افواہیں اور جھوٹی خبریں  پھیلانا شیطانی عمل Rumors and Fake news Spreading is an act of Devil

افواہیں پھیلانا یا افواہوں کے ذریعے معاشرے میں فتنہ و فساد پھیلانا ایک بدترین جرم ہے۔ اس لیے کہ افواہیں بغیر کسی بنیاد کے معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان نہ صرف نفرت و حقارت پیدا کرتی ہیں، بلکہ بسااوقات بلاوجہ لڑائی جھگڑے کا سبب بھی ہوتی ہیں۔ افواہوں کے مہلک اور مضر اثرات کے پیش نظر اسلامی مملکت کے شہریوں پر یہ فریضہ شرعاً عائد ہوتا ہے کہ وہ خود کسی قسم کی افواہیں نہ پھیلائیں، بلکہ افواہیں پھیلانے والوں پر بھی کڑی نظر رکھیں اور انھیں بھی افواہیں نہ پھیلانے دیں۔ من گھڑت اور جھوٹی باتیں نہ صر ف دُنیوی اعتبار سے جرم ہیں،بلکہ آخرت میں بھی اس جرم کی پاداش میں سخت سزا بھگتنا پڑے گی۔

Spreading Rumors and Fake news are Devilish Act :

The first carrier of Fake News, however, as stated in Holy Scriptures, was Satan, who misrepresented the facts about the prohibited tree, leading Adam and Eve to taste the forbidden fruit. Since then the act of misrepresentation has evolved into an art form where in real time billions can be misled with virtual impunity.

“When they hear any news, whether of peace or of something fearful, they spread it about; whereas if they referred it to the Messenger and to the men in charge, those of them who would have investigated it and could have arrived at the truth of the matter. But for God’s grace and mercy, all but a few of you would have followed Satan.” (Quran 4:83)

So far, all societal institutions have failed to eradicate this menace. Social media rumors have been around as long as the Internet and hoaxes have spread from email to chat rooms and networking sites. With this quirk of social networking space, we can learn a lot from the mistakes of others. It’s only takes a second to click that share button but how do you know what you are reading and sharing is true? If you’re sharing a post that seems highly suspicious without at least checking Snopes.com or googleing it, you’re doing a disservice to your followers and yourself.  One can learn a lot from common social media rumors and hoaxes today and the impact they have on the users of these networks. Are you spreading rumors or are you making sure you verify your facts and cite your sources before posting to your networks? … […….]

افواہیں خواہ حکومت کے خلاف ہوں یا کسی ادارے کے، جماعت مسلمین کے کسی فرد کے خلاف ہوں یا اُمت ِ مسلمہ کے کسی طبقے کے خلاف، ہرحالت میں قابلِ مذمت ہیں۔ تاریخ میں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ چندافراد کی پھیلائی ہوئی باتیں پوری قوم کے لیے شرمندگی اور پریشانی کا باعث بن گئیں، اور اس کے سنگین نتائج آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے۔

قرآنِ حکیم میں ارشاد ہے:

وَاِذَا جَاۗءَھُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِہٖ۝۰ۭ وَلَوْ رَدُّوْہُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓى اُولِي الْاَمْرِ مِنْھُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْۢبِطُوْنَہٗ مِنْھُمْ۝۰ۭ وَلَوْلَا فَضْلُ اللہِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُہٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطٰنَ اِلَّا قَلِيْلًا ۝۸۳(النساء ۴:۸۳)

” اور جب اُن کو کوئی بات امن یا خطرے کی پہنچتی ہے تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں۔ اگر یہ اس کو رسول اور اپنے اولوالامر کے پاس پہنچا دیں تو وہ بات ایسے لوگوں کے علم میں آجائے جو ان کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ بات کی تہہ تک پہنچ جائیں اور صحیح نتیجہ اخذ کرسکیں۔ اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تھوڑے سے لوگوں کے سوا تم شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔” (النساء ۴:۸۳)

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاۗءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْٓا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًۢا بِجَــہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰي مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِيْنَ۝۶ (الحجرات ۴۹:۶) 

“اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی اہم خبر لائے تو خوب تحقیق کرلیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو، پھر تمھیں اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔”  (الحجرات ۴۹:۶) 

وَلَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِہٖ عِلْمٌ۝۰ۭ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰۗىِٕكَ كَانَ عَنْہُ مَسْــــُٔــوْلًا۝۳۶ (بنی اسرائیل ۱۷:۳۶) 

“جس چیز کا تمھیں علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو۔ یقینا کان، آنکھ اور دل سب کی بازپُرس ہوگی” (بنی اسرائیل ۱۷:۳۶) 

آیت (النساء ۴:۸۳)  میں افواہیں پھیلانے کو شیطانی عمل قرار دیا گیا ہے اور ذمہ دار شہریوں پر یہ فریضہ عائد کیا گیا ہے کہ وہ کوئی افواہ سنیں تو اربابِ حل و عقد کو اِس سے آگاہ کریں، خود اس افواہ کو بیان کر کے نہ پھیلائیں۔ بلاوجہ سنی سنائی بات کو لوگوں میں بیان کر کے اس مقصد میں شریک نہ ہوں، جو کوئی بدکردار اور مجرمانہ ذہنیت رکھنے والا فرد افواہ پھیلا کر حاصل کرنا چاہتا ہے۔ 

منافقین کی تخریبی حرکتوں میں افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلانا بھی شامل ہے۔ سورئہ بقرہ میں منافقین کی ان حرکتوں کو فساد سے تعبیر کیا گیا ہے:

وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِى الْاَرْضِ۝۰ۙ قَالُوْٓا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ۝۱۱ اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰكِنْ لَّا يَشْعُرُوْنَ۝۱۲ (البقرہ۲:۱۱-۱۲)

” اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلائو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کررہے ہیں۔ خبردار! یہی لوگ فسادی ہیں ، مگر انھیں شعور نہیں۔” (البقرہ۲:۱۱-۱۲)

فساد اللہ تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں:

وَاللہُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ۝۲۰۵ (البقرہ ۲:۲۰۵)

” اور اللہ تعالیٰ فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا۔”  (البقرہ ۲:۲۰۵)

اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑا سنہری اُصول بیان فرمایا ہے، جو ایک دستوری ہدایت بھی ہے:

کَفٰی بِالْمَرءِ اِثْمًا اَنْ یُحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ ط (سنن ابوداؤد، کتاب الادب، باب فی التشدید فی الکذب، حدیث:۴۳۶۱ )

” گناہ کے لیے یہ بات کافی ہے کہ انسان ہرسنی سنائی بات بیان کرنے لگے”۔

حق کو مت چھپاؤ

وَلَا تَلۡبِسُوا الۡحَـقَّ بِالۡبَاطِلِ وَتَكۡتُمُوا الۡحَـقَّ وَاَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ۞ ( القرآن – سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر 42)

ترجمہ: “اور حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو اور نہ حق کو چھپاؤ، تمہیں تو خود اس کا علم ہے۔”

اِنَّ الَّذِيۡنَ يَكۡتُمُوۡنَ مَآ اَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ وَالۡهُدٰى مِنۡۢ بَعۡدِ مَا بَيَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِى الۡكِتٰبِۙ اُولٰٓئِكَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰعِنُوۡنَۙ ۞ (القرآن – سورۃ نمبر 2 البقرة آیت 159)

ترجمہ: بیشک وہ لوگ جو ہماری نازل کی ہوئی روشن دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم انہیں کتاب میں کھول کھول کر لوگوں کے لیے بیان کرچکے ہیں تو ایسے لوگوں پر اللہ بھی لعنت بھیجتا ہے اور دوسرے لعنت کرنے والے بھی لعنت بھیجتے ہیں۔

تفسیر:

علمائے یہود کا سب سے بڑا قصور یہ تھا کہ انہوں نے کتاب اللہ کے علم کی اشاعت کرنے کے بجائے اس کو ربّیوں اور مذہبی پیشہ وروں کے ایک محدود طبقے میں مقید کر رکھا تھا اور عامّہء خلائق تو درکنار، خود یہود عوام تک کو اس کی ہوا نہ لگنے دیتے تھے۔ پھر جب عام جہالت کی وجہ سے ان کے اندر گمراہیاں پھیلیں، تو علما نے نہ صرف یہ کہ اصلاح کی کوئی کوشش نہ کی، بلکہ وہ عوام میں اپنی مقبولیّت برقرار رکھنے کے لیے ہر اس ضلالت اور بدعت کو، جس کا رواج عام ہوجاتا، اپنے قول و عمل سے یا اپنے سکوت سے الٹی سند جواز عطا کرنے لگے۔ اسی سے بچنے کی تاکید مسلمانوں کو کی جارہی ہے۔ دنیا کی ہدایت کا کام جس اُمّت کے سپرد کیا جائے، اس کا فرض یہ ہے کہ اس ہدایت کو زیادہ سے زیادہ پھیلائے، نہ یہ کہ بخیل کے مال کی طرح اسے چھپا رکھے۔ (تفہیم القرآن)

اِنَّ الَّذِيۡنَ يَكۡتُمُوۡنَ مَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ يَشۡتَرُوۡنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ۙ اُولٰٓئِكَ مَا يَاۡكُلُوۡنَ فِىۡ بُطُوۡنِهِمۡ اِلَّا النَّارَ وَلَا يُکَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَلَا يُزَکِّيۡهِمۡ ۖۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ ۞  (القرآن – سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر 174)

ترجمہ: جو لوگ (خدا) کی کتاب سے ان (آیتوں اور ہدایتوں) کو جو اس نے نازل فرمائی ہیں چھپاتے اور ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منفعت) حاصل کرتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں محض آگ بھرتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے خدا قیامت کے دن نہ کلام کرے گا اور نہ ان کو (گناہوں سے) پاک کرے گا۔اور ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب ہے۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق ہرانسان فطرتاً اچھا ہے، بدگمانی گناہ ہے۔ حدیث نبویؐ میں ہے کہ اہلِ ایمان کے بارے میں اچھا گمان رکھو۔ بلاوجہ تجسّس اور عیب جوئی بھی جائز نہیں ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ قرآن و سنّت کی رُو سے افواہیں پھیلانا، بے بنیاد خبریں شائع کرنا قطعاً جائز نہیں۔

Read more

  1.  سوشل میڈیا پر ڈسکشن کے آداب:Social Media Etiquette .علم انسان کی ترقی اور تنزلی کی چابی ہے- تاریخ اور تجربہ سے ثابت ہے کہ جن اقوام اور … [Continue Reading…]
  2. سوشل میڈیا پر اسلام دشمن پوسٹ، ڈسکشن اور مسلمان کی ذمہ داری:  سوشل میڈیا پراسلام دشمن پوسٹس اور مسلمان کی ذمہ داری:   سوشل میڈیا (فیس بک، وہاٹس اپپس وغیرہ) پر بہت سی گمراہ کن اسلام دشمن پوسٹ زیر گردش … [Continue Reading…]
  3. http://tarjumanulquran.org/
  4. https://www.pakistantoday.com.pk/2017/05/04/fake-news-a-social-curse/
  5. http://tanzil.net/#trans/en.wahiduddin/4:83