عاصمہ جہانگیر Asma Jahangir – The Good, bad and …

محترمہ عاصمہ جہانگیر صاحبہ لبرل سیکولر انسانی حقوق  کی علمبردار کی حثیت سے مشہور تھیں-  جہاں ان سے بہت اچھے کام منسوب ہیں ان کو بہت بڑی اکثریت ،دین اسلام کی مخالف بلکہ ملک دشمن نظریات  کی حامل خاتون سمجھتی تھی- ان پر تعریف و تنقید کی جا رہی ہے- موت کے بعد مومن پر تنقید سے پرہیز کیا جاتا ہے- مگر کیونکہ محترمہ  کو بہت بلند شخصیت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور وہ اپنے لا دین ہونے کا اقرار کر تی تھیں تو تو حقائق سے باخبر رہنا ضروری ہے – یھاں سوشل میڈیا سے کچھ انتخاب پیش ہے جو ان کی شخصیت کو سمجھنے میں مددگار ہو سکتا ہے-


اپنے نظریات کی توضیح و تشریح کرنا بندے کا خالص ذاتی حق ہے اور اس حق کو غصب کرنا ، اور بعد از مرگ ایسا کرنا تو انتہائی کریہہ اور صریح بددیانتی ہے – خاتون عاصمہ جہانگیر کا بھی یہ اتنا ہی حق تھا جتنا میرا اور آپ کا ہے – اور ان کو اپنے عقائد کی توضیح کا خوب خوب وقت ملا اور انہوں نے بنا کسی لگی لپٹی کے اپنے اس حق کو استعمال کیا – اس معنی میں آپ انہیں ایک بہادر عورت کہہ سکتے ہیں – انہوں نے بہت واضح طور پر خود کے لامذہب ہونے کا اقرار کیا – اب کوئی اٹھ کے ان کی مغفرت کی تمنا کرے تو سوال پیدا ہو گا کس سے مغفرت کی تمنا  ، جس خدا کو وہ خدا ہی نہیں مانتی تھیں ؟

Her good works for the noble cause and services to humanity are appreciated. However she and her admirers must keep in view the sentiments of majority Muslims, who don’t subscribe to her liberal anti Islam views. In a video she is found to declare that she did not believe in any religion. So why her burial making mockery of Islamic traditions?
Women are not prohibited to offer funeral prayer but they have to stand in the last row after men. This is Islamic code. The so called champions of human rights and democracy have no respect to the sentiments of majority 99% people. This is hypocrisy exposing the false claims.


کیسی جنت ، کہاں کی جہنم ، جس پر ان کا یقین ہی نہیں تھا – معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ دین اور مذھب میری یا آپ کی ذاتی پسند نا پسند کا نام نہیں اور نہ موم کی گڑیا کہ جدھر چاہا موڑ لیا – اس کے اصول ہیں اور ضابطے ہیں – جو اس پر پورا نہیں اترتا وہ اس  سے باہر ہے ، اور جو خود کو بار بار کہہ رہا ہے کہ میرا کوئی مذھب نہیں آپ اس کو زبردستی مشرف  بہ اسلام کرنے چلے ہیں –

ایک بات یاد رکھا کیجئے اور اسی کے مطابق  لوگوں سے معاملات کیا کیجئے – یہ کہ کوئی بہت برا شخص بھی  مجسم برائی نہیں ہوتا ، اس میں کوئی نہ کوئی خیر کا پہلو موجود ہوتا ہے – اور کوئی بہت نیک انسان بھی فرشتہ نہیں ہوتا اس کی زندگی میں کوئی نہ کوئی کمزرویاں ہوتی ہیں ، کوئی نہ کوئی کہانیاں چھپی ہوتی ہیں –


کچھ یہی معاملہ خاتون وکیل صاحبہ عاصمہ جیلانی کا تھا – اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انہوں نے انسانی حقوق کے ایک پہلو پر بہت سا کام کیا ، بہت سے بے گناہ قیدی ان کے سبب رہا  ہووے ، بہت سی خواتین کوئی انصاف ملا ، بہت  سے ظالم کیفر کردار کو پہنچے – بلا شبہ یہ ان کی زندگی کا ایک قابل تحسین پہلو تھا – لیکن اس  کو بدقسمتی کہیے کہ ان امور کو معروف معنی میں نیکی نہیں کہہ سکتے ، کیونکہ خاتون کا کسی بھی مذھب سے وابستہ ہونا ثابت نہیں ہوتا –


ان کے خاوند واضح طور پر اور اعلانیہ قادیانی تھے – خاتون کا کہنا ہے کہ میرا خاوند قادیانی ہے جبکہ میں نہیں – سو اس کے بعد یہی کہا جا سکتا ہے کہ آپ مذھب کی کسی بھی تعبیر کو ترک کر چکی تھیں – اس لیے جو احباب ان کے لیے جنت جنت کی گردان کر رہے ہیں وہ بے کار مشق کر رہے ہیں کیونکہ خاتون کسی ایسی جنت پر کوئی ایسا یقین نہ رکھتی تھیں بلکہ گمان کی حد تک خدا پر بھی نہیں – ممکن ہے کہ آپ کہیں کہ میں نے حد سے بڑھی ہوئی بات کر دی – لیکن کل رات کی پوسٹ میں قرانی احکام کے انکار کی گواہی دے چکا اور رسول آخر بارے ان کی توہین آمیز گفتگو بھی ذکر کر چکا –


ان پر کفر کا فتوی لگانا یقینا حد سے تجاوز کرنا ہے جو ہمارا یا آپ کا کام نہیں ، لیکن ان کے مذھب سے انکار کا اک زمانہ گواہ ہے -یوں کہیے کہ جو خود پر خود ہی فتوی لگا لے ہمیں کیا ضرورت ہے ، لیکن معاملات تو بہت واضح ہیں –
اب آتے ہیں بعد از مرگ ان پر تنقید کی طرف –

دیکھئے میں نے ابھی تک کوئی ایسی پوسٹ نہیں دیکھی جس میں کسی  نے بھی ان کی ذات پر ایسا الزام لگایا ہو جو پس مرگ نا مناسب ہو – دشنام طرازی کی بات نہ کیجئے کہ وہ ادنی افراد کا طرز ہے – اور وہ دونوں اطراف سے چل رہا ہے –
میں نے نہیں دیکھا کہ ابھی تک کسی نے ان کے ادارے “دستک” کے فنڈز کے حوالے سے کوئی الزام لگایا ہو – نہ کسی نے کروڑوں سے نکلتے ، اربوں کو چھوتے اثاثوں کا ذکر کیا ہو  ، باہر سے ” مخصوص مقاصد ” کے لیے ملنے والے کروڑوں ڈالرز کا نام لیا ہو – پس مرگ یہ احترام ہی  تو ہے جو قوم نے کیا – لیکن ان کے نظریات کہ جو مذھب اور فوج اور ملک کے حوالے سے تھے کو لے کر تنقید کرنا ، میرا نہیں خیال اس میں کوئی قباحت ہے – بلکہ میں اگر کہوں کہ خاتون کے معاملے میں پہلی بار ہماری قوم نے ، سوشل میڈیا کے لکھاریوں نے ، فیس بک کے چیتوں نے کمال درجے کی بالغ نظری کا ثبوت دیا – مجال ہے کسی نے ان کی ذات پر کوئی ایسا الزام دھرا ہو جس کی وہ حق دار نہ تھیں –
رہا فوج ، اسلام ، نبی کریم ، مولوی ، اور پاکستان بارے ان کے نظریات تو کس سے ڈھکے چھپے تھے – اور اس معاشرے کی عظمت کو سلام کہ عمر بھر خاتون لوگوں کے دل دکھاتی رہیں ، ان کے عقائد پر حملہ اور رہیں ، لیکن آزاد پھرتی رہیں اور طبعی موت مریں –
بعض احباب جنت جہنم کے فتوے ارسال کر رہے ہیں – ان کے لیے عرض ہے کہ پہلا پوچھا جائے کہ خاتون جنت جہنم جیسے کسی نظریے پر یقین رکھتی تھیں – جب ایسا کوئی نظریہ تھا ہی نہیں تو بھلا کیوں ہم جذباتی ہو رہے ہیں – بعض دوست  دعائے مغفرت کی گنجائش  چاہ رہے ہیں ، ان سے بھی یہی عرض ہے کہ حضور کیا وہ ایسی طلب گار تھیں ؟
اچھا جن دوستوں کے دل  کو “کچھ کچھ ” ہوتا ہے ، ان کے لیے مشورہ ہے – کچھ تکلیف کریں – بی بی سی ، وائس آف امریکہ ، وائس آف جرمنی اور دیگر لبرل یا غیر ملکی ویب سائٹس پر جائیں – خاتون کی وفات کی خبر کے نیچے عام افراد کے کمنٹ دیکھیں – ان میں آپ کو بہت کم ہی کوئی مولوی ملے گا – ہر سائٹ پر سو سو کمنٹ شمار کریں – تنقید ، ناپسندیدگی ،  خوشی کا تناسب نکالیں آپ حیران ہوں گے کہ نوے فیصد سے کچھ بڑھا ہو ملے گا —  حیرت نہیں کہ یہ لوگ کوئی مذہبی یا ملّا نہیں – عام دنیا دار لوگ ہیں –
اچھا آپ کو عبد الستار ایدھی یاد دلاتا ہوں ، مذھب سے ان کا کوئی تعلق نہ تھا ، کس طرح قوم ان کے لیے روئی تھی – اس کا مطلب ہے کہ خاتون کی انسانی  حقوق کے لیے خدمات کو بھی لوگوں نے پرکاہ کے برابر اہمیت نہیں دی-(…ابوبکر قدوسی )

…………………………………………….

عاصمہ جہانگیر کا اصل چہرہ:
(عاصمہ جہانگیر کی دستک اور پاکستانی فری پنکچر گروپ کا باہمی تعلق،عقلمندوں کے لیے اشارہ اور حکومت کے لیے سوالیہ نشان)
عاصمہ جہانگیر کا نام کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اسکی وجہ شہرت توہین رسالت کے مقدمات کی پیروی اور اسکی قئم کردہ این جی او “دستک” کا کردار سیکولر لوگوں کی پشت پناہی خواتین کے تقدس اور گھریلو پاکیزہ زندگی کے خلاف ایک چیلینج اختیار کر گیا ہے۔”دستک” کے بارے میں کہا جاتا ہے جو ایک مرتبہ وہاں چلا جاے تو مرد سے اسکی غیرت اور عورت سے اسکی حیا کا زیور چھن جاتا ہے۔
دستک ہر راہ بھٹک جانے والی لڑکی کو والدین اور دین سے بغاوت پر آمادہ کرتا اور گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں مین لے جا تا ہے۔دستک میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ ظلم بھی ہے، جرم بھی ہے اور گناہ بھی لیکن کوئی بھی اس ظلم جرم اور گناہ کو ختم کرانے پر تیار نہیں۔ دستک کے قیام کا بنیادی مقصد تو گھر سے بھاگی ہوئی لڑکیوں کو پناہ فراہم کرنا تھا لیکن یہ این جی او اس آڑ میں اپنا گھناونا کھیل جاری رکھے ہوے ہے۔دستک بورڈ اف ڈارئکیٹرز میں ایس ایم ظفر،حنا جیلانی اور اے ار رحمان جیسے نامور لوگ شامل تھے لیکں اسکے باوجود یہ این جی او نیک نامی حاصل نہیں کر سکی اسکی بنیادی وجی عاصمہ جہانگیر اور اسکی گندی ذہنیت ہے۔ “دستک کے معاملات سے آگاہی رکھنے والے کہتے ہیں کہ اس این جی کو سالانہ 1 کڑوڑ ڈالر امداد ملتی ہے اور یہاں کا ماحول انتہائی لبرل ہے۔دستک میں آنے والی لڑکیوں کی تعداد اگرچہ کم ہے لیکن ان لڑکیوں کو راہ راست پر لا کر کئی قسم کے فوائد سمیٹے جاتے ہیں۔ہاں موجود لڑکیؤن کو ایک خاص قسم کا لبرل ماحول مہیا کیا جاتا ہے انکے ذہنوں میں مزہب کے خلاف گند بھرا جاتا ہے۔مخصوص لڑکوں کے ساتھ میل جول کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں ھر ان لڑکیوں کو بڑے افسروں،بااثر سیاستدانوں اور شخصیات کے سامنے پیش کیا جاتا ہے جو انکی عزت سے کھیلتے ہیں۔یوں “دستک باظاہر تو ؒلڑکیوں کی عزت کا رکھوالا ادارہ ہے لین درحقیقت ان لڑکیوں کی عزت کا لٹیرا ہے۔اسکے علاوہ “دستک” کا ایک سوشل میڈیا سیل بھی ہے جو لا دین لوگوں پر مشتمل ہے جنکا کام سوشل میڈیا پر اسلام اور پاکستان مخالف پروپیگنڈا کو ہوا دینا اور اور لبرل ریاست کے قیام کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔سوشل میڈیا کی اکثر معروف شخصیات اس سے وابستہ ہیں جنکا کام ہر وقت اسلام اور پاکستان کے خلاف بھونکنا ہے۔ سوشل میڈیا کے یہ لوگ فیک ناموں سے ایکٹو ہیں اور یہ مذموم کام کرنے کا انکو باقاعدہ معاوضہ دیا جاتا ہے۔
اس بات کی سب سے پہلی شہادت شیخوپورہ کی گھر سے فرار ہو کر دستک میں پناہ لینے والی ایک لڑکی کنیز نے دی جو کسی طرح دست تو پہنچ گئی لیکن وہاں اسکو اپنی عزت بچانا مشکل ہو گیا۔جب کنیز عزت بچانے کےلیے دستک سے بھاگی تو یہ معاملہ پہلی دفعہ پریس میں آیا۔کنیز نے بتایا کہ لڑکیوں کو مجبور کرکے بااثر شخصیات کے پاس بھیجا جاتا ہے اور گمراہ کن لٹریچر پڑھایا جاتا ہے۔جو لڑکی انکار کرے اسے سخت ذہنی اذیت دی جاتی ہے۔کنیز نے ایک وکیل چوئدری نعیم ایڈوکیٹ سے رابطہ کرکے جان بچائی اور گھر واپس چلی گئی یہ تھوڑی پرانی بات ہے پرانے اخبارات میں اسکا ثبوت موجود ہے۔یہ ماعملہ پریس میں آنے پر شباب ملی نے دستک اور عاصمہ جاہنگیر کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ بھی شروع کیا۔عاسمہ چوسنی نے مظاہرے رکوانے کے لیے بااثر شخصیات سے رابطہ کیا جنہوں نے عاصمہ کو چپ رہنے کا مشورہ دیا بعد ازاں شباب ملی والوں نے بھی مظاہرے بند کر دیے۔
دستک میں موجود لڑکے اور لرکیوں کو اسلامی اقدار کا مذاق اڑانے کی خصوصی تربیت دی جاتی ہے۔
“دستک” کے علاوہ عاصمہ جہانگیر کی وجہ شہرت توہین رسالت کے مقدمات کی پیروی ہے اسکے علاوہ اسکی شہرت کی ایک اور وجہ ان تین تین سو کے قریب مقدمات کی پیروی بھی ہے جو خواتین کے حقوق اور محبت کی شادیوں کے نام پر لڑ چکی ہے اسکے قابل ذکر کیس سمیعہ ارشد اور صائمہ عمران کے ہیں جسکی وجہ یہ محبت میں حائل سماجی دیواروں کو گرنے کی چیمئن سمجھی جاتی ہے۔اندرونی معاملات سے آگاہی رکھنے والے کہتے ہیں کہ بعض ملٹی نیشنل کمپنیوں اور این جی اوز نے سالانہ 2 کڑوڑ ڈالر مختص کر رکھے ہیں۔واقفان حال کے مطابق عاصمہ جہناگیر نے اتنی دولت مقدمات کی پیروی سے نہیں کمائی جتنی اس نے نظریاتی سرحدوں اور خاندانی اور اسلامی اقدار کو تباہ کرنے کی سازچوں میں حصہ لے کر کمائی ہے۔
عاصمہ جہانگیر کا والد ملک غلام جیلانی ایوب خان کے دور میں وفاقی وزیر تھا اس سے پہلے وہ سٹیبلیشمنٹ کمشنر بھی رہا اسکے علاوہ ساہیوال میں انگریزوں کی گھوڑے پال سکیم میں سینکڑوں ایکر سرکاری زمین بھی الاٹ کرائی تھی۔ملک غلام جیلانی بنگلہ دیش کے شیخ مجیب و رحمن کا قریبی ساتھی بھی تھااور شیخ مجیب سے ملکر متحدہ پاکستان کو توڑنے کی سازشوں میں بھی شریک رہا۔
عاصمہ جہانگیر پر ایک الزام یہ بھی ہے پاکستان کی انسانی حقوق کی صورت حال کے بارے میں ایمینسٹی ینٹرنیشنل جو رپورٹیں تیار کرتا ہے اسکا اصل سرچشمہ عاصمہ جہانگیر ہی ہوتی ہے۔عاصمہ جو اعدادوشمار بجھواتی ہے وہ ایمنسٹی انترنیشنل کی رپورٹ میں شامل کر لیے جاتے ہیں یہ تمام اعدادوشمار غلط ہوتے ہیں اور اسکے ذریعے پاکستان کی گکط تصویر پیش کی جاتی ہے۔۔
جماعت احمدیہ کے بعض سینئر اراکان کا کہنا ہے کہ سوم و صلوۃ کی پابند نہ ہونے اور باقاعدہ بیعت نہ ہونے کے باوجود عاصمہ جتنا ممکن ہو جماعت احمدیہ کو بھی کیش کرواتی ہے۔جماعت احمدیہ کےذرائع کے مطابق عاصمہ جہانگیر کےشوہر کا تعلق لاہوری گروپ سے ہے اور وہ کٹر احمدی ہے۔
کیا عاسمہ جہانگیر ان سوالات کا جاوب دینا پسند کرے گی؟
عاصمہ جہانگیر اور اسکے ساتھی سیموئیل رابرٹ نے امریکہ جاپان اور دیگر ممالک سے فنڈ حاصل کیے اور ان میں 15 کڑوڑ کا گھپلا کیا۔
ساہیوال میں پادری جوزف کا کیس اچھالنے کے لیے امریکہ سے 1 کڑوڑ روپے لیے۔
جب شانتی نگر کا واقعہ ہوا تو عاصمہ کی این جی او نے علاقے کا دورہ کیا اور وہان کے لوگوں کو اپنے گھر گرانے پر اکسایا تاکہ وہ انکی تصاویر بنا کر باہر سے فنڈ لے سکے۔
دستک کو سالانہ بیرونی ممالک سے کڑوڑوں ڈالر کے فنڈ ملتے ہیں لیکن اسکا کبھی اڈٹ نہیں ہو کیوں؟
کیا پاکستانی فری تھنکرز کے کرتا دھرتا لوگوں کا عاصمہ جہانگیر اور دستک سے کوئی تعلق نہیں؟
ان سوالات کے جوابات کا منتظر ہوں

Source: https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1008028619319905&id=329617373827703

 عورتوں کا مردوں کی جماعت میں حاضر ہوکر ادا کرنا مطلقا مکروہ ہے: ویکرہ حضورھن الجماعة (الدر المختار)

http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Death–Funeral/10423

اس جنازہ کا مقصد Defying religion and traditions, “یعنی مذھب اور روایت کا انکار “

خواتین نمازجنازہ میں شرکت کرسکتی ہیں لیکن مردوں کی طرح جنازے کے پیچھے چل کر جانا ان کے لئے جائزنہیں ہے۔روایات میں ہےکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مسجدمیں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے جنازہ میں شرکت کی تھی۔ (صحیح مسلم،الجنائز:973)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہمیں،یعنی عورتوں کو جنازے کے ساتھ چلنے سے منع کیا گیا ہے،لیکن اس سلسلہ میں ہم پر سختی نہیں کی جاتی تھی یا تاکیداًمنع نہیں کیا جاتا تھا۔ (صحیح بخاری،الجنائز :1278)

وفات، میت ، نماز جنازہ ، تعزیت، ایصال ثواب ، مسائل[ …. ]

……………………………………………………..

پاکستان بھر کے جید علماء کا متفقہ بیانیہ- عاصمہ جہانگیر کے بارے میں غور طلب امور:

اللہ مالک الملک جس کو چاہے معاف کرے ، جسے چاہے عذاب دے ، یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اخروی اور برزخی معاملات میں فیصلے کا اختیار مخلوق کے پاس نہیں ، خالق کے پاس ہے۔
لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ کسی کے غلط عقائد و نظریات سے صرف نظر کر لیا جائے۔ لہٰذا کسی بھی مرنے والے کے ظاہری اقوال و افعال کو مد نظر رکھتے ہوئے ، کسی فیصلے پر پہنچنا ضروری ہے ۔ اہل علم و دانش کی یہ ذمہ داری ہے کہ ظاہری قرائن کی روشنی میں حقائق کو واضح کرنے کے لیے رائے دیں ۔
*چنانچہ عاصمہ جہانگیر کے عقائد و نظریات اور اسکی زندگی کی تگ و تاز کے مطالعہ کے بعد درج ذیل حقائق سامنے آتے ہیں کہ موصوفہ* :
1۔ شریعت محمدی میں کھلم کھلا من مانی کرتی تھیں ، اور تاریخ شاہد ھے کہ انہوں نے عورت کی آدھی گواہی کے قرآنی قانون کے خلاف شور مچایا۔
2 ۔ کئی دفعہ اشاروں کنایوں میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کی ، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت اُمّی کا بھی استہزاء کیا۔ اسی طرح بلاگرز کے خلاف جسٹس صدیقی کے فیصلہ پر ناروا تنقید کی۔
3۔ اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے والی تھیں ، سزائے موت کی منکر تھیں۔ یہاں تک کہ معصوم بچوں کی آبرو ریزی کرنے والوں اور سفاکی کے ساتھ قتل کرنے والوں کے قتل کی بھی مخالف تھیں اور عدلیہ میں مذہبی عناصر کا مذاق اڑاتی تھیں۔ 
4۔ اعلانیہ ایک قادیانی کی بیوی تھیں ، جبکہ.کوئی مسلم عورت کسی کافر سے نکاح نہیں کرسکتی ۔
5۔ گستاخان رسول کی پشت پناہی کی۔ جیسے کہ ملعونہ آسیہ کی حمایت کرنا سب کے سامنے ہے۔
6۔ بذات خود مذہب سے بیزاری کا اظہار کرتی رہیں کہ ’ میں تمام مذہبوں کو ایک جیسا سمجھتی ہوں ، میرا اپنا کوئی مذہب ہے ہی نہیں ‘ گویا یہ دین برحق اسلام اور دوسرے ادیان و مذاہب میں فرق نہیں سمجھتی تھیں ، سب کو ایک جیسا مانتی تھیں ۔
7۔عمر بھر توہین رسالت اور ختم نبوت اور دیگر اسلامی قوانین کے خلاف عملی جدو جہد کا حصہ رہیں۔ بلکہامتناع قادیانیت آرڈیننس کے خلاف عدالت میں گئیں۔
8۔ پاکستان کے نظریہ کی نفی کرتی رہیں اور پاکستان کو سیکولر اسٹیٹ قرار دینے کی جدوجہد میں ملکی اداروں کی ، گالی کی حد تک مخالفت کرتی رہیں۔
9-مبینہ طور پر پاکستان توڑنے کی قرار داد شیخ مجیب نے ان کے والد کے گھر میں بیٹھ کر تیار کی تھی۔ اسی قسم کی کاوشوں کے تناظر میں بنگالی حکومت نے انہیں ایوارڈ سے بھی نوازا تھا۔
*ان نو نکات کی روشنی میں ہر ایک مسلمان بخوبی فیصلہ کر سکتا ہے کہ*
*ایسی میّت کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے یا انکی موت سے عبرت حاصل کرنی چاہیے اور اس قسم کے عناصر سے کلی برات کا اظہار کرنا چاہیے* ؟
*ہر درد مند مسلمان کو اپنے ضمیر سے پوچھنا چاہیے کہ اللہ اور اسکے رسول کی علانیہ مخالفت اور پھر ملک و ملت سے غداری کرنے والے ہماری محبت کے حقدار ہیں یا ہمیں ان سے برات کا اظہار کرنا چاہیے*

*علامہ حافظ ابتسام الہی ظہیر*