Muslim – Non Muslim Relations – مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے تعلقات

ااسلام ان تمام حقوق جن کا تعلق ریاست کے نظم و ضبط اور شہریوں کے بنیادی حقوق سے ہو غیرمسلم اقلیتوں اور مسلمانوں کے درمیان عدل و انصاف اور مساوات قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔

The nature and parameters of the normative relationship between Muslims and non-Muslims is examined here, which is based mainly on an attempt to understand the Qur’an in its own textual and historical context. To do this, it is necessary to begin with the methodology and assumptions that underpin the paper….. [Keep reading…]

قرآن میں ان غیرمسلموں کے ساتھ، جو اسلام اور مسلمانوں سے برسرپیکار نہ ہوں اور نہ ان کے خلاف کسی شازشی سرگرمی میں مبتلا ہوں، خیرخواہی، مروت، حسن سلوک اور رواداری کی ہدایت دی گئی ہے۔

لاینہٰکم اللّٰہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین، ولم یخرجوکم من دیارکم․ أن تبروہم وتقسطوا الیہم․ (الممتحنة: ۸)

اللہ تم کو منع نہیں کرتا ہے ان لوگوں سے جو لڑے نہیں تم سے دین پر اور نکالا نہیں تم کو تمہارے گھروں سے کہ ان سے کرو بھلائی اور انصاف کا سلوک۔

اسلامی ریاست میں تمام غیرمسلم اقلیتوں اور رعایا کو عقیدہ، مذہب، جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی ضمانت حاصل ہوگی۔ وہ انسانی بنیاد پر شہری آزادی اور بنیادی حقوق میں مسلمانوں کے برابر شریک ہوں گے۔ قانون کی نظر میں سب کے ساتھ یکساں معاملہ کیا جائے گا، بحیثیت انسان کسی کے ساتھ کوئی امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا۔ جزیہ قبول کرنے کے بعد ان پر وہی واجبات اور ذمہ داریاں عائد ہوں گی، جو مسلمانوں پر عائد ہیں، انھیں وہی حقوق حاصل ہوں گے جو مسلمانوں کو حاصل ہیں اور ان تمام مراعات و سہولیات کے مستحق ہوں گے، جن کے مسلمان ہیں۔

”فان قبلوا الذمة فأعْلِمْہم أن لہم ما للمسلمین وعلیہم ما علی المسلمین“ (بدائع الصنائع، ج:۶، ص: ۶۲)

اگر وہ ذمہ قبول کرلیں، تو انھیں بتادو کہ جو حقوق و مراعات مسلمانوں کو حاصل ہیں، وہی ان کو بھی حاصل ہوں گی اور جو ذمہ داریاں مسلمانوں پر عائد ہیں وہی ان پر بھی عائد ہوں گی۔ [… مکمل مضمون پڑھیں ..]

لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىَ لاَ انفِصَامَ لَهَا وَاللّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌO

’’دین میں کوئی زبردستی نہیں، بے شک ہدایت گمراہی سے واضح طور پر ممتاز ہوچکی ہے، سو جو کوئی معبودانِ باطل کا انکار کردے اور اللہ پر ایمان لے آئے تو اس نے ایک ایسا مضبوط حلقہ تھام لیا جس کے لیے ٹوٹنا (ممکن) نہیں، اور اللہ خوب جاننے والا ہےo‘‘ ( القرآن، البقرة، 2 : 256)

دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا :

لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِO  ’’(سو) تمہارا دین تمہارے لیے اور میرا دین میرے لیے ہےo‘‘ (القرآن، الکافرون، 109 : 6)

اسلامی معاشرے میں اقلیتوں کے حقوق کو کتنی زیادہ اہمیت دی گئی ہے اس کا اندازہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان مبارک سے ہوتا ہے :

ألا من ظلم معاهداً او انتقصه او کلفه فوق طاقته او اخذ منه شيئا بغير طيب نفس فانا حجيجه يوم القيامة.

’’خبردار! جس کسی نے کسی معاہد (اقلیتی فرد) پر ظلم کیا یا اس کا حق غصب کیا یا اُس کو اس کی استطاعت سے زیادہ تکلیف دی یا اس کی رضا کے بغیر اس سے کوئی چیز لی تو بروز قیامت میں اس کی طرف سے (مسلمان کے خلاف) جھگڑوں گا۔‘‘

1. ابوداؤد، السنن، کتاب الخراج، باب في تعشير، 3 : 170، رقم : 3052
2. ابن ابي حاتم، الجرح والتعديل، 1 : 201
3. منذري، الترغيب والترهيب، 4 : 7، رقم : 4558
4. قرطبي، الجامع لاحکام القرآن، 8 : 115
5. عجلوني، کشف الخفاء، 2 : 285، رقم : 2341

یہ صرف ایک تنبیہ ہی نہیں بلکہ ایک قانون ہے جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دورِ مبارک میں اسلامی مملکت میں جاری تھا، جس پر بعد میں بھی عمل درآمد ہوتا رہا اور اب بھی یہ اسلامی دستورِ مملکت کا ایک حصہ ہے۔ چنانچہ ایک روایت میں ہے:

ان رجلا من المسلمين قتل رجلا من أهل الکتاب، فرفع الي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، فقال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : أنا أحق من وفي بذمته، ثم أمر به فقتل.

’’ایک مسلمان نے ایک اہل کتاب کو قتل کر دیا اور وہ مقدمہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس فیصلہ کے لیے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں اہل ذمہ کا حق ادا کرنے کا سب سے زیادہ ذمہ دار ہوں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قاتل کے بارے میں قتل کرنے کا حکم دیا اور اسے قتل کر دیا گیا۔‘‘

1. بيهقي، السنن الکبريٰ، 8 : 30
2. شافعي، المسند، 1 : 343
3. ابو نعيم، مسند ابي حنيفه، 1 : 104
4. شافعي، الام، 7 : 320
5. شيباني، المسبوط، 4 : 488
6. ابن رشد، بداية المجتهد، 2 : 299
7. ابن رجب، جامع العلوم والحکم، 1 : 126
8. زيلعي، نصب الرايه، 4 : 336
9. مبارکپوري، تحفة الاحوذي، 4 : 557

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اقلیتوں کے بارے مسلمانوں کو ہمیشہ متنبہ فرماتے تھے، چنانچہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاہدین کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا :

من قتل معاهدا لم يرح رائحة الجنة وان ريحها توجد من مسيرة اربعين عاما.

’’جس کسی نے کسی معاہد (اقلیتی فرد) کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس برس کی مسافت تک پھیلی ہوئی ہے۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، کتاب الجزيه، باب إثم من قتل، 3 : 1154، رقم : 2995
2. ابن ماجه، السنن، کتاب الديات، باب من قتل معاهدا2 : 896، رقم : 2686
3. ربيع، المسند، 1 : 367، رقم : 956
4. بيهقي، السنن الکبريٰ، 8 : 133
5. منذري، الترغيب والترهيب، 3 : 204، رقم : 3693
6. صنعاني، سبل السلام، 4 : 69
7. شوکاني، نيل الاوطار، 7 : 155

اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ جنت سے بہت دُور رکھا جائے گا دراصل یہ تنبیہات اس قانون پر عمل درآمد کروانے کے لیے ہیں جو اسلام نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے عطا کیا۔

غیر مسلموں کے جو بیرونی وفود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آتے ان کی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود میزبانی فرماتے چنانچہ جب مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حبشہ کے عیسائیوں کا ایک وفد آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا اور ان کی مہمان نوازی خود اپنے ذمہ لی اور فرمایا :

انهم کانوا لأصحابنا مکرمين، و اني أحب أن أکافئهم.

’’یہ لوگ ہمارے ساتھیوں کے لیے ممتاز و منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے میں نے پسند کیا کہ میں بذات خود ان کی تعظیم و تکریم اور مہمان نوازی کروں۔‘‘

1. بيهقي، شعب الايمان، 6 : 518، رقم : 9125
2. صيداوي، معجم الشيوخ، 1 : 97
3. ابن کثير، السيرة النبوية، 2 : 31

ایک دفعہ نجران کے عیسائیوں کا چودہ رکنی وفد مدینہ منورہ آیا۔ آپ نے اس وفد کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا اور اس وفد میں شامل مسیحیوں کو اجازت دی کہ وہ اپنی نماز اپنے طریقہ پر مسجد نبوی میں ادا کریں چنانچہ یہ مسیحی حضرات مسجد نبوی کی ایک جانب مشرق کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے۔

1. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 1 : 357
2. قرطبي، الجامع لأحکام القرآن، 4 : 4
3. ابن قيم، زادالمعاد، 3 : 629

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان تعلیمات کی روشنی میں چودہ سو سال گزرنے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے سے لے کر ہر اسلامی حکومت میں غیر مسلموں کو حقوق کا تحفظ حاصل رہا۔

اقلیتوں سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن سلوک کا نتیجہ تھا کہ ان کا برتاؤ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ احترام پر مبنی تھا۔ ایک جنگ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیف ایک یہودی جب مرنے لگا تو لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تیری بڑی جائیداد ہے اس کا وارث کون ہو گا؟ تو اس یہودی نے کہا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری جائیداد کے وارث ہوں گے۔ اسلامی ریاست میں اقلیتوں سے حسن سلوک کا ایک غیر مسلم کی طرف سے اعتراف تھا۔

 Source: http://www.minhajbooks.com/urdu/btext/cid/15/bid/286/btid/304/read/txt/متن-اسلام-میں-اقلیتوں-کے-حقوق.html

Doesn’t the Qur’an state that Muslims should never take Jews and Christians for friends?
.وَالَّذِينَ كَفَرُوا بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ( 8:73)
 

اور جو لوگ کافر ہیں (وہ بھی) ایک دوسرے کے رفیق ہیں تو (مومنو) اگر تم یہ (کام) نہ کرو گے تو ملک میں فتنہ برپا ہوجائے گا اور بڑا فساد مچے گا۔ ‏(8:73)

Answer: This is an incorrect translation in the first place. The Qur’an does not tell Muslims not to take Jews and Christians as friends. The word used in the Qur’an is awliyaa’, which means “overlords” or “protectors,” not mere friends. If we look at the verses that deal with this injunction, we will notice that they always refer to negative situations. For example, in Al-Ma’idah 5:57-58, the context refers to those who mock you as Muslims when you call for Prayers. Would any sane person of any religion take as their defender one who mocks them in this way? It is not appropriate to view these verses in isolation, since there are many verses that teach how peaceful relationships should be developed with non-Muslims.
Coming back to the question of marriage, which is more intimate, the marital relationship or friendship? According to the Qur’an (Al-Ma’idah 5:5), a Muslim man can marry a Jewish or Christian woman. As a wife, her Muslim husband has obligations to her. As revealed in Surah 30, Ar-Rum, (The Romans), verse 22, he should dwell with her in peace and treat her with love and compassion. Does it make sense that a Muslim would be permitted to marry a non-Muslim, but not befriend her? (Keep reading>> Dr.Jamal Bidawi)
 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں وہ مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے نہ مسلمان کافر کا وارث اور نہ کافر مسلمان کا وارث پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ بخاری و مسلم میں بھی ہے مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا۔ سنن وغیرہ میں ہے دو مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں۔  (مستدرک حاکم، تفسیر ابن كثیر)
 
 عَسَى اللَّهُ أَنْ يَجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الَّذِينَ عَادَيْتُمْ مِنْهُمْ مَوَدَّةً ۚ وَاللَّهُ قَدِيرٌ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ  ﴿60:7)
عجب نہیں کہ خدا تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم دشمنی رکھتں ہو دوستی پیدا کر دے اور خدا قادر ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے ‏۔
 
َا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴿60:8﴾
 
جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے جنگ نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے خدا تم کو منع نہیں کرتا خدا تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے-
 
نَّمَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ ۚ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴿60:9﴾
 
‏ خدا انہی لوگوں کیساتھ تم کو دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا۔ اور تمہارے نکالنے میں اوروں کی مدد کی۔ تو جو لوگ ایسوں سے دوستی کریں گے وہی ظالم ہیں ۔ 
Rea More:
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Humanity lives today in a “global village,” where no people or nation can live in isolation from and indifferent to what goes on elsewhere. Our world is so interdependent and so interrelated that peaceful dialogue has become an imperative. In spite of the general erosion of commitment to “religion,” however interpreted or misinterpreted, religion still plays a pivotal role in shaping people’s attitudes and influencing their behavior. In spite of serious instances of abuse of various religions by some of their claimed followers so as to justify or instigate acts of brutality and bloodshed, there are positive and helpful common themes in these religions. Therefore, peaceful and candid intra-faith and inter-faith dialogues are important tools in working for such goals. This paper is a humble contribution to that dialogue from one perspective within a major world religion that is the professed faith of nearly one fifth of the human race; one that is more misunderstood than any other faith, sometimes, even, by some of its followers.

This paper examines the nature and parameters of the normative relationship between Muslims and non-Muslims. It is based mainly on an attempt to understand the Qur’an in its own textual and historical context. To do this, it is necessary to begin with the methodology and assumptions that underpin the paper.