Christian Zionism بین القوامی سازشوں ، جنگوں اور فساد کی جڑ – صیہونی مسیحیت

یہود اپنے آپ کو برگزیدہ قوم سمجھتے ہیں،مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ خدا کی فرمانبرداری سے مشروط ہے- خدا کی نافرمانی پر ان پر سخت عذاب نازل ہوا اور یہود  صدیوں سے ذلت کا شکار ہیں- مسیحی دو ہزار سال سے یہودیوں سے نفرت کرتے چلےآرہے ہیں کیونکہ یہودیوں نے عیسیٰ مسیح کوبظاھر قتل کیا تھا- گاہے بگاہےاور صلیبی جنگوں کے دوران یہودیوں کا قتل ، ہسپانوی انکوائزیشن اور ہولوکاسٹ اسی یہود نفرت کا نتیجہ تھا- یہود خدا کی فرمانبرداری کی بجائے سازشوں اور شیطانی پلاننگ سے دنیا پر حکمرانی کا خواب دیکھتے رہے-  یہودی بخوبی سمجھ گئے تھے کہ وہ دنیا کے طاقتور اور تعداد میں سب سے بڑے مذہبی طبقے،مغربی اور امریکی عیسائیوں کی فعال حمایت کے بغیر اپنے مقاصد (عالمی پرتری) حاصل نہیں کرسکتے۔ لہذا یہ ان کی ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ وہ کسی طرح عیسائیوں پر غلبہ حاصل کریں اوران سے مذہبی اور سیاسی حمایت و پشت پناہی حاصل کریں- یہودی اپنی قلیل تعداد، ملک ،حکومت ، فوجی یا سیاسی قوت کے بغیر  مسیحیت پر برتری حاصل نہیں کر سکتے تھے- لہٰذا انہوں نے “مذہبی نظریاتی ہتھیار” (Thelogical Ideological Weapon) کو استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا- یہ کام انیسویں صدی ( 19Th) میں بائبل (New Testament) کی مسیحی سکالرز کے زریعہ تحریف کرکہ یہودی سازگار نظریات ایجاد کرکه حاصل کیا گیا اور مسیحیت میں نیا یہود دوست فرقہ “عیسائی صہیونی” (Zionist Christians) بنایا گیا جس نے بالآخر 1948 میں فلسطینیوں کے اصل باشندوں کو بے دخل کروا کر اسرائیل کی ریاست کے قیام میں مدد فراہم کی اور مسلسل اسرائیل کے وجود اور توسیع کے لئے مستقل تعاون فراہم کرتا ہے- عیسائی صہیونی (Zionist Christians)  دنیا میں ہر جگہ ہیں ، اس وقت امریکہ میں پانچ کروڑ تعداد کا دعوی کرتے ہیں اور امریکی سیاست ، صدر ، حکومت پر زبردست اثر و رسوخ رکھتے ہیں، وہ  یہودیوں سے زیادہ یہودیوں کے مدد گار ہیں-

“Use of religious ideology as a tool of power”

“مذہبی نظریات بطور طاقت کا ہتھیار”

یہ ایک دلچسپ کیس اسٹڈی ہے کہ کس طرح ایک کمزور ، تعداد میں بہت قلیل قوم، اپنی چالاکی، طویل مدتی مستقبل کی منصوبہ بندی اور محنت کے بل بوتے پر دنیا پرغلبہ حاصل کر سکتی ہے! 

انڈکس

  1. خلاصہ – Executive Summary

  2. عیسائیت – یہود دشمنی سے یہود دوستی  

  3. ڈسپنسیشنل ازم  (Dispensationalism) ایک نیا ماورا بائبل  جھوٹا  نظریہ :

  4. ڈسپنسیشنل ازم  (Dispensationalism-Fake )  جھوٹ ، دھوکہ  :

  5. ڈسپنسیشنل ازم اور کیتھولک
  6. ” تالمود” میں مسیحی اور یسوع مسیح توہین 

  7.  تورات پر عمل کرنے والے اصل مذہبی یہودیوں کے مطابق :
  8. صہونیت کے پروٹوکولز :
  9. زمین کا وعدہ اسرائیل سے مشروط یا غیر مشروط ؟
  10. اسرایئل مذہبی یہودی اور ملحد ، سیکولر
  11. بنیاد پرست مسیحی اور صہونیت
  12. اختتامیہ 

خلاصہ – Executive Summary

صیہونی مسیحیت Christian Zionism  ، پروٹسٹنٹ عیسائیت کے اندر سب سے بڑی، سب سے زیادہ متنازع اور سب سے زیادہ تباہ کن تحریک ہے- دنیا میں جنگ و جدل ، مشرق وسطی میں کشیدگی کو برقرار رکھنے، اسرائیلی کے نسلی تمييز، استعمار پسندانہ ایجنڈا  اور اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے امکانات کے عمل کو کمزورکرنے میں بنیادی طور پر ذمہ دارہے- مسیحت دوہزارسال قدیم مذھب ہے جو یہودیت کے ایک فرقہ سے شروع ہوا مگر بنیادی نظریات میں فرق کی وجہ سے یہودیت نفرت اور مخالفت اس کے بنیادی عقائد میں شامل ہے.”عیسیٰ مسیح” کو مسیحی خدا اور خدا کا بیٹا مانتے ہیں جن کو یہودیوں نے قبول نہ کیا اور جادو گر، توہین کے الزامات پر بظاھر مصلوب کروایا- مسیحت پر رومن  کیتھولک چرج کی اجارہ داری کو مارٹن لوتھر(1483-1546) نے چیلنج کیا اور پروٹسٹنٹ عیسائیت کی راہ ہموار کی۔ لوتھر کی تحریک کی وجہ سے مسیحیت مزید فرقوں “پروٹسٹنٹ” اور “کاتھولک” میں تقسیم ہو گئی۔ پروٹسٹنٹ مسیحیت میں بھی ذیلی فرقے ہیں مگر صیہونی مسیحیت Christian Zionism، مسیحت کے بنیادی عقائد میں یہود دوست نیا اضافہ انیسویں صدی میں ہوا، اس فرقہ کو کتھولک اور دوسرے پروٹسٹنٹ مذہبی سکالرز نے بائبل سے ماورا (heresy)  بدعتی مذھب قرار دیا ہے جس کی بنیاد جھوٹ اور دھوکہ پر ہے حتی کہ اس کے لیے ایک علیحدہ تحریف شدہ بائبل، فٹ نوٹس کے ساتھ تخلیق کی گیئی [جان نیلسن ڈاربی (1900-1882) سی آئی اسکوفیلڈ (1843-1921)]- 

سکفیلڈ  (C.I. Schofield) نے 1909 میں  کہا کہ” مسیح اس وقت تک زمین پر واپس نہیں آسکتے جب تک کہ کچھ واقعات رونما نہ ہوں:(١) یہودیوں کو لازمی طور پر فلسطین واپس جانا چاہئے (٢) یروشلم پر قبضہ کرنا ہوگا اور  (٣) ایک ہیکل کو دوبارہ تعمیر کرنا چاہئے ، اور پھر (٤) ہم سب کو آرماجیڈن نامی آخری ، عظیم جنگ میں حصہ لینا چاہئے۔ (آرماجیڈن: نئے عہد نامے میں قیامت سے پہلے اچھائی اور برائی کے مابین آخری جنگ۔)” –  تخمینے مختلف ہوتے ہیں ، لیکن آرمیجڈون الہیات کے بیشتر طلباء اس بات سے متفق ہیں کہ بائبل کے اس کتاب کی نسبتا حالیہ تشریحات (تحریف) کے نتیجے میں ، 10 سے 40 ملین امریکیوں کا خیال ہے کہ یہودیوں کے لئے فلسطین خدا کی منتخب کردہ سرزمین ہے۔ “شیفیلڈ بائبل” امریکہ میں مشہور ریفرنس بائبل ہے۔ پچھلی ایک صدی گواہ ہےکہ  سکفیلڈ (C.I. Schofield) کے ان الفاظ پر امریکہ کے زیر سرپرستی حرف بحرف عمل ہو رہا ہے- دنیا مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں تباہی کے راستہ پر گامزن ہے-ادھر بھارت میں بھی مذہبی جنونی RSS ,کے پیروکار سو سال کی جدوجہد کے بعد مکمل مظبوط طور پر حکومت میں ہیں . ان کا ایجنڈا بھی مسلمان دشمنی ہے- اور ان کا امریکہ ، اسرایئل سے گٹھ جوڑ کوئی سیکرٹ نہیں-

خدا اپنے منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے انسانوں کا محتاج نہیں- مذہبی مقدس کتب میں پیشنگویاں براڈ ہوتی ہیں، تحریف کر کہ اپنی مرضی کا معنی نکالنا،  وقت ،حالات کا تعین کرنا انسانی دھوکہ ہے جو سکفیلڈ  (C.I. Schofield) اور ڈاربی جیسے  لوگوں کی اختراع ہے جس کو قدیم اور سب سے بڑے کیتھولک چرچ نے بھی قبول نہیں کیا- بائبل میں بھی  واضح کہ قیامت کا وقت کسی کو معلوم نہیں(Matthew 24:36، ،Mark 13:32، ،Mark 13:32، Acts 1:7) حتی کہ یسوع مسیح کو بھی نہیں جس کو مسیحی خدا اور خدا کا بیٹا مانتے ہیں صرف خدا کو اس کا علم ہے-یہ  سکفیلڈ (C.I. Schofield)کدھر سے سیاسی منصوبوں کے لیے مذھب کو استعمال کر رہا ہے –  

قابل غور یہ بات ہے کہ دونوں کیسزمیں  (یہودیوں اور ہندووں نے) جھوٹے مذہبی نظریہ (صیہونی مسیحیت، ہندتوا) کی بنیاد پر نسلی، مذہبی ، قومی  برتری کا بیانیہ ترتیب دے کر میڈیا، کارپوریٹ سیکٹر اور جمہوریت کی سیڑھی کے ذریعہ حکومت ، طاقت حاصل کی اور اب عالمی کنٹرول بھی !

مسلمان اپنی آزمودہ اعلی ائیڈیالوجی  (Superior Ideology) کے باوجود شیطانی قوتوں کا شکار بن گیے ہیں- فلسطین ، مشرق وسطی ، افغانستان جہاں جہاں امریکہ، اسرایئل یا ان کے حواری جیسے داعیش مسلمانوں کے خلاف جنگ اور قتل عام  میں مصروف ہے اس کے پیچھےامریکی “صیہونی مسیحیت” Christian Zionismکے پیروکار ہیں بظاہر یا خفیہ طور پر-

مسیحیت کو بگاڑ کر “صیہونی مسیحیت” ایجاد کی گئی، روایتی مسیحیت اکثریت نے اس کی تردید کی مگر اس شدت سے نہیں جس طرح اسلام میں قادیانی فتنہ کو مسلمانوں نے شدت سے ریجیکٹ کرکہ کافر ڈکلئیر کرکہ بھگا دیا، قادیانی اب مغرب اور اسرایئل کی پناہ میں ہیں-

مسلمانوں کے جہاد” کے نظریہ کو  “داعیش” ،”تکفیری بوکو حرام “، “تکفیری پاکستانی طالبان” کے ذریعہ دہشت گردی سے منسلک  کرکہ کثیر التعداد (multiple) فائدے حاصل کیے گیئے: (١) مسلمانوں کا مسلمانوں کے ہاتھ قتل عام اور (٢) “جہاد” کے مقدس نظریہ کی بدنامی (٣) مسلمان ریاستوں کی کمزوری و تباہی (٤) مسلمانوں پر سیاسی ، معاشی اور فوجی کنٹرول – اس دہشت گردی کے تکفیری بیانیہ کو رد کرنے میں ٣٠ سال سے زیادہ کا عرصۂ لگا اور دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ ٢٠١٨ میں جاری ہوا -مگرابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے- اسلام اور مسلمانوں کے پاس ظلم اور نا انصافی کے خلاف “جہاد (قتال، جنگ)” کا طاقتور قابل عمل نظریہ موجود ہے، جو دشمنوں کی نیندیں حرام کر دیتا ہے- اسلام اور مسلمانوں کے خلاف “صیہونیت، “صیہونی مسیحیت”  Christian Zionism اور “ہندتوا” کی مشترکہ مذہبی جنگ کا جواب “جہاد (قتال، جنگ)” ہے-

 دشمن کی چالاکی اور دوررس پلاننگ اپنی جگہ، مگر مسلمانوں کو اپنی داخلی کمزوریوں کی طرف بھی توجہ کی ضرورت ہے- اب بھی بہت سے عرب اور مسلم ممالک کے حکمران مختلف “جعلی خطرات” کے خوف سے امریکہ، مغرب اور اسرایئل کے زیر اثر ہیں- 

 فوجی طاقت کے زور پر علاقے فتح کرنے کا دور اگرچہ مکمل ختم نہیں ہوا, جدید  دور “ہائبرڈ وارزجنگ” (Hybrid Wars) کادورہے-اس دور میں “نظریات” اور ائیڈیالوجی کی جنگ نے برتری ثابت کی ہے- “نظریات” اور”مالی و فوجی قوت” کا ملاپ بہت خطرناک مجموعہ (combination) ہے جو  “ہائبرڈ وار کا ایک اہم جزو ہے –

مذاھب میں فرقہ واریت کوئی نیئی بات نہیں مگر صیہونی مسیحیت Christian Zionism، ایک ایسا فرقہ ہے جس نے دنیا کے امن کو تباہ کر دیا ہے- ان کے من گھڑت، مذہبی شدت پسندانہ نظریات اور عملی اقدامات اسلام اورمسلمانوں کے لینے خاص پر اور انسانیت کے لیے عمومی طور پرخطرناک اور تباہ کن ہیں- لہٰذا دنیا میں ہر مذھب اور خاص طور پر مسلمانوں کے لیۓ اس بین الاقوامی  مذہبی فتنہ کا بغور مطالعہ ,کرنا اس لیے اہم ہے کہ ہم سب اس فتنہ کے براہ راست ٹارگٹ ہیں-  یہ تحریر قاری کے ذہن میں ممکنہ آپشنز دریافت (explore) کرنےمیں مددگار ہو سکے-

 

عیسائی – یہود دشمنی سے یہود دوستی  کا حیرت انگیز وقوعه:

مسیحی دو ہزار سال سے یہودیوں سے نفرت کرتے چلے آ رہے تھے کیونکہ یہودیوں  نے خدا کے بیٹے (مسیحی عقیدہ کے مطابق) عیسیٰ مسیح کو قتل کیا تھا – خدا کے قاتل یہودی  (Jewish Deicide) قدیم دور سے ایک عیسائی عقیدہ , کہ یہودی لوگ یسوع کی موت کے لئے مجموعی طور پر ذمہ دار تھے۔ ہنگاموں کے ذریعہ یہودیوں کے خلاف تشدد کو بھڑکانے کے لئے “مسیحی قاتل” کا استعمال کیا جاتا اور اس سے صدیوں کے پوگوموم ( یہودیوں کا منظم قتل عام) کیا جانا معمول تھا ۔ صلیبی جنگوں کے دوران یہودیوں کا قتل ، ہسپانوی انکوائزیشن اور ہولوکاسٹ اسی یہود نفرت کا نتیجہ تھا-  پھر دوسری ویٹیکن کونسل (1962–1965) نے پوپ پال VI کے ماتحت رومن کیتھولک چرچ نے عیسیٰ کے مصلوب ہونے کے لئے اجتماعی یہودی جرم پر اعتقاد کو مسترد کردیا اور اعلان کیا کہ یہ الزام  بغیر کسی امتیاز کے”تمام یہودیوں کے خلاف اور نہ ہی آج کے یہودیوں کے خلاف” لگایا جاسکتا ہے۔

یہودی سرمایہ دار ، سود خور ہونے کی وجہ سے بھی  مسیحی نفرت کا شکار تھے وہ سازشی فتنہ باز مکارسمجھےجاتے- ان کی رہائش کے علاقے گھیٹو (Gheto) مخصوص تھے وہ پہچان کے لیےنشان زدہ کپڑے پہنتے تھے اور اکثر مسیحی ان پر حملہ کرکہ قتل و غارت اور لوٹ مار  کرتے- پھر پچھلے دو سو سال میں ایسا کیا ہوا کہ یہ قدیم دشمنی دوستی میں بدل گیئی؟ یہ ایک دلچسپ فکشن معلوم ہوتا ہے مگرایک حقیقت ہے

امریکہ میں کرسچن چرچ میں “کرسچن- صہیونزم”  نامی ایک سیاسی / مذہبی تحریک کے کارندے گھس چکے ہیں اور انہوں نے لاکھوں” آوینجلکل کرسچنز ” کو اس طرح سے متفق کیا ہے کہ وہ سیاسی ایجنڈا  کی تکمیل کے لئے بائبل کی توہین کے مرتکب ہورہے ہیں- نیز “ویٹیکن” کو بہت پہلے “فری میسنری” نے گھس کر قابو پا لیا تھا اور حتمی قبضہ ویٹیکن کی دوسری کونسل میں ہوا تھا اور اب چرچ تاریخ  کے بدترین بحران کا شکار ہے – کیتھولک چرچ نے صدیوں سے “فری میسنری” سے وابستگی کو سختی سے منع کیا ہے اور ابھی بھی کیتھولکس کے “میسونک لاجز” میں شامل ہونے پر پابندی عائد ہے۔ یہاں تک کہ اگر آپ کیتھولک نہیں ہیں ، تو بھی یہ سمجھنا ضروری ہے کہ المیناٹی اور فری میسن کو کس طرح چرچ میں خفیہ طریقہ سے گھسنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ “اصل مسیحیت” کومسخ کرنے کا حدف حاصل کر سکیں

یہودی بخوبی سمجھ گئے تھے کہ وہ دنیا کے طاقتور اور تعداد میں سب سے بڑے مذہبی طبقے،مغربی اور امریکی عیسائیوں کی فعال حمایت کے بغیر اپنے مقاصد (عالمی پرتری) حاصل نہیں کرسکتے۔ لہذا یہ ان کی ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ وہ کسی طرح  عیسائیوں پر غلبہ حاصل کریں اوران سے مذہبی اور سیاسی حمایت و پشت پناہی حاصل کریں. یہودی مقدس کتاب ” تالمود” میں مسیحیوں اور یسوع مسیح کے خلاف انتہائی نفرت انگیز اورتوہین آمیز تحریریں آج بھی موجود ہیں [کوئی مسلمان بیان بھی نہیں سکتا]   یہ ایک عجیب خواہش لگتی ہے کہ شدید مذہبی دشمن آپ کا دوست، ہمدرد اور معاون بن جائے! 

کیونکہ یہودی اپنی قلیل تعداد، ملک ،حکومت ، فوجی یا سیاسی قوت کے بغیر  مسیحیت پر برتری حاصل نہیں کر سکتے تھے- لہٰذا انہوں نے “مذہبی نظریاتی ہتھیار” (Thelogical Ideological Weapon) کو استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا- یہ کام  بائبل (New Testament) کی مسیحی سکالرز کے زریعہ تحریف کرکہ یہودی سازگار نظریات ایجاد کرنے کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ یہودیوں کی طرف سے کی جانے والی ایسی کسی بھی کوشش کو یہودیوں کے خلاف ردعمل کے ساتھ یکسر مسترد کردیا جاتا۔

انیسویں صدی ( 19Th) میں پراسرار طور پر مسیحیت میں یہودی نفرت کی اٹھارہ سو سالہ دیوار گرنا شروع ہوئی ، جب عیسائی اسکالر جان نیلسن ڈاربی (1900-1882) نے 1867 میں نئے عہد نامے (New Testament) کا نیا ترجمہ کیا، جس میں صدیوں سےمروجہ مسیحی نظریات میں تبدیلیاں متعارف کروائیں جس کو مظبوط کرنے کےلیے”فٹ نوٹس”  (حاشیہ) متعارف کرواتے جو (Dispensationalism”) ڈسپنسیشنل ازم کے نئے (heresy) بدعتی نظریہ کی بنیاد ہے جو “تاریخی ترقی” کے نظام پر یقین ، خدا کا “خود انکشاف” اور” نجات” کے منصوبے کے سلسلے پر مشتمل ہے۔

بائبل میں لکھا ہے :

“وہ وقت آئیگا جب لوگ سچی تعلیمات کو نہیں سنیں گے لیکن وہ لوگ زیادہ سے زیادہ استاد کو پا لیں گے۔ ان کی خواہش کے مطا بق وہ تعلیمات دیں گے جیسا کہ وہ سننا چاہیں گے۔ لوگ سچا ئی کو سننا پسند نہیں کریں گے وہ لوگ جھو ٹی تعلیمات کی کہانیوں پر یقین کریں گے”۔[ 2 تیِمُتھِیُس 4:3-4]

ڈاربی (Darby) پر بائبل کو بگاڑنے اور “تھیسوفیکل”, “خفیہ الفاظ” اور “نظریات” کو متعارف کرانے کا الزام ہے۔  اس کے نظریات سائرس انجرسن سکوفیلڈ کی پرانی سکفیلڈ اسٹڈی بائبل — 1909 اور 1917 میں پائے جاتے ہیں اور یہ دیگر ڈسپنسینشنل کاموں کی بنیاد ہیں۔ 

 سی آئی اسکوفیلڈ (1843-1921) ایک امریکی  ماہر الہیات ،منسٹر اور مصنف تھا ، جس کے نام سے مشھور بائبل نے بنیاد پرست مسیحیوں میں  بائبل میں مستقبل اور ڈسپنسیشنل ازم نظریہ کو مقبول بنایا) آج جان ہیگی کی طرح اس کے صیہونیت کے یہودیوں کے ساتھ روابط تھے ، جو مفادات کا ایک بڑا تصادم ہے۔ہیگی (Hagee) صاحب ، “جان ہیگی منسٹریوں کے صدر اور سی ای او” ہیں ، جو امریکہ میں دس ٹیلی ویژن نیٹ ورکس پر ان کی “قومی ریڈیو اور ٹیلی ویژن منسٹری” نشر کرتے ہیں۔ اسے دنیا بھر کے نیٹ ورکس پر دکھایا گیا ہے- ہیگی ، کرسچن صہیونی تظیم “کرسچن یونائیٹڈ فار اسرائیل” کے بانی اور قومی چیئرمین ہیں۔ ہیگی اسرائیل کا ایک مضبوط حامی ہے۔ وہ اسلام اور کیتھولک مذہب کی شدید تنقید کرتے رہے ہیں۔

ڈسپنسیشنل ازم  (Dispensationalism) ایک نیا ماورا بائبل  بدعتی مسیحی نظریہ :

Dispensationalism is a religious interpretive system and metanarrative for the Bible. It considers biblical history as divided by God into dispensations, defined periods or ages to which God has allotted distinctive administrative principles. According to dispensationalism, each age of God’s plan is thus administered in a certain way, and humanity is held responsible as a steward during that time. Dispensationalists’ presuppositions start with the inductive reasoning that biblical history has a particular discontinuity in the way God reacts to humanity in the unfolding of their, sometimes supposed, free wills

 ڈسپنسیشنل ازم (Dispensationalism) ایک مذہبی ترجمانی کا (بدعتی) نظام اور بائبل کے لئے metanarrative ہے. [میٹانارٹیوmetanarrative – ۔تنقیدی تھیوری میں اور خاص طور پر مابعد جدیدیت میں تاریخی معنی، تجربہ یا علم کی بیانیوں  کے بارے میں ایک بیانیہ ہے جو (ابھی تک غیر حقیقی) ماسٹر آئیڈیا کی متوقع تکمیل کے ذریعے معاشرے کو جواز فراہم کرتا ہے۔] 

 یہ بائبل کی تاریخ کو خدا کی طرف سے تقسیم  شدہ ادوار یا عمروں (Ages) میں بطور تقسیم قرار دیتا ہے جس میں خدا نے مخصوص انتظامی اصول الاٹ کیے ہیں۔ ڈسپنسیشنل ازم کے مطابق ، خدا کے منصوبے کا ہر دور اس طرح ایک خاص طریقے سے چلایا جاتا ہے ، اور اس وقت کے دوران انسانیت کو ایک ذمہ دار کے طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ Dispensationalists کے قیاس آرائیاں اس دلیل استدلال سے شروع ہوتی ہیں کہ بائبل کی تاریخ میں اس طرح سے ایک خاص رکاوٹ  پڑتی ہے جس طرح خدا اپنی ، کبھی کبھی سمجھے جانے والے ، آزادانہ خواہشات کے انکشاف میں انسانیت سے رد عمل ظاہر کرتا ہے۔ 

 بائبل اور مسیحی اکثریت شروع ہی سے صرف  دو ‘ادوار’ کو تسلیم کرتی ہے۔ (Mt. 12:32, Gal. 1:4, Heb. 6:5).

بائبل کا روائتی  بین الاقوامی نظریہ یہ ہے کہ عہد نامہ قدیم (Old Testament) نئے عہد نامے (New Testament ) میں پیش آنے والے واقعات کی پیش گوئی کر رہا ہے اور ، آخر میں ، عیسیٰ اچھائی اور برائی کے درمیان ایک مہاکاوی جنگ کے بعد زمین پر بادشاہی کرنے کے لئے واپس آئے گا – 

بائبل کے تاریخی ادوار (ڈسپنسیشنز) کی تعداد عام طور پر تین سے آٹھ تک ہوتی ہے۔ 

سات ادوارکا ڈسپنسشنلزم:

ڈاربی کا “سسٹم بالآخر ‘ڈسپنسشنل ازم’ کے نام سے جانا جاتا ہے ، حالانکہ اس کو بائبل کے ‘دو ادوار ڈسپنسیشنلزم’ سے ممتاز کرنے کے لئے ‘سات ادوار ڈسپنسشنلزم’ کے طور پر زیادہ مناسب طور پر بیان کیا گیا ہے – بائبل صرف  دو ‘ادوار’ کو تسلیم کرتی ہے۔ (Mt. 12:32, Gal. 1:4, Heb. 6:5).

ڈاربی نے بائبل کو سات ادوار (تقسیم) اور آٹھ عمروں میں تقسیم کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہودی خدا کے منتخب لوگوں کے طور پر اس کی اسکیم میں ایک الگ منصوبہ بندی کے ساتھ قبول ہوئے۔ بالآخر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عیسائی صیہونیت کی پیداوار 1948 میں فلسطین میں اسرائیل کی ریاست قائم ہوئی- فلسطینیوں کو بڑے پیمانے پر ملک بدر کیا گیا ، نوآبادیت ، نسل کشی ، انسانی حقوق کی پامالی ، فلسطینیوں سےنسلی بدسلوکی ، ناانصافی اور ظلم و جبر عالمی امن کے لئے مستقل خطرہ ہے۔

 سات  ادوار (ڈسپنسیشنز) میں تقسیم کرنے کی بدعاتی اسکیم مندرجہ ذیل ہے۔

  1. معصومیت – زوال سے قبل آزمائش کے تحت آدم کےباغ عدن سے اخراج کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔ کچھ اس دور کو آدم کی مدت یا آدم عہد یا آدمی قانون کی تقسیم کے طور پر کہتے ہیں۔
  2. ضمیر – زوال سے عظیم سیلاب تک۔ دنیا بھر میں سیلاب کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔
  3. انسانی حکومت – عظیم سیلاب کے بعد ، انسانیت سزائے موت پر عملدرآمد کی  ذمہ دار ہے۔ بابل کے ٹاور پر بکھرنے کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔ کچھ اس مدت کے حوالہ سے نوحیڈ قانون کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
  4. وعدہ – ابراہیم سے موسی تک۔ – کنعان میں داخل ہونے سے انکار اور بیابان میں 40 سال کا کفرکا دور۔ کچھ اس مدت کے حوالہ سے ابراہیمی قانون یا ابراہیمی عہد کی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔
  5. قانون موسیٰ سے لے کر یسوع مسیح کے مصلوب ہونے تک۔ یہ دور AD70 میں اسرائیل کے بکھرنے کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔ کچھ اس تقسیم کے دور کے حوالہ سے “قانون موسیٰ” کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
  6. فضل کادور- صلیب سے چرچ کی خوشی(rapture) کادور۔ بلس (rapture) کے بعد خدا کا قہر عظیم فتنہ پر مشتمل ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اس تقسیم کے لینے “ایج آف گریس” یا “چرچ ایج” کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
  7. ہزارسالہ بادشاہت – یروشلم میں مرکوز زمین پر مسیح کا 1000 سال کا اقتدار۔ حتمی سرکشی پر خدا کے فیصلے کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔

ڈسپنسینشنلسٹ عیسائیت – اہم نقاط :

زیادہ تفصیلات میں جانے کی بجایے مختصرطور پر سپنسیشنل ازم کے اہم پوائنٹس :

  1. سات ادوار ( ڈسپنسینشنلسٹ) عیسائیت ، یہ سکھاتی ہے کہ عیسائیت نے یہودیت کی جگہ نہیں لی ، بلکہ اس نے اس کے عناصر کو بحال کیا۔ ان کے خیال میں عیسائیت یہودیت کی جگہ لینے کے لئے نہیں بلکہ اس کی بحالی کے لئے وجود میں آئی تھی۔
  2. ڈسپنسیشنل ازم ” قبل از ہزار سالہ” کی  ایک شکل ہے۔ جس میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ مسیح کے آنے تک دنیا مزید خراب حالات اور مصیبتوں کا دور برداشت کرے گی۔
  3. ڈاربی کا نظام    (Darby’s system)نجات کی دو پٹریوں پر مشتمل ہے – ایک  نجات کا راستہ یہودیوں کے لئے ، اور دوسرا نجات کا راستہ غیر یہودیوں کے لئے۔
  4. ڈاربیائٹ Dabay’s پیغام کی بنیاد یہ تھی کہ جب معاشرے میں برائی دیکھی جاتی ہے ، عیسائیوں کو خوش ہونا چاہئے کیونکہ یہ مسیح کی جلد واپسی کی علامت ہے۔ ڈاربیائٹ کے فلسفے کی بنیاد یہ عقیدہ تھا کہ تہذیب کے زوال یا انحطاط کے سارے مظاہر مسیح کی  (‘rapture’ His saints“) “رپپچر” (مسیح کی دوسری آمد پر مومنین کی جنت میں آمد) مسیح کی جلد واپسی کی مزید علامتیں تھیں۔
  5. ڈسپنسشنل ازم کی الہیات ، “عیسائی صہیونیت” کی جڑ بن گئی ہیں۔ ڈاربی نے، وے Way  کی تعلیمات میں متعدد انوکھی خصوصیات شامل کیں جن میں (“Rapture”) کے نظریہ بھی شامل ہیں جس کے تحت “دوبارہ پیدا ہونے والے مسیحی” (“born-again Christians”)کو تاریخ سے ہٹا دیا جائے گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی سے قبل جنت میں منتقل کر دیا جائے گا۔ [اس پر وہ بہت خوش ہیں اور جلدی میں ہیں، یہودیوں کی فلسطین میں آبادکاری ، عیسیٰ کی آمد میں جلدی، تیزی، جنگ و جدل ، تباہی بربادی ان کا ایجنڈا ہے] 
  6.  بہت سارے دوسرے عیسائیوں کی طرح ،  ڈسپنسشنل ازم (تدارک) کے ماہر یہ سمجھتے ہیں کہ مسیح کی واپسی پرانے اور نئے عہد نامہ کی پیشن گوئیوں میں کی گئی ایک  پیشن گوئی ہے اور یہ کہ یہودیوں کی فلسطین میں واپسی پہلے سے طے شدہ عمل کا ایک اہم واقعہ ہے جو عیسیٰ کے دوبارہ آنے کا باعث بنے گی۔
  7. عیسائی صہیونی (Zionist Christians) یہ مانتے ہیں کہ: یہودی خدا کے اسپیشل چنے ہوئے لوگ ہیں۔ اسرائیل ایک خاص قوم ہے جس کا خدا کے قلب میں ایک خاص مقام ہے۔ وہ اس قوم کا دفاع کرے گا ، لہذا   آوینجلیکل کرسچین (Evangelical Christians) اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں-
  8. “عیسائی صہیونی” نظریہ میں اسرائیل دنیا کے خاتمے کے نظریہ میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1948 اور 1967 “عیسائی صہیونی” تاریخ میں سنگ میل کی علامت ہیں۔
  9. اس طرح “کرسچن صہیونزم” کا “مسیحی بدعتی مذہب” (heresy) متعارف کرایا گیا ، جس نے بالآخر 1948 میں فلسطینیوں کے اصل باشندوں کو بے دخل کرکے اسرائیل کی ریاست کے قیام میں مدد فراہم کی۔ یہ منحرف جھوٹا نظریہ اسرائیل کے وجود اور توسیع کے لئے مستقل تعاون کرتا ہے-
  10. ڈسپنسشنل ازم کے نظریہ نے روائتی مسیحیت کے نظریہ “متبادل الہیات” کو امریکہ میں اسرائیل کے بارے میں عیسائی فکر کی غالب شکل کے طور پر پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ 

 

 ڈسپنسیشنل ازم غیر بائبل ،غلط جھوٹا  ڈاکٹرائن: Dispensationalism-fake

  1. بائبل کا روائتی  بین الاقوامی نظریہ یہ ہے کہ عہد نامہ قدیم (Old Testament) نئے عہد نامے (New Testament ) میں پیش آنے والے واقعات کی پیش گوئی کر رہا ہے اور ، آخر میں ، عیسیٰ اچھائی اور برائی کے درمیان ایک مہاکاوی جنگ کے بعد زمین پر بادشاہی کرنے کے لئے واپس آئے گا – 
  2.  بائبل صرف  دو ‘ادوار’ کو تسلیم کرتی ہے۔  (Mt. 12:32, Gal. 1:4, Heb. 6:5). ایک موجودہ  دنیا کا دور اور دوسرا دورآخرت-
  3. بی ڈبلیو نیوٹن (1807-1899)  نے اس خیال (Dispensationalism) کو ایک ’’ مکمل بدعت مذاہب ‘‘ سمجھا- ۔یہ سب انسانی تیار کردہ “کباڑی الہیات” ہے (Dispensationalism) ایک جھوٹ، من گھڑت ، دھوکہ  ہے۔ صیہونیت ایک “من گھڑت ، دھوکہ” ہے۔ 
  4. آج کل گرجا گھروں میں ڈسپنسشنل ازم غلط عقائد اور الجھنوں کا گڑھ ہے۔   Dispensationalism ایک من گھڑت جھوٹی میتھ ہے جس کی بنیاد بائبل پرنہیں جھوٹ پرہے-
  5. ڈسپنسیشنل ازم (Dispensationalism) کو مسیحیت میں  ایک بدعت کے طور پر سمجھا جاتا ہے. پروٹسٹینٹ ازم کے علاوہ- 
  6. عیسائیت کی بڑی شاخوں جیسے ، “مشرقی آرتھوڈوکس” ، “اورینٹل آرتھوڈوکس” اور سب سے بڑی “رومن کیتھولک ازم” نے بائبل کی غلط تشریح، تحریف کی بنیاد پر من گھڑت بدعت ” ڈسپنسیشنل ازم”  کو قبول نہیں کیا ہے۔
  7. غیر  یہود اقوام کے اوقات” یسوع مسیح کی دوسری آمد پر ختم ہوں گے! یہ واقعہ 7 سالہ فتنہ کے وقتکے بعد ہوتا ہے۔ اس وقت سیکولر اسرائیل کے لئے خدائی تحفظ کی کوئی بائبل کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ آج کل کے صہیونی مسیحی گرجا گھروں میں جو پڑھایا جارہا ہے اس کا 99 فیصد بالکل برعکس ہے۔ مجرم مسٹر سکوفیلڈ کا “ڈسپینسشنل ازم کا بدعت مذاہب” ہے جیسا کہ سکافیلڈ ریفرنس بائبل میں پھیلایا گیا تھا۔ آئیے جیسس ریفرنس بائبل (Jesus Refernce Bible) کے ساتھ قائم رہیں۔ جان 5:39 ، میں لکھا ہے: “ تم صحیفوں میں بغور ڈھونڈتے ہو یہ سمجھتے ہو کہ اس میں تمہیں ابدی زندگی ملے گی۔ لیکن ان صحیفوں میں تمہیں میرا ہی ثبوت ملے گا۔ جو میری طرف اشارہ ہے۔”
  8. آرٹ کے کام کے طور پر ڈسپنسشنل ازم دلچسپ ہوسکتا ہے ، لیکن ایک وحی کے طور پر یہ ریت کی بنیاد پر قائم ہے۔ سخت نظام میں نظام تعلیم کا پورا نظام جدید ہے؛ یہ جدیدیت ہے؟ ، اس کے علاوہ ایک بہت ہی مضحکہ خیزبات، کہ اس کے عجیب و غریب نظریات کوسمجھنےاور تبلیغ کے لئے اس کی اپنی بائبل (یعنی سکویلڈ ریفرنس بائبل)کا ہونا ضروری ہے کیونکہ وہ خدا کے کلام میں نہیں ہیں۔
  9. سکافیلڈ بائبل کے سلسلے میں کہا گیا ہے۔”بہت سے عیسائیوں کے لیے یہ  بڑی تشویشناک معامله ہے کہ ایک کتاب موجود ہو، اور اسے فروخت کے لئے بھی پیش کیا جائے، جس میں فانی انسانوں کے فاسد الفاظ پرنٹ ہوئے ہوں اور خدا تعالٰی کے کلام پاک کے بیچ  میں مثبت بیانات کے طور پر پیش کیے گئے ہوں۔ کیا یہ خود خدا کے سامنے اس کی توہین نہیں ہے؟ “ہر گز نہیں اگر ہر کو ئی جھو ٹا بھی ہے تو بھی خدا ہمیشہ سچا ٹھہرے گا۔”(رومیوں ٣:٤ )    

ڈسپنسیشنل ازم پر کیتھولک ازم :  اسکوٹولوجیکل (موت اور آخرت):

کیتھولک چرچ ، مسیح کی  دوسری آمد تک ہونے والے مستقبل کے واقعات کے بارے میں نسبتا بہت کم بات کرتا ہے۔ چرچ کی بہت سی تعلیمات خاص عقائد کومسترد کرتی ہیں (یا تو مضمر یا واضح ) مگرتصدیق نہیں کرتی جیسے چرچ اور اسرائیل کے مابین ڈسپنسیشنل اختلاف ، “خفیہ” ہرنویش ، اور زمینی ہزار سالہ سلطنت۔ کیتھولک جو کچھ سکھاتے ہیں وہ بالکل واضح ہے اور ساتھ ہی اس سے منسلک بھی ہے:

  1. .یسوع مسیح کی دوسری آمد ہوگی۔
  2. آزمائش کا ایسا وقت جس میں چرچ کو برداشت کرنا ہوگا۔ ایک دجال ، اسرائیل کا مسیح میں تبدیلی ، تمام لوگوں کا قطعی فیصلہ ، اور بادشاہی کی تکمیل جو چرچ میں شروع ہوچکی ہے۔  ان پیرامیٹرز کے اندر ، کیتھولک آزادانہ طور پر گھوم سکتے ہیں ، صحیفوں کو تلاش کرسکتے ہیں اور خدا کے کلام کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
  3. کیتھولک عیسائی صہیونیت کو منظور نہیں کرتے ہیں لیکن یہودیوں پر صدیوں پرانے داغ کو عیسیٰ مسیح کے قاتلوں کی حیثیت سے قرار دیا گیا تھا ، 1965 میں (فلسطین میں اسرائیل کی تشکیل کے 17 سال بعد) اس وقت ختم  کیا گیا جب پوپ پال VI کے تحت کیتھولک چرچ نےویٹیکن II کے ایک حصے کے طور پر “نوسٹرا ایٹیٹیٹ” (“Nostra aetate”) نامی دستاویز جاری کی۔ 
  4. اس دستاویزمیں کہا گیا ہے کہ اگرچہ کچھ یہودی حکام اور ان کے پیچھے چلنے والوں نے عیسیٰ کی موت کا مطالبہ کیا تھا ، اس کا الزام اس وقت موجود تمام یہودیوں پر نہیں لگایا جاسکتا ، اور نہ ہی ہمارے زمانے میں یہودیوں کو مجرم قرار دیا جاسکتا ہے ، اس طرح یہودی قتل وغارت گری کے بلا امتیاز الزام کی تردید ہو گئی – ‘یہودیوں کو خدا کی طرف سے مسترد یا ملعون کی طرح پیش نہیں کیا جانا چاہئے-
  5. دستاویز نے یہ بھی اعلان کیا کہ۔ کیتھولک چرچ مسلمانوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے ، اور پھر اسلام کو عیسائیت اور کیتھولک مذہب کے ساتھ مشترکہ طور پر ملنے والی کچھ باتوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہتا  ہے: ایک خدا کی عبادت ، جو آسمان و زمین کا خالق ہے ، مہربان اور قادرمطلق ہے ، جس نے مردوں سے بات کی ہے۔ مسلمانوں کا حضرت ابراہیم اور مریم کے لئے احترام ، اور ان کا بہت احترام ہے جو وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے کرتے ہیں ، جن کو وہ خدا نہیں بلکہ نبی مانتے ہیں۔ اس سلسلے میں تمام کیتھولک اور مسلمانوں پر زور دیا گیا کہ وہ ماضی کی دشمنیوں اور اختلافات کو فراموش کریں اور باہمی افہام و تفہیم اور فائدہ کے لئے مل کر کام کریں۔

(https://goo.gl/f5Wg9E  پی دی ایف) برقی کتاب   ( pdf )– صیہونی مسیحیت اور بائبل

The Christian Zionism

 


 

پروٹسٹنٹ، دنیا میں مسیحی آبادی کا تقریبا 35-40 فیصد ہیں ، برطانیہ میں 50 % ، امریکہ میں 46% , جرمنی 27% (لنک )

رومن کیتھولک اور صیہونیزم ایک دوسرے کی ضد ہیں:

اس وقت دنیا میں تقریبا دو بلین مسیحی ہیں، ان میں سب سے قدیم اور بڑا گروپ 1.2 بلین رومن کیتھولک ہے، جس کا مرکز ویٹیکن روم ہے اور پوپ ان کا مذہبی سربراہ ہے- 1904 ء میں، جدید صیہونیزم کے بانی تھیوڈور ہرزلنے پوپ سینٹ پایسس (10) کے ساتھ ملاقات کی- پوپ کے ساتھ ملاقات میں ان کا مقصد یہودیوں کی فلسطین میں ایک ریاست قائم کرنے پر مدد حاصل کرنا تھی-

جیسا کہ ہرزیل نے اپنی ڈائری میں ریکارڈ کیا، پوپ نے ایک غیر معمولی منفی جواب دیا، اور کہا:

‘ہم اس تحریک  (صیہونیزم ) کی حمایت نہیں کرسکتے. ہم یہودیوں کو  یروشلم جانے سے روک نہیں سکتے ہیں لیکن ہم کبھی بھی اس کی  اجازت نہیں دے سکتے- یروشلیم کی زمین، اگر یہ ہمیشہ مقدس نہیں تھی، تو یسوع مسیح کی زندگی کیوجہ سے اسے مقدس کیا گیا ہے.مسیحی  (کیتھولک) چرچ کے سربراہ کے طور پر، میں آپ کو اس کے علاوہ کوئی دوسرا جواب نہیں دے سکتا. یہودیوں نے ہمارے لارڈ کو تسلیم نہیں کیا ہے، لہذا ہم یہودیوں کو تسلیم نہیں کر سکتے ہیں. اور اگر اپنے لوگوں ساتھ فلسطین آتے ہیں وہاں رہنے کے لۓ، تو ہم آپ کو بپتسمہ دینے (مسیحی بنانے کے لیے) کے لئے گرجا گھروں اور پادریوں کے ساتھ تیار ہوں گے.”

کتھولک چرچ کے مطابق: …  “یہ جواب جدید مخالفین کے مطابق ” یهودیت مخالف” (anti-Semitism) کہی جا سکتی ہے جو صیہونیت کی تنقید پر انتہائی حساس ہیں تاہم، کیتھولک کی حیثیت سے، ہم ‘پوپ سینٹ’ کے الفاظ کے مذہبی اور اخلاقی اثرات پر گہرائی سے مثبت طور پر غور کرتے ہیں. جبکہ آج کل بہت سے  پروٹسٹنٹ گروپس اب صیہونیزم کی کھلم کھلا حمایتکر رہے رہے ہیں، کیتھولک مسیحیوں کوصیہونیزم میں  مسیحی ایمان کے لیے پوشیدہمنفی خطرات کی حقیقت کی پہچان سے خبردار رہنا  چاہیے”-

جدید اسرائیلی ریاست کی مختصر تاریخ میں زیادہ عرصہ تک  ویٹیکن نے اسرائیلی حکومت کے ساتھ نہ تو رسمی سفارتی تعلقات کو برقرار رکھا، اور نہ ہی اس کا وجود تسلیم کیا- لیکن 30 دسمبر، 1993 کو، ویٹیکن نے اس پالیسی کو تبدیل  کیا اور اسرائیل کو رسمی طور پر تسلیم کیا اور سفارتی تعلقات قائم کئے – یہ فیصلہ پوپ سینٹ پیسس ایکس نے جو 89 سال پہلے تھورور ہرزیل کو بتایا اس کے برعکس ہے- اس کے پیچھے وجوہات واضح نہیں ہیں-

چرچ، جو مسیح کی نمائندگی کرتا ہے، کیسے اس ریاست کے وجود کو رضاکارانہ طور پر تسلیم کرے جو اس بنیاد پر قائم ہے کہ کہ یہودی ‘منتخب کردہ لوگ’ ہیں جن کا اسرائیل کی سرزمین پر حق ہے، اس کے باوجود کہ وہ ارتداد کے مرتکب ہوے،  مسیح کو قبول کرنے میں انکاری ہیں؟ یسوع  مسیح اوران کی والدہ مریم  کی شان میں توہین اور گستاخی کرتے ہیں-

ویٹیکن کا یہ عمل ایک غلط خیال کو تسلیم کرنا ہے کہ یہودیوں کو مسیحت قبول کرنے کی اور یسوع کو مسیحا کے طور پر قبول کرنے کی ضرورت نہیں(یہ ایک نظریہ ہے جو کچھ اعلی درجے کی گرجا گھروں کے درمیان مقبول ہوتا ہے).

اس فیصلے کی ممکنہ وجوہ کے باوجود، ویٹیکن مسلسل فلسطینیوں (مسلمانوں اور عیسائی دونوں) کے خلاف اسرائیلی افواج کی پالیسیوں پر تنقید کرتا رہا ہے- یہ ایک بالکل مناسب انداز ہے، کیونکہ چرچ کو زمین پر مسیحیت کی آخری اخلاقی اتھارٹی کے طور پر،اپنے اخلاقی اعتبار کو برقرار رکھنا چاہیے. اگر ویٹیکن اسرائیل کے قائم رہنے کے حق کو  قبول کرنے کے لئے تیار ہے تو، اس کو لازمی طور پر اسرائیل کو اسی اخلاقی معیاروں پر رکھنا چاہیے جو کسی بھی  دوسرے مغربی ملک کے لیے رکھتا ہے-  [لنک ]

Zionist-Freemasonry Takeover

ایک اکتوبر 2015 کے ایڈریس میں پوپ فرانسس نے نہ صرف یہ اعلان کیا کہ ‘اسرائیل کی حفاظت اور سلامتی میں ہر ایک کا حق موجود ہے’ اور  صیہونیزم مخالف سامعیت کی ایک شکل ہے. ایسا کرنے میں،اس نے کیتھولک  کی یہودی ریاست مخالفت کی ایک طویل روایت کو ختم کر دیا-[صدیوں سے کیتھولکس پر فری میسن میں شمولیت ممنوع تھی ایئر اب بہ ہی … مگر کیا تلمودی فری میسن، ویٹیکن میں داخل ہو گۓ؟ (لنک …)]

یہودیوں کے مسیحیت اور یسوع مسیح کے متعلق نظریات – ( تلمود ) 

یہودی حاخامات کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے طورسینا پر موسی علیہ السلام پر دو شریعتیں نازل کی: (١) مکتوب شریعت (٢)زبانی شریعت- ( یعنی تورات کی تفسیر ). چنانچہ یہود کے اندر دہری شریعت کا آغاز ہوا اور 40 نسلوں تک یہ سری شریعت زبانی منتقل ہوتی رہی اور یہودی حاخامات زبانی و سری شریعت کی آڑ میں تورات کی من مانی تفسیر کرتے رہے۔ زبانی شریعت کے مکتوب نہ ہونے کی وجہ سے یہودی قوم متعین عقائد پر متفق نہیں تھی۔ ہر یہودی ربی کی اپنی تشریح و تفسیر ہوتی، جس پر اس کے خاندان اور متبعین یقین رکھتے تھے۔ تلمود یہودیوں کی ایک وحشتناک کتاب ہے، تلمود یہودیوں کی شرارتوں کا خزانہ ہے- یہودی ’’ خاخاموں‘‘ نے  توریت پر مختلف خود ساختہ شرحیں اور تفسیریں لکھیں ہیں۔ ان تمام شرحوں اور تفسیروں کو خاخام ’’ یوخاس‘‘ نے ۱۵۰۰ ء میں جمع بندی کر کے اس میں کچھ دوسری کتابوں کا جو ۲۳۰ ء اور ۵۰۰ ء میں لکھی گئی تھیں اضافہ کر دیا۔ اس مجموعہ کا ’’تلمود‘‘یعنی تعلیم دیانت و آداب یہود کے نام سے موسوم کیا گیا۔ یہ کتاب یہودیوں کے نزدیک بہت تقدس کی حامل ہے اور توریت و عہد عتیق کے مساوی حیثیت رکھتی ہے۔ ( بلکہ توریت سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہے جیسا کہ گرافٹ نے کہا: جان لو کہ خاخام کے اقوال پیغمبروں سے زیادہ بیش قیمت ہیں)۔

یہودیوں کی خود پرستی اور مسیحیت ، انسایت مخالف یہودی عقائد سے آشنائی کے لیے اس کتاب کےچند جملے نقل کئے جا رہے ہیں۔

    • یسوع مسیح کافر ہے اس لیے کہ دین سے مرتد اور بتوں کی پرستش میں مبتلا ہو گیا تھا ہر عیسائی جو یہودی مذہب نہ اختیار کرے دشمن خدا، بت پرست اور عدالت سے خارج ہے اور ہر انسان جو غیر یہودی کے ساتھ ذرا سی بھی مہربانی کرے عادل نہیں ہے۔
    • یسوع ناصری(حضرت عیسی علیہ السلام) کو جس نے پیغمبری کا دعوی کیا تھا اور نصرانی (عیسائی) اس کے دھوکے میں آگئے تھے اپنی ماں مریم کے ساتھ جس نے باندار نامی مرد سے زنا کے ذریعہ اس کو پیدا کیا تھا جہنم میں جلایا جائے گا (العیاذ باللہ) نصرانیوں کے کلیسا جس میں آدمیوں کے روپ میں کتے بھونکتے ہیں کوڑے خانے کے جیسے ہیں۔
    • عیسائیوں کو قتل کرنا ہمارے مذہبی واجبات میں سے ہے اور اگر یہودی ان کے ساتھ کوئی پیمان باندھیں تو اس کو وفا کرنا ضروری نہیں ہے، نصرانی مذہب کے روساء پر جو یہودیوں کے دشمنوں ہیں ہر روز تین مرتبہ لعنت کرنا ضروری ہے۔
    • یہودیوں پر لازم ہے کہ ہر روز تین مرتبہ عیسائیوں پر لعنت کریں اور ان کی نابودی کے لیے خدا سے دعا کریں۔
    • ہم پر لازم ہے کہ نصاریٰ کے ساتھ حیوانات جیسا سلوک روا رکھیں۔
    • نصرانیوں کے کلیسا گمراہیوں کا مسکن ہیں اور ان کو ڈھانا واجب و لازم ہے
    • ہم خدا کی منتخب کردہ قوم ہیں لہذا ہمارے لیے انسانوں کی شکل میں حیوانات خلق ہوئے ہیں اس لیے کہ خدا جانتا ہے کہ ہم کو دو طرح کے حیوانوں کی ضرورت ہے ایک بے زبان اور بے شعور حیوانات مثلا چوپائے اور دوسرے باشعور اور زبان رکھنے والے حیوانات مثلا عیسائی، مسلمان اور بودھ مذہب کے پیروکار، ان تمام حیوانات پر سواری کرنے کے لیے خداوند عالم نے ہم کو تمام دنیا میں متفرق کر دیا ہے تاکہ اپنی خوبصورت اور حسین و جمیل بیٹیوں کو غیر یہودی بادشاہوں اور سلاطین کو دیکر دنیا پر حکومت کر سکیں۔
    • اجنبی (غیر یہودی) کتوں کی طرح ہیں ان کے لیے کوئی عید نہیں ہے اس لیے کہ عید کتوں اور اجنبیوں کے لیے خلق ہی نہیں ہوئی ہے۔
    • کوئی پیغمبر مسیح کے نام سے مبعوث نہیں ہوا ہے اور جب تک اشرار (غیر یہودی) کا خاتمہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک مسیح ظہور نہیں کرے گا جب وہ آئے گا تو زمین سے روٹی کا خمیر اور ریشمی لباس اگیں گے یہ وہ موقع ہو گا جب یہودیوں کا تسلط اور بادشاہی ان کو واپس ملے گی اور تمام اقوام و ملل مسیح کی خدمت کریں گی اس وقت ہر یہودی کے پاس دو ہزار آٹھ سو غلام ہوں گے۔
    • عیسائی کو ہلاک کرنا ثواب ہے اور اگر کوئی اس کے قتل پر قادر نہ ہو تو کم از کم اسے اس کی ہلاکت کے اسباب ضرور فراہم کرنا چاہئیں۔
    • جو لوگ مرتد ہوں (یعنی جو یہودی آئین کی خلاف ورزی کریں) اجنبی ہیں اور ان کو پھانسی دینا لازم ہے سوائے اس کے کہ دوسروں کو دھوکہ دینے کے لیے مرتد ہوئے ہوں۔
    • بہشت یہودیوں سے مخصوص ہے اور ان کے علاوہ کوئی بھی اس میں داخل نہیں ہو سکتا لیکن عیسائیوں اور مسلمانوں کا ٹھکانہ جہنم ہے گریہ و زاری کے علاوہ ان لوگوں کے نصیب میں کچھ بھی نہیں ہے اس لیے کہ اس کی زمین بہت زیادہ تاریک اور بدبودار مٹی کی ہے۔
    • یہودیوں پر لازم ہے کہ دوسروں کی زمینوں کو خریدیں تاکہ کوئی اور کسی چیز کا مالک نہ ہو اور اقتصادی طور پر یہودی تمام غیروں پر مسلط ہو سکیں۔ اور اگر غیر یہودی پر غلبہ حاصل کر لے تو یہودیوں کو چاہیے کہ اپنے آپ پر گریہ کریں اور کہیں ہم پر ملامت ہو یہ کیا عار و ننگ ہے کہ ہم دوسروں کے ہاتھوں ذلیل ہو رہے ہیں۔
    • اس سے پہلے کہ یہودی اپنی عالمی حکومت اور بین الاقومی غلبے کو حاصل کر لیں ضروری ہے عالمی جنگ برپا ہو جائے اور دو تہائی انسان نابود ہو جائیں۔ سات سال کی مدت میں یہودی جنگی اسلحوں کو جلا ڈالیں گے اور بنی اسرائیل کے دشمنوں کے دانت بائیس بالشت (جو عام طور پر دانتوں کی مقدار سے ایک ہزار تین سو بیس گنا زیادہ ہے) ان کے منہ سے باہر نکل آئیں گے۔ جس وقت حقیقی مسیح دنیا میں قدم رکھے گا یہودیوں کی دولت اپنی ہو جائے گی کہ اس کے صندوقوں کی چابیاں تین سو گدھوں سے کم پر نہیں ڈھوئی جا سکیں گی۔
  • (ماخوذ از کتاب خطر الیہودیہ العالمیہ )

https://www.urduweb.org/mehfil/threads/66399/ ، 

 https://hshidayat.wordpress.com/2014/01/07/the-satanic-verses-of-the-jewish-talmud-and-zionism/

اسلامی دنیا کی تباہی کا منصوبہ – برنارڈ لوئس پلان Bernard Lewis Plan to Carve up Middle East

 تورات پر عمل کرنے والے اصل مذہبی یہودیوں کے مطابق :

“خالق نے ہزاروں سال پہلے ہم مقدس زمین دی. پھر، جب ہم گنہگار ٹھہرے، تو اس نے زمین کو واپسلے لیا اور ہمیں جلاوطنی میں بھیج دیا. اس وقت کے بعد سے ہمارا کام یہ ہے کہ مسیح کی آمد کا کا انتظار کریں،اس وقت تک جب تک خالق، اکیلا خالق،بغیر کسی انسان کے، بغیر ہاتھ سے  یا زبان سے لفظ کہے بغیر، ہم سب کو اکٹھا کر کہ ہمیں جلاوطنی سے نکل لے گا”- (تورہ یہودی)

بیت المقدس اور مسجد اقصی کی تاریخ:

یروشلم ، فلسطین کا شہر ہے جو تینوں مذہب اسلام ، مسیحیت اور یہودیوں کے لیے مقدس ہے- یروشلم‘ کنعان کے قدیم شہروں میں سب سے معروف شہر ہے۔ آج سے قریباً تین ہزار سال قبل حضرت داوٗد علیہ السلام نے اس شہر کو اپنی عظیم سلطنت’ اسرائیل‘ کا دارالحکومت بنایا۔ یہیں سے اس شہر کی عظمت اورمرکزی حیثیت کو ایک نیا مقام و مرتبہ حاصل ہوا۔  یہاں حضرت سلیمان کا تعمیر کردہ معبد ہے جو بنی اسرائیل کے نبیوں کا قبلہ تھا اور اسی شہر سے ان کی تاریخ وابستہ ہے۔ یہی شہر حضرت عیسٰی کی پیدائش کا مقام ہے اور یہی ان کی تبلیغ کا مرکز تھا۔ اسی شہر میں آپ ؑ نے اپنی دعوت و تبلیغ کا آغاز کیا اور مسیحی عقائد کے مطابق یہیں ان کو مصلوب کیا گیا۔ 

دین اسلام میں بھی اس شہر کی اہمیت مسلمہ ہے۔

قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالٰی نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:
” پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالٰی ہی خوب سننے والا اوردیکھنے والا ہے (سورہ الاسراء آیت نمبر 1) “
پیغمبر اعظم و آخرﷺنے تمام انبیاے کرام ؑ کی امامت بھی اسی شہرمیں فرمائی اور معراج کے سفر کا آغازبھی اسی مقام سے ہوا۔ احادیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں۔   مسلمان تبدیلی قبلہ سے قبل تک اسی کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے تھے۔ گویا یہ شہر بہ یک وقت دنیا کے تین اہم ترین ادیان کے لیے دینی مرکزکی حیثیت کا حامل ہے۔  پرھتے جائیں >>>>>

اسرایئل امریکہ کی حمایت سے یرشلم کو اپنا دارالحکومت بنانا چاہتا ہے، جس میں امریکی صیہونی مسیحی پیش پیش ہیں- وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ اس کی حقیقت جاننے کے لیے ضروری ہے کہ ہم کوامریکہ میں مسیحی بنیاد پرست لوگوں کے متعلق معلومات ہوں۔

صیہونی مسیحی Christian Zionists

کچھ عرصہ پہلے ایک سروے کے مطابق یہ معلوم ہواکہ یہ بنیاد پرست مسیحی جن کو صیہونی مسیحی Christian Zionists بھی کہا جا سکتا ہے، اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ:

“بائبل کے مطابق ان کی مذہبی ذمہ داری ہے کہ وہ  اسرائیل کی قوم کوسپورٹ کریں۔”

اس نظریے کو مسیحی صہونیت  Christian Zionism کہا جاتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق چار میں سے ایک امریکن کو “صیہونی مسیحی” کہا جاسکتا ہے جبکہ ییو ریسرچ سینٹر Pew Research Center کے مطابق سفید فام مسیحی مبلغین میں سے63 فیصد صیہونی نظریہ کے حامی ہیں۔ اس نظریے کے حمایت کرنے والے پرانے قسم کے مسیحی چرچ میں کم لوگ ہیں، جو تاریخی طور پر اقوام متحدہ کے اصولوں اور بنیادی نسانی حقوق، بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں فلسطینیوں کے ساتھ نرم رویہ رکھتے۔

صیہونی مسیحیت کی ابتدا انیسویں صدی میں ہوئی جب برطانوی کرسچن رہنما نے یہودیوں کے لیے فلسطین میں اکٹھا ہونے کو یسوع مسیح کی دوبارہ آمد کے لیے شرط قرار دیا۔ اس تحریک کو انیسویں صدی کے درمیان میں مزید تقویت ملی جب برطانیہ اور فرانس اور جرمنی کے نوآبادیاتی دلچسپیاں مشرق وسطی میں بڑھ گئی۔ مسیحی صہونیت در اصل “یہودی صہونیت” Jewish Zionism  سے 50 سال قبل شروع ہوئی۔ “یہودی صہونیت تحریک کے بانی Theodore Herzl’s کے پرجوش سپوٹر میں عیسائی علماء شامل تھے۔ لیکن تحریک س سے بھی بہت پہلے شروع ہو چکی تھی …..

صہونیت کے پروٹوکولز :

ایک وقت آئے گا جب ہم پوری دنیا پر قابض ہوجائیں گے۔ یہ تھوڑے سے عرصے میں نہیں ہوگا اس کے لیے شاید ایک دو صدی درکار ہو۔ ہم بے رحمی سے اپنے خلاف ہتھیار اُٹھانے والوں اور ہمارے اقتدار کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو قتل کریں گے۔ کسی بھی شے سے متعلق تمام اداروں بشمول خفیہ تنظیموں کو بھی موت کی نیند سلادیا جائے گا۔ موجودہ خفیہ تنظیمیں جنہوں نے ہماری بڑی خدمت کی ہے اور کررہی ہیں، ہم ان کو بھی ختم کردیں گے اور انہیں یورپ کے دوردراز علاقوں میں جلاوطن کردیں گے۔ فری میسن کے غیریہودی ممبران کے ساتھ بھی ہمارا یہی رویہ ہوگا کیونکہ یہ لوگ ہمارے بارے میں کافی معلومات رکھتے ہیں لیکن اگر مصلحتاً ہمیں ان سے صرف نظر کرنا پڑا تو بھی انہیں جلاوطنی کے خوف تلے رکھا جائے گا۔“ “

یہ اقتباس جس کتاب سے لیا گیا ہے اس کا مشہور نام ”پروٹوکولز“ ہے۔ ”Protocols“ دیکھنے میں تو وہ محض ایک عام سی کتاب لگتی ہے مگر یہ کئی اعتبار سے انوکھی ہے۔ ایک تو اس وجہ سے عام طورپر کسی کتاب کو ایک یا دو فرد لکھتے ہیں مگر اس کتاب کو یہودی داناؤں کی ایسی جماعت نے لکھا جو دنیا بھر سے منتخب کی گئی تھی۔ اپنے فن یعنی خفیہ منصوبہ بندی، فریب کاری، مکاری، سنگ دلی، بے رحمی اور اخلاقیات سے عاری پن میں اتنی نمایاں تھی اس کے ان ”اوصاف“ کو دوست دشمن سب مانتے ہیں۔ اس کتاب کو اس اعتبار سے بھی منفرد قرار دیا جائے گا اس میں دنیا کے لیے خیر کی کوئی بات نہیں ۔ اس میں جو کچھ تھا وہ بنی نوع انسان کے لیے شر ہی شر تھا۔ اس کے مصنفین نے اپنے لیے تو سب کچھ سوچ سمجھ کر ترتیب دیا لیکن غیر یہود کے لیے ان کم ظرفوں کے پاس سوائے بدخواہی کے کچھ نہ تھا۔ عام طورپر لکھی جانے والی کتابیں چھپنے کے لیے لکھی جاتی ہیں لیکن صہیونیوں کی پہلی اور آخری کوشش تھی یہ کسی بھی طرح منظرعام پر نہ آنے پائے۔ پھر سوال ہے یہ کتاب غیر یہود کے ہاتھ کیسے لگی؟ جس چیز کو سات پردوں میں چھپا کر رکھا گیا تھا وہ منظرعام پر کیسے آگئی؟ یہ داستان بڑی عجیب اور دلچسپ ہے۔ [لنک… ] ..

مشہور امریکی سرمایہ کار اور دانشور ”ہنری فورڈ“ نے 17 فروری 1921ء کو ”نیویارک ورلڈ“ میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہاتھا:”ان پروٹوکولز کے بارے میں صرف اتنا کہنا کافی سمجھتا ہوں دنیا کا منظرنامہ حرف بہ حرف ان پیش بندیوں کے مطابق ہے جو اس کتاب کے مصنفین نے ترتیب دی تھیں۔“ پروٹوکولز میں جو منصوبے اور سازشیں ترتیب دی گئی تھیں وہ حیرت انگیز طورپر پوری ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ [مزید تفصیل ، کتاب ڈونلوڈ انگلش اور اردو .. لنک ..]

‘مسیحی صہونیت’ جدید فکری اور سیاسی موومنٹ میں سب سے زیادہ شدت پسند ‘نظریاتی صہونیت’ ہے۔ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان کسی امن کے معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ ایسا بین الاقوامی نظریہ پیش کرتے ہیں جس میں مسیحی پیغام صرف نظریاتی بادشاہت، نوآبادیت. شدت اور جنگ پسندی کی شکل اختیار کر لیتے۔

صیہونی مسیحی Christian Zionists اپنے شدید نظریات میں ایسی پیشین گوئیاں کرنے پر یقین رکھتے ہیں جس میں انسانی تاریخ کا خاتمہ اور دنیا کی تباہی ہوگی، نہ کہ یسوع  مسیح کی تعلیمات جو کہ موجودہ زندگی میں  محبت انصاف پسندی کا درس دیتی ہیں۔

مسیحی صہونیت کو ماننے والے اسباب پر مکمل یقین رکھتے ہیں کہ 1948 میں اسرائیل کا وجود پذیر ہونا اور 1963 میں یورشلم پر قبضہ کرنا خدا کی طرف سے معجزاتی طور پر حضرت ابراہیم سے خدا کا کیا وعدہ پورا کرنے کے اقدام تھے تاکہ فلسطین میں ایک یہودی حکومت ہمیشہ کے لئے قائم ہوجائے۔ اس موضوع پر مختلف لوگوں کی طرف سے لکھی گئی کتابیں 100 ملین سے زیادہ فروخت ہوئیں، بچوں کی کتابیں، ویڈیوز اور کمپیوٹر گیمز ان  کے علاوہ ہیں۔

(ابراہم سے خدا کا وعدہ مشروط تھا ، خدا کی مکمل اطاعت سے، جس  کا ذکر نہیں کیا جاتا، یہ ان لوگوں کا دھوکہ اور جھوٹ ہے، تفصیل )

عیسائی صیہونیزم ہمیشہ ذہین، صحیح سوچنے والے عیسائیوں اور یہودیوں کی طرف سے مسترد کردیا گیا ہے- اس کی وجوہات کا مختصر جائزہ لینے کے ضروری ہے کہ خدا کے قدیم کلام (بائبل) سے معلوم کیا جائے کہ:

کیا زمین اسرائیل کو غیر مشروط معاہدے پرخدا نے عطا کی ، یا اسرائیل کے رب کی اطاعت، اس عہد کی شرط ہے؟

اس اہم سوال کو حل کرنے کے لئے خدا کے کلام (بائبل) کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے:

پیدائش 17:8-16

8 تُو جس کنعان کی طرف سفر کر رہا ہے وہ تجھے تیری ساری نسلوں کو ہمیشہ کے لئے دُوں گا۔ اور کہا کہ میں ہی تمہا را خدا ہوں۔” 9 اِس کے علا وہ خدا نے ابراہیم سے کہا ، “ہما رے معاہدے کے مُطا بق تُو اور تیری ساری نسل کو ہمارے تمام معاہدے کا شکر گذار ہو نا چاہئے۔ 10 تو اور تیری نسل اس معاہدے کا ضرور پالن کرے کہ ہر ایک مَرد کا ختنہ ضرور کیا جانا چاہئے۔ 11 تم اپنے چمڑے کو کاٹ ڈالو گے یہ دکھا نے کیلئے کہ تم معاہدہ کا پالن کر تے ہو۔ 12 آج کے بعد سے تمہا رے پاس پیدا ہو نے وا لے ہر نرینہ بچے کو پیدا ئش کے آٹھ دِن بعد ختنہ کر وانا ہو گا۔ یہ قاعدہ و قانون تمہا رے گھر میں پیدا ہو نے وا لے خادِموں کیلئے اور غیر ممالک سے خرید کر لا ئے گئے نوکروں کے لئے بھی لا زمی ہو گا۔ میرے اور تیرے درمیان ہو ئے معاہدہ کیلئے یہ بطور نشانی ہو گا۔ 13 اس طرح ہر ایک لڑکا کا ختنہ کیا جانا چاہئے۔ تمہا رے گھر میں پیدا ہو نے وا لے ہر ایک لڑکے یا پھر خریدے گئے ہر ایک لڑکے کے ساتھ یہی کیا جانا چاہئے۔ جو معاہدہ میں نے تیرے ساتھ کیا ہے ہمیشہ کیلئے رہیگا۔ 14 کو ئی بھی نرینہ اولا د جس کا ختنہ نہ کیا گیا ہو اسے اپنے لوگوں سے کاٹ دیا جا ئے گا۔ کیو نکہ اس طرح کی اولاد میرے معاہدہ کی نا فرمانی کر رہی ہے۔”

تبصرہ:  اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عہد مشروط تھا،عہد اور زمین کی حوالگی ختنہ کی بنیاد پر مشروط تھے، لیکن معاملہ صرف ختنہ تک محدود نہیں، جیسا کہ بائبل کے مزید احکام آگے آ رہے ہیں، ان میں موسی کو دیا گیا قانون ، انسانوں کے ساتھ انصاف اور بہتری کا سلوک بھی شامل ہیں-

خروج 19:5

5 اس لئے اب میں کہتا ہوں کہ تم لوگ اب میرا حکم مانو ، میرے معاہدہ کی تعمیل کرو۔ اگر تم میرا حکم مانوگے تو تم میرے خاص لوگ بنو گے۔ ساری دنیا میری ہے۔

تبصرہ: عہد اسرائیلیوں کی فرمانبردار پر مشروط ہے.

گنتی 14:30

30 تم لوگوں میں سے کو ئی بھی کبھی اُس ملک میں داخل نہیں ہوگا جسے میں نے تم کو دینے کا وعدہ کیا تھا۔ صرف یفنہ کا بیٹا کالب اور نون کا بیٹا یشوع اُس ملک میں دا خل ہوں گے۔

تبصرہ: اسرائیل کی نافرمانی کی وجہ سے، خدا نے باغیوں کی موت کی عمر تک تقریبا 40 سال تک زمین میں ان کی داخلی تاخیر میں تاخیر کی. اگر زمین کا قبضہ غیر مشروط تھا تو، اسرائیلیوں کو ان کی نافرمانی کے باوجود، فوری طور پر کنعان داخل کرنے کے قابل ہوسکتا تھا. اس سے بلا شک و شبہ ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیل کا زمین پر قبضہ غیر مشروط نہیں تھا.

استثناء 4:25,26

25 “جب تم اس ملک میں بہت عرصے تک رہ چکو اور تمہا ری اولاد اور پو تے ہوں تو اپنے کو تباہ نہ کرو۔ بُرا ئی نہ کرو کسی بھی شکل میں کو ئی مورتی نہ بنا ؤ۔ خدا یہ کہتا ہے کہ یہ بُرا ہے۔ اس سے وہ غصّہ میں آئے گا۔ 26 اگر تم اس بُرا ئی کو کرو گے تو میں زمین اور آسمان کو تمہا رے خلا ف گوا ہی کے لئے بُلا تا ہوں۔ تم بہت جلد ہی تباہ ہو جا ؤ گے۔ تم اس ملک کو لینے کے لئے دریا ئے یردن پا ر کر رہے ہو۔ لیکن تم وہاں لمبے عرصے تک نہیں رہو گے۔ تم پو ری طرح تباہ ہو جا ؤگے۔

تبصرہ: زمین کا قبضہ مشروط ہے، اور اگر لوگ نافرمانی کرتے ہیں اور مورت پرستی کرتے ہیں تو کھو جائیں گے.

استثنا 7:12,13

12 “اگر تم میرے ان اصولوں پر غور کرو گے اور ان کی تعمیل میں ہوشیار رہوگے تو خداوند تمہا را خدا تم سے محبت کے عہد کو پو را کرے گا اس نے یہ وعدہ تمہا رے آبا ء و اجداد سے کیا تھا۔ 13 وہ تم سے محبت کرے گا اور تمہیں برکت دیگا۔ تمہا ری قوموں میں لوگ برا بر بڑھتے جا ئیں گے۔ وہ تمہیں بچے ہو نے کے لئے برکتیں دیگا۔ وہ تمہا رے کھیتوں میں انا ج کے لئے برکت دے گا۔ وہ تمہیں اناج ، نئی مئے اور زیتون کا تیل دے گا۔ تمہا ری گا ئیوں کو بچھڑے اور تمہا رے مینڈھوں کو میمنے پیدا کرنے کی برکت دے گا۔ تم وہ سبھی برکتیں اس ملک میں پا ؤ گے جسے تمہیں دینے کا وعدہ خداوند نے تمہا رے آ با ؤ اجداد سے کیا تھا۔

تبصرہ: زمین کا قبضہ خدا کے فیصلوں کو سنبھالنے پر مشروط ہے. یہ منظوری، اور دوسرے عہدے داروں جیسے جیسے استثنا 11، ‘اگر’ سے بھرا ہوا ہے تو یہ معاہدہ غیر مشروط طور پرکیسے کہا جاسکتا ہے اگر یہ اسرائیلیوں کی فرمانبرداری پر مکمل طور پر منحصر ہے؟ اور کیوں خدا اپنے لوگوں کے ساتھ ایک عہد بناۓ گا جس میں اچھے رویے کے لئے کوئی حوصلہ افزائی نہیں ہے اور نافرمانی کے لئے پابندیاں نہیں ہیں؟

استثنا 11:16,17

16 لیکن ہو شیار رہو۔ اپنے آ پ کو لا لچ میں پھنسا کر دیوتا ؤں کی پرستش اورخد مت کرنے کے لئے انکی طرف مُڑ نے نہ دو۔ 17 اگر تم ایسا کرو گے تو خداوند تم پر غصّہ کریگا وہ آسمان کو بند کر دیگا اور بارش نہیں ہو گی زمین سے فصل نہیں اُ گے گی اور تم اس اچھے ملک میں جلد مر جا ؤ گے جسے خداوند تمہیں دے رہا ہے۔

استثنا 11:31,32

31 “تم دریا ئے یردن کو پا ر کر کے جا ؤ گے۔ تم اس ملک کو لوگے جسے خداوند تمہا را خدا تم کو دے رہا ہے۔ یہ ملک تمہا را ہو گا۔ جب تم اس ملک میں رہنے لگو تو ، 32 اُن سبھی احکام اور اُصولوں کی تعمیل ہوشیاری سے کرو جنہیں آج میں تمہیں دے رہا ہوں۔

تبصرہ : ذمہ داری ‘اور’ مشاہدہ ‘ایک پیکج کے معاہدے کے طور پر مل کر جانا – اگر یہ لوگ  زمین پر قبضہ کررہے ہیں، تو انہیں خدا کے قوانین کا مشاہدہ کرنا ہوگا. اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے تو انہیں زمین سے نکال دیا جائے گا.

دوم تو اریخ 7:20

20 تو میں بنی اسرائیلیوں کو اپنے ملک سے باہر کروں گا جسے میں نے انہیں دیا ہے۔ میں اس گھر کو اپنی نظروں سے دور کردونگا جسے میں نے اپنے نام کے لئے مقدس بنایا ہے۔ میں اس ہیکل کو ایسا بناؤنگا کہ تمام ملک اس کی برائی کریں گے۔

تبصرہ : زمین اسرائیلوں کی نہیں بلکہ خدا کی ہے

دوم سلاطین 21:8,92 (زمین موسی کے قوانین شریعت پر عمل سے مشروط)

یرمیاہ  7:3,6

3 خداوند قادرمطلق اسرائیل کا خدا یوں فرما تا ہے، ’ اپنی زندگی بد لو اور اچھے کام کرو گے تو تم اس مقام پر رہو گے۔ 4 اس جھوٹ پر یقین نہ کرو جو کچھ لوگ بولتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، “یہ خداوند کا گھر ہے۔  خداوند کی ہیکل ہے۔” 5 اگر تم اپنی زندگی بد لو گے اور اچھا کام کرو گے، تو میں تمہیں اس مقام پر رہنے دو ں گا۔ تمہیں چا ہئے کہ ایک دوسرے کے ساتھ انصاف سے رہو۔ 6 تمہیں اجنبیوں کے ساتھ بھی بہتر رہنا چا ہئے تمہیں بیوہ اور یتیم بچوں کے لئے اچھا کام کرنا چا ہئے۔ بے گناہ کا خون نہ بہا ؤ۔غیر خداؤں کی پیروی نہ کروکیوں؟ کیونکہ وہ تمہا ری زندگی کو نیست و نابود کر دیں گے۔ 7 اگر تم میرا حکم مانو گے تو میں تمہیں اس مقام پر رہنے دو ں گا۔میں نے یہ ملک تمہارے با پ دادا کو اپنے پاس رکھنے کیلئے دیا۔

تبصرہ : زمین کا وعدہ واضح طور پر یہود کی اخلاقی حالت میں ان کی سخت تبدیلیوں سے واضح طور پر مشروط ہے- فلسطنیوں پر مظالم، ان کا قتل عام، ان سے غیر انسانی سلوک ، ان کے گھروں سے بیدخلی، دیوار بنا کر قید کی شکل، انسانی حقوق کی خلاف درزی بائبل میں خدا کے احکام  (یرمیاہ  7:3,6) کی صریح خلاف درزی ہے ، بلکہ خدا سے بغاوت ہے-

ابراہیم کی نسل اور بیٹے کون ہیں؟

بلا شک یہودی ابراہیم کی اولاد اس کی نسل سے ہیں، مگر کیا ابراہیم کی اولاد، نسل صرف  یہودی ہی ہیں اور کوئی نہیں؟  بائبل میں کم از کم بارہ  (12) جگہ اسمعیل ( عرب قوم کے جد امجد ) ابراہیم اور ہاجرہ کے نسلی بیٹے  کا تذکرہ کیا گیا ہے-

ہا جرہ نے اَبرام کے بیٹے کو جنم دیا۔ اور اَبرام نے اُس بیٹے کا نام اِسمٰعیل رکھا۔ 16 اَبرام جب چھیا سی برس کے ہو ئے تو ہاجرہ سے اِسمٰعیل پیدا ہو ئے۔”( پیدائش 16:15)

( پیدائش 16:15, 17:23,17:25,17:26,25:9, استثنا 21:26)

( میں تیرے ساتھ ایک معاہدہ کروں گا۔ اور یہ معاہدہ تیری تمام نسلوں کے لئے ہو گا۔ پیدائش 17:7)

اگر خدا اسماعیل کو ابراہیم کا بیٹا اور نسل  کے طور پر تسلیم کرتا ہے اور حق دیتا ہے تو کسی اور کی کیا جرأت ہے کہ اس کے حق کا انکار کرے- خدا پہلوٹھی کے لڑکے کا حق تسلیم کرتا ہے:

جب وہ اپنی جائیداد اپنے بچوں میں تقسیم کرے تو زیادہ چہیتی بیوی کے بچے کو وہ خاص چیزیں نہیں دے سکتا جو پہلو ٹھے بچے کی ہو تی ہیں۔”(استثنا 21:16)

میں تمہیں بہت ساری نسلیں دوں گا۔ پوری قوم اور تمام بادشاہ تم ہی میں سے آئینگے- میں تیرے ساتھ ایک معاہدہ کروں گا۔ اور یہ معاہدہ تیری تمام نسلوں کے لئے ہو گا۔” (پیدائش7, 17:6)

تبصرہ :

اسماعیل (عرب) اور اسحاق کے بچے  (یہودی) امن اور ہم آہنگی سے مقدس زمین میں مل جل کر امن و محبت سے کیوں نہیں رہ سکتے، تاکہ وہ  وعدے کی زمین میں خدا کے برکتوں سے لطف اندوز ہوں ؟

بائبل کی پیشن گوئیووں کی اصل اور سچائی کا ٹیسٹ:

خدا نے تورات میں ایک امتحان رکھا ہے, اس ٹیسٹ سے  کوئی شخص اس بات کا یقین کرسکتا ہے کہ کیا  کوئی ایک پیشن گوئی جو خدا سے  منسوب ہے اصل میں خدا کا  کلام یا نہیں:

تم سوچ سکتے ہو ، ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ نبی جو کہتا ہے وہ خداوند کی بات نہیں ہے۔ اگر کوئی نبی کہتا ہے کہ وہ خداوند کی جانب سے کچھ کہہ رہا ہے لیکن وہ جو کہتا ہے سچ نہیں ہو تا تو تمہیں سمجھ لینا چا ہئے کہ یہ خداوند کی بات نہیں ہے بلکہ یہ اسکی اپنی سوچی ہو ئی بات ہے۔ تمہیں اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔(استثناء 18:21,22)

آیے اس زمین کی پیشن گوئی (پیدائش 17:8)کی حقیقت کو تورات کے  طریقه سے ٹیسٹ کرتے ہیں:

تورہ کے مطابق ابراہیم اور اسکے بیٹوں اسحاق اور اسماعیل نے اسےغار میں دفن کیا جو اس علاقےتھا جو ابراہیم نے ‘ہرب’ کے بیٹوں سے خریدا تھا اس نے ابراہیم اور اس کی بیوی سارہ  کو دفن کیا:

اُس کے بیٹے اِسحاق اور اسمٰعیل نے ممرے کے نزدیک مکفیلہ کے غار میں اُس کی قبر بنائی۔ یہ غار حتی صحر کے بیٹے عِفرون کے کھیت میں ہے۔ ابراہیم کی حتیوں سے خریدی ہو ئی اِس جگہ ہی میں ابراہیم کو اور اُس کی بیوی سارہ کے پاس دفن کر دیا گیا۔” (پیدائش 25:9,10)

اب بائبل سے ہی  مزید معلوم  ہوتا ہےکہ خداکا ابراہیم اور بزرگوں سے وعدہ ایفا نہ ہو سکا ، نامکمل رہا:

یہ تمام لوگ ایمان کی حالت میں مرگئے اور وعدہ کی ہو ئی چیزوں کو نہ پا ئے لیکن دور سے انہیں دیکھ کر خوش ہو کر اقرار کئے کہ وہ زمین پر ایک مسافر ہیں۔” (عبرانیوں 11:13)

اس سے زیادہ مکمل واضح بیان مقدس بائبل کے ہو سکتا ہے؟

خدا نے ابراہیم سے کہا، “تم اپنے ملک اور لوگوں کو چھوڑو اور ایسے ملک کو چلے جاؤ جو میں تمہیں بتاؤنگا.  اس لئے ابراہیم نے کلدیہ کو چھوڑا اور حاران میں جا بسا اور وہاں اسکے باپ کے مرنے کے بعد خدا نے اسکو اس ملک میں لا کر بسا دیا جہاں اب تم رہتے ہو۔  لیکن خدا نے اسکو یہاں کی زمین کی کوئی میراث نہیں دی حتٰی کہ قدم رکھنے کو بھی زمین نہیں دی لیکن خدا نے ابراہیم سے وعدہ کیا کہ آئندہ اسکو اور اسکے بچوں کو یہ زمین دیگا۔ اس وقت ابراہیم کے کوئی اولاد نہیں تھی۔(رسولوں 7:3,4,5)

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا برتر عظیم کبھی ایسے وعدے نہیں کر سکتا- خدا کہتا ہے کہ جب وہ وعدہ کرتا ہے تو اس کو پورا بھی کرتا ہے:

تم سوچ سکتے ہو ، ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ نبی جو کہتا ہے وہ خداوند کی بات نہیں ہے۔ اگر کوئی نبی کہتا ہے کہ وہ خداوند کی جانب سے کچھ کہہ رہا ہے لیکن وہ جو کہتا ہے سچ نہیں ہو تا تو تمہیں سمجھ لینا چا ہئے کہ یہ خداوند کی بات نہیں ہے بلکہ یہ اسکی اپنی سوچی ہو ئی بات ہے۔ تمہیں اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔(استثناء 18:21,22)

اس سے یہ نتیجہ نکتہ ہے کہ یہودیوں کا فلسطین کی زمین کی ملکیت کا خدائی وعدہ (پیدائش 17: 8 )  کا دعوی موسی علیہ السلام کی  آخری وصیت اور عہد نامہ میں درج کردہ ٹیسٹ سے باطل قرار ٹھرتا ہے-

متّی 21:43

43 “اسی وجہ سے میں تم سے جو کہتا ہوں وہ یہ کہ خدا کی بادشاہت تم سے چھین لی جائیگی اس خدا کی بادشاہت کو خدا کی مرضی کے مطابق کام کر نے والوں کو دی جائیگی۔ 44 جو شخص اس پتھّر پر گریگا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیگا۔ اور اگر پتھّر اس شخص پر گریگا تو یہ اس شخص کو کچل ڈالیگا۔”

متّی 23:38 دیکھو! تمہارا گھر پوری طرح خالی ہو جائیگا۔

تبصرہ :  مسیح کے ان الفاظ سے فریسیوں کے بارے میں بات کرنے کے صرف ایک نسل کے بعد ، رومیوں نے 70عیسوی میں یروشلم اور اس کے باشندوں کو تباہ کر دیا، جیسا کہ مسیح نے پیش گوئی کی- (متی23:35,36  لوقا44 ,19:41,43)

تیوٹس اور شهنشاہ ہریریان نے 70 سال بعد بچے کھچے یہودیوں کو فلسطین سے نکال دیا تھا. یہوداہ کے ‘بادشاہی’ اور ‘گھر’ جس میں شامل زمین کی گزارش شامل تھی، ان سے لےلیا گیا  کیونکہ انہوں نے موسی کا قانون مسترد کر دیا، خاص طور پراستثنا 18: 15-19، جس نے انہیں حکم دیا گیا تھا کہ جب مسیح آئے تو اس کو قبول کریں مگر اس کو قبول کرنے کی بجائے، انہوں نے اسے سولی چڑھا نے  کو کیا. بادشاہت جس کو یہودیوں کی طرف سے مسترد کر دیا گیا ان اہل ایمان یہودیوں اور غیریہودی عیسائیوں کو دی گی- اب ان کے ساتھ زمین کا وعدہ اب آسمانی طور پر فطرت میں ہے، نہ کہ  زمینی- (گلتیوں 4:25,26, عبرانیوں11:13,16).

آخری نبی اور رسول کی بائبل میں پشین گوئی :

ابراہیم کے بڑے بیٹے اسمعیل کی نسل (عرب) سے آخرری نبی اور رسول حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی نبوت اور  ‘قرآن’  کی پیشنگوئی کا ذکر بائبل میں موجود ہے، مختصر طور پر کچھ ریفرنس درج ذیل ہیں تفصیلات کے لیے لنک آخر میں موجود ہیں –

“میں تمہا ری طرح ایک نبی اُن کے لئے بھیج دوں گا وہ نبی انہی لوگوں میں سے کو ئی ایک ہو گا۔ میں اسے وہ سب بتا ؤں گا جو اسے کہنا ہو گا اور وہ لوگوں سے وہی کہے گا جو میرا حکم ہو گا۔  یہ نبی میرے نام پر بولے گا اور جب وہ کچھ کہے گا تب اگر کو ئی شخص میرے احکام کو سننے سے انکار کرے گا تو میں اس شخص کو سزا دو ں گا۔” (استثنا18:18,19)

جب کتاب اس کو دی گئی جوکہ ان پڑھ ہے اور کہا کہ اس کو پڑھو میں تمھارے لیے دُعا کرونگا تو اس نے کہا کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں۔ (بائبل ، یسعیاہ کی کتاب ، سورة 29 آیت 12)

وہ بہت میٹھا ہے،ہاں: وہ بہت پیارا ہے۔ یہ میرا محبوب ہے اور یہ میرا دوست ہے،اے یروشلم کے بیٹیوں [بائبل ، سلیمان کے گیت (songs of solomon) ، سورة 5، آیت 16]

یوحنا کی کتاب سورة 14 آیت 16:

اور میں خُدا سے دُعا کروں گا اور وہ تمھیں ایک مددگار دے گا جو تمھارے ساتھ،ہمیشہ رہے گا۔

یوحنا (John) کی کتاب سورة 15 آیت 26

میں تمھارے پاس مددگار بھیجوں گا جو میرے باپ کی طرف سے ہوگا وہ مددگار سچائی کی روح ہے جو باپ کی طرف سے آتی ہے جب وہ آئے گا تو میرے بارے میں گواہی دے گا۔

یوحَنّا کی کتاب سورة 16 آیت 7

میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمھارے لیے بہتر ہے کیوں کہ اگر میں جاتا ہوں تو تمھارے لیے مددگار بھیجوں گا۔اگر میں  نہ جائوں تو تمھارے پاس مددگار نہ آئے گا۔

‘احمد’ یا ‘محمد’ کا مطلب ہے وہ شخص جس کی تعریف کی جاتی ہےیا وہ جس کی تعریف کی گئی ہو۔یہ تقریباً یونانی لفظ پے ری کلایٹس (Periclytos) کے معنی ہے۔یوحَنّا کی کتاب کے سورة 16آیت 16، سورة 51 آیت 26 اور سورة 16 آیت 7 میں یونانی لفظپے ری کلیٹاس(Peraclytos) کا انگریزی میں ترجمہ (comforter)کم فرٹر یعنی مددگار لفظ سے کیا گیا ہے۔حالانکہ (Peraclytos) کے معنی ہے وکیل یا ایک مہربان دوست۔اسکا مطلب مددگارنہیں ہے۔جو انگریزی ترجمہ میں استعمال کیا گیا ہے۔ (Paracletos)پے ری کلیٹاس لفظ (Pariclytos) پے ری کلایٹس کی ٹیٹری شکل ہے۔عیسی نے درحقیقت احمد کا نام لے کر پیش گوئی کی۔نیز یونانی لفظ پے راکلیٹ (Paraclete) محمدۖ کی طرف اشارہ کرتی ہے جو سارے جہان کے لیے رحمت ہے۔
بعض مسیحی یہ کہتے ہیں کہ لفظ مددگار (Comforter) جس کا ذکر ان پیش گوئیوں میں کیاگیا ہے،یہ روح القدس (Holy spirit) کی طرف اشارہ کرتی ہے۔لیکن یہ اس بات کو سمجھنے میں ناکام ہوگئے ہے کیونکہ پیش گوئی میں یہ صاف ذکر ہے کہ جب یسوع اس دنیا سے چلا جائے گا تب مددگار(Comforter)آئے گا۔حالانکہ بائبل(Bible)یہ بتاتی ہے کہ روح القدس تو پہلے سے زمین پر موجود تھا عیسی کے زمانے میں بھی اور اس سے پہلے بھی۔وہ الیشبع (Elizabeth) کے رحم میں موجود تھا اور دوبارہ جب یسو کی بپتسمہ یا اصطباغ (Baptism) کی جارہی تھی،وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح یہ پیش گوئی صرف اور صرف محمد کے بارے میں ہے اور صرف اسی کا ذکر کرتی ہے۔

یوحنا کی انجیل سورة 16 آیات 14-12

مجھے تم سے بہت کچھ کہنا ہے مگر ان سب باتوں کو تم برداشت نہ کرسکوگے۔ لیکن جب روحِ حق آئے گا تو تم کو سچائی کی راہ دکھائے گا۔روحِ حق اپنی طرف سے کچھ نہ کہے گا بلکہ وہی کہے گا جو وہ سنتا ہے وہ تمھیں وہی کہے گا جو کچھ ہونے والا ہے اور وہ میری (یعنی یسوع ﷲ) کی بڑائی بیان کرے گا۔

بہت سے یہودیوں اور مسیحیوں  نے ان کو پہچان کر اسلام قبول کیا مگر بہت نے انکار کر دیا- اس طرح وہ خدا کے نافرمان ٹھرے اور عذاب کے مستحق- فلسطین کے مسلمانوں میں ایسے یہودی جنہوں نے اسلام قبول کیا شامل ہیں- مزید تفصیلات >>>

 یسوع مسیح نے فرمایا : “اسی وجہ سے میں تم سے جو کہتا ہوں وہ یہ کہ خدا کی بادشاہت تم سے چھین لی جائیگی اس خدا کی بادشاہت کو خدا کی مرضی کے مطابق کام کر نے والوں کو دی جائیگی۔ “[متّی 21:43 ]

مسلمانوں نے خدا کے احکام پر عمل کیا تو بادشاہت ان کو مل گئ ، پھر جب انہوں نے نافرمانی کا راستہ اختیار کیا تو وہ بھی عذاب اور ذلت کا شکار بن گئے- اسرایئل کا وجود مسلمانوں پر اللہ کے عذاب کی ایک شکل ہے- جب مسلمان اپنا رویہ بدلیں گے تو اس عذاب سے چھٹکارہ پا لیں گے-

مزید ریفرنس:

بائبل کے مطابق خدا کا ابراہم سے زمین کا عہد  غیر مشروط نہیں . خدا کے احکام اور موسی کے قوانین پر عمل سے مشروط ہے-

Ezra 9:12, 14، 1 Kings 9:6-9، 2 Chronicles 7:19-22, Nehemia 1:8-9: Joshua 23:15-16،  Jeremiah 9:13-16، Jeremiah 44:22، Lamentations 1:10، Ezekiel 33:24-26:

جمعیت شناسی, Demography

اسرایئل  کی 8.5 ملین آبادی میں اس وقت تقریبا 74% یہودی رہتے ہیں ، ان میں سے 63% سیکولر ہیں ،   80% خدا کو مانتے ہیں اور 20% ملحد ہیں، خدا کے انکاری- صرف 11.7%  حردی یہودی (Haredi) تورہ کے احکام کو مانتے اور عمل کرتے ہیں جو صیہونیت کے مخالف ہیں کیونکہ اسرایئل کا قیام تورات کے خلاف ہے- اسرایئل میں 31% یہودی یورپ سے ہجرت کرکہ اسرائیل آباد ہوۓ  ہیں ان میں اکثریت روسی اور مشرقی یورپ کے  یہودیوں  کی ہے، جن کا نسلی طور پر ابراہیم یا اسرایئل کی نسل سے کوئی تعلق نہیں-

خازآریہ کی عجیب سلطنت، کیسپین سمندر کے علاقه میں ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی میں موجود تھی- یہ سخت جنگجو ترک نسل کے سینٹرل ایشیا کے لوگ تھے – پھر اچانک  آٹھویں اور نوویں صدی میں حکمران اشرفیہ نے یہودی مذھب اختیار کر لیا- کچھ مورخین کا خیال ہے کہ یہ مذھب کی تبدیلی انہوں نے رومن یا اسلامی سلطنتوں کی چقپلش سے بچنے لئے اختیار کی- خازآریہ کی سلطنت کے اختتام پر بہت سے خازار یہودی یورپ کو ہجرت کر گئے- ان “خازاروں” کی نسل سے مرکزی اور مشرقی  یورپ کے “اشکنزائی یہودیوں” کہلاۓ- [عبرانی بائبل کے مطابق اشکنزائی نوح کی نسل سے ہیں (پیدائش 10:3,اوّل تواریخ1:6)] جنہوں نے “صیہونیت”  کا افسانہ گھڑا تاکہ فلسطین کو نو آبادی بنایا جا سکے اور خازآریہ” کی طرح کی سلطنت قائم کی جا سکے- ان کا فلسطین کی سرزمین سے کوئی تعلق نہیں مگر وہ یہاں کی حکمران اشرفیہ کا ستون  ہیں-

اس طرح یہ دعوی کہ بائبل میں (پیدائش17:8) ارض فلسطین ابراہیم کی نسل کودی گئ,  ان غیر نسلی یہودیوں (converted Jews) پر اور  63% سیکولر یہودیوں پر لاگو کیسے ہو سکتا ہے؟  جبکہ جو 11.7%  حردی یہودی (Orthodox/Haredi) تورہ کے احکام کو مانتے اور عمل کرتے ہیں وہ صیہونیت کو تورہ کی تعلیمات اور خدا کے احکامات کے مخالف سمجھتے ہیں-

ثابت  ہوا کہ اسرایئل کے وجود کا بائبل کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں- یہ فلسطین کو نو آبادی بنانے اور سپر پاور کی طاقت اور سٹریٹجک گیم پلان کا ایک حصہ ہے- اس سے مشرق وسطی کے معدنی ذخائر و دولت اور تجارتی راہداریوں پر کنٹرول، جنگ و جدل سے اسلحہ کو فروخت اورفلسطینی و مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم کے مکروہ پلان ہیں-

نتیجہ :

  1. چونکہ زمین کا وعدہ ، خدا کی اطاعت اور ان کی فرمانبرداری پر مشروط تھی، اوریہودی  خدا کی اطاعت کرنے یا خدا کے ساتھ عہد قائم کرنے میں ناکام رہے، لہذا مسیحیوں پر یہ ہرگز فرض نہیں کہ وہ اسرئیلیوں کو فلسطینیوں کو فلسطین سے بے دخل کرنے کے لئے مدد کریں- عربوں کی زمین جس پر اسرائیلی  قابض ہیں ان کو واپس کرنے سے روک تھام کی ضرورت نہیں- ان کی زمین ان کو واپس کرنا انصاف ہے-
  2. عیسائی صیہونیزم، بائبل کی  سچائی کومسترد کرتا ہے، کیونکہ بائبل متعدد مرتبہ اسرائیل کے ساتھ زمین کے متعلق خدا کے عہد کو خدا کی اطاعت اور موسی کے قوانین پر عمل درآمد سے مشروط کرتی ہے- عیسائی صیہونیت اس وجہ سے شدید مذہبی غلطی پر ہے جو  عیسائیت کے لئے باعث شرمندگی اور ندامت ہے.
  3.  یہوداہ کے ‘بادشاہی’ اور ‘گھر’ جس میں شامل زمین کی گزارش شامل تھی، یہودیوں سے لےلیا گیا  کیونکہ انہوں نے موسی کا قانون مسترد کر دیا، خاص طور پراستثنا 18: 15-19، جس نے انہیں حکم دیا گیا تھا کہ جب مسیح آئے تو اس کو قبول کریں مگر اس کو قبول کرنے کی بجائے، انہوں نے اسے سولی چڑھا نے  کو کیا. بادشاہت جس کو یہودیوں کی طرف سے مسترد کر دیا گیا ان اہل ایمان یہودیوں اور غیریہودی عیسائیوں کو پھر اسمعیل کی نسل (عرب مسلم ) کو دی گی- اب ان کے ساتھ زمین کا وعدہ اب آسمانی طور پر فطرت میں ہے، نہ کہ  زمینی- 
  4. بائبل کی پیشینگویوں کے مطابق آخری نبی اور رسول بنی اسمعیل سے آ چکا ، اب ابراہیم کے بچوں اور تمام ماننے والوں اور انسانیت کو خدا کے آخری رسول اور آخری کتاب کے مطابق ہدایت حاصل کرنا چاہیے اور امن سے مل جل کر رہیں-
  5. اسرایئل  کے ساتھ ساتھ اسمعیل کی نسل (عرب، فلسطینی ) بھی ابراہیم کی نسل ہے، پہلوٹھی کے بیٹے کا حق بائبل میں خدا نے رکھا ہے، دونوں کو مل جل کر امن سے رہنا چاہیے-
  6. موجودہ  اسرایئل کی ڈیموگرافی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں اکثریت سیکولر یہودی ہیں اور وہ جن کا نسلی طور پر ابراہیم یا ان کے بیٹے اسحاق، پوتے اسرایئل کے ساتھ کوئی نسلی تعلق نہیں- یہودیت ایک نسل پرست مذھب ہے – خدا کا وعدہ خدا کے احکام موسی کی قانون ، تورہ پر عمل سے مشروط ہے ، ثابت  ہوا کہ اسرایئل کے وجود کا بائبل کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں- یہ فلسطین کو نو آبادی بنانے اور سپر پاور کی طاقت اور سٹریٹجک گیم پلان کا ایک حصہ ہے- اس سے مشرق وسطی کے معدنی ذخائر و دولت اور تجارتی راہداریوں پر کنٹرول، جنگ و جدل سے اسلحہ کو فروخت اور فلسطینیوں پر انسانیت سوز مظالم کے مکروہ پلان ہیں-
  7. فلسطین میں بہت سے عربی بولنے والے قدم اسرائیلی نسل سے ہیں، جو پہلے مسیحی پھر مسلم ہو گیے-
  8. خدا کا “زمین کا وعدہ” بائبل  میں دییے گیے ٹیسٹ سے سے غلط ثابت ہوتا-
  9. عیسائی صیہونیوں فلسطینیوں اور مشرق وسطی کے آبادی کے دوسرے لوگوں کی طرف نسل پرستی کا پرچار اور اس پر عمل کرتے ہیں- وہ سکھاتے ہیں کہ اسرائیلی باشندوں کے لئے عربوں سے زمین چوری کرنے کا حق ہے اور یہ عیسائوں کا یہ فرض ہے کہ ان کو چوری کرنے میں مدد ملے- یہ یسوع  مسیح کی تعلیمات اور بائبل کے خلاف ہے-
  10. وہ اسرائیلیوں فلسطنیوں کے لئے تمام امن منصوبوں کی مخالفت کرتے ہیں، کیونکہ ان کے  خونریز”دن کے اختتام” کی ضرورت یہ ہے کہ دنیا میں تمام یہودیوں میں سے دو تہائی یہودی آرمیجڈنن Armageddon  کی حتمی جنگ میں قتل کر دئیےجائیں.

ان وجوہات کے لئے، عیسائی صیہونیزم ہمیشہ ذہین، صحیح سوچنے والے عیسائیوں اور یہودیوں کی طرف سے مسترد کردیئے گئے ہیں.

……………………………………………………………………………………………….

بنیاد پرست مسیحی اور صہونیت

بنیاد پرست مسیحی یہودیوں کی مختلف تنظیموں کا کپیٹل ہل Capitol Hill بہت اثر ہے ان کا دعویٰ ہے کہ ان کو 50 ملین سے زیادہ ایمان رکھنے والے مسیحیوں کی مدد حاصل ہے۔ امریکی صدر رونالڈ ریگن اور ریپبلکن ان سے متاثر رہے- اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس وقت مسیحی صہونیت پسند یہودی صیہونیوں سے پانچ گنا زیادہ ہیں۔ ان کے یورپ میں مددگار اسرائیل کے لیے لابی کرنے میں مصروف عمل ہیں اور امن کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بھی۔ ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل جڑواں بھائیوں کی طرح ہیں جن کا دل اکٹھے دھڑکتا ہے اور وہ مشترکہ تاریخی مذہبی اور سیاسی اقدار کو شئیر کرتے ہیں۔

Pastor John Hagee مسیحی صیہونی  موومنٹ کا ایک لیڈر ہے 19000 افراد کی چرچ کا لیڈر ہے۔اس کا ہفتہ وار ٹی  وی  پروگرام دنیا میں 160 ٹی وی سٹیشن 50 ریڈیو اسٹیشن 8 نیٹ ورک کے ذریعے 99 ملین گھروں میں 200 ملکوں میں دیکھا جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ 25 سال سے میں صہونیت کا پرچار کر رہا ہوں، بائبل اسرائیل کی حمایت میں ہے۔ اگر کوئی کرسچئین یہ کہے کہ: “میں بائبل پرایمان رکھتا ہوں”، تو میں اس کواسرایئل کی حمایت میں کھڑا کر دوں گا ورنہ وہ اپنےایمان سے ہاتھ دھو ڈالیں۔ لہذا  آپ کہہ سکتے ہیں کہ “میرے پاس عیسائی ایک بیرل میں ہیں”

مسیحی صہیونی بنیادی نظریات

مسیحی صہیونی 6 بنیادی سیاسی باتوں پر یقین رکھتے ہیں جو ان کی فائقة الحرفية (لفظ بلفظ) بنیاد پرست الہیات   ultra-literal and fundamentalist theology سے ماخوذ ہیں۔

  1. یہ ایمان کہ یہودی خدا کے خاص قوم ہیں اس لیے مسیحی صہونی  اسرائیل کی مدد کریں۔ اس کے نتیجے میں وہ اسرئیل کی متعصبانہ، نسل پرست پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں جن میں سیاستدان بھی شامل ہو جاتے ہیں۔
  2. خدا کے منتخب قوم کی حیثیت سے یہودیوں کی اسرائیل میں آبادکاری ان کو امداد مہیا کرنا یہودی تنظیموں کے ساتھ مل کر مدد کرنا شامل ہوتا ہے۔
  3. جیسا کہ مقدس کتاب میں بیان ہے دریائے نیل سے فرات تک علاقہ مکمل طور پر یہودیوں کے لیے مخصوص ہے اس لیے زمین کو شامل کرنا فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال دینا غیر قانونی یہودی بستیاں آباد کرنا بلکل جائز ہے۔
  4. یروشلم کو مسیحی صیہونی [Zioinist Christians] مکمل طور پر یہودیوں کا مرکز سمجھتے ہیں جس کو فلسطینیوں سے شیر نہیں کیا جاسکتا۔ اس طرح سے مسیحی صہیونیوں نے امریکی حکومت کو پرشر ڈالا کہ وہ امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرے تاکہ اسےباضابطہ طور پر  اسرائیل کا کیپٹل مان لیا جائے۔
  5.  مسیحی صیہونی، یہودیوں کی مختلف تنظیموں کو مدد فراہم کرتے ہیں جیسے”یہودی ٹیمپل ماونٹ کے ایماندار” جو گنبد صخرہ کو تباہ کرکے وہاں حرم شریف پر یہودیوں کا ٹیمپل ماونٹ تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔
  6. مسیحی صیہونی [Zioinist Christians]  مستقبل کے متعلق بہت منفی سوچ رکھتے ہیں، ان کو یقین ہے کہ بہت جلد  دنیا میں تباہی کی جنگ ہوگی۔ ان کو یہودیوں اور فلسطینیوں کے درمیان امن ممکن نہیں لگتا اس لیے وہ امن کی کوششوں کے خلاف ہیں۔ اس طرح سے وہ “امن کے لیے زمین” Land for peace کے خلاف ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ خدا کے اسرائیل کے ساتھ وعدے کے خلاف ہے اس لیے دشمنوں کی مرد کے برابر ہے۔

مسیحی زائنسٹ، ورلڈ ویوworldview

مسیحی زائنسٹ، ورلڈ ویوworldview کے مطابق وہ فلسطینیوں کواسرایئل میں اجنبی  alien residents in Israel سمجھتے ہیں۔ زائنسٹ مسیحی یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے کہ فلسطینی ایک علیحدہ قوم کی حیثیت سے وجود رکھتے ہیں کہتے ہیں کہ: “فلسطینی ہمسایہ عرب اقوام سے معاشی وجوہات کی وجہ سے اسرائیل ہجرت کر کے آئے ہیں تاکہ انکے معاشی حالات بہتر ہوجائیں”۔

اسلام کا خوف اور گہری نفرت بھی ان کے دوہری مصلحت مذہبیات کو ختم کرتی ہے جو کہ مانوی مذھب سے متاثر ہے- (مانوی مذہب کی بنیاد شر اور خیر اور نور و ظلمت کے ابدی تضاد پر ہے۔ ظلمت و شر کو وہ ایک قسم کا ارادہ اور تصور قرار دیتا ہے۔) عرب عیسائیوں کے ابتدائی چرچ کے ساتھ مسلسل ربط کے باوجود، عیسائی صیہونیسٹوں نے عرب عیسائیوں کے وجود میں بہت کم یا کوئی دلچسپی نہیں لی ہے.

یورشلم ڈیکلریشن:

مسیحی صیہونیت پراعلان 2006 میں کیا گیا،جو “یورشلم ڈکلریشن” کہلاتا ہے- یروشلم کے چار بڑے مسیحی چرچوں کے سربراہان  نے اعلان کیا کہ: 

    1. ہم مکمل طور پر مسیحی صیہونیت کے نظریے کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ  جھوٹی تعلیمات پر مبنی نظریہ ہے جو کہ بائیبل کے اصلی پیغام محبت، انصاف اور مصالحت کو خراب کرتا ہے۔ 
    1. ہم اس کے علاوہ ‘عیسائی صیہونیوں’  کے رہنماؤں اور تنظیموں کے اسرائیل اور امریکہ کی حکومتوں کے عناصرسے عصری  معاہدوں اور  تعلقات کو مسترد کرتے ہیں جس سے وہ یکطرفہ طور پر سرحد نافذ کرکہ فلسطین پر غلبہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح سے ایک کبھی نہ ختم ہونے والا تشدد شروع ہو جائے گا جو مشرق وسطی میں تمام لوگوں اور تمام دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہوگا۔
  1. ہم عیسائی صیہونیت  کی ان تعلیمات کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ وہ ان پالیسیوں سے نسل پرستی اور دائمی جنگ کو آگے بڑھانے میں سہولت اور معاونت کرتے ہیں- جو کہ  یسوع مسیح کی طرف سے عالمگیر محبت، استحکام اور مفاہمت کی خوشخبری کی تعلیمات کی مخالفت ہے – دنیا کو آرماگدون( (مَجدُون کے ميدان کے نام پَر بین الاقوامی جنگ، قَوموں کا آخری فيصلَہ کُن مَعرکَہ ، مَعرکَہ خير و شَر)  کے عذاب کی بجائے ہم سب سے درخوست کرتے ہیں کہ آپ خود کو عسکریت پسندی اور قبضے کے نظریات سے آزاد کریں اوراس کی  بجائے، وہ قوموں کی شفا یابی کے مقصد حاصل کرنے کی کوشش کریں-

[مکاشفہ (16:16, بائبل ، عہد نامہ جدید)   تب بدروحیں بادشاہوں کو ایک مقام جس کو عبرانی زبان میں ہرمجدّون کہتے ہیں اس جگہ جمع کیں۔ 17 پھر ساتویں فرشتے نے اپنا کٹورہ ہوا میں انڈیل دیا گرجدار آواز تخت سے جو خدا کے گھر کے اندر تھی آئی اور آواز نے کہا! “ختم ہو گیا۔” 18 پھر بجلیاں اور آوازیں اور گرج کے ساتھ ایسا سخت زلزلہ آیا کہ اس سے پہلے یعنی جب سے زمین پر انسان کی پیدا ئش ہو ئی ایسا بڑا اور سخت زلزلہ کبھی نہیں آیا تھا۔ 19 بڑا شہر تین حصوں میں بٹ گیا۔ اور قوموں کے شہر تباہ ہو گئے اور خدا نے عظیم بابل کے لوگوں کو سزا دینا نہیں بھو لا اس نے اپنے غصے سے غضب کی مئے کا پیا لہ پلائے۔ 20 ہر ایک جزیرہ غا ئب ہو گیا اور کو ئی پہاڑ بھی کہیں نظر نہیں آیا۔ 21 بڑے بڑے اولے جن کا وزن تقریباً پچاس کلو گرام تھا آسمان سے لوگوں پر گرے اور دوزخ کی آفت کے سبب لوگ خدا کے لئے کفر بکنے لگے اور یہ آفت نہا یت ہی نا قابل برداشت تھی۔]

4.ہم ہر براعظم میں تمام چرچوں میں عیسائیوں کو فلسطینی اور اسرائیلی عوام کے لیے دعا کرنے کی :8درخواست  کرتے ہیں، دونوں قبضے اور عسکریت پسندی کےشکار ہیں. یہ متنازعہ اقدامات فلسطینیوں کو خاص طور پر اسرائیلی رہائشیوں سے گھیرنے والے غریب گھیٹو Gheto میں تبدیل کررہے ہیں. غیر قانونی یہودی رہائشیوں کے قیام اور قبضہ شدہ فلسطینی زمین پر علیحدہ دیوار کی تعمیر پورے فلسطینی ریاست کی امن و سلامتی اور پورے خطے میں سلامتی کوغیر موثر کرتی ہے-

5.  پیرووکاروں نے یہ نتیجہ اخذ کیا، ‘خدا چاہتا ہے کہ انصاف ہو جائے. انصاف کے قیام کے بغیر کوئی مستقل امن، سلامتی یا مصالحت ممکن نہیں ہے. انصاف کے مطالبات غائب نہیں ہوں گے. انصاف کے لئے جدوجہد انصاف سے، مستقل مزاجی سے کی جانی چاہیئے، لیکن تشدد کے بغیر- نبی مکاہ  کا فرمان ہے ”  خداوند امید کر تا ہے کہ تم انصاف کرو گے دوسرے پر رحم کرو گے۔ اپنے خدا کے ساتھ خاکساری سے چلو۔”( میکا6:8)

تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ :

“عیسائی صیہونیزم ، عیسائیت کے اندر سب سے بڑی، سب سے زیادہ متنازع اور سب سے زیادہ تباہ کن لابی ہے- یہ مشرق وسطی میں کشیدگی کو برقرار رکھنے، اسرائیلی کے تمييز عنصري aparthied، استعمارپسندانہ ایجنڈا  اور اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے امکانات کے عمل کو کمزورکرنے میں بنیادی طور پر ذمہ دارہے-“

نئے عہد نامے کا اختتامی باب باغ عدن کی عکاسی میں لے جاتا ہے اوربلندی سے تنزلی کی مصیبت کا خاتمہ کرتا ہے:

تب فرشتے نے مجھے آبِ حیات کا دریا دکھایا جو بلور کی مانند صاف و شفاف تھا وہ دریا خدا کے اور میمنہ کے تخت سے نکل کر بہہ رہا ہے۔ اور یہ دریا شہر کی سڑک کے درمیان بہہ رہا تھا۔ دریا کے دونوں جانب زندگی کا ایک درخت تھا اور اس زندگی کے درخت پر سال میں بارہ دفعہ پھل آتے تھے۔ یعنی ہر مہینے اس میں پھل آتے تھے اور اس درخت کے پتوں سے قوموں کو شفاہو تی تھی۔”(مکاشفہ22:1،2 )

یقینا یہ وہی بات ہے جو یسوع کے ذہن میں تھی جب اس نے اپنے پیروکاروں کو امن اور مصالحت کے سفیروں کے طور پر کام کرنے کے لئے ہدایت کی، اور کام کرنے کے لئے دعا کی کہ خدا کی بادشاہی زمین پر آئے گی جیسا کہ یہ جنت میں ہے-

مسلمانوں نے خدا کے احکام پر عمل کیا تو بادشاہت ان کو مل گئ ، پھر جب انہوں نے نافرمانی کا راستہ اختیار کیا تو وہ بھی عذاب اور ذلت کا شکار بن گئے- اسرایئل کا وجود مسلمانوں پر اللہ کے عذاب کی ایک شکل ہے- جب مسلمان اپنا رویہ بدلیں گے تو اس عذاب سے چھٹکارہ پا لیں گے-

مزید ریفرنس:

بائبل کے مطابق خدا کا ابراہم سے زمین کا عہد  غیر مشروط نہیں . خدا کے احکام اور موسی کے قوانین پر عمل سے مشروط ہے-

Ezra 9:12, 14، 1 Kings 9:6-9، 2 Chronicles 7:19-22, Nehemia 1:8-9: Joshua 23:15-16،  Jeremiah 9:13-16، Jeremiah 44:22، Lamentations 1:10، Ezekiel 33:24-26:

اختتامیہ 

اسرایئل  کی 8.5 ملین آبادی میں اس وقت تقریبا 74% یہودی رہتے ہیں ، ان میں سے 63% سیکولر ہیں ،   80% خدا کو مانتے ہیں اور 20% ملحد ہیں، خدا کے انکاری- صرف 11.7%  حردی یہودی (Haredi) تورہ کے احکام کو مانتے اور عمل کرتے ہیں جو صیہونیت کے مخالف ہیں کیونکہ اسرایئل کا قیام تورات کے خلاف ہے- اسرایئل میں 31% یہودی یورپ سے ہجرت کرکہ اسرائیل آباد ہوۓ  ہیں ان میں اکثریت روسی اور مشرقی یورپ کے  یہودیوں  کی ہے، جن کا نسلی طور پر ابراہیم یا اسرایئل کی نسل سے کوئی تعلق نہیں-

خازآریہ کی یہودی سلطنت، کیسپین سمندر کے علاقه میں ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی میں موجود تھی- یہ سخت جنگجو ترک نسل کے سینٹرل ایشیا کے لوگ تھے جنہوں نے رومن اور اسلامی سلطنتوں کی چقپلش سے بچنے لئے یہودیت اختیار کی- ان کا نسلی طور پر ابراہیم ، یعقوب (اسرایئل) اور ارض فلسطین  سے کوئی تعلق نہیں بنتا- خازآریہ کی سلطنت کے اختتام پر بہت سے خازار یہودی یورپ کو ہجرت کر گئے- ان “خازاروں” کی نسل سے مرکزی اور مشرقی  یورپ کے “اشکنزائی یہودیوں” کہلاۓ، جنہوں نے “صیہونیت”  کا افسانہ گھڑا تاکہ فلسطین کو نو آبادی بنایا جا سکے اور خازآریہ” کی طرح کی سلطنت قائم کی جا سکے- ان کا فلسطین کی سرزمین سے کوئی تعلق نہیں مگر وہ یہاں کی حکمران اشرفیہ کا ستون  ہیں-

اس طرح یہ دعوی کہ بائبل میں (پیدائش17:8) ارض فلسطین ابراہیم کی نسل کودی گئ,  ان غیر نسلی یہودیوں (converted Jews) پر اور  63% سیکولر یہودیوں پر لاگو کیسے ہو سکتا ہے؟  جبکہ جو 11.7%  حردی یہودی (Orthodox/Haredi) تورہ کے احکام کو مانتے اور عمل کرتے ہیں وہ صیہونیت کو تورہ کی تعلیمات اور خدا کے احکامات کے مخالف سمجھتے ہیں-

چونکہ زمین کا وعدہ ، خدا کی اطاعت اور ان کی فرمانبرداری پر مشروط تھی، اوریہودی  خدا کی اطاعت کرنے یا خدا کے ساتھ عہد قائم کرنے میں ناکام رہے، لہذا مسیحیوں پر یہ ہرگز فرض نہیں کہ وہ اسرئیلیوں کو فلسطینیوں کو فلسطین سے بے دخل کرنے کے لئے مدد کریں- عربوں کی زمین جس پر اسرائیلی  قابض ہیں ان کو واپس کرنے سے روک تھام کی ضرورت نہیں- ان کی زمین ان کو واپس کرنا انصاف ہے-

بائبل کی پیشینگویوں کے مطابق آخری نبی اور رسول بنی اسمعیل سے آ چکا ، اب ابراہیم کے بچوں اور تمام ماننے والوں اور انسانیت کو خدا کے آخری رسول اور آخری کتاب کے مطابق ہدایت حاصل کرنا چاہیے اور امن سے مل جل کر رہیں-

موجودہ  اسرایئل کی ڈیموگرافی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں اکثریت سیکولر یہودی ہیں اور وہ جن کا نسلی طور پر ابراہیم یا ان کے بیٹے اسحاق، پوتے اسرایئل کے ساتھ کوئی نسلی تعلق نہیں- یہودیت ایک نسل پرست مذھب ہے – خدا کا وعدہ خدا کے احکام موسی کی قانون ، تورہ پر عمل سے مشروط ہے ، ثابت  ہوا کہ اسرایئل کے وجود کا بائبل کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں- یہ فلسطین کو نو آبادی بنانے کا پلان ہے-

صیہونی مسیحیت Christian Zionism  ، پروٹسٹنٹ عیسائیت کے اندر سب سے بڑی، سب سے زیادہ متنازع اور سب سے زیادہ تباہ کن تحریک ہے- یہ مشرق وسطی میں کشیدگی کو برقرار رکھنے، اسرائیلی کے نسلی تمييز، استعمار پسندانہ ایجنڈا  اور اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے امکانات کے عمل کو کمزورکرنے میں بنیادی طور پر ذمہ دارہے- مسیحت دوہزارسال قدیم مذھب ہے جو یہودیت کے ایک فرقہ سے شروع ہوا مگر بنیادی نظریات میں فرق کی وجہ سے یہودیت نفرت اور مخالفت اس کے بنیادی عقائد میں شامل ہے.”عیسیٰ مسیح” کو مسیحی خدا اور خدا کا بیٹا مانتے ہیں جن کو یہودیوں نے قبول نہ کیا اور جادو گر، توہین کے الزامات پر بظاھر مصلوب کروایا- مسیحت پر رومن  کیتھولک چرج کی اجارہ داری کو مارٹن لوتھر(1483-1546) نے چیلنج کیا اور پروٹسٹنٹ عیسائیت کی راہ ہموار کی۔ لوتھر کی تحریک کی وجہ سے مسیحیت مزید فرقوں “پروٹسٹنٹ” اور “کاتھولک” میں تقسیم ہو گئی۔ پروٹسٹنٹ مسیحیت میں بھی ذیلی فرقے ہیں مگر صیہونی مسیحیت Christian Zionism، مسیحت کے بنیادی عقائد میں یہود دوست نیا اضافہ انیسویں صدی میں ہوا، اس فرقہ کو کتھولک اور دوسرے پروٹسٹنٹ مذہبی سکالرز نے بائبل سے ماورا (heresy)  بدعتی مذھب قرار دیا ہے جس کی بنیاد جھوٹ اور دھوکہ پر ہے حتی کہ اس کے لیے ایک علیحدہ تحریف شدہ بائبل، فٹ نوٹس کے ساتھ تخلیق کی گیئی [جان نیلسن ڈاربی (1900-1882) سی آئی اسکوفیلڈ (1843-1921)]- 

سکفیلڈ  (C.I. Schofield) نے 1909 میں  کہا کہ” مسیح اس وقت تک زمین پر واپس نہیں آسکتے جب تک کہ کچھ واقعات رونما نہ ہوں:(١) یہودیوں کو لازمی طور پر فلسطین واپس جانا چاہئے (٢) یروشلم پر قبضہ کرنا ہوگا اور  (٣) ایک ہیکل کو دوبارہ تعمیر کرنا چاہئے ، اور پھر (٤) ہم سب کو آرماجیڈن نامی آخری ، عظیم جنگ میں حصہ لینا چاہئے۔ (آرماجیڈن: نئے عہد نامے میں قیامت سے پہلے اچھائی اور برائی کے مابین آخری جنگ۔)” –  تخمینے مختلف ہوتے ہیں ، لیکن آرمیجڈون الہیات کے بیشتر طلباء اس بات سے متفق ہیں کہ بائبل کے اس کتاب کی نسبتا حالیہ تشریحات (تحریف) کے نتیجے میں ، 10 سے 40 ملین امریکیوں کا خیال ہے کہ یہودیوں کے لئے فلسطین خدا کی منتخب کردہ سرزمین ہے۔ “شیفیلڈ بائبل” امریکہ میں مشہور ریفرنس بائبل ہے۔ پچھلی ایک صدی گواہ ہےکہ  سکفیلڈ (C.I. Schofield) کے ان الفاظ پر امریکہ کے زیر سرپرستی حرف بحرف عمل ہو رہا ہے- دنیا مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں تباہی کے راستہ پر گامزن ہے-ادھر بھارت میں بھی مذہبی جنونی RSS ,کے پیروکار سو سال کی جدوجہد کے بعد مکمل مظبوط طور پر حکومت میں ہیں . ان کا ایجنڈا بھی مسلمان دشمنی ہے- اور ان کا امریکہ ، اسرایئل سے گٹھ جوڑ کوئی سیکرٹ نہیں-

خدا اپنے منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے انسانوں کا محتاج نہیں- مذہبی مقدس کتب میں پیشنگویاں براڈ ہوتی ہیں، تحریف کر کہ اپنی مرضی کا معنی نکالنا،  وقت ،حالات کا تعین کرنا انسانی دھوکہ ہے جو سکفیلڈ  (C.I. Schofield) اور ڈاربی جیسے  لوگوں کی اختراع ہے جس کو قدیم اور سب سے بڑے کیتھولک چرچ نے بھی قبول نہیں کیا- بائبل میں بھی  واضح کہ قیامت کا وقت کسی کو معلوم نہیں(Matthew 24:36، ،Mark 13:32، ،Mark 13:32، Acts 1:7) حتی کہ یسوع مسیح کو بھی نہیں جس کو مسیحی خدا اور خدا کا بیٹا مانتے ہیں صرف خدا کو اس کا علم ہے-یہ  سکفیلڈ (C.I. Schofield)کدھر سے سیاسی منصوبوں کے لیے مذھب کو استعمال کر رہا ہے –  

قابل غور یہ بات ہے کہ دونوں کیسزمیں  (یہودیوں اور ہندووں نے) جھوٹے مذہبی نظریہ (صیہونی مسیحیت، ہندتوا) کی بنیاد پر نسلی، مذہبی ، قومی  برتری کا بیانیہ ترتیب دے کر میڈیا، کارپوریٹ سیکٹر اور جمہوریت کی سیڑھی کے ذریعہ حکومت ، طاقت حاصل کی اور اب عالمی کنٹرول بھی !

مسلمان اپنی آزمودہ اعلی ائیڈیالوجی  (Superior Ideology) کے باوجود شیطانی قوتوں کا شکار بن گیے ہیں- فلسطین ، مشرق وسطی ، افغانستان جہاں جہاں امریکہ، اسرایئل یا ان کے حواری جیسے داعیش مسلمانوں کے خلاف جنگ اور قتل عام  میں مصروف ہے اس کے پیچھےامریکی “صیہونی مسیحیت” Christian Zionismکے پیروکار ہیں بظاہر یا خفیہ طور پر-

مسیحیت کو بگاڑ کر “صیہونی مسیحیت” ایجاد کی گئی، روایتی مسیحیت اکثریت نے اس کی تردید کی مگر اس شدت سے نہیں جس طرح اسلام میں قادیانی فتنہ کو مسلمانوں نے شدت سے ریجیکٹ کرکہ کافر ڈکلئیر کرکہ بھگا دیا، قادیانی اب مغرب اور اسرایئل کی پناہ میں ہیں-

مسلمانوں کے جہاد” کے نظریہ کو  “داعیش” ،”تکفیری بوکو حرام “، “تکفیری پاکستانی طالبان” کے ذریعہ دہشت گردی سے منسلک  کرکہ کثیر التعداد (multiple) فائدے حاصل کیے گیئے: (١) مسلمانوں کا مسلمانوں کے ہاتھ قتل عام اور (٢) “جہاد” کے مقدس نظریہ کی بدنامی (٣) مسلمان ریاستوں کی کمزوری و تباہی (٤) مسلمانوں پر سیاسی ، معاشی اور فوجی کنٹرول – اس دہشت گردی کے تکفیری بیانیہ کو رد کرنے میں ٣٠ سال سے زیادہ کا عرصۂ لگا اور دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ ٢٠١٨ میں جاری ہوا -مگرابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے- اسلام اور مسلمانوں کے پاس ظلم اور نا انصافی کے خلاف “جہاد (قتال، جنگ)” کا طاقتور قابل عمل نظریہ موجود ہے، جو دشمنوں کی نیندیں حرام کر دیتا ہے- اسلام اور مسلمانوں کے خلاف “صیہونیت، “صیہونی مسیحیت”  Christian Zionism اور “ہندتوا” کی مشترکہ مذہبی جنگ کا جواب “جہاد (قتال، جنگ)” ہے-

 دشمن کی چالاکی اور دوررس پلاننگ اپنی جگہ، مگر مسلمانوں کو اپنی داخلی کمزوریوں کی طرف بھی توجہ کی ضرورت ہے- اب بھی بہت سے عرب اور مسلم ممالک کے حکمران مختلف “جعلی خطرات” کے خوف سے امریکہ، مغرب اور اسرایئل کے زیر اثر ہیں- 

 فوجی طاقت کے زور پر علاقے فتح کرنے کا دور اگرچہ مکمل ختم نہیں ہوا, جدید  دور “ہائبرڈ وارزجنگ” (Hybrid Wars) کادورہے-اس دور میں “نظریات” اور ائیڈیالوجی کی جنگ نے برتری ثابت کی ہے- “نظریات” اور”مالی و فوجی قوت” کا ملاپ بہت خطرناک مجموعہ (combination) ہے جو  “ہائبرڈ وار کا ایک اہم جزو ہے –

مذاھب میں فرقہ واریت کوئی نیئی بات نہیں مگر صیہونی مسیحیت Christian Zionism، ایک ایسا فرقہ ہے جس نے دنیا کے امن کو تباہ کر دیا ہے- ان کے من گھڑت، مذہبی شدت پسندانہ نظریات اور عملی اقدامات اسلام اورمسلمانوں کے لینے خاص پر اور انسانیت کے لیے عمومی طور پرخطرناک اور تباہ کن ہیں- لہٰذا دنیا میں ہر مذھب اور خاص طور پر مسلمانوں کے لیۓ اس بین الاقوامی  مذہبی فتنہ کا بغور مطالعہ ,کرنا اس لیے اہم ہے کہ ہم سب اس فتنہ کے براہ راست ٹارگٹ ہیں- امید ہے کہ پاکستانی مسلمانوں کے ذہن میں ممکنہ آپشنز دریافت (explore) کرنے کی تڑپ پیدا ہو سکے –

……………………………………………………………………………………………….

(تحقیق و ترتیب : آفتاب خان)

www.SalaamOne.com

www.Facebook.com/SalaamOne

www.Twitter.com/SalaamOne

کاپی راییٹ نہیں ، شیر کریں مگر کریڈٹ ، ویب سائٹ ، فیس بک پیج اور ٹویٹر کا ریفرنس دیں-

  نوٹ :

١. یہ تحریر بنیادی طور پر بائبل کے پیروکاروں (مسیحی اور یہودی) کے نقطہ نظر سے ان کے دلائل کے جواب میں لکی گئ ہے ، اس لیے مسلمانوں کے لیے اس میں اجنبیت کا احساس ہو تا ہے- پیغمروں کے ناموں کے ساتھ اسلامی روایات کے مطابق تعظیمی القاب “حضرت” اور “علیہ السلام” کا اضافہ کریں-

٢. تحقیق جاری ہے . ….. اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے ….دوبارہ وزٹ کریں ..

آخری اپ ڈیٹ : 12 ستمبر  2019


ہم کو الله کےواضح احکام پر عمل کرنا ہے (العمران 3:7).اقوام کے عروج و زوال کا قانون واضح ہے(3:11,47:38)- 

“إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا۟ مَا بِأَنفُسِهِمْ” (13:11 قرآن)

حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی (13:11 قرآن)

“وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم”  

 اگر تم منہ موڑو گے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے (47:38 قرآن )   

“إنّ اللّهَ يَرْفَعُ بِهذَا الكِتابِ أقْواماً وَ يَضَعُ بِهِ آخَرِيْنَ”

اللہ قوم کو اس کتاب (قرآن پر عمل کرنے سے ) سے بلند کرے گا اور اس سے ہی پستی میں ڈالے گا (جب وہ قرآن کو چھوڑ دیں گے ) [صحیح مسلم حدیث # 817]

جو برگزیدہ ہستی ہدایت و رہنمائی کرنے الله نے بھیجنا ہو گی اس کے پلان کے مطابق وقت مقررہ پر آئے  گی- غیب کا علم الله کو ہے- پیشین گویاں اور مقدس کتب کی تشریح انسانی کام ہے، جو حتمی نہیں-

…………………………………………….

صیہونی مسیحیت اور بائبل

امن کے دشمن

https://goo.gl/f5Wg9E

http://salaamone.com/american-christian-zionism-sehoneyat/

Understanding The  Christian Zionism-1

The Real Threat to The World Peace

By Aftab Khan

www.SalaamOne.com/christian-zionism

All Parts – pdf: https://goo.gl/kq4hZa

Part-1: https://goo.gl/gJpPd2

Part-2:  https://goo.gl/fzn7u5

Part-3: https://goo.gl/H4qVqt

FB: @SalaamOne Twitter @SalaamOne

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

References/Related Links:

A comprehensive research work ..in English .. http://salaamone.com/christian-zionism/

Jerusalem, The Blessed Land: Through Bible, Qur’an & History

 

Zionism Magazine