صیہونی مسیحیت اور بائبل Christian Zionism and Bible

امریکی امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سفارتخانہ کو یروشلم منتقل کیا تو دنیا حیران ہے کہ امریکہ نے تمام دنیا کی مخالفت کے باوجود اتنا بڑا اقدام اٹھایا۔ جس دن 14 مئی 2018  کو امریکی سفارتخانہ کا افتتاح ہوا ، 60 سے زیادہ نہتے فلیسطنیوں کو اسرایئل کی فوج نے قتل کر دیا … یہ دہشت اور سفاکیت کی مثال ہے- تمام دنیا اور اقوام متحدہ اس نسل کشی اور دہشت گردی پرخاموش ہے ….  اقوام متحدہ: مبینہ اسرائیلی ’جارحیت‘ کے خلاف تحقیقاتی کمیشن کے قیام کی قرارداد منظور

بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ امریکہ اور یورپ میں اسرایئل اورصیہونیت  لیے ہمدردی اور محبت کیوں ہے؟ صیہونی مسیحیت اور بائبل Christian Zionism and Bible کا آپس میں گہرا تعلق ہے- صدیوں سے یورپ کے مسیحی یہودیوں کو یسوع  مسیح کا دشمن اور قاتل سمجھتے رہے اور ان پر ظلم و جبر کے پہاڑ  توڑتے رہے- اچانک انیسویں صدی سے مسیحیت میں ایک نئی فکر ، نیا نظریہ کی ابتدا ہے- یہ نیا نظریہ سراسر یہودیوں کے فائدہ میں ہے اس لیے یہ بعید از قیاس نہیں کے یہ دنیا پر کنٹرول کے عظیم یہودی منصوبہ کا حصہ ہو؟

(https://goo.gl/f5Wg9E  پی دی ایف) برقی کتاب   ( pdf )– صیہونی مسیحیت اور بائبل

پرھتے جایئں … انگریزی پیرا کے بعد ……

Understanding ‘The  Christian Zionism’: The Real Threat to The World Peace

At least one in four American Christians believe it is their biblical responsibility to support the nation of Israel. This view is known as Christian Zionism.……….. The origins of the movement can be traced to the early 19th century when a group of eccentric British Christian leaders began to lobby for Jewish restoration to Palestine as a necessary precondition for the return of Christ.   …… Christian Zionism is the largest, most controversial and most destructive lobby within Christianity. It bears primary responsibility for perpetuating tensions in the Middle East, justifying Israel’s apartheid colonialist agenda and for undermining the peace process between Israel and the Palestinians.  [Keep reading…. ]

The ‘Christian-Zionist movement’ misleads ……: http://www.religioustolerance.org/chr_isra.htm

اس کامیابی کے بعد اب اسلامی دنیا میں بھی یہودیوں نے مسلمانوں کے ذریعے اسرایئل  اور یہودیوں کے حق میں لابی کرنا شروع کر دیا ہے- ایک طبقہ “مسلم صیہونی” Muslim Zionists بھی وجود پزیر ہے- ان کو شاید علم نہیں کہ وہ غیر ارادی یا ارادی طور پر صہونیت  کو شرعی تحفظ مہیا کر رہے ہیں- الله اپنے منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے کسی کا محتاج نہیں- (اس پر تفصیل بعد میں) ہم کو الله کےواضح احکام پر عمل کرنا ہے (العمران 3:7).اقوام کے عروج و زوال کا قانون واضح ہے(3:11,47:38)- 

“إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا۟ مَا بِأَنفُسِهِمْ” (13:11 قرآن)

حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی (13:11 قرآن)

“وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم”  

 اگر تم منہ موڑو گے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے (47:38 قرآن )   

“إنّ اللّهَ يَرْفَعُ بِهذَا الكِتابِ أقْواماً وَ يَضَعُ بِهِ آخَرِيْنَ”

اللہ قوم کو اس کتاب (قرآن پر عمل کرنے سے ) سے بلند کرے گا اور اس سے ہی پستی میں ڈالے گا (جب وہ قرآن کو چھوڑ دیں گے ) [صحیح مسلم حدیث # 817]

جو برگزیدہ ہستی ہدایت و رہنمائی کرنے الله نے بھیجنا ہو گی اس کے پلان کے مطابق وقت مقررہ پر آئے  گی- غیب کا علم الله کو ہے- پیشین گویاں اور مقدس کتب کی تشریح انسانی کام ہے، جو حتمی نہیں-

عیسائی صیہونیزم Christian Zionism  ، پروٹسٹنٹ عیسائیت کے اندر سب سے بڑی، سب سے زیادہ متنازع اور سب سے زیادہ تباہ کن تحریک ہے- یہ مشرق وسطی میں کشیدگی کو برقرار رکھنے، اسرائیلی کے تمييز عنصري apartheid، استعمارپسندانہ ایجنڈا  اور اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے امکانات کے عمل کو کمزورکرنے میں بنیادی طور پر ذمہ دارہے-

پروٹسٹنٹ، دنیا میں مسیحی آبادی کا تقریبا 35-40 فیصد ہیں ، برطانیہ میں 50 % ، امریکہ میں 46% , جرمنی 27% (لنک )

رومن کیتھولک اور صیہونیزم ایک دوسرے کی ضد ہیں:

اس وقت دنیا میں تقریبا دو بلین مسیحی ہیں، ان میں سب سے قدیم اور بڑا گروپ 1.2 بلین رومن کیتھولک ہے، جس کا مرکز ویٹیکن روم ہے اور پوپ ان کا مذہبی سربراہ ہے- 1904 ء میں، جدید صیہونیزم کے بانی تھیوڈور ہرزلنے پوپ سینٹ پایسس (10) کے ساتھ ملاقات کی- پوپ کے ساتھ ملاقات میں ان کا مقصد یہودیوں کی فلسطین میں ایک ریاست قائم کرنے پر مدد حاصل کرنا تھی-

جیسا کہ ہرزیل نے اپنی ڈائری میں ریکارڈ کیا، پوپ نے ایک غیر معمولی منفی جواب دیا، اور کہا:

‘ہم اس تحریک  (صیہونیزم ) کی حمایت نہیں کرسکتے. ہم یہودیوں کو  یروشلم جانے سے روک نہیں سکتے ہیں لیکن ہم کبھی بھی اس کی  اجازت نہیں دے سکتے- یروشلیم کی زمین، اگر یہ ہمیشہ مقدس نہیں تھی، تو یسوع مسیح کی زندگی کیوجہ سے اسے مقدس کیا گیا ہے.مسیحی  (کیتھولک) چرچ کے سربراہ کے طور پر، میں آپ کو اس کے علاوہ کوئی دوسرا جواب نہیں دے سکتا. یہودیوں نے ہمارے لارڈ کو تسلیم نہیں کیا ہے، لہذا ہم یہودیوں کو تسلیم نہیں کر سکتے ہیں. اور اگر اپنے لوگوں ساتھ فلسطین آتے ہیں وہاں رہنے کے لۓ، تو ہم آپ کو بپتسمہ دینے (مسیحی بنانے کے لیے) کے لئے گرجا گھروں اور پادریوں کے ساتھ تیار ہوں گے.”

کتھولک چرچ کے مطابق: …  “یہ جواب جدید مخالفین کے مطابق ” یهودیت مخالف” (anti-Semitism) کہی جا سکتی ہے جو صیہونیت کی تنقید پر انتہائی حساس ہیں تاہم، کیتھولک کی حیثیت سے، ہم ‘پوپ سینٹ’ کے الفاظ کے مذہبی اور اخلاقی اثرات پر گہرائی سے مثبت طور پر غور کرتے ہیں. جبکہ آج کل بہت سے  پروٹسٹنٹ گروپس اب صیہونیزم کی کھلم کھلا حمایتکر رہے رہے ہیں، کیتھولک مسیحیوں کوصیہونیزم میں  مسیحی ایمان کے لیے پوشیدہمنفی خطرات کی حقیقت کی پہچان سے خبردار رہنا  چاہیے”-

جدید اسرائیلی ریاست کی مختصر تاریخ میں زیادہ عرصہ تک  ویٹیکن نے اسرائیلی حکومت کے ساتھ نہ تو رسمی سفارتی تعلقات کو برقرار رکھا، اور نہ ہی اس کا وجود تسلیم کیا- لیکن 30 دسمبر، 1993 کو، ویٹیکن نے اس پالیسی کو تبدیل  کیا اور اسرائیل کو رسمی طور پر تسلیم کیا اور سفارتی تعلقات قائم کئے – یہ فیصلہ پوپ سینٹ پیسس ایکس نے جو 89 سال پہلے تھورور ہرزیل کو بتایا اس کے برعکس ہے- اس کے پیچھے وجوہات واضح نہیں ہیں-

چرچ، جو مسیح کی نمائندگی کرتا ہے، کیسے اس ریاست کے وجود کو رضاکارانہ طور پر تسلیم کرے جو اس بنیاد پر قائم ہے کہ کہ یہودی ‘منتخب کردہ لوگ’ ہیں جن کا اسرائیل کی سرزمین پر حق ہے، اس کے باوجود کہ وہ ارتداد کے مرتکب ہوے،  مسیح کو قبول کرنے میں انکاری ہیں؟ یسوع  مسیح اوران کی والدہ مریم  کی شان میں توہین اور گستاخی کرتے ہیں-

ویٹیکن کا یہ عمل ایک غلط خیال کو تسلیم کرنا ہے کہ یہودیوں کو مسیحت قبول کرنے کی اور یسوع کو مسیحا کے طور پر قبول کرنے کی ضرورت نہیں(یہ ایک نظریہ ہے جو کچھ اعلی درجے کی گرجا گھروں کے درمیان مقبول ہوتا ہے).

اس فیصلے کی ممکنہ وجوہ کے باوجود، ویٹیکن مسلسل فلسطینیوں (مسلمانوں اور عیسائی دونوں) کے خلاف اسرائیلی افواج کی پالیسیوں پر تنقید کرتا رہا ہے- یہ ایک بالکل مناسب انداز ہے، کیونکہ چرچ کو زمین پر مسیحیت کی آخری اخلاقی اتھارٹی کے طور پر،اپنے اخلاقی اعتبار کو برقرار رکھنا چاہیے. اگر ویٹیکن اسرائیل کے قائم رہنے کے حق کو  قبول کرنے کے لئے تیار ہے تو، اس کو لازمی طور پر اسرائیل کو اسی اخلاقی معیاروں پر رکھنا چاہیے جو کسی بھی  دوسرے مغربی ملک کے لیے رکھتا ہے-  [لنک ]

Zionist-Freemasonry Takeover

ایک اکتوبر 2015 کے ایڈریس میں پوپ فرانسس نے نہ صرف یہ اعلان کیا کہ ‘اسرائیل کی حفاظت اور سلامتی میں ہر ایک کا حق موجود ہے’ اور  صیہونیزم مخالف سامعیت کی ایک شکل ہے. ایسا کرنے میں،اس نے کیتھولک  کی یہودی ریاست مخالفت کی ایک طویل روایت کو ختم کر دیا-[صدیوں سے کیتھولکس پر فری میسن میں شمولیت ممنوع تھی ایئر اب بہ ہی … مگر کیا تلمودی فری میسن، ویٹیکن میں داخل ہو گۓ؟ (لنک …)]

یہودیوں کے مسیحیت اور یسوع مسیح کے متعلق نظریات – ( تلمود ) 

یہودی حاخامات کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے طورسینا پر موسی علیہ السلام پر دو شریعتیں نازل کی: (١) مکتوب شریعت (٢)زبانی شریعت- ( یعنی تورات کی تفسیر ). چنانچہ یہود کے اندر دہری شریعت کا آغاز ہوا اور 40 نسلوں تک یہ سری شریعت زبانی منتقل ہوتی رہی اور یہودی حاخامات زبانی و سری شریعت کی آڑ میں تورات کی من مانی تفسیر کرتے رہے۔ زبانی شریعت کے مکتوب نہ ہونے کی وجہ سے یہودی قوم متعین عقائد پر متفق نہیں تھی۔ ہر یہودی ربی کی اپنی تشریح و تفسیر ہوتی، جس پر اس کے خاندان اور متبعین یقین رکھتے تھے۔ تلمود یہودیوں کی ایک وحشتناک کتاب ہے، تلمود یہودیوں کی شرارتوں کا خزانہ ہے- یہودی ’’ خاخاموں‘‘ نے  توریت پر مختلف خود ساختہ شرحیں اور تفسیریں لکھیں ہیں۔ ان تمام شرحوں اور تفسیروں کو خاخام ’’ یوخاس‘‘ نے ۱۵۰۰ ء میں جمع بندی کر کے اس میں کچھ دوسری کتابوں کا جو ۲۳۰ ء اور ۵۰۰ ء میں لکھی گئی تھیں اضافہ کر دیا۔ اس مجموعہ کا ’’تلمود‘‘یعنی تعلیم دیانت و آداب یہود کے نام سے موسوم کیا گیا۔ یہ کتاب یہودیوں کے نزدیک بہت تقدس کی حامل ہے اور توریت و عہد عتیق کے مساوی حیثیت رکھتی ہے۔ ( بلکہ توریت سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہے جیسا کہ گرافٹ نے کہا: جان لو کہ خاخام کے اقوال پیغمبروں سے زیادہ بیش قیمت ہیں)۔

یہودیوں کی خود پرستی اور مسیحیت ، انسایت مخالف یہودی عقائد سے آشنائی کے لیے اس کتاب کےچند جملے نقل کئے جا رہے ہیں۔

  • یسوع مسیح کافر ہے اس لیے کہ دین سے مرتد اور بتوں کی پرستش میں مبتلا ہو گیا تھا ہر عیسائی جو یہودی مذہب نہ اختیار کرے دشمن خدا، بت پرست اور عدالت سے خارج ہے اور ہر انسان جو غیر یہودی کے ساتھ ذرا سی بھی مہربانی کرے عادل نہیں ہے۔
  • یسوع ناصری(حضرت عیسی علیہ السلام) کو جس نے پیغمبری کا دعوی کیا تھا اور نصرانی (عیسائی) اس کے دھوکے میں آگئے تھے اپنی ماں مریم کے ساتھ جس نے باندار نامی مرد سے زنا کے ذریعہ اس کو پیدا کیا تھا جہنم میں جلایا جائے گا (العیاذ باللہ) نصرانیوں کے کلیسا جس میں آدمیوں کے روپ میں کتے بھونکتے ہیں کوڑے خانے کے جیسے ہیں۔
  • عیسائیوں کو قتل کرنا ہمارے مذہبی واجبات میں سے ہے اور اگر یہودی ان کے ساتھ کوئی پیمان باندھیں تو اس کو وفا کرنا ضروری نہیں ہے، نصرانی مذہب کے روساء پر جو یہودیوں کے دشمنوں ہیں ہر روز تین مرتبہ لعنت کرنا ضروری ہے۔
  • یہودیوں پر لازم ہے کہ ہر روز تین مرتبہ عیسائیوں پر لعنت کریں اور ان کی نابودی کے لیے خدا سے دعا کریں۔
  • ہم پر لازم ہے کہ نصاریٰ کے ساتھ حیوانات جیسا سلوک روا رکھیں۔
  • نصرانیوں کے کلیسا گمراہیوں کا مسکن ہیں اور ان کو ڈھانا واجب و لازم ہے
  • ہم خدا کی منتخب کردہ قوم ہیں لہذا ہمارے لیے انسانوں کی شکل میں حیوانات خلق ہوئے ہیں اس لیے کہ خدا جانتا ہے کہ ہم کو دو طرح کے حیوانوں کی ضرورت ہے ایک بے زبان اور بے شعور حیوانات مثلا چوپائے اور دوسرے باشعور اور زبان رکھنے والے حیوانات مثلا عیسائی، مسلمان اور بودھ مذہب کے پیروکار، ان تمام حیوانات پر سواری کرنے کے لیے خداوند عالم نے ہم کو تمام دنیا میں متفرق کر دیا ہے تاکہ اپنی خوبصورت اور حسین و جمیل بیٹیوں کو غیر یہودی بادشاہوں اور سلاطین کو دیکر دنیا پر حکومت کر سکیں۔
  • اجنبی (غیر یہودی) کتوں کی طرح ہیں ان کے لیے کوئی عید نہیں ہے اس لیے کہ عید کتوں اور اجنبیوں کے لیے خلق ہی نہیں ہوئی ہے۔
  • کوئی پیغمبر مسیح کے نام سے مبعوث نہیں ہوا ہے اور جب تک اشرار (غیر یہودی) کا خاتمہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک مسیح ظہور نہیں کرے گا جب وہ آئے گا تو زمین سے روٹی کا خمیر اور ریشمی لباس اگیں گے یہ وہ موقع ہو گا جب یہودیوں کا تسلط اور بادشاہی ان کو واپس ملے گی اور تمام اقوام و ملل مسیح کی خدمت کریں گی اس وقت ہر یہودی کے پاس دو ہزار آٹھ سو غلام ہوں گے۔
  • عیسائی کو ہلاک کرنا ثواب ہے اور اگر کوئی اس کے قتل پر قادر نہ ہو تو کم از کم اسے اس کی ہلاکت کے اسباب ضرور فراہم کرنا چاہئیں۔
  • جو لوگ مرتد ہوں (یعنی جو یہودی آئین کی خلاف ورزی کریں) اجنبی ہیں اور ان کو پھانسی دینا لازم ہے سوائے اس کے کہ دوسروں کو دھوکہ دینے کے لیے مرتد ہوئے ہوں۔
  • بہشت یہودیوں سے مخصوص ہے اور ان کے علاوہ کوئی بھی اس میں داخل نہیں ہو سکتا لیکن عیسائیوں اور مسلمانوں کا ٹھکانہ جہنم ہے گریہ و زاری کے علاوہ ان لوگوں کے نصیب میں کچھ بھی نہیں ہے اس لیے کہ اس کی زمین بہت زیادہ تاریک اور بدبودار مٹی کی ہے۔
  • یہودیوں پر لازم ہے کہ دوسروں کی زمینوں کو خریدیں تاکہ کوئی اور کسی چیز کا مالک نہ ہو اور اقتصادی طور پر یہودی تمام غیروں پر مسلط ہو سکیں۔ اور اگر غیر یہودی پر غلبہ حاصل کر لے تو یہودیوں کو چاہیے کہ اپنے آپ پر گریہ کریں اور کہیں ہم پر ملامت ہو یہ کیا عار و ننگ ہے کہ ہم دوسروں کے ہاتھوں ذلیل ہو رہے ہیں۔
  • اس سے پہلے کہ یہودی اپنی عالمی حکومت اور بین الاقومی غلبے کو حاصل کر لیں ضروری ہے عالمی جنگ برپا ہو جائے اور دو تہائی انسان نابود ہو جائیں۔ سات سال کی مدت میں یہودی جنگی اسلحوں کو جلا ڈالیں گے اور بنی اسرائیل کے دشمنوں کے دانت بائیس بالشت (جو عام طور پر دانتوں کی مقدار سے ایک ہزار تین سو بیس گنا زیادہ ہے) ان کے منہ سے باہر نکل آئیں گے۔ جس وقت حقیقی مسیح دنیا میں قدم رکھے گا یہودیوں کی دولت اپنی ہو جائے گی کہ اس کے صندوقوں کی چابیاں تین سو گدھوں سے کم پر نہیں ڈھوئی جا سکیں گی۔
  • (ماخوذ از کتاب خطر الیہودیہ العالمیہ )

https://www.urduweb.org/mehfil/threads/66399/ ،  https://hshidayat.wordpress.com/2014/01/07/the-satanic-verses-of-the-jewish-talmud-and-zionism/

 تورات پر عمل کرنے والے اصل مذہبی یہودیوں کے مطابق :

“خالق نے ہزاروں سال پہلے ہم مقدس زمین دی. پھر، جب ہم گنہگار ٹھہرے، تو اس نے زمین کو واپسلے لیا اور ہمیں جلاوطنی میں بھیج دیا. اس وقت کے بعد سے ہمارا کام یہ ہے کہ مسیح کی آمد کا کا انتظار کریں،اس وقت تک جب تک خالق، اکیلا خالق،بغیر کسی انسان کے، بغیر ہاتھ سے  یا زبان سے لفظ کہے بغیر، ہم سب کو اکٹھا کر کہ ہمیں جلاوطنی سے نکل لے گا”- (تورہ یہودی)

بیت المقدس اور مسجد اقصی کی تاریخ:

یروشلم ، فلسطین کا شہر ہے جو تینوں مذہب اسلام ، مسیحیت اور یہودیوں کے لیے مقدس ہے- یروشلم‘ کنعان کے قدیم شہروں میں سب سے معروف شہر ہے۔ آج سے قریباً تین ہزار سال قبل حضرت داوٗد علیہ السلام نے اس شہر کو اپنی عظیم سلطنت’ اسرائیل‘ کا دارالحکومت بنایا۔ یہیں سے اس شہر کی عظمت اورمرکزی حیثیت کو ایک نیا مقام و مرتبہ حاصل ہوا۔  یہاں حضرت سلیمان کا تعمیر کردہ معبد ہے جو بنی اسرائیل کے نبیوں کا قبلہ تھا اور اسی شہر سے ان کی تاریخ وابستہ ہے۔ یہی شہر حضرت عیسٰی کی پیدائش کا مقام ہے اور یہی ان کی تبلیغ کا مرکز تھا۔ اسی شہر میں آپ ؑ نے اپنی دعوت و تبلیغ کا آغاز کیا اور مسیحی عقائد کے مطابق یہیں ان کو مصلوب کیا گیا۔ 

دین اسلام میں بھی اس شہر کی اہمیت مسلمہ ہے۔

قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالٰی نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:
” پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالٰی ہی خوب سننے والا اوردیکھنے والا ہے (سورہ الاسراء آیت نمبر 1) “
پیغمبر اعظم و آخرﷺنے تمام انبیاے کرام ؑ کی امامت بھی اسی شہرمیں فرمائی اور معراج کے سفر کا آغازبھی اسی مقام سے ہوا۔ احادیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں۔   مسلمان تبدیلی قبلہ سے قبل تک اسی کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے تھے۔ گویا یہ شہر بہ یک وقت دنیا کے تین اہم ترین ادیان کے لیے دینی مرکزکی حیثیت کا حامل ہے۔  پرھتے جائیں >>>>>

اسرایئل امریکہ کی حمایت سے یرشلم کو اپنا دارالحکومت بنانا چاہتا ہے، جس میں امریکی صیہونی مسیحی پیش پیش ہیں- وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ اس کی حقیقت جاننے کے لیے ضروری ہے کہ ہم کوامریکہ میں مسیحی بنیاد پرست لوگوں کے متعلق معلومات ہوں۔

صیہونی مسیحی Christian Zionists

کچھ عرصہ پہلے ایک سروے کے مطابق یہ معلوم ہواکہ یہ بنیاد پرست مسیحی جن کو صیہونی مسیحی Christian Zionists بھی کہا جا سکتا ہے، اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ:

“بائبل کے مطابق ان کی مذہبی ذمہ داری ہے کہ وہ  اسرائیل کی قوم کوسپورٹ کریں۔”

اس نظریے کو مسیحی صہونیت  Christian Zionism کہا جاتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق چار میں سے ایک امریکن کو “صیہونی مسیحی” کہا جاسکتا ہے جبکہ ییو ریسرچ سینٹر Pew Research Center کے مطابق سفید فام مسیحی مبلغین میں سے63 فیصد صیہونی نظریہ کے حامی ہیں۔ اس نظریے کے حمایت کرنے والے پرانے قسم کے مسیحی چرچ میں کم لوگ ہیں، جو تاریخی طور پر اقوام متحدہ کے اصولوں اور بنیادی نسانی حقوق، بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں فلسطینیوں کے ساتھ نرم رویہ رکھتے۔

صیہونی مسیحیت کی ابتدا انیسویں صدی میں ہوئی جب برطانوی کرسچن رہنما نے یہودیوں کے لیے فلسطین میں اکٹھا ہونے کو یسوع مسیح کی دوبارہ آمد کے لیے شرط قرار دیا۔ اس تحریک کو انیسویں صدی کے درمیان میں مزید تقویت ملی جب برطانیہ اور فرانس اور جرمنی کے نوآبادیاتی دلچسپیاں مشرق وسطی میں بڑھ گئی۔ مسیحی صہونیت در اصل “یہودی صہونیت” Jewish Zionism  سے 50 سال قبل شروع ہوئی۔ “یہودی صہونیت تحریک کے بانی Theodore Herzl’s کے پرجوش سپوٹر میں عیسائی علماء شامل تھے۔ لیکن تحریک س سے بھی بہت پہلے شروع ہو چکی تھی …..

صہونیت کے پروٹوکولز :

ایک وقت آئے گا جب ہم پوری دنیا پر قابض ہوجائیں گے۔ یہ تھوڑے سے عرصے میں نہیں ہوگا اس کے لیے شاید ایک دو صدی درکار ہو۔ ہم بے رحمی سے اپنے خلاف ہتھیار اُٹھانے والوں اور ہمارے اقتدار کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو قتل کریں گے۔ کسی بھی شے سے متعلق تمام اداروں بشمول خفیہ تنظیموں کو بھی موت کی نیند سلادیا جائے گا۔ موجودہ خفیہ تنظیمیں جنہوں نے ہماری بڑی خدمت کی ہے اور کررہی ہیں، ہم ان کو بھی ختم کردیں گے اور انہیں یورپ کے دوردراز علاقوں میں جلاوطن کردیں گے۔ فری میسن کے غیریہودی ممبران کے ساتھ بھی ہمارا یہی رویہ ہوگا کیونکہ یہ لوگ ہمارے بارے میں کافی معلومات رکھتے ہیں لیکن اگر مصلحتاً ہمیں ان سے صرف نظر کرنا پڑا تو بھی انہیں جلاوطنی کے خوف تلے رکھا جائے گا۔“ “

یہ اقتباس جس کتاب سے لیا گیا ہے اس کا مشہور نام ”پروٹوکولز“ ہے۔ ”Protocols“ دیکھنے میں تو وہ محض ایک عام سی کتاب لگتی ہے مگر یہ کئی اعتبار سے انوکھی ہے۔ ایک تو اس وجہ سے عام طورپر کسی کتاب کو ایک یا دو فرد لکھتے ہیں مگر اس کتاب کو یہودی داناؤں کی ایسی جماعت نے لکھا جو دنیا بھر سے منتخب کی گئی تھی۔ اپنے فن یعنی خفیہ منصوبہ بندی، فریب کاری، مکاری، سنگ دلی، بے رحمی اور اخلاقیات سے عاری پن میں اتنی نمایاں تھی اس کے ان ”اوصاف“ کو دوست دشمن سب مانتے ہیں۔ اس کتاب کو اس اعتبار سے بھی منفرد قرار دیا جائے گا اس میں دنیا کے لیے خیر کی کوئی بات نہیں ۔ اس میں جو کچھ تھا وہ بنی نوع انسان کے لیے شر ہی شر تھا۔ اس کے مصنفین نے اپنے لیے تو سب کچھ سوچ سمجھ کر ترتیب دیا لیکن غیر یہود کے لیے ان کم ظرفوں کے پاس سوائے بدخواہی کے کچھ نہ تھا۔ عام طورپر لکھی جانے والی کتابیں چھپنے کے لیے لکھی جاتی ہیں لیکن صہیونیوں کی پہلی اور آخری کوشش تھی یہ کسی بھی طرح منظرعام پر نہ آنے پائے۔ پھر سوال ہے یہ کتاب غیر یہود کے ہاتھ کیسے لگی؟ جس چیز کو سات پردوں میں چھپا کر رکھا گیا تھا وہ منظرعام پر کیسے آگئی؟ یہ داستان بڑی عجیب اور دلچسپ ہے۔ [لنک… ] ..

مشہور امریکی سرمایہ کار اور دانشور ”ہنری فورڈ“ نے 17 فروری 1921ء کو ”نیویارک ورلڈ“ میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہاتھا:”ان پروٹوکولز کے بارے میں صرف اتنا کہنا کافی سمجھتا ہوں دنیا کا منظرنامہ حرف بہ حرف ان پیش بندیوں کے مطابق ہے جو اس کتاب کے مصنفین نے ترتیب دی تھیں۔“ پروٹوکولز میں جو منصوبے اور سازشیں ترتیب دی گئی تھیں وہ حیرت انگیز طورپر پوری ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ [مزید تفصیل ، کتاب ڈونلوڈ انگلش اور اردو .. لنک ..]

‘مسیحی صہونیت’ جدید فکری اور سیاسی موومنٹ میں سب سے زیادہ شدت پسند ‘نظریاتی صہونیت’ ہے۔ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان کسی امن کے معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ ایسا بین الاقوامی نظریہ پیش کرتے ہیں جس میں مسیحی پیغام صرف نظریاتی بادشاہت، نوآبادیت. شدت اور جنگ پسندی کی شکل اختیار کر لیتے۔

صیہونی مسیحی Christian Zionists اپنے شدید نظریات میں ایسی پیشین گوئیاں کرنے پر یقین رکھتے ہیں جس میں انسانی تاریخ کا خاتمہ اور دنیا کی تباہی ہوگی، نہ کہ یسوع  مسیح کی تعلیمات جو کہ موجودہ زندگی میں  محبت انصاف پسندی کا درس دیتی ہیں۔

مسیحی صہونیت کو ماننے والے اسباب پر مکمل یقین رکھتے ہیں کہ 1948 میں اسرائیل کا وجود پذیر ہونا اور 1963 میں یورشلم پر قبضہ کرنا خدا کی طرف سے معجزاتی طور پر حضرت ابراہیم سے خدا کا کیا وعدہ پورا کرنے کے اقدام تھے تاکہ فلسطین میں ایک یہودی حکومت ہمیشہ کے لئے قائم ہوجائے۔ اس موضوع پر مختلف لوگوں کی طرف سے لکھی گئی کتابیں 100 ملین سے زیادہ فروخت ہوئیں، بچوں کی کتابیں، ویڈیوز اور کمپیوٹر گیمز ان  کے علاوہ ہیں۔

(ابراہم سے خدا کا وعدہ مشروط تھا ، خدا کی مکمل اطاعت سے، جس  کا ذکر نہیں کیا جاتا، یہ ان لوگوں کا دھوکہ اور جھوٹ ہے، تفصیل )

عیسائی صیہونیزم ہمیشہ ذہین، صحیح سوچنے والے عیسائیوں اور یہودیوں کی طرف سے مسترد کردیا گیا ہے- اس کی وجوہات کا مختصر جائزہ لینے کے ضروری ہے کہ خدا کے قدیم کلام (بائبل) سے معلوم کیا جائے کہ:

کیا زمین اسرائیل کو غیر مشروط معاہدے پرخدا نے عطا کی ، یا اسرائیل کے رب کی اطاعت، اس عہد کی شرط ہے؟

اس اہم سوال کو حل کرنے کے لئے خدا کے کلام (بائبل) کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے:

پیدائش 17:8-16

8 تُو جس کنعان کی طرف سفر کر رہا ہے وہ تجھے تیری ساری نسلوں کو ہمیشہ کے لئے دُوں گا۔ اور کہا کہ میں ہی تمہا را خدا ہوں۔” 9 اِس کے علا وہ خدا نے ابراہیم سے کہا ، “ہما رے معاہدے کے مُطا بق تُو اور تیری ساری نسل کو ہمارے تمام معاہدے کا شکر گذار ہو نا چاہئے۔ 10 تو اور تیری نسل اس معاہدے کا ضرور پالن کرے کہ ہر ایک مَرد کا ختنہ ضرور کیا جانا چاہئے۔ 11 تم اپنے چمڑے کو کاٹ ڈالو گے یہ دکھا نے کیلئے کہ تم معاہدہ کا پالن کر تے ہو۔ 12 آج کے بعد سے تمہا رے پاس پیدا ہو نے وا لے ہر نرینہ بچے کو پیدا ئش کے آٹھ دِن بعد ختنہ کر وانا ہو گا۔ یہ قاعدہ و قانون تمہا رے گھر میں پیدا ہو نے وا لے خادِموں کیلئے اور غیر ممالک سے خرید کر لا ئے گئے نوکروں کے لئے بھی لا زمی ہو گا۔ میرے اور تیرے درمیان ہو ئے معاہدہ کیلئے یہ بطور نشانی ہو گا۔ 13 اس طرح ہر ایک لڑکا کا ختنہ کیا جانا چاہئے۔ تمہا رے گھر میں پیدا ہو نے وا لے ہر ایک لڑکے یا پھر خریدے گئے ہر ایک لڑکے کے ساتھ یہی کیا جانا چاہئے۔ جو معاہدہ میں نے تیرے ساتھ کیا ہے ہمیشہ کیلئے رہیگا۔ 14 کو ئی بھی نرینہ اولا د جس کا ختنہ نہ کیا گیا ہو اسے اپنے لوگوں سے کاٹ دیا جا ئے گا۔ کیو نکہ اس طرح کی اولاد میرے معاہدہ کی نا فرمانی کر رہی ہے۔”

تبصرہ:  اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عہد مشروط تھا،عہد اور زمین کی حوالگی ختنہ کی بنیاد پر مشروط تھے، لیکن معاملہ صرف ختنہ تک محدود نہیں، جیسا کہ بائبل کے مزید احکام آگے آ رہے ہیں، ان میں موسی کو دیا گیا قانون ، انسانوں کے ساتھ انصاف اور بہتری کا سلوک بھی شامل ہیں-

خروج 19:5

5 اس لئے اب میں کہتا ہوں کہ تم لوگ اب میرا حکم مانو ، میرے معاہدہ کی تعمیل کرو۔ اگر تم میرا حکم مانوگے تو تم میرے خاص لوگ بنو گے۔ ساری دنیا میری ہے۔

تبصرہ: عہد اسرائیلیوں کی فرمانبردار پر مشروط ہے.

گنتی 14:30

30 تم لوگوں میں سے کو ئی بھی کبھی اُس ملک میں داخل نہیں ہوگا جسے میں نے تم کو دینے کا وعدہ کیا تھا۔ صرف یفنہ کا بیٹا کالب اور نون کا بیٹا یشوع اُس ملک میں دا خل ہوں گے۔

تبصرہ: اسرائیل کی نافرمانی کی وجہ سے، خدا نے باغیوں کی موت کی عمر تک تقریبا 40 سال تک زمین میں ان کی داخلی تاخیر میں تاخیر کی. اگر زمین کا قبضہ غیر مشروط تھا تو، اسرائیلیوں کو ان کی نافرمانی کے باوجود، فوری طور پر کنعان داخل کرنے کے قابل ہوسکتا تھا. اس سے بلا شک و شبہ ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیل کا زمین پر قبضہ غیر مشروط نہیں تھا.

استثناء 4:25,26

25 “جب تم اس ملک میں بہت عرصے تک رہ چکو اور تمہا ری اولاد اور پو تے ہوں تو اپنے کو تباہ نہ کرو۔ بُرا ئی نہ کرو کسی بھی شکل میں کو ئی مورتی نہ بنا ؤ۔ خدا یہ کہتا ہے کہ یہ بُرا ہے۔ اس سے وہ غصّہ میں آئے گا۔ 26 اگر تم اس بُرا ئی کو کرو گے تو میں زمین اور آسمان کو تمہا رے خلا ف گوا ہی کے لئے بُلا تا ہوں۔ تم بہت جلد ہی تباہ ہو جا ؤ گے۔ تم اس ملک کو لینے کے لئے دریا ئے یردن پا ر کر رہے ہو۔ لیکن تم وہاں لمبے عرصے تک نہیں رہو گے۔ تم پو ری طرح تباہ ہو جا ؤگے۔

تبصرہ: زمین کا قبضہ مشروط ہے، اور اگر لوگ نافرمانی کرتے ہیں اور مورت پرستی کرتے ہیں تو کھو جائیں گے.

استثنا 7:12,13

12 “اگر تم میرے ان اصولوں پر غور کرو گے اور ان کی تعمیل میں ہوشیار رہوگے تو خداوند تمہا را خدا تم سے محبت کے عہد کو پو را کرے گا اس نے یہ وعدہ تمہا رے آبا ء و اجداد سے کیا تھا۔ 13 وہ تم سے محبت کرے گا اور تمہیں برکت دیگا۔ تمہا ری قوموں میں لوگ برا بر بڑھتے جا ئیں گے۔ وہ تمہیں بچے ہو نے کے لئے برکتیں دیگا۔ وہ تمہا رے کھیتوں میں انا ج کے لئے برکت دے گا۔ وہ تمہیں اناج ، نئی مئے اور زیتون کا تیل دے گا۔ تمہا ری گا ئیوں کو بچھڑے اور تمہا رے مینڈھوں کو میمنے پیدا کرنے کی برکت دے گا۔ تم وہ سبھی برکتیں اس ملک میں پا ؤ گے جسے تمہیں دینے کا وعدہ خداوند نے تمہا رے آ با ؤ اجداد سے کیا تھا۔

تبصرہ: زمین کا قبضہ خدا کے فیصلوں کو سنبھالنے پر مشروط ہے. یہ منظوری، اور دوسرے عہدے داروں جیسے جیسے استثنا 11، ‘اگر’ سے بھرا ہوا ہے تو یہ معاہدہ غیر مشروط طور پرکیسے کہا جاسکتا ہے اگر یہ اسرائیلیوں کی فرمانبرداری پر مکمل طور پر منحصر ہے؟ اور کیوں خدا اپنے لوگوں کے ساتھ ایک عہد بناۓ گا جس میں اچھے رویے کے لئے کوئی حوصلہ افزائی نہیں ہے اور نافرمانی کے لئے پابندیاں نہیں ہیں؟

استثنا 11:16,17

16 لیکن ہو شیار رہو۔ اپنے آ پ کو لا لچ میں پھنسا کر دیوتا ؤں کی پرستش اورخد مت کرنے کے لئے انکی طرف مُڑ نے نہ دو۔ 17 اگر تم ایسا کرو گے تو خداوند تم پر غصّہ کریگا وہ آسمان کو بند کر دیگا اور بارش نہیں ہو گی زمین سے فصل نہیں اُ گے گی اور تم اس اچھے ملک میں جلد مر جا ؤ گے جسے خداوند تمہیں دے رہا ہے۔

استثنا 11:31,32

31 “تم دریا ئے یردن کو پا ر کر کے جا ؤ گے۔ تم اس ملک کو لوگے جسے خداوند تمہا را خدا تم کو دے رہا ہے۔ یہ ملک تمہا را ہو گا۔ جب تم اس ملک میں رہنے لگو تو ، 32 اُن سبھی احکام اور اُصولوں کی تعمیل ہوشیاری سے کرو جنہیں آج میں تمہیں دے رہا ہوں۔

تبصرہ : ذمہ داری ‘اور’ مشاہدہ ‘ایک پیکج کے معاہدے کے طور پر مل کر جانا – اگر یہ لوگ  زمین پر قبضہ کررہے ہیں، تو انہیں خدا کے قوانین کا مشاہدہ کرنا ہوگا. اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے تو انہیں زمین سے نکال دیا جائے گا.

دوم تو اریخ 7:20

20 تو میں بنی اسرائیلیوں کو اپنے ملک سے باہر کروں گا جسے میں نے انہیں دیا ہے۔ میں اس گھر کو اپنی نظروں سے دور کردونگا جسے میں نے اپنے نام کے لئے مقدس بنایا ہے۔ میں اس ہیکل کو ایسا بناؤنگا کہ تمام ملک اس کی برائی کریں گے۔

تبصرہ : زمین اسرائیلوں کی نہیں بلکہ خدا کی ہے

دوم سلاطین 21:8,92 (زمین موسی کے قوانین شریعت پر عمل سے مشروط)

یرمیاہ  7:3,6

3 خداوند قادرمطلق اسرائیل کا خدا یوں فرما تا ہے، ’ اپنی زندگی بد لو اور اچھے کام کرو گے تو تم اس مقام پر رہو گے۔ 4 اس جھوٹ پر یقین نہ کرو جو کچھ لوگ بولتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، “یہ خداوند کا گھر ہے۔  خداوند کی ہیکل ہے۔” 5 اگر تم اپنی زندگی بد لو گے اور اچھا کام کرو گے، تو میں تمہیں اس مقام پر رہنے دو ں گا۔ تمہیں چا ہئے کہ ایک دوسرے کے ساتھ انصاف سے رہو۔ 6 تمہیں اجنبیوں کے ساتھ بھی بہتر رہنا چا ہئے تمہیں بیوہ اور یتیم بچوں کے لئے اچھا کام کرنا چا ہئے۔ بے گناہ کا خون نہ بہا ؤ۔غیر خداؤں کی پیروی نہ کروکیوں؟ کیونکہ وہ تمہا ری زندگی کو نیست و نابود کر دیں گے۔ 7 اگر تم میرا حکم مانو گے تو میں تمہیں اس مقام پر رہنے دو ں گا۔میں نے یہ ملک تمہارے با پ دادا کو اپنے پاس رکھنے کیلئے دیا۔

تبصرہ : زمین کا وعدہ واضح طور پر یہود کی اخلاقی حالت میں ان کی سخت تبدیلیوں سے واضح طور پر مشروط ہے- فلسطنیوں پر مظالم، ان کا قتل عام، ان سے غیر انسانی سلوک ، ان کے گھروں سے بیدخلی، دیوار بنا کر قید کی شکل، انسانی حقوق کی خلاف درزی بائبل میں خدا کے احکام  (یرمیاہ  7:3,6) کی صریح خلاف درزی ہے ، بلکہ خدا سے بغاوت ہے-

ابراہیم کی نسل اور بیٹے کون ہیں؟

بلا شک یہودی ابراہیم کی اولاد اس کی نسل سے ہیں، مگر کیا ابراہیم کی اولاد، نسل صرف  یہودی ہی ہیں اور کوئی نہیں؟  بائبل میں کم از کم بارہ  (12) جگہ اسمعیل ( عرب قوم کے جد امجد ) ابراہیم اور ہاجرہ کے نسلی بیٹے  کا تذکرہ کیا گیا ہے-

ہا جرہ نے اَبرام کے بیٹے کو جنم دیا۔ اور اَبرام نے اُس بیٹے کا نام اِسمٰعیل رکھا۔ 16 اَبرام جب چھیا سی برس کے ہو ئے تو ہاجرہ سے اِسمٰعیل پیدا ہو ئے۔”( پیدائش 16:15)

( پیدائش 16:15, 17:23,17:25,17:26,25:9, استثنا 21:26)

( میں تیرے ساتھ ایک معاہدہ کروں گا۔ اور یہ معاہدہ تیری تمام نسلوں کے لئے ہو گا۔ پیدائش 17:7)

اگر خدا اسماعیل کو ابراہیم کا بیٹا اور نسل  کے طور پر تسلیم کرتا ہے اور حق دیتا ہے تو کسی اور کی کیا جرأت ہے کہ اس کے حق کا انکار کرے- خدا پہلوٹھی کے لڑکے کا حق تسلیم کرتا ہے:

جب وہ اپنی جائیداد اپنے بچوں میں تقسیم کرے تو زیادہ چہیتی بیوی کے بچے کو وہ خاص چیزیں نہیں دے سکتا جو پہلو ٹھے بچے کی ہو تی ہیں۔”(استثنا 21:16)

میں تمہیں بہت ساری نسلیں دوں گا۔ پوری قوم اور تمام بادشاہ تم ہی میں سے آئینگے- میں تیرے ساتھ ایک معاہدہ کروں گا۔ اور یہ معاہدہ تیری تمام نسلوں کے لئے ہو گا۔” (پیدائش7, 17:6)

تبصرہ :

اسماعیل (عرب) اور اسحاق کے بچے  (یہودی) امن اور ہم آہنگی سے مقدس زمین میں مل جل کر امن و محبت سے کیوں نہیں رہ سکتے، تاکہ وہ  وعدے کی زمین میں خدا کے برکتوں سے لطف اندوز ہوں ؟

بائبل کی پیشن گوئیووں کی اصل اور سچائی کا ٹیسٹ:

خدا نے تورات میں ایک امتحان رکھا ہے, اس ٹیسٹ سے  کوئی شخص اس بات کا یقین کرسکتا ہے کہ کیا  کوئی ایک پیشن گوئی جو خدا سے  منسوب ہے اصل میں خدا کا  کلام یا نہیں:

تم سوچ سکتے ہو ، ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ نبی جو کہتا ہے وہ خداوند کی بات نہیں ہے۔ اگر کوئی نبی کہتا ہے کہ وہ خداوند کی جانب سے کچھ کہہ رہا ہے لیکن وہ جو کہتا ہے سچ نہیں ہو تا تو تمہیں سمجھ لینا چا ہئے کہ یہ خداوند کی بات نہیں ہے بلکہ یہ اسکی اپنی سوچی ہو ئی بات ہے۔ تمہیں اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔(استثناء 18:21,22)

آیے اس زمین کی پیشن گوئی (پیدائش 17:8)کی حقیقت کو تورات کے  طریقه سے ٹیسٹ کرتے ہیں:

تورہ کے مطابق ابراہیم اور اسکے بیٹوں اسحاق اور اسماعیل نے اسےغار میں دفن کیا جو اس علاقےتھا جو ابراہیم نے ‘ہرب’ کے بیٹوں سے خریدا تھا اس نے ابراہیم اور اس کی بیوی سارہ  کو دفن کیا:

اُس کے بیٹے اِسحاق اور اسمٰعیل نے ممرے کے نزدیک مکفیلہ کے غار میں اُس کی قبر بنائی۔ یہ غار حتی صحر کے بیٹے عِفرون کے کھیت میں ہے۔ ابراہیم کی حتیوں سے خریدی ہو ئی اِس جگہ ہی میں ابراہیم کو اور اُس کی بیوی سارہ کے پاس دفن کر دیا گیا۔” (پیدائش 25:9,10)

اب بائبل سے ہی  مزید معلوم  ہوتا ہےکہ خداکا ابراہیم اور بزرگوں سے وعدہ ایفا نہ ہو سکا ، نامکمل رہا:

یہ تمام لوگ ایمان کی حالت میں مرگئے اور وعدہ کی ہو ئی چیزوں کو نہ پا ئے لیکن دور سے انہیں دیکھ کر خوش ہو کر اقرار کئے کہ وہ زمین پر ایک مسافر ہیں۔” (عبرانیوں 11:13)

اس سے زیادہ مکمل واضح بیان مقدس بائبل کے ہو سکتا ہے؟

خدا نے ابراہیم سے کہا، “تم اپنے ملک اور لوگوں کو چھوڑو اور ایسے ملک کو چلے جاؤ جو میں تمہیں بتاؤنگا.  اس لئے ابراہیم نے کلدیہ کو چھوڑا اور حاران میں جا بسا اور وہاں اسکے باپ کے مرنے کے بعد خدا نے اسکو اس ملک میں لا کر بسا دیا جہاں اب تم رہتے ہو۔  لیکن خدا نے اسکو یہاں کی زمین کی کوئی میراث نہیں دی حتٰی کہ قدم رکھنے کو بھی زمین نہیں دی لیکن خدا نے ابراہیم سے وعدہ کیا کہ آئندہ اسکو اور اسکے بچوں کو یہ زمین دیگا۔ اس وقت ابراہیم کے کوئی اولاد نہیں تھی۔(رسولوں 7:3,4,5)

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا برتر عظیم کبھی ایسے وعدے نہیں کر سکتا- خدا کہتا ہے کہ جب وہ وعدہ کرتا ہے تو اس کو پورا بھی کرتا ہے:

تم سوچ سکتے ہو ، ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ نبی جو کہتا ہے وہ خداوند کی بات نہیں ہے۔ اگر کوئی نبی کہتا ہے کہ وہ خداوند کی جانب سے کچھ کہہ رہا ہے لیکن وہ جو کہتا ہے سچ نہیں ہو تا تو تمہیں سمجھ لینا چا ہئے کہ یہ خداوند کی بات نہیں ہے بلکہ یہ اسکی اپنی سوچی ہو ئی بات ہے۔ تمہیں اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔(استثناء 18:21,22)

اس سے یہ نتیجہ نکتہ ہے کہ یہودیوں کا فلسطین کی زمین کی ملکیت کا خدائی وعدہ (پیدائش 17: 8 )  کا دعوی موسی علیہ السلام کی  آخری وصیت اور عہد نامہ میں درج کردہ ٹیسٹ سے باطل قرار ٹھرتا ہے-

متّی 21:43

43 “اسی وجہ سے میں تم سے جو کہتا ہوں وہ یہ کہ خدا کی بادشاہت تم سے چھین لی جائیگی اس خدا کی بادشاہت کو خدا کی مرضی کے مطابق کام کر نے والوں کو دی جائیگی۔ 44 جو شخص اس پتھّر پر گریگا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیگا۔ اور اگر پتھّر اس شخص پر گریگا تو یہ اس شخص کو کچل ڈالیگا۔”

متّی 23:38 دیکھو! تمہارا گھر پوری طرح خالی ہو جائیگا۔

تبصرہ :  مسیح کے ان الفاظ سے فریسیوں کے بارے میں بات کرنے کے صرف ایک نسل کے بعد ، رومیوں نے 70عیسوی میں یروشلم اور اس کے باشندوں کو تباہ کر دیا، جیسا کہ مسیح نے پیش گوئی کی- (متی23:35,36  لوقا44 ,19:41,43)

تیوٹس اور شهنشاہ ہریریان نے 70 سال بعد بچے کھچے یہودیوں کو فلسطین سے نکال دیا تھا. یہوداہ کے ‘بادشاہی’ اور ‘گھر’ جس میں شامل زمین کی گزارش شامل تھی، ان سے لےلیا گیا  کیونکہ انہوں نے موسی کا قانون مسترد کر دیا، خاص طور پراستثنا 18: 15-19، جس نے انہیں حکم دیا گیا تھا کہ جب مسیح آئے تو اس کو قبول کریں مگر اس کو قبول کرنے کی بجائے، انہوں نے اسے سولی چڑھا نے  کو کیا. بادشاہت جس کو یہودیوں کی طرف سے مسترد کر دیا گیا ان اہل ایمان یہودیوں اور غیریہودی عیسائیوں کو دی گی- اب ان کے ساتھ زمین کا وعدہ اب آسمانی طور پر فطرت میں ہے، نہ کہ  زمینی- (گلتیوں 4:25,26, عبرانیوں11:13,16).

آخری نبی اور رسول کی بائبل میں پشین گوئی :

ابراہیم کے بڑے بیٹے اسمعیل کی نسل (عرب) سے آخرری نبی اور رسول حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی نبوت اور  ‘قرآن’  کی پیشنگوئی کا ذکر بائبل میں موجود ہے، مختصر طور پر کچھ ریفرنس درج ذیل ہیں تفصیلات کے لیے لنک آخر میں موجود ہیں –

“میں تمہا ری طرح ایک نبی اُن کے لئے بھیج دوں گا وہ نبی انہی لوگوں میں سے کو ئی ایک ہو گا۔ میں اسے وہ سب بتا ؤں گا جو اسے کہنا ہو گا اور وہ لوگوں سے وہی کہے گا جو میرا حکم ہو گا۔  یہ نبی میرے نام پر بولے گا اور جب وہ کچھ کہے گا تب اگر کو ئی شخص میرے احکام کو سننے سے انکار کرے گا تو میں اس شخص کو سزا دو ں گا۔” (استثنا18:18,19)

جب کتاب اس کو دی گئی جوکہ ان پڑھ ہے اور کہا کہ اس کو پڑھو میں تمھارے لیے دُعا کرونگا تو اس نے کہا کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں۔ (بائبل ، یسعیاہ کی کتاب ، سورة 29 آیت 12)

وہ بہت میٹھا ہے،ہاں: وہ بہت پیارا ہے۔ یہ میرا محبوب ہے اور یہ میرا دوست ہے،اے یروشلم کے بیٹیوں [بائبل ، سلیمان کے گیت (songs of solomon) ، سورة 5، آیت 16]

یوحنا کی کتاب سورة 14 آیت 16:

اور میں خُدا سے دُعا کروں گا اور وہ تمھیں ایک مددگار دے گا جو تمھارے ساتھ،ہمیشہ رہے گا۔

یوحنا (John) کی کتاب سورة 15 آیت 26

میں تمھارے پاس مددگار بھیجوں گا جو میرے باپ کی طرف سے ہوگا وہ مددگار سچائی کی روح ہے جو باپ کی طرف سے آتی ہے جب وہ آئے گا تو میرے بارے میں گواہی دے گا۔

یوحَنّا کی کتاب سورة 16 آیت 7

میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمھارے لیے بہتر ہے کیوں کہ اگر میں جاتا ہوں تو تمھارے لیے مددگار بھیجوں گا۔اگر میں  نہ جائوں تو تمھارے پاس مددگار نہ آئے گا۔

‘احمد’ یا ‘محمد’ کا مطلب ہے وہ شخص جس کی تعریف کی جاتی ہےیا وہ جس کی تعریف کی گئی ہو۔یہ تقریباً یونانی لفظ پے ری کلایٹس (Periclytos) کے معنی ہے۔یوحَنّا کی کتاب کے سورة 16آیت 16، سورة 51 آیت 26 اور سورة 16 آیت 7 میں یونانی لفظپے ری کلیٹاس(Peraclytos) کا انگریزی میں ترجمہ (comforter)کم فرٹر یعنی مددگار لفظ سے کیا گیا ہے۔حالانکہ (Peraclytos) کے معنی ہے وکیل یا ایک مہربان دوست۔اسکا مطلب مددگارنہیں ہے۔جو انگریزی ترجمہ میں استعمال کیا گیا ہے۔ (Paracletos)پے ری کلیٹاس لفظ (Pariclytos) پے ری کلایٹس کی ٹیٹری شکل ہے۔عیسی نے درحقیقت احمد کا نام لے کر پیش گوئی کی۔نیز یونانی لفظ پے راکلیٹ (Paraclete) محمدۖ کی طرف اشارہ کرتی ہے جو سارے جہان کے لیے رحمت ہے۔
بعض مسیحی یہ کہتے ہیں کہ لفظ مددگار (Comforter) جس کا ذکر ان پیش گوئیوں میں کیاگیا ہے،یہ روح القدس (Holy spirit) کی طرف اشارہ کرتی ہے۔لیکن یہ اس بات کو سمجھنے میں ناکام ہوگئے ہے کیونکہ پیش گوئی میں یہ صاف ذکر ہے کہ جب یسوع اس دنیا سے چلا جائے گا تب مددگار(Comforter)آئے گا۔حالانکہ بائبل(Bible)یہ بتاتی ہے کہ روح القدس تو پہلے سے زمین پر موجود تھا عیسی کے زمانے میں بھی اور اس سے پہلے بھی۔وہ الیشبع (Elizabeth) کے رحم میں موجود تھا اور دوبارہ جب یسو کی بپتسمہ یا اصطباغ (Baptism) کی جارہی تھی،وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح یہ پیش گوئی صرف اور صرف محمد کے بارے میں ہے اور صرف اسی کا ذکر کرتی ہے۔

یوحنا کی انجیل سورة 16 آیات 14-12

مجھے تم سے بہت کچھ کہنا ہے مگر ان سب باتوں کو تم برداشت نہ کرسکوگے۔ لیکن جب روحِ حق آئے گا تو تم کو سچائی کی راہ دکھائے گا۔روحِ حق اپنی طرف سے کچھ نہ کہے گا بلکہ وہی کہے گا جو وہ سنتا ہے وہ تمھیں وہی کہے گا جو کچھ ہونے والا ہے اور وہ میری (یعنی یسوع ﷲ) کی بڑائی بیان کرے گا۔

بہت سے یہودیوں اور مسیحیوں  نے ان کو پہچان کر اسلام قبول کیا مگر بہت نے انکار کر دیا- اس طرح وہ خدا کے نافرمان ٹھرے اور عذاب کے مستحق- فلسطین کے مسلمانوں میں ایسے یہودی جنہوں نے اسلام قبول کیا شامل ہیں- مزید تفصیلات >>>

 یسوع مسیح نے فرمایا : “اسی وجہ سے میں تم سے جو کہتا ہوں وہ یہ کہ خدا کی بادشاہت تم سے چھین لی جائیگی اس خدا کی بادشاہت کو خدا کی مرضی کے مطابق کام کر نے والوں کو دی جائیگی۔ “[متّی 21:43 ]

مسلمانوں نے خدا کے احکام پر عمل کیا تو بادشاہت ان کو مل گئ ، پھر جب انہوں نے نافرمانی کا راستہ اختیار کیا تو وہ بھی عذاب اور ذلت کا شکار بن گئے- اسرایئل کا وجود مسلمانوں پر اللہ کے عذاب کی ایک شکل ہے- جب مسلمان اپنا رویہ بدلیں گے تو اس عذاب سے چھٹکارہ پا لیں گے-

مزید ریفرنس:

بائبل کے مطابق خدا کا ابراہم سے زمین کا عہد  غیر مشروط نہیں . خدا کے احکام اور موسی کے قوانین پر عمل سے مشروط ہے-

Ezra 9:12, 14، 1 Kings 9:6-9، 2 Chronicles 7:19-22, Nehemia 1:8-9: Joshua 23:15-16،  Jeremiah 9:13-16، Jeremiah 44:22، Lamentations 1:10، Ezekiel 33:24-26:

جمعیت شناسی, Demography

اسرایئل  کی 8.5 ملین آبادی میں اس وقت تقریبا 74% یہودی رہتے ہیں ، ان میں سے 63% سیکولر ہیں ،   80% خدا کو مانتے ہیں اور 20% ملحد ہیں، خدا کے انکاری- صرف 11.7%  حردی یہودی (Haredi) تورہ کے احکام کو مانتے اور عمل کرتے ہیں جو صیہونیت کے مخالف ہیں کیونکہ اسرایئل کا قیام تورات کے خلاف ہے- اسرایئل میں 31% یہودی یورپ سے ہجرت کرکہ اسرائیل آباد ہوۓ  ہیں ان میں اکثریت روسی اور مشرقی یورپ کے  یہودیوں  کی ہے، جن کا نسلی طور پر ابراہیم یا اسرایئل کی نسل سے کوئی تعلق نہیں-

خازآریہ کی عجیب سلطنت، کیسپین سمندر کے علاقه میں ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی میں موجود تھی- یہ سخت جنگجو ترک نسل کے سینٹرل ایشیا کے لوگ تھے – پھر اچانک  آٹھویں اور نوویں صدی میں حکمران اشرفیہ نے یہودی مذھب اختیار کر لیا- کچھ مورخین کا خیال ہے کہ یہ مذھب کی تبدیلی انہوں نے رومن یا اسلامی سلطنتوں کی چقپلش سے بچنے لئے اختیار کی- خازآریہ کی سلطنت کے اختتام پر بہت سے خازار یہودی یورپ کو ہجرت کر گئے- ان “خازاروں” کی نسل سے مرکزی اور مشرقی  یورپ کے “اشکنزائی یہودیوں” کہلاۓ- [عبرانی بائبل کے مطابق اشکنزائی نوح کی نسل سے ہیں (پیدائش 10:3,اوّل تواریخ1:6)] جنہوں نے “صیہونیت”  کا افسانہ گھڑا تاکہ فلسطین کو نو آبادی بنایا جا سکے اور خازآریہ” کی طرح کی سلطنت قائم کی جا سکے- ان کا فلسطین کی سرزمین سے کوئی تعلق نہیں مگر وہ یہاں کی حکمران اشرفیہ کا ستون  ہیں-

اس طرح یہ دعوی کہ بائبل میں (پیدائش17:8) ارض فلسطین ابراہیم کی نسل کودی گئ,  ان غیر نسلی یہودیوں (converted Jews) پر اور  63% سیکولر یہودیوں پر لاگو کیسے ہو سکتا ہے؟  جبکہ جو 11.7%  حردی یہودی (Orthodox/Haredi) تورہ کے احکام کو مانتے اور عمل کرتے ہیں وہ صیہونیت کو تورہ کی تعلیمات اور خدا کے احکامات کے مخالف سمجھتے ہیں-

ثابت  ہوا کہ اسرایئل کے وجود کا بائبل کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں- یہ فلسطین کو نو آبادی بنانے اور سپر پاور کی طاقت اور سٹریٹجک گیم پلان کا ایک حصہ ہے- اس سے مشرق وسطی کے معدنی ذخائر و دولت اور تجارتی راہداریوں پر کنٹرول، جنگ و جدل سے اسلحہ کو فروخت اورفلسطینی و مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم کے مکروہ پلان ہیں-

نتیجہ :

  1. چونکہ زمین کا وعدہ ، خدا کی اطاعت اور ان کی فرمانبرداری پر مشروط تھی، اوریہودی  خدا کی اطاعت کرنے یا خدا کے ساتھ عہد قائم کرنے میں ناکام رہے، لہذا مسیحیوں پر یہ ہرگز فرض نہیں کہ وہ اسرئیلیوں کو فلسطینیوں کو فلسطین سے بے دخل کرنے کے لئے مدد کریں- عربوں کی زمین جس پر اسرائیلی  قابض ہیں ان کو واپس کرنے سے روک تھام کی ضرورت نہیں- ان کی زمین ان کو واپس کرنا انصاف ہے-
  2. عیسائی صیہونیزم، بائبل کی  سچائی کومسترد کرتا ہے، کیونکہ بائبل متعدد مرتبہ اسرائیل کے ساتھ زمین کے متعلق خدا کے عہد کو خدا کی اطاعت اور موسی کے قوانین پر عمل درآمد سے مشروط کرتی ہے- عیسائی صیہونیت اس وجہ سے شدید مذہبی غلطی پر ہے جو  عیسائیت کے لئے باعث شرمندگی اور ندامت ہے.
  3.  یہوداہ کے ‘بادشاہی’ اور ‘گھر’ جس میں شامل زمین کی گزارش شامل تھی، یہودیوں سے لےلیا گیا  کیونکہ انہوں نے موسی کا قانون مسترد کر دیا، خاص طور پراستثنا 18: 15-19، جس نے انہیں حکم دیا گیا تھا کہ جب مسیح آئے تو اس کو قبول کریں مگر اس کو قبول کرنے کی بجائے، انہوں نے اسے سولی چڑھا نے  کو کیا. بادشاہت جس کو یہودیوں کی طرف سے مسترد کر دیا گیا ان اہل ایمان یہودیوں اور غیریہودی عیسائیوں کو پھر اسمعیل کی نسل (عرب مسلم ) کو دی گی- اب ان کے ساتھ زمین کا وعدہ اب آسمانی طور پر فطرت میں ہے، نہ کہ  زمینی- 
  4. بائبل کی پیشینگویوں کے مطابق آخری نبی اور رسول بنی اسمعیل سے آ چکا ، اب ابراہیم کے بچوں اور تمام ماننے والوں اور انسانیت کو خدا کے آخری رسول اور آخری کتاب کے مطابق ہدایت حاصل کرنا چاہیے اور امن سے مل جل کر رہیں-
  5. اسرایئل  کے ساتھ ساتھ اسمعیل کی نسل (عرب، فلسطینی ) بھی ابراہیم کی نسل ہے، پہلوٹھی کے بیٹے کا حق بائبل میں خدا نے رکھا ہے، دونوں کو مل جل کر امن سے رہنا چاہیے-
  6. موجودہ  اسرایئل کی ڈیموگرافی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں اکثریت سیکولر یہودی ہیں اور وہ جن کا نسلی طور پر ابراہیم یا ان کے بیٹے اسحاق، پوتے اسرایئل کے ساتھ کوئی نسلی تعلق نہیں- یہودیت ایک نسل پرست مذھب ہے – خدا کا وعدہ خدا کے احکام موسی کی قانون ، تورہ پر عمل سے مشروط ہے ، ثابت  ہوا کہ اسرایئل کے وجود کا بائبل کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں- یہ فلسطین کو نو آبادی بنانے اور سپر پاور کی طاقت اور سٹریٹجک گیم پلان کا ایک حصہ ہے- اس سے مشرق وسطی کے معدنی ذخائر و دولت اور تجارتی راہداریوں پر کنٹرول، جنگ و جدل سے اسلحہ کو فروخت اور فلسطینیوں پر انسانیت سوز مظالم کے مکروہ پلان ہیں-
  7. فلسطین میں بہت سے عربی بولنے والے قدم اسرائیلی نسل سے ہیں، جو پہلے مسیحی پھر مسلم ہو گیے-
  8. خدا کا “زمین کا وعدہ” بائبل  میں دییے گیے ٹیسٹ سے سے غلط ثابت ہوتا-
  9. عیسائی صیہونیوں فلسطینیوں اور مشرق وسطی کے آبادی کے دوسرے لوگوں کی طرف نسل پرستی کا پرچار اور اس پر عمل کرتے ہیں- وہ سکھاتے ہیں کہ اسرائیلی باشندوں کے لئے عربوں سے زمین چوری کرنے کا حق ہے اور یہ عیسائوں کا یہ فرض ہے کہ ان کو چوری کرنے میں مدد ملے- یہ یسوع  مسیح کی تعلیمات اور بائبل کے خلاف ہے-
  10. وہ اسرائیلیوں فلسطنیوں کے لئے تمام امن منصوبوں کی مخالفت کرتے ہیں، کیونکہ ان کے  خونریز”دن کے اختتام” کی ضرورت یہ ہے کہ دنیا میں تمام یہودیوں میں سے دو تہائی یہودی آرمیجڈنن Armageddon  کی حتمی جنگ میں قتل کر دئیےجائیں.

ان وجوہات کے لئے، عیسائی صیہونیزم ہمیشہ ذہین، صحیح سوچنے والے عیسائیوں اور یہودیوں کی طرف سے مسترد کردیئے گئے ہیں.

……………………………………………………………………………………………….

بنیاد پرست مسیحی اور صہونیت

بنیاد پرست مسیحی یہودیوں کی مختلف تنظیموں کا کپیٹل ہل Capitol Hill بہت اثر ہے ان کا دعویٰ ہے کہ ان کو 50 ملین سے زیادہ ایمان رکھنے والے مسیحیوں کی مدد حاصل ہے۔ امریکی صدر رونالڈ ریگن اور ریپبلکن ان سے متاثر رہے- اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس وقت مسیحی صہونیت پسند یہودی صیہونیوں سے پانچ گنا زیادہ ہیں۔ ان کے یورپ میں مددگار اسرائیل کے لیے لابی کرنے میں مصروف عمل ہیں اور امن کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بھی۔ ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل جڑواں بھائیوں کی طرح ہیں جن کا دل اکٹھے دھڑکتا ہے اور وہ مشترکہ تاریخی مذہبی اور سیاسی اقدار کو شئیر کرتے ہیں۔

Pastor John Hagee مسیحی صیہونی  موومنٹ کا ایک لیڈر ہے 19000 افراد کی چرچ کا لیڈر ہے۔اس کا ہفتہ وار ٹی  وی  پروگرام دنیا میں 160 ٹی وی سٹیشن 50 ریڈیو اسٹیشن 8 نیٹ ورک کے ذریعے 99 ملین گھروں میں 200 ملکوں میں دیکھا جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ 25 سال سے میں صہونیت کا پرچار کر رہا ہوں، بائبل اسرائیل کی حمایت میں ہے۔ اگر کوئی کرسچئین یہ کہے کہ: “میں بائبل پرایمان رکھتا ہوں”، تو میں اس کواسرایئل کی حمایت میں کھڑا کر دوں گا ورنہ وہ اپنےایمان سے ہاتھ دھو ڈالیں۔ لہذا  آپ کہہ سکتے ہیں کہ “میرے پاس عیسائی ایک بیرل میں ہیں”

مسیحی صہیونی بنیادی نظریات

مسیحی صہیونی 6 بنیادی سیاسی باتوں پر یقین رکھتے ہیں جو ان کی فائقة الحرفية (لفظ بلفظ) بنیاد پرست الہیات   ultra-literal and fundamentalist theology سے ماخوذ ہیں۔

  1. یہ ایمان کہ یہودی خدا کے خاص قوم ہیں اس لیے مسیحی صہونی  اسرائیل کی مدد کریں۔ اس کے نتیجے میں وہ اسرئیل کی متعصبانہ، نسل پرست پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں جن میں سیاستدان بھی شامل ہو جاتے ہیں۔
  2. خدا کے منتخب قوم کی حیثیت سے یہودیوں کی اسرائیل میں آبادکاری ان کو امداد مہیا کرنا یہودی تنظیموں کے ساتھ مل کر مدد کرنا شامل ہوتا ہے۔
  3. جیسا کہ مقدس کتاب میں بیان ہے دریائے نیل سے فرات تک علاقہ مکمل طور پر یہودیوں کے لیے مخصوص ہے اس لیے زمین کو شامل کرنا فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال دینا غیر قانونی یہودی بستیاں آباد کرنا بلکل جائز ہے۔
  4. یروشلم کو مسیحی صیہونی [Zioinist Christians] مکمل طور پر یہودیوں کا مرکز سمجھتے ہیں جس کو فلسطینیوں سے شیر نہیں کیا جاسکتا۔ اس طرح سے مسیحی صہیونیوں نے امریکی حکومت کو پرشر ڈالا کہ وہ امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرے تاکہ اسےباضابطہ طور پر  اسرائیل کا کیپٹل مان لیا جائے۔
  5.  مسیحی صیہونی، یہودیوں کی مختلف تنظیموں کو مدد فراہم کرتے ہیں جیسے”یہودی ٹیمپل ماونٹ کے ایماندار” جو گنبد صخرہ کو تباہ کرکے وہاں حرم شریف پر یہودیوں کا ٹیمپل ماونٹ تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔
  6. مسیحی صیہونی [Zioinist Christians]  مستقبل کے متعلق بہت منفی سوچ رکھتے ہیں، ان کو یقین ہے کہ بہت جلد  دنیا میں تباہی کی جنگ ہوگی۔ ان کو یہودیوں اور فلسطینیوں کے درمیان امن ممکن نہیں لگتا اس لیے وہ امن کی کوششوں کے خلاف ہیں۔ اس طرح سے وہ “امن کے لیے زمین” Land for peace کے خلاف ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ خدا کے اسرائیل کے ساتھ وعدے کے خلاف ہے اس لیے دشمنوں کی مرد کے برابر ہے۔

مسیحی زائنسٹ، ورلڈ ویوworldview

مسیحی زائنسٹ، ورلڈ ویوworldview کے مطابق وہ فلسطینیوں کواسرایئل میں اجنبی  alien residents in Israel سمجھتے ہیں۔ زائنسٹ مسیحی یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے کہ فلسطینی ایک علیحدہ قوم کی حیثیت سے وجود رکھتے ہیں کہتے ہیں کہ: “فلسطینی ہمسایہ عرب اقوام سے معاشی وجوہات کی وجہ سے اسرائیل ہجرت کر کے آئے ہیں تاکہ انکے معاشی حالات بہتر ہوجائیں”۔

اسلام کا خوف اور گہری نفرت بھی ان کے دوہری مصلحت مذہبیات کو ختم کرتی ہے جو کہ مانوی مذھب سے متاثر ہے- (مانوی مذہب کی بنیاد شر اور خیر اور نور و ظلمت کے ابدی تضاد پر ہے۔ ظلمت و شر کو وہ ایک قسم کا ارادہ اور تصور قرار دیتا ہے۔) عرب عیسائیوں کے ابتدائی چرچ کے ساتھ مسلسل ربط کے باوجود، عیسائی صیہونیسٹوں نے عرب عیسائیوں کے وجود میں بہت کم یا کوئی دلچسپی نہیں لی ہے.

یورشلم ڈیکلریشن:

مسیحی صیہونیت پراعلان 2006 میں کیا گیا،جو “یورشلم ڈکلریشن” کہلاتا ہے- یروشلم کے چار بڑے مسیحی چرچوں کے سربراہان  نے اعلان کیا کہ: 

  1. ہم مکمل طور پر مسیحی صیہونیت کے نظریے کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ  جھوٹی تعلیمات پر مبنی نظریہ ہے جو کہ بائیبل کے اصلی پیغام محبت، انصاف اور مصالحت کو خراب کرتا ہے۔ 
  2. ہم اس کے علاوہ ‘عیسائی صیہونیوں’  کے رہنماؤں اور تنظیموں کے اسرائیل اور امریکہ کی حکومتوں کے عناصرسے عصری  معاہدوں اور  تعلقات کو مسترد کرتے ہیں جس سے وہ یکطرفہ طور پر سرحد نافذ کرکہ فلسطین پر غلبہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح سے ایک کبھی نہ ختم ہونے والا تشدد شروع ہو جائے گا جو مشرق وسطی میں تمام لوگوں اور تمام دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہوگا۔
  3. ہم عیسائی صیہونیت  کی ان تعلیمات کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ وہ ان پالیسیوں سے نسل پرستی اور دائمی جنگ کو آگے بڑھانے میں سہولت اور معاونت کرتے ہیں- جو کہ  یسوع مسیح کی طرف سے عالمگیر محبت، استحکام اور مفاہمت کی خوشخبری کی تعلیمات کی مخالفت ہے – دنیا کو آرماگدون( (مَجدُون کے ميدان کے نام پَر بین الاقوامی جنگ، قَوموں کا آخری فيصلَہ کُن مَعرکَہ ، مَعرکَہ خير و شَر)  کے عذاب کی بجائے ہم سب سے درخوست کرتے ہیں کہ آپ خود کو عسکریت پسندی اور قبضے کے نظریات سے آزاد کریں اوراس کی  بجائے، وہ قوموں کی شفا یابی کے مقصد حاصل کرنے کی کوشش کریں-

[مکاشفہ (16:16, بائبل ، عہد نامہ جدید)   تب بدروحیں بادشاہوں کو ایک مقام جس کو عبرانی زبان میں ہرمجدّون کہتے ہیں اس جگہ جمع کیں۔ 17 پھر ساتویں فرشتے نے اپنا کٹورہ ہوا میں انڈیل دیا گرجدار آواز تخت سے جو خدا کے گھر کے اندر تھی آئی اور آواز نے کہا! “ختم ہو گیا۔” 18 پھر بجلیاں اور آوازیں اور گرج کے ساتھ ایسا سخت زلزلہ آیا کہ اس سے پہلے یعنی جب سے زمین پر انسان کی پیدا ئش ہو ئی ایسا بڑا اور سخت زلزلہ کبھی نہیں آیا تھا۔ 19 بڑا شہر تین حصوں میں بٹ گیا۔ اور قوموں کے شہر تباہ ہو گئے اور خدا نے عظیم بابل کے لوگوں کو سزا دینا نہیں بھو لا اس نے اپنے غصے سے غضب کی مئے کا پیا لہ پلائے۔ 20 ہر ایک جزیرہ غا ئب ہو گیا اور کو ئی پہاڑ بھی کہیں نظر نہیں آیا۔ 21 بڑے بڑے اولے جن کا وزن تقریباً پچاس کلو گرام تھا آسمان سے لوگوں پر گرے اور دوزخ کی آفت کے سبب لوگ خدا کے لئے کفر بکنے لگے اور یہ آفت نہا یت ہی نا قابل برداشت تھی۔]

4.ہم ہر براعظم میں تمام چرچوں میں عیسائیوں کو فلسطینی اور اسرائیلی عوام کے لیے دعا کرنے کی :8درخواست  کرتے ہیں، دونوں قبضے اور عسکریت پسندی کےشکار ہیں. یہ متنازعہ اقدامات فلسطینیوں کو خاص طور پر اسرائیلی رہائشیوں سے گھیرنے والے غریب گھیٹو Gheto میں تبدیل کررہے ہیں. غیر قانونی یہودی رہائشیوں کے قیام اور قبضہ شدہ فلسطینی زمین پر علیحدہ دیوار کی تعمیر پورے فلسطینی ریاست کی امن و سلامتی اور پورے خطے میں سلامتی کوغیر موثر کرتی ہے-

5.  پیرووکاروں نے یہ نتیجہ اخذ کیا، ‘خدا چاہتا ہے کہ انصاف ہو جائے. انصاف کے قیام کے بغیر کوئی مستقل امن، سلامتی یا مصالحت ممکن نہیں ہے. انصاف کے مطالبات غائب نہیں ہوں گے. انصاف کے لئے جدوجہد انصاف سے، مستقل مزاجی سے کی جانی چاہیئے، لیکن تشدد کے بغیر- نبی مکاہ  کا فرمان ہے ”  خداوند امید کر تا ہے کہ تم انصاف کرو گے دوسرے پر رحم کرو گے۔ اپنے خدا کے ساتھ خاکساری سے چلو۔”( میکا6:8)

تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ :

“عیسائی صیہونیزم ، عیسائیت کے اندر سب سے بڑی، سب سے زیادہ متنازع اور سب سے زیادہ تباہ کن لابی ہے- یہ مشرق وسطی میں کشیدگی کو برقرار رکھنے، اسرائیلی کے تمييز عنصري aparthied، استعمارپسندانہ ایجنڈا  اور اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے امکانات کے عمل کو کمزورکرنے میں بنیادی طور پر ذمہ دارہے-“

نئے عہد نامے کا اختتامی باب باغ عدن کی عکاسی میں لے جاتا ہے اوربلندی سے تنزلی کی مصیبت کا خاتمہ کرتا ہے:

تب فرشتے نے مجھے آبِ حیات کا دریا دکھایا جو بلور کی مانند صاف و شفاف تھا وہ دریا خدا کے اور میمنہ کے تخت سے نکل کر بہہ رہا ہے۔ اور یہ دریا شہر کی سڑک کے درمیان بہہ رہا تھا۔ دریا کے دونوں جانب زندگی کا ایک درخت تھا اور اس زندگی کے درخت پر سال میں بارہ دفعہ پھل آتے تھے۔ یعنی ہر مہینے اس میں پھل آتے تھے اور اس درخت کے پتوں سے قوموں کو شفاہو تی تھی۔”(مکاشفہ22:1،2 )

یقینا یہ وہی بات ہے جو یسوع کے ذہن میں تھی جب اس نے اپنے پیروکاروں کو امن اور مصالحت کے سفیروں کے طور پر کام کرنے کے لئے ہدایت کی، اور کام کرنے کے لئے دعا کی کہ خدا کی بادشاہی زمین پر آئے گی جیسا کہ یہ جنت میں ہے-

مسلمانوں نے خدا کے احکام پر عمل کیا تو بادشاہت ان کو مل گئ ، پھر جب انہوں نے نافرمانی کا راستہ اختیار کیا تو وہ بھی عذاب اور ذلت کا شکار بن گئے- اسرایئل کا وجود مسلمانوں پر اللہ کے عذاب کی ایک شکل ہے- جب مسلمان اپنا رویہ بدلیں گے تو اس عذاب سے چھٹکارہ پا لیں گے-

مزید ریفرنس:

بائبل کے مطابق خدا کا ابراہم سے زمین کا عہد  غیر مشروط نہیں . خدا کے احکام اور موسی کے قوانین پر عمل سے مشروط ہے-

Ezra 9:12, 14، 1 Kings 9:6-9، 2 Chronicles 7:19-22, Nehemia 1:8-9: Joshua 23:15-16،  Jeremiah 9:13-16، Jeremiah 44:22، Lamentations 1:10، Ezekiel 33:24-26:

اختتامیہ 

اسرایئل  کی 8.5 ملین آبادی میں اس وقت تقریبا 74% یہودی رہتے ہیں ، ان میں سے 63% سیکولر ہیں ،   80% خدا کو مانتے ہیں اور 20% ملحد ہیں، خدا کے انکاری- صرف 11.7%  حردی یہودی (Haredi) تورہ کے احکام کو مانتے اور عمل کرتے ہیں جو صیہونیت کے مخالف ہیں کیونکہ اسرایئل کا قیام تورات کے خلاف ہے- اسرایئل میں 31% یہودی یورپ سے ہجرت کرکہ اسرائیل آباد ہوۓ  ہیں ان میں اکثریت روسی اور مشرقی یورپ کے  یہودیوں  کی ہے، جن کا نسلی طور پر ابراہیم یا اسرایئل کی نسل سے کوئی تعلق نہیں-

خازآریہ کی یہودی سلطنت، کیسپین سمندر کے علاقه میں ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی میں موجود تھی- یہ سخت جنگجو ترک نسل کے سینٹرل ایشیا کے لوگ تھے جنہوں نے رومن اور اسلامی سلطنتوں کی چقپلش سے بچنے لئے یہودیت اختیار کی- ان کا نسلی طور پر ابراہیم ، یعقوب (اسرایئل) اور ارض فلسطین  سے کوئی تعلق نہیں بنتا- خازآریہ کی سلطنت کے اختتام پر بہت سے خازار یہودی یورپ کو ہجرت کر گئے- ان “خازاروں” کی نسل سے مرکزی اور مشرقی  یورپ کے “اشکنزائی یہودیوں” کہلاۓ، جنہوں نے “صیہونیت”  کا افسانہ گھڑا تاکہ فلسطین کو نو آبادی بنایا جا سکے اور خازآریہ” کی طرح کی سلطنت قائم کی جا سکے- ان کا فلسطین کی سرزمین سے کوئی تعلق نہیں مگر وہ یہاں کی حکمران اشرفیہ کا ستون  ہیں-

اس طرح یہ دعوی کہ بائبل میں (پیدائش17:8) ارض فلسطین ابراہیم کی نسل کودی گئ,  ان غیر نسلی یہودیوں (converted Jews) پر اور  63% سیکولر یہودیوں پر لاگو کیسے ہو سکتا ہے؟  جبکہ جو 11.7%  حردی یہودی (Orthodox/Haredi) تورہ کے احکام کو مانتے اور عمل کرتے ہیں وہ صیہونیت کو تورہ کی تعلیمات اور خدا کے احکامات کے مخالف سمجھتے ہیں-

چونکہ زمین کا وعدہ ، خدا کی اطاعت اور ان کی فرمانبرداری پر مشروط تھی، اوریہودی  خدا کی اطاعت کرنے یا خدا کے ساتھ عہد قائم کرنے میں ناکام رہے، لہذا مسیحیوں پر یہ ہرگز فرض نہیں کہ وہ اسرئیلیوں کو فلسطینیوں کو فلسطین سے بے دخل کرنے کے لئے مدد کریں- عربوں کی زمین جس پر اسرائیلی  قابض ہیں ان کو واپس کرنے سے روک تھام کی ضرورت نہیں- ان کی زمین ان کو واپس کرنا انصاف ہے-

بائبل کی پیشینگویوں کے مطابق آخری نبی اور رسول بنی اسمعیل سے آ چکا ، اب ابراہیم کے بچوں اور تمام ماننے والوں اور انسانیت کو خدا کے آخری رسول اور آخری کتاب کے مطابق ہدایت حاصل کرنا چاہیے اور امن سے مل جل کر رہیں-

موجودہ  اسرایئل کی ڈیموگرافی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں اکثریت سیکولر یہودی ہیں اور وہ جن کا نسلی طور پر ابراہیم یا ان کے بیٹے اسحاق، پوتے اسرایئل کے ساتھ کوئی نسلی تعلق نہیں- یہودیت ایک نسل پرست مذھب ہے – خدا کا وعدہ خدا کے احکام موسی کی قانون ، تورہ پر عمل سے مشروط ہے ، ثابت  ہوا کہ اسرایئل کے وجود کا بائبل کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں- یہ فلسطین کو نو آبادی بنانے کا پلان ہے-

 اسرایئل کے وجود کا بائبل کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں- یہ فلسطین کو نو آبادی بنانے اور سپر پاور کی طاقت اور سٹریٹجک گیم پلان کا ایک حصہ ہے- اس سے مشرق وسطی کے معدنی ذخائر و دولت اور تجارتی راہداریوں پر کنٹرول، جنگ و جدل سے اسلحہ کو فروخت اورفلسطینی و مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم کے مکروہ پلان ہیں-

……………………………………………………………………………………………….

(تحقیق و ترتیب : آفتاب خان)

www.SalaamOne.com

www.Facebook.com/SalaamOne

www.Twitter.com/SalaamOne

کاپی راییٹ نہیں ، شیر کریں مگر کریڈٹ ، ویب سائٹ ، فیس بک پیج اور ٹویٹر کا ریفرنس دیں-

  نوٹ :

١. یہ تحریر بنیادی طور پر بائبل کے پیروکاروں (مسیحی اور یہودی) کے نقطہ نظر سے ان کے دلائل کے جواب میں لکی گئ ہے ، اس لیے مسلمانوں کے لیے اس میں اجنبیت کا احساس ہو تا ہے- پیغمروں کے ناموں کے ساتھ اسلامی روایات کے مطابق تعظیمی القاب “حضرت” اور “علیہ السلام” کا اضافہ کریں-

٢. تحقیق جاری ہے … مضمون ابھی مکمل نہیں ….. اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے ….دوبارہ وزٹ کریں ..

آخری اپ ڈیٹ : 18 دسمبر 2017, 10:10 pm

…………………………………………….

صیہونی مسیحیت اور بائبل

امن کے دشمن

https://goo.gl/f5Wg9E

http://salaamone.com/american-christian-zionism-sehoneyat/

Understanding The  Christian Zionism-1

The Real Threat to The World Peace

By Aftab Khan

www.SalaamOne.com/christian-zionism

All Parts – pdf: https://goo.gl/kq4hZa

Part-1: https://goo.gl/gJpPd2

Part-2:  https://goo.gl/fzn7u5

Part-3: https://goo.gl/H4qVqt

FB: @SalaamOne Twitter @SalaamOne

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

References/Related Links:

A comprehensive research work ..in English .. http://salaamone.com/christian-zionism/

Jerusalem, The Blessed Land: Through Bible, Qur’an & History

 

Zionism Magazine