Muslim Only صرف مسلمان

اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو قبول کرنے والے افراد کو ” الۡمُسۡلِمِیۡنَ ،مُّسْلِمَةً ،مُّسْلِمُونَ،مُّسْلِمًا ،مُسْلِمَاتٍ۬”  کے نام سے مخاطب فرمایا-  عربی زبان میں واحد مرد ہے تو “مسلم” دو “مسلم” مرد ہوں  تو “مسلمان”، تین یا زیادہ جمع میں “مسلم” مرد ہوں تو “ملسمون” یا “مسلمین” …..

First Muslim:

If we look at the names of different religions of the world, it is found that mostly the religions are named after the founding personalities. Buddhism, after Buddha, Christianity after Jesus Christ, Judaism form Judea (tribal head). Similarly Zoroatism, Bahaism, Confucianism are also named after personalities.  There is no founder of Hinduism and Jainism. Hinduism is also sometimes named after sacred book Veda. Keeping in view the personality names, the followers of Prophet Muhammad (pbuh) should have been called Muhamdans, but it did not happen, though the orientilists tried out but failed. If Prophet Muhammad (pbuh) was founder of a new religion, it would have been his pleasure to name the religion after him but he could not do so because it is based upon Quran, the revelations he received from God. Quran carries name Muhammad only four times, once Ahmad. The names of his parents, family, children are not there. Allah Himself named the Deen (religion) as ISLAM, and the believers as Muslims (Arabic:Muslimen, Muslimoon), which have a link with ‘As-Salaam’, one of the the attributive names of Allah. [Keep reading …….]

برقی کتاب پی ڈی ایف ، آن لائن پڑھیں یا ڈونلوڈ ، شئیر کریں

http://bit.ly/2GMq4cb  : برقی کتاب – پی ڈی ایف لنک 

   http://bit.ly/2Jq8CMe :  موبائل فرینڈلی – ٹیکسٹ فارمیٹ لنک

بیانیہ

تمام مسلمان اپنے اپنے عقائد و نظریات، [جس کو وہ قرآن و سنت کی بنیاد پر دین اسلام سمجھتے ہیں] پر قائم رہتے ہوۓ، موجودہ فرقہ وارانہ ناموں کو ختم کرکہ قرآن میں الله کے عطا کردہ نام مسلم (الۡمُسۡلِمِیۡنَ ،مُّسْلِمَةً ،مُّسْلِمُونَ،مُّسْلِمًا) کہلانے پر متفق ہو جائیں تو یہ فرقہ واریت کے خاتمہ کی طرف پہلا موثر قدم ہو گا !

“مسلم” (الله کا فرمانبردار) کی نسبت الله کے صفاتی نام “السلام ” اور دین اسلام سے بھی ہے ، اس نام کا حکم اور تاکید الله نے قرآن میں 41 آیات میں بار بار دہرایا …

یہ ابتدا ہو گی، پہلا قدم “أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ “دین کامل کی طرف … کسی فرقہ کے نام سے شناخت اور وضاحت کی ضرورت نہیں کیونکہ … ” نظریات خود اپنی شناخت رکھتے ہیں” … فرق عمل سے پڑتا ہے-

……………………

“المسلم هوا لمستسلم لامر الله”.’’مسلمان وہ ہے جو اللہ کے حکم کے سامنے جھک جائے‘‘۔ (لسان العرب).یعنی مسلمان وہ ہے جو اللہ کے حکم کو اپنا قول و فعل اور اخلاق و کردار بنائے۔ جو اپنے نفس امارہ کی خواہش سے اٹھنے والے حکم کو ترک کرے اور اس کے بجائے اللہ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردے۔

أَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَـٰهَهُ هَوَاهُ أَفَأَنتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًا﴿٤٣﴾

” کبھی تم نے اُس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو؟ کیا تم ایسے شخص کو راہِ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو؟ (قرآن :25:43)

وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا*فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا*قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا*وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا(الشمس 10)

” قسم ہے نفس کی اور اسے درست کرنے کی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس نفس کو برائی سے بچنے اور پرہیز گاری اختیار کرنے کی سمجھ عطا فرمائی۔ پھر اس پر اس کی بدی اور اس کی پرہیز گاری واضح کر دی۔ بے شک وہ کامیاب ہو گیا جس نے نفس کو پاکیزہ بنا لیا۔ اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو آلودہ کیا(الشمس7-10) ۔

……………………..

فرقہ واریت کے خلاف عملی اقدامات – خلاصہ

مسلمانوں میں فرقہ واریت کی لعنت کو اگرفوری طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا ، توابتدا میں قرآن کے حکم کے مطابق  صرف ایک درست عمل کی شروعات سے شدت اور منفی رجحانات کو کم کرکہ فرقہ واریت کے خاتمہ کے سفر کا آغاز کے آجاسکتا ہے:

هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَـٰذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ۚ  (سورة الحج22:78)

اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام “مسلم” رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ . (سورة الحج22:78)

1.ہرایک فقہ اور فرقہ کا دعوی ہے کہ وہ قرآن و سنت پر پر عمل پیرا ہیں، جس کو دوسرے قبول نہیں کرتے اور وہ خود دعوی دار ہیں کہ وہ حق پرہیں- ہم سب کو معلوم ہے کہ مسلمان کے علاوہ  تمام لیبل اور مذہبی القاب و نام بعد کے زمانہ کی ایجادات ہیں- تو ایک متفقہ نام “مسلمان” پر جو قرآن و سنت و حدیث اور تاریخ سے مسلسل پر ثابت ہے اور اور اب بھی ہماری اصل پہچان ہے، اس نام “مسلمان”  کو مکمل اصل حالت میں بحال کر دیں-

2.تمام مسلمان اپنے اپنے موجودہ فقہ و نظریات پر کاربند رہتے ہوۓ، الله تعالی کے عطا کردہ  ایک نام پر متفق ہو کر اپنے آپ کو صرف اور صرف “مسلمان” کے نام سے پکاریں، کسی اور نام کی جازت نہ  دیں،جو نام الله نے دیا وہ ہر طرح سے مکمل ہے،تعارف، شناخت یا کسی اور حجت کی وجہ سےفرقہ پرستی کو رد کریں- یہ پہلا قدم ہے- مسلمان کو کسی اکسٹرالیبل (extra label) کی ضرورت نہیں- جب کوئی آپ سے قریبی تعلقات یا رشتہ داری قائم کرنا چاہتا ہو تو تفصیلات معلوم کی جاسکتی ہیں- اپنی مساجد، مدارس، گھروں اور اپنے ناموں کے ساتھ فرقہ وارانہ القاب لگانے سے مکمل اجتناب کریں- نفس کہتا ہے مشکل ہے، مگر اللہ کا حکم بھی ہے، فرمانبردار (مسلم) بن کر اس آزمائش سے گزریں، الله پرتوکل کریں-

3.یہ اقدام اسلام کے ابتدائی دور ، رسول الله ﷺ اور صحابہ اکرام کے زمانہ کے مطابق ہو گا، جس کی خواہش ہر مسلمان دل میں رکھتا ہے- الله اور رسولﷺ یقینی  طور پر آپ سے بہت خوش ہوں گے- اس احسن روایت، سنت کے دوبارہ اجرا پر الله ہم پر رحمتوں اور برکات کی بارش فرمایے گا- اس نیک عمل سے آپ دین و دنیا میں کامیابی کے راستے پر چل پڑیں گے- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ (ماآنا علیہ واصحابی) یعنی وہ لوگ جو میرے اور میرے اصحاب کے طریقے پر ہوں گے وہی جنتی ہیں۔ فیصلہ صرف  الله کا اختیار ہے- تہتر فرقوں والی حدیث مبارکہ میں امت مسلمہ کے اندر تفریق و گروہ بندی کی جو پیشن گوئی تھی وہ خبر،محض بطور تنبیہ و نصیحت کے تھی- بدقسمتی سے مسلمانوں کے مختلف فرقوں نے اس حدیث کو اپنے لئے ڈھال بنا لیا ہے اور (ماآنا علیہ واصحابی) کی کسوٹی سے صرف نظر کرتے ہیں اور ہر ایک گروہ اپنے آپ کو ناجی فرقہ کہتا ہے اور اپنے علاوہ دیگر تمام مکاتب فکر کو ضال و مضل اور بہتر (٧٢) فرقوں میں شمار کرتا ہے- حدیث سے یہ بھی پتا چلا کہ ان تمام گمراہ فرقوں کا شمار بھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امت میں کیا ہے وہ جہنم میں تو جائیں گے، مگر ہمیشہ کے لئے نہیں، سزا کاٹ کر اس سے نجات پا جائیں گے (٧٣) واں فرقہ ہی اول وہلہ میں ناجی ہوگا کیونکہ یہی سنت پر ہے، یہی باب سے مناسبت ہے۔

4.کسی صورت میں کوئی گروہ دوسرے مسلمانوں کی تکفیر نہ کریں،یہ پلٹ کر تکفیر کرنے والے پر پڑتی ہے [مفھوم ، ابی داوود ٤٦٨٧] ہر حال میں اس شدت پسندی سے بچنا ہے- جنت ، جہنم کا فیصلہ صرف الله کا اختیار ہے- ہم کو اچھے اعمال میں ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرناہے-

5. تمام فقہ اور فرقوں کے علماء پر مشتمل ایک فورم تشکیل دیا جا ئے جہاں مسقل بنیاد پر پرکم از کم مشترکہ متفقہ اسلامی نظریات کو یکجا کے جا سکے[ Minimum Common Points of Agreement]. غیر اسلامی رسوم و رواج کو بتدریج  معاشرہ سے پاک کیا جائے- علماء کی جدید طریقه تعلیم اور ٹیکنولوجی سے مناسب تعلیم و تربیت اور معاشی سٹرکچر سرکاری طور پر نافذ کیا جاے- یہ تمام کام حکومت اور علماء کے تعاون سے سرانجام پا سکتے ہیں-

ایک کتاب یا ڈسکشن سیشن سےصدیوں پر محیط مائینڈ سیٹ کو تبدیل تو نہیں کیا جاسکتا مگر اہل علم و عقل کے لیے غور فکر کےدروازے کھل سکتے ہیں ….

إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّـهِ الَّذِينَ كَفَرُوا فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿ لأنفال: ٥٥﴾

یقیناً اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والی مخلوق میں سب سے بدتر وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو ماننے سے انکار کر دیا پھر کسی طرح وہ اسے قبول کرنے پر تیار نہیں(9:55)

إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ۗ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ ﴿٢٨﴾

“اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں واقعی اللہ تعالیٰ زبردست بڑا بخشنے واﻻ ہے” (35:28)

…………………………….

We are Muslims Only- [Video Playlist]

…………………………………

انڈکس

1. دین و مذھب کے نام کی اہمیت

2.سلام ، اسلام ، مسلم ، مسلمان

3.دین اسلام اور مسلمین

4.مسلمانوں کے صفاتی نام

5.قرآن میں “مسلمان” نام کی تاکید اور حکم (امر) ہے

6.قرآن کو چھوڑنے والے بدترین علماء

7.فرقہ واریت

8.قرآن ، اسلام اور مسلمان

9.قرآن کو ‘حدیث’ بھی کہا گیا

10.قرآن کی عظمت، آیات کا منکر اورعذاب

11.أَطِيعُوا الرَّسُولَ

12.کلام الله پرایمان  عمل مسلمان پرفرض ہے

13.قرآن و حدیث کی اہمیت

14.کتابت حدیث

15.اسلام، مسلمان –  دین آیات

16.قرآن ، اسلام، مسلمان –  دین آیات

17.قرآن راہ ہدایت

18.فرقہ واریت کی ممانعت

19.(73) فرقوں والی حدیث

20.اسلام کے بنیادی عقائد پر ایمان، مسلمان  فروعی اختلافات خارج نہیں کرتے:

22.اہل ایمان کی بخشش

21.فرقہ واریت کا خاتمہ – پہلا قدم

گروپ ڈسکشن-  صفحہ 36 سے آخر تک(ای بک میں )

……………………………………

 بسم الله الرحمن الرحيم

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ ۙ فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (سوره مائده ٣)

“آج میں نے تمھارے لئے دین کو کامل کر دیا هے اور اپنی نعمتون کو تمام کر دیا هے اور تمھارے لئے دین اسلام کو پسندیده بنا دیا هے” (سوره مائده ٣)

هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَـٰذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ۚ  (سورة الحج22:78)

اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام “مسلم” رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ ..(سورة الحج22:78)

إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ ۚ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّـهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ( الأنعام ١٥٩)

“جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے یقیناً ان سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں، ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے، وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے-( الأنعام ١٥٩)

وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ

’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘( آل عمران ١٠٣)

وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَـٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان٣٠)

“اور پیغمبر کہیں گے کہ اے پروردگار میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا” (الفرقان٣٠)

……………………….

دین و مذھب کے نام کی اہمیت

کچھ کوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نام سے کیا فرق پڑتا ہے اصل دین تو ایمان اور عمل کا نام ہے- بظاھر تو بات معقول لگتی ہے، آینے اس کا جائزہ لیتے ہیں- اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم  علیہ اسلام کو علم الاسماء سکھایا ، یعنی ناموں کا علم ۔۔۔۔ نام انسان کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتا ہے اور اسی وجہ سے حضورکرام صلّی اللہ علیہ وسلم نے ایام جاہلیت کے مہمل نام تبدیل کروائے ۔ ترمذی میں ہے کہ  حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم برے ناموں کو بدل کر ان کے عوض اچھے نام رکھ دیا کرتے تھے ۔ (ترمذی111/2)- نام کسی انسان کی زندگی کا وظیفہ ہوتا ہے کیونکہ وہ بار بار پکارا جاتا ہے ۔ اگر آپ اپنے نام کی نسبت  سے کام کرینگے تو آپ کئی گُنا اضافی ملے گا اور اگر آپ کے مخالف چلیں گے توآپ ایک ناکام زندگی گزار کر جائینگے- اگر دنیا میں مختلف مذاھب کے ناموں پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اکثر مذاھب اپنی بانی شخصیت کے نام سے منسوب ہیں- بدھ مت، گوتم بدھ کے نام پر، مسیحیت ، عیسایت، حضرت عیسی علیہ السلام، یہودی، یہودا(حضرت یعقوب علیہ السلام کے ایک فرزند) بنی اسرایئل کی نسل  کی شاخ،اسی طرح زرتشت ،بہائی مت، تاؤ مت، کنفیوشس مت وغیرہ- ہندو مت اور جین مت کا بانی کوئی ایک شخص نہیں، ہندومت کے پیروکار اِس کو”سناتن دھرم” (‘لازوال قانون) کہتے ہیں -قدیم ہندومذھب کتاب “ویدا” سے بھی منسوب ہے- لفظ “جین مت” سنسکرت کے ایک لفظ “جِن” سے لیا گیا ہے، جس کے معنی ہے(جذبات،نفس کا) فاتح – بانی مذہبی شخصیات کے نام پر رواج کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنے والوں کو “محمدی” کہلوانا چاہیئے مگر ایسا نہیں ہوا اگرچہ مغربی مسیحی مستشقرین نے کوسش کی کہ Muhamddans کا نام تقویت پکڑے مگر کامیاب نہ ہو سکے- حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر خود کسی مذھب کے موجد ہوتے تو کسی انسان کے لیے اپنے نام سے بہتر اور کیا نام ہو سکتا ہے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ قرآن الله کی طرف سے نازل وحی ہے جس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کا نام صرف پانچ مرتبہ آیا- اللہ کا دین اور اس کو قبول کرنے والوں کا نام بھی الله کی طرف سے رکھا گیا- “اسلام” اور “مسلمان” (عربی : الْمُسْلِمِينَ) کی نسبت اس دین کے خالق سے ہے جس کا ایک صفاتی نام “السلام” ہے-

الله کے نزدیک صرف دین اسلام هے ” ان الدین عندالله الاسلام ” اس لئے تمام ایسے لوگ جنہوں نے اللہ کے دین کو اپنے اپنے زمانه میں قبول کیا اور احکام الہی کے پابند تھے  وه مسلمان تھے- پہلے کے تمام الہامی ادیان ” اسلام” پر تھے، فرق صرف شریعت میں رکھتے هیں- قرآن مجید کی اصطلاح ( الْمُسْلِمِينَ) میں، “مسلمان” ہونے کا مطلب ہے کہ الله تعالی  کے فر مان ، اور هر قسم کے شرک سے پاک مکمل توحید کے سامنے مکمل طور پرسر تسلیم خم کرنا هے اور یهی وجه هے که قرآن مجید حضرت ابراھیم علیه السلام کو مسلمان کے نام سے متعارف کر تا هے- قرآن مجید کے مطابق الہامی ادیان کے تمام پیرو کار اپنے زمانه میں مسلمان تھے اور اس طرح عیسائی اور یهودی وغیره نئ وحی کے آنے سے پہلےان کا دین منسوخ نه هو نے تک مسلمان تھے ، کیونکه وه پرور دگار عالم کے حضور تسلیم هوئے تھے- بائبل کی موجودہ کتب میں اب بھی خدا کے احکامات کے آگے سر تسلیم کرنے کی آیات کثیر تعداد میں موجود ہیں:

“اور خدا ہمیں اپنی را ہیں بتا ئے گا،اور ہم اس کے راستو ں پر چلیں گے۔”(‏یسعیاہ 2:‏2)، ”‏اَے میرے خدا!‏ میری خوشی تیری مرضی پوری کرنے میں ہے بلکہ تیری شریعت میرے دل میں ہے۔‏“‏ (‏زبور ۴۰:‏۸‏)‏، ”‏میرا کھانا یہ ہے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے موافق عمل کروں اور اُس کا کام پورا کروں۔‏“‏ (‏یوح ۴:‏۳۴؛‏ ۶:‏۳۸‏)

[“Surrender and obedience to the Will of God” in Bible: Psalm 40:8، 112:1, 148:8,103:20, Jeremiah 31:33, 1 John 2:1-29، 2:17، Matthew 12:50، 26:42، 6:10، John 5:30، 4:34 ، Acts 21:14، Romans 12:2، Hebrews 10:7]

انھیں جو یهودی یا عیسائی کہا جاتا ہے، وه ان کے پیغمبروں کے ناموں سے لوگوں میں مشہور ہوا وہ نام الله کے عطا کردہ نہیں، مگر قرآن میں ان کا انہی مشھور ناموں سے تذکرہ کیا گیا تاکہ پڑھنے والے کو سمجھنے میں آسانی ہو- آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار کے بعد وہ “اسلام ” اور”مسلمان” کے اعزاز سے محروم ہو گیے-

اس دور میں”اسلام” کا اطلاق آخری رسول و نبی ، محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کے ذریعے انسانوں تک پہنچائی گئی کی آخري الہامي کتاب (قرآن مجيد) کی تعلیمات پر قائم ہے- اب “مسلمان” کا نام(عربی:الْمُسْلِمِينَ) ،خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم  جو قرآن کا عملی نمونہ تھے، کی پیروی کرنے والوں پر لاگو هوتا هے- مسلمان، قرآن اور سنت رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر عمل کرنے والے کو کہا جاتا ہے- ، کیونکه انهوں نے دین اسلام کو قبول کر کے اور تمام انبیاء اور آسمانی شریعتوں پر اعتقاد رکھ کر اللہ کے حضور سر تسلیم خم هو نے کا اعلان کیا هے-  حقیقی مسلمان وه هے جو احکام و دستورات الهی کو قول و فعل سے تسلیم کرتا ہو، یعنی زبان سے بھی اللہ کی وحدا نیت اور انبیاء علیهم السلام اور خاتم الانبیاء صلی الله علیه وآله وسلم کی رسالت کا اقرار کر ے اور عمل سے بھی دینی احکام اور دستورات ، من جمله دوسروں کے حقوق کی رعایت کرے جیسے اجتماعی قو انین اورشہادہ، نماز، روزه، زکات، حج وغیره جیسے انفرادی احکام کا پابند هو- قرآن مجید میں حقیقی مسلمان کو مومن کے نام سے بھی یاد کیاگیا هے اور بہت صفاتی ناموں سے بھی مگر “مسلمان” ہونے پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے، کیوں؟  اسلام میں اتحاد پر بہت زور دیا جاتا ہے، جس طرح نماز میں ایک اللہ کی عبادت ایک سمت (قبلہ) کی طرف منہ کرکہ ادا کی جاتی ہے اسی طرح ایک نام “مسلمان” (عربی:الْمُسْلِمِينَ) بھی اتحاد مسلمین کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے- نام سے فرق پڑتا ہے خاص طور پر جو نام الله تعالی نے خود عطا فرمایا ہو:

“آج میں نے تمھارے لئے دین کو کامل کر دیا هے اور اپنی نعمتون کو تمام کر دیا هے اور تمھارے لئے دین اسلام کو پسندیده بنا دیا هے” (سوره مائده ٣)

“اور جو اسلام کے علاوه کوئی بهی دین تلاش کرے گا تو وه دین اس سے قبول نه کیا جائے گا”(سوره آل عمران ٨٥)

هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَـٰذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ۚ  (سورة الحج22:78)

اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام “مسلم” رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ ..

إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ ۚ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّـهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ( ١٥٩ سورة الأنعام)

“جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے یقیناً ان سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں، ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے، وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے-

وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ

’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘( آل عمران،3:103)

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴿49:10﴾

“(یاد رکھو) سارے مومن ( مسلمان) بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے”﴿49:10﴾

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان بچے رہیں (صحیح بخاری، كتاب الإيمان #10)

سلام ، اسلام ، مسلم ، مسلمان

سلام ، مسلم ، اسلام  بنیادی طور پرعربی زبان کے بنیادی، روٹ( س،ل،م) سے ہیں جو قرآن میں 16  مختلف حاصل شدہ شکل میں 140 مرتبہ استعمال ہوا ہے- قرآن میں”اسلام” آٹھ مرتبہ استعمال ہوا-

“مسلمان” مختلف طریقه سے 51 مرتبہ آیا :[مُسْلِم 39= مُسْلِمِينَ 22 إِسْلَٰم 8، مُسْلِمَٰت2، 1مُّسْلِمَة، مُسْتَسْلِمُون1].[تفصیل لنک …]

“مُّسْلِمًا” کا اردو ترجمہ مسلمان کیا گیا ہے-[ ریفرنس لنک… ]

  1. مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَـٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴿آل عمران: ٦٧﴾
  2. رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ ﴿يوسف: ١٠١﴾
  3. إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّـهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّـهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا ﴿الأحزاب: ٣٥﴾
  4. عَسَىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا ﴿التحريم: ٥﴾

مسلما  ، مسلمون، مسلمین بھی اردو میں مسلمان ترجمہ ہے [دیکھیں لنک]

[سَلَام ( اسم ): أَمْن ، سَلاَم ( اسم ): تَحِيّة، سَلاَم ( اسم ): سِلْم ]

لفظ ”سلام“ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے(الحشر 59:23) (بخاری ، کتاب الاستیذان)-

”السلام علیکم“ کے معنی ہیں اللہ تمہارا محافظ ہے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس سے فرمایا:اے بیٹے جب تم اپنے گھروالوں کے پاس جاؤ تو سلام کیاکرو، یہ سلام تمہارے لیے اور تمہارے گھر والوں کے لیے برکت کا سبب ہوگا۔(ترمذی ۲/۹۹). عبادات میں نماز کے آخر میں اور ملاقات پرایک دوسرے کو “السلام علیکم” کہنا عبادت اور مسلم  کلچر کا لازم اہم جزو ہے-

وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ أَلْقَی إِلَیْْکُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِناً․ (النساء: ۹۳)

مفھوم:  اورتم سے سلام کہے تو اسے یہ مت کہو کہ تو ایمان والانہیں۔ (النساء: ۹۳)

حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے: مسلمانوں کادستہ بنو سُلیم کے ایک آدمی سے ملا، تو اس آدمی نے مسلمانوں کو ”السلام علیکم“ کہا، مسلمانوں نے کہا: کہ اس نے جان بچانے کے لیے مسلمانوں والا سلام کیا ہے؛ چناں چہ اسے قتل کر کے اس کی بکریاں ساتھ لے آئے، تو مذکورہ آیت نازل ہوئی۔(تفسیر ابن کثیر: ۱/۵۳۹)

اس سے معلوم ہوا کہ سلام، اسلام کی نشانی ہے اور جوشخص اسلامی سلام کرے، اسے قتل کرنا جائز نہیں؛ بلکہ اسے مسلمان تصور کیا جائے گا، اس کے دل کا حال خدا جانتا ہے، ہم نہیں جانتے۔

قرآن مجید میں یہ کلمہ انبیاء ورسل علیہم السلام کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور اکرام اور بشارت کے استعمال ہوا ہے اوراس میں عنایت اور محبت کا رس بھرا ہوا ہے، چنانچہ ارشاد خداوندی ہے:

سَلَامٌ عَلٰی نُوْحٍ فِي الْعَالَمِیْنَ، سَلاَمٌ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ، سَلاَمٌ عَلٰی مُوْسٰی وَہَارُوْنَ، سَلاَمٌ عَلٰی اِلْیَاسِیْنَ، سَلاَمٌ عََٰی الْمُرْسَلِیْنَ، سَلاَمٌ عَلٰی عِبَادہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی․

اسلام

مادہ ( س – ل – م ) کے باب اِفعال سے لفظ ’اسلام‘ بنا ہے۔ اسلام کے لغوی معانی بچنے، محفوظ رہنے، مصالحت اور امن و سلامتی پانے اور فراہم کرنے کے ہیں۔ اسلام کا لغوی معنی خود امن و سکون پانا، دوسرے افراد کو امن و سلامتی دینا اور کسی چیز کی حفاظت کرنا ہے۔  لغت کی رو سے لفظ اسلام چار معانی پر دلالت کرتا ہے۔

قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :  

يَهْدِيْ بِهِ اﷲُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَه سُبُلَ السَّلٰمِ.‘( المائدة،5:16)

’’اﷲ اس کے ذریعے ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے پیرو ہیں، سلامتی کی راہوں کی ہدایت فرماتا ہے۔‘‘( المائدة،5:16)

’اسلام‘ کا دوسرا مفہوم ماننا، تسلیم کرنا، جھکنا اور خود سپردگی و اطاعت اختیار کرنا ہے۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اِذْ قَالَ لَه رَبُّه اَسْلِمْ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَo’’اور جب ان کے رب نے ان سے فرمایا : (میرے سامنے) گردن جھکا دو، تو عرض کرنے لگے : میں نے سارے جہانوں کے رب کے سامنے سر تسلیم خم کر دیاo‘‘( البقرة، 2:131)

’اسلام‘ میں تیسرا مفہوم صلح و آشتی کا پایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں فرمایا :

يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّةً.

’’اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ۔‘‘( البقرة، 2:208)

اسی طرح ایک بلند و بالا درخت کو بھی عربی لغت میں السّلم کہا جاتا ہے۔

معانی کے لحاظ سے لغوی طور پر اسلام سے مراد امن پانا، سر تسلیم خم کرنا، صلح و آشتی اور بلندی کے ہیں۔

مسلمان :

مسلم کا مطلب ہے الله کا  “فرمانبردار”، اللہ تعالیٰ نے اسلام میں پورا پورا داخل ہونے کا حکم فرمایا ہے نہ کہ کسی فرقہ میں:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ادۡخُلُوۡا فِی السِّلۡمِ کَآفَّۃً ۪ وَ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿2:208﴾

اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجائواور شیطان کی پیروی نہ کروکیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے.

إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ ۖ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿2:131﴾

اس کا حال یہ تھا کہ جب اس کے رب نے اس سے کہا: “مسلم ہو جا”، تو اس نے فوراً کہا: “میں اللہ رب العا لمین کا “مسلم” ہو گیا” ﴿2:131﴾

رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴿2:128﴾

“اے رب، ہم دونوں کو اپنا مسلم (مُطیع فرمان) بنا، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا، جو تیری مسلم ہو، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا، اور ہماری کوتاہیوں سے در گزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ ”  ﴿2:128﴾

حدیث نبوی میں “مسلمان” کے معنی کے لحاظ سے ارشاد ہے : ’’بہتر مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

‘‘[1. بخاری، الصحيح، کتاب الايمان، باب المسلم من سلم المسلمون من لسانه و يده، 1 : 13، رقم : 10، 2. مسلم، الصحيح، کتاب الايمان، باب : تفاضل الاسلام و ای اموره أفصل، 1 : 65، رقم :40]

دین اسلام اور مسلمین:

اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو قبول کرنے والے افراد کو ” الۡمُسۡلِمِیۡنَ ،مُّسْلِمَةً ،مُّسْلِمُونَ،مُّسْلِمًا ،مُسْلِمَاتٍ۬”  کے نام سے مخاطب فرمایا-  عربی زبان میں واحد مرد ہے تو “مسلم” دو “مسلم” مرد ہوں  تو “مسلمان”، تین یا زیادہ جمع میں “مسلم” مرد ہوں تو “ملسمون” یا “مسلمین” ، اس کا اردو، ترجمہ “مسلمان” ہے. اس کے علاوہ اور نام جو اللہ تعالیٰ نے قران کریم میں مسلمانوں  لیئے جو نام پسند فرمائے ہیں ان میں”یٰایھا الذین اٰمنوا” یعنی اے ایمان والو. واحد کے لیئے “مؤمن” جمع کے لیئے مؤمنون یا مؤمنین اور صفاتی القاب- موجودہ مشہورمسلمان گروہوں اور فرقوں کے نام جو بزرگ فقیہ وامام ، شہر ، یا کتاب سے منسوب ہیں قرآن و سنت سے ثابت نہیں، بلکہ قرآن کی روح کے خلاف ہیں-  

عربی لغت میں مسلمان کا معنی یہ بیان کیا گیا ہے کہ :”المسلم هو مظهر للطاعة”.’مسلمان وہ ہے جو سراپا اطاعت ہے‘‘۔ (ابن منظور،لسان العرب، ماده مسلم ج12، ص293)

یعنی جس کا وجود اطاعت الہٰی اور اطاعت رسول سے عبارت ہے۔ اس کے وجود میں اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات کا رنگ نظر آتا ہے۔

ھُوَ سَمّٰىکُمُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ۬ ۙ مِنۡ قَبۡلُ وَ فِیۡ ہٰذَا( سورة الحج22:78)

مفھوم :”اسی اللہ.نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے، اس سے پہلے اور اس (قرآن) میں بھی تمہارا نام مسلم.ہے”۔

“المسلم هو التام الاسلام”.’’مسلمان وہ ہے جس نے خود کو اسلام میں ڈھال لیا ہے‘‘۔ (لسان العرب). یعنی جس کا وجود چلتا پھرتا اسلام ہے۔ اسلام کی تعلیمات کا عملی اظہار وجود مسلم سے ہوتا ہے۔

هو مومن بها.’’مسلمان وہ ہے جو تعلیمات اسلام پر ایمان رکھتا ہے‘‘۔ (لسان العرب). یعنی اس کو یقین حاصل ہے کہ اسلام کا ہر عمل اور ہر امر و نہی اس کے نفع کے لئے ہے۔

“المسلم هوا لمستسلم لامر الله”.’’مسلمان وہ ہے جو اللہ کے حکم کے سامنے جھک جائے‘‘۔ (لسان العرب).یعنی مسلمان وہ ہے جو اللہ کے حکم کو اپنا قول و فعل اور اخلاق و کردار بنائے۔ جو اپنے نفس امارہ کی خواہش سے اٹھنے والے حکم کو ترک کرے اور اس کے بجائے اللہ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردے۔

“المسلم هوالمخلص لله العبادة” .’’مسلمان وہ ہے جو عبادت کو اللہ ہی کے لئے خالص کرلے‘‘۔(لسان العرب)

یعنی مسلمان وہ ہے جو ایاک نعبد کا پیکر بن جائے، جو صرف اور صرف اللہ ہی کی عبادت کرے۔ اس کے وجود سے عبادتِ غیر کی ہر صورت کا خاتمہ ہوجائے۔ عبادت میں اس بندے کا اخلاص بڑھتے بڑھتے اس کو ایسا کردے کہ اس کا ہر کام اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہو۔

مسلمان کا مطلب ہے دین اسلام کا پیروکار ہونا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک صرف وہی شخص مسلمان ہے جس کا وجود دوسروں کے لئے منبع امن و عافیت اور سر چشمہ امن و سکون ہو۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے :

’’مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور جس کی زبان سے دوسرے مسلمان کے جان و مال اور عزتیں محفوظ رہیں۔‘‘ [بخاري، الصحيح، 1 : 13، کتاب الايمان، رقم : 10]

مسلمانوں کے صفاتی نام :

مسلمانوں کی صفتیں ہیں اور صفاتی نام بھی ہیں جیسے:

ربانی، ربٰنیون یا ربٰنیین، اور متقی متقون یا متقین اور محسن، محسنون صادق صادقون وغیرہ، مزید :

إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّـهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّـهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا (الأحزاب33:3)

مفہوم : “بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں، اطاعت گزار مرد اور اطاعت گزار عورتیں، سچے مرد اور سچی عورتیں، صابر مرد اور صابر عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں، روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور اللہ کو بکثرت یاد کرنے والے مرد اور یاد کرنے والی عورتیں اللہ نے ان کیلئے مغفرت اور بڑا اجر و ثواب مہیا کر رکھا ہے۔” (الأحزاب33:35)

مسلمان درجات :

الله نے مسلمانوں کے تین بڑے  گروہوں کا ذکر قرآن میں فرمایا ہے:
ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّـهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ ﴿٣٢﴾
پھر ہم نے ان لوگوں کو (اس) کتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے پسند فرمایا۔ پھر بعضے تو ان میں اپنی جانوں پر ﻇلم کرنے والے ہیں اور بعضے ان میں متوسط درجے کے ہیں اور بعضے ان میں اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کئے چلے جاتے ہیں۔ یہ بڑا فضل ہے (35:32 قرآن )
“ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ”، “مُّقْتَصِدٌ” یا ” سَابِقٌ” ناموں کے فرقوں کا  اسلامی تاریخ میں ذکر نہیں- “ظالم” گروہ تو تقریبا دور میں رہے ہیں- ایمان کم ، زیادہ ہوتا رہتا ہے ، اس کی اصلیت اور درجات،  کا علم الله کو ہے-
اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرنے والوں کے درجات کا ذکر بھی ہے​:

وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ فَأُو۟لَٰٓئِكَ مَعَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ ٱلنَّبِيِّۦنَ وَٱلصِّدِّيقِينَ وَٱلشُّهَدَآءِ وَٱلصَّٰلِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُو۟لَٰٓئِكَ رَفِيقًۭا ﴿4:69﴾
ترجمہ: اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ (قیامت کے روز) ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ اور ان لوگوں کی رفاقت بہت ہی خوب ہے (سورۃ النساء،آیت 69)

مسلمانوں کے صفاتی ناموں میں ، سنی، شیعہ، بریلوی، دیوبندی، حنفی مالکی، شافعی حنبلی. اہل حدیث ، سلفی ، وہابی  یا مزید ناموں سے مسلمان فرقے موسوم ہو کر ایک دوسرے سے جھگڑا کرتے ہیں، ان کا تذکرہ اور سند نہیں-

قرآن میں  الۡمُسۡلِمِیۡنَ (مسلمان)  نام کی تاکید اور حکم (امر) ہے:

ارشاد باری تعالی  ہے :

1.لَا شَرِیۡکَ لَہٗ ۚ وَ بِذٰلِکَ اُمِرۡتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ(سورة الأنعام 6:163)

“اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا مسلمان ہوں.”(سورة الأنعام 6:163)

2.وَ اُمِرۡتُ لِاَنۡ اَکُوۡنَ اَوَّلَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ (الزمر 12)

اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا مسلم (فرماں بردار) بن جاؤں۔” (الزمر 12)

3.وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ﴿10:72 یونس ﴾

اور مجھے حکم ہے کہ میں مسلمانوں سے ہوں( 10:72)

4.یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَ لَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿ سورة آل عمران 102﴾

“اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہرگز نہ مرنا مگر مسلمان”.﴿ سورة آل عمران 102﴾

5.إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَـٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِي حَرَّمَهَا وَلَهُ كُلُّ شَيْءٍ ۖ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴿٩١﴾ وَأَنْ أَتْلُوَ الْقُرْآنَ ۖ فَمَنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن ضَلَّ فَقُلْ إِنَّمَا أَنَا مِنَ الْمُنذِرِينَ ﴿٢٧:٩٢ النمل﴾

“مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ اِس شہر کے رب کی بندگی کروں جس نے اِسے حرم بنایا ہے اور جو ہر چیز کا مالک ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلم بن کر رہوں (91) اور یہ قرآن پڑھ کر سناؤں” اب جو ہدایت اختیار کرے گا وہ اپنے ہی بھلے کے لیے ہدایت اختیار کرے گا اور جو گمراہ ہو اُس سے کہہ دو کہ میں تو بس خبردار کر دینے والا ہوں  (النمل 27:92)

  1. وَ وَصّٰی بِہَاۤ اِبۡرٰہٖمُ بَنِیۡہِ وَ یَعۡقُوۡبُ ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰی لَکُمُ الدِّیۡنَ فَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿سورة البقرة 132)

“اور اسی دین کی وصیت کی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے کہ اے میرے بیٹو! بیشک اللہ نے یہ دین تمہارے لئے چن لیا تو نہ مرنا مگر مسلمان ۔” ﴿ سورة البقرة 132)

  1. اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی کریم کے توسط سے سب اھل کتاب کو اس بات پر متفق ہونے کی دعوت دی.

قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ تَعَالَوۡا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍۢ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمۡ اَلَّا نَعۡبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَ لَا نُشۡرِکَ بِہٖ شَیۡئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُوۡلُوا اشۡہَدُوۡا بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ ﴿سورة آل عمران 64﴾

“آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالٰی کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں ،نہ اللہ تعالٰی کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں ،پس اگر وہ منہ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلمان ہیں.”﴿سورة آل عمران 64﴾

8.نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلا مسلم ہونے کے لیئے حکم دیا گیا مگراللہ کے حکم اور  ان کی سنت کو چھوڑ کر ہم نے فرقے بنا لیے-

تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ  (12:101)

میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجام کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا” (12:101)

مسلمانوں نےاللہ کےعطا کردہ نام کو چھوڑ کرشیعہ، بریلوی، دیوبندی، حنفی مالکی، شافعی حنبلی، اہل حدیث ، سلفی ، وہابی  وغیرہ سے موسوم ہو کر ایک دوسرے سے جھگڑنے کا فتنہ کھڑا کر لیا ہے-

قرآن کو چھوڑنے والے بدترین علماء

وَعَنْ عَلِیِّ رَضِیَ اﷲُعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ یُوْشِکُ اَنْ یَّاْتِیَ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یَبْقَی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّا اسْمُہۤ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْاٰنِ اِلَّا رَسْمُہ، مَسَاجِدُ ھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِنَ الْھُدٰی عُلَمَآءُ ھُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ اٰدِیْمِ السْمَآءِ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)

” اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدتر ہوں گے۔ انہیں سے (ظالموں کی حمایت و مدد کی وجہ سے ) دین میں فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا (یعنی انہیں پر ظالم) مسلط کر دیئے جائیں گے۔” (بیہقی)

یہ حدیث اس زمانہ کی نشان دہی کر رہی ہے جب عالم میں اسلام تو موجود رہے گا مگر مسلمانوں کے دل اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہوں گے، کہنے کے لئے تو وہ مسلمان کہلائیں گے مگر اسلام کا جو حقیقی مدعا اور منشاء ہے اس سے کو سوں دور ہوں گے۔ قرآن جو مسلمانوں کے لئے ایک مستقل ضابطۂ حیات اور نظام علم ہے اور اس کا ایک ایک لفظ مسلمانوں کی دینی و دنیاوی زندگی کے لئے راہ نما ہے۔ صرف برکت کے لئے پڑھنے کی ایک کتاب ہو کر رہ جائے گا۔ چنانچہ یہاں ” رسم قرآن” سے مراد یہی ہے کہ تجوید و قرأت سے قرآن پڑھا جائے گا، مگر اس کے معنی و مفہوم سے ذہن قطعاً نا آشنا ہوں گے، اس کے اوامر و نواہی پر عمل بھی ہوگا مگر قلوب اخلاص کی دولت سے محروم ہوں گے۔

مسجدیں کثرت سے ہوں گی اور آباد بھی ہوں گی مگر وہ آباد اس شکل سے ہوں گی کہ مسلمان مسجدوں میں آئیں گے اور جمع ہوں گے لیکن عبادت خداوندی، ذکر اللہ اور درس و تدریس جو بناء مسجد کا اصل مقصد ہے وہ پوری طرح حاصل نہیں ہوگا۔

اسی طرح وہ علماء جو اپنے آپ کو روحانی اور دنی پیشوا کہلائیں گے۔ اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر مذہب کے نام پر امت میں تفرقے پیدا کریں گے، ظالموں اور جابروں کی مدد و حمایت کریں گے۔ اس طرح دین میں فتنہ و فساد کا بیج بو کر اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کریں گے۔ (مشکوۃ شریف ۔ جلد اول ۔ علم کا بیان ۔ حدیث 263)

فرقہ واریت :

مسلمان کئی فرقوں میں بٹ چکے ہیں اگرچہ ان کی اکثریت اسلام کے بنیادی عقائد اور عبادات پر متفق ہے مگر فروعی اختلافات کی شدت نے نفاق کے بیج اس طرح بو دیئےہیں کہ انتشار دن بدن متشدت اوراضافہ پزیرہے- اس معاملہ میں اسلام دشمن قوتیں بھی ملوث ہیں مگر ان کو جواز وہ مسلمان مہیا کر رہے ہیں جودشمنان اسلام  کے ہاتھ نادانستہ طور پرکھلونا بن چکے ہیں-

قرآن پر سب مسلمانوں کا ایمان ہے، جس کو سب مسلمان مکمل طور پر کلام اللہ تسلیم کرتے ہیں، جو مسلم کا نام دیتا ہے اور قرآن وہ الله کی مظبوط رسی ہے جس کو الله تعالی مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیتا ہےاور یہی تفرقہ کے خلاف موثر ترین ڈھال ہے-

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ ﴿١٠٢﴾ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ(3:103)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو (102) سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو (3:103)

فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلَالَةُ ۗ إِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ اللَّـهِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ  (الأعراف7:30)

“ایک فریق کو تو اس نے ہدایت دی اور ایک فریق پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر شیطانوں کو رفیق بنا لیا اور سمجھتے (یہ) ہیں کہ ہدایت یاب ہیں” (الأعراف7:30)

فروعی اختلافات اور عدم برداشت :گروہی تعصب اور فرقہ واریت کو پیدا کرنے والی سب سے بنیادی وجہ یہہ ہے کہ لوگ اصل چیزوں کو چھوڑ کر یا غیر اہم سمجھ کر فروعیات کو دعوت اور بحث مباحث کا موضوع بنالیتے ہیں۔مثلا نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد ‘امین’ با آواز یا آھستہ کہنا، رفع یدین ، مختلف معاشرتی ، کلچرل نیم مذہبی ایونٹس کو بدعات قرار دے کر دشنام ترازی ، قدیم مقدس مذہبی شخصیات کی فقہی اختلاف کی وجہ سے توہین کرنا،خود ہی فیصلہ کر لینا کہ صرف  ہم حق پر ہیں اور دوسرے باطل 72فرقوں میں شامل جہنمی،مخالفین پر کفر کے فتوے لگانا وغیرہ جس پر با آسانی قابو پایا جا سکتا ہے-

[فرقہ واریت کی وجوہات کی تفصیل اس لنک پر : http://salaamone.com/why-sectarianism]

قرآن ، اسلام اور مسلمان

قرآن مجید اور سنت اسلام کی بنیاد ہے- قرآن پر عمل سے فرقہ واریت کا سد باب کیا جاسکتا ہے- قرآن کی ہر آیات اہم ، قابل غور و فکر و عمل ہے:

وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا ﴿٧٣ الفرقان﴾

اور جب انہیں ان کے پروردگار کی آیتوں کے ذریعہ سے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ بہرے اور اندھے ہوکر ان پر گر نہیں پڑتے (بلکہ ان میں غور و فکر کرتے ہیں)۔ (25:73الفرقان)

قرآن کے متعلق الله نے واضح  کر دیا کہ :

1۔ قرآن مجید رب العالمین کا نازل کردہ کلام حق ہے (آل عمران 3:60)

  1. قرآن سے ملنے والا علم وہ حق ہے جس کے مقابلے میں ظن و گمان کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ (النجم 53:28)
  2. قرآن مجید کلام الٰہی ہے اور اس کے کلام الٰہی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ یہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرہ 2:2)
  3. اس کلام کو اللہ نے نازل کیا ہے اور وہی اس کی حفاظت کرے گا۔(الحجر15:9)

5..قرآن ایسا کلام ہے جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں جو بالکل سیدھی بات کرنے والا کلام ہے (الکہف 18:1,2)

6.قرآن کو واضح عربی کتاب کہا گیا کہ لوگ سمجھ سکیں (یوسف18:1,2)۔

7 ۔ باطل نہ اس کلام کے آگے سے آ سکتا ہے نہ پیچھے سے۔ (الفصلت 41:42)

  1. یہ کتاب میزان ہے۔ یعنی وہ ترازو ہے جس میں رکھ کر ہر دوسری چیز کی قدر وقیمت طے کی جائے گی۔ (الشوریٰ42:17)

9۔ یہ کتاب فرقان یعنی وہ کسوٹی ہے جو کھرے اور کھوٹے کا فیصلہ کرتی ہے۔(الفرقان 25:1)

10۔  تمام سلسلہ وحی پر مہیمن یعنی نگران ہے۔ (المائدہ5:48)

11۔ قرآن کریم  لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کرنے کے لیے اتاری گئی ہے۔ (البقرہ2:213)

12۔ یہی وہ کتاب ہدایت ہے جس کو ترک کر دینے کا مقدمہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مخاطبین کے حوالے سے پیش کریں گے۔ (الفرقان25:30)

قرآن کو ‘حدیث’ بھی کہا گیا:

  1. فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ( المرسلات 77:50)

اب اِس (قرآن) کے بعد اور کونسا کلام  (حدیث) ایسا ہو سکتا ہے جس پر یہ ایمان لائیں؟ ( المرسلات 77:50)

2.فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ (الأعراف 7:185)

پھر(قرآن) کے بعد کس حدیث پر یہ لوگ ایمان لائيں گے (الأعراف 7:185)

3.تِلْكَ آيَاتُ اللَّـهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّـهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ(الجاثية45:6)

یہ الله کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل سچی پڑھ کر سناتے ہیں پھر اللہ اور اس کی آیتوں کو چھوڑ کر کونسی حدیث پر ایمان لائیں گے، (الجاثية45:6)

4 .فَلْيَأْتُوا بِحَدِيثٍ مِّثْلِهِ إِن كَانُوا صَادِقِينَ ﴿ الطور 52:34﴾

اگر یہ اپنے اِس قول میں سچے ہیں تو اِسی (قرآن کی) شان کا ایک کلام بنا لائیں ( الطور 52:34)

قرآن کی عظمت، آیات کا منکر اورعذاب

اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں قرآن مجید کی حیثیت بیان کی ہے- جو کچھ قرآن مجید کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے وہ کسی دوسری چیز کے بارے میں نہیں کہا۔ قرآن مجید کے سوا کسی اور مذہبی کتاب، کسی پیغمبرسے منسوب کلام، کسی عالم اور محقق کی رائے کے بارے میں اللہ تعالیٰ اس طرح کی کوئی بات نہیں کہتے۔ اس لیے جو کوئی بھی قرآن کی آیات مبارکہ کے بارے میں شک شبہ ، تامل کرے ، اگر مگراورتاویلوں سے ان کو بے اثر کرنے کی کوشش کرے, انکار کرے تو وہ اچھی طرح سمجھ لے کہ وہ الله کی نافرمانی کی جرأت کر رہا ہے۔ اصحاب سبت  کا واقعہ ایک سبق ہے- (قرآن 7:163,166, 2:65,66).

1.وَيْلٌ لِّكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ﴿٧﴾ يَسْمَعُ آيَاتِ اللَّـهِ تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا ۖ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ  (الجاثية45:7)

ہر سخت جھوٹے گناہگار کے لیے تباہی ہے (7) جو آیات الہیٰ سنتا ہے جو اس پر پڑھی جاتی ہیں پھر نا حق تکبر کی وجہ سے اصرار کرتا ہے گویاکہ اس نے سنا ہی نہیں پس اسے دردناک عذاب کی خوشخبری دے دو  (الجاثية45:8)

2.هَـٰذَا هُدًى ۖوَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّن رِّجْزٍ أَلِيمٌ  (الجاثية45:11)

“یہ (قرآن) تو ہدایت ہے اور جو اپنے رب کی آیتوں کے منکر ہیں ان کے لیے سخت دردناک عذاب ہے”(الجاثية45:11)

  1.  لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّـهِ [ کلمات اللہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ہے] (یونس 10:64)

أَطِيعُوا الرَّسُولَ

الله کا  نے رسول الله ﷺکی اطاعت کا حکم  بھی دیا ہے (أَطِيعُوا الرَّسُولَ)

وَمَآاَرْسَلْنَامِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ  (قرآن 4:64)

“اور ہم نے جو پیغمبر بھیجا ہے اس لئے بھیجا ہے کہ خدا کے فرمان کے مطابق اس کا حکم مانا جائے”(قرآن 4:64)

  1. قُلْ أَطِيعُوا اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ ﴿آل عمران: ٣٢﴾
  2. وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ﴿آل عمران: ١٣٢﴾
  3. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا ﴿النساء: ٥٩﴾
  4. وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَاحْذَرُوا فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿المائدة: ٩٢﴾
  5. يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنفَالِ قُلِ الْأَنفَالُ لِلَّـهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّـهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَسُولَهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿الأنفال: ١﴾
  6. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿الأنفال: ٢٠﴾
  7. وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّـهَ مَعَ الصَّابِرِينَ ﴿الأنفال: ٤٦﴾
  8. قُلْ أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿النور: ٥٤﴾9. وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ﴿النور: ٥٦﴾
  9. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ ﴿محمد: ٣٣﴾
  10. أَأَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَتَابَ اللَّـهُ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَاللَّـهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ﴿المجادلة: ١٣﴾
  11. وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَإِنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿التغابن: ١٢﴾

رسول الله ﷺ کی سنت ہمیشہ موجود تھی ، تواتر سے ، حدیث کی مشہور کتب کی تدوین تو تیسری صدی ہجرہ میں ہوئی مگر مکمل دین اسلام جس طرح خطبہ حج کے وقت موجود تھا اس پر عمل درآمد رک نہ گیا تھا- تواتر سے نسل درنسل اسلام اور اس کے احکام منتقل ہو رہے تھے – حضرت ابوبکر صدیق کے بعد حضرت عمر راضی اللہ نے کتابت حدیث سے غور غوض کے بعد انکار کیا کہ، پہلی امتیں کیاب اللہ کو چھوڑ کر دوسری کتب کے پیچھے لگ کر گمراہ ہو گیئں تھیں- [تفصیل پڑھیں … : کتابت حدیث کی تاریخ – نخبة الفکر – ابن حجرالعسقلانی – ایک علمی جایزہ]  

اب احادیث کے خزانہ سے مکمل استفادہ حاصل کرنا ہے ، تفرقہ بازی میں استعمال نہ کریں-

کلام الله پرایمان  عمل مسلمان پرفرض ہے:

1.وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ (2:256قرآن )

ہم نے حکم سنا اور اطاعت قبول کی (2:256قرآن )

2.وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَ ۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِ مُلْتَحَدًا (قرآن18:27

اور اپنے پروردگار کی کتاب جو تمہارے پاس بھیجی جاتی ہے پڑھتے رہا کرو۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاؤ گے(18:27قرآن)

3.وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا (قرآن18:28)

اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے اس کا کہا نہ ماننا (18:28قرآن)

4.وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا (قرآن25:73)

“اور جب انہیں ان کے پروردگار کی آیتوں کے ذریعہ سے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ بہرے اور اندھے ہوکر ان پر گر نہیں پڑتے (بلکہ ان میں غور و فکر کرتے ہیں)۔  (قرآن25:73)

قرآن و حدیث کی اہمیت :

قرآن وہ کتاب ہے جو دعوی کرتی ہے کہ اس کتاب میں کوئی شک نہیں:

ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ

احادیث کے درجات اور تشریح پرفقہی اختلافات فرقہ واریت کی ایک وجہ ہیں- واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب یا حیثیت کو کسی پہلو سے کم کرنے کی کوئی جسارت قابل قبول نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہستی دین کا ماخذ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا کی ہوئی ہر چیز قرآن ہی کی طرح حجت ہے۔ لیکن آپ نے جو دین قرآن کی طرح اجماع و تواتر سے ہم تک منتقل کیا ہے وہ سنت یا دین کا عملی ڈھانچہ ہے۔ باقی جو ذخیرہ حدیث ہمارے سامنے موجود ہے وہ بڑا قیمتی ہے مگر اسے لوگوں نے اپنی صوابدید پر جتنا چاہا اور جس نے چاہا آگے منتقل کیا۔صحابہ اکرام کا اس پر اختلاف تھا ، اجماع نہ تھا- اس کی حفاظت کا وعدہ اور اہتمام نہ اللہ نے کیا، نہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی اہتمام کیا نہ خلفائے راشدین نے خود یہ کام باہتمام کیا نہ اپنی حکومت کے ذریعے سے اس حوالے سے ایسا کوئی کام کیاجیسا انھوں نے حفاظت قرآن کے لیے کیا تھا۔ یہ ایک ناقابل ترید تاریخی حقیقت ہے۔

حدیث :

حدیث حدیث کا لفظ تحدیث سے اسم ہے، تحدیث کے معنی ہیں:خبر دینا ہو الاسم من التحدیث، و ہو الاخبار۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت سے قبل عرب حدیث بمعنی اخبار (خبردینے) کے معنی میں استعمال کرتے تھے، مثلاً وہ اپنے مشہور ایام کو احادیث سے تعبیر کرتے تھے، اسی لیے مشہور الفراء نحوی کا کہنا ہے کہ حدیث کی جمع احدوثہ اور احدوثہ کی جمع احادیث ہے، لفظ حدیث کے مادہ کو جیسے بھی تبدیل کریں اس میں خبر دینے کا مفہوم ضرور موجود ہو گا، اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے وجعلناہم احادیث،[سورۃ المؤمنون:44] فجعلناہم احادیث،[سورۃ السبا:19] اللہ نزل احسن الحدیث کتابا متشابھا،[سورۃ الزمر:23] فلیاتو حدیث مثلہ،[سورۃ الطور:34] بعض علما کے نزدیک لفظ حدیث میں جدت کامفہوم پایا جاتاہے، اس طرح حدیث قدیم کی ضد ہے، حافظ ابن حجر فتح الباری میں فرماتے ہیں:- المراد بالحدیث فی عرف الشرع مایضاف الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ،وکانہ ارید بہ مقابلۃ القرآن لانہ قدیم. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے اقوال کو حدیث کا نام دیا ہے،آپ ہی نے یہ اصطلاح مقرر فرمائی، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ابوہریرہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کے یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ کی شفاعت کی سعادت کس کو نصیب ہوگی آپ نے جوابًا فرمایا ابو ہریرہ سے پہلے کو ئی شخص مجھ سے اس حدیث کے بارے میں سوال نہیں کرے گا کیونکہ وہ طلب حدیث کے بہت حریص ہیں-[ صحیح البخاری 8/148]

حدیث لفظ (ح د ث) روٹ سے نکلا ہے جو قرآن میں  36 مرتبہ حاصل شدہ الفاظ میں آیا ہے-

28 مرتبہ (حَدِيث) statement, a conversation, talk, the narratives,narrations, tales,for a conversation, story  

3 مرتبہ (يُحْدِثُ) ,to cause, to bring about

3 مرتبہ (تُحَدِّثُ)، to report, to narate

2 مرتبہ  will bring about, cause, present    

2 مرتبہ  (مُحْدَث) ، new, modern.

قرآن میں قرآن کوبھی  “حدیث”بھی کہا گیا ہے-

مروجہ شرعی ا صطلاح میں ہر وہ قول ،فعل، تقریر یا صفت جوحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو حدیث کہلاتی ہے۔ علم حدیث اس علم کو کہتے ہیں جس کے تحت پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فرامین کو محفوظ کیا گیا اور ان فرامین کی صحت کے بارے فیصلہ کیا جاتا ہے۔ “مُحَدِّث” وہ شخص جو علم حدیث میں روایۃ درایۃ مشغول ہوااور کثیر روایات اور ان کے راویوں کے حالات پر مطلع ہو-

مزید پڑھیں : علم حدیث , فرقہ واریت اورقران – تحقیقی مضامین

اہل حدیث :

“اہل حدیث” کی اصطلاح قرآن اور حدیث کی کسی کتاب میں نہیں، یہ بعد کی ایجاد ہے، جوشروع میں  “حدیث کے علماء” محدثین اور حدیث کے علم میں مشغول مسلمانوں سے منسوب تھی، مگرپچھلی ڈیڑھ صدی سے انڈیا  کے ایک مسلمانوں کے فرقہ نے اسے اپنایا ہے-

اہل حدیث ، بنیادی طور پر ایک عمومی مفہوم رکھنے والی اصطلاح ہے کیونکہ کوئی گروہ بھی مسلمانوں کا سواۓ اہل القران کے ایسا نہیں جو حدیث کا منکر ہو اور اس لحاظ سے تمام مسلمان ہی اہل حدیث کہے جاسکتے ہیں لیکن اس کے باوجود متعدد سیاسی و جغرافیائی عوامل کی وجہ سے آج یہ اصطلاح ان لوگوں کے ليے ہی مخصوص کی جاچکی ہے کہ جو غیر مقلد ہیں۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کے مطابق: ہم اہل حدیث سے صرف حدیث لکھنے اور سننے اور روایت کرنے والا ہی مراد نہیں لیتے ، بلکہ ہر وہ شخص جس نے حدیث کی حفاظت کی ،اس پرعمل کیا اوراس کی ظاہری وباطنی معرفت حاصل کی ، اور اسی طرح اس کی ظاہری اورباطنی طور پر اتباع وپیروی کی تو وہ اہل حديث کہلا نے کا زيادہ حقدار ہے ۔اوراسی طرح قرآن پرعمل کرنے والا بھی وہی ہے ۔اوران کی سب سے کم خصلت یہ ہے کہ وہ قرآن مجید اورحدیث نبویہ سے محبت کرتے اوراس کی اور اس کے معانی کی تلاش میں رہتے ہیں، اوراس کے موجبات پرعمل کرتے ہیں

لفظ “اہل حدیث” قدیم اور جدید دو اصطلاحوں میں منقسم ہے یعنی  اہلِ حدیث کا عنوان دواصطلاحوں میں مختلف معانی کا حامل ہے:

۱۔ اہلحدیث باصطلاح قدیم: اصطلاحِ قدیم میں اس سے مراد وہ لوگ تھے جوحدیث روایت کرنے، پڑھانے، اس کے راویوں کی جانچ پڑتال کرنے اور اس کی شرح میں مشتغل رہتے تھے، انہیں محدثین بھی کہا جاتا تھا اور وہ واقعی اس فن کے اہل سمجھے جاتے تھے؛ سواہلِ علم کی اصطلاح قدیم میں اہلِ حدیث سے مراد حدیث کے اہل لوگ تھے، اہلِ ادب، اہلِ حدیث، اہلِ تفسیر سب اسی طرح کی اصطلاحیں ہیں۔ حافظ محمد بن ابراہیم الوزیر ؒ(۷۷۵-٨٤٠ہجری)لکھتے ہیں:”یہ بات معلوم ہے کہ اہلِ حدیث اس طبقے کا نام ہے جو اس فن کے درپے ہو اس کی طلب میں منہمک رہے۔ایسے سب لوگ اہلِ حدیث ہیں؛ خواہ وہ کسی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں “۔ (الروض الباسم لابن الوزیر:۱/۱۲۲)

۲۔اہلحدیث باصطلاحِ جدید: اہلحدیث سے مراد ترک تقلید کے نام سے ایک فقہی مسلک پیداہوا جوپہلے کچھ عرصے تک وہابی کہلاتا تھا۔ یہ جدید اصطلاح “بطور فرقہ”  اسلام کی پہلی تیرہ صدیوں میں کہیں نہیں ملتی، اس کا آغاز چودھویں صدی ہجری سے ہوتا ہے؛ یایوں سمجھ لیجئے کہ تیرہویں صدی کے آخر میں ہندوستان میں اس کے لیئے کچھ حالات سازگار ہوگئے تھے، اس وقت یہ فرقہ وجود میں آیا۔

یہی وجہ ہے کہ محدثین کا ذکر چار ہی قسم کی کتابوں میں ملتا ہے ۔طبقات حنفیہ، طبقات مالکیہ، طبقات شافعیہ اور طبقات حنابلہ۔آج تک طبقات غیرمقلدین نامی کوئ کتاب محدثین نے نہیں لکھی-

اہل حدیث کون ؟ سوال و جواب

1- اہلحدیث مسلک جن کو غیر مقلد بھی کہتے ہیں ، کے تمام لوگ علماء اور عوام بھی کیا اہل سنت والجماعۃ میں شامل ہیں جیسا کہ امت کے چاروں معتبر و مستند مذاہب اربعہ مل کر ایک ہی اہل سنت والجماعت بناتے ہیں۔؟

2- کیا مسلک اہلحدیث بھی دوسرے مذاہب اربعہ کی طرح ایک معتبر اور امت کا ایک مشہور فروعی مسلک رہا ہے یا یا یہ کوئی موجودہ زمانہ کا نیا فرقہ ہے اور مذاہب اربعہ سے ان کا اختلاف اصول و عقیدہ کا اختلاف ہے یا صرف فروعی اختلاف ہے؟

3- امام داؤد ظاہری رحمہ اللہ اور امام ابن حزم رحمہ اللہ اندلسی کے مسلک کو اپنانے والے یعنی ظاہری مسلک کیا اہل سنت والجماعت میں شامل ہیں ۔اور کیا ظاہری مسلک بھی جو قیاس کے ماخذ شریعت ہونے کا بالکلیہ انکار کرتے ہیں اور ادلہ شرعیہ میں سے تین کے قائل ہیں قرآن، حدیث، اور اجماع امت امت کا مشہور اور معتبر مسلک حق رہا ہے جیسا کہ چار مشہور مذاہب اربعہ ہیں یا یہ اہل سنت والجماعت سے خارج ہیں؟

4- ایک خیال ہے کہ برصغیر کے اہلحدیث بھی عملا اہل الظاہر کے مسلک پر ہیں کیوں کہ یہ بھی دین کے ماخذ صرف تین چیزوں قرآن ، حدیث اور اجماع امت کو ہی حجت شرعیہ مانتے ہیں اور قیاس کا مطلقا انکار کرتے ہیں۔ بتلائیے کہ یہ خیال کہاں تک درست ہے؟

ایک بات ملحوظ خاطر رہے کہ مسلک اہلحدیث کا علمائے خواص و عام تمام کہ تمام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ،امام ابن قیم رحمہ اللہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ یا ماضی قریب میں شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ وغیرہ کو اپنے مسلک اہلحدیث کے اکابر اور مستند و معتبر ائمہ اہلسنت کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔ جبکہ ان مذکورہ ائمہ کرام کا اہل سنت میں شامل ہونا اور بعض کا متفقہ امام اہل سنت ہونا مشہور ہے۔

جواب: سوالوں کے نمبروار مختصر جوابات سے قبل دو بنیادی باتیں ملحوظ خاطر ہونا از حد ضروری ہیں:

۱۔پہلی بات تویہ ہے کہ اس وقت امت مسلمہ اپنے نظریاتی اور جسمانی وجود کی بقا کے لیے بڑے بڑے مسائل سے دوچارہے ان ضمنی مسائل کو چھوڑ کر ان مسائل پر توجہ مرکوزکرنی چاہئے جو امت مسلمہ کے ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہوئے صفحہٴ ہستی سے مٹانے کے درپے ہیں ۔

۲۔دوسری بات یہ ہے کہ اہل سنت والجماعت کا لغوی معنیٰ ہے سنت اور جماعت والے یعنی جو لوگ قرآن وسنت اور اجماع امت کوحجت ودلیل مانتے ہوں وہ اہل سنت والجماعت ہیں اور ان کے مقابل کو اہل بدعت کہا جاتاہے ، اہل بدعت کا لقب سب سے پہلے معتزلہ کے بارے میں مشہور ہوا،جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اجماع کو حجت نہیں مانتے تھے ۔شرح عقائد نسفی ،ص:۶

اب سوالوں کے جواب :

۱۔اہل حدیث اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت کے اجماع کو حجت شرعی مانتے ہیں تووہ اہل سنت والجماعت کے اصطلاحی مفہوم کے مصداق بن سکتے ہیں ورنہ نہیں ، یہ سوال ان سے پوچھا جائے یا ان کی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے کہ وہ اس سلسلے میں کیا موقف رکھتے ہیں؟

۲۔برصغیر کے جن غیر مقلد حضرات کا مسلکی لیٹریچر عام ہے اس کے پس منظر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرات اپنا ایسا انفرادی تشخص رکھتے ہیں جس کی مثال سا بقہ ادوار میں نہیں ملتی ،سابقہ ادوار میں اہل حدیث کا لقب کسی فروعی مسلک کے لیے نہیں ہوتا تھا بلکہ وہ حدیث پڑھنے ،پڑھانے والے لوگوں کے لیے استعمال ہو تا تھا ، موجودہ اہل حدیث کے نام سے مسلکی شناخت کے طور پر متعارف ہونے والے حضرات کا وجود ۱۸۵۷ءء کے بعد ہندوستان میں نمودار ہوا ہے ۔ اس بات کی تصریح خود ان حضرات کی تحریروں میں پائی جاتی ہے ، بایں معنیٰ موجود ہ وقت کے اہل حدیث غیر مقلد حضرات کا اس شناخت کے ساتھ سابقہ ادوار میں کوئی وجود نہیں تھا ،گو کہ ان کے بعض افکار گذشتہ ادوار کے بعض اہل علم کے افکار کے مشابہ ضرور ہو سکتے ہیں ان حضرات کا مذاہبِ اربعہ سے اختلاف بعض مسائل میں توفروعی ہے مگر تقلید اور اجماع امت کے بارے میں اختلاف نظریاتی اور اصولی ہے فروعی نہیں ہے ۔

۳۔جن أئمہ دین کو مذاہب اربعہ متبوعہ سے الگ رائے قائم کرنے کے باوجو داہل سنت والجماعت میں شمار کیا گیا ہے اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ نظریا تی اوراصولی طور پر اجماع کے حجت ہونے کے قائل تھے ۔اس لیے نہ تو انہیں اہل سنت والجماعت سے خارج کیا گیا اور نہ ہی ان کے متعلق اس قسم کے سوال کی نوبت آئی ۔

۴مو جود ہ اہلحدیث کے بارے میں بیان کر دہ خیال قائم فرمانے سے قبل ہ اہلحدیث کے علماء سے استفسار کریں کہ:

ا). کیا اہلحدیث حضرات واقعتا اجماع امت کو حجت سمجھتے ہیں یا نہیں ؟

اگر اہلحدیث واقعتا اجماع امت کو حجت سمجھتے ہیں وہ اہل سنت والجماعت کے اصطلاحی مفہوم کے مصداق بن سکتے ہیں ورنہ نہیں ، اگر نہیں سمجھتے جیسا کہ ان کی بعض تحریروں میں موجود ہے پھر یہ خیال درست نہیں ہو گا-

ب).جہاں تک ذکر کردہ أئمہ و مشائخ کے ماننے کا تعلق ہے اس کے بارے میں بھی استفسار کی ضرورت ہے کیونکہ اگر وہ ان أئمہ کرام کو اپنا امام اور مقتدا سمجھتے ہیں جیسا کہ مقلدین حضرات اپنے أئمہ امام اعظم ،امام مالک،امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کوامام مانتے ہیں تو پھر وہ اہل سنت والجماعت کے اصطلاحی مفہوم کے مصداق بن سکتے ہیں ورنہ نہیں. بلکہ پھر تو مقلدین اور غیر مقلد ین کے درمیان تقلید کی بنیاد پر کوئی اصولی اختلاف رہے گا ہی نہیں ،کیونکہ یہ بھی مقلد اور وہ بھی مقلد ہیں صرف چند مسائل میں فروعی اختلاف رہے گا اور وہ اختلاف ایسا ہی ہو گا جیسا کہ حنفی شافعی اختلا ف ہے ۔

پ).اہلحدیث حضرات برعکس اگر ان أئمہ مذکورین کو اپنا امام نہ مانتے ہوں جیسا کہ ان کا معروف نظریہ ہے تو پھر وہ اہل سنت والجماعت کے اصطلاحی مفہوم کے مصداق نہیں.(واللہ اعلم) [مزید تفصیل … لنک ….]

کتابت حدیث:

کتابت حدیث کی ممانعت ابتدائے اسلام سے تھی تاکہ احادیث قرآن کریم کے ساتھ مکس نہ ہوجائے- چنانچہ ایک روایت میں اس کی وضاحت موجود ہے- حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات قلمبند کررہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےتشریف لائے، دریافت فرمایا:  ” تم کیا لکھ رہے ہو؟” ہم نے عرض کیا وہی کچھ جو ہم آپ سے سنتے ہیں- آپ نے فرمایا: ” کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ ایک اور کتاب بھی لکھی جارہی ہے اللہ کی کتاب کو علحیدہ کرلو اور اسے خالص رکھو-“ (مسند احمد: 3/12، حدیث:11092)

قران کی طرح احادیث کی کتابت کا اہتمام خلفاء راشدین اور ان کے بعد کی صدی تک کے حکمرانوں نے نہ کیا- امام مالک بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حدیثیں یا ان کی کتابیں لکھنے کا ارادہ کیا، پھر فرمایا کتاب اللہ کے ساتھ کوئی کتاب تحریر نہیں ہوسکتی۔حضرت عمر فاروق رضی الله نے سختی سے احادیث کو لکھنے سے منع فرمایا ، جس پر بعد میں بھی کوئی تبدیلی نہ ہوئی-  ان کا قول “القرآن حسبنا كتاب الله” (ہمارے لیے تو اللہ کی کتاب بس کافی ہے)(صحیح بخاری # 4432)، بہت مشہور ہے-

[ریفرنس : کتابت حدیث کی تاریخ – نخبة الفکر – ابن حجرالعسقلانی – ایک علمی جایزہ]  

رسول اللہ ﷺ نے خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑنے کا حکم دیا ہے   (سنن ابی داود ، کتاب السنة ، باب لزوم السنة). رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر کے بعد حضرت عمر ہی کی جانب رجوع کرنے کا حکم دیا۔ نام لے کر صرف یہ دو صحابی ہی ہیں جن کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے-(صحیح ابن ماجہ#٩٧،و انظر الحدیث ٤٠٦٩ ، صحیح ااصحیحہ ١٢٣٣، و تراجیع البانی ٣٧٧، صحیح الضعیف سنن ترمزی #٣٨٠٥).

حضرت عمر رضی الله کے اصرار پر  حضرت ابو بکر صدیق رضی الله کے دور میں قرآن کی سرکاری سرپرستی اور اہتمام سے کتابت ہوئی، پھر حضرت عثمان رضی اللہ کے دور میں سرکاری اہتمام سے قرآن کے نسخوں کی اشاعت ہو گئی مگرپھر بھی کسی حکمران نے احادیث کو اکٹھا کر کہ کتابی شکل دینے کی ضرورت محسوس نہ کی- ان کے نزدیک کتاب الله ، قرآن کی اہمیت اتنی زیادہ تھی کہ کسی اور کتاب سے قرآن پر توجہ کم ہونے کا امکان تھا ، جیسا کہ بعد میں ایسا ہی ہوا کہ لوگوں نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا …. اور قرآن کو ترک کر دینے کا مقدمہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مخاطبین کے حوالے سے پیش کریں گے:

وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَـٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان25:30)

“اور پیغمبر کہیں گے کہ اے پروردگار میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا” (الفرقان)25:30)

اب قرآن بھی موجود ہے اور احادیث کتب میں بھی علمی،تاریخی و دینی  خزانہ موجود ہے، جس پر علماء جمہور کا اجماع ہے اس کا انکار یا غیر ضروری تنقید مناسب نہیں- لیکن مسلمہ حقائق سے صرف نظر بھی نہیں کیا جاسکتا-

ایک مثال خانہ کعبه میں حطیم کو نہ شامل کرنا ہے:

عہدِ رسالت میں آنحضرتﷺ کی دلی خواہش تھی کہ حطیم کا چھوٹا ہوا حصہ بھی کعبہ میں شامل کرکے اصل بنیاد ابراہیمی پر از سر نو اس کی عمارت بنائی جائے؛ لیکن عرب نئے نئے مسلمان ہوئے تھے ،کعبہ کی عمارت گرانے سے ان کے بھڑک جانے کا خطرہ تھا اس لئے آپ ﷺ اس خیال شریعت کو عملی جامہ نہ پہنا سکے۔ حضرت عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کے سوال پر نبی ﷺ نے جواب دیا:”… اور اگرتیری قوم نئی نئی مسلمان نہ ہوتی اوران کے دل اس بات کوتسلیم سے انکارنہ کرتے تو میں اسے ( حطیم ) کوبیت اللہ میں شامل کردیتا اوردروازہ زمین کے برابرکردیتا”(بخاری: 7243، مسلم 3249)

قرآن ، اسلام، مسلمان –  دین آیات

قرآن مجید کی وہ حیثیت مان لی جائے جو اللہ تعالیٰ نے خود بیان کی ہے۔ یعنی یہ حکم ہے جو ہر اختلاف کا فیصلہ کرنے آئی ہے، یہ میزان ہے، فرقان ہے، یہ الحق ہے، کتاب محفوظ ہے، باطل کی دراندازی سے پاک ہے، تمام سلسلہ وحی پر نگراں ہے، صاف، واضح، سیدھی اور روشن ہدایت ہے۔ اس کے بعد ہر مذہبی معاملہ قرآن کی روشنی میں سمجھا  جائے گا ۔ اس کا امکان پھر بھی رہے گا کہ دس لوگ قرآن کی بات کےدس مختلف مفاہیم بیان کریں۔ مگر سب لوگ بیک وقت ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ زبان وبیان کے مسلمہ دلائل کی روشنی میں غلطی کو واضح کیا جا سکتا ہے۔ کسی کو اپنی غلطی کا ادراک نہیں ہوپاتا اور وہ نیک نیتی سے نہ کہ بغض سے اپنے نقطہ نظر پر قائم رہتا ہے تو گرچہ اس کی غلطی پھر بھی غلطی ہی رہے گی ، مگر قیامت کے دن وہ نیک نیتی کی وجہ سے غلطی کے باوجود ایک اجرکا مستحق ہو گا۔

جب قرآن کی آیات کےواضح مفہوم کو لوگوں کی صوابدید پر چھوڑ دیا جایے تو مختلف لوگ مطلب نکال سکتے ہیں جو فرقہ واریت کا سبب ہے- ایک گروہ کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حاضر و ناظر ہیں۔ غیر اللہ کو پکارنا، مدد مانگنا، دعا کرنا یہ سب قرآن سے ثابت ہے۔ ایک دوسرے گروہ کے نزدیک ایک نئی نبوت کا اعلان خود قرآن میں موجود ہے(کافرٹہرے)۔ ایک گروہ کے نزدیک صحابہ کرام کا ارتداد اور نبوت کے بعد امامت کے سلسلے کا بیان خود قرآن سے ثابت ہے۔ ایک گروہ کے نزدیک معجزات قرآن اور تمام خارق العادات واقعات جو قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں وہ معنی ومفہوم نہیں رکھتے جو ظاہری الفاظ سے ثابت ہوتا ہے۔ ایک گروہ قران و حدیث کو برابر سمجھتا ہے، بلکہ اس سے  زیادہ- سب سے بڑھ کر مستشرقین کا گروہ ہے جو قرآن مجید سے کبھی گرامر کی غلطیاں نکالتا ہے اور کبھی اسے ساتویں صدی عیسوی کی سائنس کا ناقص بیان کہتا ہے-

قرآن راہ ہدایت:

” سب لوگ ایک دین پر تھے پھر الله نے انبیاء خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے بھیجے اور ان کے ساتھ سچی کتابیں نازل کیں تاکہ لوگوں میں اس بات میں فیصلہ کرے جس میں اختلاف کرتے تھےاور اس میں اختلاف نہیں کیا مگر انہیں لوگوں نے جنھیں وہ (کتاب) دی گئی تھی اس کے بعد کہ ا ن کے پاس روشن دلیلیں آ چکی تھیں آپس کی ضد کی وجہ سے پھر الله نے اپنے حکم سے ہدایت کی ان کو جو ایمان والے ہیں اس حق بات کی جس میں وہ اختلاف کر رہے تھے اور الله جسے چاہے سیدھے راستے کی ہدایت کرتا ہے” (2:213 قرآن )

فرقہ واریت کی ممانعت:

قرآن میں اللہ تعالٰی نے مسلمانوں میں اختلاف پیدا کرنے اور مختلف فرقوں میں بٹ جانے سے منع فرمایا ارشاد باری تعاٰلی ہے:

إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ ۚ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّـهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ( ١٥٩ سورة الأنعام)

“جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے یقیناً ان سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں، ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے، وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے-

وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ

’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘( آل عمران،3 :103)

تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈالا اور اختلاف کی انہی لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے۔ (ال عمران۔ ١٠٥)

یہ آیت دین میں باہمی اختلاف اور گروہ بندی کی ممانعت میں بالکل واضع اور صریح ہے اللہ تعالٰی نے گذشتہ امتوں کا ذکر کرتے ہوئے امت مسلمہ کو ان کی روش پر چلنے سے منع فرمایا، اس آیت کے ذیل میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ کا یہ قول ہے۔

حضرت عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس آیت میں مومنوں کو آپس میں متحد رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور ان کو اختلاف و فرقہ بندی سے منع کیا گیا ہے اور ان کو خبر دی گئی ہے کہ پہلی امتیں صف آپس کے جھگڑوں اور مذہبی عداوتوں کی وجہ سے ہلاک ہوئیں بعض نے کہا کہ ان سے اس امت کے بدعتی لوگ مراد ہیں اور حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہ حروری خارجی ہیں (تفسیر خازن، علامہ علاء الدین ابوالحسن بن ابراہیم بغدادی۔ جلد١ صفحہ ٢٦٨)

رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اُمت میں اختلاف بے حد ناگوار تھا۔ صحیح مسلم کی ایک روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم گذشتہ امتوں کی مثال دے کر اپنی امت کو باہمی اختلافات سے ڈرایا کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک دن میں دوپہر کے وقت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کی آواز سنی جو کسی آیت کی نسبت آپس میں اختلاف کر رہے تھے پس رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور آپ کے چہرہ مبارک پر غصے کے آثار ظاہر تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بات یہی ہے کہ تم سے پہلے لوگ کتاب اللہ میں اختلاف کرنے ہی کے سبب ہلاک ہو گئے۔ (مشکوٰہ باب الاعتصام، صفحہ۔ ٢٠)

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا! اللہ تعالٰی نے زمین کو میرے سامنے اس طرح سمیٹ دیا کہ مشرق و مغرب تک بیک وقت دیکھ رہا تھا اور میری امت کی حدود مملکت وہاں تک پہنچیں گی جہاں تک مجھے زمین کو سمیٹ کر دکھایا گیا ہے اور مجھے دو خزانے عطاء فرمائے گئے ہیں ایک سرخ اور دوسرا سفید آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ تعالٰی سے اپنی امت کے بارے میں عرض کیا تھا کہ اسے ایک ہی قحط سالی میں صفحہ ہستی سے نہ مٹایا جائے اور یہ کہ میری امت پر مسلمانوں کے علاوہ کوئی خارجی دشمن مسلط نہ کیا جائے جو مسلمان کے بلاد و اسبات کو مباح سمجھے۔ چنانچہ اللہ تعالٰی نے جوابا ارشاد فرمایا کہ! اے میرے محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب میں کسی بات کا فیصلہ کر دیتا ہوں تو اسے ٹالا نہیں جا سکتا۔ میں نے آپ کی اُمت کے بارے میں آپ کو وعدہ دے دیا ہے کہ اسے ایک ہی قحط سالی میں تباہ نہیں کیا جائے گا اور دوسرا یہ کہ ان کے اپنے افراد کے علاوہ کسی دوسرے کو ان پر مسلط نہیں کیا جائے گا جو ان کے مملوکہ مال و اسبات کو مباح سمجھ لے اگرچہ کفر کی ساری طاقتیں اکٹھی ہو کر مسلمانوں کے مقابلے کے لئے جمع کیوں نہ ہو جائیں ہاں! مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو ہلاک کرتے رہیں گے۔۔ (صحیح مسلم)

حافظ ابن حبان رحمہ اللہ نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں لکھا ہے اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: “میں اپنی امت کے بارے میں ان گمراہ کن پیشواؤں سے ڈرتا ہوں اور جب میری امت میں آپس میں تلواریں چل پڑیں گی تو قیامت تک نہ رُک سکیں گی اور اس وقت تک قیامت نہ ہو گی جب تک میری امت کی ایک جماعت مشرکوں سے نہ مل جائے اور یہ کہ میری امت کے بہت سے لوگ بُت پرستی نہ کر لیں۔ اور میری اُمت میں تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے جو سب کے سب نبوت کا دعوٰی کریں گے حالانکہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کسی قسم کا نبی نہیں آئے گا اور میری امت میں ایک گروہ حق پر قائم رہے گا اور فتح یاب ہوگا جن کی مدد چھوڑنے والے ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالٰی کا حکم آجائے گا۔”

یہ حدیث مستقبل کی خبر دے رہی ہے ڈرا رہی ہے ، حکم یا جواز نہیں کہ مسلمان فرقے بنا کر آپس میں لڑیں، اسی ترہ ٧٣ فرقوں والی حدیث میں خبر ہے-

[ریفرنس : .اسلام میں فرقہ واریت – تاویلیں، دلائل اور تجزیہ]

73 فرقوں والی حدیث:

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو فتنہ بنی اسرائیل پر آیا وہی قدم با قدم میری امت پر آنے والا ہے کہ اگر ان میں سے ایک شخص ایسا ہو گا جس نے اعلانیہ اپنی ماں کے ساتھ زنا کیا ہو گا، تو میری اُمت میں بھی ایسا شخص ہو گا یہ حرکت کرے گا بنی اسرائیل میں پھوٹ پڑنے کے بعد بہتر (٧٢) فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے، اور میری امت تہتر (٧٣) فرقوں میں متفرق ہو جائے گی ان میں بہتر (٧٢) دوزخی ہوں گے اور ایک فرقہ باجی یعنی جنتی ہو گا، صحابہ رضوان علیہم اجمعین نے عرض کی یا رسول اللہ ! ناجی فرقہ کون سا ہوگا؟۔ فرمایا جو میرے اور میرے صحابہ رضی اللہ عنہما کے طریقہ پر چلتا ہوگا۔ (ترمذی)

اس حدیث میں مذموم فرقوں سے فروعی مسائل میں اختلاف کرنے والے فرقے مراد نہیں ہیں، بلکہ اس سے مراد وہ فرقے ہیں جن کا اختلاف اہل حق سے اصول دین و عقائد اسلام میں ہے، مثلا مسائل توحید، تقدیر، نبوت، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت و موالات وغیرہ میں، کیونکہ انہی مسائل میں اختلاف رکھنے والوں نے باہم اکفار و تکفیر کی ہے، فروعی مسائل میں اختلاف رکھنے والے باہم اکفار و تکفیر نہیں کرتے، (٧٣) واں فرقہ جو ناجی ہے یہ وہ فرقہ ہے جو سنت پر گامزن ہے، بدعت سے مجتنب اور صحابہ کرام سے محبت کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلتا ہے، حدیث سے یہ بھی پتا چلا کہ ان تمام گمراہ فرقوں کا شمار بھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امت میں کیا ہے وہ جہنم میں تو جائیں گے، مگر ہمیشہ کے لئے نہیں، سزا کاٹ کر اس سے نجات پا جائیں گے (٧٣) واں فرقہ ہی اول وہلہ میں ناجی ہوگا کیونکہ یہی سنت پر ہے، یہی باب سے مناسبت ہے۔

اس حدیث مبارکہ میں امت مسلمہ کے اندر تفریق و گروہ بندی کی جو پیشن گوئی تھی وہ محض بطور تنبیہ و نصیحت کے تھی -بد قسمتی سے مسلمانوں کے مختلف فرقوں نے اس حدیث کو اپنے لئے ڈھال بنا لیا ہے اور (ماآنا علیہ واصحابی) کی کسوٹی سے صرف نظر کرتے ہیں ہرگروہ، فرقہ اپنے آپ کو ناجی فرقہ کہتا ہے اور اپنے علاوہ دیگر تمام مکاتب فکر کو ضال و مضل اور بہتر (٧٢) فرقوں میں شمار کرتا ہے-ہم  اپنا جج خود ہی کیسے بن گئے؟ جبکہ الله ان اختلافات کا فیصلہ آخرت میں کرے گا … کیا قرآن نہیں پڑھا؟

إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ ۚ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّـهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (١٥٩ سورة الأنعام)

“جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے یقیناً ان سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں، ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے، وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے-(١٥٩ سورة الأنعام)

72 فرقوں کی تصریح علامہ ابن جوزی نے اس طرح بیان کی ہے کہ ابتداء میں جماعت صحابہ رضوان اللہ علیہم اور سواد اعظم سے علیحدہ ہو کر خوارج اور دیگر فرقے بنے تھے ،پھر انکے ردّ عمل میں مزید چار فرقے اور پیدا ہو گئے یعنی قدریہ، جبریہ، جہمیہ، مرجیہ۔ اس طرح ان گمراہ فرقوں کی کل تعداد چھ ھوگئی۔ علامہ ابن جوزی کا بیان ہے کہ ان چھ فرقوں میں آپس میں مسلسل ٹوٹ پھوٹ اور تفریق ہوتی رہی یہاں تک ان میں سے ہر فرقہ بارہ بارہ فرقوں میں تقسیم ہو گیا۔ اس طرح مجموعی طور پر ان گمراہ فرقوں کی تعداد حدیث نبوی کی تصریح کے مطابق 72 ھوگئی۔ ان 72 فرقوں کے الگ الگ نام کی صراحت اور ان کے عقائد کی تفصیلات”تحفہ اثنا عشریّہ “از حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی میں دیکھی جا سکتی ہیں ۔

اگر قرون اولیٰ کے خوارج سے ملتے جلتے فرقوں سے آج کے فرقوں کا موازنہ کریں تو ان میں بہت فرق ہے- موجودہ فرقوں میں اختلافات فروعی ہیں اسلام کے بنیادی عقائد میں اختلاف نہیں- اس وجہ سے ان کا اکٹھا ہونا آسان اور ممکن ہے-

[ریفرنس : .فرقہ واریت, 73 فرقوں والی حدیث]

اسلام کے بنیادی عقائد پر ایمان، مسلمان  فروعی اختلافات خارج نہیں کرتے:

تمام مسلمان کلمہ گو: “لا الہ الا اللہ” پرھتے ہیں جو واقعی سب سے بڑی نیکی ہے، اور ایمان کی شاخوں میں سب سے اعلی شاخ ہے، جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ایمان کے ستر یا ساٹھ سے کچھ زائد شعبے ہیں، افضل ترین شعبہ لا الہ الااللہ کہنا ہے، اور سب سے کم ترین درجہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے، اور حیا بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے” (بخاری (9) ، اورمسلم (35) نے اسے ابو ہريرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔)

اگر اس حقیقت پر غور کیا جائے کہ اختلاف مسالک اور فروعات دین مختلف الرائے ہونے کے باوجود تمام مسلمان جو اللہ تعالیٰ پر، اس کے ملائکہ پر، اس کے رسولوں پر، قیامت کے دن پر، اچھی یا بری تقدیر کے منجانب اللہ ہونے پر ،اور موت کے بعد دوبارہ اٹھنے پر ایمان رکھتے ہیں ،حضرت محمد صلعم کو آخری نبی تسلیم کرتے ہیں ،نماز پڑھتے ہیں ،روزہ رکھتے ہیں ، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور صاحب استطاعت ہونے پر حج کرتے ہیں ،معروف کا حکم دیتے ہیں اور منکرات سے روکتے ہیں تو اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک یہ سب مومن ہیں بشرطیکہ وہ اللہ کی ذات یا اس کی صفات میں کسی دوسرے کو شریک نہ کرتے ہوں –دوسرے الفاظ میں جو شخص دین کی مبادیات پر ایمان رکھتا ہو اور ارکان اسلام پر عمل پیرا ہو وہ دین کے فروعات میں دیگر مسلمانوں سے اختلاف رائے رکھنے کے باوجود مومن و مسلم ہی رہتا ہے۔ ایمان سے خارج نہیں ہوتا ۔دین کا فہم نہ تو سب کو یکساں عطاء کیا گیا ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کے ذہن، صلاحیتیں اور طبائع ایک جیسے رکھے ہیں ۔بہر حال یہ طے شدہ بات ہے کہ فروعی اختلافات میں قلت فہم کی بنا پر مختلف مکاتب فکر پیدا ہو جاتے ہیں ۔ہر ایک فرقہ اپنے آپ کو درست اور دوسروں کو گمراہ قرار دے کر نفرتوں کے بیج بوتا ہے- ہدایت ور گمراہی کا فیصلہ تو الله نے کرنا ہے-

اہل ایمان کی بخشش :

احادیث قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں تمام مومنین کو آپس میں بھائی بھائی کہا گیا ہے۔ اور قرآن مجید میں بھی انہیں جنتیں دینے کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔

بیشک ﷲ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے بہشتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، اور جن لوگوں نے کفر کیا اور (دنیوی) فائدے اٹھا رہے ہیں اور (اس طرح) کھا رہے ہیں جیسے چوپائے (جانور) کھاتے ہیں سو دوزخ ہی ان کا ٹھکانا ہے​  (محمد۔ ١٢)

یہ اور اس طرح کی بیشمار آیتیں قرآن مجید میں موجود ہیں جن میں مومنین صالحین کی مغفرت اور فوز و فلاح کا وعدہ کیا گیا ہے اور کفار مشرکین کے لئے جہنم کی وعید سنائی گئی ہے جو شخص دین کی مبادیات پر ایمان رکھتا ہو اور ارکان اسلام پر عمل پیرا ہو وہ دین کے فروعات میں دیگر مسلمانوں سے اختلاف رائے رکھنے کے باوجود مومن و مسلم ہی رہتا ہے ایمان سے خارج نہیں ہوتا دین کا فہم نہ تو سب کو یکساں عطا کیا گیا ہے اور نہ ہی اللہ تعالٰی نے تمام انسانوں کے ذہن، صلاحیتیں اور طبائع ایک جیسے رکھے ہیں بہرحال یہ طے شدہ بات ہے کہ فرعی اختلاف میں قلت فہم کی بناء پر دو فریقوں میں سے ایک یقینی طور پر غلطی پر ہو گا اور دوسرے فریق کا نظریہ درست اور شریعت کے مزاج و احکام کے مطابق لہذا ایسی صورت میں جو فریق دانستہ طور پر غلطی پر ہے تو اس کا دینی اور اخلاقی فرض یہ ہونا چاہئے کہ وہ اپنی انانیت اور کبر و غرور کو پس پشت ڈال کر اس غلطی سے تائب ہو جائے اور اپنی کم فہمی اور جہالت کے لئے اللہ تعالٰٰی سے مغفرت طلب کرے بلاشبہ وہ غفور رحیم ہے اور اگر اس فریق سے غلطی کا ارتکاب نادانستہ طور پر ہو رہا ہے تو اس کا شمار (سیئات) میں ہو گا ایسی صورت میں فریق مخالف یعنی فریق حق کا فرض ہو گا کہ وہ اپنے ان بھائیوں کو نرمی محبت اور دلسوزی سے سمجھائیں اور صحیح راہ عمل واضح کریں۔ اس کے باوجود بھی اگر دوسرا فریق سمجھ کر نہیں دیتا تو اس کے لئے ہدایت کی دُعا کریں۔ آپ اپنی ذمداریوں سے سبکدوش ہو گئے مسلمانوں کی (سیئات) یعنی کوتاہیوں کے بارے میں اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے۔۔۔

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے اور ان سب چیزوں پر ایمان لائے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئیں وہ چیزیں ان کے رب کے پاس سے امر واقعی ہیں اللہ تعالٰی ان کو تاہیوں کو درگذر فرمائے گا اور ان کی حالت درست کرے گا۔ (محمد۔ ٢)

لہذا معلوم ہوا کہ جب اللہ تعالٰی اپنے بندوں سے ایمان و عمل صالح کے مطالبہ کو پورا کرنے کے بعد ان کے تمام گناہوں اور کوتاہیوں کو معاف کرنے کا اعلان عام کر رہا ہے تو دوسروں کو یہ حق کب پہنچتا ہے کہ وہ اپنے صاحب ایمان بھائیوں کو محض فروعی اختلافات کی بناء پر جہنم رسید کر دیں اور ان کا شمار ان بہتر (٧٢) ناری فرقوں میں کرتے رہے جو خارج ایمان ہونے کی بناء پر زبان وحی و رسالت سے دوزخی قرار پائے؟ کیا ان کی یہ روش اللہ کے کلام کو جھٹلانے کے مترادف نہیں ہے؟

“…لہٰذا بھلائیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو آخر کار تم سب کو اللہ  کی طرف پلٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں اصل حقیقت بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہے ہو” (5:48قرآن)

اگرچہ یہ آیت دوسری امتوں کے تناظر میں ہے مگر اس میں مسلمانوں کے لیے بھی ہدایت ہے- اصل مقصُود نیکیوں اور بھلائیوں کو پانا ہے اور وہ اسی طرح حاصل ہو سکتی ہیں کہ جس وقت جو حکمِ خدا ہو اُس کی پَیروی کی جائے۔ لہٰذا جو لوگ اصل مقصد پر نگاہ رکھتے ہیں ان کے لیے شرائع کے اختلافات اور مناہج کے فروق پر جھگڑا کرنے کے بجائے صحیح طرزِ عمل یہ ہے کہ مقصد کی طرفف اُس راہ سے پیش قدمی کریں جس کو اللہ  تعالیٰ کی منظُوری حاصل ہو۔ جو اختلافات انسانوں نے اپنے جمُود ، تعصّب، ہٹ دھرمی اور ذہن کی اُپَج سے خود پیدا کر لیے ہیں اُن کا آخری فیصلہ نہ مجلس مناظرہ میں ہو سکتا ہے نہ میدانِ جنگ میں۔ آخری فیصلہ اللہ تعالیٰ خود کرے گا جبکہ حقیقت بے نقاب کر دی جائے گی اور لوگوں پر منکشف ہو جائے گا کہ جن جھگڑوں میں وہ عمریں کھپا کر دُنیا سے آئے ہیں اُن کی تہ میں ”حق“ کا جوہر کتنا تھا اور باطل کے حاشیے کی قدر۔الله کا بخشش اور معافی کا دروازہ کھلا ہے:

“(اے نبیؐ) کہہ دو کہ اے میرے بندو، جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ، یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے، وہ تو غفور و رحیم ہے” (قرآن 39:53 )

“جو شخص توبہ کر کے نیک عملی اختیار کرتا ہے وہ تو اللہ کی طرف پلٹ آتا ہے جیسا کہ پلٹنے کا حق ہے”(قرآن 25:71)

………………………………

فرقہ واریت کا خاتمہ – پہلا قدم

عملی اقدامات – خلاصہ

مسلمانوں میں فرقہ واریت کی لعنت کو اگرفوری طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا ، توابتدا میں قرآن کے حکم کے مطابق  صرف ایک درست عمل کی شروعات سے شدت اور منفی رجحانات کو کم کرکہ فرقہ واریت کے خاتمہ کے سفر کا آغاز کے آجاسکتا ہے:

هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَـٰذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ۚ  (سورة الحج22:78)

اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام “مسلم” رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ . (سورة الحج22:78)

1.ہرایک فقہ اور فرقہ کا دعوی ہے کہ وہ قرآن و سنت پر پر عمل پیرا ہیں، جس کو دوسرے قبول نہیں کرتے اور وہ خود دعوی دار ہیں کہ وہ حق پرہیں- ہم سب کو معلوم ہے کہ مسلمان کے علاوہ  تمام لیبل اور مذہبی القاب و نام بعد کے زمانہ کی ایجادات ہیں- تو ایک متفقہ نام “مسلمان” پر جو قرآن و سنت و حدیث اور تاریخ سے مسلسل پر ثابت ہے اور اور اب بھی ہماری اصل پہچان ہے، اس نام “مسلمان”  کو مکمل اصل حالت میں بحال کر دیں-

2..تمام مسلمان اپنے اپنے موجودہ فقہ و نظریات پر کاربند رہتے ہوۓ، الله تعالی کے عطا کردہ  ایک نام پر متفق ہو کر اپنے آپ کو صرف اور صرف “مسلمان” کے نام سے پکاریں، کسی اور نام کی جازت نہ  دیں،جو نام الله نے دیا وہ ہر طرح سے مکمل ہے،تعارف، شناخت یا کسی اور حجت کی وجہ سےفرقہ پرستی کو رد کریں- مسلمان کو کسی اکسٹرالیبل (extra label) کی ضرورت نہیں- جب کوئی آپ سے قریبی تعلقات یا رشتہ داری قائم کرنا چاہتا ہو تو تفصیلات معلوم کی جاسکتی ہیں- اپنی مساجد، مدارس، گھروں اور اپنے ناموں کے ساتھ فرقہ وارانہ القاب لگانے سے مکمل اجتناب کریں- نفس کہتا ہے مشکل ہے، مگر اللہ کا حکم بھی ہے، فرمانبردار (مسلم) بن کر اس آزمائش سے گزریں، الله پرتوکل کریں-

3.یہ اقدام اسلام کے ابتدائی دور ، رسول الله ﷺ اور صحابہ اکرام کے زمانہ کے مطابق ہو گا، جس کی خواہش ہر مسلمان دل میں رکھتا ہے- الله اور رسولﷺ یقینی  طور پر آپ سے بہت خوش ہوں گے- اس احسن روایت، سنت کے دوبارہ اجرا پر الله ہم پر رحمتوں اور برکات کی بارش فرمایے گا- اس نیک عمل سے آپ دین و دنیا میں کامیابی کے راستے پر چل پڑیں گے- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ (ماآنا علیہ واصحابی) یعنی وہ لوگ جو میرے اور میرے اصحاب کے طریقے پر ہوں گے وہی جنتی ہیں۔ فیصلہ صرف  الله کا اختیار ہے- تہتر فرقوں والی حدیث مبارکہ میں امت مسلمہ کے اندر تفریق و گروہ بندی کی جو پیشن گوئی تھی وہ خبر،محض بطور تنبیہ و نصیحت کے تھی- بدقسمتی سے مسلمانوں کے مختلف فرقوں نے اس حدیث کو اپنے لئے ڈھال بنا لیا ہے اور (ماآنا علیہ واصحابی) کی کسوٹی سے صرف نظر کرتے ہیں اور ہر ایک گروہ اپنے آپ کو ناجی فرقہ کہتا ہے اور اپنے علاوہ دیگر تمام مکاتب فکر کو ضال و مضل اور بہتر (٧٢) فرقوں میں شمار کرتا ہے- حدیث سے یہ بھی پتا چلا کہ ان تمام گمراہ فرقوں کا شمار بھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امت میں کیا ہے وہ جہنم میں تو جائیں گے، مگر ہمیشہ کے لئے نہیں، سزا کاٹ کر اس سے نجات پا جائیں گے (٧٣) واں فرقہ ہی اول وہلہ میں ناجی ہوگا کیونکہ یہی سنت پر ہے، یہی باب سے مناسبت ہے۔

4.کسی صورت میں کوئی گروہ دوسرے مسلمانوں کی تکفیر نہ کریں،یہ پلٹ کر تکفیر کرنے والے پر پڑتی ہے [مفھوم ،ابی داوود ٤٦٨٧] ہر حال میں اس شدت پسندی سے بچنا ہے- جنت ، جہنم کا فیصلہ صرف الله کا اختیار ہے- ہم کو اچھے اعمال میں ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرناہے-

5.تمام فقہ اور فرقوں کے علماء پر مشتمل ایک فورم تشکیل دیا جا ئے جہاں مسقل بنیاد پر پرکم از کم مشترکہ متفقہ اسلامی نظریات کو یکجا کے جا سکے[ Minimum Common Points of Agreement]. غیر اسلامی رسوم و رواج کو بتدریج  معاشرہ سے پاک کیا جائے- علماء کی جدید طریقه تعلیم اور ٹیکنولوجی سے مناسب تعلیم و تربیت اور معاشی سٹرکچر سرکاری طور پر نافذ کیا جاے- یہ تمام کام حکومت اور علماء کے تعاون سے سرانجام پا سکتے ہیں-

ایک کتاب یا ڈسکشن سیشن سےصدیوں پر محیط مائینڈ سیٹ کو تبدیل تو نہیں کیا جاسکتا مگر اہل عقل کے لیے غور فکر کےدروازے کھل سکتے ہیں ….

إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّـهِ الَّذِينَ كَفَرُوا فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿ لأنفال: ٥٥﴾

یقیناً اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والی مخلوق میں سب سے بدتر وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو ماننے سے انکار کر دیا پھر کسی طرح وہ اسے قبول کرنے پر تیار نہیں(9:55)

إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ۗ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ ﴿٢٨﴾

“اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں واقعی اللہ تعالیٰ زبردست بڑا بخشنے واﻻ ہے” (35:28)

……………………

قرآن – ہدایت کا سرچمہ

فِطۡرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِي فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيۡهَاۚ لَا تَبۡدِيلَ لِخَلۡقِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُ وَ لَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ  ( الروم : 30 )
” اللہ کی اس فطرت پر غور کرو جس پر اس نے انسان کو خلق کیا ہے۔ اللہ کے قانون خلق میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوتا۔ دین قیم کی بھی یہی حقیقت ہے لیکن بہت سے لوگ اتنی سی بات کو بھی نہیں سمجھتے۔” ( الروم : 30 )
“ثم جعلناک علی شریعۃ من الأمر فاتبعھا ولا تتبع أھواء الذین لا یعلمون  (الجاثیہ:۱۸)

” پھر ہم نے آپ کو دین کی ظاہر راہ پر قائم کر دیا۔ سو آپ اسی پر رہیں اور نادانوں کی خواہشات پہ نہ چلیں”(الجاثیہ:۱۸)

إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّـهِ الْإِسْلَامُ ۗ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللَّـهِ فَإِنَّ اللَّـهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ ﴿١٩﴾ فَإِنْ حَاجُّوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّـهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ ۗ وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ ۚ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوا ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ ۗ وَاللَّـهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ ﴿٢٠﴾ إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّـهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَيَقْتُلُونَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ﴿٢١﴾ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ ﴿3:22 قرآن﴾

“بے شک خدا کے نزدیک سچا دین صرف اسلام ہے اور اہل کتاب نے (دین حق میں) اختلاف نہیں کیا مگر اپنے پاس علم آجانے (اور اصل حقیقت معلوم ہو جانے) کے بعد۔ محض آپس کی شرارت و ضد اور ناحق کوشی کی بنا پر اور جو بھی آیاتِ الٰہیہ کا انکار کرے گا تو یقینا خدا بہت جلد حساب لینے والا ہے۔”(3:19)

” پس اگر یہ لوگ آپ سے خواہ مخواہ حجت بازی کریں۔ تو کہہ دو کہ میں نے اور میری پیروی کرنے والوں نے تو اپنا سر خدا کے سامنے جھکا دیا ہے (اپنے کو اس کے سپرد کر دیا ہے) اور اہل کتاب اور جو کسی کتاب کے پڑھنے والے نہیں ہیں سے کہو: کیا تم بھی اسلام لائے ہو؟ پس اگر انہوں نے اسلام کا اقرار کر لیا تو گویا ہدایت پا گئے اور اگر (اس سے) منہ موڑا تو آپ کا فرض تو صرف پہنچا دینا ہے (منوانا نہیں ہے)۔ اور اللہ (اپنے) بندوں کو خوب دیکھنے (اور پہچاننے والا ہے)”۔ (3:20)

“جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو بھی قتل کرتے ہیں جو عدل و انصاف کا حکم دیتے ہیں انہیں دردناک عذاب کا مژدہ سناؤ”۔ (3:21 قرآن) “یہ وہ (بدنصیب) ہیں جن کے اعمال دنیا و آخرت میں اکارت و برباد ہوگئے۔ اور ان کے لئے کوئی مددگار نہیں ہے”۔ (3:22 قرآن )

یہ کوئی ارگمنٹ نہیں کہ فلاں بزرگ نے یہ کہا یا کیا؟ ان کے فرامین قرآن و سنت کے دائرۂ میں ہی قبول ہیں، کسی بزرگ دین نے اپنی بات کو  قرآن و سنت پر ترجیح نہیں دی. اللہ کا فرمان ہے :

تلکَ اُمّۃٌ قَد خَلَت لَھا ما کَسَبَت و لکم ما کَسَبتُم ولا تُسئَلونَ عَمّا کانوا یَعمَلونَ۔

:”وہ کچھ لوگ تھے، جو گزر گئے جو کچھ انہوں نے کمایا، وہ اُن کے لیے ہے اور جو کچھ تم کماؤ گے، وہ تمہارے لیے ہے تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے(قرآن  2:134)

اور یہ بھی فرماتا ھے:

رَبَّنا اغفِرلَنا وَلاِِخوانِنا الذینَ سَبَقونا بِالایمانِ وَلا تَجعَل فی قُلوبِنا غِلّاً لِلّذینَ آمَنوا رَبَّنا اِنَّکَ رَؤوفٌ رَحیمٌ۔ ۔(قرآن 59:10 )

خدایا! ھمیں معاف کردے اور ھمارے ان بھائیوں کو بھی جنھوں نے ایمان میں ھم پر سبقت کی ہے اور ہمارے دلوں میں صاحبان ایمان کے لئے کسی طرح کا کینہ قرار نہ دینا کہ تو بڑا مھربان اور رحم کرنے والا ھے ۔(قرآن 59:10 )

[ریفرنس :…فرقہ واریت کا خاتمہ : پہلا قدم: ]

……………

WhattsApp Group Discussion

فرقہ واریت کے خلاف ایک مخلصانہ کوشش

ایک وھاٹس ایپ گروپ (WhattsApp Group) جس میں سنجیدہ،  تعلیم یافتہ مذہبی رجحان رکھنے والے مسلمان جس میں “اہل حدیث” حضرات اکثریت میں ہیں،  کچھ جید علماء بھی ہیں – اس گروپ پر ایک ڈسکشن / مکالمہ13سے 20 مارچ 2018 تک ہوا اچانک ایک فرقہ وارانہ پوسٹ سے شروع ہوا-  مکالمہ کا ٹاپک، فرقہ واریت، اس کی وجوہات اور خاتمہ کے لیے ممکنہ اقدام، اہل حدیث ساتھیوں نے اپنے فرقہ کو ناجی، جنتی فرقہ ہونے پر بھی اصرار کیاا- عمومی طور پر ڈسکشن ادب کے دائرۂ میں رہی کبھی کبھی جذباتی ماحول ہوتا مگر علامہ صاحب کی موجودگی باعث اطمینان اور فائدہ مند تھی- ڈسکشن، مختلف نقطۂ نظرسے آگاہی اور تبادلۂ خیال، حصول علم کی ایک کوشش ہے …. جس سے مزید مطالعہ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے-اس مکالمہ کو محفوظ کیا گیا ہے تاکہ اس سے دوسرے مسلمان بھی مستفیض ہو سکیں…….

برقی کتاب پی ڈی ایف ، آن لائن پڑھیں یا ڈونلوڈ ، شئیر کریں

http://bit.ly/2GMq4cb  : برقی کتاب – پی ڈی ایف لنک 

   http://bit.ly/2Jq8CMe :  موبائل فرینڈلی – ٹیکسٹ فارمیٹ لنک

………………………………………

کیا ھر وہ شخص جو اسلامی مذاھب یعنی اھل سنت کے چاروں مذاھب کے علاوہ مذھب ظاھری، مذھب جعفری، مذھب زیدی یا مذھب اباضی میں سے کسی ایک کی پیروی کرے اور اس کے احکام پر عمل کرے ، مسلمان ہے ؟

 یا کہ وہ مذاھب جو کہ سنی اسلام میں سے نہیں ہیں ،کیا حقیقی اسلام کا جزو شمار ہوتے ہیں؟

پڑھیں >>>> https://wp.me/p9pwXk-1c0
……………………………………….

مزید پڑھیں :

  1. پہلے مسلمان ..First Muslim: مسلمانوں میں فرقہ واریت کی لعنت کو اگرفوری طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا ، توابتدا میں قرآن کے صرف ایک حکم کے مطابق  صرف ایک درست عمل کی شروعات سے شدت اور منفی رجحانات کو کم کرکہ فرقہ واریت کے خاتمہ کے سفر کا آغاز کے آجاسکتا ہے، اس پر عمل درآمد بلکل آسان ہے …[ پڑھیں …….]
  2. علم حدیث , فرقہ واریت اورقران – تحقیقی مضامین
  3. فرقہ واریت کا خاتمہ : پہلا قدم
  4. مسلمان کون؟
  5. عمر ضائع کردی
  6. اختلاف فقه اور اتحاد مسلم
  7. فرقہ واریت کیوں ؟ Why Sectarianism
  8. بریلوی , دیو بندی‎‎ کون ہیں؟
  9. بدعت ، بدا، 1
  10. بدعت – اَحاديث و اَقوالِ اَئمہ -2
  11.    فرقہ وارانہ مذہبی بیانیوں پر مختصر تبصرہ
  12. فرقہ واریت – تاویلیں، دلائل اور تجزیہ
  13. علم حدیث , فرقہ واریت اورقران – تحقیقی مضامین
  14. تقلید کی شرعی حیثیت
  15. مقلدین اورغیر مقلدین
  16. اَہْلُ السُّنَّۃ وَالْجَمَاعَۃ‘‘ کون؟
  17. تاریخی واقعات دین اسلام کی بنیاد ؟
  18. شیعہ عقائد اور اسلام
  19. شیعیت-عقائد-و-نظریات
  20. تکفیری، خوارج فتنہ 
  21. انسداد فرقہ واریت
  22. امام خامنہ ای – خونی ماتم ممنوع
  23. http://salaamone.com/urdu-index/
(Visited 16 times, 13 visits today)