New Fitnah: Bodies of Muslim Shuhada as Arguments for Dawah نیا فتنہ: شہداء کی ميتوں کو قبروں سے نکال کر کفارکو تبليغ

شہداء اور اسلام کی مقدس ہستيوں کی ميتوں کو قبروں سے نکال کر اسلام کی حقانیت کی دلیل کے طور پر کفارکو تبليغ کے لیے استعمال کرنا، نیا فتنہ :

کوئی نارمل شخص جس نےتاریخ انسانی اور قرآن و سنت کا سر سری مطالعہ بھی کیا ہوتو وہ شہداء کی میتوں کی بے حرمتی جیسی فضول بات کرنا تو دور کی بات ایسا سوچ بھی نہیں سکتا- ایسی تجویز یا عمل جو قرآن و سنت کے برخلاف ہو وہ بدعت ضلاله ہے جو فتنہ و فساد ہے-   ایک صاحب کے ساتھی سے فیس بک پر 20 جون 2017 کو ان کی پوسٹ پر ڈسکشن ہوئی ، جس میں قرآن و سنت سے دلائل سے اس نظریہ کو رد کیا- جو محفوظ کر لیا ہے  اب ایک اور صاحب سے فیس بک میسنجر پر ڈسکشن (مکالمہ) ہوا اور قرآن و سنت سے رد میں دلائل ریپیٹ کئیے، مگروہ صاحب اپنے نقطہ نظرکو تبدیل کرنے کو تیار نہیں- ڈسکشن ختم کر دی اور مناسب سمجھا کے تمام ڈسکشن اور دلائیل  کو ویب پر پبلش کر دیا جائے تاکہ عوام  اور علماء دونوں اطراف کے نقطہ نظر سے آگاہی حاصل کر کہ خود فیصلہ کرے- یھاں مختصر تجزیہ پیش خدمت ہے , تفصیلات اس لنک پر مہیا ہیں:

http://salaamone.com/new-fitnah-rebuttal

http://rightfulreligion.blogspot.com

مقصد :

  • صراط  مستقیم جو قرآن و سنت اور اصحابہ اکرام کا راستہ ہے اختیار کریں-
  • گمراہی اور فتنہ و فساد سے اجتناب
  • بدعات ضلالہ کو مسترد کریں ، امت مسلمہ کا اتحاد، فرقہ واریت سے اجتناب-
  • اجماع امت میں تفرقہ و فساد پیدا نہ کریں-
  • اسلام کے فروغ اور دعوه تبلیغ کے لیے ذاتی و انفرادی تاویلات کی بجائے  1400 سال سے قرآن و سنت اور اصحابہ اکرام کا مروجہ طریقه اختیار کریں-
  • میتوں کا احترام، جلد تدفین کریں ، لان النبش حرام( قبر اکھاڑنا حرام)
  • اپنی تجاویز “اسلامی نظریاتی کونسل”، اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد ، اور معروف دینی دارالعلوموں کو تحقیق و تجزیہ کے لیے بھیجیں- ان کی سفارشات پر عمل کریں- جب تک نظریہ و تجاویز کو اجماع کی حثیت حاصل نہ ہو ان کی عوام میں تشہیر گمراہی کا باعث ہو گی.
  • کوئی انسان عقل کل نہیں، انسان سے غلطی ہو سکتی ہے مگر “اجماع امت” غلطی سے محفوظ ہے فرمان رسول الله (صلی الله علیہ وسلم) کے مطابق. 

اسلامی دعوت تبلیغ دین اور اس کے اصول

تجزیہ :

قرآن و سنت اور تاریخ کے مطالعہ سے جو معلوم ہوتا ہے اس کا خلاصہ اس طرح ہے : (تفصیلات مکالمہ لنک آخر میں )

  1. الله اگر چاہتا تو تمام  تمام لوگوں کو راہ ہدایت پر لے آتا مگر اس کا پلان یہ نہیں کہ زبردستی ہدایت دے- ہدایت اس کو ملتی ہے جو خواہش رکھے اور کوشس کرے- مسلمانوں کا کام قرآن و سنت مے مطابق تبلیغ و دعوه کرنا ہے ، میتوں سے دعوه غیر اسلامی،  بدعت ضلالہ ہے جو برخلاف قرآن و سنت ہے، گمراہی ہے-
  2. بے تکی تاویلات سے اپنی خواہشات نفس کا مطلب نکالنا جو قرآن و سنت کے برخلاف ہو، تحریف قرآن و حدیث ہے جو گناہ کبیرہ ہے- یہ یہودیوں اور مشرکوں کا طریقہ ہے۔ فتنہ پسند لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ جو نظریہ انہوں نے گھڑ لیا ہے اس کو کسی طریقه سے قرآن و حدیث سے سند لے کر اسلام کے نام پر پیش کر سکیں-  کہیں سے کوئی ایک ایسی دلیل ڈھونڈھتے ہیں جو ان کے نقطۂ نظر کے قریب ہو، اگر نہ ملے تو زبردستی آیات اور احادیث سے سیاق و ثبات  سے ہٹ کر اپنی مرضی کا مطلب بنا لیتے ہیں اوراسی پر اڑ جاتے ہیں اگرچہ اس کے خلاف ہزار دلائل موجود ہوں لیکن وہ چونکہ ان کی شیطانی مراد کے خلاف ہوتے ہیں اس لئے انہیں قبول کرنے پر تیار نہیں ہوتے اور ان کے بارے میں طرح طرح کی الٹی سیدھی تاویلیں پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں، جیسا کہ فتنہ پرور  مرزا قادیانی کر تا تھا- اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا کہ جہنم کا ایندھن بنانا ہے-
  3. کیا گارنٹی ہے کہ کہ کفار شہداء کی تروتازہ میتوں کو دیکھ کر ایمان لے آیئں؟
  4. اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان آپس میں مسلسل جنگیں کرتے رہے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں- مذہبی ، سیاسی اختلاف انسان کی فطرت میں ہے- مسیحی یورپ صدیوں سے آپس میں جنگو و جدل خون خرابہ کرتے رہے ہیں جن میں کروڑوں لوگ مارے گیے- اگر تمام انسان اسلام قبول کر لیں تو کیا دنیا میں امن قائم ہو جایئے گا؟
  5. کیا پہلی اقوام (نوح ،عاد ، ثمود ) معجزات کے بعد ایمان کے آیئں ؟
  6. حضرت موسی علیہ سلام نے نو معجزات دکھایے ، فرعون اور اس کی قوم ایمان کے آئی؟
  7. بنی اسرایئل دریا دو ٹکڑے ہوا راستہ بنا اور پھربھی تسلی نہ ہوئی توبہک کر خدا کو دیکھنے کا مطالبہ کر دیا (قرآن ٢:١٠٧)-
  8. فضول سوال کر رہے ہو جس طرح ان سے پہلے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم نے ان سے کہا تھا کہ ہمیں اعلانیہ خدا دکھا دو،  حالانکہ آیات ِ قرآنیہ کے نزول کے بعد دوسری نشانیوں کا مطالبہ کرنا سیدھے راہ سے بھٹکنا ہے۔(طبری، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۱/۵۳۰، در منثور، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۸،  ۱/۲۶۰-۲۶۱، جلالین مع صاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۱/۹۹-۱۰۰، ملتقطاً)
  9. پھر بنی اسرایئل بچھڑے  کی پوجا میں لگ گۓ اور عذاب کے مستحق ٹھرے-  
  10. حضرت عیسی علیہ سلام نے کتنے معجزات دکھائے ، مگر بنی اسرایئل نے ان کو مسترد کر دیا اوراپنی طرف سے تو مصلوب کر ہی دیا، الله نے ان کو اٹھا لیا-
  11. شق القمر کے بعد کیا اہل مکّہ مسلمان ہو گیے؟
  12. اسی لیے الله نے معجزات بطور دلیل و حجت بند کر دئیے، اور اسلامی تبلیغ اور دعوت کا طریقه واضح کر دیا- اگرچہ رسول اللہ (صلی الله علیہ وسلم) کےبہت سے  معجزات اسلامی رویات کی کتب میں موجود ہیں-
  13. حضرت سلیمان علیہ السلام،  حضرت عزیر علیہ السلام ،اصحاب کہف کے واقعات مخصوس تناظر میں پیش آیے ان کو سیاق و سباق سے ہٹا کر اپنے ،طلب کے خود ساختہ معانی نکالنا جو کسی نے نہ کیا اور قرآن و سنت کی تبلیغ و دعوه کی تعلیمات کے خلاف ، تحریف اور فضول تاویلات کے زمرہ میں اتے ہیں-
  14. شہداء کی حقیقت کا اصل علم صرف الله کو ہے کہ کس شخص کی جہاد میں کیا نیت تھی؟ ایسی  مثالیں ہیں کہ جس کو لوگ بہادر مجاہد سمجھ رہے ہوں وہ مال غنیمت، نام اور بہادری میں لڑ رہا ہو، جہاد فی سبیل اللہ ہوتا ہے- قبر کھود  کسی کے پردہ کو ظاہر کرنا اس کو اور عزیزوں کو اذیت دینا ہے، جو منع ہے احادیث کی رو سے اور اخلاقی طور بھی-
  15. اسلامی تاریخ کے چودہ سو سال میں کسی ایک ، کسی ایک صاحب علم نے کسی نبی ، صدیق ، صالحین یا شہداء کی میتوں کو قبرووں سے نکال  کر بطور حجت و دلیل ، دعوہ  اسلام کے لیے پیش کرنے کی جرات نہیں کی ، کیوں کہ ایسی قبیح حرکت نہ صرف انسانی تہزیب و تمدن، اقدار  کے خلاف ہے بلکہ الله کے قرآن میں واضح احکام اور سنت رسول اللہ (صلی الله علیہ وسلم) ، احادیث اور اصحابہ اکرام کے متواتر تسلسل سے عمل کے خلاف ہے- کوئی ذہنی طور پر مفلوج ، مریض ہی ایسی بات سوچ سکتا ہے-
  16. اسلام ایک برحق اور عقلی دلائل سے بھر پور دین ہے- قرآن الله کا کلام تا قیامت زندہ معجزہ ہے- جو ہر صاحب عقل کے لیے راہ  ہدایت ہے- سنت رسول اللہ (صلی الله علیہ وسلم)  ، صحابہ اکرام کے ذریعے ہمارے پاس احادیث کی شکل میں موجود ہے-   اللہ نے انسان کو عقل اور ہدایت مہیا کر دی اب ہر کوئی آزاد ہے ہدایت اختیار کرے یا گمراہی ، دین اسلام میں کوئی زبردستی نہیں-
  17. اجتہاد ان معاملات میں ہوتا جن کی سند قرآن و سنت میں نہ ہو- مسلم امہ میں اجماع اسلام کی حفاظت کا ایک طریقه ہے گمراہی سے بچنے کا-

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

مجوزہ تبلیغ کے طریقه کا خلاصہ :

یہ ایک حقیقت ہے کہ شہدائے اسلام کے اجسام موت کا ذائقہ چکھنے کے بعدصدیوں سے خون سمیت تروتازہ حالت میں قبروں کے اندر صحیح و سالم اور تروتازہ حالت میں موجود ہیں ۔ یہ اجسام دنیا والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے وجود اور اسکی قدرت کو کافروں پر ثابت کرنے کے لیے ایک فطری، غیر جانبدار اور قابل مشاہدہ معجزہ یعنی اللہ کی قدرت پرواضح نشانی اور ثبوت ہے- اگر چند شہدائے اسلام کے اجسام زمین کے اوپر رکھ دیے جائیں اور دنیا بھر کے کافروں کو دعوت عام دے دی جائی تو وہ اس نشانی کو آنکھوں سے دیکھ کران شاء اللہ ضرور مطمئن ہوں گے اور جنہیں ہدایت کی تلاش ہے اجسام شہدا کے ذریعے انہیں ہدایت نصیب ہوگی۔ قرآن و سنت کی روشنی می ںشہدائے اسلام کے اجسام زمین کے اوپر رکھنا بالکل جائز ہے۔اس کی دلیل میں چند باتیں پیش ہیں:

۱) حضرت عزیر علیہ السلام کی نعش مبارکہ

۲) حضرت سلیمان علیہ السلام کی نعش مبارکہ

۳) زمین کھود کر نشانی نکالنے کی دعوت

۴) اللہ انسان کی ذات میں نشانیاں دکھائے گا

۵) حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک انتقال کے بعد دودن زمین پر

۶) حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی نعش زمین پر رکھنے کی خواہش

ۧ۷) جوتے پہننے کی سنت کی خلاف ورزی

۸) اجتہاد

میت کو عمومی طور پردفن کرنے کا حکم ہے اورحضور نبی کریم محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی ہے۔ لیکن شہدائے اسلام کی چند لاشوں کو زمین پر رکھنا اہم مقاصد کے لیے بالکل جائز ہوگا۔ شہدائے اسلام کی تازہ لاشوں کو زمین پر رکھنا تاکہ غیرمسلم انہیں میڈیاکے ذریعے آنکھوں سے دیکھ کر دین اسلام کی سچائی کے بارے میں مطمئن ہوسکیں اور اسلام میں داخل ہوںا بالکل درست ہے۔   (مولانا / عالم )

Source: http://www.rightfulreligion.com/ur608_fresh-dead-bodies-muslim-martyrs-earth

 Rebuttal: (رد فتنہ)

http://salaamone.com/new-fitnah-rebuttal

http://RightfulReligion.blogspot.com

ٹاپک گائیڈ :

  1. فتنہ و فساد– لاشوں پر تبلیغ
  2. معجزات اور قرآن
  3. قرآن اور عقل و استدلال
  4. تفسیر قرآن کے اصول 
  5. میت کے دس حقوق و فرائض
  6. انبیاء و شہداء کی حیات بعد الموت
  7. بدعت ضلاله

استدلال باطلہ کا استرداد:

  1. حضرت عزیر علیہ السلام کی سو سالہ موت اور زندگی 
  2. حضرت سلیمان علیہ السلام کی  میت 
  3. قبر کھدائی
  4. انسانی ذات میں معجزات 
  5. رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین میں تاخیر 
  6. حضرت حمزہ (رضی  الله) کی میت
  7. جوتے اتار کر نماز اور داڑھی
  8. لاشوں پر تبلیغ کا اجتہاد؟
  9. End of Age of Miracles
  10. Quran: Intellect & Reason

  یہ طریقه  قرآن و سنت اور اصحابہ سے ثابت نہیں، ناجائز ہے-

اسلام ؛ قرآن اور سنت پر عمل کرنے کا نام ہے۔اسلام کی بنیاد صرف رسول اللہﷺ سے نقل وسماع ہے، قرآن کریم بھی رسول اللہﷺ ہی کے ذریعہ ملا ہے؛ انھوں نے ہی بتلایا اور آیات کی تلاوت کی ،جوبطریقۂ تواتر ہم تک پہنچا ہے- کتاب اللہ کے بعد رسول اللہؐ کی سنت شریعت کا دوسرا سرچشمہ اور اصل واساس ہے، یہ قرآن کریم کی تشریح اور اس کے اصول کی توضیح اور اجمال کی تفصیل ہے- آپ نے فرمایا کہ:

“تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَاتَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ رَسُوْلہِ”۔(مشکوٰۃ شریف:۲۹)”

میں تمہارے درمیان دوچیزوں کو چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم ان دونوں کومضبوطی سے تھامے رہوگے ہرگز گمراہ نہ ہوگے اور وہ کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ ہے۔ “

” فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بعدی فَسَيَرَى اخْتِلافًا كَثِيرًا ، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ ، فَتَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ ۔” (سنن ابی داود ، کتاب السنة ، باب لزوم السنة)

” تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا۔ پس میری سنت اور خلفائے راشدین مہدیین کی سنت کو لازم پکڑو ۔ اس سے تمسک کرو اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑ لو۔ خبردار ( دین میں ) نئی باتوں سے بچنا کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت ضلالت ہے۔”

(سنن ابی داود ، کتاب السنة ، باب لزوم السنة)

اسی طرح ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

” انما ظننت ظنا و لا تواخذنی باظن و لکن اذا حدثتکم عن الله شیئاً فخذوا به فانی لم اکذب علی الله۔” ” میں نے ایک گمان کیا تھا ، اس لیے میرے گمان پر نہ جاؤ لیکن جب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بات کہوں تو اس کو لازم پکڑو کیونکہ میں اللہ پر جھوٹ نہیں باندھتا۔”( صحیح مسلم ، کتاب الفضائل ، بَاب وُجُوبِ امْتِثَالِ مَا قَالَهُ شَرْعًا دُونَ ما ذکره من معایش الدنیا علی سبیل)

اصل حکم شرعی یہ ہے کہ انتقال کے بعد جلد از جلد میت کی تجہیز وتکفین ارو تدفین کی جائے، بلاکسی خاص وجہ سے تاخیر کرنا درست نہیں ہے؛ تاہم نماز جنازہ سے بہلے میت کا چہرہ دیکھنا کہ جس کی بنا پر تدفین میں تاخیر لازم نہ آئے جائز ہے؛ لیکن نماز جنازہ کے بعد میت کا چہرہ دیکھنا بہتر نہیں ہے، بسا اوقات میت میں تغیر آجاتا ہے، جس میں ایک مسلمان کے عیب کا افشاء کا خطرہ ہے۔

قال النبي صلی اللہ علیہ وسلم: أسرعوا الجنازة فإن تک صالحةً فخیر تقدمونہا إلیہ، وإن تک سوی ذلک فشر تضعونہ عن عن رقابکم (سنن أپی داوٴد: ۱/۱۵۷) وقال في الہندیة: ویبادر إلی تجہیزہ ولا یوٴخر (الفتاوی الہندیة: ۱/۱۵۷) وعن أنس بن مالک رضي اللہ عنہ قال: قبض إبراہیم بن النبي صلی اللہ علیہ وسلم، قال لہم النبي صلی اللہ علیہ وسلم: لا تدرجوہ في أکفانہ حتی أنظر إلیہ․ (سنن ابن ماجہ، باب النظر إلی المیت، ص: ۱۰۶) سألتُ یوسف بن محمد عمن یرفع الستر عن وجہ المیت لیراہ، قال: لا بأس بہ (الفتاوی التاتارخانیة: ۳/۷۸، رقم: ۳۷۵۸، زکریا)

میت کے احکام سنت سے واضح ہیں اور ان پر امت کا عمومی اجماع ہے :

اجماع فقہ اسلام کی ایک اصطلاح اور اسلامی شریعت کا تیسرا اہم مآخد جس سے مراد علمائے امت کا یا ان کی بڑی اکثریت کا، ہر زمانے میں کسی مسئلہ پر متفق ہوجانا جس کے بارے میں قرآن و حدیث میں واضح حکم موجود ہو۔

جمہور مسلمین اجماع کی حجیت کے قائل ہیں، اجماع کی حجیت کتاب وسنت سے ثابت ہے، ارشادِ باری تعالٰیٰ ہے: (١) يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَطيعُوا اللَّهَ وَأَطيعُوا الرَّسولَ وَأُولِى الأَمرِ مِنكُم ۖ فَإِن تَنٰزَعتُم فى شَيءٍ فَرُدّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسولِ إِن كُنتُم تُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ ۚ ذٰلِكَ خَيرٌ وَأَحسَنُ تَأويلًا {4:59} اے ایمان والو! حکم مانو اللہ (تعالٰیٰ) کا اور حکم مانو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا اور اولولاَمر کا جو تم میں سے ہوں، پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اسے لوٹاؤ اللہ (تعالٰیٰ) اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف، اگر تم ایمان (ویقین) رکھتے ہو اللہ پر، اور قیامت کے دن پر، یہ بات اچھی ہے اور بہت بہتر ہے اس کا انجام.(سورہ-النساء:٥٩) اس آیات میں ادلہ اربعہ (چاروں دلیلوں) کی طرف اشارہ ہے: اَطِيْعُوا اللّٰهَ سے مراد “قرآن” ہے، اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ سے مراد “سنّت” ہے، اور اُولِي الْاَمْرِ سے مراد “علماء و فقہاء” ہیں، ان میں اگر اختلاف و تنازع نہ ہو بلکہ اتفاق ہوجاتے تو اسے “اجماع_فقہاء” کہتے ہیں.(یعنی اجماع_فقہاء کو بھی مانو). اور اگر ان اُولِي الْاَمْرِ(علماء و فقہاء) میں اختلاف ہو تو ہر ایک”مجتہد” کے اجتہاد و استنباط کو “قیاس_شرعی” کہتے ہیں. (٢) وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَاتَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَاتَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا”۔ (النساء:۱۱۵) ترجمہ:جو شخص رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی مخالفت کرے گا اس کے بعد کہ اس پر ہدایت واضح ہوچکی ہو اور اہلِ ایمان کے راستے کے علاوہ دوسرے راستہ کی پیروی کرے گا تو ہم اس کو اس طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھرگیا اور اسے جہنم میں داخل کریں گے۔ آیت بال میں باری تعالٰیٰ نے رسول (صلى الله عليه وسلم) کی مخالفت اور سبیل مؤمنین کے علاوہ دوسروں کے سبیل کی اتباع پر وعید بیان فرمائی ہے اور جس چیز پر وعید بیان کی جائے وہ حرام ہوتی ہے؛ لہٰذا رسول کی مخالفت اور غیر سبیل مؤمنین کی اتباع دونوں حرام ہوں گی اور جب یہ دونوں حرام ہیں تو ان کی ضد یعنی رسول کی موافقت اور سبیل مؤمنین کی اتباع واجب ہوگی اور مؤمنین کی سبیل اور اختیار کردہ راستہ کا نام ہی اجماع ہے؛ لہٰذا اجماع کی اتباع کا واجب ہونا ثابت ہوگیا اور جب اجماع کا اتباع واجب ہے تو اس کا حجت ہونا بھی ثابت ہوگیا، قاضی ابویعلیؒ (متوفی:۴۵۸ھ) اور علامہ آمدی نے اس آیت سے اجماع کی حجیت کے ثبوت پر بڑی نفیس بحث کی ہے جو لائقِ مطالعہ ہے۔ (الاحکام آمدی:۱/۲۸۷۔ اصول الفقہ ابوزہرہ:۱۶۱۔ ارشاد الفحول:۱۱۳)

آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: “مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْراً فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ”(مشکوٰۃ:۳۱) ترجمہ:جوشخص جماعت سے بالشت برابر جدا ہوا تواس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے الگ کردی۔
ارشاد ہے: “مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةِ مَاتَ مَيْتَةً جَاهِلِيَّةً”۔ (مصنف عبدالرزاق، كتاب الصلاة، باب الأمراء يؤخرون الصلاة، حدیث نمبر:۳۷۷۹) ترجمہ:جو جماعت سے الگ ہوجائے تواس کی موت جاہلیت کے طرز پر ہوگی۔
 
آپ (صلى الله عليہ وسلم) کا ارشاد ہے: “عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَايَجْمَعُ أُمَّتِي أَوْقَالَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضَلَالَةٍ”۔ (ترمذی، بَاب مَا جَاءَ فِي لُزُومِ الْجَمَاعَةِ، كِتَاب الْفِتَنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر:۲۰۹۳) ترجمہ:حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ:اللہ تعالٰیٰ میری امت کو یا (راوی نے کہا) کہ محمد صلى الله عليه وسلم کی اُمت کو ضلالت وگمراہی پر مجتمع نہیں کریگا۔
آپ (صلى الله عليه وسلم) کا فرمان ہے: “فَمَا رَأَى الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَعِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ وَمَارَأَوْا سَيِّئًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ سَيِّئٌ”۔ (مسندِاحمد، حدیث نمبر۳۶۰۰) ترجمہ:جس چیز کو مسلمان اچھا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہے اور جس چیز کو مسلمان بُرا سمجھیں وہ اللہ تعالٰیٰ کے نزدیک بھی بری ہے
 
آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: “مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْراً فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ”(مشکوٰۃ:۳۱) ترجمہ:جوشخص جماعت سے بالشت برابر جدا ہوا تواس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے الگ کردی۔ ایک جگہ ارشاد ہے: “مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةِ مَاتَ مَيْتَةً جَاهِلِيَّةً”۔ (مصنف عبدالرزاق، كتاب الصلاة، باب الأمراء يؤخرون الصلاة، حدیث نمبر:۳۷۷۹) ترجمہ:جو جماعت سے الگ ہوجائے تواس کی موت جاہلیت کے طرز پر ہوگی۔

 یہ تمام احادیث قدرے مشترک اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ امت اجتماعی طور پر خطا سے محفوظ ہے، یعنی پوری امت خطا اور ضلالت پر اتفاق کرے ایسا نہیں ہوسکتا ہے اور جب ایسا ہو تو اجماع امت کے ماننے اور اس کے حجتِ شرعی ہونے میں کوئی کلام نہیں ہے.

………………………………………………….

اسلام میں میت اور قبروں کا احترام

انسان کو الله نے اشرف المخلوقات پیدا کیا ، انسان کی عزت و تکریم موت کے بعد ختم نہیں ہو جاتی- نعشوں اورلاشوں کے بارے میں مختلف مذاہب نے متعدد طریقوں سے احترام کی ہدایات دی ہیں، لیکن ان سب میں احترام کا سب سے بہترین  طریقہ وہ ہے جو اسلام نے اختیار کیاہے، جس میں نہ صرف انسانی میت کو بڑے احترام سے زمین میں دفنانے کا حکم دیاگیاہے بلکہ انسانی میت اور قبر کا بھی احترام لازم قرار دیا،حتی کہ قبرپر بیٹھنا بھی ممنوع ہے-

البدائع میں فرمایا : لان النبش حرام، اس لئے کہ قبر اکھاڑنا حرام ہے اور یہ اللہ کا حق ہے۔

فرمان باری ہے:

ولا تقولوا لمن يقتل في سبيل الله أموات بل أحياء ولكن لا تشعرون

’’جو لوگ اللہ کے راستے میں شہید ہوجائیں، انہیں مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں لیکن تم (اے انسانو) شعور نہیں رکھتے۔‘‘

مفہوم : “اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی، پھر قتل کر دیے گئے یا مر گئے، اللہ ان کو اچھّا رزق دے گا اور یقیناً اللہ ہی بہترین رازق ہے وہ انہیں ایسی جگہ پہنچائے گاجس سے وہ خوش ہو جائیں گے بے شک اللہ علیم اور حلیم ہے” (22:58,59)

لیکن یہ بات واضح رہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام اور شہداء وغیرہ کی یہ زندگی برزخی زندگی ہے، جس کو دنیا میں موجود زندہ لوگ نہیں سمجھ سکتے ہیں۔ بلکہ جیسے ہی انبیاء وشہداء فوت ہوتے ہیں، ان کی برزخی زندگی شروع ہوجاتی ہے، لیکن دفنانے سے پہلے وہ ہمارے سامنے تو مردہ ہی ہوتے ہیں،  مگر انبیاء کرام اور شہداء وغیرہ کی قبر کی زندگی برزخی ہے، جسے دنیا کے لوگ نہیں سمجھ سکتے-  برزخی زندگی کی حقیقت اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، یہ زندگی ہرگز اس زندگی کی طرح نہیں جو دنیا میں تھی۔اور شہیدوں کی برزخی زندگی کی بہت بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ ان کی وراثت تقسیم کر دی جاتی ہے، ان کی بیویوں سے دیگر لوگ شادی کر سکتے ہیں اور اسی طرح ان پر مردوں کے دیگر تمام احکامات جاری ہوتے ہیں۔ اسی طرح انبیاء کرام علیہم السلام کے فوت ہونے کے بعد ان کے جانشین خلیفہ ہوتے ہیں جو لوگوں کے معاملات دیکھتے، ان کو نمازیں پڑھاتے، فتوے دیتے اور ان کے دیگر اختلافات کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ان کے اجسام قبروں میں محفوظ ہیں ان کوالله محفوظ رکھے- ایسے واقعات پیش آیے کہ مشرق وسطی میں سیلاب اور قدرتی طور پر کچھ شہداء اور بزرگان کی قبریں کھل گیئں اور ان کی میت پر لوگوں کی نظر پڑی جو اصل حالت میں تھیں- قبر کو فوری طور  پر عزت اور احترام سے بند کر دیا گیا-

قرآن کریم میں فرمان ہے :

ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ ﴿٢١﴾

“پھر اِسے موت دی اور قبر میں پہنچایا”  ( قرآن 80:21)

خالق کائنات نے بنی نوع انسان میں سب سے پہلی میت کو دفنانے کا قصہ قرآن کریم میں ایک کوّے کے دوسرے مردے کوّے کو دفنانے کے طریقے کے ذریعے بتلایا،وہ زمین میں تدفین کا ہی ہے، یہ واقعہ تمثیلی زبان میں آدم کے دوبیٹوں کے دو مختلف کرداروں کی صورت میں اب موجودہ انسانی تہذیب وتمدن کاایک حصہ ہے :

فَبَعَثَ اللَّـهُ غُرَابًا يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ لِيُرِيَهُ كَيْفَ يُوَارِي سَوْءَةَ أَخِيهِ ۚ قَالَ يَا وَيْلَتَىٰ أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَـٰذَا الْغُرَابِ فَأُوَارِيَ سَوْءَةَ أَخِي ۖ فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِينَ (قرآن 5:31 )

“پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اُسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے یہ دیکھ کر وہ بولا افسوس مجھ پر! میں اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپانے کی تدبیر نکال لیتا اس کے بعد وہ اپنے کیے پر بہت پچھتا یا” (قرآن 5:31 )

قرآن و حدیث سے علماء صرف وہ مستند معانی  نکال سکتے ہیں جو واضح ہیں اور حدیث رسول الله  صلعم اور عمل صحابہ سے ثابت ہیں- لا یعنی خود ساختہ تاویلات ضلالت اور گمراہی راستہ ہے- مرزا قادیانی نے “خاتم النبیین” کا مطلب خود نکالا ، کافر اور زندیق قرار پایا-

وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَأُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ (22:57)

اور جنہوں نے کفر کیا ہو گا اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہوگا اُن کے لیے رسوا کن عذاب ہوگا-

ایک مثال:  دودھ سفید ہوتا ہے اور سنگ مر مر بھی سفید ہوتا  ہے ، لہٰذا یہ تاویل کرنا کہ سنگ مرمر کو دودھ کہہ سکتے ہیں، جہالت اور فاطرالعقل ہونے کی دلیل ہے-

احادیث میں میت کی عزت و احترام اور تکلیف کی ممانعت

حدیث پاک ’’لا تسبوا الأموات، فانہم قد افضوا الیٰ ما قدّموا‘‘سے یہ بھی معلوم ہوا ہے ،کہ جناب محمد رسول اﷲ ﷺ نے مردوں کو سب وشتم کرنے، لعن طعن اوربرا سلوک کرنے سے مسلمانوں کو منع فرمایا ہے، کیونکہ یہ لوگ اپنے رب کی بارگاہ میں پہنچ چکے ہیں،(صحیح بخاری،6516،بروایت حضرت عائشہ صدیقہؓ)،یاد رہے، اس حدیث کا تعلق توہین ِمعنوی سے ہے۔

’’نہیٰ رسول اﷲ عن المثلۃ‘‘،(صحاح ستہ)۔گویا آپ ﷺ نے نعش کو مسخ کرنے سے منع فرمایا۔

دشمن کی لاشوں کو بھی باعزت طریقے سے دفنانا لازمی ہے،غزوۂ بدر کی مثال اس باب میں پوری انسانیت کے لئے مشعلِ راہ ہے۔

ابوالرجال اورعمرہ بنت عبدالرحمن نے آپ ﷺ سے یہ روایت کی ہے:’’ لعن رسول اﷲﷺ المختفی والمختفیۃ،(یعنی نبّاش القبور)‘‘، کہ حضور ﷺ نے قبروں کواکھاڑنے والے مردوں اور عورتوں پر لعنت بھیجی ہے ،(التمہیدلما في الموطأ من المعانی والأسانید( موطأامام مالک)،ص:139-138)۔

آپ ﷺ نے فرمایا:’’لأن یجلس أحدکم الیٰ جمرۃ فتحرق ثیابہ،فتخلص الیٰ جلدہ،خیر من أن یجلس علیٰ قبرہ‘‘، (مسلم) ۔ یعنی آپ میں سے کوئی آگ کے انگارے پر بیٹھ جائے،جس سے اس کے کپڑے جل جائے،پھر اس کی کھال بھی جل جائے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ میت کی قبرپر بیٹھ جائے۔

آپ ﷺ نے ادباً و احتراماً قبور پر بیٹھنے سے سختی سے منع کیا ،ارشاد فرمایا:’’لا تجلسوا علیٰ القبور‘‘، قبروں پر نہ بیٹھا کریں،(مسلم)

قبروں پر مساجد یا قبے شبے بنانے میں بھی چونکہ اکھاڑ پچھاڑ اورقبور کو روندنے کا عمل ہوتاہے،اس لئے اسلام نے ان کوبھی ممنوع قراردیاہے۔

پوسٹ مارٹم

قرآن وسنت کی نصوص کے پیشِ نظراسلامی فقہ میں میت کے پوسٹ مارٹم کے متعلق بھی اسی احترام وتکریم کے پیشِ نظر دوآراء پیش کی گئی ہیں : اگر توہین ِمیت کا خطرہ ہویا خدا نہ خواستہ یہی مقصود ہو،تو جائز نہیں، اگرماہرین کی آراء کے مطابق طبی تعلیم کے لئے ہو ،یا وجۂ موت معلوم کرنی ہو ،اہانت کا پہلو نہ ہو، کیونکہ:

’’ ولقد کرّمنا بنی آدم․․‘‘ (سورۂ بنی اسرائیل70)

یعنی بلا ریب ہم نے بنی آدم کو محترم ومکرم ٹہرایاہے-

نیزآپ ﷺ کا ارشاد ہے ،’’کسرعظم المیت ککسرہ حیّا‘‘،(مسلم)۔یعنی میت کی ہڈیوں کی توڑ تاڑ اسی طرح ممنوع ہے،جیسے زندہ انسان کی-

زندہ ومردہ ہر حال میں احترامِ آدمیت کو ملحوظ رکھاجائے، (احکام الغسل والتکفین والجنائز، شیخ خالد المصلح)۔

لاشوں کا مثلہ

جاہلیت کے زمانے میں لاشوں کا مثلہ اور مقتولین پر دل کی بھڑ اس نکالنا ایک عام عمل تھا، تاہم غزوۂ بدر کے موقع پر رسول کریم ﷺ نے مقتولین کی لاشوں کے احترام کے متعلق اسلامی اخلاق کانمونہ بہترین دکھایا اور مشرکین کے مقتولین کی لاشوں کی تدفین کا حکم دیا-

عتبہ بن عامر الجہنی رضی اﷲ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس مشرکین کے مقتولین میں سے ایک شخص کا سر لے آئے ، اس پر حضرت ابوبکر صدیق ناراض ہوئے اور انھوں نے اپنے کمانڈ روں کو لکھا : ’’میرے پاس کوئی سرنہ لایاجائے ور نہ یہ حد سے تجاوز ہوگا، یعنی دل کی بھڑاس نکالنے میں ۔میرے لئے اﷲ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کافی ہے ۔‘‘

اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد بن حسن الشیبانی فرماتے ہیں : ’’یہ مثلے کی ایک قسم ہے، کیونکہ سرلاش کا حصہ ہے ،جسے دفن کرنا واجب ہے ، نہ کہ اسے لوگوں کو دکھایا جائے ․․․ پس اﷲ تعالی کا تقوی ہمیں ایسے کام سے دور رکھے گا، جو دشمن کے ساتھ معاملہ بالمثل کے بجائے دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے ہو(السیر الکبیر،ص: 277)۔

میت کے حقوق

اسلام میں میت کے حقوق یہ ہیں: میت کو غسل دینا،تکفین کرنا، نمازِ جنازہ میں شرکت کرنا،ایک معزز مہمان کو رخصت کرنے کی طرح لاش کے ساتھ احتراماً جنازہ گاہ اور قبرستان جانا،قبر کی تیاری میں کام کرنا، لاش کی نہایت ادب واعزاز کے ساتھ تدفین کرنا،اس کے لئے دعائیں کرنا،ایصالِ ثواب کرنا،وقتاً فوقتاً زیارت قبور کے لئے جانا، میت کی قبر اور اس کے اعضاء کا احترام کرنا۔لاش اور میت کے یہ دس حقوق قرآن وسنت سے بڑی تفصیل کے ساتھ ثابت ہیں ،جن کو یہاں اختصار کے ساتھ بیان کیا، تفصیل کے لئے احکام ِمیت، کتاب الجنائز ، حقوقِ میت اور فتاویٰ القبور کو دیکھا جاسکتا ہے۔

بین الاقوامی قانون انسانیت میں میت کا احترام

بین الاقوامی قانون انسانیت میں بھی احترامِ اموات کویوں اجاگر کیا گیاہے،’’ ان قانونی قواعد کا مجموعہ جو مسلح تصادم کے متاثرین کے حقوق متعین کرتاہے اور جنگی طاقت کے وسائل کے استعمال اور اس کے اثرات کو صرف فوجی ہدف تک محدود رکھنے کے لئے مقاتلین پر قیود عائد کرتاہے ۔ ‘‘ مسلح تصادم کے متاثرین میں بالعموم بری ، بحری یافضائی معرکوں میں قتل ،زخمی یا ڈوب جانے والے افراد(اوران کی میت ) ،نیز مریض اور قیدی کے علاوہ وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جو مقبوضہ علاقوں میں محبوس ہوں یا وہاں وہ قانوناًتحفظ کے مستحق ہوں‘‘ (بین الاقوامی قانون انسانیت،از ڈاکٹر زمالی،ص:158)۔

حسنِ اتفاق سے اسلام اس قانون کی بنیادیں صدیوں پہلے ہی فراہم کرچکا ہے،اہلِ اسلام چونکہ اس کو اپنی مذہبی اقدار کا تسلسل سمجھتے ہیں،اس لئے وہ اس سے مکمل اتفاق کرتے ہیں ۔

1949ء کے جنیوا معاہدات نے مقتولین اور غرق ہونے والے لوگوں کی لاشوں کا احترام لازم کیاہے، نیز لاشوں یا ان کے اعضا ء کی بے حرمتی کو ناجائز ٹھہرایاہے ۔ اسی طرح ان معاہدات کی روسے ریاستوں کی ذمہ داری ہے ،کہ مقتولین کی شناخت اور ان کی تدفین کے متعلق تفصیلات متعین کرنے کے بعد متعلقہ ریاستوں تک اس کی معلومات پہنچائیں ۔

(Extract with thanks, from article By Shaikh Wali Khan AlMuzaffar, Karachi)،  https://goo.gl/hMww8V

میت کو دفن کرنے کے بعد صرف درج ذیل صورتوں میں دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔

  1. جب اسے مغضوبہ (غصب شدہ) زمین میں دفن کیا گیا ہو۔

  2. کفن مغضوب ہو۔

  3. حق آدمی سے متعلق ہو مثلا کسی کی قیمتی چیز اندر رہ گئی یا کسی زندہ شخص کا مال اس کے ہمراہ دفن ہو گیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو رغال کی قبر اکھاڑنے کی اجازت دی کہ اس کے ساتھ سونے کی لاٹھی قبر میں دفن تھی۔

درج ذیل صورتوں میں قبر اکھاڑنے کی ممانعت ہے :

  1. اگر میت کو قبلہ رخ دفن نہ کیا گیا۔

  2. بائیں پہلو پر رکھا گیا۔

  3. میت کا سر پاؤں کی طرف کر دیا گیا۔

  4. غسل دیئے بغیر دفن کر دیا گیا اور قبر پر مٹی ڈال دی گئی۔

٭ اگر میت کو قبر میں قبلہ رخ نہیں رکھا گیا یا پیٹھ کے بل رکھا گیا یا بائیں پہلو لٹایا گیا۔ اگر اس پر مٹی ڈالدی گئی تو قبر نہ اکھاڑی جائے‘‘ مٹی ڈالنے سے پہلے غلطی کا ازالہ کرنا چاہئے۔ اگرچہ اینٹ وغیرہ اٹھانی پڑے۔ اس میں حنفیہ و مالکیہ متفق ہیں۔

(علامه عبدالرحمن الجزيری، الفقه علی المذاهب الاربعة ج ا، ص 535 طبع بيرات)

البدائع میں فرمایا : لان النبش حرام، اس لئے کہ قبر اکھاڑنا حرام ہے اور یہ اللہ کا حق ہے۔

 نبش قبر(مردے کی قبر کو کھودنا) شیعہ

مسئلہ ١٥٦: مسلمان کی قبر کا کھودنا حرام ہے اگر چہ وہ بچّے یا دیوانے کی ہی کیوں نہ ہو ، لیکن اگر اس کا جسم مٹی میں مل چکا ہے تو کوئ حرج نہیں ہے۔

مسئلہ ١٥٧:چند حالتوں میں قبر کا کھودنا حرام نہیں ہے۔

١۔ کفن یا دوسری چیزجو کہ میّت کے ساتھ دفن ہوئ ہے غصبی ہو ، یا زمین کا مالک راضی نہ ہو اور اسی طرح وہ چیز جو ورثاء کو ملنے والی ہو اگر دفن ہو جاۓ اور ورثاء راضی نہ ہوں ، لیکن اگر میّت نے وصیّت کی ہو کہ دعا یا قرآن یا انگوٹھی اس کے ساتھ دفن کریں تو ان کے نکالنے کے لۓ قبر نہیں کھودی جا سکتی ۔

٢۔ میّت بغیر غسل یا بغیر کفن کے دفن ہو جاۓ یا پہلے سے معلوم ہو کہ اس کا غسل باطل تھا یا شرعی طور پر کفن نہیں دیا گیا یا قبر میں میّت کو رو بہ قبلہ نہیں لٹا یا گیا۔

٣۔ کسی ایسے شرعی کام کے لۓ قبر کھودی جاۓ جس کی اہمیت قبر کھودنے سے زیادہ ہو مثلاً حاملہ عورت جو دفن ہو چکی ہے اس کے شکم سے زندہ بچہ نکالنا مقصود ہو۔

http://www.shahroudi.net/client/ordo/ahkam/resale/MeyetAhkam.htm

بدعت

دین اسلام اللہ رب العزت کا پسندیدہ دین ہے،اور اللہ نے قران مجید میں اس دین سے اپنی رضا مندی کا اعلان کیا ہے،جب ہم اس دین کی اصل بنیاد کتاب و سنت میں غور وفکر کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہیکہ اللہ نے اس عظیم دین کے لئے کچھ اصول مقرر کیئے ہیں،ان اصولوں میں توحید کے بعد اتباع سنت سب سے اہم اصول دین ہے،جس کو لازم پکڑنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے،اور کائنات میں کسی کے لئے جائز نہیں کے آپ ﷺ کی سنتوں میں تبدیلی کرے یا ان کی مخالفت کرے،اور جس نے آپ ﷺ کی سنتوں کے ذریعہ ہدایت طلب کی وہ راہ راست پر آ گیا،اور صراط مستقیم پر گامزن ہو گیا،اور جس نے آپ ﷺ کی سنتوں سے منھ موڑا وہ ناکام و نا مراد ہوا۔

دین اسلام اصولوں میں سے ایک عظیم اصول اللہ کے رسول ﷺ کی یہ حدیث مبارک ہے ((وإياكم ومحدثات الأمور فإن كل بدعة ضلالة)) ‘‘ اور دین میں نئی نئی ایجادات سے بچنا،بیشک ہر بدعت گمراہی ہے’’،اس حدیث میں دین اور عبادت میں نئی ایجادات کی اتباع سے ڈرایا گیا ہے،اب ہم بدعت کی تعریف پر غور کریں کے بدعت کسے کہتے ہیں : لغوی طور پر بدعت کا معنیٰ ہے!کسی چیز کا ایسے طریقے سے ایجاد کرنا جس کی پہلے کوئی مثال نہ ہو۔جبکہ اصطلاحاً بدعت کہتے ہیں!شریعت میں کوئی نئی چیز گھڑ لینا جس کی قرآن و سنت میں کوئی دلیل نہ ہو۔

یاد رکھیں!دنیوی معاملات میں نئی نئی ایجادات جائز ہیں کیونکہ معاملات میں اصل اباحت ہے جب تک کے اس کی حرمت دلیل سے ثابت نہ ہو جائے۔ جیسے بس‘ ریل گاڑی اور جہاز کا سفر‘کمپیوٹر کا استعمال‘ گھڑی پہننا وغیرہ وغیرہ۔جبکہ دین میں نئی ایجاد ات حرام ہیں‘کیونکہ دینی عبادات میں اصل توقیف ہے۔نبی ﷺ کا ارشاد گرامی ہے((من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو ردّ))” جس کسی نے ہمارے دین میں نئی چیز کی ایجاد کی جو دین سے نہیں ہے‘ تو وہ مردود ہے”۔[متفق علیہ]

بعض اسلاف نے کچھ بدعتوں کی تحسین کی ہے،تو یہ بات یہاں لائق غور ہیکہ اسلاف میں سے جس نے بھی کسی بدعت کی تحسین کی ہے اس سے مراد بدعت لغوی ہے نہ کے بدعت شرعی جس کی تعریف اوپر گزر چکی ہے،اس کی ایک مثال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عمل کے آپ نے سارے لوگوں کو نماز تراویح میں ایک امام کے پیچھے کھڑا کردیا اور فرمایا کی ((نعمت البدعة هذه))‘‘ کیا ہی بہترین بدعت ہے یہ ’’ یہاں بدعت سے مراد بدعت لغوی ہے نہ کے بدعت شرعی کیوں کے اس عمل کی اصل شریعت میں پہلے سے موجود تھی،کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ نے لوگوں کو نماز تراویح باجماعت پڑھائی تھی۔ اللہ رب العزت ہم سب کو کتاب و سنت کی صحیح سمجھ اور فہم عطا کرے [http://forum.mohaddis.com/threads/35287/]

مزید .. بدعت >>>>

اسلامی دعوت تبلیغ دین اور اس کے اصول

  دلائل کے مزید جوابات اس  فیس بک مسینجر مکالمہ میں ملاحظہ کریں>>> https://goo.gl/qNbbZy

 

 ڈسکشن#2 فائیل : https://goo.gl/qxvM9p

انبیاء و شہداء کی حیات بعد الموت کی حقیقت