Mumbai attack was a false flag ops, Elias Davidsson’s book “The Betrayal of India” نواز شریف کا جھوٹا الزام – جرمن صحافی ایلیس ڈیوڈسن نے بمبئی حملے کاپول کھولتے ہوئے،حیران کن انکشافات کر ڈالے۔

پاکستان کے خلاف عالمی سازش، ممبئی حملوں کے پیچھے کونسے ممالک تھے اور یہ حملے کیوں کرائے گئے ؟ 10 سال بعد جرمن صحافی نے پول کھول کر رکھ دیا… مزید آخر میں ….

Elias Davidsson’s book “The Betrayal of India : Revisiting the 26/11 Evidence” has raised a storm in India . Davidsson has developed his argument with detailed research and authenticated resources. Indian version of Mumbai attacks lies bare and exposed like a peeled banana. Keep reading below ….

اگر یک سرِ موئے برتر پرم فروغ تجلی بسوزد پرم   .. یہ بات کتنی بھی سچ کیوں نا ہو‘ یہ موقف کتنا بھی درست کیوں نا ہو‘ اس کا اس وقت یوں بیان کرنا کسی طور مناسب نہیں ہے۔ یہ سرل المیڈا کون ہیں۔ یہ ڈان لیکس میں بھی پیش پیش تھا اور آپ نے اسے اتنی چاہت سے انٹرویو دیا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ مجھے معلوم ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ ہمارے ذمہ دار افراد نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ممبئی سانحے کے کردار اس سرزمین سے گئے تھے۔ تاہم دنیا نے اس کا اعتبار کیا ہے کہ اسے پاکستان کے کسی سرکاری ادارے نے نہیں بھیجا تھا۔ بلکہ یہ غیر سرکاری اداروں کی سرگرمی تھی۔ جنرل پرویز مشرف اور ہماری خفیہ ایجنسی کے سربراہ جنرل پاشا نے ماضی میں کچھ ایسی باتیں کہیں ہیں جنہیں اس زمانے میں اسی طرح قابل اعتراض کہا گیا۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان نے بہت سے افراد کے خلاف کارروائی کی ہے۔ حافظ سعید گرفتار ہوئے ‘ مولانا لکھوی جیل میں ڈالے گئے۔ لشکر طیبہ ‘ جماعتہ الدعوۃ پر پابندی عاید کر دی گئی۔ اس لیے یہ کوئی نیا بیانیہ نہیں ہے۔ پھر بھی اس وقت اسے بیان کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ یا جو سوال اس کے ساتھ نتھی کیا گیا کہ آخر مقدمے کا فیصلہ کیوں نہیں ہوتا‘ وہ یقینا اسے ایک نیا رخ دیتا ہے۔ چودھری نثار نے اس کی وضاحت کی ہے کہ اس مقدمے کے فیصلے کی تاخیر میں پاکستان کا کوئی قصور نہیں ہے۔ بھارت نے تعاون ہی نہیں کیا۔ اجمل قصاب تک رسائی بھی نہیں دی۔ یہی تو اس مقدمے کا اصل کردار ہے جس کے بارے میں اس دن سے یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ وہ پہلے ہی بھارتی حراست میں تھا۔ اسے نیپال سے گرفتار کیا گیا تھا۔ دنیا میں بہت سا مواد ایسا شائع ہو چکا ہے جو بھارتی موقف کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیتا ہے۔ یہ سب باتیں درست ہیں تاہم اس وقت اس بات کو ایک ایسے شخص کو بیان کرنا جو پہلے ہی آپ کے لیے مشکلات پیدا کر چکا ہے کہاں کی عقل مندی ہے۔ اس کا کس سے تعلق ہے۔ ڈان لیکس میں بہت سے سر اڑائے گئے۔اہم لوگوں کو سزائیں ہوئیں۔ کسی نے اس شخص سے پوچھنے کی جرأت نہ کی کہ اس نے یہ خبر کس بنا پر دی۔ آج وہی شخص اس خبر کا بھی مرکزی کردار ہے۔

نہیں میاں صاحب‘ نہیں‘ اپنے گرد اپنے ساتھیوں پر نظر ڈالیے۔ جب مسلم لیگ کی حکومت بن رہی تھی تو میں نے عرض کیا تھا کہ ذرا افراد کے انتخاب میں احتیاط کیجیے۔ جس طرح آدمی اپنے ساتھیوں سے پہچانا جاتا ہے‘ اس طرح ایک لیڈر کی پہچان وہ ٹیم ہوتی ہے جو وہ اپنے لیے منتخب کرتا ہے۔ عرض کیا تھا‘ احتیاط کیجیے جب یہ ٹیم منتخب ہوئی تو بعض لوگوں کے انتخاب پر حیرانی ہوئی۔ بعض اوقات چاہے جتنے بھی وفادار رہے ہوں‘ وہ اس عہدے کے سزاوار نہ تھے جو انہیں سونپا گیا۔ مسلم لیگ کا اپنا مزاج ہے ۔ اس کے بعض مناصب ایسے ہیں جو مخصوص ذہن کے افرادپر کرتے ہیں۔ افسوس اس کا خیال نہ رکھا گیا جہاں اتنا برداشت کیا اس وقت بھی احتیاط کرنا چاہتا ہوں۔ کوئی بات بھی اہم نہیں ہوتی۔ یہ بھی اہم ہوتا ہے کہ وہ بات کہاں اور کب کہی گئی۔

جب میاں صاحب نے اپنی وہ متنازعہ تقریر کی بعض لوگوں کی نظر میں ایک طرح سے نظریہ پاکستان کی نفی ہوئی تھی تو میاں صاحب سے براہ راست عرض کیا تھا کہ آپ کی یہ تقریر مناسب نہیں۔ یہ کونسل آف نیشنل افیئرز کے ایک وفد کی ان سے جاتی امرا میں ملاقات تھی۔ عرض کیا کہ آپ کو یہ تقریر سیفما ہی میں کرنا تھی جو بھارت سے دوستی کے لیے معروف ہے یا یوم آزادی پر کرنا تھی جو بھارت کے حوالے سے ہمیں بہت سے دکھ یاد دلاتا ہے۔

جگہ اور وقت اہم ہوا کرتا ہے۔ مجھے یاد ہے ‘ میں نے یہ مثال بھی دی تھی کہ جب بش نے عراق پر حملے کا اعلان کرنا تھا تو اس کے لیے ایک امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ کا انتخاب کیا جو عراق پر حملے کا سب سے بڑا حامی سمجھا جاتا ہے۔ آپ نے بھارت سے دوستی کے لیے اس ادارے کا انتخاب کر کے کوئی اچھا نہیں کیا‘ کوئی درست پیغام نہیں دیا۔بھارت سے دوستی کوئی برا خیال نہیں۔ کون ہے جو اس کا حامی نہ ہو‘ مشرف ایک طرف کہتے ہیں کہ ہم نے واجپائی کو سلیوٹ نہیں کیا‘ دوسری طرف تاریخ بدلنے کے لیے آگرہ جا پہنچے تھے اور آخری وقت تک کشمیر پر کوئی ایسا حل ڈھونڈتے رہے جو پاکستان کے روایتی موقف سے ہٹ کر تھا۔

یہ کہنا کہ فوج اچھے تعلقات نہیں چاہتی‘ درست نہیں‘ مگر ابھی تو وہ صورت حال نہیں آئی کہ ہمارے سویلین لیڈر یہ بات کھل کر یا سلیقے سے بھی کر سکیں۔ آصف زرداری‘ بے نظیر بھٹو کون ہے جن کے بیانات کو مشکوک قرار نہیں دیا گیا‘ تاہم مسلم لیگ کے رہنما کی طرف سے اس طرح کے بیانات بہت احتیاط کا تقاضا کرتے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ میاں نواز شریف پاکستان میں نان سٹیٹ ایکٹرز کی ہر طرح کی ان سرگرمیوں کے مخالف ہیں جن سے دنیا میں پاکستان کے خلاف انگلیاں اٹھائی جا سکیں۔ مجھے یاد ہے کہ سری لنکا کے دورے کے دوران جب میں بھی اس وفد میں شامل تھا۔ پٹھان کوٹ کا واقعہ پیش آ گیا۔ انہوں نے ہمیں تو اتنا بتایا کہ انہیں خبر ہے کہ اس کے پیچھے کون ہے‘ مگر لگتا تھا وہ بہت پریشان ہیں اور اس کے ان کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہتے ہیں جو ممکنہ طور پر پاکستان میں ہو سکتے ہیں۔ اس معاملے میں وہ بہت یک سو تھے۔ یہ سب درست ہے‘ میں نے عرض کیا ہے ہر بات کا وقت ہوتا ہے اور جگہ بھی۔

آپ کو سرل المیڈا ہی اس کام کے لیے ملا تھا۔ پھر آپ نے یہ بیان ان دنوں دینا تھا جب صاف دکھائی دیتا ہے کہ آپ کی اداروں سے ٹھن چکی ہے اور آپ کہہ بھی چکے ہیں کہ سدھر جائو وگرنہ وہ بھی زبان پر لے آئوں گا جو نہیں آنا چاہیے۔ جہاں تک اداروں سے آپ کی لڑائی کا تعلق ہے‘ اس بارے میں دو آرا ہو سکتی ہیں۔ میرے جیسے سمجھ سکتے ہیں کہ آپ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ عدالت کے فیصلے کے خلاف بھی ہم نے آواز اٹھائی ہے مگر یہ برداشت نہیں کہ آپ کے منہ سے ایسی بات نکلے جس سے یہ تاثر ابھرے کہ آپ پاک فوج کے خلاف کسی ایسی بات کا اشارہ بھی دیں جو ملکی مفاد کے خلاف ہو۔

ہم حالت جنگ میں ہیں۔ ہماری فوج کئی محاذوں پر الجھی ہوئی ہے۔ کراچی‘ بلوچستان اور فاٹا میں فوج کو سخت آپریشن کرنا پڑے۔ اب خاص طور پر خیبر پختونخواہ کے علاقے میں ایک طرح کی مزاحمتی تحریک اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ ایسے میں پنجاب میں فوج کے حوالے سے کسی بھی قسم کے منفی رجحانات پیدا ہونا‘ پاکستان کے لیے مہلک ہے۔ میجر عامر کی حب الوطنی پر کون شک کر سکتا ہے۔ وہ ابھی دو چار روز پہلے لاہور میں ایک تقریر میں کہہ رہے تھے۔ مجھے فوج سے نقصان پہنچا ہے میرا سارا کیرئر ختم ہوا میں جیل میں رہا۔ مگر فوج کو کوئی نقصان پہنچا تو یہ پاکستان کو نقصان ہو گا۔ آج محمود خاں اچکزئی کوئٹہ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھڑا یہ کہتا ہے کہ دیکھا تم نے میں نے پنجابی سیاستدان کو پنجابی قوم سے لڑا دیا ہے۔ یقینا یہ خطرناک صورت حال ہے۔ میں نے عرض کیا کہ افراد اور وقت کا انتخاب بہت اہم ہوتا ہے۔ محمود خاں اچکزئی کے پہلو میں کھڑے ہو کر آپ یہ کہیں گے کہ میں نظریاتی ہو گیا ہوں تو اس کے غلط معنی لیے جائیں گے حالانکہ اس کام کے لیے اچکزئی ہی نہیں‘ پرویز رشید کا ساتھ ہی کافی ہے۔ خدا کے لیے احتیاط برتیے۔ ایک بات عرض کیے دیتا ہوں۔ آپ کے جانثار بے شمار ہیں مگر یہ ایک حقیقت کہ آپکے جانثاروں کی اکثریت فوج کی بھی جانثار ہے فوج کے ساتھ کھل کر لڑائی کا تاثر پاکستان کے لیے تو نقصان دہ ہو گا ہی‘ مگر خود آپ کی سیاست کے لیے بھی اس کے مثبت اثرات نہ ہوں گے۔ لہٰذا اپنے گرد اکٹھے لوگوں پر نظر ڈالیے۔ کہیں ان میں اور آپ کے گرد اکٹھے ہجوم میں بہت فرق تو نہیں ہے۔ میری بات سمجھیے۔ یہ بات میں آپ ہی کے مفاد میں نہیں‘ پاکستان کے مفاد میں بھی کہہ رہا ہوں۔ ؎ اگر یک سرِ موئے برتر پرم فروغ تجلی بسوزد پرم (سجاد میر روزنامہ 92 نیوز )

ممبئی حملے:جواب حاضر ہے .. منیر بلوچ[ ……]

بھارت کا دھوکہ

 حال ہی میں اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک جرمن یہودی ایلس ڈیوڈسن کی کتاب بھارت میں شائع ہوئی ہے جس میں ممبئی حملوں کے بارے میں’’ بھارت کا دھوکہ‘‘ بےنقاب کیا گیا ہے۔ ڈیوڈسن اسرائیل میں پیدا ہوا تھا لیکن وہ صیہونیت کے خلاف ہے۔ ممبئی حملوں میں کچھ اسرائیلی شہری بھی مارے گئے تھے جس کے بعد اسرائیلی میڈیا میں پاکستان پر بہت تنقید ہوئی۔ ڈیوڈسن نے ممبئی حملوں کے بارے میں تحقیقات کیں تو اسے پتہ چلا کہ بھارتی حکومت نے حقائق مسخ کئے۔ اس کتاب کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ممبئی حملوں میں شاید پاکستانی شہری استعمال ہوئے ہوں لیکن یہ حملے دراصل ایک ڈرامہ تھا جس کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنا تھا۔ ڈیوڈسن نے لکھا ہے کہ ممبئی حملوں کے دس ملزموں میں سے صرف ایک ملزم اجمل قصاب زندہ گرفتار ہوا لیکن اسے 26نومبر 2008کو نہیں بلکہ 6نومبر 2008کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ڈیوڈسن نے کوئی نئی بات نہیں لکھی۔ ممبئی حملوں کے ایک سال بعد 2009میں بھارت میں ایک سابق پولیس ا فسر ایس ایم مشرف کی کتاب شائع ہوئی تھی جس میں سوال اٹھایا گیا کہ ممبئی پولیس کے اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ کے سربراہ ہیمنت کرکرے کو 26نومبر 2008کو کس نے مارا؟ ایس ایم مشرف مہاراشٹرا کے سابق آئی جی ہیں۔ انہوں نے اپنی کتابWho killed Karkareمیں لکھا کہ اجمل قصاب دراصل نیپال میں گرفتار ہوا تھا۔ نیپال کی پولیس نے اسے بھارت کے حوالے کیا اور بھارت نے ممبئی حملوں کے بعد اجمل قصاب کو ایک پاکستانی دہشت گرد بنا کر پیش کیا۔ اسی کتاب میں بتایا گیا کہ ہیمنت کرکرے نے کچھ ایسے انتہا پسند ہندوئوں کے خلاف ثبوت حاصل کرلئے تھے جو بھارت میں دہشت گردی خود کراتے اور الزام مسلمانوں پر ڈال دیتے تھے۔26نومبر 2008کی رات انہیں پراسرار طریقے سے قتل کرکے دعویٰ کیا گیا کہ وہ ممبئی حملوں میں مارے گئے۔ (حامد میر)

نواز شریف نے بڑا ظلم کر دیا

بھارتی میڈیا کیا پورا بھارت میاں نواز شریف کے ممبئی حملہ سے متعلق بیان سے جھوم اُٹھا۔ پاکستان دشمنوں کو میاں نواز شریف نے اپنے انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور قابل مذمت بیان سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے لیے وہ کچھ دے دیا جس کی وہ تمنا ہی کر سکتے تھے۔ نجانے نواز شریف کو کیا سوجھی کہ ایک ایسے وقت میں پاکستان مخالف بیان دے دیا جس کا ہمیں صرف اور صرف نقصان اور ہمارے دشمنوں کو فائدہ ہی ہو سکتا ہے۔ زرا بھارتی میڈیا کو سنیں وہ کیا کچھ کہہ رہا ہے۔ بھارتی میڈیا میاں نواز شریف کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی شہ سرخیوں میں کہہ رہا ہے ’’Biggest ever terror admission from Pakistan‘‘(پاکستان کی طرف سے دہشتگردی کرنے کا سب سے بڑاقبول نامہ)  .. ( انصار عباسی)

بھارتی ہٹ دھرمی ممبئی کیس کی پیشرفت میں رکاوٹ بنی، چوہدری نثار

فوج دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار، نوازشریف نے خنجر گھونپا، حسن نثار

مزید…  نواز شریف پر >>>>>

Davidsson has concluded that Indian state’s investigation of the attacks was a big eye wash to bamboozle the state narrative and cheat Indian and international audience, just to blame Pakistan. The author blames Indian establishment and their US partners and writes, “It is highly plausible, that major institutional actors in India , the United States and possibly Israel, were complicit in conceiving, planning, directing and executing the attacks of 26/11; evidence of a deceptive investigation is even stronger”.

26/11 or Mumbai attacks in November 2008 were projected as India’s 9/11,with an objective to tell US and international community that India was a victim of Pakistani State terrorism and the world needed to ostracize Pakistan. The Indian media went into frenzy, bewildering and confounding Indian, and, to some extent, Pakistani audience, some of Pakistani channels and media houses deliberately supported Indian version and strengthened Indian case. Repeated doses of Mumbai attack mantra has created intellectual dementia in Pakistan, where no strong narrative was developed to rebut Indian claims, almost accepting it like a fait accompli and grim reality.

Elias Davidsson has rebutted the Indian narrative and proved with authenticity that Indian version was totally concocted, based on deceit and outright lies, and that it was promulgated through a well thought out disinformation campaign ensconced in hyperbole. The book is based on incisive and critical analysis of the official narrative of 26/11 and the author has endeavored to go through court documents and testimonies of dozens of important witnesses and their linkages with media outbursts parroted by Indian media

Daviddson has drawn some major conclusions:

Indian courts ignored prime evidence and failed to reach at viable conclusions, doing injustice to the whole case. Powerful institutions in India and the US were the main beneficiaries of this mass-murder conducted by Indian prime Intelligence Agency, RAW and her surrogates.

There was a deliberate and tacit consensus within mainstream media, RAW, judiciary, political elite, police and investigating agencies to cover up the true facts on 26/11,it amounted to protection of the real criminals. The author exclaims, “I could discover no hint of a desire among the aforementioned parties to establish the truth on these deadly events.”

In a review on the book, published in the Global Research, Professor Graeme McQueen has carried out an in-depth analysis of Davidsson’s narrative, his conclusions raised some important questions and are being reproduced here:

Immediate finger pointing of the perpetrator is typical modus operandi in false flag operations. When officials claim to know the identity of a perpetrator prior to any serious investigation, this suggests that a false narrative is being initiated and that strenuous efforts will soon be made to implant it in the mind of a population. Lee Harvey Oswald was identified by officials as the killer of President John F. Kennedy and as a lone wolf with no associates–on the afternoon of the assassination day, long before an investigation and even before he had been charged with the crime. In the Mumbai case the PM of India implied, while the attack was still in progress, that the perpetrators were from a terrorist group supported by Pakistan.

Key witnesses were not called to testify. Witnesses who said they saw the terrorists commit violence, or spoke to them, or were in the same room with them, were ignored by the court. Contradictions and miracles were not sorted out; one victim was apparently resurrected from the dead when his testimony was essential to the blaming of Pakistan. A second victim died in two different places, while a third died in three places.

The number of terrorists who committed the deeds changed repeatedly, as did the number of terrorists who survived. Crime scenes were violated, with bodies hauled off before they could be examined. Claims that the terrorists were armed with AK-47s were common, yet forensic study of the attack at the Cama Hospital failed to turn up a single AK-47 bullet.

Of the “hundreds of witnesses processed by the court” in relation to the attacks at the Café Leopold, Taj Mahal Palace Hotel, Oberoi-Trident Hotel or Nariman House, “not a single one testified to having observed any of the eight accused kill anyone” .

Indian authorities declined to order autopsies on the dead at the targeted Jewish center in Nariman House. The dead, five out of six of whom were Israeli citizens , were instead whisked back to Israel by a Jewish organization based in Israel, allegedly for religious reasons .

The surviving alleged terrorist had no public trial. One lawyer who agreed to defend the accused was removed by the court and another was assassinated. Mysterious malfunctioning of the majority of CCTV cameras on the days in question ; but only a very small percentage of the claimed footage was ever released and it suffers from serious defects–two conflicting time-stamps and signs of editing .

Why no one from the Indian commando battalion of 800 soldiers rushed to battle ‘eight terrorists’ was allowed to testify in court? The suspect, after being convicted and sentenced to death, was presumably executed, but the hanging was done secretly in jail and his body, like the bodies of the other dead “terrorists,” was buried in a secret place.

The FBI showed great interest, it actually had a man on the scene during the attacks and sent an entire team directly after the event. It was given direct access to the arrested suspect and to his recorded confession (before he even had a lawyer), as well as to eyewitnesses. The NYPD also sent a team after the conclusion of the event, as did Scotland Yard and Israeli police.

I have jotted down some thoughts for Pakistan:

-What are the dangers of False Flag operations in highly nuclearized zone, should Pakistan take India to ICJ for blaming her for an indigenous false flag operation conducted by RAW and western intelligence or ask for a UNSC resolution, does the international community cover false flag operations?

-What role should have been played by Pakistani media during Mumbai attacks, and what role should be played in future to safeguard against false flag operations by Indian establishment on Indian soil or anywhere in South Asia? Should they become party to Indian narrative, have we calculated the cost of Mumbai attacks incurred by Pakistan due to the tarnished reputation of people of Pakistan and the Pakistani state?

I recommend, the case on ‘Mumbai attacks’ be taken to Supreme Court of Pakistan and all those media hoses who colluded with Indian surrogates to build a case against Pakistan be asked to justify their stance. If Davidsson’s book has proved that the Mumbai attack on 26/11 was a false flag with Indian, American, British and Israeli intelligence collaborating to malign Pakistan, who was their front organization in Pakistan, that needs to be probed and taken to task.

And finally why has the Pakistani media not discussed this book, which has badly exposed Indian sinister designs against Pakistan?

پاکستان کے خلاف عالمی سازش، ممبئی حملوں کے پیچھے کونسے ممالک تھے اور یہ حملے کیوں کرائے گئے ؟ 10 سال بعد جرمن صحافی نے پول کھول کر رکھ دیا۔۔۔۔۔نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) جرمن صحافی ایلیس ڈیوڈسن نے بمبئی حملے کا پول کھولتے ہوئے،حیران کن انکشافات کر ڈالے۔ جرمن صحافی نے دعویٰ کیا ہے کہ ممبئی حملہ بھارت، اسرائیل اور امریکا کا گٹھ جوڑ تھا۔تفصیلات کے مطابق بھارت کے شہر بمبئی میں ہونے والے حملوں کے حوالے سے ہمیشہ بھارت نے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا۔مگر جرمن صحافی ایلیس ڈیوڈسن کی تحقیقاتی کتاب نے بھارت کے غبارے سے ہوا نکال دی۔حیران کن طور پر یہ کتاب ممبئی حملوں سے متعلق ہوش ربا انکشافات اور حقائق پر مبنی تجزیے پر مشتمل ہے۔یہ کتاب بھارتی پبلشر فروز میڈیا، نیو دہلی نے شائع کی ہے۔جرمن صحافی نے بمبئی حملے کا پول کھولتے ہوئے،حیران کن انکشافات کر ڈالے۔ ممبئی حملوں کے مرکزی فائدہ کار ہندو انتہا پسندو قوم پرست رہے کیوں کہ ان حملوں کے نتیجے میں ہیمنت کرکرے اور دوسرے پولیس افسران کو راستے سے ہٹایا گیا۔انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ ساتھ نہ صرف بھارت بلکہ امریکا اور اسرائیل کے کاروباری، سیاسی اور فوجی عناصرکو بھی اپنے مقاصد پورے کرنے کےلیے ان حملوں کا فائدہ پہنچا جب کہ صحافی ایلیس ڈیوڈسن اپنی تحقیقات میں اس نتیجے پر بھی پہنچا کہ ممبئی حملوں کا پاکستانی حکومت اور فوج کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔مصنف ایلیس ڈیوڈسن کی تحقیقات کے مطابق ممبئی دہشت گرد حملوں کے حقائق چھپانا بھارتی سیکیورٹی و انٹیلی جنس اداروں کی نااہلی نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے تحت حقائق میں جان بوجھ کر کی گئی ہیرا پھیری تھی۔اس کیس کی عدالتی کارروائی بھی غیرجانبدار نہیں تھی بلکہ اہم ثبوت اور گواہوں کو نظرانداز کیا گیا۔اس کتاب نے ممبئی حملوں کے نام پر پاکستان کو دباؤ میں لانے کے امریکا، بھارت اور اسرائیلی گٹھ جوڑ کا بھانڈہ پھوڑ دیا ہے۔یاد رہے کہ 26نومبر 2008 میں بھارت کے مشہور شہر ممبئی کو دہشتگردوں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا تھا جس میں درجنوں شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

سابق وزیر داخلہ اور نواز شریف کے پرانے ساتھی چوہدری نثار بھی سامنے آگئے، کہتے ہیں نئی دہلی کو حقائق اور تحقیقات میں دلچسپی ہی نہیں۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ممبئی حملوں سے متعلق غیر ملکی جریدے کو متنازع بیان دیا تو سابق وزیر داخلہ اور ان کے دیرینہ ساتھی چوہدری نثار نے بھی بھارت کے مکروہ چہرے سے نقاب نوچ ڈالا، تحقیقات اور کیس سے متعلق حقائق سب کے سامنے لے آئے۔

بولے کہ تحقیقات میں سست روی کی وجہ پاکستان نہیں خود بھارت ہے، نئی دہلی کی دلچسپی حقائق تک پہنچنے میں تھی ہی نہیں، اس کا مقصد صرف پاکستان کیخلاف زہریلا پروپیگنڈا کرنا تھا۔

اپنے بیان میں چوہدری نثار نے کہا پاکستان کی طرف سے تعاون کی ایک ایک درخواست، خط اور اعلان ریکارڈ پر موجود ہے جبکہ ہندوستان کا عدم تعاون، عدم دلچسپی، حیل و حجت اور ہٹ دھرمی بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔

سابق وزیراعظم کا مزید کہنا ہے کہ حملے بھارت میں ہوئے، 90 فیصد شواہد اور حقائق بھی اسی کے پاس ہیں، بھارت نے بڑی پھرتی اور چالاکی سے اجمل قصاب کو پھانسی چڑھا کر واحد زندہ ثبوت بھی مٹا ڈالا۔

وہ بولے کہ بھارت نے نہ پاکستانی عدالت کی تشکیل کردہ کمیٹی سے تعاون کیا نہ ایف آئی اے سے، ممبئی حملوں اور کلبھوشن یادیو سمیت بھارت کسی بھی معاملے میں پاکستان سے تعاون نہیں کرتا۔

 ………………………………………………..

Nawaz Sharif’s Controversial Interview with Dawn –  May 12th, 2018

جب نواز شریف سے پوچھا گیا کہ ان کی حکومت کے خاتمے کی وجہ کیا تھی، تو انہوں نے براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات کا تذکرہ کرتے کہا کہ ہم نے اپنے آپ کو تنہا کرلیا ہے، ہماری قربانیوں کے باوجود ہمارا موقف تسلیم نہیں کیا جارہا، افغانستان کا موقف سنا جاتا ہے لیکن ہمارا نہیں، اس معاملے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اس بارے میں مزید گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ممبئی حملوں کے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلنے والے مقدمے کے حوالے سے کہا کہ اس مقدمے کی کارروائی ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہوسکی؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنہیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے، مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں انہیں اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کو قتل کردیں۔

یہ عمل ناقابل قبول ہے یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا ہے، یہ بات روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور چینی صدر ژی جنگ نے بھی کہی، ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو 7 فیصد ہوسکتی تھی لیکن نہیں ہے۔

https://www.dawnnews.tv/news/1078503

Asked what he believes is the reason for his ouster from public office, Mr Sharif did not reply directly but steered the conversation towards foreign policy and national security. “We have isolated ourselves. Despite giving sacrifices, our narrative is not being accepted. Afghanistan’s narrative is being accepted, but ours is not. We must look into it.”

He continued: “Militant organisations are active. Call them non-state actors, should we allow them to cross the border and kill 150 people in Mumbai? Explain it to me. Why can’t we complete the trial?” — a reference to the Mumbai attacks-related trials which have stalled in a Rawalpindi anti-terrorism court.

“It’s absolutely unacceptable. This is exactly what we are struggling for. President Putin has said it. President Xi has said it,” Mr Sharif said. “We could have already been at seven per cent growth (in GDP), but we are not.”

https://www.dawn.com/news/1407192/for-nawaz-its-not-over-till-its-over

(Visited 9 times, 1 visits today)

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *