تراویح کی اہمیت اور قرآن کریم کے تیس پاروں کا مختصر خلاصہ

 

رمضان مبارک – تراویح میں  خلاصہ  قرآن 

Khulasa e Quran in Ramadan

رمضان کے مہینے میں عشاء کی نماز کے بعد اور وتروں سے پہلے نماز (صلات)  تراویح باجماعت ادا کی جاتی ہے۔ جوبیس یا آٹھ رکعت پر مشتمل ہوتی ہے، اور دو دو رکعت کرکے پڑھی جاتی ہے۔ ہر چار رکعت کے بعد وقف ہوتا ہے۔ جس میں تسبیح و تحلیل ہوتی ہے اور اسی کی وجہ سے اس کا نام تروایح ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان شریف میں رات کی عبادت کو بڑی فضیلت دی ہے (قیام لیل) ۔ حضرت عمر نے سب سے پہلی تروایح کے باجماعت اور اول رات میں پڑھنے کا حکم دیا اور اُس وقت سے اب تک یہ اسی طرح پڑھی جاتی ہے۔ اس نماز کی امامت بالعموم حافظ قرآن کرتے ہیں اور رمضان کے پورے مہینے میں ایک بار یا زیادہ مرتبہ قرآن شریف پورا ختم کردیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت  بیس رکعت تراویح پڑھتے ہیں ، تروایح کے بعد وتر بھی باجماعت پڑھے جاتے ہیں۔

……………………………………..

خلاصہ مضمون قرآن اور تراویح
اللہ کا شکر ہے ہم کو پھر رمضان مبارک کا مہینہ عطا کیا، اللہ ہم سب کو اس مہ مبارک کی فضیلتوں سے مکمل فایدہ اٹھانے کی توفیق دے آمین- صلات تراویح یا قیام اللیل میں خطیب و حفاظ مکمل قرآن کی تلاوت کرتے ہیں-اگرچہ مسلمان خود انفرادی طور پر بھی قرآن پڑھتے ہیں مگر تراویح کا اپنا ہی رتبہ ہے- قیامِ لیل، یعنی تراویح میں تلاوتِ قرآن، قرآن کی سماعت و قراء ت، قرآن سے شغف اور استفادے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ قرآن بغیر سمجھے پڑھنا اور سننا بھی باعثِ اجروثواب اور قلب کو گرمانے کا وسیلہ ہے، لیکن اسی پر اکتفا کرنا ہرگز صحیح نہیں ہے۔  اکثریت عربی سے نابلد ہونے کی وجہ سے قران کو سمجھ نہیں سکتے مگر تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر تراویح سے پہلے پانچ دس منٹ میں مختصر طور پر پارہ کا خلاصہ بیان کر دیں تو  مبتدی زیادہ توجہ سے تلاوت قرآن کو کچھ سمجھ سکتے ہیں- اکثر مساجد میں یہ اہتمام کیا جاتا ہے- اس سے قرآن کو سمجھنے کا فایدہ اور ثواب بھی ہو گا- کہیں تراویح دے پہلے اور کہیں تراویح کے بعد علماء کرام خلاصہ پیش کرتے ہیں- کچھ لوگ اس کو بدعت قرار دے کر ایسا نہیں کرتے- مساجد میں اکثر نماز مغرب یا عشاء کے بعد درس قرآن ہوتا ہے ، کیا یہ بدعت ہے؟
ہم جانتے ہیں کہ نماز تراویح کو جب حضرت عمر رضی اللہ نے قایم کیا تو اس کو ” بدعت حسنہ” قرار دیا- کچھ لوگ تو نماز تراویح کو ہی بدعت قرار دے کر مخالفت کرتے ہیں- یہ ایک لمبی نہ ختم نونے والی بحث ہے-
رمضان کی برکات کا زیادہ فائدہ اٹھانے کے اپنی مسجد میں تجویز دیں کہ مسجد میں تراویح سے پہلے یا بعد میں تلاوت والے پارہ کا  مختصر خلاصہ پیش کر دے جائے-
مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا (النسا،85)
ترجمہ : جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے (قرآن ;4:85)

تراویح میں تلاوت قرآن پاک توجہ سے سماعت کریں، پارہ ترجمہ کے ساتھ پڑھ کر جاییں اور مغرب کے بعد اس دن کے پارہ کا خلاصہ پڑھ کر جاییں. امید ہے آپ تلاوت قرآن کو بہتر سمجھ سکیں گے. انشا اللہ –

  1.  انوار قران – مضامین قرآن کا مکمل خلاصہ : پی ڈی ایف  فائل : https://goo.gl/8cjrJ7.
  2. تیس پاروں کا مختصر خلاصہ (مکمل کتاب ) :https://bit.ly/3aj1A8b

اس رمضان میں قرآن کو سمجھنے کے لیے:

1.متعلقہ پارہ مسجد جانے سے پہلے یا تراویح پڑھنے سے قبل  گھر پر پڑھا جایے-
2. تراویح سے پہلے مسجد میں پڑھ کر سنایا جایے پانچ (5) منٹ سے زیادہ نہیں لگنا چاہئے
3.رات کو  مکّہ لائیو یو ٹیوب پر براہ راست روزانہ تراویح دیکھیں ، انگلش ترجمہ کے ساتھ – (تراویح آن لائن )
4.دن کو کسی وقت پچھلے دن کی تراویح کی ویڈیو ریکارڈنگ دیکھیں اور سنیں ، ترجمہ پر غور کریں
5.دن کو ایک  مکمل پارہ ترجمہ کے ساتھ پڑہیں –
6. قرآن مجید کی ایک ’پرندوں کی آنکھ‘ کا خلاصہ حاصل کرنے کے لئے سارا سال پڑھیں-
7.دعوہ کےطور پر ساتھی مسلمانوں اور غیر مسلموں کو مرکزی خیال کی ایک جھلک دکھائیں تاکہ وہ قرآن مجید کا
موضوع اور اسلوب سمجھ سکیں اور مکمل قرآن پڑھنے کا شوق پیدا ہو-
8. مضامین قرآن ویب سائٹ پر دن میں کم از کم ایک مرتبہ کسی ایک مضمون کو پڑھیں اور لنکس سے مزید تحقیق کریں
تعارفی مضامین
  1. رمضان سے بھرپور فوائد کیسے حاصل کریں – ایک <<مختصر گائیڈ>>
  2. تراویح کی اہمیت اور قرآن کریم کے تیس پاروں کا <<مختصر خلاصہ>>
  3. نماز تراویح میں مصحف پکڑ کے تلاوت کرنا >>>
  4. ارکان اسلام Pillars of Islam
  5.  انوار قران – مضامین قرآن کا مکمل خلاصہ : پی ڈی ایف  فائل : https://goo.gl/8cjrJ7.
  6. تراویح مضامین قرآن کا مکمل خلاصہ (علامہ ابتسام الہی ظہیر )  https://bit.ly/3aj1A8b

استقبال رمضان

  1. پہلا پارہ پارے کا خلاصہ
  2. 2.دوسرے پارے کا خلاصہ
  3. 3.تیسرے پارے کا خلاصہ
  4. چوتھے پارے کا خلاصہ
  5. پانچویں پارے کا خلاصہ
  6. 6.چھٹے پارے کا خلاصہ
  7. 7.ساتویں پارے کا خلاصہ
  8. 8.آٹھویں پارے کا خلاصہ
  9. 10.دسویں پارے کا خلاصہ
  10. گیارہویں پارے کا خلاصہ
  11. بارہویں پارے کا خلاصہ
  12. تیرہویں پارے کا خلاصہ
  13. 14.چودھویں پارے کا خلاصہ
  14. 15.پندرھواں پارہ کا خلاصہ
  15. 16.سولہواں پارہ کا خلاصہ
  16. 18.اٹھارہویں پارے کا خلاصہ
  17. 20.بیسویں پارے کا خلاصہ
  18. 22.بائیسویں پارے کا خلاصہ
  19. تئیسواں پارہ کا خلاصہ
  20. چوبیسویں پارے کا خلاصہ
  21. پچیسویں پارے کا خلاصہ
  22. چھبیسویں پارے کا خلاصہ
  23. ستائیسویں پارے کا خلاصہ
  24. اٹھائیسویں پارے کا خلاصہ
  25. انتیسویں پارے کا خلاصہ
  26. تیسواں پارہ کا خلاصہ


رمضان میں قیام لیل اور تراویح
تراویح: آںحضورؐ کا عمل
حضرت زید بن ثابتؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں بوریا کا ایک حجرہ بنایا۔ کئی راتوں تک اس میں نماز پڑھی یہاں تک کہ بہت سے لوگ آپؐ کے پیچھے جمع ہوگئے۔ پھر ایک رات لوگوں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہ سنی۔ انھوں نے گمان کیا کہ حضوؐر سوگئے ہیں۔ بعض نے کھنکارنا شروع کیا کہ آپؐ حجرے سے نکل کر ان کی طرف تشریف لائیں۔ آں حضوؐر نے باہر آکر فرمایا: مجھے تمھاری کیفیت معلوم ہے۔ مجھے یہ خوف ہوا کہ کہیں تم پر یہ نماز فرض نہ کردی جائے، اور اگر یہ چیز تم پر فرض ہوجاتی تو تم اس کو ادا نہ کرپاتے۔ اے لوگو! اس کو اپنے گھروں میں پڑھو۔ آدمی کی بہترین نماز اس کے گھر کی ہے، ماسواے فرض نمازوں کے‘‘(متفق علیہ)۔حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں نماز پڑھے تو اپنی نماز میں سے کچھ حصہ گھر کے لیے بھی رکھ لے۔ اس نماز کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس گھر میں بھلائی کردے گا‘‘۔ (مسلم)
حضرت ابوذر غفاریؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روزے رکھے۔ آپؐ نے تراویح میں ہمارے ساتھ قیام نہ کیا، یہاں تک کہ صرف سات دن رہ گئے۔ ۲۴رمضان کی رات کو حضوؐر نے ہمارے ساتھ قیام کیا، یہاں تک کہ تہائی رات گزر گئی۔ جب چھے راتیں باقی رہ گئیں تو آپؐ نے پھر ہمارے ساتھ قیام نہ کیا۔ جب پانچ راتیں رہ گئیں تو حضوؐرنے پھر قیام فرمایا، یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! کاش! آپؐ اس سے زیادہ قیام فرماتے۔ آپؐ نے فرمایا : آدمی جس وقت امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے یہاں تک کہ فارغ ہوجاتا ہے تو اس کے لیے ساری رات کا قیام لکھا جاتا ہے۔ جب چار راتیں باقی رہ گئیں تو آپؐ نے پھر ہمارے ساتھ قیام نہ کیا۔ جب تین راتیں باقی رہ گئیں تو آپؐ نے اپنے گھروالوں کو جمع کیا اور اپنی عورتوں کو اور لوگوں کو بھی جمع کیا اور ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے۔ اس موقع پر ہمیں فلاح کے فوت ہوجانے کا خطرہ ہوا (یعنی سحری کھانے سے رہ جانے کا خوف ہوا)۔ پھر بقیہ راتوں میں قیام نہیں کیا‘‘۔ (ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
اس سے پہلے ایک روایت حضرت زید بن ثابتؓ کی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ رمضان کے ابتدائی ایام میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تراویح پڑھی۔ اس طویل روایت میں حضرت ابوذر غفاریؓ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے پہلے ۲۴ دن ہمارے ساتھ قیام نہیں کیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ دونوں روایتیں دو مختلف رمضان کا ذکر کرتی ہیں۔ حضرت ابوذرؓ جس رمضان کا ذکر کر رہے ہیں وہ بعد کا واقعہ ہے۔ اس روایت میں حضرت ابوذرؓ نے حضوؐر سے درخواست کی کہ کاش! آپؐ زیادہ قیام فرماتے جس پر آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب آدمی امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے اور اس وقت تک ساتھ رہتا ہے جب امام سلام پھیرے، تو اس شخص کے لیے رات بھر کا قیام لکھا جاتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی عنایت اپنے بندوں پر ایسی ہے کہ رات کی نماز جماعت کے ساتھ امام کے پیچھے پڑھتے ہیں، یعنی فرض ادا کرتے ہیں تو اس کا اجر رات بھر کے قیام کے برابر لکھا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ اپنے کرم سے جتنا چاہے عطا فرما دے۔ اس کا اصول ہے کہ سزا دیتا ہے تو صرف جرم کے مطابق، اور انعام دیتا ہے تو اپنی رحمت کے مطابق، یعنی آدمی کی خدمت سے کئی گنا زیادہ۔ اس لیے حضوؐر نے فرمایا کہ آدھی رات تک ہم نے تمھیں نماز پڑھائی، یہی کافی ہے، اجر تو اللہ ساری رات کے قیام کا دے گا۔ پھر حضرت ابوذر غفاریؓ یہ بھی کہتے ہیں کہ جب تین راتیں باقی رہ گئیں تو آں حضوؐر نے اپنے گھر والوں، بیویوں، بچوں اور دوسرے لوگوں کو جمع کیا اور تراویح کی نماز پڑھائی۔ یہاں تک کہ انھیں اندیشہ ہوا کہ ہم فلاح سے رہ جائیں گے۔ پوچھا گیا کہ فلاح کیا ہے تو حضرت ابوذرؓ نے جواب دیا: اس سے مراد سحری کا کھانا ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ راوی جس نے حضرت ابوذرؓ سے سوال کیا کہ فلاح کیا ہے کوئی دوسرا ہے۔ حضرت ابوذرؓ نے بتایا کہ قیام اتنا طویل ہوا کہ خدشہ ہوگیا کہ آج سحری کا کھانا مشکل ہی سے کھایا جائے گا۔ اس روایت سے یہ ثبوت بھی ملا کہ یہ پہلے رمضان کی طرح نہیں کہ جس میں آں حضوؐر نے تراویح کا انتظام کیا تھا، تو لوگ آپ کی آواز سُن کر جمع ہوگئے تھے اور اوائل رمضان میں تراویح پڑھی تھی، بلکہ اس بعد کے رمضان میں آپؐ نے اور لوگوں کو بھی جمع کیا اور گھر کے بال بچوں کو بھی جمع کرکے نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ اس سے اس بات کا ثبوت بھی مل گیا کہ حضرت عمرؓ نے تراویح کا جو انتظام کیا تھا وہ خلافِ سنت نہ تھا۔ حضور اکرمؐ نے نہ صرف خود نماز پڑھی بلکہ یہ بھی ثابت ہوا کہ دیگر لوگوں کو جمع بھی کیا۔
حضور اکرمؐ نے باقی دن جو تراویح نہیں پڑھائی تو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تراویح فرض نہیں بلکہ سنت ہے۔ حضوؐر نے لوگوں کو جمع بھی کیا ہے اور نہیں بھی۔ لوگوں کو ازخود جمع ہوجانے سے روکا بھی نہیں، تراویح پڑھائی بھی ہے اور نہیں بھی۔ اس طرح آں حضوؐر نے اپنے عمل سے یہ بتا دیا کہ فرض، واجب، سنت اور نفل کیا ہیں۔ تراویح نفل ہے جس پر آں حضورؐنے خود عمل کیا ہے مگر اس کو لازم نہیں کیا۔

خلیفہ اوّل کا عمل
حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیام کے لیے رغبت دلاتے تھے لیکن تاکیداً حکم نہیں دیتے تھے۔ آپؐ فرماتے تھے کہ جو شخص صحیح اعتقاد کے ساتھ ثواب کی خاطر قیامِ رمضان کرتا ہے اس کے پہلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرما گئے تو حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت میں بھی یہ معاملہ اسی طرح چلتا رہا اور حضرت عمرؓ کے ابتدائی زمانۂ خلافت میں بھی یہی معمول تھا۔

اس روایت سے معلوم ہوا کہ خلیفہ دوم نے اپنے دوسرے نصف دورِ خلافت میں نمازِتراویح کو مساجد میں باجماعت ادایگی کی شکل میں اختیار فرمایا جو آج تک مسلمانوں میں رائج ہے۔ چونکہ آں حضوؐر نے اپنے ساتھ لوگوں کے جمع ہونے کو ناپسند نہیں کیا بلکہ ایک دوسرے موقع پر لوگوں کو قیام کے لیے جمع بھی کیا، تو ثابت ہوا کہ حضرت عمرؓ نے جو انتظام قیامِ رمضان کے سلسلے میں کیا وہ خلافِ سنت نہیں ہے۔

خلیفہ دوم کا عمل
حضرت عبدالرحمن بن عبدالقاری روایت کرتے ہیں کہ ایک شب حضرت عمر بن خطابؓ کے ساتھ مسجد میں گیا تو دیکھا کہ لوگ علیحدہ علیحدہ مسجد میں نماز پڑھ رہے ہیں اور کچھ لوگ ایک امام کے ساتھ نماز ادا کر رہے ہیں۔ اس وقت حضرت عمرؓ نے فرمایا: اگر میں انھیں ایک امام کے پیچھے جمع کردوں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ پھر فیصلہ کر کے حضرت ابی بن کعبؓ کو امام مقرر کردیا۔ جب دوسری شب مسجد کی طرف آئے تو دیکھا اب لوگ ایک امام کی اقتدا میں نماز ادا کر رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر حضرت عمرؓ نے فرمایا: یہ کیا اچھی بدعت ہے اور جس نماز سے تم غفلت برتتے تھے۔ یہ زیادہ بہتر ہے کہ تم قیامِ لیل کرو۔ خود حضرت عمرؓ آخر شب کے قیام کو ترجیح دیتے تھے اور لوگ اوّل شب کو قیام کرتے تھے۔

تراویح کی تعداد

حضرت سائب بن یزید روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے حضرت ابی بن کعبؓ اور حضرت تمیم داریؓ کو حکم دیا کہ وہ رمضان میں لوگوں کو ۱۱ رکعت جماعت سے پڑھائیں اور امام ان سورتوں کی تلاوت کرتے تھے جن میں تقریباً سو آیات ہوتیں۔ طویل قیام کی وجہ سے ہم لاٹھیوں کے سہارے کھڑے ہوتے تھے اور مسجد سے ہماری واپسی فجر کے قریب ہوتی۔ (موطا)

حضرت اعرجؓ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ رمضان کے مہینے میں کفار پر لعنت کرتے تھے اور امام سورۂ بقرہ آٹھ رکعت میں پڑھتے اور اگر وہ اس سورہ کو ۱۲ رکعت میں ختم کرتے تو ہم سمجھتے کہ انھوں نے نماز میں تخفیف کی ہے (ایضاً)۔حضرت عبداللہ بن ابوبکر روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعبؓ سے سنا ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب ہم رمضان میں قیامِ لیل سے فارغ ہوتے تو خادموں سے کہتے کہ کھانا لانے میں جلدی کرو تاکہ سحری چھوٹ نہ جائے۔ ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ فجر (صبح صادق) طلوع نہ ہوجائے۔ (ایضاً)
نمازِ تراویح کے بارے میں اکثر احادیث میں قیامِ لیل کا لفظ استعمال ہوا ہے جو بجاے خود اس بات کی دلیل ہے کہ قیام کرنے والا حسب توفیق قیام کرے۔تعداد رکعات کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ مندرجہ بالا تینوں احادیث میں بھی مختلف تعداد کا بیان اس معاملے میں کسی پابندی کو ظاہر نہیں کرتا۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مقتدیوں کی آسانی اور رمضان المبارک میں قرآن کا دورانِ نماز پڑھنا اس بات کا متقاضی تھا کہ تعدادِ رکعات میں مناسب اضافہ کرلیا جائے تاکہ طویل قیام کے لیے لاٹھیوں کا سہارا نہ لینا پڑے۔ لہٰذا تراویح کے سلسلے میں جس قدر بھی اختلافی آرا سامنے آتی ہیں ان کی بنیاد پر کسی نص یا حکمِ رسالت کی نفی نہیں ہوتی۔(افاداتِ مودودی، درس حدیث مشکوٰۃ، باب الصلوٰۃ، مرتبین: میاں خورشید انور، بدرالدجیٰ خان،ص ۳۱۵۔۳۲۰)
—————————-
بخاری کی روایت ہے کہ رمضان کے دنوں میں ایک بار آدھی رات کو آپﷺ نمازِ تہجد کے لیے مسجد تشریف لائے۔ آپ کا حجرہ مبارک مسجد سے متصل تھا۔ تہجد کی نماز میں پہلے قرأت جہری، یعنی بآواز بلند بھی ہوتی تھی اور سری یعنی دل میں بھی۔ بعد میں قرآن مجید نے ہدایت کی کہ آواز بہت پست ہو نہ بہت اونچی۔ آپﷺ جب تہجد کے لیے مسجد تشریف لائے تو چند صحابہ بھی موجود تھے جو آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہوگئے۔ اگلے دن انہوں نے اپنے احباب سے اس کا ذکر کیا تو ان میں بھی یہ خواہش جاگی کہ وہ بھی اللہ کے رسول کے ساتھ، اس عبادت میں شامل ہوں۔
دسرے دن جب آپﷺ مسجد میں آئے تو گزشتہ رات سے زیادہ لوگ جمع تھے۔ تیسرے دن یہ تعداد اور بڑھ گئی۔ چوتھے دن یہ معاملہ ہوا کہ مسجد نمازیوں سے بھر گئی اور اس میں گنجائش ختم ہوگئی۔ اُس دن آپﷺ حجرے سے باہر تشریف نہیں لائے۔ صحابہ انتظار کرتے رہ گئے۔ فجر کی نماز کے بعد آپ نے صحابہ سے خطاب کیا کہ میں تمہارے آنے سے بے خبر نہیں تھا لیکن اس خیال سے نہیں آیا کہ کہیں تم پر یہ نماز فرض نہ ہو جائے اور تم اسے ادا نہ کر سکو۔
رسالت مآبﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں یہی تین دن ہیں جب آپ نے رمضان میں کوئی نفلی نماز باجماعت ادا کی گئی۔ اس کے بعد لوگ گھروں اور مسجد میں انفرادی طور پر پڑھتے رہے۔ سیدنا ابوبکرؓ کے دور میں بھی صحابہ کا یہی طرزِ عمل رہا۔ سیدنا عمرؓ اپنے دورِ خلافت میں ایک دن مسجد آئے تو دیکھا کہ کوئی باجماعت نماز پڑھ رہا ہے اور کوئی انفرادی طور پر۔ کوئی جہری اور کوئی سری۔ اس سے مسجد میں ایک بد نظمی کی صورت پیدا ہو گئی۔ اس صورتِ حال سے بچنے کے لیے حضرت عمرؓ نے صحابہ سے کہا کہ وہ کسی ایک کو امام بنا کر ایک ساتھ پڑھ لیں تاکہ مسجد میں ایک نظم پیدا ہو جائے۔
سیدنا عمرؓ نے خود ہی حضرت ابی بن کعبؓ کو امام بھی مقرر فرما دیا۔ ایک اور دن پھر، جب آپ تشریف لائے تو دیکھا کہ مسجد میں ایک نظم ہے اور سب باجماعت نماز پڑھ رہے ہیں۔ اس پر آپؓ نے تبصرہ کیا کہ یہ (باجماعت نماز) ایک نئی چیز (بدعت) تو ہے لیکن اچھی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ وہ جسے چھوڑ کر (یعنی تہجد جو انفرادی عبادت ہے)، تم یہ پڑھ رہے ہو، اِس( باجماعت) سے افضل ہے (بخاری)۔ حضرت عمرؓ خود اس باجماعت نماز میں شریک نہیں ہوئے۔
آ نے والے دنوں میں اسی طریقے کو اختیار کر لیا گیا‘ یعنی رمضان کے دنوں میں یہ نماز باجماعت نماز پڑھی جانے لگی۔ اب صدیوں سے یہ نماز اسی طرح پڑھی جا رہی ہے۔ بعد کے ادوار میں اس کا اہتمام بھی ہونے لگا کہ ان نوافل میں پورا قرآن پڑھا اور سنا جائے۔ پھر بات شبینے تک چلی گئی۔ شہروں میں بڑے بڑے اجتماعات ہونے لگے اور محض تین دن میں پورا قرآن پڑھا اور سنا جانے لگا۔ اگلے مرحلے میں اس نماز کو جامع مساجد سے ٹیلی وژن کے ذریعے گھر گھر دکھایا جانے لگا۔ یہ اس نماز کا پورا پس منظر ہے جسے ہم نمازِ تراویح کہتے ہیں۔ تراویح کا لفظ عہدِ رسالت میں مستعمل نہیں تھا اس لیے احادیث میں اس کا ذکر نہیں ملتا۔ اس سے چند باتیں پوری طرح واضح ہیں۔
1۔ تراویح کی نماز کوئی سنت نہیں ہے۔ سنت اس عمل کو کہتے ہیں جو رسالت مآبﷺ نے بطور دین امت میں رائج کیا۔ آپ نے اس کا حکم دیا۔ صحابہ نے اس پر عمل کیا۔ یہ واضح ہے کہ حضورﷺ نے خود باجماعت نمازِ تہجد پڑھنے کا حکم نہیں دیا۔ نہ صرف حکم نہیں دیا بلکہ زبانِ حال سے روک دیا۔ اس کی وجہ بھی بیان فرما دی۔ اس لیے یہ اصطلاحاً سنت نہیں ہے۔
2۔ یہ خلفائے راشدین کی سنت بھی نہیں۔ جس عمل میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ شریک نہ ہوں اور حضرت عمرؓ بھی انفرادی حیثیت میں اس کا حصہ نہ بنیں، اسے خلفائے راشدین کی سنت کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟
3۔ یہ اصلاً نمازِ تہجد ہے جسے نمازِ عشا کے ساتھ بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ تہجد کے لیے اٹھ نہیں سکتے ان کے لیے اللہ کے رسولﷺ نے یہ آسانی پیدا کی کہ وہ سونے سے پہلے پڑھ لیں اور اسے وتر کر لیں۔ عشا کی نماز کے ساتھ جو وتر پڑھے جاتے ہیں، یہ اسی تہجد کا حصہ ہیں کیونکہ نمازِ تہجد آپ نے طاق رکعات میں ادا کی۔ رسالتﷺ کا معمول تھا کہ آپ گیارہ رکعات ادا فرماتے۔ وتر کا مطلب ہوتا ہے، طاق بنانا۔
4۔ باجماعت کے مقابلے میں، اسے انفرادی طور پر رات کے پچھلے پہر پڑھنا افضل ہے۔ سیدنا عمرؓ نے اسے واضح الفاظ میں بیان کر دیا۔ باجماعت کے حق میں دلیل یہ ہے کہ اسے ایک بار نبیﷺ نے باجماعت پڑھا اور پھر امت نے اس کو اجماعی طور پر قبول کر لیا۔ میرے نزدیک یہ اس کے جائز ہونے کی دلیل تو ہو سکتی ہے، وجوب یا افضل ہونے کی نہیں۔
کورونا نے آج یہ موقع پیدا کردیا ہے کہ لوگ قیامِ لیل کی افضل صورت کی طرف لوٹ جائیں۔ یعنی انفرادی طور پر گھروں میں تہجد ادا کریں۔ عبادت اپنے حقیقی مفہوم میں انفرادی ہوتی ہے۔ حج اور باجماعت فرض نماز کے علاوہ ساری عبادات انفرادی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرد انفرادی حیثیت میں رب کے حضور میں جواب دہ ہے۔ عبادت تزکیہ نفس کے لیے اور رب کے ساتھ اپنا تعلق قائم کرنے کے لیے ہے۔
لوگوں کے لیے موقع ہے کہ وہ تہجد اور اعتکاف سے رمضان کے برکات میں اضافہ کریں۔ میرا احساس ہے کہ ہمارے ہاں ہر عبادت کو اجتماعی بنانے کا رجحان اب بڑھ رہا ہے۔ پہلے تہجد باجماعت ہوئی، اب لوگوں نے اعتکاف کو بھی باجماعت بنا لیا جو اعتکاف کی روح ہی کے خلاف ہے۔
مراقبہ، تنہائی میں اپنے رب سے مکالمہ، تلاوت، نوافل، تسبیح و مناجات، واقعہ یہ ہے کہ اس سے بہتر تزکیہ نفس کا کوئی نصاب نہیں ہو سکتا۔ رمضان ہمیشہ اس کا موقع فراہم کرتا ہے‘ جسے ہم اجتماعیت کے چکر میں ضائع کر دیتے ہیں۔ اس بار تو کورونا نے رجوع الی اللہ کے امکان کو بڑھا دیا ہے۔ آفات تو ویسے ہی اپنے رب کی طرف متوجہ کرنے کا ذریعہ ہیں۔ اس لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائیے اور گھروں کو اپنی نمازوں سے آباد کیجیے۔
علما کو بھی چاہیے تھا کہ وہ لوگوں کو اس جانب متوجہ کرتے۔ وہ انہیں بتاتے کہ یہ اصلاً نمازِ تہجد ہے اور اسے انفرادی طور پڑھنا افضل ہے‘ لہٰذا اس سال لوگ گھروں میں اس کا اہتمام کریں۔ وہ اس کے برخلاف باجماعت تراویح پر اصرار کر رہے ہیں۔ کورونا نے تذکیر کا ایک سنہری موقع فراہم کیا تھا، افسوس کہ یہ موقع گروہی مفادکی نذر ہوگیا۔ عبادت کوبھی متنازعہ بنا دیا گیا۔ [خورشید ندیم،دنیانیوز]
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

بسم الله الرحمن الرحيم
 لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ مُحَمَّدٌ رَسُوُل اللّهِ

شروع اللہ کے نام سے، ہم اللہ کی حمد کرتے ہیں اس کی مدد چاہتے ہیں اوراللہ سے مغفرت کی درخواست کر تے ہیں. جس کواللہ ھدایت دے اس کو کوئی  گمراہ نہیں کرسکتا اورجس کو وہ گمراہی پر چھوڑ دے اس کو کوئی ھدایت نہیں دے سکتا. ہم شہادت دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد ﷺ اس کے بندے اورخاتم النبین ہیں اور انﷺ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں ہے. درود و سلام ہوحضرت محمّد ﷺ  پر اہل بیت (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اور اصحاب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اجمعین  پر. جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا.
مزید پڑھیں:

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

Humanity, ReligionCultureSciencePeace

 A Project of 
Peace Forum Network
Peace Forum Network Mags
BooksArticles, BlogsMagazines,  VideosSocial Media
Overall 2 Million visits/hits