کیا ”داتا گنج بخش“کہنا شرک ہے؟

علی بن عثمان الجلابی، “داتا گنج بخش” (پیدائش: نومبر 1009ء– وفات: 25 ستمبر 1072ء) ہجویر اور جلاب غزنین کے دو گاؤں ہیں شروع میں آپ کا قیام یہیں رہا اس لیے ہجویری اور جلابی کہلائے۔ سلسلہ نسب علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے ملتا ہے۔ روحانی تعلیم جنیدیہ سلسلہ کے بزرگ ابوالفضل محمد بن الحسن ختلی سے پائی۔ مرشد کے حکم سے 1039ء میں لاہور پہنچے کشف المحجوب آپ کی مشہور تصنیف ہے۔ لاہور میں بھاٹی دروازہ کے باہر آپ کا مزار مرجع خلائق ہے۔   شیخ سیّد ابو الحسن علی ہجویری آپ کا پورا نام  ہے۔ کنیت ابو الحسن لیکن عوام و خواص سب میں “گنج بخش” یا “داتا گنج بخش” (خزانے بخشنے والا) کے لقب سے مشہور ہیں۔ آپ 400 ہجری میں غزنی شہر سے متصل ایک بستی ہجویر میں پیدا ہوئے-

آپ اپنے مرشد کے حکم سے خدا کے دین کی تبلیغ و اشاعت کے لیے سلطان محمود غزنوی کے بیٹے ناصر الدین کے زمانے ؁1030تا1040ء میں لاہور تشریف لائے۔ آپ سے پہلے آپ کے پیر بھائی حسین زنجانی اس خدمت پر مامور تھے۔ اس لیے جب آپ کو لاہور آنے کا حکم ہوا تو آپ فرماتے ہیں، کہ میں نے شیخ سے عرض کیا کہ وہاں حسین زنجانی موجود ہیں میری کیا ضرورت ہے؟ لیکن شیخ نے فرمایا، نہیں تم جاؤ۔ فرماتے ہیں کہ میں رات کے وقت لاہور پہنچا اور صبح کو حسین زنجانی کا جنازہ شہر سے باہر لایا گیا۔
تبلیغ و اشاعت دین کے سلسلے میں آپ نے برصغیر ہند کے دوسرے حصّوں کا بھی سفر کیا۔ چنانچہ آپ۔ کشف المحجوب۔ میں حضرت ابو حلیم حبیب بن اسلم راعی کے حالات میں لکھتے ہیں کہ شیخ رحمتہ اللہ علیہ کی اور بھی بہت سی روایتیں ہیں۔ وقت کی تنگی کی وجہ سے میں انھیں چھوڑتا ہوں اور مجھے یہ سخت دقت پیش آ رہی ہے کہ میری کتابیں غزنی میں ہیں اور میں ملک ہندوستان کے ایک گاؤں بھنور میں ہوں جو ملتان کے گردونواح میں واقع ہے۔ اور بالکل غیر جنسوں میں گرفتار ہوں۔

آپ کا روضہ ناصر الدین مسعود کے بیٹے ظہیر الدین الدولہ نے تعمیر کروایا۔ اور خانقاہ کا فرش اور ڈیوڑھی جلال الدین اکبر بادشاہ 1555ء تا 1605 ء کی تعمیر ہیں۔ خواجہ معین الدین اجمیری 1639ء اور بابا فرید الدین گنج شکر نے کسب فیض کے لیے آپ کے مزار پر چلہ کشی کی اور معین الدین اجمیری نے چلہ کے بعد رخصت ہوتے وقت یہ شعر کہا؛۔ گنج بخش فیضِ عالم مظہر نورِ خُدا ناقصاں راپیرِ کامل، کاملاں را رہنما اسی سے آپ کی۔ گنج بخش۔ کے نام سے شہرت ہوئی۔ آپ نے بہت کتب کی تصنیف فرمائی، لیکن اب کشف المحجوب کے سوا کوئی اور کتاب نہیں ملتی۔ لاہور اورمضافات میں آپ کی تبلیغ سےاسلام پھیلا،آپکی کرامات  بہت مشہورہیں-

“داتا” ، آسما الحسنہ میں نہین، نہ قرآن مین، حدیث میں بھی تلاش کیا مگر نہ اردو نہ عربی میں ملا۔

لغت  میں اردو-عربی ، داتا کے معنی اور تراجم:  فلان أخْضَرُ [عام] ( اسم ) – فلاں شخص بہت داد و دہش کرنے والا ہے ، سخی اور داتا ہے-

ایک عقیدت مند  کہتے ہیں کہ داتا کا مطلب دینے والا ہے۔ دینا خدا کی صفت ہے اور اللہ جس کو چاہے اپنی صفات، شجاعت، سخاوت ودیعت کر دے۔ یہ عطائی صفات ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی ہوئی یہی صفت یعنی سخاوت حضرت علی ہجویریؒ میں بدرجہ اتم موجود تھی‘ وہ پوری زندگی ایسا کرتے رہے، دیکھنے والے صاحبِ ثروت لوگوں نے بھی اس راہ پر چلنے کی کوشش کی۔ داتا دربار سے گنج بخشی کا سلسلہ ظاہری، باطنی اور روحانی طور پر جاری ہے۔ سرچشمۂ نور و ہدایت تو ذاتِ سرکارِ دوعالمؐ ہیں، آفتاب تو رسالتؐ مآب ہیں‘ آپؐ کے غلام آفتاب رسالت کے نور سے مستیز ہو کر رشد و ہدایت کی کرنیں بکھیرتے ہیں-

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:۔’’بے شک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو کوئی شخص ان کو یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔‘‘(ترمذی۔ عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ )

اَ للّٰہُ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ الْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُھَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ الْخَالِقُ الْبَارِیُٔ الْمُصَوِّرُ الْغَفَّارُ الْقَھَّارُ الْوَھَّابُ الرَّزَّاقُ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ الْقَابِضُ
الْبَاسِطُ الْخَافِضُ الرَّافِعُ الْمُعِزُّ الْمُذِلُّ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ الْحَکَمُ الْعَدْلُ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ الْحَلِیْمُ الْعَظِیْمُ الْغَفُوْرُ الشَّکُوْرُ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ الْحَفِیْظُ الْمُقِیْتُ الْحَسِیْبُ الْجَلِیْلُ
الْکَرِیْمُ الرَّقِیْبُ الْمُجِیْبُ الْوَاسِعُ الْحَکِیْمُ الْوَدُوْدُ الْمَجِیْدُ الْبَاعِثُ الشَّھِیْدُ الْحَقُّ الْوَکِیْلُ الْقَوِیُّ الْمَتِیْنُ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ الْمُحْصِی الْمُبْدِیُٔ الْمُعِیْدُ الْمُحْییِ الْمُمِیْتُ
الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ الْوَاجِدُ الْمَاجِدُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ الْقَادِرُ الْمُقْتَدِرُ الْمُقَدِّمُ الْمُؤَخِّرُ الْاَوَّلُ الْاٰخِرُ الظَّاھِرُ الْبَاطِنُ الْوَالِیُ الْمُتَعَالُ الْبَرُّ التَّوَّابُ الْمُنْتَقِمُ الْعَفُوُّ الرَّئُوْفُ مَالِکُ الْمُلْکِ
ذُوالْجَلَالِوَالْاِکْرَامِ الْمُقْسِطُ الْجَامِعُ الْغَنِیُّ الْمُغْنِی الْمَانِعُ الضَّآرُّ النَّافِعُ النُّوْرُ الْھَادِیُ الْبَدِیْعُ الْبَاقِی الْوَارِثُ الرَّشِیْدُ الصَّبُوْرُ

“العلی” آسما الحسنہ میں شامل ہے اور یہ نام “علی” استعمال میں عام مقبول ہے ۔ اسی طرح  اکثر آسما الحسنہ پر نام رکھے جاتے ہین۔ یہ اللہ کے صفاتی نام ہیں جب “ال” لگایا جاتا ہے تو اللہ سے مخصوص ہوجاتا ہے، لامحدود معنی میں، ورنہ سادہ محدود عربی نام رہ جاتا ہے ۔۔ کسی انسان کا نام مجازی معنی میں ہوتا ہے ۔۔
اللہ ، ذاتی نام ہے اللہ کا ، اس کا کوئی مجازی مطلب نہی۔ صرف اللہ کے لئیے مخصوص ہے ،  اللہ ، نام کوئی مسلمان نہیں رکھتا جب تک کوئی اور نام ساتھ نہ ہو ۔۔ جیسے عبداللہ ، اللہ کا غلام ۔۔۔ اگر کوئی اللہ پکارا جائیے تو شرک بن جاتا ہے ۔۔۔ مگر علی ، کہیں تو شرک نہیں سمجھا جاتا ۔
ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کے صفاتی ناموں پر (محدود) نام رکھنا “ال” کے بغیر جائیز سمجھا جاتا ہے ۔

الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿٢﴾

تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام کائنات کا رب ہے (قرآن 1:2)

قرآن مجید میں رب کا لفظ اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ کچھ افراد کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام قیدخانے میں ایک شخص سے بادشاہِ مصر کے بارے میں کہا:
وَقَالَ لِلَّذِي ظَنَّ أَنَّهُ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِي عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَاهُ الشَّيْطَانُ ذِكْرَ رَبِّهِ فَلَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ.
اور یوسف (علیہ السلام) نے اس شخص سے کہا جسے ان دونوں میں سے رہائی پانے والا سمجھا کہ اپنے بادشاہ کے پاس میرا ذکر کر دینا (شاید اسے یاد آجائے کہ ایک اور بے گناہ بھی قید میں ہے) مگر شیطان نے اسے اپنے بادشاہ کے پاس (وہ) ذکر کرنا بھلا دیا نتیجۃً یوسف (علیہ السلام) کئی سال تک قید خانہ میں ٹھہرے رہے۔ (يُوْسُف، 12: 42)
دوسرے مقام پر فرمایا:
وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِ فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاَّتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ.
اور (یہ تعبیر سنتے ہی) بادشاہ نے کہا: یوسف (علیہ السلام) کو (فورًا) میرے پاس لے آؤ، پس جب یوسف (علیہ السلام) کے پاس قاصد آیا تو انہوں نے کہا: اپنے بادشاہ کے پاس لوٹ جا اور اس سے (یہ) پوچھ (کہ) ان عورتوں کا (اب) کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے؟ بیشک میرا رب ان کے مکرو فریب کو خوب جاننے والا ہے۔(يُوْسُف، 12: 50)
مذکورہ بالا آیات میں ’رب‘ کا لفظ بادشاہ کے لیے استعمال ہوا ہے۔ درج ذیل آیت میں رب کا لفظ بیک وقت اللہ تعالیٰ اور والدین کے لیے آیا ہے۔
وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا.
اور ان دونوں کے لئے نرم دلی سے عجزو انکساری کے بازو جھکائے رکھو اور (اﷲ کے حضور) عرض کرتے رہو: اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا (بَنِيْ إِسْرَآئِيْل، 17: 24)
مطلقاً رب کا لفظ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی مستعمل ہے کیونکہ وہی ذات حقیقی مربی و مالک ہے اور اسی کی ملکیت و پرورش ساری کائنات پر علیٰ الاطلاق ہے۔ مگر مجازاً رب کا لفظ تربیت دینے والے، پرورش کرنے والے اور بادشاہ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے.
داتا تو اسم الحسنی نہیں ہے ۔۔ اس کے کئی مطلب ہین، دینے والا، سخی، فیاض، رازق، خدا، درویش،  فقیر، سائیں ۔۔ اب اس کا استعمال، نیت اور سیاق و سباق سے ہی معلوم ہوسکتا ہے کہ کس معنی میں استعمال ہو رہا ہے۔
نیت تو صرف اللہ کو معلوم ہے ۔۔مگر استعمال کرنے والا اگر واضح ہے کہ وہ اللہ کے لئیے نہیں بلکہ عام دوسرے معنی میں استعمال کر رہا ہے تو اس پر شرک کا فتوی لگانا کیا درست ہوگا؟
یہ تکفیری ، خوارج دہشت گردوں کا طریقہ ہے کہ وہ اپنی تاویل، و تفسیر دوسروں پر تھوپ کر کفر ، مرتد ، مشرک واجب القتل قرار دے کر خود کش حملے کرتے ہیں ۔۔ قتل کرتے ہیں ۔

ایک طرف تو تمام فرقوں کے 1800 علماء متفقہ فتوی پیغام پاکستان پر دستخط کر کہ مذمت کرتے ہیں اور پھر کچھ لوگ انہی میں سے تکفیری کام کرتے ہیں ۔۔۔ اس عمل کو کیا کہیں گے ۔۔ جب ظاہر اور باطن مختلف ہو؟
مشہور بزرگ صوفیاء کی اکثریت جنہون نے یہان دارلکفر مین اسلام پھیلایا اسلام و شریعت پسند تھے ان پر کرامات بھی مشہور ہیں ۔ اگر  لوگ ان کرامات اور اسلامی شریعت پر عمل کی وجہ سے ان کو کسی لقب سے مشہور کرتے ہیں تو کیا یہ غلط ہے؟
اب جبکہ وہ فوت ہو چکے تو ان کی مغفرت کی دعا کرنا عزت احترام کرنا غلط ہو گا شریعت کے اندر رہتے ہوئے؟
مسلمان ہر  نماز میں اقرار کرتے ہیں کہ:
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ﴿٥﴾
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں
ایسے شخص کو مشرک کیسے کہ سکتے ہین؟
شرک خفی میں کوئی بھی مبتلا ہو سکتا ہے مگر مسلسل  استغفار اور ذکر اس کا علاج موجود ہے ۔۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو ان دونوں میں سے ایک پر کفر لوٹ گیا یعنی یا تو کہنے والا خود کافر ہوگیا یا وہ شخص جس کو اس نے کافر کہا ہے۔ (بخاری ومسلم)
دوسری روایت میں ہے:
”حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے جانتے بوجھتے کسی دوسرے کو باپ بنایا تو یہ بھی کفر کی بات ہے اور جس شخص نے ایسی بات کو اپنی طرف منسوب کیا جو اس میں نہیں ہے تو ایسا شخص ہم میں سے نہیں ہے اور اس کو اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنانا چاہئے اور جس نے کسی کو کافر کہا یا اللہ کا دشمن کہہ کر پکارا حالانکہ وہ ایسا نہیں ہے تو یہ کلمہ اسی پر لوٹ آئے گا”۔ (صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 219 )
قبر پرستی اور خرافات یقینی طور پر شرک کے زمرہ میں آئیے گی جس کی وجہ عوام کی جہالت ، لاعلمی اور مزاروں کے متولیون ، پیروں کی روٹی پانی مال کی خواہش ۔۔۔

دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند:

”داتا گنج“ کے معنی خزانوں کا لٹانے والا، مراد اس سے اللہ تعالیٰ ہے، اس کے آگے بخش لگانے کے بعد حاصل یہ نکلا ”اللہ بخش“ غالباً حضرت شیخ علی ہجویری اسی لقب کے ساتھ مشہور تھے، اس لیے اس نام میں کوئی حرج نہیں، اور غوث کا لفظ عرف میں قطب اور بہت بڑے ولی کے لیے بولا جاتا ہے، اس لیے اونچے مقام والے ولی کو غوث بھی کہہ سکتے ہیں۔


ایک  دوسرا نقطہ نظر :

داتا کا مطلب ہے دینے اور عطاء کرنے والا، اور گنج بخش سے مراد خزانے بخشنے اور عطاء کرنے والا۔ اور یہ صفات اللہ سبحانہ وتعالی کی ربوبیت کا خاصہ ہے، جبکہ بہت سے شرک میں مبتلا جاہل لوگ یہ صفات لاہور کے علی بن عثمان ہجویری کو دیتے ہیں، جن کا مزار بھی داتا دربار کے نام سے قائم ہے اور پورے لاہور کو ہی ایسے لوگ داتا کی نگری کہتے ہيں۔ ان کا سالانہ عرس بھی وہاں منعقد کیا جاتا ہے جہاں ہر قسم کے شرکیات وبدعات وخرافات اور فسق وفجور کا دوردوراں ہوتا ہے۔ مزارات کی تعمیر اور عرس میلے لگانا ویسے ہی شریعت میں منع ہے اور شرک کی طرف لے جانے کا بڑا ذریعہ ہیں ۔…  >>>>


داتا،غریب نواز یا غوث کہنا کیسا؟؟

کہا جاتا ہے کہ اللہ داتا ہے اس لئے داتا سیّد علی ہجویری کہنا شرک ہے ، کبھی کہتے ہیں اللہ غوث الاعظم ہے اس لئے غوث الاعظم عبدالقادر جیلانی کہنا شرک ہے۔کبھی کہتے ہیں اللہ غریب نواز ہے اس لئے غریب نواز سیّد معین الدین چشیے اجمیری کہنا شرک ہے۔
یہ القاب ، عزت افزائی کے لئے ان ناموں کے ساتھ استعمال کئے جاتے ہیں۔
اللہ تعالےٰ حاکم ہے اور احکم الحاکمین بھی ہے، اللہ تعالےٰ مالک ہے اور مالک الملک بھی ہے۔
جو اللہ کو احکم الحاکمین تو مانے لیکن اس کے تابع کسی حاکم کو نہ مانے، جو اللہ کو مالک الملک تو مانے لیکن اس کے تابع کسی مالک نہ مانے تو اس کا ذہنی توازن درست نہیں ہے۔
اللہ اکبر کا مطلب ہے ،اللہ سب سے بڑا ہے۔
باقی سب حاکم ، سب مالک، سب غوث ، سب قطب، اس کے عاجز بندے ہیں اور ان بندوں کو یہ اعزازات اس اللہ اکبر نے ہی عطا فرمائے ہیں:

اللہ تبارک و تعالےٰ رؤوف الرحیم ہے الحدید:۱۱

اللہ تعالےٰ نے اپنے محبوب کو بھی رؤوف الرحیم فرمایاالتوبہ:۱۲۸،

اللہ ایمان والوں کا ولی ہے البقرہ:۲۵۷

اپنے محبوب کو بھی ایمان والوں کا ولی فرمایاالمائدہ:۵۵

اللہ نور ہے النور:۳۵، اپنے محبوب کو بھی نور فرمایا المائدہ:۱۵
اللہ تعالےٰ سمیع و بصیر ہے النساء:۵۸
انسان کو بھی سمیع و بصیر فرمایا الدھر:۲،

یہ اپنی آنکھیں اور کان بند کر لیں، شرک کر رہے ہیں۔
سوہنا رب کائنات کے سارے خزانوں کا خالق اور مالک ہے۔

وَلِلّٰہِ خَزَائنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَ رْضِ وَلٰکِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لاَ یَفْقَہُوْنَ
سوہنا رب جسے چاہے عطا فرمائے اور ساتھ فرمائے جیسے چاہے تقسیم کرو۔
ھٰذَا عَطَاِّؤُنَافَامْنُنْ اَوْ اَمْسِکْ بِغَیْرِ حِسَابٍ
تم قرآنِ مجید کی کس کس آیت کو جھٹلاؤ گے۔

کیا اللہ تعالیٰ کسی کو داتا یا غوث یا غریب نواز وغیرہ نہیں بنا سکتا؟

از: مفتی محمد امین مدظلہ
رسول اکرم شفیع اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو امامہ صحابی رضی اللہ عنہ کو فرمایا: “لاتجالس قدریا ولامرجیا ولاخارجیا انھم یکفون الدین کما یکفاء الاناء و یغلون کما غلت الیھود والنصاریٰ”

یعنی اے ابو امامہ تو کسی قدری ، کسی مرجی، کسی خارجی کے پاس مت بیٹھ (یہ تینوں اسلام کا دعویٰ کرنے والے کلمہ پڑھنے والے گمراہ فرقوں کے نام ہیں) اور فرمایا یہ مسلمان کہلانے والے گمراہ لوگ یہ دین کو یوں الٹ دیتے ہیں جیسے کہ برتن کو الٹ دیا جاتا ہے اور یہ بد مذہب لوگ دین میں ایسا غلو کرتے ہیں جیسے یہود و نصاریٰ نے اپنے دین میں غلو کیا ہے۔
۔ یہودیوں نے جو دین میں غلو کیا اس کی ایک مثال جیسے قرآن مجید میں ہے: وقالت الیھود ید اللہ مغلولۃ غلت ایدیھم ولعنوا بما قالوا بل یداہ مبسوطتان ینفق کیف یشاء۔۔۔۔قرآن مجید سورۃ مائدہ۔۔۔۔
۔ یعنی یہودی کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے پاس سب کچھ ہے لیکن وہ کسی کو دیتا کچھ نہیں ان یہودیوں کے ہاتھ بند ہو جائیں اور ان پر ایسا کہنے کی بنا پر لعنت ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کے دونوں دست کرم کھلے ہیں وہ جس کو چاہے جتنا چاہے عطا کرے۔

۔ یوں ہی ان  کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سب کچھ ہے مگر وہ کسی کو دیتا کچھ نہیں نہ وہ کسی کو غوث بنا سکتا ہے نہ داتا گنج بخش بنا سکتا ہے نہ کسی کو گنج شکر بنا سکتا ہے نہ کسی کو غریب نواز بنا سکتا ہے اللہ تعالٰٰی مسلمانوں کو ایسا دین میں غلو کرنے والوں سے بچائے رکھے۔

۔ اسی بناء پر سیدنا عبد اللہ بن عمر صحابی رضی اللہ عنہ ایسا غلو کرنے والوں کو ساری خدائی سے بدتر جانتے تھے چنانچہ بخاری شریف میں ہے: “وکان ابن عمر یراھم شرار خلق اللہ وقال انھم انطلقوا الی آیات نزلت فی الکفار فجعلوھا علی المومنین”۔
۔ یعنی سیدنا عبد اللہ بن عمر صحابی رضی اللہ عنہ ایسے لوگوں کو ساری خدائی (یعنی مخلوق) سے بدتر جانتے تھے اور یہ اس لئے کہ یہ لوگ ان قرآنی آیات کو جو کافروں کے حق میں نازل ہوئی ہیں ان آیات کو وہ ایمان والوں (نبیوں ولیوں) پر چسپاں کرتے ہیں۔

۔ یعنی جیسے کافروں بت پرستوں کے معبود بت نکمے ناکارے کچھ نہیں کر سکتے یوں ہی ولی نبی کچھ نہیں کر سکتے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں بچائے ۔امین


داتا اللہ ہے

ایک محترم بھائی نے فرمایا داتا صرف اللہ ہے کسی اور کو داتا کہنا شرک ہے۔ تو مختصر سی بات کرتا ہوں

١۔ داتا اللہ کا نام ہے کوئی مجھے اسمائے حسنیٰ میں داتا کا اسم دکھائے کہاں پر ہے؟

٢۔ بیشک داتا اللہ جل جلالہ ہے لیکن کسی اور کو داتا کہنے سے شرک کیسے لازم آیا جبکہ ہم جانتے ہیں ہمارا ایمان ہے کہ اللہ کو کسی نے داتا نہیں بنایا۔ یہ اس کی اپنی صفت ہے۔ لیکن مخلوق میں سے کسی کو داتا کہا جائے تو ہمارا ایمان ہے کہ یہ انسان اللہ کا ولی، اگر داتا ہے تو اللہ کی عطا سے۔ یہ ذاتا داتا نہیں ہے۔ جب فرق واضح ہے تو برابری کہاں لازم آئی، شرکت کیسے پائی گئی۔ یا پھر آپ فرما دو کہ وہی داتا ہے اور وہ کسی کو داتا نہیں بناتا؛ وہی سخی ہے اور وہ کسی کو سخی نہیں بناتا۔ پھر یہ بھی کہنا پڑے گا اللہ کے پاس ہے تو سب کچھ لیکن وہ کسی کو کچھ دیتا نہیں۔ اور یہ جان لیں کہ یہ یہودیوں کا عقیدہ ہے۔ (نعوذ باللہ من ذلک)

٣۔ اللہ نے فرمایا: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔۔۔ تسمیہ میں لفظ رحیم کا ذکر ہے یہ یقیناً اللہ کا نام ہے اور اسمائے حسنیٰ میں سے ہے۔ تو آپ کے اعتبار سے اگر کسی کو رحیم کہا جائے تو شرک لازم آئے گا تو کیا یہ فتویٰ آپ اللہ پر لگائیں گے کہ اس نے خود اپنے محبوب کو اپنا شریک ٹھہرا لیا (نعوذ باللہ من ذلک)۔ آپ یہ فتویٰ نہیں لگا سکتے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لقد جآءکم رسول من انفسکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ بالمومنین رؤف رحیم (سورہ: توبہ، آیت نمبر: ١٢٨)
اللہ تعالٰی اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو رؤف رحیم فرما رہا ہے۔
اللہ بھی رؤف۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ کا محبوب بھی رؤف
اللہ بھی رحیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کا محبوب بھی رحیم

لگائیں فتویٰ!!!!!!!!
مسلمان عقل سلیم والا جانتا ہے کہ اللہ رحیم ہے یہ اس کی اپنی صفت ہے۔ اس کو کسی نے رحیم نہیں بنایا لیکن حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم رحیم ہیں تو اللہ کی عطا سے۔ اللہ نے آپ کو رؤف اور رحیم بنایا۔ اللہ رحیم ہے تو اپنی ذات کے اعتبار سے اللہ کے محبوب رحیم ہیں تو اللہ کی عطا سے۔ ادھر رحمت صفت ذاتی ہے ادھر رحمت صفت عطائی ہے۔ اسی طرح اللہ داتا ہے تو اپنی ذات کے اعتبار سے اور کوئی بندہ حق داتا ہے تو اللہ کی عطا سے۔ اللہ رحیم ہے اس کے محبوب کو رحیم کہنا جائز ہے بلکہ برحق ہے کہ اللہ نے خود آپ کو رحیم فرمایا تو اللہ داتا ہے تو اس کے محبوب مقرب بندے کو داتا کہنا بھی جائز ہے۔

٤۔ وھو العلی العظیم (آیت الکرسی)
اور وہ علی عظیم ہے یعنی بلند بالا عظمت والا
اللہ کا نام علی ہے اسمائے حسنیٰ میں بھی آیا ہے آیت الکرسی میں بھی ہے تو ذرا غور فرمائیں۔
اللہ بھی علی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کے محبوب کا داماد، حضرت زہرہ کا شوہر، حسنین کریمین کا بابا بھی علی۔۔۔
علی اللہ کا نام ہے۔ اللہ کے محبوب نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام کیوں نہ بدلا بلکہ اپنے داماد کو یاعلی کہہ کر پکارا ہے۔۔۔لگائو فتویٰ نبی پاک پر!!!!!!! (نعوذ باللہ من ذلک)

میرے بھائی بات یہ ہے کچھ نام اللہ کے ذاتی ہیں، اسم جلالت ہیں۔ باقی نام صفاتی ہیں۔ جو اسم جلالت ہیں وہ نام ہم کسی آدم کو نہیں دے سکتے۔ لیکن جو صفاتی ہیں وہ صفات مخلوق میں ہو سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی صفات کو انسان میں رکھ کر پیدا فرمایا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
ان اللہ خلق اٰدم علی صورتہ۔۔۔۔۔ او کما قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم
بیشک اللہ نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا۔

صورت شکل کو کہتے ہیں جس میں رنگت ہوتی ہے، نقش و نگار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالٰی تو ان چیزوں سے پاک ہے۔ تو محدثین فرماتے ہیں کہ یہاں صورت سے مراد صفات ہیں۔ کہ اللہ تعالٰی نے آدم علیہ السلام کو اپنی صفات پر پیدا فرمایا اور وہ صفات ٨ ہیں جن کو اللہ نے انسان میں رکھ کر تخلیق فرمایا۔
١۔ حیات  ٢۔علم  ٣۔سمع  ٤۔بصر ٥۔ارادہ  ٦۔قدرت  ٧۔کلام  ٨۔تکوین

انسان اللہ کے جتنا قریب ہوتا ہے اس میں ان صفات کی صلاحیت اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے اور انسان اللہ سے جتنا دور ہوتا ہے اتنی ہی یہ صلاحیتیں اس میں کم پائی جاتی ہیں۔

لیجئے اب غور فرمائیں یہ صفات اللہ کی ہیں اور مخلوق میں بھی پائی جا رہی ہیں۔ تو کیا شرک ہوا؟ نہیں ہوا کیونکہ یہ صفات اللہ کی ذاتی ہیں اور مخلوق کی عطائی، لہٰذا شرکت لازم نہیں آتی۔ فرق واضح ہے۔

اسم جلالت اللہ اور رحمٰن ہے باقی اللہ کی صفات ہیں۔ اللہ رحیم ہے مخلوق میں سے وہ جس کو چاہے رحیم بنا دے۔ اللہ رؤف ہے وہ جسے چاہے رؤف بنا دے۔ وہ کریم ہے جسے چاہے کریم بنا دے۔ وہ داتا ہے جسے چاہے داتا بنا دے۔ آپ کو یا مجھے اعتراض کی کیا مجال؟

اللہ داتا ہے ذات کے اعتبار سے، حضرت سیدنا علی بن عثمان الہجویری رحمہ اللہ علیہ داتا ہیں تو اللہ کی عطا سے۔ اللہ ان کو نوازتا ہے وہ لوگوں کو نوازتے ہیں۔ اللہ کو سخی بہت پسند ہے۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم ورسولہ بالصواب۔

جو یقین کی راہ پر چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی
جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا وہ قدم قدم پر بہک گئے

(Muhammad Muddasir, Lahore )

https://hamariweb.com/articles/9368


خلاصہ کلام

 ” لا الہ الا اللہ محمدا رسول اللہ “

قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ ﴿١﴾ اللَّـهُ الصَّمَدُ ﴿٢﴾ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ﴿٣﴾ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ ﴿٤﴾

کہو، وہ اللہ ہے، یکتا (1) اللہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں (2) نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد (3) اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے (4)

اور تم سب كا معبود ايك ہى ہے، اس كے سوا كوئى معبود برحق نہيں، وہ بہت رحم كرنے والا اور بڑا مہربان ہے البقرۃ ( 163 ).

وہ لوگ بھى قطعا كافر ہو گئے جنہوں نے كہا اللہ تعالى تين ميں سے تيسرا ہے، در اصل اللہ كے سوا كوئى معبود نہيں، اگر يہ لوگ اپنے اس قول سے باز نہ رہے تو ان ميں سے جو كفر پر رہيں گے انہيں المناك عذاب ضرور پہنچے گا المآئدۃ ( 73 ).

  1. http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Islamic-Beliefs/50590
  2. http://forum.mohaddis.com/threads/19379
  3. https://www.nawaiwaqt.com.pk/22-Dec-2013/267686
  4. https://tawheedekhaalis.com/ur/2018/10/30/12438/
  5. http://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2014-12-12/11453#.XL70dTAzbIU