مشرق وسطیٰ : ایران کا کردار

ایران ایک شیعہ اسلامک ریپبلک ہے ، سعودیہ ایک وھابی بادشاہت مگرپاکستان صرف اسلامک ریپبلک ہے جہاں شیعہ سنی کو برابر آیئنی حقوق حاصل ہیں- ایران میں شیعہ کو آیئنی  ترجیح ہے مگر پاکستان میں صدر ، وزیر اعظم ، سپیکر ، آرمی ، سروسس چیف  اوراعلی عھدوں پر شیعہ مسلمان ، اقلیت کے باوجود appoint ہوتے ھیں ایک طویل فہرست ہے-  ایران میں  سخت  قسم  کی  مللایت  قائم ہےاور سعودیہ میں وھابیت  کا زور ہے- ملا کسی  مکتبہ  فکر  ہو  وہ  سخت  متصب  ہوتا  ہے، اپنے  علاوہ  سب کو  غلط  حتی  کہ  کافر  کہنا  عام  بات  ہیے-
خدا کا شکر ہے کہ پاکستان میں سرکاری اور عوامی سطح پر شیعہ سنی کشمکش کا وجود نہیں۔ افراد متعصب ہو سکتے ہیں مگر پاکستانی حکومت‘ فوج اور افسر شاہی بڑی حد تک اس سے پاک رہی۔ قائد اعظم فرقہ واریت سے بالا تر تھے- ممنوں حسین ، سکندر مرزا اور یحییٰ خان‘ذولفقار بھٹو ، بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری مقتدر رہے۔ محصف میر  ایئر چیف ، موسیٰ، یحییٰ خان آرمی چیف تھے- شیعہ  سیاست دانوں پر کوئی بھی دوسرا اعتراض کیا گیا مگر مکتب فکر کا کبھی نہیں۔  
ایران کی مشرق وسطیٰ اور اسلامی دنیا کی قیادت کی خواہش میں اس کی ملایت اور فرقہ واریت سٹریٹیجی حائل ہے- اصل میں ایران فرقہ واریت کی جنگ پھیلا کردانستہ یا نادانستہ طور پر اسرائیل و امریکی اسلام دشمن ایجنڈے پر عمل کر رہا ہے۔ شام میں اقلیت شیعہ بشارت اسد کی بےجا حمایت، یمن، بحرین، لبنان، سعودی عرب اور پاکستان میں شیعہ آبادی کو ولایت فقہ کی آڑ میں دوغلیت کا شکار کرکہ اپنے مقاصد کے لیے استمال کرنا  باعث فساد اور destabalisation کا ذریعہ ہے- اس کا حاصل شیعہ آبادی کو قربانی کا بکرا بنانا ہے اورمسلمان ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے- “انڈیا-افغانستان-ایران” کا پاکستان کے خلاف گٹھ جوڑایک کھلی حقیقت ہے- >>> https://wp.me/p9pwXk-1c3

گن پوانٹ پر انٹرنیشنل خلافت یا امامت:

داعش، القاعدہ ، تکفیری طالبان ، بوکو حرام اور اس طرح کی تکفیری دہشت گرد تنظیموں کا مقصد مذہبی بنیاد پر سیاسی طاقت کا حصول ہے تاکہ عالمی حکومت (ان کے مطابق اسلامی خلافت) قائم کی جائے- ایرانی ‘ولایت فقہ’ کا بھی اسی طرح کا بین الاقوامی نظریہ ہے، وہ سنی  اصطلاح ‘خلافت’ کی بجایے شیعہ اصطلاحات (امامت ،ولایت فقہ وغیرہ) استعمال کرتے ہیں- (بہت سے عالمی شیعہ علماء ایرانی نقطہ نظر سے متفق نہیں)- اگر ایرانی ولایت فقیہ ایران تک محدود رہے توکسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا، کہ یہ ایران کا اندرونی معاملہ ہے مگر جب اس نظریہ کو دوسرے ممالک تک پھیلا دیا جائے تو پھرفکری اور عملی طور پرایرانی اورداعش جیسی دشت گرد تنظیموں میں تفریق مشکل ہو جاتی ہے ، کیونکہ ان کے مقاصد ایک طرح کے ہو جاتے ہیں جس میں طاقت اسلام کے نام پر حاصل کی جاتی ہے- عراق ، شام کی مثال سامنے ہےجہاں داعش اور ایران روس سے مل کر معصوم عوام پر ظلم اور قتل و غارت گری میں مشغول ہیں- پرھتے جایئں >>>>>>

 

 
جنرل راحیل شریف کی سعودی قیادت میں اسلامی مشترکہ افواج کی قیادت پر ایران کواور اس کے پاکستان میں ہمدردوں کو اعتراض ہے- مگر ایرانی جنرل اور سپاہ پاسداران شام اور دوسرے ممالک میں جنگ میں مصروف ہیں اس پر کیوں خاموش ہیں،میڈیا گنگ ہے- اس مشترکہ فوج میں شمولیت کی دعوت ایران نے مسترد کر دی- پاکستان کی ہمیشہ واضح پالیسی رہی ہے کہ پاک فوج مسلمانوں کے خلاف استعمال نہ ہو گی-  جنرل راحیل شریف اسلامی مشترکہ فوج کو منظم کر سکتے ہیں، ٹریننگ سے سکتے ہیں- یہ فوج ایران پر کیوں حملہ کرے گی؟ ہاں ایرانی توسیع پسندی کے لیے چیک ہو سکتی ہے- اگر ایران کو توسیع پسندی کا شوق ہے تو اس کو روکنا، توسیع پسندی سے باز رکھنا کیا جرم ہے؟
پاکستان کی ہمسایہ مسلمان ممالک سے امن کی خواہش کمزوری نہیں ہے- اگر کسی ہمسایہ نے حد کو کراس کی (ایران ہو یا افغانستان)  تواس کو منہ توڑ جواب لازم ہے، ایک بزدل قوم کی کوئی عزت و حثیت نہیں-
پاکستان میں محب وطن پر امن شیعہ اقلیت کی اپنے ملک سے وفاداری کو دوغلی سیاسی وفاداری (ولایت فقہ) سے مشکوک کرنا، شاید ایران کے لیے فائدہ مند ہو مگر ، شیعہ اقلیت کے مفاد میں نہیں بلکہ ان  کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہو گا- اس طرح شیعہ آبادیاں عدم تحفظ کا شکارہو سکتی ہیں- پاکستان کی شیعہ آبادی کو پاکستانی کی حثیت سے رہنا ہے نہ کہ ایرانی ایجنٹ کے طور پر- مذہبی حد تک اپنے ہم فقہ ایرانیوں کا احترام درست مگر سیاسی طور پر صرف پاکستان اور آیین پاکستان سے وفاداری، اس کے علاوہ جو کچھ ہو وہ غداری کے زمرہ میں اتا ہے- پاکستانی مذہبی شدت پسند ان کو کافر تک کہنے سے باز نہیں آتے، فرقہ واریت تباہی کا راستہ ہے جو اس کا پرچار کرتا ہے وہ اسلام اور پاکستان کا دشمن ہے چاہے دوستی کا لبادہ پہن رکھا ہو- ہم کوئی بھی ہوں کسی مذھب یا فقہ سے تعلق ہو ہم کو پاکستانی کی حثیت سے اس اسلامی مملکت پاکستان کی حفاظت کرنا ہے-
Posted on 8 May 2017
……………………………………..
مشرق وسطیٰ میں مسلم ممالک کے جھگڑے کے معاملہ کو اپنے ذاتی مسلک، سوچ، نظریہ سے بالا تر ہو کر صرف ایک مسلمان اور پاکستانی کی حثیت سے دیکھنے کی ایک کوشش ہے- اس لیے ہو سکتا ہے کہ یہ تحریرگراں گزرے مگرہم صرف صبر و تحمل، برداشت سے قیام امن کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں-
……………………………………………..

پاسداران انقلاب اور ہٹلر کی فورسز

ایران میں پاسداران انقلاب کو ’سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی‘ کہا جاتا ہے۔ دراصل یہ ادارہ ایران کے شہر قم میں قائم مذہبی ادارے کا عسکری ونگ ہے۔ ایران میں سنہ 1979ء میں برپا ہونے والے انقلاب، بادشاہت کے خاتمے اور روح اللہ خمینی کے وضع کردہ اصولوں کو مضبوط بنانے کا کلیدی ادارہ ہے۔

جب ایران کی باقاعدہ فوج ایرانی اپوزیشن کو روکنے میں ناکام رہی تو آیت اللہ خمینی نے پاسداران انقلاب کو اپوزیشن قوتوں کو کچلنے کی ذمہ داری سونپی۔ عراق۔ ایران جنگ میں پاسداران انقلاب بھی ایک باقاعدہ فوج ہی کے طور پر استعمال کی گئی۔

امریکی اخبار میں شائع مضمون میں پاسداران انقلاب کو سابق جرمن ڈکٹیٹر ایڈوولٹ ہٹلر اور نازیوں کی قائم کردہ فورسز’ ایس ایس او‘ شوٹز شٹاقل‘ کے مشابہ قرار دیا۔

پاسداران انقلاب کے باضابطہ فوج کے ساتھ ساتھ اس کی موبلائیزیشن فورس ’باسیج‘ کے اہلکاروں کی تعداد 90 ہزار ہے جب کہ دیگر رضاکاروں کو ملا کر یہ تعداد تین سو ملین تک جا پہنچتی ہے۔

پاسداران انقلاب کا ہدف ایران کے’اسلامی جمہوری ریاستی نظام‘ کا دفاع، مخالف تنظیموں کا سدباب، ایران میں مخصوص مذہبی تعلیمات کی ترویج اور ایرانی انقلاب کو مشرق وسطیٰ اور دوسرے ملکوں تک پھیلانا ہے۔

پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کی ایک لاکھ 25 ہزار ہے۔ دوسرے الفاظ میں پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کی تعداد داعش کے جنگجوؤں سے چار گنا زیادہ ہے۔ پاسداران انقلاب کے پاس اسپیشل کمانڈور فورسز کے ساتھ ساتھ منظم بری اور نیول فوج کی بھاری نفری کے ساتھ ساتھ جدید ترین ہتھیار بھی موجود ہیں۔ یوں دنیا کو لاحق خطرات میں دہشت گرد تنظیموں میں پاسداران انقلاب واحد دشمن عسکری ادارہ ہے جس کے پاس بہ یک وقت بری، بحری اور فضائی فورس موجود ہے۔

عراق اور شام میں پاسداران انقلاب براہ راست ملوث ہے – کسی دوسرے ملک میں فوجی مہم جوئی سامراجیت نہیں تو اور کیا ہے-

پاکستانی بریگیڈ کے استعمال سے علاقائی تنازعہ میں ایرانی فرقہ ورانہ حربے آشکار

 زینبیون بریگیڈ کا ایک جنگجو کتبہ اٹھائے ہوئے ہے جس پر لکھا ہے، 'زینبیون، دنیا میں اسلامی جدوجہد، اے زینب ہم تمھارے لیے یہاں ہیں'۔ یہ بریگیڈ پاکستانی شعیوں پر مشتمل ہے جسے ایران کی اسلامی پاسداران انقلاب کور نے بھرتی کیا ہے جو شام کی حکومت کے ساتھ مل کر لڑ رہی ہے۔ ]زینبیون کے حامیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے لی گئی تصویر[

زینبیون بریگیڈ کا ایک جنگجو کتبہ اٹھائے ہوئے ہے جس پر لکھا ہے، ‘زینبیون، دنیا میں اسلامی جدوجہد، اے زینب ہم تمھارے لیے یہاں ہیں’۔ یہ بریگیڈ پاکستانی شعیوں پر مشتمل ہے جسے ایران کی اسلامی پاسداران انقلاب کور نے بھرتی کیا ہے جو شام کی حکومت کے ساتھ مل کر لڑ رہی ہے۔ ]زینبیون کے حامیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے لی گئی تصویر[

زینبیون بریگیڈ پاکستانی شعیوں پر مشتمل ہے جسے اسلامی پاسداران انقلاب کور نے شام میں اپنے مفادات کے لیے لڑنے کے لیے بھرتی کیا ہے۔

اپنے علاقائی اثر و رسوخ کو وسیع کرنے اور اپنے غلبے کو قائم کرنے کی کوشش میں، ایران کی اسلامی پاسداران انقلاب کور (آئی آر جی سی) پاکستانی نوجوانوں کو بھرتی کر رہی ہے تاکہ وہ شام میں اس کے مفادات کے لیے جنگ کریں۔ ماہرین نے یہ بات دیارونا کو بتائی۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ حکمتِ عملی زینبیون بریگیڈ سے ثابت ہے، جس کے عناصر کو آئی آر جی سی تربیت دیتی اور مسلح کرتی ہے اور پھر انہیں شام میں منتقل کر دیا جاتا جہاں وہ آئی آر جی سی سے متعلقہ دوسرے دھڑوں کے ساتھ اور شام کی حکومت کے ساتھ مل کر لڑتے ہیں۔

زینبیون بریگیڈ کو پہلی بار دمشق میں فوجی مہم کے علاقوں اور اس کے محاصرے اور حلب میں 2014 کے وسط میں دیکھا گیا۔ یہ بات قاہرہ یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کے طالبِعلم شییار ترکو نے بتائی جو کہ آئی آر جی سی کی مالیات کی بارے میں تحقیق کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ “2015 سے اب تک، اس کے حامیوں کے سوشل نیٹ ورکنگ کے صفحات نے شام میں اس کی ہلاکتوں کے بارے میں تازہ ترین خبریں شائع کرنی شروع کر دی ہیں۔ جو بات قابلِ غور ہے وہ یہ ہے کہ انہیں پاکستان کی بجائے ایران میں دفن کیا گیا”۔

ترکو نے کہا کہ “زینبیون بریگیڈ پاکستانی شعیوں کو ایک مسلح گروہ ہے جن میں سے اکثریت کو مغربی پاکستان کے علاقوں سے بھرتی کیا گیا ہے”۔

انہوں نے کہا کہ دوسرے پنجاب کے غربت زدہ علاقوں، صوبہ سندھ کے دوسرے حصوں اور چین کی سرحد کے ساتھ کے شمالی علاقوں سے آئے ہیں۔

ترکو نے کہا کہ ان علاقوں میں غربت بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی آر جی سی نے اس اپنی بھرتی کی مہمات میں اس کا استحصال کیا ہے۔ اس کے علاوہ فرقہ ورانہ کشیدگی کو ہوا دی ہے اور پاکستان کے شعیوں میں خوف کا احساس پیدا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی طالبان اور دوسرے سنی انتہاپسند گروہوں کی طرف سے شعیوں پر حملوں نے اس خوف کے احساس کو بڑھایا ہے اور آئی آر جی ایس کے لیے اپنے اثر و رسوخ کو قبائلی افراد پر ان کے محافظ کا کردار ادا کرتے ہوئے وسیع کرنے کے راستے کھولے ہیں۔

ترکو نے مزید کہا کہ زینبیون بریگیڈ وہ واحد فوجی بریگیڈ یا مسلح گروہ نہیں ہے جسے آئی آر جی ایس نے پاکستان میں بنایا ہے مگر اسے بظاہر غیر ملکی مہمات اور خصوصی طور پر شام کی جنگ کے واحد مقصد کے لیے بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی آر جی ایس کے حمایت یافتہ گروہوں کے پاکستان اور ایران میں بہت سے کیمپ ہیں اور “یہ بات ناممکن نہیں ہے کہ زینبیون بریگیڈ کے عناصر کو بیرونی مہمات کے ان گروہوں میں سے منتخب کیا گیا ہو”۔

لبنان کی حزب اللہ کے ساتھ مماثلت

مڈل ایسٹ سینٹر فار ریجنل اینڈ اسٹریجک اسٹیڈیز کے محقق فتح ال سید جو کہ ایرانی امور میں مہارت رکھتے ہیں نے کہا کہ زینبیون بریگیڈ اور آئی آر جی ایس کی طرف سے دوسرے ممالک میں بنائے جانے والے گروہ لبنان کی حزب اللہ جیسے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ “دراندازی کے ہتھکنڈے ایک جیسے ہیں، محرک ایک جیسے ہیں اور مقاصد بھی ایک جیسے ہیں۔ واحد فرق کا تعلق ہر ملک کے نظریاتی اور سماجی فرق کو مدِنظر رکھنا ہے”۔

انہوں نے کہا کہ ان مسلح گروہوں کو بنانے کا واحد مقصد آئی آر جی ایس کے کنٹرول کو ان ممالک پر سخت کرنا ہے جہاں سے انہیں بھرتی کیا گیا ہے اور انہیں شام جیسے ہاٹ سپاٹس پر آئی آر جی ایس کی طرف سے پراکسی وار میں ملوث کرنا ہے۔

ال سید نے کہا کہ “ایران اپنی فوج کو براہ راست جنگ میں ملوث کیے بغیر ان دہشت گردوں کو اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے اور اسے صرف تربیت اور فوجی مہمات کی براہ راست نگرانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے”۔

پاکستانیوں کو اس بریگیڈ کی صفوں میں لڑنے کے لیے اکسانے کے لیے، ایران نے شہریت کے قانون کی شق 980 میں ترمیم کی ہے جس کے تحت ان لوگوں کو شہریت دی جا سکتی ہے جنہوں نے ایران میں عوامی مفادات کے لیے خدمات یا قابلِ قدر مدد فراہم کی ہو۔

انہوں نے کہا کہ “2016 میں ایک اور ترمیم متعارف کروائی گئی جس کے تحت ایسے غیر ایرانیوں کی بیویوں اور بچوں کو، جو ایران کے لیے مہم سر انجام دیتے ہوئے ہلاک ہوئے ہوں، شہریت دی جا سکتی ہے”۔

ال سید نے کہا کہ کہ ایران کا مقصد “ایسے علاقوں میں جہاں اسے رسائی مل سکی ہے اور ان برادریوں میں جہاں وہ دراندازی کے قابل ہو گیا ہے، فرقہ واریت کو پھیلانا ہے”۔

انہوں نے کہا کہ “یہ اسے ان علاقوں میں رفتہ رفتہ کنٹرول حاصل کرنے کے قابل بنا دیتا ہے جہاں وہ فرقہ ورانہ بحران کے دوران داخل ہوتا ہے اور اسے اپنے ساتھ ملحق گروہوں کو مکمل طور پر فرقہ ورانہ بنیاد پر کنٹرول کرنے قابل بھی بنا دیتا ہے”۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی بریگیڈ کی شام کی جنگ میں شمولیت نے “تنازعہ کے فرقہ ورانہ کردار کو بڑھا دیا ہے اور اس کے نتیجہ میں اس جنگ میں ہونے والی ہلاکتوں اور اس کے دورانیے میں اضافہ ہو گیا ہے”۔

مذہبی حساسیت سے فائدہ اٹھانا

فری سیرین آرمی کے ایک افسر صالح ال افیسی جو کہ دیہی حلب میں تعینات ہیں، نے کہا کہ اپریل 2016 میں حلب کی جنگوں کے دوران، حزبِ مخالف کے دھڑوں نے حکومت کی افواج کے شانہ بشانہ لڑنے والے 12 افراد کو گرفتار کیا جو کہ پاکستانی شہری اور زینبیون بریگیڈ کے ارکان نکلے۔

انہوں نے دیارونا کو بتایا کہ حزبِ مخالف کے جنگجوؤں نے آغاز میں یہ سمجھا کہ وہ لبنان کی حزب اللہ کی صفوں میں لڑنے والے پاکستانی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ “اپنی وردیوں پر انہوں نے جو بیج پہن رکھنے تھے ان پر بنے ہوئے نشان حزب اللہ سے ملتے جلتے تھے اور ان پر زرد پس منظر کے ساتھ ویسی ہی تصویر تھی اور صرف لکھائی ہی فرق تھی۔

انہوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران ان کی پاکستانی شہریت کی تصدیق ہو گئی اور گروہ نے انکشاف کیا کہ انہیں پاکستان میں تربیت فراہم کی گئی تھی اور پھر انہیں شام منتقل کیا گیا تاکہ وہ 20,000 پاکستانی روپوں (190 ڈالر) ماہانہ کے عوض شام میں لڑیں۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ شام میں “ان کا اولین اور سب سے اہم مقصد شعیوں کے مقدس مقامات کی حفاظت کرنا ہے” کیونکہ انہیں قائل کیا گیا تھا کہ شام کے حزبِ مخالف کے دھڑے تمام شعیہ مزارات کو تباہ کرنا اور اس فرقے کے ارکان کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔

…………………………………………………………………….

Why Iran is in Syria

Iran has used the Syrian civil war to expand its influence over the Shi’ite communities in the broader Middle East and advance the clerical regime’s strategic and ideological goals. Iran’s support for the regime of Syrian dictator Bashar Al Assad is well-documented.
This study goes in-depth on how Iran framed the conflict as a theological struggle from almost the very beginning, an effort aided through heavy doses of anti-American rhetoric and sectarian fear-mongering. At the
 same time, Iran mobilized a vast network of Iraqi and Lebanese militant groups, along with assorted other foreign elements to backstop the Assad regime and deepen Tehran’s regional clout.
Tehran was able to inflame and then channel Shi’ite sectarian fighters from throughout the Middle East. But Iran’s end-goals are earthly and political in nature: “What may have appeared to be a disjointed or even organic flow of Shiite fighters into Syria, ostensibly to defend the country’s Shiite holy sites is actually a highly organized geostrategic and ideological effort by Iran to protect its ally in Damascus and project power within Syria, Iraq, and across the Middle East. 
http://peace-forum.blogspot.com/…/the-most-important-thing-…
مشرق وسطیٰ میں موجودہ فرقہ واریت کی جنگ لعنت ہے ، جس میں شام کے ایک اقلیتی علوی فرقہ کے تسلط کے لیئے عوام اور ملک تباہ کیا جا رہا ہے بر قسمتی سے ہمارا برادر ملک سعودیہ اور ایران اس لڑائی میں فریق ہیں- ایران روس کی مدد سے اور ایرانی، افغانی ، پاکستانی افراد کو مسلکی بنیاد پر اس فرقہ واریت میں جھونک کر Sassanian Empire کا خواب دیکھ رہا ہے۔

ساسانی سلطنت موجودہ ایران، عراق، آرمینیا، افغانستان، ترکی اور شام کے مشرقی حصوں، پاکستان، قفقاز، وسط ایشیا اور عرب پر محیط تھی۔ خسرو ثانی (590ء تا 628ء) کے دور میں مصر، اردن، فلسطین اور لبنان بھی سلطنت میں شامل ہوگئے۔ ایرانی ساسانی سلطنت کو “ایران شہر” کہتے ہیں- یہ ایران میں اسلام آنے سے قبل آخری سلطنت تھی۔

ایران اور سعودی حکمران مذہبی جنونیت، فرقہ واریت پسند ملاؤوں کے زیر اثر ہیں، “ملا” کو آکسیجن نفرت ، فرقہ واریت کی جنگ سے ملتی ہے۔

داعش عراق میں ایرانی پتلی وزیر اعظم مالکی کی نفرت اور فرقہ واریت پالیسیوں کے رد عمل میں وجود میں آیی۔ سعودی ، ترکی ایرانی Imperialism کو روک کر اپنا وھابی Imperialism چاہتے ہیں۔ ترکی کو کرد نیشنل ازم سے خطرہ ہے سعودی وہابیت کا غلبہ چاہتے ہیں اور ایران شیعیت کو۔ داعش اس جھگڑے کی پیداوار ہے ، اگر سب مل جائیں تو اس خوارج تکفیری فتنہ کو ختم کیا جا سکتا ہے مگر امریکہ ، مغرب ، اسرائیل کو یہ نا پسند ہے۔

ایران کے ولایت فقیہ (اعلی ملا کونسل ) نے حال ہی میں اعلان کیا کہ جہاں کہیں شیعوں کے ساتھ زیادتی ہو گی ایران بروئے کار آئے گا۔ یہ ایک تباہ کن انداز فکر ہے۔
ایران در اصل  ایک  شیعہ اسلامک  ریپبلک ہے . جہاں  سخت  قسم  کی  مللایت  قائم ہے . ملا کسی  مکتبہ  فکر  ہو  وہ  سخت  متصب  ہوتا  ہے  . اپنے  علاوہ  سب کو  غلط  حتی  کہ  کافر  کہنا  عام  بات  ہیے .  خمینی  انقلاب  کے بعد  انقلاب  کو   پھیلانے ا  نے  کا  پروگرام  عراق  سے  جنگ  کی وجہ  سے  رک  گیا  مگر  ختم  نہیں  ہوا . عراق پر امریکی  حملے  کے  بعد  اس  پر عمل  شروع  ہو گیا . عراق  کی فرقہ  وار  حکومت  کی مدد  کر کہ  ایران  نے داعیش  کا  جن  کھڑا  کیا ، پھر  شام  میں  ظالم  اقلیتی  اسد  کی حکومت  کی  فوجی  مالی  سیاسی  مدد کی . لبنان  یمن  میں  بھی  ایرانی دراندازی   شامل  ہے .
پاکستان  اسلامک  اسٹیٹ  ہے- آئین پاکستان میں شیعہ ، سنی کی تفریق نہیں ، تمام مسلمان کسی بھی عھدہ پر فائز ہو سکتے ہیں-

خدا کا شکر ہے کہ پاکستان میں سرکاری اور عوامی سطح پر شیعہ سنی کشمکش کا وجود نہیں۔ افراد متعصب ہو سکتے ہیں مگر پاکستانی حکومت‘ فوج اور افسر شاہی بڑی حد تک اس سے پاک رہی۔ قائد اعظم فرقہ واریت سے بالا تر تھے- ممنوں حسین ، سکندر مرزا اور یحییٰ خان‘ذولفقار بھٹو ، بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری مقتدر رہے۔ محصف میر ایئر چیف ، موسیٰ، یحییٰ خان آرمی چیف تھے-شیعہ سیاست دانوں پر کوئی بھی دوسرا اعتراض کیا گیا مگر مکتب فکر کا کبھی نہیں۔
مگر ایران میں ایسا نہیں، سنی اقلیت دوسرے درجہ کے شہری ہیں- اعلی عھدوں پر نہیں فائز نہیں ہو سکتے- بھر حل یہ ان کا معاملہ ہے- سولہویں صدی کے شروع میں جب ایران میں صفوی خاندان حکمران بنا تو وہاں سنی کی بجایے بزور طاقت شیعہ اسلام نافذ کیا، مذھب بدلو، ہجرت کرو یا موت قبول کرو- ایرانیوں نے موت پر مذھب کی تبدیلی قبول کی – ا ایران شوق سے شیعہ رہے مگر امت کا حصہ بن کر کیوں نہیں‘ اس سے متصادم کیوں؟
ایرانی آئین میں لکھا ہے: حکمران کے لیے شیعہ ہونا لازم ہے۔ مکاتبِ فکر اپنی عبادت گاہیں تعمیر نہیں کر سکتے، اجتماع نہیں کر سکتے- تہران دنیا کا شاید واحد دارلحکومت ہے جہاں سنی مسجد موجود نہیں (حکومت ایران اس کا انکار کرتی ہے، دعوی ہے کہ ٩ سنی مساجد ہیں)- اﯾﺮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﮯ 65 ﺳﯿﻨﯿﮕﺎﮒ ( ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺧﺎﻧﮯ ) ﮨﯿﮟ ، ﺻﺮﻑ ﺗﮩﺮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﮯ 34 ﺳﯿﻨﯿﮕﺎﮒ ،ﻋﯿﺴﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﮯ 38 ﭼﺮﭺ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﮭﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﺩﻭﺍﮦ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ-
[ایرانی حکومت کے مطابق ایران کے قانون کے مطابق کوئی شیعہ یا سُنی مسجد نہیں بلکہ ہر مسجد اللہ کا گھر ہے، ایران کے جن علاقوں میں اہل سنت کی تعداد زیادہ ہے وہاں کی مساجد میں اہل سنت پیش امام ہیں اور اہل تشیع کو وہاں کوئی اور مسجد بنانے کی اجازت نہیں بلکہ اہل تشیع بھی اہل سنت امام کے پیچھے نماز ادا کریں گے اور اسی طرح جن علاقوں میں اہل تشیع کی آبادی زیادہ ہے وہاں پیش امام اہل تشیع ہو گا اور اہل سنت انکے پیچھے نماز ادا کریں گے۔ یہ دعوی اس دعوی سے کہ تہران میں ٩ سنی مساجد ہیں اس کی خلاف معلوم ہوتا ہے self contradictory واللہ اعلم]
ایران کو عراق ، شام ، یمن کا ٹھیکہ کس نے دیا؟ نہ ہی سعودیہ کو یمن کا ٹھیکہ کا حق ہے۔
اگر ایران یا سعودی سمجھتے ہیں کہ جنگ سے ایک فریق فتح حاصل کر کہ مخالف کو کچل دیں گے تو یہ خام خیالی ہے۔ روس، امریکہ، افغانستا ن ، ویتنام، کوریا پرانے قصے نہیں ان سے سبق لیں ۔
عراق، شام ، یمن وغیرہ میں عوام کی خواہش کا احترام کریں ان کی اخلاقی ، معاشی مد د کریں ان کے معاملہ میں ٹانگ نہ اژائیں۔
اس لا حاصل جنگ سے فائدہ اسرائیل کو، مغربی، امریکی، روسی اسلحہ فروشوں کو ہے۔ مسلمانوں کو مالی، جانی، سیاسی نقصان ہے۔
پاکستان میں شیعہ سنی امن سے ہیں۔ ہمیں کسی کی طرف داری کی بجائے حق سچ کا ساتھ دینا ہے۔ پاکستان اس معاملہ میں خاموش تماشائی بن کر منافقت کا رول نہ کرے۔
وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۖ فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّـهِ ۚ فَإِن فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا ۖ إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ﴿٩﴾
اور اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ جائیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے پھر اگر وہ پلٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ( قرآن، الحجرات، 49:9)
پاکستان یران اور سعودیوں کے درمیان امن اور بات چیت dialogue شروع کروائے۔ راحیل شریف والا معاملہ اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتا ہے۔ یہ عمل ممکن ہے سب فریقین کو ٹیبل پر لے آیئے۔ ورنہ پاکستان کے پاس آپشن کھلے ہیں۔
پاکستان کبھی کسی مسلم ملک کے خلاف فوج استعمال نہیں کرے گا۔ حرمین شریفین کی حفاظت کے لئیے جان حاضر ہے۔ ایران اور سعودیہ ایک دوسرے پر حملہ کی غلطی نہیں کریں گے۔ بھر شور کیسا؟
 پاکستان، شیعہ ، سنی ، غیر مسلم ، ہم سب کا وطن ہے ہماری وفاداری پہلے پاکستان ہونا چاہیے. غیر ملک کا آلہ کار کوئی نہ بننے گا . ہم ایک ہیں . مل کر ملک کی حفاظت کرین  
فرقہ واریت پر مزید۔۔۔
…………………………………………………………………..

India offers to invest $20 billion in Iran >>

 

پاکستان نے جند اللہ کے عہدیدار کو پکڑ کر ایران کے حوالے کیا۔ ایران نے اسے پھانسی دی۔ بدلے میں پاکستان کو کیا ملا؟ چاہ بہار اور بھارتی نیوی کا افسر! جو پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہا تھا۔ سابق سیکرٹری خارجہ ایران کے بارے میں کچھ کہنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ کبھی کہتے بھارت پر فوکس رکھنا چاہیے‘ کبھی کہتے کہ ہمارے اداروں نے بھارتی افسر کو پکڑ دکھایا۔ کبھی مشرق و سطیٰ کی طرف نکل جاتے۔

یہ ہیں وہ بیوروکریٹ جو وزارتِ خارجہ چلاتے رہے اور چلا رہے ہیں۔ جرأت، نہ وژن‘ نہ معلومات! فرمایا کہ اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے ایران بھارت قربت میں تعطّل رہا! غلط بالکل غلط! پوری دنیا جانتی ہے کہ بھارت پابندیوں کے دوران ایران کی ہر ممکن مدد کرتا رہا۔ سابق سیکرٹری صاحب کو وقت ملے تو وُو ڈروولسن سنٹر ہی کی سپیشل رپورٹ دیکھ لیں۔ اس رپورٹ میںThe “Strategic Partnership” Between India and Iran کے عنوان سے چشم کشا 

حقائق بیان کیے گئے ہیں۔ 
جنوری 2003ء میں ایران اور بھارت کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا اس کے تین حصّے تھے۔ اقتصادی، سیاسی اور دفاعی! ایران اور بھارت میں مشترکہ فوجی تربیت کے پروگرام طے پائے۔ جلیل روشن دل ایک معروف ایرانی محقق ہیں جو امریکہ، ترکی اور ڈنمارک کی متعدد یونیورسٹیوں میں ریسرچ کرتے رہے۔ وہ یونیورسٹی آف ایران اور ایران کے ایک معرف تھنک ٹینک سے بھی وابستہ رہے۔ وہ لکھتے ہیں۔
In the worst-case Scenario of war with Pakistan, The Possibility that India might access Iranian Military bases, Thereby encircling and Containing Pakistan, cannot be excluded. [Read more: http://goo.gl/Ony7E7]

یعنی اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کے ساتھ بھارتی جنگ کی صورت میں بھارت ایران کی ملٹریBases کو استعمال کر سکتا ہے اور یوں پاکستان کے گرد 

گھیرا تنگ کر سکتا ہے۔
 کیا ایران نے کل بھوشن کے واقعہ پر بھارت سے احتجاج کیا؟ امر واقعہ یہ ہے کہ ایران نے یہ بھی نہیں کہا کہ بھارت کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔
ایران اور پاکستان کے تعلقات دنیاوی سرحدوں سے ماورا، اسلام کے رشتے سے بندھے ہوئے ہیں۔ پاکستانی، شیعہ ہو یا سنّی، ایران سے محبت کرتا ہے۔ فارسی صدیوں تک برصغیر کے مسلمانوں کی تہذیبی شناخت رہی! سارے مغل عہد میں ایرانی شعراء اور اہلِ علم آتے رہے اور مغل بادشاہ اور امرا و عمائدین ان کی سرپرستی کرتے رہے۔ یہ ایرانی شعراء ہی تھے جنہیں جہانگیر اور شاہجہان کے درباروں میں ملک الشعراء کے خطابات ملتے رہے۔ دوسری طرف ایران میں اقبال کو جو پذیرائی ملی ہے، محتاجِ بیان نہیں! آج بھی خسرو اور بیدل کے شعری مجموعے پاکستان میں ملیں یا نہ ملیں، ایران میں ضرور ملتے ہیں۔ اقبال نے تو یہاں تک کہا تھا کہ ؎
تہران ہو گر عالمِ مشرق کا جنیوا
شاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے
مگر ایران جب پالیسیاں مسلکی بنیادوں پر بناتا اور آگے بڑھاتا ہے تو اہل پاکستان صدمے سے دو چار ہوتے ہیں۔ کچھ ہفتے پہلے ہی ایرانی صدر نے کہا کہ اہلِ تشیع کے دفاع کے لیے کسی جگہ بھی مداخلت سے گریز نہیں کریں گے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے روزنامہ دنیا کے معروف تجزیہ نگار جناب خورشید ندیم نے لکھا… ”اپنے تمام تر دعووں کے باوجود امر واقعہ یہ ہے کہ ایران کا انقلاب فرقہ وارانہ تعصب سے اٹھ نہیں سکا۔ نعرہ تو ”لاشرقیہ لاغربیہ۔ اسلامیہ اسلامیہ‘‘ کا بلند ہوا لیکن ہمیں معلوم ہے کہ اس انقلاب کے خدوخال مسلکی تھے۔ مشرق وسطیٰ میں اس انقلاب کے بعد شیعہ سنی کی تقسیم نمایاں ہوتی چلی گئی اور آج یہ اپنے عروج پر ہے‘‘
آگے چل کر خورشید ندیم حسرت کا اظہار کرتے ہیں… ”اگر وہ یہ کہتے کہ وہ دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھائیں گے تو اس سے ان کا قد بڑھتا‘‘۔
ایرانی صدر پاکستان میں تشریف لائے۔ یہ پاکستان کے لیے مبارک موقع تھا۔ ایران کے صدر اُس ملک کے صدر ہیں جو ہماری تہذیب کا مظہر ہے۔ سعدی ‘حافظ اور عطار کے وطن سے کوئی عام شخص بھی آئے تو ہمارے لیے محترم ہے اور وہ تو صدر ہیں! ہم تو یہی کہیں گے ؎
دریں خانہ ہر کس کہ پا می نہد
قدم برسر و چشم ما می نہد
اس گھر میں آنے والا، اپنے پاؤں ہمارے سر آنکھوں پر رکھے!! مگر وہ جو اقبال نے کہا تھا ع
گلۂ جفائے وفا نما کہ حرم کو اہلِ حرم سے ہے 
چاہ بہار کے واقعہ پر گلہ تو بنتا تھا!!ہماری سیاسی قیادت خاموش رہی! قرعۂ فال جنرل راحیل شریف کے نام نکلا۔ انہوں نے ایرانی مہمانِ گرامی سے بات چیت کے دوران معاملہ اٹھایا اور مطالبہ کیا کہ ایران اپنے علاقے سے پاکستان مخالف بھارتی سرگرمیاں روکے اس لیے کہ را پاکستان کے خلاف ایرانی سرزمین استعمال کرتی ہے۔ جنرل راحیل شریف کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ؎
قیس سا پھر نہ اٹھا کوئی بنو عامر میں
 خر ہوتا ہے قبیلے کا فقط ایک ہی شخص  ایران، بھارت اور پاکستان کے حوالے سے یہ جو واقعہ پیش آیا ہے‘ اس پر ہمارے وہ دوست بھی ٹھنڈے دل سے غور کریں جو حقائق سے آنکھیں چرا کر، جذبات کی رومانی دنیا میں رہتے ہوئے امتِ مسلمہ کے نام پر آئے دن نعرہ زن ہو رہے ہوتے ہیں! کون سی امتِ مسلمہ اور کون سا اتحاد؟؟ سعودی عرب اور ایران خم ٹھونک کر آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ ترکی اور ایران مخالف کیمپوں میں ہیں۔ شام اور عراق میں مسلمان مسلمان کو قتل کر رہا ہے۔ ایران کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے ۔گوادر کو نیچا دکھانے کے لیے چاہ بہار کو سامنے لایا جا رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں چالیس سال سے زیادہ عرصہ کے بعد اُن رہنماؤں کو تختۂ دار پر لٹکایا جا رہا ہے جنہوں نے مشترکہ پاکستان میں اپنے ہی ملک کی حمایت کی تھی!
امتِ مسلمہ کا تصور روحانی اور مذہبی ہے۔ مگر مسلمانوں کی پوری تاریخ میں (سوائے چند ابتدائی سالوں کے) یہ ایک سیاسی وحدت کے طور پر کبھی صورت پذیر نہیں ہوا۔ حیرت اس پر ہوتی ہے کہ مسلمان ممالک ایک دوسرے کی معمولی مدد کرنے پر تو تیار نہیں مگر کچھ لوگ عالمی اسلامی حکومت کی ڈفلی بجائے جا رہے ہیں! ایک ایک اینٹ کی تنظیمیں بنی ہوئی ہیں۔ ان چھوٹی چھوٹی تنظیموں کی قیادت تو خاندان سے باہر نکل نہیں پاتی مگر لوگوں کو عالمی خلافت کے نام پر اکٹھا کر کے دکانیں چمکائی جاتی ہیں۔ سادہ دل لوگ اسلام کے نام پر اِن تنظیموں کے عہدیداروں کو ایک خوشحال معیارِ زندگی مہیا کرتے رہتے ہیں۔
اگر امت کا تصور سیاسی ہوتا تو آج ایران اور سعودی عرب برسرِ پیکارنہ ہوتے۔ ایران اور روس ایک دوسرے کے ساتھ نہ ہوتے۔ عرب حکومتیں عراق کے خلاف امریکہ کی مدد نہ کرتیں۔ یہاں دوستیاں بھی مفادات کے تابع ہیں اور دشمنیاں بھی دنیاوی فائدوں کے لیے ہیں۔ عالمِ اسلام کا حال وہی ہے جو فراز نے کہا تھا ؎
اپنے اپنے بے وفاؤں نے ہمیں یکجا کیا
ورنہ میں تیرا نہیں تھا اور تو میرا نہ تھا
اظہار  الحق..بشکریہ  دنیا 

– See more at: http://dunya.com.pk/index.php/author/muhammad-izhar-ul-haq/2016-04-01/14925/35948211#tab2

حسن روحانی  کو جو لوگ غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں‘ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اختیار ولایت فقیہہ اور ان کے حواری علماء کے ہاتھ میں ہے۔ایرانی علماء فیصلہ کرتے ہیں کہ صدارتی انتخاب میںکون کون حصہ لے سکے گا۔ خواتین قطعاً نہیں‘ غیر شیعہ بھی نہیں۔ کوئی ایساشخص نہیں جو انقلاب ایران کا پرجوش حامی نہ ہو۔بالآخر جو بچ رہتے ہیں‘ ان میں ان کاپسندیدہ ہی نمایاں ہوتا ہے ۔ 
 اب اپنے رسوخ کا دائرہ بڑھانا اور مشرق وسطیٰ پر غلبہ حاصل کرنا مقصود ہے۔اسی لئے قاتل بشار الاسد کی پشت پناہی ۔ اسی لیے یمن میں مداخلت ہے‘ بحرین اور لبنان میں بھی ۔گوادر بھی اسی لیے گوارا نہیں۔ بھارت اسی لیے ہم نفس ہے۔
ا ایران شوق سے شیعہ رہے مگر امت کا حصہ بن کر کیوں نہیں‘ اس سے متصادم کیوں،؟
 سیکولر ایرانیوں میں قوم پرستی کا جذبہ جوش مارتا ہے تو ان میں سے بعض ایسی احمقانہ گفتگو کرتے ہیں۔مگر مذہبی طبقہ بھی قوم پرستی سے خالی نہیں۔ کسی نے کبھی ان پر جبر نہ کیا تھا‘نہ مصریوں اور شامیوں پر‘ اِصحابِ رسول ایک اور طرح کے لوگ تھے۔ اپنی کامیابی نہیں‘ وہ اسے اللہ کی رحمت کا نتیجہ سمجھتے تھے‘ ساد ہ اطوار‘ انصاف پسند۔ مرکز طاقتور تھا اور کسی گورنر کی مجال نہ تھی کہ ظلم کا ارتکاب کرے۔ حالت جنگ میں بھی عورتیں‘ بچے اور بوڑھے‘ کھیت اور باغات محفوظ تھے۔ ایران کا المیہ یہ ہے کہ اپنی عظمت کا خواب کبھی فراموش نہ کر سکا۔
 امام حسنؓ ایک ایرانی شہزادی سے بہائے گئے تو اہل ایران نے اپنا ”رشتہ شاہی خاندان ‘‘سے جوڑا‘ جو ہرگز شاہی خاندان نہ تھا۔ اپنی فضیلت میں انہوں نے ایک اور پہلو کا اضافہ کر لیا۔ بتدریج وہ ایک خاص مکتب فکر سے وابستہ ہو گئے ۔امت سے دور ہوتے گئے؛۔ دوسرے فرقوںپر بھی یہی بیتی۔
پندرہویں صدی میں شاہ اسماعیل صفوی مذہبی جنون کے ساتھ اٹھا۔ ظہیر الدین بابر کو سمر قند سے بھگانے والے شیبانی خاں کو اس نے قتل کر دیا اور فاتح عالم کے جلال سے حکومت کرنے لگا۔ بابر کا فرزند ہمایوں ایران میں پناہ گزین ہوا تو صفوی سریر آرائے سلطنت تھے۔ آٹھویں صدی میں عراق اور ایران میں عربوں کے خلاف جس عجمی تحریک کا آغاز ہوا تھا‘اب وہ ثمر بار تھی۔ پانچ سو برس پہلے فارسی زبان نے غلبہ باپا تھا‘ جب امام غزالی نے اپنی تاریخی تصنیف احیاء العلوم کے لیے اسے اختیار کیا۔ وسطی ایشیا کو وہ تسخیر کر چکی تھی۔ شیر شاہ سوری کی موت کے بعد ہمایوں واپس آیا تو ایرانی امرا اس کے ہم رکاب تھے۔ اکبر کے عہد میں طویل بحث ہوئی کہ مسلمان برصغیر کی پہلی مقامی زبان گوجری اور فارسی میں سے کس کو اختیار کیا جائے۔ زبان پہلوی کو دربار کی سرپرستی مل گئی۔ نور جہاں سے جہانگیر کے معاشقے اور شادی کے بعد ایرانی رسوخ بڑھنے لگا۔ شیعہ امرا اور سنی فوج میں تصادم کا آغاز ہوا۔ اسی اثناء میں مجدد الف ثانی نے قتل کا وہ فتویٰ جاری کیا، جو بعد میں واپس لے لیا گیا۔ شاہ عبدالرحیم اور ان کے جانشین شاہ ولی اللہ، سید احمد شہید اور سید اسمٰعیل شہید کے بعد دیوبند نے نزاع کو آگے بڑھایا۔ برصغیر کی شیعہ سنی کشمکش میں عرب اب فرقہ پرست سنیّوں اور ایرانی شیعوں کے ساتھ ہیں۔ ایران کے ولایت فقیہ نے حال ہی میں اعلان کیا کہ جہاں کہیں شیعوں کے ساتھ زیادتی ہو گی ایران بروئے کار آئے گا۔ 
یہ ایک تباہ کن انداز فکر ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ پاکستان میں سرکاری اور عوامی سطح پر شیعہ سنی کشمکش کا وجود نہیں۔ افراد متعصب ہو سکتے ہیں مگر پاکستانی حکومت‘ فوج اور افسر شاہی بڑی حد تک اس سے پاک رہی۔ سکندر مرزا اور یحییٰ خان‘ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری مقتدر رہے۔ ان پر کوئی بھی دوسرا اعتراض کیا گیا مگر مکتب فکر کا کبھی نہیں۔
 ایرانی آئین میں لکھا ہے: حکمران کے لیے شیعہ ہونا لازم ہے۔ مکاتبِ فکر اپنی عبادت گاہیں تعمیر نہیں کر سکتے، اجتماع نہیں کر سکتے ۔ امام خمینی نے تھوڑی سی کوشش ضرور کی کہ ایرانیوں کو سنی طریقے سے حج کرنے کا مشورہ دیا۔ ملا کے زیر اثر ایران کا مذہبی طبقہ مختلف ہے۔ ۔
پاکستان اور ایران دونوں کا دیرپا اور دائمی مفاد مفاہمت سے وابستہ ہے۔ ایران کو جب بھی پاکستان سے شکایت ہوئی، پاکستانی حکومت، عوام اور میڈیا نے سنجیدگی سے اس پر غور کیا۔ امریکیوں نے ”جنداللہ‘‘ کی پشت پناہی کر کے پاکستان کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی تو عبدالمالک ریگی کو تہران کے حوالے کر دیا گیا۔ امام خمینی کے انقلاب پر پاکستانی عوام نے فخر کیا۔ اب ایک مسئلہ ہمیں درپیش ہے۔ ایران کی سرزمین پاکستان میں قتل و غارت کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ ایرانی سفارت خانے کا دعویٰ بے جاہے ۔ یہ کہ ایرانی صدر کے دورے سے حاصل ثمرات تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسی کوئی کوشش نہیں، ہو گی بھی تو ناکام رہے گی۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ایران کی سرزمین پاکستان کے خلاف برتی جا رہی ہے۔ اگر ہے تو کیونکر سدّباب ہو گا؟ 
 بشکریہ  ہارون رشید- دنیا 

Original: http://dunya.com.pk/index.php/author/haroon-ur-rahid/2016-04-02/14933/19458254#tab2

ایران پاکستان، محبت سے نفرت تک۔۔۔۔!

حیرت  کہ اچانک پرانے دوست دشمن کیسے بن جاتے ہیں۔
کتنے لوگوں کو یاد ہو گا کہ ایران پہلا ملک تھا‘ جس نے پاکستان کو تسلیم کیا۔ شاہ ایران رضا شاہ پہلوی دنیا کے پہلے لیڈر تھے‘ جنہوں نے 18 مئی 1950ء کو پاکستان کا سرکاری دورہ کیا، دونوں ملکوںکے درمیان تعاون اور دوستی کے معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ شاید ہمیں یاد نہ ہو کہ پاکستان کا قومی ترانہ اس وقت راتوں رات لکھوایا اور کمپوز کرایا گیا جب شاہ ایران نے پاکستان کا دورہ کرنا تھا۔ لفظ ‘کا‘ کے سوا پورا ترانہ فارسی میں ہے۔ آج اسی ایران کی سرزمین مبینہ طور پر پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ 
پاکستان کی آزادی کے بعد سفارتی خط و کتابت کا جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ اس دور میں پاکستان زیادہ تر رہمنائی ایران ہی سے لیتا تھا۔ 13ستمبر 1947ء کو ایران سے درخواست کی گئی کہ اپنے آئین اور قانون کی کاپی فراہم کرے۔ ایرانی آئین کی کاپی اسے ایک ماڈل سمجھتے ہوئے مانگی گئی۔ پاکستان ایران تعلقات اس وقت زیادہ بہتر ہوئے جب سکندرا مرزا حکمران بنے۔ وہ بنگال کے ایک فیوڈل خاندان سے تھے اور ان کے ایران کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات تھے۔ سکندر مرزا شیعہ تھے، لہٰذا ایران پاکستان کے زیادہ قریب آیا؛ تاہم ان دنوں شیعہ سنی تقسیم اتنی نہیں تھی جتنی ہمارے ہاں آج نظر آتی ہے۔
سکندر مرزا کے ایران کے ساتھ اس وقت ذاتی تعلقات مزید استوار ہو گئے جب انہوں نے دوسری شادی ایرانی خاتون ناہید سے کی۔ ناہید ایک ایرانی دفاعی اتاشی کی بیوی تھیں‘ جو کراچی میں تعینات تھا۔ سکندر مرزا کی ناہید سے ملاقات ہوئی تو دونوں ایک دوسرے کے عاشق ہو گئے۔ ناہید نے پہلے خاوند سے طلاق کے بعد دو برس بعد 1954ء میں سکندر مرزا سے شادی کر لی۔ ناہید ایران کے مشہور سیاستدان اور پرانے رکن پارلیمنٹ تیمور کلائی کی بیٹی تھیں۔ ناہید مرزا کی ایک اور کزن نصرت اصفہانی نے بعد میں ذوالفقار علی بھٹو سے شادی کی۔ دونوں خوبصورت کزنز ایران کی اعلیٰ سوسائٹی اور تجارتی خاندانوں سے تعلق رکھتی تھیں، جو بعد میں پاکستانی معاشرے میں اہم مقام حاصل کر گئے۔ نصرت اصفہانی کے والدین کرد ایرانی النسل تھے۔ انہوں نے ایران سے بمبئی ہجرت کی۔ نصرت 23 مارچ 1929ء کو بمبئی میں پیدا ہوئیں۔ ان کا بچپن بمبئی میں شیعہ خاندانوں کے بچوں کے ساتھ گزرا، جو وہاں کاروبار کرتے تھے۔ ان میں شیرازی، نمازئی، شوستری، یازید اور اصفہانی شامل تھے۔ تقسیم کے وقت ہندو مسلم فسادات شروع ہوئے تو نصرت اصفہانی کے والد انہی فسادات میں اپنے ایک دوست کی اچانک موت سے افسردہ ہو کر کراچی آ گئے۔ نصرت کے والدکی بمبئی میں سوپ فیکڑی تھی، کاروبار خوب جما ہوا تھا۔ کراچی پہنچ کر بھی اصفہانی کراچی اور پاکستان کے اہم خاندان بن کر ابھرے۔
میں نے یہ کالم لکھنے کے لیے کچھ کتابوں کا مطالعہ کیا تو احساس ہوا کہ ایران ہندوستان کے تعلقات بہت قدیم ہیں۔ محمد شاہ رضا پہلوی کا Peacock تخت بھی دراصل ہندوستان سے لُوٹ کر ایران لے جایا گیا تھا۔ 1739ء میں ایرانی نادر شاہ نے دلی کو تباہ و برباد کر دیا‘ اور مغلوں کے خزانے لوٹ کر لے گیا، جس میں یہ تخت اور کوہ نور ہیرا بھی شامل تھے۔ مغل حکمران محمد شاہ کی شکست پر ایرانی آج بھی فخر کرتے ہیں، جبکہ ہندوستان کی نفسیات میں یہ شکست ایسے داخل ہوئی کہ وہ آج تک اسے اپنی بدترین توہین سمجھتے ہیں۔ رضا پہلوی کے اقتدار سے دو سو سال قبل بھی ایران، انڈیا کے ساتھ معاشی یونین کا خواب دیکھا کرتا تھا۔ نادر شاہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے زبردستی اپنے بیٹے کی شادی شکست خوردہ حکمران محمد شاہ کی بیٹی سے کی تھی جو دراصل اس معاہدے کا حصہ تھی جو نادر شاہ نے مغل انڈیا پر مسلط کیا تھا اور اس خواب کی طرف ایک قدم تھا جو ایران، انڈیا کے ساتھ معاشی یونین بنانے کے بارے میں دیکھتا تھا؛ تاہم نادر شاہ کے دلی پر کیے گئے ظلم و ستم نے ہندوستانی مسلمانوں اور ہندوئوںکو بہت بددل کر دیا۔ نادر شاہ واپس لوٹ گیا تو معاشی اتحادکا خواب بھی دھرا رہ گیا۔ وہ دروازہ جہاں نادر شاہ کے فوجیوں نے دلی کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کی داستان رقم کی، اسے آج بھی خونی دروازہ کہا جاتا ہے اور ہندوستان میں نادر شاہ کا نام قاتل، خونی اور بربریت کے علمبردارکے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ اگرچہ ایرانی تلواروں سے ہندوستانیوں کو ہمیشہ گلہ رہا لیکن پھر بھی دونوں کے مابین تعلقات فروغ پذیر رہے۔
مورخ Juan Cole لکھتا ہے کہ ایک دور وہ بھی آیا کہ ہندوستان میں ایران سے سات گنا زیادہ لوگ فارسی پڑھنے والے پائے جاتے تھے۔ مغلوں نے فارسی کو سرکاری زبان کا درجہ دیا ہوا تھا۔ انگریزوں کے آنے کے بعد فارسی کا زوال شروع ہوا۔ ایک اور پہلو بڑا دلچسپ ہے، ایرانی مہاجروں نے ہندوستان کی سیاست اور معیشت میں اہم کردار ادا کیا۔ پچھلی پانچ صدیوں میں ایران سے لوگ ہجرت کر کے ہندوستان میں آباد ہوتے رہے۔ کچھ ایرانی مہاجروں کو اگر ہندوستان میں معاشی خوشحالی درکار تھی تو بعض کو مذہبی طور پر ہندوستان زیادہ آزاد ملک لگتا تھا، جہاں وہ اپنے مذہب یا فقہ پر عمل کر سکتے تھے۔
سولہویں صدی کے شروع میں جب ایران میں صفوی خاندان حکمران بنا تو وہاں شیعہ اسلام نافذ کیا‘ جس پر بہت سے ایرانی سنی ہندوستان چلے آئے؛ تاہم اس دور میں آنے والے تمام ایرانی سنی نہیں تھے۔ ان میں آغا خان بھی تھے‘ جو اسماعیلیوں کے روحانی پیشوا تھے۔ وہ 1843ء میں ایران کے ایک حکمران کے خلاف ناکام بغاوت کے بعد ہندوستان آ گئے تھے۔ بعد میں انہی کے پوتے سر سلطان محمد شاہ آغا خان سوئم 1908ء میں مسلم لیگ کے بانی رکن بنے اور تحریک پاکستان میں اہم کردار ادا کیا۔ سولہویں اور سترہویں صدی 
تک ایران سے ہجرت کرکے آنے والے ایرانیوںکو دربار میں اکثر ایڈوائزر (مشیر) کا عہدہ ملتا تھا۔ دربار میں اہم عہدوں پر فائز ایرانی شیعوں نے اس خطے میں مقامی حکمرانوںکو شیعہ مسلک کی طرف مائل کیا‘ اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ بنگال سے لے کر کشمیر اور پنجاب تک کئی چھوٹے نواب اور جاگیرداروں کو شیعہ مسلک کی طرف لایا گیا اور بعد میں ان کے مزارعوں کو بھی شیعہ اسلام کی ترغیب دی گئی۔ سندھ کے بڑے جاگیردار خاندان‘ جنہوں نے بعد میں پاکستان پر حکومت کی‘ ان میں آصف علی زرداری اور بینظیر بھٹو شامل تھے۔ شیعہ مسلک کی طرف رجحان بڑھا۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت بھارت میں دو کروڑ چوبیس لاکھ جبکہ پاکستان میں تین کروڑ پچاس لاکھ شیعہ آبادی ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کے بعد زیادہ شیعہ صرف ایران میں ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں شیعوں کی ہندوستان اور پاکستان میں موجودگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران اور ہندوستان صدیوں سے کس قدر ایک دوسرے کے قریب رہے اور کیسے ایرانی تجارت، تعلیم، فلسفہ اور صوفیانہ رنگ کا ہندوستان پر اثر پڑا۔
1979ء میں ایران میں انقلاب آیا تو نئے حکمرانوں نے یہ پالیسی بدلی۔ ہندوستان اور پاکستان میں موجود شیعوںکی وجہ سے نئی سیاسی دلچسپی پیدا ہوئی تاکہ ایران اپنے سیاسی اثر و رسوخ کا دائرہ بڑھائے۔ رضا شاہ پہلوی نے پاکستان کے ساتھ کچھ اور نوعیت کے تعلقات رکھے تھے لیکن انقلاب کے بعد ایران کی طرف سے پاکستان میں سیاسی کردار اہمیت اختیار کرتا گیا۔ ویسے 1979ء تک رضا شاہ کے دور میں یہ کردار ایک بڑے بھائی کا رہا‘ جس نے ہر مشکل میں پاکستان کی مدد کی۔ رضا شاہ کو پاکستان کا اصلی دوست کہا جا سکتا ہے جس نے ایران پر 1941ء سے 1979ء تک حکومت کی۔ شاہ ایران کا ایک مضبوط پاکستان میں یہ مفاد تھا کہ اس طرح وہ روس کے جنوبی ایشیا میں اثر و رسوخ کو قابو میں رکھے گا۔ اس لیے پاکستان کی بقا کے لیے شاہ ایران کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھا‘ لہٰذا جب بھی پاکستان مسائل میں گھرا، شاہ ایران مدد کو دوڑا؛ تاہم شاہ ایران اپنے اقتدار کے آخری عشرے میں پاکستان سے مایوس ہونا شروع ہو گیا تھا۔1971ء میں پاکستان کو بھارت سے شکست ہوئی تو شاہ ایران کو شدید مایوسی ہوئی۔ شاہ پر یہ سوچ کر مایوسی کے دورے پڑتے کہ شاید پاکستان زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکے۔ 
ایک نئی کتاب
Iran and Pakistan: Security, Diplomacy and American Influence میں Alex Vantanka لکھتا ہے کہ رضا شاہ پاکستان کے بارے میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا تھا کہ ایک کمزور دوست‘ جس سے آپ مدد کی توقع رکھے بیٹھے ہوتے ہیں، وہ الٹا آپ پر بوجھ بن جاتا ہے۔ برطانیہ بھی شاہ کی سوچ سے متفق تھا؛ تاہم شاہ ایران نے مشرقی پاکستان کے بعد باقی ماندہ پاکستان کو بچانے کی کوششیں شروع کر دیں اور پاکستان کو ایران کی فارن پالیسی کا اہم ستون بنایا تاکہ یہ ایک دفعہ پھر نہ ٹوٹ جائے۔ الیکس لکھتا ہے کہ 1973ء میں بلیئر ہائوس واشنگٹن میں شاہ ایران اور ہنری کسنجر کی ملاقات ہوئی‘ جس میں شاہ نے واضح کیا کہ انہوں نے روس کو بتا دیا تھا کہ وہ پاکستان کا تحفظ ہر صورت کریں گے۔ کسنجر کو شاہ ایران نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے انڈیا کو بھی واضح پیغام بھیج دیا ہے کہ اب مغربی پاکستان پر حملہ ہوا تو ایران پاکستان کی ہر طرح مدد کرے گا‘ ایران اب پاکستان کے مزید ٹکڑے ہوتے نہیں دیکھ سکے گا۔
پاکستان کی سکیورٹی اور دفاع کے لیے امریکیوں نے بھی رضا شاہ کی حمایت کی۔ شاہ ایران نے کسنجر کو بتایا کہ یہ پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے، اسے امریکہ اور ایران کی اخلاقی حمایت ملنی چاہیے، جس کا مطلب تھا پاکستان کو فوجی امداد دی جائے۔ شاہ ایران کا پاکستان کی طرف ہمیشہ پدرانہ انداز رہا۔ شاہ اپنے آپ کو پاکستان کا محسن گردانتا تھا، جس نے اپنے کمزور ہمسائے کا ہر حال میں خیال رکھنا ہے کیونکہ ایران کے اپنے مفادات بھی پاکستان کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ 
تاہم انقلاب ایران کے بعد حالات بدل گئے۔ یہ ایک اور طویل کہانی ہے۔ اب تو حالات اس حد تک بدل گئے ہیں کہ پاکستان الزام لگا رہا ہے کہ ایرانی سرزمین پاکستان کے اندر دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ وہ ہندوستان جس کو شاہ ایران رضا پہلوی نے دھمکی دی تھی کہ اگر مشرقی کے بعد مغربی پاکستان توڑنے کی کوشش کی گئی تو وہ جنگ میں کود پڑے گا، آج اسی ایران پر الزام لگ رہا ہے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ مل کر پاکستان کو توڑنے کے منصو بے پر کام کر رہا ہے۔گویا کل کے دوست دشمن اور کل کے دشمن دوست ہوئے۔ مفادات بدلنے کے ساتھ ہی دوستیاں اور دشمنیاں بدل گئیں۔ 
یہ ہے انسانی تاریخ کا سبق۔ قوموں کے تعلقات میں مفادات اہم ہوتے ہیں۔ دوستی 
تو محض ایک بہانہ ہوتی ہے ان مفادات کو حاصل کرنے کا! 
 بشکریہ دنیا ،  رؤف  کلاسرا 

تبصرہ 
ایران در اصل  ایک  شیعہ اسلامک  ریپبلک ہے . جہاں  سخت  قسم  کی  مللایت  قائم ہے . ملا کسی  مکتبہ  فکر  ہو  وہ  سخت  متصب  ہوتا  ہے  . اپنے  علاوہ  سب کو  غلط  حتی  کہ  کافر  کہنا  عام  بات  ہیے .  خمینی  انقلاب  کے بعد  انقلاب  کو   پھیلانے ا  نے  کا  پروگرام  عراق  سے  جنگ  کی وجہ  سے  رک  گیا  مگر  ختم  نہیں  ہوا . عراق پر امریکی  حملے  کے  بعد  اس  پر عمل  شروع  ہو گیا . عراق  کی فرقہ  وار  حکومت  کی مدد  کر کہ  ایران  نے داعیش  کا  جن  کھڑا  کیا ، پھر  شام  میں  ظالم  اقلیتی  اسد  کی حکومت  کی  فوجی  مالی  سیاسی  مدد کی . لبنان  یمن  میں  بھی  ایرانی دراندازی   شامل  ہے . اب  انڈیا  کے ساتھ  مل  کر  پاکستا ن کو  تباہ  کرنے  کا پروگرام  نظر  ا  رہا ہے  .  ایران  علاقائی طاقت  اور انڈیا  بین الاقوامی  طاقت  بننا چاہتے  ہیں  پاکستان  کو دشمن  سمجھنا  غلط  ہے . پاکستان  سنی  نہیں  اسلامک  اسٹیٹ  ہے. قاید  اعظم محمد  علی جناح  شیعہ تھے .  یہاں  لیاقت  علی  خان ، سکندر مرزا ،  یحییٰ  خان  ، زلفقار  بھتو ، بے نظیر  ،     زرداری  شیعہ  بھی  وزیر ا عظیم   یا  صدر  بننے . ایران میں صرف شیعہ ہی صدر ہو سکتا ہے . پاکستان ہم سب کا وطن ہے ہماری وفاداری پہلے پاکستان ہونا چاہیے. غیر ملک کا آلہ کار کوئی نہ بننے گا . ہم ایک ہیں . مل کر ملک کی حفاظت کرین  –
………………………………………………………..
ایران کے سُنی حکومت کے نسلی ومذہبی مظالم کا شکار!

ایران سے امریکا سے صلح کر لی لیکن اہل سنت کو معاف کرنے پر تیار نہیں
ایران میں سنہ 1979ء میں برپا ہونے والے نام نہاد اسلامی انقلاب کے بعد جہاں یہ ملک ایک مخصوص فرقے اور طبقے کے لوگوں کےلیے جنت ثابت ہوا مگر وہاں اہل سنت والجماعت مسلک کے پیروکاروں کی زندگی عذاب بن کر رہ گئی ہے۔ ایران کے سنی مسلمانوں کو حکومت کی انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے اور انہیں مذہبی اور نسلی بنیادوں پر عدم مساوات کے ظالمانہ سلوک کا سامنا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایران میں اہل سنت والجماعت مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو درپیش مسائل اور ایرانی رجیم کے ہاتھوں ہونے والی صریح زیادتیوں پرمبنی ایک تفصیلی رپورٹ میں روشنی ڈالی ہے۔
رپورٹ کا آغاز ایک سنی نوجوان مبلغ شہرام احمدی کی پھانسی کے واقعے سے کیا جا رہا ہے۔ شہرام احمد کو حال ہی میں سزائے موت سنائی گئی۔ اس واقعے نے ایران میں اہل سنت مسلک کے پیروکاروں کی بنیادی حقوق کی سنگین پامالیوں کا معاملہ ایک بار پھر منظر عام پر آ گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام کسی بھی وقت شہرام احمدی کو سنائی گئی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کر دیں گے۔

ایران میں پھانسی کے منتظر سنی مبلغ شہرام احمدی
احمدی کو سنائی گئی سزا سے یہ آشکار ہو رہا ہے کہ ملک میں غیر فارسی بان بالخصوص سنی اقلیت کے ساتھ کس درجے کا ظالمانہ اور غیر مساوی سلوک کیا جا رہا ہے۔ ایران کے جنوبی اضلاع، جہاں سنی مسلمانوں کی اکثریت ہے، ایرانی رجیم کی انتقامی پالیسی کا منہ چڑاتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایرانی حکومت صرف مذہب اور مسلک ہی کی بنیاد پر امتیاز نہیں برت رہی ہے بلکہ رنگ ونسل کی بنیاد پر بھی اقلیتوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثالیں ایران کی کرد، ترکمان، عرب اور بلوچ اقوام ہیں۔ چاہے ان کا تعلق کسی بھی مسلک یا مذہب سے ہو مگر انہیں صرف اس لیے عدم مساوات کا سامنا ہے کہ یہ لوگ ایرانی اور فارسی النسل نہیں ہیں۔
ایران میں جہاں اہلسنت کے مسلمان اپنے ساتھ ہونے والی زیادیتوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں وہیں دوسری جانب ایرانی حکومت اور سرکاری میڈیا بار بار یہ پروپیگنڈہ کرتا دکھائی دیتا ہے کہ ایران میں کسی کے ساتھ مذہب، زبان، مسلک اور قومیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا ہے۔
اہل سنت مسلک کے پیروکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت کی فرقہ وارانہ پالیسیوں کا سامنا ہے۔ ملکی سیاست میں اقلیتوں کے لیے کوئی جگہ پہلے ہی نہیں تھی مگر اب سنی مسلمانوں کو مساجد میں اپنے طریقے کے مطابق نماز اور عبادت سے بھی روکا جانے لگا ہے۔ ایران کے دارالحکومت تہران اور کئی دوسرے شہروں میں مساجد کے قیام پر پابندی ہے۔ کچھ عرصہ قبل تہران بلدیہ نے دارالحکومت کی اکلوتی جامع مسجد بھی شہید کر دی تھی جس پر ایران بھر میں اہل سنت والجماعت مسلک کی جانب سے شید ردعمل سامنے آیا تھا۔
ایران کے سنی رہ نما الشیخ عبدالحمید اسماعیل زئی بلوچستان کے دارالحکومت زاھدان کی جامع مسجد کے امام ہیں۔ تہران بلدیہ کی جانب سے مسجد کی شہید کرنے کے واقعے پر انہوں نے نہ صرف احتجاج کیا بلکہ رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک مکتوب میں اس معاملے پر متوجہ کیا مگر انہوں نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔
رواں سال اگست میں ایرانی صدر حسن روحانی نے سنی اکثریت علاقے کردستان کا دورہ کیا جہاں انہیں صحافیوں کی جانب سے تلخ سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ صحافیوں نے صدر حسن روحانی سے پوچھا کہ ایرانی کابینہ میں کوئی سُنی وزیر کیوں نہیں ہے تو انہوں نے سخت غصے میں جواب دیا کہ ہم ایران میں شیعہ اور سنی کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔
ایران میں سنی آبادی کا تناسب
ایران کی کل 15 سے 17 ملین آبادی یعنی کل آبادی کا 20 سے 25 فی صد اہل سنت والجماعت کے مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ یہ معلومات غیر سرکاری اعداد وشمار کے ذریعے سامنے آئے ہیں۔ سرکاری سطح پر اقلیتوں کی آبادی کے بارے میں کوئی ٹھوس معلومات نہ تو جمع کی جاتی ہیں اور نہ ہی انہیں ظاہر کیا جاتا ہے۔
سنی آبادی کی اکثریت مغربی ایران کے ضلع کردستان، جنوب مشرق میں بلوچستان، شمال مشرق میں چولستان، ساحلی شہر آذربائیجان، جنوب مغرب میں اھواز، شمال مشرق میں خرسان، اور شمال میں جیلا اور طالش کے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔
ایرانی دستور اور اہل سنت
ایران میں مسلک اور مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک صرف حکومت کی پالیسی نہیں بلکہ یہ سب کچھ ایران کے دستور کا حصہ ہے۔ ایرانی دستور میں اعلیٰ عہدے صرف امامی اہل تشیع کے لیے مختص ہیں۔ دستور کی دفعہ 107 میں وضاحت کے ساتھ لکھا گیا ہے کہ کوئی غیر مذہب [مراد سنی مسلمان] مرشد اعلیٰ کے عہدے پر فائز نہیں ہو سکا۔ ایران کی گارڈین کونسل کا رکن نہیں بن سکتا۔ گارڈین کونسل کا چیئرمین بھی نہیں بن سکتا۔ آرٹیکل 61 کے مطابق ‘کوئی سنی مسلمان کسی عدالت کا جج نہیں بن سکتا۔’
آرٹیکل 115 کی دفعہ 5 میں تحریر ہے کہ ‘صدر جمہوریہ کے لیے سرکاری مذہب شیعہ کا پیروکار ہونا ضروری ہے۔’ آئین کی دفعہ 121 میں ہے کہ ریاست کا ہر عہدیدار سرکاری مذہب[شیعہ] کے مطابق حلف اٹھائے گا۔
آرٹیکل 12 اور 13 میں صراحت کی گئی ہے کہ شیعہ مذہب کے سوا کسی دوسرے مذہب کی تبلیغ کی قطعی اجازت نہیں ہوگی تاہم اہل تشیع کو تمام تر مذہبی آزادی کے ساتھ ساتھ اپنے مذہب کی تبلیغ اور تشہیر کی بھی اجازت ہے۔ اسی ضمن میں ایران کے دارالحکومت تہران میں اہل سنت والجماعت کو مسجد بنانے سے روکا گیا ہے۔ مساجد کی تعمیر ان تمام شہروں میں ممنوع ہے جہاں شیعہ اکثریت ہے۔
ایرانی دستور کے آرٹیکل دو میں ایران کے سیاسی نظام کی تعریف کے بعد اس کے طریقہ کار کی وضاحت کی گئی ہے۔ آئین کی رو سے ایران میں اسلامی جمہوریہ ایران کا سیاسی ڈھانچہ امامی شیعہ کی تعلیمات کے تحت ہو گا۔ ملک کی زمام کار امامی اہل تشیع کے ہاتھ میں ہوگی جو فقہا کی وضع کردہ تمام شرائط پر پورا اترنے کے بعد کوئی عہدہ اور منصب سنھبالنے کے اہل ہوں گے۔
اہل سنت کی آبادی میں اضافے کا خوف
ایران میں جہاں ایک جانب سرکاری سطح پر اہل سنت مسلک کے پیروکاروں کو دبایا اور انہیں بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے وہیں ایران حکومت اہل سنت کی آبادی میں اضافے سے خوف کا بھی شکار دکھائی دیتی ہے۔
ایران میں متعدد مرتبہ حکومتی عہدیدار ملک میں سنی مسلک کے لوگوں کی تعداد بڑھنے پر تشویش میں مبتلا دکھائی دیے ہیں۔ انہوں نے اپنی زبان سے کھل کر اس بات کا اظہار اور اقرار کیا ہے کہ ایران میں سنی مسلک کے لوگوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ولایت فقیہ کے نظام کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔
بین الاقوامی المصطفیٰ یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر ناصر رفیعی کا کہنا ہے کہ ایران میں اہل سنت مسلک کی آبادی میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ شیعہ مسلک کی آبادی اس سرعت کے ساتھ نہیں بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا بعض شہروں میں قائم سکولوں میں سنی بچوں کی تعداد 50 فی صد سے تجاوز کر رہی ہے۔ شیعہ آبادی کی تعداد زیادہ ہونے کے باوجود ان کے اسکولوں میں موجود بچوں کی تعداد سنی مسلمانوں کے بچوں سے کم ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی”مہر” نے حال ہی میں ایک حکومتی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ آذربائیجان میں سنی آبادی میں 70 فی صد اضافہ ہو چکا ہے اور شیعہ آبادی صرف 30 رہ گئی ہے۔ شیعہ آن لائن نامی ایک ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق آئندہ 20 برسوں میں ملک میں شیعہ مسلمان اقلیت میں بدل جائیں گے۔
ایران کے ایک سرکردہ مذہبی رہ نما آیت اللہ مکارم شیرازی نے ایک بیان میں خبردار کیا کہ ملک میں اہل سنت تیزی کے ساتھ پھل پھول رہے ہیں۔ انہوں نے جنوبی ضلع خراسان میں وسیع علاقے پر اراضی کی خریداری شروع کی ہے۔ انہوں نے اہل تشیع کو کثرت اولاد کی ترغیب دی اور کہا کہ جو شخص اہل تشیع کی ترویج اور آبادی میں اضافے پر ایک ریال خرچ کرتا ہے وہ ایران کے امن واستحکام میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔
آبادی سے متعلق مرشد اعلیٰ کا پیغام
ایران میں اہل تشیع کی آبادی میں بتدریج کمی پر رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای بھی سخت پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ چند ماہ قبل انہوں نے ایرانی شیعہ مسلک کے پیروکاروں کو اپنی آبادی میں اضافے حکم دیا تھا۔ جہاں جہاں سنی مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے وہاں شیعہ آبادی میں اضافے کے لیے حکومت نے ایک نیا پلان ترتیب دینا شروع کیا ہے۔ خلیج العربی سے متصل علاقوں، بحر عمان کے آس پاس، اماراتی جزیروں طنب الکبریٰ، طنب الصغریٰ اور ابو موسیٰ میں شیعہ آبادی کو کھپانے کے لیے سرمایہ کاری کے کئی منصوبے شروع کیے گئے ہیں تاکہ ان اہل تشیع کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں یہاں آباد ہونے کی ترغیب دی جا سکے۔

اس منصوبے پر عمل درآمد کرنے کے بعد ایک ایرانی عہدیدار محمد ناظمی اردکانی نے بتایا کہ اگلے ڈیڑھ سال میں ایران کی آبادی 80 ملین سے تجاوز کر جائے گی۔ سنہ 2014ء میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا آبادی میں اضافے کا پلان ایران کی مجلس شوریٰ میں بھی زیر بحث آیا۔ حکومت نے سپریم لیڈر کی شیعہ آبادی میں اضافے کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے آئندہ چند برسوں میں اس حوالے سے مزید اقدامات کا بھی اعلان کیا۔
یاد رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ہم مغرب کی اندھی تقلید کرتے ہوئے اپنی آبادی میں تیزی کے ساتھ کمی کی طرف گامزن ہیں۔ ہمیں کچھ عرصے کے اندر ایران کی آبادی کو مزید ایک گنا بڑھا کر 150 ملین تک لے جانا ہے۔
اشتعال انگیز مذہبی رسومات
ایران میں حکومت کی سطح پر اہل سنت مسلک کے مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کی پالیسی پر عمل کے ساتھ ساتھ اہل تشیع کے ہاں ایسی ایسی مذہبی رسومات ادا کی جاتی ہیں جو سنی مسلمانوں کے لیے اشتعال انگیزی سے کم نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے واقعے کو “عمر کشتون”[قتل عمر] کو خوشی کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یوں 9 ربیع الاول شہادت عمر فاروق کو ایران میں “عیدالزھراء” کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ایران میں حضرت عمر فاروق کی شہادت کو عید کے طور پر منانے کی مکروہ روایت کوئی پانچ سو سال قبل صفویوں نے شروع کی تھی۔ صفوی چار صدیوں تک ایران میں حکمران رہے اور انہی کی دور میں ایران میں شیعہ مذہب تیزی کے ساتھ پھیلا۔
حضرت عمر فاروق کے قاتل ابو لولو مجوسی کو بھی ایران میں نہایت عقیدت واحترام کا مقام دیا جاتا ہے۔ وسطی ایران کے کاشان شہر میں بد بخت ابو لولو مجوسی کا باقاعدہ مزار ہے جہاں دور دور سے شیعہ زائرین ‘عبادت’ کے لیے وہاں آتے ہیں۔
ایران میں خلفائے راشدین اور ازواج مطہرات پر طعن وتشنیع کا سلسلہ بھی عام ہے خاص طور پر محرم الحرام کے موقع پر ایران کے شیعہ مذہبی ذاکرین کھلے عام صحابہ کرام اور ازواج نبی کے خلاف دشنام طراز کرتے ہیں۔
ایران میں ہر سال 21 مارچ کو نئے سال کا آغاز بھی مذہبی جوش و جذبے منایا جاتا ہے۔ اس تاریخ کو حضرت فاطمۃ الزھراء کے یوم وفات کی نسبت ماتم کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ خلفائے راشدین کی شان میں گستاخیاں کی جاتی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ایران کے دارالحکومت تہران میں قائم جامع تہران کے شیعہ امام محمد علی موحدی کرمانی نے اہل تشیع پر زور دیا تھا کہ وہ عید نوروز کے موقع پر خوشی کے بجائے ماتم کو زیادہ اہمیت دیں۔
پھانسی کی سزائیں
ایران میں معمولی معمولی واقعات کی بنیاد پر لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ اس ظلم کا شکار ہونے والوں میں بھی اہل سنت کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں۔ ایران کی جیلیں اہل سنت مسلک کے پیروکاروں سے بھری ہوئی ہیں۔ ان میں سے بیشتر کو ان کے مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر جیلوں میں ڈالا گیا ہے۔ بیشتر کو پھانسی کی سزائیں سنائی گئی ہیں جنہیں کسی بھی وقت سزائے موت دی جا سکتی ہے۔
رواں سال مارچ میں کرج نامی شہر کے “رجائی شہر” جیل میں قید 6 سنی کرد کارکنوں حامد احمدی، کمال ملائی، جمشید دھقانی، جہانگیر دھقانی، صدیق محمدی اور ھادی حسینی کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ انہیں سنہ 2012ء میں ایران کی ایک انقلاب عدالت نے ‘فساد فی الارض’ کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔
حال ہی میں ایک اور سنی مبلغ شہرام احمدی کو بھی سزائے موت سنائی گئی ہے۔ شہرام ایک سلفی تنظیم کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور پچھلے چھ سال سے ایران کی جیل میں پابند سلاسل ہیں۔ ان پر ایران کے ولایت فقیہ کے نظام کے خلاف گفتگو کرنے اور اپنے سیاسی اور مذہبی عقائد کی تشہیر کے لیے کتب اور سی ڈیز فروخت کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ شہرام کے ایک بھائی کو اسی الزام میں 2012ء میں 18 سال کی عمر میں پھانسی دے دی گئی تھی۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شہرام احمدی کو دوران حراست ہولناک جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
صالح حمید ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ
مختصر لنک  : http://ara.tv/664ez

The “Strategic” Partnership Between India and Iran (PDF): Woodrow Wilson Report  
 
 ABSTRACT: India and Iran—one the object of much wooing from Washington, the other a member of President Bush’s “axis of evil” —announced the creation of a “strategic partnership” in 2003. This Special Report explores the new cordiality in relations between New Delhi and Tehran, as well as the ways this partnership may impact upon the interests of other regional players. Christine Fair explains the calculations that make Iran an attractive partner for New Delhi, and concludes that the bilateral relationship is here to stay. Jalil Roshandel offers an Iranian perspective on the relationship. Pakistan, geographically situated between the two, views closer links between its neighbors with considerable alarm, a subject examined by Sunil Dasgupta. P.R. Kumaraswamy asks how this new Indian-Iranian collaboration may influence New Delhi’s economic and strategic ties with Israel. In addition, all four essays address the implications for the United States of the new – See more at: http://peace-forum.blogspot.com/2016/04/the-strategic-partnership-between-india.html

More:
It is common to brush aside the conspiracy theories. However if one critically examines the plans conceived decades back by scholar or groups with close association with the policy makers in USA and UK and the events on ground bear close semblance, its difficult to reject it out rightly. The governments of Muslim countries should consider these aspects seriously and instead of investing in construction of high rise building and other symbols of luxury, should invest in education, and establish think tanks, with genuine intellectuals, analysts and thinkers. They should constantly review the international plans and conspiracies, suggesting concrete counter measures for the national survival and advancement of peace and stability. 
Also read:

 

 

 

 

Image result for ‫تہران سنی مسجد موجود نہیں‬‎

ایرانی جنرل فلوجہ کی شیعہ ملیشیا میں نمودار – صفحہ اول

urdu.alarabiya.net/…/ایرانی-جنرل-فلوجہ-کی-شیعہ-ملیشیا-میں-نم…
Jul 10, 2015

… بغداد حکومت نے شیعہ ملیشیا کو فلوجہ میں سُنی شدت پسند گروپوں کے خلاف کارروائی کا ٹاسک دیا ہے۔ … یہی وجہ ہے کہ تہران حکومت کی جانب سے عراق میں داعش کے خلاف جنگ …

 

https://en.wikipedia.org/wiki/List_of_Pakistani_Shia_Muslims
http://www.alarabiya.net/articles/2012/08/25/234050.html
http://www.dw.com/ur/
https://www.facebook.com/permalink.php?id=909803712407139&story_fbid=920827471304763
http://dailypakistan.pk/ رایرانی-سنی-حکومت-کے-امتیازی-سلوک-کے-شکا
http://iblagh.com/55439
http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/01/160110_baat_se_baat_wusat_zh
http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=76930
http://www.fikrokhabar.com/index.php/2014-03-15-09-42-26/item/10696-tehran-me-ahle-sunnat-maslak-ki-akloti-masjid-shahed-kardi-gayi
http://sunnionline.us/urdu/2015/05/4557/
http://www.urdu.shiitenews.org/index.php?option=com_k2&view=item&id=43594:2016-10-24-13-01-14&Itemid=239
https://en.wikipedia.org/wiki/Sasanian_Empire
Videos >>>

فرقہ واریت 

  1. فرقہ واریت کا خاتمہ : پہلا قدم
  2. مسلمان کون؟
  3. عمر ضائع کردی
  4. اختلاف فقه اور اتحاد مسلم
  5. بدعت ، بدا، 1
  6. بدعت – اَحاديث و اَقوالِ اَئمہ -2
  7.    فرقہ وارانہ مذہبی بیانیوں پر مختصر تبصرہ
  8. فرقہ واریت – تاویلیں، دلائل اور تجزیہ
  9. ہْلُ السُّنَّۃ وَالْجَمَاعَۃ‘‘ کون؟ 
  10. تاریخی واقعات دین اسلام کی بنیاد ؟
  11. شیعہ عقائد اور اسلام
  12. شیعیت-عقائد-و-نظریات
  13. تکفیری، خوارج فتنہ 
  14. انسداد فرقہ واریت 
  15. امام خامنہ ای – خونی ماتم ممنوع
  16. https://wp.me/p9pwXk-1c3

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

(Visited 2 times, 1 visits today)