اسلام میں وراثت، ہبہ اور وصیت کے احکام  Law of Inheritance in Islam

 وراثت کا موضوع اور مسئلہ اس قدر اہم اور بنیادی نوعیت کا ہے کہ اس کا تعلق دنیا کے ہر ہر گھر اور خاندان کا لازمی حصہ ہے۔ کسی نے بہت درست لکھا کہ وراثت کے معاملات اس قدر زیادہ اور گھمبیر ہو گئے ہیں کہ ہمارے معاشرے کا ایک پیشہ یعنی بے شمار وکیلوں کے گھروں کی روزی مہینوں نہیں بلکہ سالوں تک انہیں وراثت کے مقدمات کے ذریعہ چلتی رہتی ہے۔ ہماری عدالتوں نے اس اہم مسئلہ کو طول دینے اور وکیلوں کے لیے کمائی کا ذریعہ بنانے میں کچھ زیادہ ہی کردار ادا کیا ہے۔ وراثت کے مقدمات بسا اوقات ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوجاتے ہیں ۔ حتمی فیصلہ نہیں ہو پاتا۔اس کی بنیادی وجہ اس موضوع اور مسئلہ کے حوالے سے اسلام سے دوری، قرآن و حدیث سے ناواقفیت،جذبات سے کھیلنا، ھَوَس،لالچ خدا پر بھروسہ نہ ہونا، ماں باپ کے مرنے کے بعد یا کسی بھی ایسے فرد کے دنیا سے چلے جانے کے بعد جو جائیداد ، مکان، دکان، گھر، پلاٹ، نقد رقم، بنک بیلنس چھوڑ کر مرا ہو ، اس کے علاوہ سادے الفاظ میں زر، زمین اور دولت کا حصول سامنے نظر آئے تو اس پر صرف اور صرف اپنا حق نظر آنے والے مسائل و مشکلات سے دوچار رہتے ہیں۔انہیں اس بات کا یقین نہیں ہوتا کہ اﷲ نے انہیں جو کچھ دینا ہے وہ انہیں ضرور ملے گا۔ دنیا کی کوئی طاقت اسے ہڑپ نہیں کرسکتی۔ ھَوَس ،لالچ اور جلد بازی میں ہم اپنے خون کو بھی بھلا بیٹھتے ہیں۔

لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا ﴿٧

مردوں کے لیے اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، اور عورتوں کے لیے بھی اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، خواہ تھوڑا ہو یا بہت، اور یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے (سورة النساء7) 

قرآن کریم میں متعدد جگہوں پر میراث کے احکام بیان کیے گئے ہیں، لیکن تین آیات (سورہٴ النساء 11، 12 و176) میں اختصار کے ساتھ بیشتر احکام جمع کردیے گئے ہیں-

Islamic Inheritance jurisprudence is a field of Islamic jurisprudence (فقه‎) that deals with inheritance, a topic that is prominently dealt with in the Qur’an. It is often called Mīrāth (میراث ), and its branch of Islamic law is technically known as ʿulm al-farāʾiḍ (علم الفرائض‎, “the science of the ordained quotas”). All Muslims are to follow and implement the rules of Islamic inheritance. [Keep reading ….. ]

Islamic Inheritance Calculator… [………..]

  • میراث کا شرعی طریقے پر تقسیم نہ کرنا اللہ تعالٰیٰ اور رسول اللہ کی نافرمانی ہے۔

قرآن مجید اور سنت اسلام کی بنیاد ہے- قرآن و سنت پر عمل سے تمام مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے- قرآن کی ہر آیات اہم ، قابل غور و فکر و عمل ہے:

وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا ﴿٧٣ الفرقان﴾

اور جب انہیں ان کے پروردگار کی آیتوں کے ذریعہ سے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ بہرے اور اندھے ہوکر ان پر گر نہیں پڑتے (بلکہ ان میں غور و فکر کرتے ہیں)۔ (25:73الفرقان)

یہ کتاب فرقان یعنی وہ کسوٹی ہے جو کھرے اور کھوٹے کا فیصلہ کرتی ہے۔(الفرقان 25:1)

 قرآن کریم  لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کرنے کے لیے اتاری گئی ہے۔ (البقرہ2:213)

“ہر سخت جھوٹے گناہگار کے لیے تباہی ہے (7) جو آیات الہیٰ سنتا ہے جو اس پر پڑھی جاتی ہیں پھر نا حق تکبر کی وجہ سے اصرار کرتا ہے گویاکہ اس نے سنا ہی نہیں پس اسے دردناک عذاب کی خوشخبری دے دو  (الجاثية45:8)

“یہ (قرآن) تو ہدایت ہے اور جو اپنے رب کی آیتوں کے منکر ہیں ان کے لیے سخت دردناک عذاب ہے”(الجاثية45:11)

“اور ہم نے جو پیغمبر بھیجا ہے اس لئے بھیجا ہے کہ خدا کے فرمان کے مطابق اس کا حکم مانا جائے”(قرآن 4:64)

اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے اس کا کہا نہ ماننا (18:28قرآن)

قرآن مجید اور سنت کا انکار کفر ہے-

  • وراثت کے متعلق اللہ اور رسول کے احکام پر عمل نہ کرنا صریح فسق ہے، لہٰذا ایسا شخص فاسق ہے اور گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہے۔ خاص طور پر برسہا برس اس پر اصرار کرنا اور توبہ نہ کرنا تو اور بڑا گناہ اور اللہ تعالٰیٰ سے بغاوت کے مترادف ہے۔
  •  میراث کو قرآن و سنت کے مطابق تقسیم نہ کرنا اور دیگر وارثوں کا حق مارنا کفار، یہود، نصاریٰ، ہندوؤں اور غیر مسلم اقوام کا طریقہ ہے۔ 
  • میراث کے حق داروں کا مال کھا جانا ظلم ہے اور یہ شخص ظالم ہے۔ لیکن اگر وارث اپنے قبضے اور تحویل میں لے لیں اور پھر کوئی طاقت ور وارث چھین لے تو یہ غصب ہوگا۔ اس کا گناہ ظلم سے بھی زیادہ ہے۔
  • میراث پر قبضہ کرنے والے کے ذمے میراث کا مال قرض ہوگا اور قرض بھی واجب الادا ہے۔ اگر کوئی دنیا میں ادا نہیں کرے گا تو آخرت میں لازماً دینا ہی ہوگا۔
  • ایسا مال جس میں میراث کا مال شامل ہو، اس سے خیرات و صدقہ اور انفاق کرنا، حج و عمرہ کرنا اگرچہ فتوے کی رُو سے جائز ہے اور اس سے حج کا فریضہ ادا ہو جائے گا لیکن ثواب حاصل نہیں ہوگا، اس لیے کہ اللہ تعالٰیٰ پاک و طیب مال قبول کرتا ہے۔
  • جو میراث کا مال کھا جاتا ہے اس کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔
  • میراث شریعت کے مطابق تقسیم نہ کرنے والا دوزخ میں داخل ہوگا۔
  • جو اشخاص میراث کا مال کھا جاتے ہیں حق دار وارث ان کو بددعائیں دیتے ہیں۔
  • میراث مستحقین کو نہ دینے والا حقوق العباد تلف کرنے کا مجرم ہے۔

……………………………….

إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا﴿٥٨

مسلمانو! اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو، اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقیناً اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے (سورة النساء58)

وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ ۖ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا ﴿٣٤

عہد کی پابندی کرو، بے شک عہد کے بارے میں تم کو جواب دہی کرنی ہوگی (سورة الإسراء34)

……………………………………

وراثت یا مرنے والے کی جائیداد کی تقسیم کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے بہت صاف صاف اور عدل و انصاف کے دامن کو ہاتھ سے نہ جانے دینے کو کہا ہے۔ ہر وارث کو اس کا حق دینے بلا تفریق وہ مرد ہے، عورت ہے، بچہ ہے، بوڑھا ہے، طاقت ور ہے، کمزور ہے،چھوٹا ہے بڑا ہے۔ یہاں تک کہ اگر بچہ ماں کے پیٹ میں ہے، ابھی اسے دنیا میں آنے کے لیے مہینے درکار ہوں یعنی ماں کے پیٹ میں موجود حمل کی وراثت کا بھی تعین کردیا گیا۔اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہوسکتی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ایسا شخص جو اپنی حاملہ ماں، حاملہ بیوی یا حاملہ بہو کو زندہ چھوڑ کر مرگیا ہو ، قرآن نے اس حمل کو بھی میت کا وارث مقرر کیا ہے۔ اسلام سے قبل مختلف قوموں اور نسلوں میں وراثت کا قانون غیر منصفانہ تھا،حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم یہود، سید نا عیسیٰ علیہ والسلام کی قوم عیسائی یا نصاری میں وراثت کا قانون اسلام سے مختلف ہے۔ عدل و انصاف حق دار کو حق کی ادائیگی کا قانون قرآن کریم میں پیش کیا گیا جس کی مزید تشریح اور وضاحت نبی کریم ﷺ نے بیان فرمائی اور اسی طرح اس کے بعد جیسے جیسے مسائل و مشکلات آتی رہیں خلفائے راشدینؓ، صحابہ اکرام رضوان اﷲ علیہم، تابعین، تبع تابعین، اولیائے اکرام ،،بزرگانِ علم و فضل اور اس کے بعد بھی ان مسائل کے حل کا سلسلہ جاری و ساری رہا۔

نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ قاعدہ مقرر فرمادیا کہ وارثوں کے جو حصّے اﷲ تعالیٰ نے مقرر کردیے ہیں ان میں وصیّت سے کمی بیشی نہیں کی جاسکتی اور غیر وارث کے حق میں کل جائیداد کے ایک تہائی سے زیادہ کی وصیّت نہ کرنی چاہیے اور مسلم وکافر ایک دوسرے کے وارِث نہیں ہوسکتے‘‘۔

کسی وارث یا تمام وارثین کو محروم کرنے کے لیے اگر کوئی شخص وصیت کرے تو یہ گناہ کبیرہ ہے، جیسا کہ نبی اکرم  صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے وارث کو میراث سے محروم کیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت سے اس کو محروم رکھے گا (کچھ عرصہ کے لیے)۔ (ابن ماجہ-باب الحیف فی الوصیہ)

تقسیم وراثت: کچھ شرعی اصولوں کو سمجھنا ضروری ہے:

قرآن کریم میں ’مسئلہ میراث‘ کو خاص اہمیت حاصل ہے اور حقِ وراثت کی منصفانہ اور شرعی تقسیم پر انصاف سے کام لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ کسی بھی حق دار کو وراثت میں سے محروم کرنا بد ترین گناہ ہے جس کا ارتکاب کرنے والے قیامت کے دن سخت ترین عذاب سے نہیں بچ سکیں گے۔ یہ میراث کی اہمیت ہی ہے کہ نبی رحمت حضرت محمد ﷺ نے علمِ میراث سیکھنے اور سکھا نے والوں کے فضائل بتائے اور میراث میں نا انصافی کرنے والوں کے لیے وعید سنائی ہے۔ صحیح بخاری کی حدیثِ مبارکہ سیدنا عبداﷲ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’ میراث (مقررہ حصے) اس کے حقداروں تک پہنچا دو اور جو کچھ باقی بچے وہ سب سے زیادہ قریبی مرد عزیز کا حصہ ہے‘‘۔

قرآن میں ارشاد ہے :

“تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ: مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے، اگر (میت کی وارث) دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو انہیں ترکے کا دو تہائی دیا جائے، اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا ترکہ اس کا ہے اگر میت صاحب اولاد ہو تواس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملنا چاہیے اور اگر وہ صاحب اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہو ں تو ماں کو تیسرا حصہ دیا جائے اور اگر میت کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں چھٹے حصہ کی حق دار ہوگی (یہ سب حصے اُس وقت نکالے جائیں) جبکہ وصیت جو میت نے کی ہو پوری کر دی جائے اور قرض جو اُس پر ہو ادا کر دیا جائے تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد میں سے کون بلحاظ نفع تم سے قریب تر ہے یہ حصے اللہ نے مقرر کر دیے ہیں، اور اللہ یقیناً سب حقیقتوں سے واقف اور ساری مصلحتوں کا جاننے والا ہے (سورة النساء:11)

سب سے پہلے قرض کو اد کرنے کی تاکید فرمائی:

میراث یا ترکہ کے بارے میں آنحضرت محمد ﷺ نے بہت واضح ہدایت کی اور اسے حق دار کو ادا کرنے کے لیے کہا۔ ساتھ ہی مرنے والے پر اگر قرض ہو تو سب سے پہلے اس کے ترکہ میں سے اس قرض کو اد کرنے کی تاکید فرمائی۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے راویت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ کے پاس جب کسی ایسی میت کو لایا جاتا جس پر کسی کا قرض ہوتا تو آپ ﷺ فرماتے کہ کیا اس نے اپنے قرض کے اد ا کرنے کے لیے بھی کچھ چھوڑا؟ پھر اگر کوئی آپ کو بتا دیتا کہ ہاں اتنا مال ہے جس سے قرض ادا ہوسکتا ہے تو آپﷺ اس کی نماز پڑھاتے ‘ورنہ آپ ﷺ مسلمانوں ہی سے فرمادیتے کہ اپنے ساتھی کی نماز پڑھ لو۔ پھر جب اﷲ تعالیٰ نے آپ پر فتح کے دروازے کھول دیئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں مسلمانوں کا خود ان کی ذات سے بھی زیادہ مستحق ہوں۔اس لیے اب جو بھی مسلمان وفات پاجائے اور وہ مقروض رہا ہو تو اس کا قرض اداکرنا میرے ذمے ہے۔ اور جو مسلمان مال چھوڑ جائے وہ اس کے وارثوں کا حق ہے(صحیح بخاری)۔

وصیت اور تقسیمِ میراث کی اہمیت وفضیلت [………..]

ہبہ  Gift کے لیئے شرعی قانون:

والد اگر زندگی میں اپنی جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کرناچاہے تو یہ درحقیقت میراث کی تقسیم نہیں ،بلکہ ہبہ (تحفہ) ہے، ہبہ کے لے شرعی قانون یہ ہے کہ تمام اولاد میں برابرتقسیم کیاجائے۔ نیز وارث کے لیے کسی بھی قسم کی وصیت کرناجائز نہیں۔ نہ ہی شرعا اس کا کوئی اعتبارہے-

ہبہ مکمل ہونے کے لیے موہوب لہ (جس کو چیز ہبہ کی گئی ہے) کا کامل قبضہ ہونا ضروری ہے، جو صرف زبان سے ہبہ کے الفاظ کہنے یا کاغذات نام کروانے سے متحقق نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنا تمام سامان وغیرہ نکال کر تصرف و اختیار منتقل موہوب لہ، کوکر دے یا سامان بھی ہبہ کردے۔

 كسى بھى شخص كے ليے جائز نہيں كہ وہ اپنى اولاد ميں كسى كو تو كچھ ہبہ كردے اور كسى كو نہ دے، يا پھر ان ميں سے كسى ايك كو دوسرے پر فضيلت ديتے ہوئے زيادہ چيز ہبہ كرے، بلكہ اس كے ليے عدل و انصاف كرنا واجب ہے.

اس كى دليل نعمان بن بشير رضى اللہ تعالى عنہ كى يہ حديث ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ:

” جب ان كے والد نے انہيں ايك باغ ہديہ ميں ديا تو وہ انہيں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس ليكر آئے تا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اس پر گواہ ہوں تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

” كيا تو نے اپنى سارى اولاد كو اسى طرح ہديہ ديا ہے ؟

تو انہوں نے جواب ديا: نہيں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

” اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرو اور اس سے ڈرتے ہوئے اپنى اولاد كے مابين عدل و انصاف كرو “

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2398 ).

اور اولاد ميں عدل و انصاف اس طرح ہوگا كہ بيٹے كو دو بيٹيوں جتنا ديا جائے، اس ليے كہ اللہ تعالى نے وراثت ميں اسى طرح تقسيم كى ہے، اور اللہ تعالى كى تقسيم سے زيادہ عدل و انصاف كوئى اور نہيں كر سكتا.

وصیت میت کے اس حکم کو کہتے ہیں جس پر موت کے بعد عمل کیاجاتا ہے۔

مثلاً اگر کوئی شخص انتقال کے وقت یہ کہے کہ میرے مرنے کے بعد میری جائداد میں سے اتنا مال یا اتنی زمین فلاں شخص یا فلاں دینی ادارہ یا مسافر خانہ یا یتیم خانہ کو دے دی جائے تو یہ وصیت کہلاتی ہے۔ وصیت کو دو گواہوں کی موجودگی میں تحریر کرنا چاہیے تاکہ بعد میں کوئی اختلاف پیدا نہ ہو۔ شریعت اسلامیہ میں وصیت کا قانون بنایا گیا ہے؛ تاکہ قانون میراث کی رو سے جن عزیزوں کو میراث میں حصہ نہیں پہنچ رہا ہے اور وہ مدد کے مستحق ہیں، مثلاً کوئی یتیم پوتا یا پوتی موجود ہے یا کسی بیٹے کی بیوہ مصیبت زدہ ہے یا کوئی بھائی یا بہن یا کوئی دوسرا عزیز سہارے کا محتاج ہے تو وصیت کے ذریعہ اس شخص کی مدد کی جائے۔ وصیت کرنا اور نہ کرنا دونوں اگرچہ جائز ہیں لیکن بعض اوقات میں وصیت کرنا افضل وبہتر ہے۔ ایک تہائی جائیداد میں وصیت کا نافذ کرنا وارثوں پر واجب ہے، یعنی مثلاً اگر کسی شخص کے کفن دفن کے اخراجات، دیگر واجبی حقوق اور قرض کی ادائیگی کے بعد ۹ لاکھ روپے کی جائیداد بچتی ہے تو ۳ لاکھ تک وصیت نافذ کرنا وارثین کے لیے ضروری ہے۔ ایک تہائی سے زیادہ وصیت نافذ کرنے اور نہ کرنے میں وارثین کو اختیار ہے۔کسی وارث یا تمام وارثین کو محروم کرنے کے لیے اگر کوئی شخص وصیت کرے تو یہ گناہ کبیرہ ہے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے وارث کو میراث سے محروم کیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو جنت سے محروم رکھے گا (کچھ عرصہ کے لیے)۔ (ابن ماجہ وبیہقی) انتقال کے بعد ترکہ (جائداد یا رقم) کی تقسیم صرف اور صرف وراثت کے قانون کے اعتبار سے ہوگی۔

ابتداء اسلام میں جب تک میراث کے حصے مقرر نہیں ہوئے تھے، ہر شخص پر لازم تھا کہ اپنے وارثوں کے حصے بذریعہ وصیت مقرر کرے تاکہ اس کے مرنے کے بعد نہ تو خاندان میں جھگڑے ہوں اور نہ کسی حق دار کا حق مارا جائے۔ لیکن جب بعد میں تقسیم وراثت کے لیے اللہ تعالیٰ نے خود اصول وضوابط بنادئے جن کا ذکر سورةا لنساء میں ہے تو پھر وصیت کا وجوب ختم ہوگیا، البتہ دو بنیادی شرائط کے ساتھ اس کا استحباب باقی رہا۔ ۱) جو شخص وراثت میں متعین حصہ پارہا ہے اس کے لیے وصیت نہیں کی جاسکتی ہے، مثلاً ماں، باپ، بیوی، شوہر اور اولاد۔ جیساکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجة الوداع کے موقع پر تقریباً ڈیڑھ لاکھ صحابہٴ کرام کے مجمع کے سامنے ارشاد فرمایا: ” اللہ تعالیٰ نے ہر وارث کا حصہ مقرر کردیا ہے، لہٰذا اب کسی وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔“ (ترمذی۔ باب ما جاء لا وصیة لوارث) حضرت عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں مزید وضاحت موجود ہے کہ میراث نے ان لوگوں کی وصیت کو منسوخ کردیا جن کا میراث میں حصہ مقرر ہے، دوسرے رشتہ دار جن کا میراث میں حصہ نہیں ہے، اُن کے لیے حکم وصیت اب بھی باقی ہے۔) وصیت کا نفاذ زیادہ سے زیادہ ترکہ کے ایک تہائی حصہ پر نافذ ہوسکتا ہے الا یہ کہ تمام ورثاء پوری وصیت کے نفاذ پر راضی ہوں۔

امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ جن رشتہ داروں کا میراث میں کوئی حصہ مقرر نہیں ہے، اب ان کے لیے بھی وصیت کرنا فرض ولازم نہیں ہے،کیونکہ فرضیت وصیت کا حکم منسوخ ہوگیا ہے۔ (تفسیر جصاص، تفسیر قرطبی) یعنی بشرطِ ضرورت وصیت کرنا مستحب ہے۔

ناجائز وصیت: ایک تہائی سے زیادہ جائداد کی وصیت کرنا۔ وارث کے لیے وصیت کرنا۔ اس نوعیت کی وصیت نافذ نہیں ہوگی۔اولاد یا کسی دوسرے وارث کو اپنی جائداد سے محروم کرنے کے لیے کسی دوسرے شخص یا دینی ادارہ کو وصیت کرنا ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کئی لوگ (ایسے بھی ہیں جو) ساٹھ سال تک اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری میں زندگی گزارتے ہیں، پھر جب موت کا وقت آتا ہے تو وصیت میں وارثوں کو نقصان پہنچادیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان پر جہنم واجب ہوجاتی ہے۔ پھر حضرت ابوہریرہ  نے یہ آیت (سورة النساء ۱۲)پڑھی: ”جو وصیت کی گئی ہو اس پر عمل کرنے کے بعد اور مرنے والے کے ذمہ جو قرض ہو اس کی ادائیگی کے بعد، بشرطیکہ (وصیت اور قرض کے اقرار کرنے سے ) اس نے کسی کو نقصان نہ پہنچایا ہو۔ یہ سب کچھ اللہ کا حکم ہے، اور اللہ ہر بات کا علم رکھنے والا، بردبار ہے۔ “(ترمذی باب جاء فی الوصیة بالثلث) 

قرض کو وصیت پر مقدم کیا جائے گا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض وصیت سے پہلے ادا کرنے کا حکم دیا ہے، (یعنی انسان کے ترکہ میں سے تجہیز وتکفین کے بعد سب سے پہلے قرض کی ادائیگی کی جائے گی، پھر وصیت نافذ ہوگی)؛ جب کہ تم لوگ قرآن کریم میں وصیت کو پہلے اور قرض کو بعد میں پڑھتے ہو۔ (ترمذی باب ما جاء یبدا بالدین قبل الوصیة) مذکورہ بالا ودیگر احادیث کی روشنی میں پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ قرض کی ادائیگی وصیت پر مقدم ہے۔

مزید پڑھیں درج ذیل مضامین میں  …..

References/Links

  1. http://www.scsguide.com/index.php/inheritance/235-waseat-nama-me-kin-chezon-ka-khayal-rakha-jay
  2. http://www.scsguide.com/index.php/inheritance/202-gift-bequest-and-some-forms-of-dedicated-detailed-legal-order
  3. http://hamariweb.com/articles/58694http://hamariweb.com/articles/58694http://www.islamicsoftware.org/irth/irth.html
  4. http://www.farooqia.com/ur/lib/1435/03/p54.php
  5. https://wp.me/p9pwXk-2jY : وراثت کے احکام    
  6. وفات، میت ، نماز جنازہ ، تعزیت، ایصال ثواب ، مسائل : https://wp.me/p9pwXk-1bC
  7. وصیت اور تقسیمِ میراث کی اہمیت وفضیلت: http://raahedaleel.blogspot.com/2015/06/blog-post_37.html
  8. https://islamqa.info/ur/111834
  9. https://www.al-islam.org/a-summary-of-rulings-makarim-shirazi/rules-inheritance
  10. Islamic Inheritance Calculator

One Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *