امت مسلمہ مسلسل زوال پزیر کیوں؟ Muslim Downfall

موجودہ دور میں پوری دنیا میں مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے اور یہ ظلم کرنے والے غیر مسلم اور مسلمان بھی ہیں، بلاشبہ یہ سوال آج کل تقریباً ہر دین دار مسلمان کی زبان پر ہے اور اس کے دل و دماغ کو پریشان کئے ہوئے ہے کہ : مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کی مدد کیوں نہیں آتی؟ اور اسے سمجھ نہیں آتا کہ اگر مسلمان حق پر ہیں اور یقینا حق پر ہیں، تو ان کی مدد کیوں نہیں کی جاتی اور ان کے اعداء و مخالفین یہود و نصاریٰ اور کفار و مشرکین، جو یقینا باطل پر ہیں، کے خلاف اللہ تعالیٰ کا جوش انتقام حرکت میں کیوں نہیں آتا؟

اور ان کو تہس نہس کیوں نہیں کردیا جاتا؟

کفار و مشرکین اور یہود و نصاریٰ کو مسلمانوں پر فوقیت و برتری کیونکر حاصل ہے؟

اسلام کے دشمنوں کو اس قدر ڈھیل کیوں دی جارہی ہے؟

اس کے برعکس مسلمانوں کو روزبروز ذلت و ادبار کا سامنا کیونکر ہے؟

Everything that happens in this world is controlled by the well-known Laws of Nature. The same is true of the rise and fall of a nation. The Quran in one of its chapters gives substance to this law thus: “God does not change the condition of a people’s lot, unless they change what is in their hearts. (13:11)… Keep reading … [……..]

اقوام کے عروج و زوال کا قانون اور قرآن

یہ سوالات معقول اور بجا ہیں ، کیونکہ اس وقت دنیا بھر میں مسلمانوں پر جس قدر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں اور مسلمان جس قدر ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں، شاید ہی کسی دوسری قوم پر کبھی ایسا وقت آیا ہو؟

اس سب کے باوجود مسلمانوں کے حق میں اللہ کی مدد کا نہ آنا،واقعی قابل تشویش ہے،اور تمام مسلمان اس تشویش میں مبتلا ہیں۔ دو امور اہم  ہیں:

(١) تمام مسلمان عموماً اللہ تعالیٰ کی مدد سے کیوں محروم ہیں؟

(٢) خاص طور پر وہ نیک صالح مسلمان، جو واقعی اللہ تعالیٰ کے دین کے محافظ ہیں، ان پر مصائب و بلایا کے پہاڑ کیوں توڑے جارہے ہیں ؟ ان کے حق میں اللہ کی مدد آنے میں تاخیر کیوں ہورہی ہے؟ اور ان کے دشمنوں کو اس قدر ڈھیل کیوں دی جارہی ہے؟

اول: سب سے پہلے یہ کہ تمام مسلمان اللہ کی مدد سے کیوں محروم ہیں؟

مولانا سعید احمد جلال پوری‏ صاحب نے خالص روایتی، مذہبی روحانی انداز میں ان سوالات کے جواب دینے کی کوشش کی ہے، جو اپنی جگہ درست ہے اور پیش خدمت ہے – آخر میں جو کچھ مزید وجوہات بھی کمنٹس میں پیش ہیں-علامہ اقبال کی مشھور نظمیں “شکوہ ” اور “جواب شکوہ” کا موضوع  بھی یہی ہے-  

اس سلسلہ میں دوسری قابل غور وجوہ:

۱:- اس وقت مسلمان من حیث القوم مجموعی اعتبار سے تقریباً بدعملی کا شکار ہوچکے ہیں۔

۲:- اس وقت مسلمانوں میں ذوقِ عبادت اور شوقِ شہادت کا فقدان ہے، بلکہ مسلمان بھی … الا ماشاء اللہ … کفار و مشرکین کی طرح موت سے ڈرنے لگے ہیں۔

۳:- اس وقت تقریباً مسلمانوں کو دین، مذہب، ایمان، عقیدہ سے زیادہ اپنی، اپنی اولاد اور اپنے خاندان کی دنیاوی راحت و آرام کی فکر ہے۔

۴:- آج کل مسلمان…الا ماشاء اللہ…موت، مابعد الموت، قبر، حشر، آخرت، جہنم اور جنت کی فکر و احساس سے بے نیاز ہوچکے ہیں اور انہوں نے کافر اقوام کی طرح اپنی کامیابی و ناکامی کا مدار دنیا اور دنیاوی اسباب و ذرائع کو بنالیا ہے، اس لئے تقریباََ سب ہی اس کے حصول و تحصیل کے لئے دیوانہ وار دوڑ رہے ہیں۔

۵:- اس وقت …الا ماشاء اللہ… مسلمانوں کا اللہ تعالیٰ کی ذات پر اعتماد، بھروسہ اور توکل نہیں رہا، اس لئے وہ دنیا اور دنیاوی اسباب و وسائل کو سب کچھ باور کرنے لگے ہیں۔

۶:- جب سے مسلمانوں کا اللہ کی ذات سے رشتہ عبدیت کمزور ہوا ہے، انہوں نے عبادات و اعمال کے علاوہ قریب قریب سب ہی کچھ چھوڑ دیا ہے، حتی کہ بارگاہ الٰہی میں رونا، بلبلانا اور دعائیں مانگنا بھی چھوڑ دیا ہے۔

۷:- جس طرح کفر و شرک کے معاشرہ اور بے خدا قوموں میں بدکرداری، بدکاری، چوری، ڈکیتی، شراب نوشی، حرام کاری ، حرام خوری، جبر ، تشدد، ظلم اور ستم کا دور دورہ ہے، ٹھیک اسی طرح نام نہاد مسلمان بھی ان برائیوں کی دلدل میں سرتاپا غرق ہیں۔

۸:- معدودے چند، اللہ کے جو بندے، اس غلاظت کدہ میں نور کی کرن اور امید کی روشنی ثابت ہوسکتے تھے، ان پر اللہ کی زمین تنگ کردی گئی، چنانچہ آپ دیکھتے ہیں کہ جو مسلمان قرآن و سنت، دین و مذہب کی پاسداری اور اسوئہ نبوت کی راہ نمائی میں زندگی گزارنا چاہتے تھے، انہیں تشدد پسند، دہشت گرد، رجعت پسنداورملک و ملت کے دشمن وغیرہ کہہ کر ٹھکانے لگادیا گیا۔

۹:- نام نہاد مسلمانوں نے کافر اقوام کے پروپیگنڈہ سے متاثر ہوکر اور ان کی ترجمانی کا فریضہ انجام دے کر دین و مذہب سے وابستگی رکھنے والے مخلصین کے خلاف ایسا طوفان بدتمیزی برپا کیا اور ان کو اس قدر مطعون و بدنام کیا کہ کوئی سیدھا سادا مسلمان، اسلام اور اسلامی شعائر کو اپناتے ہوئے بھی گھبراتا ہے۔

۱۰:- اسلام دشمن میڈیا، اخبارات، رسائل و جرائد میں اسلام اور مسلمانوں کو اس قدر خطرناک، نقصان دہ، ملک و ملت دشمن اور امن مخالف باور کرایا گیا کہ اب خود مسلمان معاشرہ ان کو اپنانے اور گلے لگانے پر آمادہ نہیں۔

۱۱:- مادیت پسندی نے نام نہاد مسلمان کو اس قدر متاثر کیا ہے کہ اب اس کو حلال و حرام کی تمیز تک نہیں رہی، چنانچہ …الا ماشاء اللہ … اب کوئی مسلمان حلال و حرام کی تمیز کرتا ہو، اس لئے مسلم معاشرہ میں بھی، سود، جوا، رشوت، لاٹری، انعامی اسکیموں کا دور دورہ ہے۔

۱۲:- جو لوگ سود خوری کے مرتکب ہوں، اللہ تعالیٰ کا ان کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ ظاہر ہے جو مسلمان سود خور ہیں، وہ اللہ تعالیٰ سے حالت جنگ میں ہیں، اور جن لوگوں سے اعلانِ جنگ ہو، کیا ان کی مدد کی جائے گی؟

۱۳:- جو معاشرہ عموماً چوری ڈکیتی، مار دھاڑ، اغوا برائے تاوان، جوئے، لاٹری، انعامی اسکیموں اور رشوت پر پل رہا ہو، اور جہاں ظلم و تشدد عروج پر ہو، جہاں کسی غریب کی عزت و ناموس اور مال و دولت محفوظ نہ ہو، وہاں اللہ کی رحمت نازل ہوگی یا اللہ کا غضب؟ پھر یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ کفر کے ساتھ حکومت چل سکتی ہے، مگر ظلم کے ساتھ نہیں چل سکتی، اس لئے کہ اللہ کی مدد مظلوم کے ساتھ ہوتی ہے۔ چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو اور ظالم چاہے مسلمان ہی کیوں نہ ہو، اللہ کی مدد سے محروم ہوتا ہے۔

۱۴:- جس قوم اور معاشرہ کی غذا، لباس، گوشت، پوست حرام مال کی پیداوار ہوں، ان کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں،جیساکہ حدیث شریف میں ہے:

”عن ابی ھریرة رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول اللّٰہ صلى الله عليه وسلم : ان اللّٰہ طیب لا یقبل الا طیباََ، وان اللّٰہ امرالموٴمنین بما امربہ المرسلین فقال: ”یاایھا الرسل کلوا من الطیبات واعملوا صالحا“ وقال تعالیٰ: ”یا ایھا الذین آمنوا کلوا من طیبات ما رزقناکم“ ثم ذکر الرجل یطیل السفر اشعث اغبر یمد یدیہ الیٰ السماء یارب، یارب، ومطعمہ حرام، ومشربہ حرام، وملبسہ حرام، وغذی بالحرام فانیٰ یستجاب لذالک، رواہ مسلم.“ (مشکوٰة،ص:۲۴۱)

ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پاک، پاکیزہ ہیں اور پاک، پاکیزہ ہی قبول فرماتے ہیں، اور بے شک اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو حکم دیا تھا، پس اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اے رسولوں کی جماعت! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ اور اعمال صالحہ کرو“ اسی طرح مومنوں سے فرمایا:

”اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں دی ہیں“ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک آدمی کا ذکر فرمایا جو طویل سفر کی وجہ سے غبار آلود اور پراگندہ بال ہے اور دونوں ہاتھ آسمان کی طرف پھیلاکر کہتا ہے: اے رب! ،اے رب! حالانکہ اس کا کھانا حرام کا، پینا حرام کا، لباس حرام کا اور اس کی غذا حرام کی ہے، تو اس کی دعا کیونکر قبول ہوگی؟“

۱۵:- بایں ہمہ وہ مقبولانِ الٰہی، جو مخلوق خدا کی اس مجبوری اور مقہوری پر کڑھتے ہیں ، روتے ہیں، بلبلاتے ہیں اور مسلمانوں کے لئے بارگاہِ الٰہی میں دعائیں کرنا چاہتے ہیں، ان کو بارگاہ الٰہی سے یہ کہہ کر روک دیا جاتا ہے کہ اپنی ذات کے لئے اور اپنی ضرورت کے لئے دعا کرو، میں قبول کروں گا لیکن عام لوگوں کے حق میں تمہاری دعا قبول نہیں کروں گا۔ چنانچہ ارشاد نبوی ہے:

”عن انس بن مالک رضي الله تعالى عنه اراہ مرفوعاََ قال: یأتی علی الناس زمان یدعوالموٴمن للجماعة فلایستجاب لہ، یقول اللّٰہ: ادعنی لنفسک ولما یحزبک من خاصة امرک فاجیبک، واما الجماعة فلا! انھم اغضبونی. وفی روایة: فانی علیھم غضبان.“ (کتاب الرقائق ص:۱۵۵،۳۸۴)

”حضرت انس رضی اللہ عنہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا کہ مومن، مسلمانوں کی جماعت کے لئے دعا کرے گا، مگر قبول نہیں کی جائے گی، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے، تو اپنی ذات کے لئے اور اپنی پیش آمدہ ضروریات کے لئے دعا کر، میں قبول کروں گا، لیکن عام لوگوں کے حق میں قبول نہیں کروں گا، اس لئے کہ انہوں نے مجھے ناراض کرلیا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ میں ان سے ناراض ہوں۔“

۱۶:- پھر یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ آسمان سے اچھے یا بُرے فیصلے اکثریت کے عمل اور بدعملی کے تناظر میں نازل ہوتے ہیں، اس لئے باآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مسلم معاشرہ کی اکثریت کے اعمال و افعال اور سیرت و کردار کا کیا حال ہے؟

کیا ایسا معاشرہ جہاں دین، دینی اقدار کا مذاق اڑایا جاتا ہو، جہاں قرآن و سنت کا انکار کیا جاتا ہو، جہاں اس میں تحریف کی جاتی ہو، جہاں ان کو من مانے مطالب ، مفاہیم اور معانی پہنائے جاتے ہوں،

جہاں حدود اللہ کا انکار کیا جاتا ہو،

جہاں سود کو حلال اور شراب کو پاک کہا جاتا ہو،

جہاں زنا کاری و بدکاری کو تحفظ ہو، جہاں ظلم و تشدد کا دور دورہ ہو،

جہاں مسلمان کہلانا دہشت گردی کی علامت ہو،

جہاں بے قصور معصوموں کو کافر اقوام کے حوالہ کیا جاتا ہو،

جہاں بدکار و مجرم معزز اور معصوم ذلیل ہوں،

جہاں توہین رسالت کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کیا جاتا ہو،

جہاں باغیانِ نبوت کو اقتدار کی چھتری مہیا ہو، جہاں محافظین دین و شریعت کو پابند سلاسل کیا جاتا ہو،

جہاں کلمہ حق کہنے والوں کو گولیوں سے چھلنی کیا جاتا ہو،

جہاں کافر اقوام کی کاسہ لیسی کی جاتی ہو،

جہاں یہود و نصاریٰ کی خوشنودی کے لئے مسلم ممالک پر اسلام دشمنوں کی چڑھائی کو سند جواز مہیا کی جاتی ہو،

جہاں تاتاری اور نازی مظالم کی داستانیں دہرائی جاتی ہوں، جہاں دین دار طبقہ اور علماء و صلحاء پر زمین تنگ کی جاتی ہو،

جہاں اغیار کی خوشنودی کے لئے اپنے شہریوں کے خلاف آپریشن کلین اپ کئے جاتے ہوں،

جہاں ہزاروں ،لاکھوں مسلمانوں کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور کیا جاتا ہو،

جہاں دین و شریعت کا نام لینا جرم اور عریانی فحاشی کی سرپرستی کی جاتی ہو،

جہاں عریانی و فحاشی کو روشن خیالی و اعتدال پسندی کا نام دیا جاتا ہو،

جہاں عوام نانِ شبینہ کے محتاج ہوں اور اربابِ اقتدار ۲۰/۲۰ لاکھ روپے ایک رات ہوٹل کے قیام کا کرایہ ادا کرتے ہوں،

جہاں اپنے اقتدار اور حکومت کے تحفظ کے لئے دین و مذہب اور شرم و حیاء کی تمام حدود کو پھلانگا جاتا ہو، وہاں اللہ کی رحمت نازل ہوگی؟ یا اللہ کا عذاب و عقاب؟؟؟

بلاشبہ آج کا دور دجالی فتنے اور نئے نئے نظریات کا دور ہے، زمانہ بوڑھا ہوچکا ، ہم جنس پرستی کو قانونی جواز حاصل ہوچکا، ناچ گانے کی محفلیں عام ہوچکیں، دیکھا جائے تو یہ قرب قیامت کا وقت ہے، اس وقت مسلمانوں سے اللہ کی حفاظت و مدد اٹھ چکی ہے، مسلمانوں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں، سچی بات یہ ہے کہ یہ اللہ کی ناراضگی، ظاہر داری، چاپلوسی، انانیت، خود پسندی اور امت کے زوال کا وقت ہے، فتنہ و فساد عروج پر ہیں، خیر سے محروم لوگوں کی کثرت ہے اور خدا کی لعنت و غضب کا وقت ہے، اور یہود و نصاریٰ کی نقالی کامیابی کی معراج شمار ہونے لگی ہے۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایسے لوگوں اور معاشرہ کی اللہ تعالیٰ کے ہاں کیا قدر و قیمت ہوسکتی ہے؟ چنانچہ ایسے ہی دور کے لوگوں کے بارے میں حدیث شریف میں ہے کہ :

”عن مرداس الاسلمی رضي الله تعالى عنه قال النبی صلى الله عليه وسلم: یذھب الصالحون الاول فالاول، وتبقیٰ حفالة کحفالة الشعیر اوالتمر لایبالیھم اللّٰہ بالة.“ (صحیح بخاری کتاب الرقائق، ص:۹۵۲، ج:۲)

ترجمہ: ”حضرت مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: نیک لوگ یکے بعد دیگرے رخصت ہوتے جائیں گے، جیسے چھٹائی کے بعد ردی جو یا کھجوریں باقی رہ جاتی ہیں، ایسے ناکارہ لوگ رہ جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا۔“

۱۷:- اس کے علاوہ یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ: مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی مدد کا وعدہ ضرور ہے لیکن ساتھ ہی اللہ کی مدد آنے کے لئے یہ شرط بھی ہے کہ:

  ”یاایھا الذین آمنوا ان تنصروا اللّٰہ ینصرکم ویثبت اقدامکم“ (محمد:۷)

ترجمہ: ”اگر تم اللہ کے دین کی مدد کروگے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کریں گے، اور تمہارے قدموں کو ثابت کریں گے۔“

لہٰذا جب سے مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد چھوڑ دی ہے، اللہ تعالیٰ نے بھی مسلمانوں سے اپنی رحمت و عنایت اور مدد کا ہاتھ اٹھالیا ہے، چنانچہ آج ہر طرف مسلمانوں پر کافر اس طرح ٹوٹ رہے ہیں جس طرح دسترخوان پر چنے ہوئے کھانے پر لوگ ٹوٹتے ہیں۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے:

”عن ثوبان رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول اللّٰہ صلى الله عليه وسلم : یوشک الامم ان تداعیٰ علیکم کما تداعیٰ الآکلة الیٰ قصعتھا، فقال قائل: ومن قلة نحن یومئذٍ؟ قال: بل انتم یومئذٍ کثیر! ولکنکم غثاء کغثاء السیل، ولینزعن اللّٰہ من صدورعدوکم المھابة منکم، ولیقذفن اللّٰہ فی قلوبکم الوھن! فقال قائل: یارسول اللّٰہ! وما الوھن؟ قال: حب الدنیا وکراھیة الموت!“ (ابوداؤد ص:۵۹)

”حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ وقت قریب آتا ہے، جب تمام کافر قومیں تمہارے مٹانے کے لئے… مل کر سازشیں کریں گی … اور ایک دوسرے کو اس طرح بلائیں گی جیسے دسترخوان پر کھانا کھانے والے … لذیذ … کھانے کی طرف ایک دوسرے کو بلاتے ہیں، کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہماری قلت تعداد کی وجہ سے ہمارا یہ حال ہوگا؟ فرمایا: نہیں! بلکہ تم اس وقت تعداد میں بہت ہوگے، البتہ تم سیلاب کی جھاگ کی طرح ناکارہ ہوگے، یقینا اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے دل سے تمہارا رعب اور دبدبہ نکال دیں گے، اور تمہارے دلوں میں بزدلی ڈال دیں گے، کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بزدلی سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: دنیا کی محبت اور موت سے نفرت۔“  (ابوداؤد ص:۵۹)
       
بتلایا جائے جس معاشرہ کا یہ حال ہو، اور جن مسلمانوں کے اعمال و اخلاق کا یہ منظر نامہ ہو، وہاں اللہ کی مدد آئے گی یا اللہ کا عذاب؟


………………………..

دوم : رہی یہ بات کہ کفار و مشرکین اور اغیار کے مظالم کا شکار صرف اور صرف دین دار مسلمان ہی کیوں ہیں؟

اگر بدکردار مسلمانوں اور اربابِ اقتدار نے اللہ کو ناراض کر رکھا ہے تو ان کی سزا ان نہتے معصوموں کو کیوں دی جاتی ہے؟

اور ان کے حق میں اللہ تعالیٰ کی مدد کیوں نہیں آتی؟

چاہئے تو یہ تھا کہ جرم و سزا کے فلسفہ کے تحت سزا بھی ان ہی لوگوں کو دی جاتی ،جنہوں نے اللہ کو ناراض کررکھا ہے، مگر اس کے برعکس ہو یہ رہا ہے کہ نیک صالح مسلمان، اور دین و مذہب کے متوالے ،کفار کے مظالم کی تلوار سے ذبح ہورہے ہیں، ان کو بے نام کیا جارہا ہے، ان کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہے، ان کی جان و مال اور عزت و ناموس برباد کی جارہی ہے، ان پر اللہ کی زمین تنگ کی جارہی ہے، اپنے اور پرائے سب ہی ان کے دشمن اور ان کی جان کے پیاسے ہیں، کوئی بھی ان کے لئے کلمہ خیر کہنے کا روادار نہیں ہے، بلکہ ان پر ہر طرف سے آگ و آہن کی بارش اور بارود کی یلغار ہے، آخر ایسا کیوں ہے؟؟

اسی طرح ارشاد الٰہی :”الا ان نصراللّٰہ قریب“ … بے شک اللہ کی مدد قریب ہے… کا وعدہ کب پورا ہوگا؟

اس سلسلہ میں بھی چند معروضات پیش ہیںا:

۱:- دنیا باخدا مسلمانوں کے لئے قید خانہ اور کفار و مشرکین کے لئے جنت ہے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے:

”عن ابی ہریرة رضی اللّٰہ عنہ قال، قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ”الدنیا سجن المؤمن وجنة الکافر“ (ترمذی ص:۵۶ ج:۲)

ترجمہ: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: “دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے اور کافر کے لئے جنت ہے۔“

یعنی دنیا میں عموماً کافر کی نسبت، ایک مومن کو آفات و مصائب کا سامنا زیادہ کرنا پڑتا ہے، جس کا معنی یہ ہے کہ کافر کی دنیاوی کروفر اور راحت و آرام اور مومن کی تکلیف و تعذیب کو دیکھ کر پریشان نہیں ہونا چاہئے، بلکہ مومن کی دنیا کی تکلیف و تعذیب اور مصائب و آلام کا، اس کی جنت کے ساتھ اور کافر کی ظاہری کروفر، خوش عیشی اور راحت و آرام کا اس کی جہنم کے ساتھ مقابلہ کیا جائے تو سمجھ میں آجائے گا کہ جس طرح کافر کی دنیاوی راحت و آسائش کی، اس کی جہنم کی سزا کے مقابلہ میں کچھ حیثیت نہیں، اسی طرح مسلمان کی دنیا کی عارضی تکالیف و مشکلات اس کی جنت اور آخرت کی راحت و آرام کے مقابلہ میں کچھ حیثیت نہیں رکھتیں۔

۲:- دنیا دارالعمل اور آخرت دارالجزا ہے اور ظاہر ہے جو شخص عملی میدان میں جتنا محنت و مشقت اور جہد و مجاہدہ برداشت کرے گا، بعد میں اسی تناسب سے اسے راحت و آرام میسر آئیگا اور جو شخص میدانِ عمل میں جتنا کوتاہی کرے گا، بعد میں اسی تناسب سے اُسے ذلت و رسوائی اور فضیحت و شرمندگی کا سامنا کرنا ہوگا، ٹھیک اسی طرح مقربین بارگاہِ خداوندی کو بھی آخرت کی کھیتی یعنی دنیا میں جہد مسلسل اور محنت و مشقت کا سامنا ہے، مگر عاقبت و انجام کے اعتبار سے جلد یا بدیر راحت و آرام ان کا مقدر ہوگا، دوسری طرف کافر اگرچہ یہاں ہر طرح کی راحت و آرام سے سرفراز ہیں، مگر مرنے کے ساتھ ہی عذاب جہنم کی شکل میں ان کی راحت و آرام اور ظلم و عدوان کا ثمرہ ان کے سامنے آجائے گا۔

۳:- کسی مسلمان کی تخلیق کا مقصد دنیا اور اس کی راحتوں کا حصول نہیں، بلکہ مسلمان کو جنت اور جنت کی لازوال و ابدی نعمتوں کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور جنت کا حصول کچھ آسان نہیں، بلکہ جنت کے سامنے یا اردگرد مشکلات و مصائب کی باڑھ لگائی گئی ہے اور دوزخ کے اردگرد خواہشات کی باڑھ کی گئی ہے، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:

”عن انس رضی اللّٰہ عنہ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: حفت الجنة بالمکارہ وحفت النار بالشہوات.“ (ترمذی ص:۸۰ج:۲)

ترجمہ: ”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جنت کے گرد ناگواریوں اورمشقتوں کی باڑھ کی گئی ہے، اور دوزخ کے گرد خواہشات کی باڑھ کی گئی ہے۔“

اس لئے کسی نیک صالح مسلمان کا دنیا میں مشکلات و مصائب اور مکروہات سے دوچار ہونا دراصل حصولِ جنت میں کامیابی کی نشانی ہے، اور کفار و مشرکین اور معاندین کیلئے دنیاوی راحت و آرام یا خواہشات نفسانیہ کا مہیا ہونا ان کے عذابِ نار و سقر سے دوچار ہونے کی علامت ہے۔

۴:- بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آخرت کے عذاب سے بچانے کے لئے دنیا ہی میں انہیں مصائب و تکالیف میں مبتلا فرماتے ہیں‘ تاکہ اس کی کمی کوتاہیوں کا معاملہ یہیں نمٹ جائے اور آخرت میں ان کو کسی عذاب سے دوچار نہ ہونا پڑے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے:

”عن انس رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اذا اراد اللّٰہ بعبدہ الخیر عجل لہ العقوبة فی الدنیا، واذا اراد اللّٰہ بعبدہ الشر امسک عنہ بذنبہ حتی یوافی بہ یوم القیامة.

وبہٰذا الاسناد عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ان عظم الجزاء مع عظم البلأ، وان اللّٰہ اذا احب قوماً ابتلاہم، فمن رضی فلہ الرضا ومن سخط فلہ السخط.“ (ترمذی،ج:۲)

ترجمہ: ”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں، تو دنیا میں ہی اس کو فوری سزا دے دیتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ شر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کے گناہ کی سزا موخر کردیتے ہیں، یہاں تک کہ قیامت کے دن اس کو پوری سزا دیں گے۔

نیز آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ بندے کو جتنا بڑا ابتلاء پیش آئے، اتنی بڑی جزا اس کو ملتی ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت فرماتے ہیں تو اسے … مصائب و آلام سے … آزماتے ہیں، پس جو شخص… ہر حالت میں ا للہ تعالیٰ سے … راضی رہا، اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ہے اور جو شخص ناراض ہوا اس کے لئے ناراضی ہے۔“

اس حدیث کی تشریح میں حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمة الله عليه لکھتے ہیں:

” اس حدیث میں دو مضمون ارشاد ہوئے، ایک یہ کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی سزا دنیا ہی میں دے دیتے ہیں، اس کی سزا کو آخرت پر نہیں اٹھا رکھتے، بلکہ مختلف مصائب میں اس کو مبتلا کرکے پاک و صاف کردیتے ہیں۔ چنانچہ اگر اس کو کانٹابھی چبھتا ہے تو وہ بھی اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے، اور اگر لکھنے والے کے ہاتھ سے قلم گر جاتا ہے تو وہ بھی اس کے لئے کفارہ بن جاتا ہے۔ اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ کسی بندئہ مومن کو کوئی تکلیف اور صدمہ یا پریشانی پیش آئے اسے اپنے گناہوں کا خمیازہ سمجھنا چاہئے۔ دوسری یہ کہ بندئہ مومن کا مصائب و آلام میں مبتلا ہونا اس کے مردود ہونے کی علامت نہیں، بلکہ اس کے ساتھ حق تعالیٰ شانہ کا لطف و انعام ہے کہ حق تعالیٰ شانہ نے اس کے گناہوں کے کفارہ کا دنیا ہی میں انتظام فرمادیا۔

اس کے برعکس جس بندے کے ساتھ شر کا ارادہ فرماتے ہیں اسے گناہوں کے باوجود ڈھیل اور مہلت دیتے ہیں، وہ احمق یہ سمجھتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں بہت معزز ہے حالانکہ اس کے ساتھ مکرو استدراج کا معاملہ ہورہا ہے کہ اس کی معصیتوں اور نافرمانیوں کے باوجود اسے ڈھیل دی جارہی ہے، اور قیامت کے دن جب بارگاہِ خداوندی میں پیش ہوگا، اسے اس کی بدعملیوں کا پورا پورا بدلہ چکا دیا جائے گا، الا یہ کہ حق تعالیٰ شانہ محض اپنے فضل و احسان سے عفو و درگزر کا معاملہ فرمائے … بشرطیکہ وہ مسلمان ہو کیونکہ کفر و شرک کی معافی نہیں ہے … ناقل۔

اس حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کبھی حق تعالیٰ شانہ کا لطف قہر کی شکل میں ہوتا ہے اور کبھی قہر لطف کی شکل میں، اس نکتہ کو حضرات عارفین خوب سمجھتے ہیں، ور نہ عام لوگوں کی نظر اس پر نہیں جاتی۔“ (دنیا کی حقیقت ص:۱۹۷، ۱۹۸، ج:۱)

۵:- دنیا کا اصول ہے کہ جس سے زیادہ تعلق خاطر ہو یا جس کو کسی لائق بنانا ہو، اس کو کڑی آزمائش و امتحان سے گزارا جاتا ہے، اور اس کی چھوٹی چھوٹی حرکت و سکون پر گرفت کی جاتی ہے، چنانچہ اسی موقع پر فرمایا گیا ہے کہ: ”حسنات الابرار سیئات المقربین“ … ابرار کی نیکیاں مقربین کی سیئات شمار ہوتی ہیں … یعنی مقربین کا مقام اتنا اونچا ہے کہ جو کام ابرار کریں اور وہ نیکی کہلائے، اگر وہی کام مقربین کریں تو ان کے درجہ کے اعتبار سے وہ بھی سیئہ اور گناہ شمار ہوتا ہے، گویا نیک و صالح مسلمان درجہ قرب الٰہی پر فائز ہیں اور ان کو آخرت میں جن مراتب ِ عالیہ سے سرفراز کرنا ہے، دنیاوی تکالیف و مشکلات کی بھٹی میں ڈال کر ان کو کندن بنانے کی سعی کی جارہی ہے۔

۶:- جس کا جتنا اللہ تعالیٰ سے قرب ہوگا اس کو اسی تناسب سے مصائب و بلایا اور شدائد و محن سے دوچار کیا جائے گا، چنانچہ حدیث شریف میں ہے:

”عن مصعب بن سعد عن ابیہ قال قلت، یا رسول اللّٰہ! ای الناس اشد بلاءً؟ قال: الانبیأ ثم الأمثل فالأمثل، فیتبلیٰ الرجل علیٰ حسب دینہ فان کان فی دینہ صلباً اشتد بلائہ، وان کان فی دینہ رقة ابتلی علی حسب دینہ، فما یبرح البلاء بالعبد حتی یترکہ یمشی علی الارض وما علیہ خطیئة.“ (ترمذی، ج:۲، ص:۶۲)

ترجمہ: ”حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سب سے زیادہ آزمائش کس کی ہوتی ہے؟ فرمایا: انبیاء علیہم السلام کی، پھر جو ان سے قریب تر ہو، پھر جو ان سے قریب تر ہو، آدمی کو اس کے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے، پس اگر وہ اپنے دین میں پختہ ہو تو اس کی آزمائش بھی کڑی ہوتی ہے، اگر اس کے دین میں کمزوری ہو تو اسے اس کے دین کی بقدر آزمائش میں ڈالا جاتا ہے، پس آزمائش بندے کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہے، یہاں تک کہ اس کو ایسا کرکے چھوڑتی ہے کہ وہ زمین پر ایسی حالت میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں رہتا۔“

اس لئے موجودہ کیا، ہمیشہ سے مصائب و مشکلات اور شدائد و محن اللہ کے مقربین کا طرئہ امتیاز رہا ہے۔

۷:- بعض اوقات مقربین بارگاہِ الٰہی کے پیمانہٴ خلوص، اخلاص، صبر، تحمل، تسلیم ، رضا، عزم، ہمت، دینی پختگی اور تصلّب کو ناپنے کیلئے ان پر امتحانات و آزمائشیں آتی ہیں، جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے:

الف:- ”ولنبلونکم بشئی من الخوف والجوع ونقص من الاموال والأنفس والثمرات، وبشر الصابرین، الذین اذا اصابتہم مصیبة قالوا اناللّٰہ وانا الیہ راجعون.“ (البقرہ: ۱۵۵)

ترجمہ: ”اور ہم تمہارا امتحان کریں گے کسی قدر خوف سے اور فاقہ سے اور مال اور جان اور پھلوں کی کمی سے ۔اور آپ ایسے صابرین کو بشارت سنادیجئے کہ ان پر جب کوئی مصیبت پڑتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہیں اور ہم سب اللہ تعالیٰ کے پاس جانے والے ہیں۔“

ب:- ”الٓمٓ، احسب النّاس ان یترکوا ان یقولوا آمنّا وہم لایفتنون، ولقد فتنّا الّذین من قبلہم فلیعلمنّ اللّٰہ الّذین صدقوا ولیعلمنّ الکٰذبین۔“ (عنکبوت: ۱،۲،۳)

”کیا یہ سمجھتے ہیں لوگ، کہ چھوٹ جائیں گے اتنا کہہ کر کہ ہم یقین لائے اور ان کو جانچ نہ لیں گے، اور ہم نے جانچا ہے ان کو جو ان سے پہلے تھے، سو البتہ معلوم کرے گا اللہ جو لوگ سچے ہیں اور البتہ معلوم کرے گا جھوٹوں کو۔“

ج:- ”عن خباب بن الارت قال: شکونا الی النّبی صلّی اللّٰہ علیہ وسلم وہو متوسّد بردةً لہ فی ظلّ الکعبة فقلنا: الا تستنصرلنا، الا تدعو اللّٰہ لنا؟ قال کان الرّجل فی من قبلکم یحفرلہ فی الارض فیجعل فیہا فیجاء بالمنشار فیوضع علٰی رأسہ فیشق باثنین وما یصدّہ عن دینہ، ویمشط بامشاط الحدید مادون لحمہ من عظم او عصب وما یصدہ ذلک عن دینہ …“ (صحیح بخاری، ص:۵۱۰، ج:۱)

ترجمہ: ”حضرت خباب بن الارت رضي الله تعالى عنه سے روایت ہے کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم بیت اللہ کے سائے میں اپنی چادر سے ٹیک لگاکر تشریف فرما تھے، کہ ہم نے آپ سے … کفار کے مظالم کی شکایت کرتے ہوئے … عرض کیا، یا رسول اللہ! آپ ہمارے لئے اللہ سے مدد اور دعا کیوں نہیں مانگتے؟… آپ یہ سن کر ایک دم سیدھے ہوکر بیٹھ گئے … اور فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص کے لئے گڑھا کھودا جاتا، اسے اس میں کھڑا کیا جاتا اور اس کے سر پر آری چلاکر اسے چیر کر دو ٹکڑے کردیا جاتا، مگر یہ سب کچھ اس کو اس کے دین سے نہ ہٹاسکا، اسی طرح کسی کے جسم پر لوہے کی کنگھی چلاکر اس کا گوشت اور پٹھے اس کی ہڈیوں سے اُدھیڑ دیئے جاتے، مگر یہ سب کچھ اس کو اس کے دین سے نہیں ہٹاسکتا۔“

گویا ان حضرات کو اپنے دین و مذہب کی خاطر اس قدر اذیتیں دی گئیں اور انہوں نے اس پر صبر و برداشت کیا تو تمہیں بھی ان معمولی تکالیف پر حوصلہ نہیں ہارنا چاہئے بلکہ صبر و برداشت سے کام لینا چاہئے اور اللہ کی نصرت و مدد پر نگاہ رکھنی چاہئے جلد یا بدیر اللہ کی مدد آکر رہے گی۔

۸:- اللہ تعالیٰ دنیا میں اپنے مقربین کو تکالیف و مصائب سے دوچار کرکے دراصل ان کی نیکیوں اور اعمالِ حسنہ کا پورا پورا بدلہ اور جزا دنیا کے بجائے آخرت میں دینا چاہتے ہیں، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:

”یود اہل العافیة یوم القیامة حین یعطی اہل البلاء الثواب لو ان جلودہم کانت قرضت فی الدنیا بالمقاریض.“ (ترمذی ص:۶۳ ج:۲)

ترجمہ: ”قیامت کے دن جب اہل ِ مصائب کو بدلہ عطا کیا جائے گا تو اہل عافیت … جو ان مصیبتوں سے محفوظ رہے… یہ آرزو کریں گے کہ کاش! دنیا میں ان کے چمڑے قینچیوں سے کاٹ دیئے جاتے۔“

۹:- بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد اور نصرت پر قادر ہے، وہ چاہے تو کسی عام مظلوم کی مدد کے لئے آسمان سے فرشتے نازل کرسکتا ہے اور نہ چاہے تو بنی اسرائیل جیسی ناہنجار قوم کے ہاتھوں اپنے مقرب و مقدس انبیاء علیہم السلام کو جامِ شہادت نوش کرادے، مگر بایں ہمہ خدا پرست اور اہلِ حق نہ دل چھوٹا کرتے ہیں اور نہ مایوس و بزدل ہوتے ہیں؟ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے: .

الف:- ”ویقتلون النبیین بغیر الحق“ (البقرہ:۶۱)… اور وہ بنی اسرائیل… خون کرتے تھے پیغمبروں کا ناحق…

ب:- ”ویقتلون الانبیاء بغیر حق، ذالک بما عصوا وکانوا یعتدون“ (آل عمران:۱۱۲)… اور قتل کرتے رہے ہیں پیغمبروں کا ناحق، یہ اس واسطے کہ نافرمانی کی انہوں نے اور حد سے نکل گئے…

ج:- ”وکأیّن من نّبی قٰتل معہ ربیّون کثیر فما وہنوا لما اصابہم فی سبیل اللّٰہ وما ضعفوا وما استکانوا واللّٰہ یحبُّ الصّابرین.“ (آل عمران: ۱۴۶)

ترجمہ: ”اور بہت نبی ہیں جن کے ساتھ ہوکر لڑتے ہیں بہت خداکے طالب، پھر نہ ہارے ہیں کچھ تکلیف پہنچنے سے، اللہ کی راہ میں اور نہ سست ہوئے ہیں اور نہ دب گئے ہیں اور اللہ محبت کرتا ہے ثابت قدم رہنے والوں سے۔ “

۱۰:- ضروری نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مدد فوراً آجائے، بلکہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی مدد و نصرت میں بھی اتنی تاخیر فرماسکتے ہیں کہ وہ مایوسی کے قریب ہوجائیں، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:

الف:- ”حتی اذا استیئس الرسل وظنوا انہم قد کذبوا جاء ہم نصرنا فنجی من نشاء ولا یرد بأسنا عن القوم المجرمین.“ (یوسف:۱۱۰)

ترجمہ: ”یہاں تک کہ پیغمبر…اس بات سے…مایوس ہوگئے اور ان پیغمبروں کو گمان غالب ہوگیا کہ ہمارے فہم نے غلطی کی، ان کو ہماری مدد پہنچی، پھر… اس عذاب سے … ہم نے جس کو چاہا وہ بچالیا گیا اور ہمارا عذاب مجرم لوگوں سے نہیں ہٹتا۔“

ب:- ”ام حسبتم ان تدخلوا الجنّة ولمّا یأتکم مثل الّذین خلوا من قبلکم مسّتہم البأساء والضّرّاء وزلزلوا حتی یقول الرسول والذین آمنوا معہ متیٰ نصر اللہ، الا ان نصراللّٰہ قریب.“ (البقرہ: ۲۱۴)

ترجمہ: ”کیا تم کو یہ خیال ہے کہ جنت چلے جاؤگے حالانکہ تم پر نہیں گزرے حالات ان لوگوں جیسے جو ہوچکے تم سے پہلے کہ پہنچی ان کو سختی اور تکلیف اور جھڑ جھڑائے گئے، یہاں تک کہ کہنے لگا رسول اور جو اس کے ساتھ ایمان لائے کب آوے گی اللہ کی مدد؟ سن رکھو اللہ کی مدد قریب ہے۔“

اس سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ کفار و مشرکین کے مقابلہ میں نیک و صالح مسلمانوں کے لئے فوراً نصرت الٰہی کا آنا کوئی ضروری نہیں، اس کے علاوہ مدد و نصرت الٰہی میں تاخیر کا ہوجانا جہاں کفار و مشرکین اور ان کے موقف کی صداقت کی دلیل نہیں، وہاں نیک صالح اور متقین و مومنین کے بارگاہِ الٰہی میں مبغوض و مقہور ہونے کی علامت بھی نہیں، کیونکہ دورِ حاضر کے نیک و صالح مومنین و متقین، اپنی جگہ کتنا ہی مقرب بارگاہ الٰہی کیوں نہ ہوں، بہرحال وہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے مرتبہ و مقام کو نہیں پہنچ سکتے، لہٰذا اگر حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی مدد و نصرت میں تاخیر ہوسکتی ہے تو دورِ حاضر کے نیک صالح مومنین و مجاہدین کی مدد میں تاخیر کیوں نہیں ہوسکتی؟

۱۱:- اس سب سے ہٹ کر سچی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ موجودہ صورت حال میں جہاں اہل ِ ایمان کو مصائب و آلام سے دوچار کرکے ان کے درجات بلند کرنا چاہتے ہیں، وہاں ان بدباطن کفار و مشرکین اور نام نہاد مسلمانوں پر اتمام حجت کرنا چاہتے ہیں، تاکہ کل قیامت کے دن وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمیں غوروفکر کی مہلت اور صحیح صورتِ حال کا اندازہ نہیں ہوسکا تھا۔

الغرض موجودہ صورت حال سے جہاں نیک صالح لوگوں اور مقربین بارگاہِ الٰہی کے درجات بلند ہورہے ہیں، وہاں ان بدباطنوں کو ڈھیل دی جارہی ہے، چنانچہ ارشاد الٰہی ہے: ”واملی لہم ان کیدی متین“ (القلم:۴۵) … اور میں ان کو ڈھیل دیتا ہوں مگر میری تدبیر غالب ہے، اسی طرح: ”وانتظروا انا منتظرون“ (ھود:۱۲۲)… تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی انتظار کررہے ہیں… مرنے کے بعد معلوم ہوگا کہ کون فائدہ میں تھا اور کون نقصان میں؟؟

فسوف تریٰ اذا انکشف الغبار … اتحت رجلک فرس ام حمار ….. وصلی اللّٰہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد والہ واصحابہ اجمعین

ماخوز از :نصرت الٰہی سے محرومی کے اسباب!” [ترمیم شدہ ]
از: مولانا سعید احمد جلال پوری‏، مدیر ماہنامہ بینات جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن‏، کراچی
…………………………..

کمنٹس :

مولانا سعید احمد جلال پوری‏ صاحب نے خالص روایتی، مذہبی روحانی انداز میں ان سوالات کے جواب دینے کی کوشش کی ہے، جو اپنی جگہ درست ہے، لیکن وہ علماء کی اکثریت کی طرح یہ نظر انداز کر گئے کہ مذھب سے دوری کے ساتھ ساتھ  مسلمان دنیاوی علوم اور سائنس کی  جدید تعلیم کے حصول میں پیچھے رہ گئے ہیں، جبکہ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان دینی اور دنیا وی سائنس اور دوسرے علوم میں اقوام میں اگے تھے .. بلکہ مسلم اسپین یورپ کی موجودہ ترقی کا زریعہ بنا تھا-  کچھ لوگوں کا تعلیم و تبلیغ کی بجاے تشدد اور جنگجو رویہ دہشت گردی اور تباہی کا سبب بن گیا- علماء اپنا اصل کام چھوڑ کر دنیوی طاقت اور تشدد میں پڑ کر مسلمانوں کی تباہی میں شامل ہو گیے – فرقہ واریت اور عدم تشدد اور برداشت کی کمی ، مسلمانوں میں نفاق اور کمزوری کا دشمن فائدہ اٹھاتے ہیں- شام ، عراق ، یمن ، افغانستان ، لیبیا سامنے ہیں-

یہ دور تعلیم ، علم ، سائنسی ترقی اور مظبوط معیشت کا ہے- صرف افرادی طاقت اور فوج سے ملک فتح نہیں کیے جا سکتے ، اب ٹیکنالوجی اور مظبوط معیشت سے اقوام دوسروی اقوام کو اپنے زیر اثر کر لیتی ہیں- فوج اور جدید اسلحہ بھی ٹیکنولوجی اور معاشی مضبوطی کے بغیر کر آمد نہیں-

رسول الله  صلعم کی سیرت گواہ ہے کہ انہوں نے دین پر عمل کے ساتھ ساتھ دنیاوی معاملات اور قانون قدرت cause and effect کے مطابق جدوجہد کی- مدینہ کے دفاع کے لیے خندق کی کھدائی کی ، احد میں خاص مقام پر تیر انداز مقرر کیے ، مقابلہ کیا ، دانت مبارک شہید ہوا ،  میثاق حدیبیہ کیا .. حنین میں اکثریت کے باوجود مشکل اٹھائی- اپ اور صحابہ کا دینی مقام اور تقویٰ بے مثال ہے مگر دنیوی اسباب کی تکمیل کی اور پھر الله پر توکل کیا- آج کے مسلمان ایمان کے درجہ میں ان کے قریب بھی نہیں ، دین سے دور ہیں ، اسباب کی کوشش کے بغیر صرف الله کی مدد کی توقع کرتے ہیں؟

“حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی اور جب اللہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کر لے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی، نہ اللہ کے مقابلے میں ایسی قوم کا کوئی حامی و مدد گار ہو سکتا ہے”(13:11قرآن )

ضروری ہے کہ آج کے مسلمان ، قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ  اسلامی تاریخ کا بغور مطالعہ کریں ، اسباب دنیا کو مکمل کریں اور پھر الله پر بھروسہ کریں ، وہ ضرور مدد کرے گا …. ان شااللہ

………………….

علامہ اقبال  نے اپنی شہرہ آفاق  نظموں “شکوہ ” اور “جواب شکوہ” میں بھی موضوع  پر لکھا ہے:

“شکوہ ”  نظم  اپریل 1911ءکے جلسہ انجمن حمایت اسلام میں پڑھی گئی۔ لندن سے واپسی پر اقبال نے ریواز ہوسٹل کے صحن میں یہ نظم پڑھی۔ ”شکوہ“ اقبال کے دل کی آواز ہے اس کا موثر ہونا یقینی تھا۔ اس سے اہل دل مسلمان تڑپ اُٹھے اور انہوں نے سوچنا شروع کیا کہ مسلمانوں کے حوصلہ شکن زوال کے اسباب کیا ہیں۔ آخر اللہ کے وہ بندے جن کی ضرب شمشیر اور نعرہ تکبیر سے بڑے بڑے قہار و جبار سلاطین کے دل لرز جاتے تھے کیوں اس ذلت و رسوائی کا شکار ہوئے؟۔ یہ نظم دراصل مسلمانوں کے بے عملی، مذہب سے غفلت اور بیزاری پر طنز ہے۔ بانگ درا میں شامل کرتے وقت اقبال نے اس میں کئی مقامات پر تبدیلی کی۔ جبکہ بانگ درا میں اشاعت سے پہلے نظم مختلف رسالوں مثلاً مخزن، تمدن اور ادیب میں شائع ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ کئی زبانوں میں اس کے تراجم بھی ہو چکے ہیں۔

جرات آموز میری تاب ِ سخن ہے مجھ کو
شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو

اے خدا شکوہ اربابِ وفا بھی سن لے
خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے

اس نظم کا نام ”شکوہ“ اس لیے رکھا گیا ہے کہ موضوع کے اعتبار سے شکوہ بارگاہ الہٰی میں علامہ اقبال یا دور حاضر کے مسلمانوں کی ایک فریاد ہے۔ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ ہم تیرے نام لیوا ہونے کے باوجود دنیا میں ذلیل و خوار ہیں۔ حالانکہ ہم تیرے رسول کے نام لیوا ہیں اور اس پر طرہ یہ ہے کہ تیرے انعامات اور نوازشات کے مستحق غیر مسلم ہیں۔ گویا علامہ اقبال نے شکوہ میں عام مسلمانوں کے لاشعوری احساسات کی ترجمانی کی ہے۔ بقول سلیم احمد ،

” ایک طرف ان کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا اور اس کے محبوب کی سب سے چہیتی امت ہیں اور اس لیے خدا کی ساری نعمتوں کے سزاوار اور دوسری طرف یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ان کا مکمل زوال ہو چکا ہے عقیدے اور حقیقت کے اس ٹکرائو سے مسلمانوں کا وہ مخصوص المیہ پیدا ہوتا ہے جو ”شکوہ “ کا موضوع ہے۔“

علامہ اقبال کے اپنے الفاظ میں

” وہی بات جو لوگوں کے دلوں میں تھی ظاہر کر دی گئی“

مشکلیں امت ِمرحوم کی آساں کر دے
مورِ بے مایہ کو ھمدوش ِ سلیماں کر دے

علامہ اقبال نے ”شکوہ میں ایسا انداز اختیار کیا ہے جس میں مسلمانوں کے عظیم الشان، حوصلہ افزا اور زندہ جاوید کارنامے پیش کیے گئے۔ لہٰذا اس نظم کے پڑھنے سے حوصلہ بلند ہوتا ہے قوت عمل میں تازگی آتی ہے۔ جو ش و ہمت کو تقویت پہنچتی ہے۔ عظیم الشان کارنامے اس حسن ترتیب سے جمع کر دیے گئے ہیں کہ موجودہ پست حالی کی بجائے صرف عظمت و برتری ہی سامنے رہتی ہے۔ گویا یہ شکوہ بھی ہے اور ساتھ ہی بہترین دعوت عمل بھی۔ اس لحاظ سے اردو زبان میں یہ اپنی نوعیت کی بالکل یگانہ نظم ہے۔ بقول تاثیر”شکوہ لکھا گیا تو اس انداز پر سینکڑوں نظمیں لکھی گئیں ملائوں نے تکفیر کے فتوے لگائے اور شاعروں نے شکوہ کے جواب لکھے لیکن شکوہ کا درست جواب خود اقبال ہی نے دیا۔“

جواب شکوہ:

”شکوہ“ کے جواب میں نظمیں دیکھ کراقبال کو خود بھی دوسری نظم ”جواب شکوہ“ لکھنی پڑی جو 1913ء کے ایک جلسہ عام میں پڑھ کر سنائی گئی۔ انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں ”شکوہ “ پڑھی گئی تو وسیع پیمانے پر اس کی اشاعت ہوئی یہ بہت مقبول ہوئی لیکن کچھ حضرات اقبال سے بدظن ہو گئے اور ان کے نظریے سے اختلاف کیا۔ ان کا خیال تھا کہ ”شکوہ“ کا انداز گستاخانہ ہے۔ اس کی تلافی کے لیے اور یوں بھی شکوہ ایک طرح کا سوال تھا جس کا جواب اقبال ہی کے ذمے تھا۔ چنانچہ ڈیڑھ دو سال کے عرصے کے بعد انہوں نے ”جواب شکوہ“ لکھی۔ یہ 1913ء کے جلسے میں پڑھی گئی۔ جو نماز مغرب کے بعد بیرونی موچی دروازہ میں منعقد ہوا تھا۔

خدا کی طرف سے ”شکوہ“ کا حوالہ دے کر جواب دیا گیا ہے۔ شکوہ میں شاعر نے مسلمانوں کی بدحالی اور بے چارگی کا سبب اللہ کے مسلمانوں پر عدم لطف و کرم کو قرار دیا تھا۔ جبکہ ”جواب شکوہ“ میں اللہ اس کا جواب دیتا ہے اور فرماتے ہیں کہ ہم تو عنایت و مدارات کرنے کے لیے تیار ہیں مگر کوئی سائل ہے اور نہ ہی امید وار لطف و کرم ،ہم تو انسان کی ہر خواہش پوری کرنے کے لیے تیار ہیں اور اگر مسلمان اپنی نیت میں اخلاص اور عمل میں گہرا پن لے آئے تو خاکستر سے بھی ایک نیا جہاں پیدا ہو سکتا ہے۔

ہم تومائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے؟ رہرو منزل ہی نہیں

”شان کئی “سے مراد کیانی خاندان کے بادشاہوں کی طرف ہے۔ کیونکہ اس خاندان کے نام سے پہلے ”کے “ کا لفظ آتا ہے۔ مثلاًکیقباد، کے خسرو

کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

آخری مصرعے میں کولمبس کی طرف اشارہ ہے کولمبس نے محض اپنی مہم جوئی کی بدولت براعظم امریکا دریافت کی-

 اس نظم میں مسلمانوں کی حالت زبوں کے حقیقی اسباب کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ اور اقبال کے نزدیک اس کا بنیادی سبب مذہب سے بے اعتنائی ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کی صفوں میں فکری اعتبار سے الحاد و کفر اور لادینیت کی تحریکیں پروان چڑھ رہی ہیں۔ اور اس لیے ان کے اندر سے مذہب کی حقیقی روح ختم ہو گئی ہے۔ شکوہ میں مسلمانوں نے فریاد کی تھی کہ،

صفحہ دہر سے باطل کو مٹا یا ہم نے
نوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نے

یہاں ”جواب شکوہ“ میں اس دعویٰ کی تردید کی جا رہی ہے اور تردید کا رنگ طنز کی شکل میں بدل گیا ہے۔ درحقیقت اس نظم کے اس حصے میں اقبال نے امت مسلمہ کو فکری و اعتقادی گمراہیوں، کجرویوں اور عملی کمزوریوں کو بڑے موثر انداز میں بے نقاب کیا ہے۔ اور جب اقبال یہ کہتے ہیں

تم سبھی کچھ ہو بتائو تو مسلمان بھی ہو

تو پڑھنے والا یہ پڑھ کر اور سننے والا سن کر تڑپ اٹھتا ہے اس حصے میں اقبال نے بہت ہی معنی خیز اشعار کہے اور مسلمانوں کو جو بت پرست کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بتوں کی پوجا کرتے ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ”امر بالمعروف اور نہی عن المنکر“ کا فریضہ انجام دینے کا وعدہ کرتے ہیں لیکن عملاً یہ ہوتا ہے کہ دنیاوی آقاوں کی خوشنودی کے لیے سب کچھ کیا جاتا ہے اور صوم و صلوة سے بے پروا ہو جاتے ہیں۔ اس معنی میں ہم بت گر ہیں اور حضرت ابراہیم کی طرح بت شکن نہیں۔ ہمارے ابا واجداد سنت ابراہیمی پر چلتے تھے اور ہم سنت آزری یا سنت بتگری پر

بت شکن اُٹھ گئے، باقی جو رہے بت گر ہیں
تھا براہیم پدر اور پسر آذر ہیں

علامہ اقبال یہاں ایک ایک اہم کام کی نشان دہی کرتے ہیں اور وہ یہ کہ مسلمانوں میں سحر خیزی بالکل ختم ہو گئی ہے اور سویرے اٹھنا ان کے لیے مشکل ہے۔

کس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہے!
ہم سے کب پیار ہے؟ ہاں نیند تمہیں پیاری ہے

یہاں اقبال تقدیر کے ناقص تصور کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ جس نے مسلمانوں کو بے عمل بنا دیا اور سب کچھ تقدیر پر چھوڑ دیا اور ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے رہتے ہیں۔

ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو

اقبال کے خیال میں مسلمان کبھی اپنی میراث سے کنارہ کش نہیں ہوتا۔ لیکن آج کے مسلمان میں سب سے زیادہ کمزوری یہی ہے کہ وہ اپنی میراث کو بھول چکا ہے۔ کیونکہ میراث کا حقدار بننے کے لیے اپنے آباءکی طرح توحید کے ضابطے کی پابندی لازمی ہے اور موجودہ مسلمان توحید کی افادیت سے نا آشنا ہو کر رہ گیا ہے۔

تھے تو آبا وہ تمہارے ہی، مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فرد ا ہو

مسلمانوں کی بے چارگی اور زبوں حالی کے سلسلہ بیان میں ان کی انفرادی اور اجتماعی خامیوں کو اجاگر کیا ہے اور اقبال نے مسلمانوں کے اسلاف کا ذکر کیا ہے۔ اقبال کا خیال ہے کہ ہمارے اسلاف اپنے اخلاق و کردار علم و فضل اور گفتار و کردار کے اعتبار سے اس قدر بلند مرتبت اور عظیم تھے کہ ہمارے اور ان کے درمیان زمین وآسمان کافرق ہے۔ بھلا ان کا اور ہمارا کیا مقابلہ ہو سکتا ہے۔

علامہ اقبال نے جدید تعلیم اور اس کے زیر اثر پیدا ہونے والی معاشرتی اور مجلسی خرابیوں پر تنقید کی ہے۔ یہ صورت حال منطقی ہے توجیہ یہ پیش کی ہے کہ اگر بیٹا نکھٹو ہو تو اسے باپ کی جائیدا د سے عاق کر دیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ یہی کچھ ہوا۔ مسلمانوں کے بزرگوں نے اسلام کی وجہ سے دنیا میں عزت پائی اور تم قرآن چھوڑ کر ذلیل و خوار ہوئے بزرگوں سے تمہیں کیا روحانی نسبت ہے ۔

اقبال کہتے ہیں کہ اے مسلمانوں ہماری قوت کا راز جذبہ عشق میں مضمر ہے اور اس کا سرچشمہ حضور کی ذات گرامی ہے۔ چونکہ اُن کا مرکزی نقطہ عشق رسول ہے اس لیے ”جواب شکوہ“ کے آخری حصے میں جذبہ عشق سے سرشار وہی والہانہ کیفیت موجود ہے جو حضور کا ذکر کرتے ہوئے اقبال پر عموماً طاری ہوتی تھی۔ موذن رسول حضرت بلال عشق رسول کا مثالی پیکر تھے اور ان کا تعلق افریقہ کی سرزمین جیش سے تھا اس لیے تذکرہ رسول کے ضمن میں بلالی دنیا (جیش ) کا ذکر بھی کیاہے۔ آخری بند میں اقبال حق کے لیے جدوجہد کی تلقین کرتے ہیں اے مسلمان، عقل تیری ڈھال اور عشق تیری تلوار ہے۔

عقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تری
مرے درویش! خلافت ہے جہانگیر تری

آخر ی شعر کا مفہوم یہ ہے کہ اگر مسلمان آپﷺ کے اسوہ حسنہ کی پیروی کریں تو پھر تقدیر بھی ان کے آگے سرنگوں ہو جائے گی۔ اور کائنات ان کے تصرف میں ہوگی۔ اقبال نے عمر بھر ایسے لاثانی اشعار لکھے ہیں لیکن یہ شعر اپنی جگہ منفرد ہے۔

کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

”جواب شکوہ“میں مسلمانوں کے مذہبی، روحانی اور اخلاقی انحطاط کے اسباب نہایت دل کش انداز میں بیان کیے گئے ہیں اور مسلمانوں کی شیرازہ بندی کا علاج بھی تجویز کیا ہے۔ اور بتایا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے کردار سے رسول پاک کے امتی ہونا ثابت کریں اور ان کے دامن سے وابستہ رہنے کا عزم کریں۔ یہی خداوند تعالٰی تک رسائی کا راز ہے۔

شکوہ“ کو اگر مذہبی شاعری کی وسواخت کہا جائے تو وسواخت کا خاتمہ عام طور پر محبوب سے صلح صفائی پر ہوتا ہے اس لحاظ سے ”جواب شکوہ“ تعلقات کے ازسرنو خوشگوار ہونے اور اعتدال پر آنے کا اعلان ہے۔ بقول عبد القادر سروری

” شکوہ“ ”جواب شکوہ“ میں سے کسی نظم کا جواب اردو میں نہیں ہے۔ شکوہ میں جس شاعرانہ انداز سے مسلمانوں کی پستی کا گلہ خدا سے کیا گیا ہے اور ”جواب شکوہ “ میں ابھرنے کی جو ترکیب بتائی گئی ہے اس میں الہام ِ ربانی کی شان نظر آتی ہے۔“

(Visited 1 times, 1 visits today)

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *