينا ہميشہ سے الہامی شريعتوں ميں ممنوع رہا ہے سب سے پہلے مسلمانوں كو جہاد كی اجازت دی گئی۔ يہ اجازت مسلمانوں كو سب سے پہلے جب دی گئی تو ساتھ اس كی وجہ يہ بيان كی كہ يہ لوگ اس لئے لڑ سكتے ہيں كہ ان پر ظلم ہوا ہے۔ قرآن ميں آيا ہے:
“جن سے جنگ کی جائے، اُنہیں جنگ کی اجازت دی گئی، اِس لیے کہ اُن پر ظلم ہوا ہے، اور اللہ یقینا اُن کی مدد پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ وہ جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیے گئے، صرف اِس بات پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اللہ ہے۔( قرآن: سورۃ الحج:39 – 40)


جہاد بالقتال کی بنیادی شرائط:
جہاد بالقتال کے لئے کچھ بنیادی شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے، جن کے بغیر جہاد انسانیت کے لیے محض فتنہ و فساد کا باعث بنتا ہے، جس کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا۔
1.جہاد کی بنیادی شرائط میں، جہاد صرف الله کے راستے کے لئے، مال دولت، جاہ حشمت، زمین پر قبضہ یا بادشاہت کے فروغ کے لیئے جنگ جہاد نہیں ہو سکتی-
2. جہاد اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ عوام الناس کو فردا فردا، جتھوں، یا تنظیمیوں کی صورت میں جہاد کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔
3. جہاد میدان جنگ میں کافروں اور دین کے دشمنوں, ظالموں کے خلاف، مظلوموں کی مدد میں  اس وقت صف آراء ہونے کا نام ہے جب دشمن سے آپ کی جان مال یا آپ کے ملک کی سرحدیں خطرے میں ہوں۔


اگر کوئی کفر کے خلاف جنگ کرتا ہوا شہید ہو جائے تو قرآن کے فرمان کے مطابق اسے مردہ نہ کہا جائے بلکہ حقیقت میں وہ زندہ ہے۔ ارشاد باری تعالٰیٰ ہے:


وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِن لاَّ تَشْعُرُونَ
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مت کہا کرو کہ یہ مردہ ہیں، (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تمہیں (ان کی زندگی کا) شعور نہیں۔( قرآن: سورۃ البقرہ:154
جہاد کا اعلان اسلامی حکومت کرتی ہے نہ کہ افراد ، گروہ اور دہشت گرد، جہاد اور فساد مختلف ہیں۔ دہشت گرد جہاد کے نام سے فساد پھیلاتے ہیں ۔ ان کی سزا قرآن میں ہے:
سورۂ مائدہ (۵) کی آیات ۳۲۔ ۳۴، جن میں انسانی جان کی حرمت اور محاربہ کی سزائیں بیان ہوئی ہیں، بے حد اہمیت کی حامل ہیں۔ ارشاد ہوا ہے:


مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اَنَّہٗمَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا وَمَنْ اَحْیَاہَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا. وَلَقَدْ جَآءَ تْہُمْ رُسُلُنَا بِالبَیِّنٰتِ ثُمَّ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنْہُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ. اِنَّمَا جَزآؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗوَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُہُمْ مِّنْ خِلاَفٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ذٰلِکَ لَہُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ. اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْْہِمْ فَاعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.(سورۂ مائدہ (۵) کی آیات ۳۲۔ ۳۴،)


’’اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جس نے کسی ایک انسان کو کسی دوسرے انسان کی جان لینے یا زمین میں فساد برپا کرنے کے علاوہ قتل کیا تو اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی ایک انسان کو زندہ رکھا تو اس نے گویا تمام انسانوں کو زندہ رکھا۔ اور یقیناًان کے پاس ہمارے رسول واضح دلائل لے کر آئے، لیکن اس کے بعد بھی ان میں سے بہت سے لوگ زمین میں حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کرتے اور زمین میں فساد پھیلانے کے لیے سرگرم رہتے ہیں، ان کی سزا یہی ہے کہ انھیں عبرت ناک طریقے سے قتل کر دیا جائے، یا انھیں سولی دے دی جائے یا ان کے ہاتھ پاؤں الٹے کاٹ دیے جائیں یا انھیں جلاوطن کر دیا جائے۔ یہ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے، جبکہ آخرت میں بھی ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے، البتہ جو مجرم تمھارے ان پر قابو پانے سے پہلے توبہ کرلیں تو جان لو کہ اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔‘‘
(سورۂ مائدہ (۵) کی آیات ۳۲۔ ۳۴،)


بد امنی اور فساد خاندانوں، معاشروں اور ممالک کو تباہی وبربادی کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ فساد کی صورت میں معاشرتی، معاشی اور سیاسی امن درہم برہم ہو جاتا ہے۔ بد امنی کی فضا میں علوم وفنون کی ترقی رک جاتی ہےاور صنعتی ترقی کے لیے فضاسازگار نہیں رہتی۔ بلند تراقدار پنپ نہیں سکتیں اور معاشرے کا ہر فرد مستقل طور پر خوف وہراس کا شکار ہو جاتا ہے۔ اگر افراد زیادہ دیر تک خوف وہراس کی کیفیت میں مبتلا رہیں تو ان کی صلاحیتیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ افراد نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں ،علوم وفنون کی ترقی مطلوب ہو یا صنعتی ترقی کا پروگرام ہو، صرف پُر امن فضا میں ہی ممکن ہو سکتا ہے، فساد اور بد امنی کی فضا میں تو کوئی شخص رہنا بھی گوارا نہیں کرتا حتیٰ کہ لوگ فساد زدہ علاقوں سے نقل مکانی کر جاتے ہیں۔


اسلام ایک روشن فکر اور فطری دین ہے۔ وہ علو م وفنون اور معاشرت ومعیشت میں ترقی چاہتا ہے۔ اسلام یہ بات گوارا نہیں کرتا کہ انسانی زندگی اور اعلیٰ اقدار کے فروغ میں کسی بھی طرح جمود اور تعطل پیدا ہو۔ اس لیے اس نے فتنے فساد کے استیصال اور خاتمے کے لیے مؤثر اور مثبت لائحہ عمل دیا ہے۔ قرآن مجید فتنے فساد کی مَذمت بھی کرتا ہے اور اس کے انسداد کے لیے لوگوں کی ذہنی تربیت بھی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ عبرت کے لیے حدود وتعزیرات کی صورت میں سزائیں بھی نافذ کرتا ہے تاکہ جن پر کوئی نصیحت اثر نہ کرے، اُنہیں قانون کے شکنجے میں جکڑ کر لا قانونیت سے روکا جاسكے۔


انتشار وافتراق سے بچنے کا حکم
نبی کریم ﷺ نے لڑائی سے بچنے کا حکم دیا۔ جو شخص لڑائی سے بچتا ہے، آپﷺ نے اس کی تعریف اور حوصلہ افزائی فرمائی۔
1. ابوداؤد شریف میں في كراهية المراء یعنی لڑائی، جھگڑے کی ناپسندیدگی کے عنوان کے تحت یہ حدیث بیان کی گئی ہے کہ نبی ﷺ جب کسی عامل کو کسی جگہ تعینات فرماتے تو اسے ہدایت کرتے کہ «بشّروا ولا تنفروا، يسّروا ولا تعسّروا»1”خوشخبری دینا، نفرت پیدا نہ کرنا ۔ آسانیاں پیدا کرنا، مشکلات اور دقتیں پیدا نہ کرنا۔” اس حدیث کو اس عنوان کے تحت بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایسی فضا پیدا کرنا جس میں لوگوں کے درمیان لڑائی جھگڑا نہ ہو،لوگ آپس میں ایک دوسرے کےلیے سہولتیں پیدا کرنے والے ہوں، جھگڑالو نہ ہوں ، مسلمان ولی الامر کی ذمہ داری ہے۔
2. نبی کریم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپﷺ نے کبھی کسی سے جھگڑا نہیں کیا۔ آپﷺ نے فرمایا:
«مَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَهُوَ بَاطِلٌ بُنِيَ لَهُ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ وَمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَهُوَ مُحِقٌّ بُنِيَ لَهُ فِي وَسَطِهَا وَمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ بُنِيَ لَهُ فِي أَعْلَاهَا»2
”جس نے باطل چیز (جس پر اس کا حق نہیں تھا) کے لیے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا ،اللّٰہ اس کے لیے جنّت کے کنارے پر محل تیار کرے گا اورجس نے حق پر ہونے کے باوجود جھگڑے سے اجتناب کیا تو اللّٰہ جنّت کے وسط میں اس کے لیے محل تیار کرے گا اور جس نے (نہ صرف جھگڑا کرنے سے اجتناب کیا بلکہ) حسن خلق کا مظاہرہ کیا تو اس کے لیے جنت کے اعلیٰ درجے میں محل تیار کردیا جائےگا ۔”


فتنہ اور قتل وغارت سے گریز


1. آ پﷺ نے فتنے فساد کے دور کی نشاندہی فرمائی اور اس دور میں ایک مسلمان کے طرزِ عمل کے بارے میں راہنمائی بھی فرمائی۔ آپﷺ نے فرمایا:
«مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ الْتَقَيَا بِأَسْيَافِهِمَا إِلَّا كَانَ الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ»
”جب دو مسلمان آپس میں تلوار لے کرلڑیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے۔”


آپﷺ نے مقتول کے جہنمی ہونے کا سبب یہ بیان فرمایا کہ وہ بھی تو دوسرے کو قتل کرنے کے لیے تلوار لے کر نکلا تھا۔ اگر اس کا داؤ چلتا تو یہ اسے قتل کر دیتا ۔اب دوسرے کا داؤ چل گیا۔


2. نبی کریم ﷺ نے فتنے اور بد امنی کے ماحول میں خصوصی طور پر ہدایات دی ہیں۔ آپ نے فرمایا: «إِيَّاكُمْ وَالْفِتَنَ فَإِنَّ اللِّسَانَ فِيهَا مِثْلُ وَقْعِ السَّيْفِ»


”فتنوں سے بچو کیونکہ ایسی صورت میں زبان تلوار سے بھی بد تر کردار ادا کرتی ہے۔”


3. جب مسلمانوں کے اندر فتنہ فساد پیدا ہو جائے اور اس بات کی وضاحت نہ ہو رہی ہو کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ، تو ان سب سے کنارہ کشی اختیار کر لو۔آپﷺ نے فرمایا:


«الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنْ الْقَائِمِ وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنْ السَّاعِي فَكَسِّرُوا قِسِيَّكُمْ وَقَطِّعُوا أَوْتَارَكُمْ وَاضْرِبُوا سُيُوفَكُمْ بِالْحِجَارَةِ فَإِنْ دُخِلَ يَعْنِي عَلَى أَحَدٍ مِنْكُمْ فَلْيَكُنْ كَخَيْرِ ابْنَيْ آدَمَ»


”فتنے کے زمانے میں جو شخص بیٹھا ہے وہ کھڑےہوئے شخص سے بہتر ہے اور کھڑا ہوا شخص اس شخص سے بہتر ہے جو چل رہا ہے اور جو چل رہا ہے وہ بہتر ہے اس سے جو دوڑ رہا ہو۔ ان فتنوں میں اپنی کمانیں توڑ ڈالو۔ کمانوں کے چلّے کاٹ ڈالو اور اپنی تلواریں پتھر پر مار کر کند کر دو۔ اگر کوئی فتنہ باز کسی کے گھر میں گھس آئے کہ اسے قتل کرے تو وہ ایسا ہی کرے جیسا آدم کے بیٹوں میں سے اُس نے کیا تھا جو بہتر تھا۔ ”


ظلم وزیادتی کا استیصال
معاشرے میں بد امنی اور فساد بے چینی کا ایک سبب معاشرتی، معاشی اور سیاسی شعبوں میں ظلم وزیادتی اور حقوق کی پامالی بھی ہے۔ ظالم اپنے اقتدار، معاشرتی برتری، یا معاشی شعبے میں بالا دستی کی بنا پر دوسروں کو زیادتی کا نشانہ بناتا ہے۔ ان کا استحصال کرتا ہےتو متاثرہ افراد یا طبقات احتجاج کرتے ہیں۔ اگر احتجاج غیر مؤثر ہو جائے تو وہ ظالم سے خود نمٹنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں معاشرہ بد امنی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسلام اس سلسلے میں معاملات کو جڑ سے پکڑتا ہے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ حقوق کی عدم ادائیگی دنیوی اعتبار سے قابل دست انداز آئین وقانون ہے اور آخرت میں بھی قابل مؤاخذہ جرم قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: اپنے آپ کو مظلوم کی بد دعا سے بچاؤ کیونکہ مظلوم کی آہ اور اللّٰہ تعالیٰ کے درمیان کوئی آڑ اور رکاوٹ نہیں ہوتی۔ آپﷺ نے فرمایا:


«انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا»


”اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔صحابہ نے پوچھا کہ مظلوم بھائی کی تو مدد سمجھ میں آتی ہے، ظالم کی مدد کیسے کی جائے؟ آپﷺ نے فرمایا کہ ظالم کا ہاتھ روکنا اور اسے ظلم سےباز رکھنا اس کی مدد ہے۔ “


جہاد بالقتال کے لئے کچھ بنیادی شرائط:


جہاد کی بنیادی شرائط جن کے بغیر جہاد انسانیت کے لیے محض فتنہ و فساد کا باعث بنتا ہے، جس کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا، ان میں درج ذیل شرائط شامل ہیں:
1.جہاد اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ عوام الناس کو فردا فردا، جتھوں، یا تنظیمیوں کی صورت میں جہاد کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔
2.دین وشریعت کے اعتبار سے جہادوقتال مسلمانوں کی حکومت ہی کر سکتی ہے ۔ اگر اس معاملے میں حکومت غفلت یا بزدلی کا مظاہرہ کرے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ اس کی جواب دہ ہو گی-
3۔کسی موقع پر عوام یہ خیال کرتے ہوں کہ اب جہادکرنا ضروری ہے تو انھیں چاہیے کہ وہ اپنی حکومت کو اس پر آمادہ کریں۔ پر امن پروٹیسٹ ، میڈیا میں کمپین،  اگر حکومت اس پر قائل ہو جائے تو اس کی اجازت سے اس کے تحت جہاد کریں۔
4. ا س سے آگے بڑھ کر عوام کوئی اقدام کرنے کا حق رکھتے ہیں اور نہ اختیار ۔
5.ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی حکومت کی اطاعت کرے۔ الا یہ کہ وہ کسی خلاف دین کام کا حکم دے دے ۔
6. البتہ اگر ان کی حکومت اجازت دے تو وہ ان مظلوم مسلمانوں کی اخلاقی اور مالی مدد کر سکتے ہیں ۔
7.جہاں تک اس ضمن میں حکومتوں کا معاملہ ہے تو اس بارے میں وہی بہتر رائے قائم کر سکتی ہیں ۔ اس لیے کہ یہ انھیں ہی بین الاقوامی معاہدات، ذمہ داریوں، فارن ریلشنز کا  معلوم ہوتا ہے کہ ان کے جنگی سازوسامان کی نوعیت اور تعداد اور معاشی وسا ئل کی حقیقی صورتِ حال کیا ہے ۔
8.اگر کوئی حکومت ان حقائق کو نظر انداز کر کے کسی ملک کے ساتھ جنگ چھیڑ دے تو بڑا امکان ہے کہ دوسرے ملک کے مظلوم مسلمانوں کا مسئلہ تو حل نہیں ہو گا، بلکہ جنگ چھیڑنے والے ملک کے مسلمان بھی مظلوم بن کر رہ جائیں گے ۔
9.مسلمانوں کی موجودہ ہر میدان میں پست حالت کے پیش نظر دین و دانش کی رو سے یہی اصولی بات کہی جا سکتی ہے کہ حکومتیں اس بات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں کہ کیا وہ اس قابل ہیں کہ جنگ کر کے مظلوم مسلمانوں کو ظلم سے نجات دلاسکیں اور ظالم ملک کو سبق سکھا سکیں؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ملے تو ضرور جہاد کریں ۔
.10جہاد کی تیاری:
الله کا فرمان ہے:
“اور اِن کافروں کے لیے ، جس حد تک ممکن ہو، حربی قوت اور بندھے ہوئے گھوڑے تیار رکھو جس سے اللہ کے اور تمھارے ان دشمنوں پر تمھاری ہیبت رہے اور ان کے علاوہ اُن دوسروں پر بھی جنھیں تم نہیں جانتے ،(لیکن) اللہ انھیں جانتا ہے اور (جان رکھو کہ) اللہ کی اِس راہ میں تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے ،وہ تمھیں پورا مل جائے گا اور تمھارے ساتھ کوئی کمی نہ ہو گی۔‘‘(الانفال8:60)


11: جہاد میں دشمن سے کم از کم  1:2 کا عددی تناسب:
یہ بات ذہن میں رکھیں کہ سورۂ انفال کی آیت 65اور66 کی رو سے جہاد میں مسلمان نصرتِ خداوندی کی توقع اسی صورت میں کر سکتے ہیں جب وہ دین پر پوری طرح عمل پیرا ہوں اور ان کی مادی قوت دشمن کی مادی قوت کے مقابلے میں ایک نسبت اور دو کی ہو:
” اب اللہ نے تم سے (اپنے حکم کا بوجھ) ہلکا کر دیا اسے معلوم ہے کہ تم میں (کسی قدر) کمزوری ہے سو (اب تخفیف کے بعد حکم یہ ہے کہ) اگر تم میں سے (ایک) سو (آدمی) ثابت قدم رہنے والے ہوں (تو) وہ دو سو (کفار) پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے (ایک) ہزار ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے دو ہزار (کافروں) پر غالب آئیں گے، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے (یہ مومنوں کے لئے ہدف ہے کہ میدانِ جہاد میں ان کے جذبۂ ایمانی کا اثر کم سے کم یہ ہونا چاہیئے)،(سورۂ انفال کی آیت 65)
مثال کے طور پر مدِمقابل کے پاس ایک 100 ٹینک ہوں تو مسلمانوں کے پاس ویسے ہی 50 ٹینک ہونے چاہییں ۔ بصورت دیگر مظلوم مسلمانوں کو سیاسی طریقے سے ظلم سے نجات دلانے کی کوشش کریں ۔یہاں یہ مسلمانوں کی حکومتوں کو یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ ظلم و عدوان خواہ کیسی ہی سنگین صورت اختیار کرلے ، ان پر جہاد اسی وقت لازم ہو گا جب وہ مدمقابل کے مقابلے میں مذکورہ نسبت تناسب سے قوت کے حامل ہوں گے۔


ان  قرانی احکام پر عمل درآمد کسی گروہ آیا فرد کے بس میں نہیں، ہمیشہ سے اور آج کے دور میں بھی یہ تیاری صرف حکومت کر سکتی ہے- بنیادی بات ذہن میں اچھی طرح راسخ کر لیں ہے کہ جہاد وقتال مسلمانوں کی حکومت ہی کر سکتی ہے ۔ مسلمانوں کو اس اصول کی کسی صورت میں خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے۔
…………………..


او آئی سی (OIC) روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مظالم بند کراسکتی ہے!
میانمر میں روہنگیا اقلیت کے خلاف انسانیت سوز سلوک کا سلسلہ جاری ہے ہمیں اب یہ بات تسلیم کرلینی چاہیے کہ اقوام متحدہ اپنے 1948ء کے نسل کشی سے متعلق کنونشن کے اصولوں کے نفاذ میں ناکام رہی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی بین الحکومتی تنظیم روہنگیا مسلمانوں سے متعلق اپنی ذمے داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے حالانکہ ان کو زیادہ بہتر طریقے سے پورا کیا جاسکتا تھا۔
روہنگیا کی صورت حال کا موضوع اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کے اجلاسوں کے ایجنڈے میں بھی سرفہرست رہا ہے۔ او آئی سی نے اسی سال ملائشیا میں روہنگیا کی صورت حال پر غور کے لیے ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا تھا۔


او آئی سی کے جہاں تک تنازعات کے حل سے متعلق ریکارڈ کا تعلق ہے تو یہ تنظیم تنازعات کے حل کے معاملے میں بالکل ناکام ثابت ہوئی ہے کیونکہ اس کے پاس ایسے ذرائع نہیں ہیں جن کو وہ فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے بروئے کار لا سکے ۔او آئی سی کے اجلاسوں میں قرار دادوں منظور کی جاتی ہیں لیکن مسلم دنیا سے باہر ان کا کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا ہے۔عام طور پریہ قرار دادیں مقامی آبادی کی دل جوئی اور انھیں مطمئن کرنے کے لیے منظور کی جاتی ہیں۔


اس سب کے باوجود او آئی سی اس معاملے میں مزید موثر ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ دنیا کی دوسری بڑی بین الحکومتی تنظیم ہے۔اس کے ستاون رکن ممالک ہیں اور وہ چار بر اعظموں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ڈاکٹر یوسف بن احمد العثیمین کی فعال شخصیت اس تنظیم کی سیکریٹری جنرل ہے۔ ان کی قیادت میں یہ تنظیم روہنگیا کے مسئلے میں مداخلت کرسکتی ہے اور وہ کام کرسکتی ہے جو اقوام متحدہ نہیں کرسکی ہے۔ او آئی سی درج ذیل بعض سادہ اقدامات کر سکتی ہے:
1.او آئی سی اقوام متحدہ اور میانمر کے حکام کے ساتھ مل کر ان الزامات کی تحقیقات کر سکتی ہے کہ بعض اسلامی جنگجو گروپ روہنگیا کی جدوجہد کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کرر ہے ہیں۔ان الزامات میں اگرچہ کوئی حقیقت نہیں ہے لیکن میانمر کے حکام روہنگیا کو اجتماعی سزا دینے کے لیے ایسے الزامات کو اپنے اقدامات کے جواز کے طور پر پیش کررہے ہیں اور وہ عالمی برادری کو بھی اس طرح کی فریب کاری کے ذریعے یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنی آنکھیں موند لیں۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں داعش اپنے علاقوں سے محروم ہورہے ہیں اور وہ اب نئے علاقوں کی تلاش میں ہیں جہاں وہ اپنے زہریلے نظریے کو پھیلا سکیں۔
2. روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کا ایک فرقہ وارانہ پہلو بھی ہے کیونکہ بعض بدھا کی تعلیمات کی غلط تشریح کر کے تشدد کی تحریک دے رہے ہیں۔ او آئی سی ایک مذہبی تنظیم ہے اور وہ بین المذاہب مکالمے کے ذریعے تنازعات کے حل کے لیے از سرنو کوششیں کر سکتی ہے۔او آئی سی مسلمانوں کی عالمی آواز ہونے کی نمائندہ ہے۔اس کو ایسی عالمی مسلم شخصیات کو قائدانہ کردار کے لیے آگے لانا چاہیے جو اس ملک کے بدھ مت لیڈروں کے لیے بھی قابل قبول ہوں گے۔
3. او آئی سی میانمر کے ہمسایہ ممالک پر روہنگیا مسلمانوں کے بوجھ کو بھی کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ بنگلہ دیش ، تھائی لینڈ اور ملائشیا نے اس وقت ہزاروں روہنگیا مہاجرین کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے۔بنگلہ دیش کی حکومت یہ بھی یقین دہانی کرانے کی کوشش کررہی ہے کہ روہنگیا مستقل طور پر اس ملک میں نہ رہیں کیونکہ اس کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ جانیں بچا کر آنے والے ہزاروں روہنگیا کو اپنے ہاں مستقل طور پر پناہ نہیں دے سکتا ہے۔
4. او آئی سی بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کو بنیادی ضروریات مہیا کرنے کے لیے ایک مربوط عالمی مہم چلا سکتی ہے۔او آئی سی کی اپنے فنڈنگ کے اصولوں کے حوالے سے کوئی خوش نما تاریخ نہیں ہے لیکن وہ اس معاملے میں کامیاب ہوسکتی ہے جہاں اقوام متحدہ ناکام ہوچکی ہے۔


فوجی قوت کا استعمال:
جب تمام آپشن ختم ہوں تو پھر فوجی قوت کے استعمال کا آپشن اتا ہے- پاکستان کوئی سپر پاور نہیں نہ ہی اس کے پاس امریکہ روس کی طرح بحری فلیٹ ہیں جو ہزاروں میل دور جا کر فوجی کروائی کر سکے-پاکستان پر UNO کے چارٹر پر دستخط سے معاہدہ کی پابندی لازم ہے، کسی قسم کی بھی کاروائی بین الاقوامی قوتوں کے ساتھ مل کر ہی ممکن ہے-


1۔.مگر یہ خیال رکھیں برما میں مسلمان صرف 4% آبادی چھوٹی اقلیت ہیں جو برما کی فوجی قوت کو شکست نہیں دے سکتی-
2۔زمین یا سمندر سے لاجسٹک سپورٹ ممکن نہیں ۔(بنگلہ دیش ،انڈونیشیا ، ملایشیا نزدیک ہیں)-
3۔برما کی فوج کو ان کی بستیوں کو تباہ کرنے کا بہانہ ملتا ہے ان کو شدید  نقصان پہنچا سکتی ہے ۔ سری لنکا کی مثال سامنے ہے جہاں تامل ٹائگرز کوساتھ انڈین تامل ناڈو سے امداد کے باوجود ختم کر دیا گیا-  
5۔ دنیا میں آج کل آزادی کی جدوجہد کو بھی دہشت گردی سے جوڑ دیا جاتا ہے اور پابندیاں ہیں’
امداد میں رهنگیا مسلمانوں کی فوجی امداد ، اسلحہ، تربیت وغیرہ شامل ہے وہ مقامی terrain  زمین سے واقف عمدہ طریقه سے اپنی دفاعی جنگ لڑ سکتے ہیں- یہ کام اقوام متحدہ کی قرارداد کے زریع سے کیا جایے تاکہ اقوام عالم کی سپورٹ ہو وورنہ دہشت گردی کا لیبل لگ جا یے گا۔
6.کشمیر قریب ترین ہے ہم اس کی فوجی مدد بھی نہیں  کرسکتے، برما اور فلسطین بہت  دور ہیں-
7.دور دراز علاقوں سے بذریہ بحری جہاز مقامی زبان، کلچر سے نا بلد افراد کا جانا فوجی سٹریجی کے مطابق درست نہیں- بنگلہ دیش کے لیے آسان ہے مگر وہاں مسلمان دشمن حکومت ہے-
8.عوام حکومت پر پریشر ڈالیں تاکہ وہ عوامی جذبات اور مذہبی فریضہ ادا کرے، OIC اورUNO  کے ذریعے برما کے مسلمانوں کی امداد اور حققوق کی بحالی کی جاسکے. تیل کی دولت سے امیر ملک برما کی حکومت کو امداد کا لالچ دے کر مراعات حاصل کر سکتے ہیں-
9.  مظلوم مسلمانوں کی مدد  کسی گروہ یا افراد کا کام نہیں حکومت  سفارتی اور بین الاقوامی طور پر پریشر ڈویلپ کر سکتی ہے۔


~~~~~~~~~~~~~~~~
مظلوم مسلمان کیا کریں؟


1۔اگر کسی مقام پر مسلمانوں پر ظلم ہو (برما ، فلسطین ، کشمیر وغیرہ) ا وران کے اوپر غیر مسلموں کی حکومت ہوتو مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنا ایک قائد مقرر کریں اور اس کے تحت پر امن سیاسی طریقے سے اس ظلم کے خلاف جدوجہد کریں۔


2۔ دوسرے مسلم ممالک سے سیاسی مدد حاصل کریں۔ یا کسی آزاد علاقے میں (جلاوطن جکومت) governament in exile  اپنی حکومت قائم کریں اور پوری تیاری کے بعد ظالم حکومت کے خلاف جہاد کریں ۔


3۔اگر یہ سب کچھ کرنا ممکن نہ ہو تووہاں مسلح جدوجہد کر کے اپنے آپ کو مزید مشکلات میں نہ ڈالیں اور سورہء اعراف کی آیت۸۷کی رو سے صبر سے کام لیں – ہجرت کا آپشن بھی موجود ہے(قرآن 4:97)- اسپین میں جب مسلمانوں پر ظلم کی انتہا ہو گئی تو جان بچانے کے لائے ہجرت کرنا پڑی- بنگلہ دیش کی حکومت مہاجرین کو پناہ دینے سے بھی انکاری ہے-


4. پرامن جدوجہد ، بین القوامی برادری ، اقوام متحدہ ، اسلامی ممالک کی تنظیم اور تمام فورمز پر مدد اور مداخلت کی کوشش کریں تاکہ ظلم اور قتل عام بند کیا جائے، مظلوموں کی امداد اور آبادکاری کا بندو بست کیا جایے-


5.یہاں یہ بات بھی واضح کر دینا بے محل نہ ہوگاکہ اگر کسی جگہ مسلمان محکوم ہوں (یورپ، امریکہ وغیرہ) ، مگر انھیں اپنے دین و ایمان کے مطابق زندگی گزارنے کی پوری آزادی حاصل ہوتو انھیں سیاسی آزادی حاصل کرنے کا حق توحاصل ہے ، مگر دین ان پر اس کی کوشش لازم نہیں کرتا ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اسو ہ ا س کی واضح دلیل ہے۔ (متیٰ باب ۲۲، ۱۵۔۲۲). وہ مسلمان امن سے اسلام کی تبلیغ کریں اور ایک وقت ایسا ہو سکتا ہے کہ مسلمان اکثریت میں ہو جائیں-


6. جہاں تک اس صورت حال کاتعلق ہے کہ کسی جگہ پر مسلمانوں کی اپنی حکومت ہو او ر کوئی دوسرا ملک ان پر ظلم کر رہا ہو تو پھر کیا کیا جائے ؟
اس صورت میں ان کی حکومت کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ آیا وہ جہاد کے ذریعے سے مسئلہ حل کرنے کے قابل ہے؟
اگر اس کا جواب نفی میں ہو اور دوسرے مسلم ممالک بھی اس پوزیشن میں نہ ہوں تو:


1.جذباتیت کے بجائے عقل سے کام لے ، حقائق کے مطابق رائے قائم کرے، اپنے تنازع کے آئیڈیل حل کے بجائے ممکن حل کی طرف بڑھے.
2. کچھ دو اور کچھ لو کی پالیسی پر عمل کرے.
3. اس تنازع کو détente   سے مخالف ملک کے ساتھ اپنے تعلقات نارمل کرنے کی کوشش کرے.
4.اپنی تمام تر توانائیوں کا رخ اپنی تعمیر کی طرف کر دے-
5. اپنے آپ کو ، اپنی قوم کواوراپنے ملک کو دینی ، اخلاقی، علمی ، سیاسی، معاشی غرض یہ کہ ہر پہلو سے مضبوط بنائے اورعوام اپنی حکومت کا ہر طرح ساتھ دیں.
5.ایسے معاملات میں کمزوری ہی کے باعث ان پر کوئی ملک ظلم کرنے کی جرأت کر رہا ہوتا ہے-
6.. اگر مسلمانوں نے شریعت ، حکمت اورحقیقت پر مبنی اس روش کو اختیار نہ کیا تواندیشہ ہے کہ ان پر ظلم کا سلسلہ جاری رہے گا اور ان کے مسائل میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا-
7. معاشی طور پر مضبوط ممالک جنگ کے بغیر ہی اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں- جو امریکہ جنگ سے حاصل نہیں کر سکا چین معاشی ترقی کے زور پر آگے بڑھ رہا ہے-
8.پاکستان ایٹمی طاقت ہے، بہت بڑی فوج ہے، اگرچہ دشمن انڈیا سے کم – اگرپاکستان ایک اہم  معاشی طاقت بھی ہو تو تمام دنیا کے مسلمانوں کے حقوق کا دفاع کر سکتا ہے
والسلام
(تحقیق – آفتاب خان)


مزید پڑھیں:
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

انسانیت ، علم ، اسلام ،معاشرہ ، برداشت ، سلامتی 
بلاگز، ویب سائٹس،سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیوز,کتب

سلام فورم نیٹ ورک  
Join Millions of visitors: لاکھوں وزٹرز میں شامل ہوں 

Salaamforum.blogspot.com 

سوشل میڈیا پر جوائین کریں یا اپنا نام ، موبائل نمر923004443470+ پر“وہاٹس اپپ”یا SMS کریں   

   Twitter: @AftabKhanNet  
  

Facebook.com/AftabKhan.page