دوسرے مسلک کے امام کے پیچھے نماز ؟

 

 

“مسلک” بہت بعد کی ایجاد ہے ، اللہ نے اہل ایمان کو “مسلم” نام عطا فرمایا۔ اس کے علاوہ کوئی اور نام کیوں پسند کریں۔ فروعی اختلافات اللہ کی عبادت میں رکاوٹ نہیں ہونا چاہیئے۔ نماز اللہ کی عبادت ہے ، امام تو اتحاد کی علامت ہے۔

آج کے دور میں مسلمان کئی فرقوں میں بٹ چکے ہیں اگرچہ ان کی اکثریت اسلام کے بنیادی عقائد اور عبادات پر متفق ہے مگر فروعی اختلافات کی شدت نے نفاق کے بیج اس طرح بو دیئےہیں کہ انتشار دن بدن متشدت اوراضافہ پزیرہے- اس معاملہ میں اسلام دشمن قوتیں بھی ملوث ہیں مگر ان کو جوازوہ مسلمان مہیا کر رہے ہیں جودشمنوں کے ہاتھ دانستہ یا نادانستہ طور پرکھلونا بن چکے ہیں-
قرآن پر سب مسلمانوں کا ایمان ہے، جس کو سب مسلمان مکمل طور پر کلام اللہ تسلیم کرتے ہیں، یہی الله کی مظبوط رسی ہے جس کو الله تعالی مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیتا ہےاور یہی تفرقہ کے خلاف موثر ترین ڈھال ہے-
تفصیلی مطالعہ اور تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس خطرہ کو اگر ختم نہیں تو کم کرنا ممکن ہے۔
تمام مسلمان اپنے آپ کو صرف اور صرف “مسلمان” کے نام سے پکاریں، کسی اور نام کی جازت نہ  دیں،جو نام الله نے دیا وہ مکمل ہے، کسی اکسٹرالیبل (extra label) کی ضرورت نہیں-
ہم کواللہ کے بیان میں کوئی کمی کیوں محسوس ہوتی ہے، حیلے، بہانوں سے ہم اللہ کے دیئے ہوئے نام  “مسلم”  کی بجا ئے, مسلک ،فقہ ، منہج کا لیبل لگانے کی کیا ضرورت ہے؟

هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَـٰذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ۚ  ( سورة الحج22:78)

اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام “مسلم” رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ –
 یہ کہنا کہ؛”میرا مذھب ، فقہ رسول اللهﷺ اور صحابہ اکرام کا ہے، وہ اسلام پر تھے میں بھی اسی پر عمل کر رہا ہوں-” درست ہے کیونکہ تمام ائمہ کرام اور جید علماء و شیوخ  اپنے علم کی بنیاد پر یہ دعوی کرتے ہیں کہ ان کا نقطہ نظر،مکتبہ فکر، فقه ہی درست اسلامی نقطہ نظر ہے جس کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے- اس لیے ہر ایک مکتبہ فکر یا فقہ کے لوگوں کےلیئے اپنے آپ کو مسلمان کہلانا قابل عزت اور قابل فخر بات ہے- اس کے علاوہ ہر نام قرآن و سنت کے خلاف ہے- ہم سب مسلمان ہیں, صرف مسلمان کہلائیں- لیبل کی ضرورت فرقہ واریت کے لیے ہے ، کون غلط ہے اور کون صحیح اس کا علم صرف اللہ کو ہے اور اللہ ہی روز قیامت اس کا فیصلہ فرمائیں گے-
’بدعت‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جو ’’بَدَعَ‘‘ سے مشتق ہے۔ اس کا معنی ہے : کسی سابقہ مادہ، اَصل، مثال، نمونہ یا وجود کے بغیر کوئی نئی چیز ایجاد کرنا؛ یعنی کسی شے کو عدمِ محض سے وجود میں لانے کو عربی زبان میں ’’اِبداع‘‘ کہتے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں بدعت کا حکم ہر اُس فعل یا مفعول کیلئے استعمال ہوتا ہے جسکا وجود قرآن و سنت کی نص سے ثابت نہ ہو اور وہ مابعد قرآن و سنت ظاہر ہو۔

 

بدعت کی دو اقسام ہیں:

1. بدعت ُمکفِّرہ
2. بدعت غیر ُمکفِّرہ/ مُفسِّقہ
بدعت مُکَفِّرہ:

اس سے مراد ایسا کام ہے جس کے ارتکاب سے مسلمان دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے۔ کسی کفریہ کام کے بارے میں یہ تو کہا جاسکتا ہےکہ یہ کفریہ کام ہے، لیکن اگر کوئی اس کام کا ارتکاب کرے تو اس پر کفر کا حکم لگانے سے پہلے ان امور کا خیال کرنا بہت ضروری ہے۔ أولا دیکھا جائے کہ کفریہ کام کے ارتکاب کے پیچھے کیا اسباب ہیں۔ اور پھر ان اسباب کا سد باب کیا جائے۔ کفریہ کام بسا اوقات صحیح نص نہ پہنچنے کی وجہ سے ہوتا ہے، اور کبھی یہ ہوتا ہے کہ وہ نص اس کے نزدیک ثابت نہیں ہوتی، یا یہ بھی ہوتا کہ اس کو اس میں فہم کی استطاعت نہ ہو یا ممکن ہے کہ اسے کچھ شبہات درپیش ہوں جو اس نص کو ماننے میں رکاوٹ ہوں۔ اس لیے پہلے ان اسباب کو ختم کیا جائے گا۔ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ زیر بحث کام کا تعلق ایسے امور سے نہ ہو جس میں سلف و خلف میں اختلاف ہو ۔

کچھ علماء کا خیال ہے کہ اتمام حجت اور کفریہ کام کے اسباب کو ختم کرنے کے بعد بھی اس پر کفر کا حکم عام شخص نہیں لگا سکتا بلکہ یہ کام حکومت کے ذمہ داری میں شامل ہے کیونکہ عامی کے ہاتھ اس کا اختیار دینے میں بہت مفاسد ہیں۔

کچھ علماء کا خیال ہے کہ اس کام کا تعلق اصول سے ہو نہ کہ فروع سے۔ اگر اس نے کوئی ایسا کام کیا جس کا تعلق فروع یعنی عملی کاموں سے ہو تو تب اس کو کافر نہیں قرار دیا جائے گا۔ اس کو کافر قرار دینے کے لیے اس بات کا تعلق عقائد سے ہونا ضروری ہے۔ جبکہ دیگر علماء اس پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کام کا تعلق خواہ عمل سے ہو یا عقیدہ سے اس کی تکفیر دیگر شرائط کو ملحوظ رکھ کر ہی کی جاسکتی ہے۔ بدعت مکفرہ کے مرتکب شخص کے پیچھے بھی بالاتفاق نماز نہیں پڑھی جائے گی۔ مگر اس کے لیے مذکورہ بالا شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔
بدعت غیر مکفرہ/ مفسِّقہ:

یعنی جس کے کرنے سے انسان گناہ گار ہوجاتا ہے مگر اسے کافر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس کو فسق و فجور اور نافرمانی میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنے کے مکروہ اور ناپسندیدہ ہونے پر اتفاق ہے۔ پھر یہ دو اقسام پر منقسم ہوگا۔ ایک وہ بھی فسق و فجور کی دعوت دیتا ہے اور دوسرا جو صرف اس کام کو اپنے تک محدود رکھتا ہے۔ مؤخر الذکر صورت میں اس شخص کے پیچھے نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ (والله اعلم )

source: https://aqilkhans.wordpress.com/

بدعت ، بدا، Bida’ah-1