قرآن, حدیث ، سنت،اسوہ حسنہ: قرانی اصطلاحات کو کیوں تبدیل کیا ؟
یہ مجموعہ ملوکیت، سیاسی عصبیت اور مشکوک تاویلوں سے پاک ہے، اور صرف ان روایات پر مشتمل ہے جن پر امت کا تواتر (عملی یا لفظی) ہے۔ متواتر احادیث کی تعداد کے حوالے سے علماء اور محدثین کے ہاں مختلف آراء پائی جاتی ہیں، کیونکہ اس کا انحصار اس معیار (Criteria) پر ہے کہ “تواتر” کے لیے کم از کم کتنے راوی ہونے چاہئیں۔ عام طور پر اس حوالے سے درج ذیل تین آراء اہم ہیں:
۱۔ عمومی تعداد (مشہور ترین قول)”: زیادہ تر محدثین کے نزدیک متواتر احادیث کی کل تعداد ۳۰۰ سے زائد ہے۔ امام جلال الدین سیوطیؒ نے اپنی کتاب “الازہار المتناثرہ فی الاخبار المتواترہ” میں ان احادیث کو جمع کیا ہے اور ان کی تعداد تقریباً 113 بتائی ہے، تاہم دیگر علماء نے اس میں مزید اضافے کیے ہیں۔ اس مجموعہ میں وہ متواتر احادیث جن کو قرآن کی سپورٹ حاصل ہے وہ 72 (55+18) ہے اور جن کو قرآن کی مدد حاصل نہیں وہ 77 (58+19) ہیں.
۲۔ تواترِ لفظی اور معنوی کا فرق: تعداد کا فرق اس لیے بھی آتا ہے کہ تواتر کی دو قسمیں ہیں:
۔ تواترِ لفظی: وہ حدیث جس کے الفاظ بھی بعینہٖ بہت زیادہ لوگوں نے روایت کیے ہوں۔ ایسی احادیث بہت کم ہیں (بعض کے نزدیک صرف ایک “جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا…” اور بعض کے نزدیک 10 سے 12 کے قریب)۔
۔ تواترِ معنوی: وہ حدیث جس کا مفہوم یا کوئی خاص حکم تواتر سے ثابت ہو (جیسے نماز کی رکعات، زکوٰۃ کی شرح، یا حوضِ کوثر)۔ ان کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔
۳۔ اہم کتب اور ان میں موجود تعداد: مختلف محدثین نے متواتر احادیث پر مستقل کتابیں لکھی ہیں جن میں تعداد درج ذیل ہے:
۔ امام سیوطیؒ (القطف المتناثر): 113 احادیث۔
۔ شیخ محمد بن جعفر کتانیؒ (نظم المتناثر): 310 احادیث۔
۔ ملا علی قاریؒ: انہوں نے بھی ایک مختصر مجموعہ تیار کیا ہے۔
خلاصہ
اگر ہم صرف ان احادیث کو دیکھیں جو دین کی بنیاد ہیں اور جن پر امت کا عملی تواتر بھی ہے، تو 150 ایک نہایت متوازن اور مستند عدد ہے، کیونکہ یہ وہ بنیادی اصول ہیں جو قرآن کے عین مطابق ہیں اور جن پر پوری امت کا اتفاق رہا ہے۔اس کو ری وزٹ کیا جاسکتا ہے اور AI کی مدد بھی کارآمد ہو سکتی ہے۔قرانی اصطلاحات جن کو تبدیل کیا گیا ،بالا FB Post میں بیان کیا گیا ان کی روشنی میں پڑھیں .
ع
Notes 150 Twatir Sunnah – 150 Hadith-1
AAK’s – Sunnat Matwater Hadith Notes – 1 https://tinyurl.com/Matwater مسلمانوں میں فرقہ وارریات کی ایک اہم وجہ احادیث پر متفق نہ ہونا اور مختلف احادیث پر عمل پیرا ہونا ہے. قرآن پر سب کا اتفاق ہے اگرچہ تشریح مختلف ہوتی ہے جس کی وجہ احادیث میں اختلاف ہیں.