مسلم اتحاد

ایک غور طلب بات 

اسلام کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے – قرآن میں دو قسم کی آیات ہیں- اول؛” اٰیٰتٌ مُّحۡکَمٰتٌ” یعنی  واضح مضبوط آیات جو اصل کتاب ہیں- لہٰذا دین اسلام کی بنیاد ان ” اٰیٰتٌ مُّحۡکَمٰتٌ” پر کھڑی ہے – جو لوگ واضح  اٰیٰتٌ مُّحۡکَمٰتٌ” کو چھوڑ کر دوسری قسم کی “مُتَشٰبِہٰتٌ” متشابہ آیات میں سے اپنی تاویلات سے نظریات اخذ کرکہ ان کو دین اسلام کا حصہ کہتے ہیں وہ گمراہی کا شکار ہو سکتے ہیں- 

الله کا فرمان ہے:

ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ مِنۡہُ اٰیٰتٌ مُّحۡکَمٰتٌ ہُنَّ اُمُّ الۡکِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌ ؕ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ زَیۡغٌ فَیَتَّبِعُوۡنَ مَا تَشَابَہَ مِنۡہُ ابۡتِغَآءَ الۡفِتۡنَۃِ وَ ابۡتِغَآءَ تَاۡوِیۡلِہٖ ۚ؃ وَ مَا یَعۡلَمُ تَاۡوِیۡلَہٗۤ اِلَّا اللّٰہُ ۘ ؔ وَ الرّٰسِخُوۡنَ فِی الۡعِلۡمِ یَقُوۡلُوۡنَ اٰمَنَّا بِہٖ ۙ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ رَبِّنَا ۚ وَ مَا یَذَّکَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿۷﴾

وہی اللہ تعالٰی ہے جس نے تجھ پر کتاب اُتاری جس میں واضح مضبوط آیتیں ہیں جو اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ آیتیں ہیں ۔ پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ تو اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں ، فتنے کی طلب اور ان کی مراد کی جستجو کے لئے ، حالانکہ ان کی حقیقی مراد کو سوائے اللہ تعالٰی کے کوئی نہیں جانتا اور پختہ ومضبوط علم والے یہی کہتے ہیں کہ ہم تو ان پر ایمان لا چکے ، یہ ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو صرف عقلمند حاصل کرتے ہیں ۔ [قرآن ٣:٧]

اٰیٰتٌ مُّحۡکَمٰتٌ” یعنی  واضح مضبوط آیات ہی اصل کتاب ہیں- یہ آیات  اتنی واضح ہیں کہ ان کی تاویلات کرکہ دھوکہ دینا مشکل ہے- اسلام میں گمراہ کن نظریات اور فرقے قرآن کی اس آیت پر عمل نہ کرنےکی وجہ سے پیدا ہوے-

قرآن کے بعد سنت رسول اللہﷺ ، اسلام کا دوسرا ماخذ ہے- قرآن کوتحریر کرنے کا اہتمام رسول الله ﷺ نے کروایا اور پھر خلفاء راشدین نے بطور خاص  تدوین اور کتابت کا اہتمام کیا اس طرح کتاب الله آج ہم تک محفوظ اصل نازل شدہ شکل میں بغیر کسی شک و شبہ کے موجود ہے- 

مگر سنت رسول اللہﷺ کی کتابت کا  خاص اہتمام قرآن کی کتابت کے باوجود  اس طرح نہ کیا گیا- یہ نہیں کہ خلفاء راشدین سے سے بھول یا غلطی ہوئی بلکہ یہ ایک سوچا سمجھا فیصلہ تھا کہ کتاب الله ، قرآن کے مقابل کوئی کتاب نہیں ہو سکتی نہ اس کی ضرورت ہے، پہلی امتیں اس لینے گمراہ ہوئیں کہ انہوں نے کتاب اللہ کو چھوڑ کر دوسری کتب کو ترجیح دی – [تفصیل احادیث اور تاریخی کتب میں موجود ہے ]

قرآن نےبھی  واضح طور پر کھل کر قرآن علاوہ کسی اور کتاب کا انکار کیاہے  .(الجاثية45:6) ،( المرسلات 77:50)، (الأعراف 7:185)

سنت رسول الله ﷺ عملی طور پر نسل در نسل منتقل ہوتی رہی اور کچھ لوگوں نے زبانی یا تحریری طور پر بھی اس کو منتقل کیا اور تیسری صدی حجرہ میں مشہور کتب احادیث لکھی گیئں-  اس کوشش کی جتنی بھی تعریف کی جائے مگر یہ ایک ناقابل تردید تاریخی حقیقت ہے کہ خلفاء راشدین اور بعد کے مسلمان حکمرانوں نے سواے عمربن عبدالعزیز کے یہ کام نہیں کیا – اب یہ گراں قدر علمی ذخیرہ موجود ہے کیونکہ یہ رسول الله ﷺ سے منسوب ہے لہٰذا اس کا احترام لازم ہے- 

اگر احادیث کی کتب تحریر نہ ہوتیں تو کیا اسلام ختم ہو جاتا ؟

کیا پہیلی دو صدیوں تک اسلام نہیں تھا ؟ 

یقینی طور پر اسلام موجود تھا ، ہے اور تا قیامت رہے گا – اسلام ایمان کے ٦ بنیادی جزو اور پانچ ستون قرآن سے ثابت ہیں- عملی تمونہ  سنت رسول اللہﷺ سے نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے- اس کو “سنت متواتر” کہا جاتا ہے، اور قرآن کے قریب ترین سمجھا جاتا ہے، سنت متواتر کا انکار کفر سمجھا جاتا ہے- امت میں اختلافات فروعی ہیں، جیسے نماز ادا کرنے میں رفع یدین ، آمین بلند آواز یا اہستہ ، تلاوت سورہ الفاتحه وغیرہ- پانچ مرتبہ تماز اور فرض رکعت پر سب متفق ہیں کہ تماز اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک اہم رکن اسلام ہے ادائیگی کا فرق بڑا مسلہ نہیں- اسی طرح دوسرے بنیادی اصول (٦) اور اراکین اسلام  (٥)- ان میں تبدیلی ممکن نہیں اگر کوئی نئی چیز شامل کرے گا تو وہ بدعت قابل قبول نہیں ہو سکتی ، کہ دین اسلام مکمل ہے-

کتابت احادیث ایک انسانی کوشش ہے جو محدثین کی محنت ، خلوص کے باوجود، نامکمل ہیں،ہزاروں ، لاکھوں احادیث شامل نہ ہو سکیں، کوئی محدث دعوی نہیں کر سکتا کہ کے اس کی کتاب مکمل ہے، خلفاء راشدین سے تصدیق شدہ نہیں بلکہ ان کی پالیسی کے خلاف- کن احادیث کو کتاب میں شامل کرنا یا نہ کرنا، ان کی درجہ بندی کرنا محدثین اور محققین کی صوابدید پرہے، آج بھی محدثین احادیث کے درجات تبدیل کرتے رہتے ہیں- جس حدیث کو ایک فرقہ صحیح کہتا ہے اور اس کی بنیاد پر نظریات تشکیل دیتے ہیں دوسرے مخالف  فرقہ والے اسے ضعیف ، یا من گھڑت قرار دے کر مسترد کر دیتے ہیں- نہ ختم ہونے والے فرقہ واریت کے جھگڑے فساد اور نفاق کا سلسلہ چل رہا ہے- احادیث سے مثبت فوائد حاصل کرنا چاہیئں نہ کی منفی، جو اسلام اور مسلم امہ کو کمزور کریں اور اختلاف کو ممکن حد تک برداشت کریں- 

قرآن پر سب مسلمان فرقے متفق ہیں ، جو متفق نہیں وہ مسلمان ہی نہی – مگر فرقہ واریت کے شوقین لوگ قرآن کی  اٰیٰتٌ مُّحۡکَمٰتٌ” یعنی واضح مضبوط آیات ہیں جو اصل کتاب ہیں،ان کو چھوڑ کر دوسری قسم کی “مُتَشٰبِہٰتٌ” متشابہ آیات میں سے اپنی تاویلات سے  نظریات اخذ کرکہ ان کو دین اسلام کا حصہ کہتے ہیں وہ گمراہی کا شکار ہو جاتے ہیں- “مُتَشٰبِہٰتٌ” کی تعریف میں بھی اختلاف کرتے ہیں … الله تعالی قرآن کی “اٰیٰتٌ مُّحۡکَمٰتٌ” پر زور دے رہے ہیں-

احادیث کو بھی قرآن کی اس آیت (٣:٧) کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے یعنی  مُّحۡکَمٰتٌ” اور “متشابہ” اور رہنمائی حاصل کریں-

انکار حدیث کی کوئی گنجائش نہیں، احادیث کے علمی خزانہ سے مثبت انداز میں فائدہ اٹھایئں، نہ کہ منفی انداز، تفرقہ بازی، فتنہ و فساد پیدا کرنے کے لیے کیونکہ یہ قرآن و سنت کا مقصود نہیں- اختلاف کا حل قرآن  میں تلاش کریں، اگر اپنی کوتاہی، کم علمی سے نہ ملے تو صبر اختیار کریں.

قرآن کلام الله ہے جس کو رسول اللہ اور خلفاء راشدین کی نگرانی میں مکمل طور پر محفوظ کیا گیا – احادیث رسول الله سے منسوب ہیں- رسول الله کی اطاعت کا حکم قرآن کا ہے، کیونکہ ان کی کتابت خلفاء راشدین نے نہ کی، بلکہ منع فرمادیا، اس لیےان میں اختلافات اور درجہ بندیاں ہیں- ان کو قرآن کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے جو کہ “المیزان اور الفرقان” ہے، جیسا کہ احادیث میں بھی یہ واضح  ہے:

.عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : ” سَيَأْتِيكُمْ عَنِّي أَحَادِيثُ مُخْتَلِفَةٌ، فَمَا جَاءَكُمْ مُوَافِقًا لِكِتَابِ اللَّهِ وَلِسُنَّتِي فَهُوَ مِنِّي، وَمَا جَاءَكُمْ مُخَالِفًا لِكِتَابِ اللَّهِ وَلِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي ”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی صلے اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں کہ میری طرف سے کچھ اختلافی احادیث آئینگی، ان میں سے جو “کتاب اللہ” اور “میری سنّت” کے موافق ہونگی، وہ میری طرف سے ہونگی۔ اور جو “کتاب اللہ” اور “میری سنّت” کے خلاف ہونگی وہ میری طرف سے نہیں ہونگی۔

[سنن الدارقطني: كِتَابٌ فِي الأَقْضِيَةِ وَالأَحْكَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ، كتاب عمر رضي اللہ عنہ إلى أبي موسى الأشعري، رقم الحديث: 392٦(442٧) الكفاية في علم الرواية للخطيب:التَّوَثُّقُ فِي اسْتِفْتَاءِ الْجَمَاعَةِ، رقم الحديث: 311(5٠٠4)؛ذم الكلام وأهلہ لعبد اللہ الأنصاري:الْبَابُ التَّاسِعُ، بَابٌ : ذِكْرُ إِعْلَامِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ ۔.۔ رقم الحديث: 589(٦٠٦)؛الأباطيل والمناكير والمشاهير للجورقاني: كِتَابُ الْفِتَنِ، بَابُ : الرُّجُوعِ إِلَى الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ رقم الحديث:2٧٧(29٠5) الكامل في ضعفاء الرجال  » من ابتدا أساميهم صاد » من اسمہ صالح؛ رقم الحديث: 4284٦) التَّوَثُّقُ فِي اسْتِفْتَاءِ الْجَمَاعَةِ » التَّوَثُّقُ فِي اسْتِفْتَاءِ الْجَمَاعَةِ؛ رقم الحديث: 311]

تفسیر ابن كثیر

مسند احمد میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جب تم میری کسی حدیث کو سنو جسے تمہارے دل پہچان لیں تمہارے جسم اس کی قبولیت کے لئے تیار ہو جائیں اور تمہیں یہ معلوم ہو کہ وہ میرے لائق ہے تو میں اس سے بہ نسبت تمہارے زیادہ لائق ہوں اور جب تم میرے نام سے کوئی ایسی بات سنو جس سے تمہارے دل انکار کریں اور تمھارے جسم نفرت کریں اور تم دیکھو کہ وہ تم سے بہت دور ہے پس میں بہ نسبت تمھارے بھی اس سے بہت دور ہوں ۔ اس کی سند بہت پکی ہے [صحیح مسند احمد 497/3, شیخ البانی صحیح السلسلہ الصحیحہ 732/2].  اسی کی ایک اور روایت میں حضرت علی کا قول ہے کہ جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول کوئی حدیث سنو تو اس کے ساتھ وہ خیال کرو جو خوب راہ والا بہت مبارک اور بہت پرہیزگاری والا ہو (تفسیر ابن کثیر11:88)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا‫: ‫’حسبنا کتاب اللہ‘ یعنی ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے “۔

‫(‬ بحوالہ : صحیح بخاری ، کتاب المرضی ، باب قول المريض قوموا عني ، حدیث : 5731 ‫)

اورجو لوگ  مختلف اقسام کی احادیث کی بنیاد پر دوسروں پر فتوی بازی اور فرقہ بازی کرتے ہیں وہ غورفرمائیں:

“یقیناً اللہ کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے” (8:22 قرآن) 

“تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے، یقیناً خدا سُننے والا اور جاننے والا ہے” (8:42 قرآن)

اگر اسلام کی بنیاد اور نظریات اٰیٰتٌ مُّحۡکَمٰتٌ” یعنی  واضح مضبوط آیات پر رکھیں ، جن کو الله تعالی نے “اصل کتاب”قرار دیا  تو اختلافات فضول مباحث اور فرقہ واریت کا خاتمہ ہو سکتا ہے: 

وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ ( آل عمران،3 :103)

’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘( آل عمران،3 :103)

إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ ۚ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّـهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ( ١٥٩ سورة الأنعام)

“جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے یقیناً ان سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں، ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے، وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے-

هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَـٰذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ۚ  ( سورة الحج22:78)

“اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام “مسلم” رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ ”  ( سورة الحج22:78)

هَـٰذَا هُدًى ۖوَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّن رِّجْزٍ أَلِيمٌ  (الجاثية45:11)

“یہ (قرآن) تو ہدایت ہے اور جو اپنے رب کی آیتوں کے منکر ہیں ان کے لیے سخت دردناک عذاب ہے”(الجاثية45:11)

یہ کتاب فرقان یعنی وہ کسوٹی ہے جو کھرے اور کھوٹے کا فیصلہ کرتی ہے۔(الفرقان 25:1)

 تمام سلسلہ وحی پر مہیمن یعنی نگران ہے۔ (المائدہ5:48)

قرآن کریم  لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کرنے کے لیے اتاری گئی ہے۔ (البقرہ2:213)

یہی وہ کتاب ہدایت ہے جس کو ترک کر دینے کا مقدمہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مخاطبین کے حوالے سے پیش کریں گے۔ (الفرقان25:30)

References :

  1. https://salaamone.com/hadees-sunnat-tehqeeq/
  2. http://salaamone.com/why-hadees-not-compiled-by-caliphs/
  3. http://salaamone.com/bidaah-1/
  4. ‫فتنه انکار حدیث‬ ‎- سنت کی آئینی حیثیت
  5. https://salaamone.com/islam-2/sectarianism/muslim/
  6. https://quransubjects.blogspot.com/2019/11/guide.html
  7. https://quransubjects.blogspot.com/2019/10/faith.html   
  8. https://quransubjects.blogspot.com/2019/11/pillars-of-islam.html

علم حدیث , فرقہ واریت اورقران – تحقیقی مضامین Hadith -Research Articles

 

Muslim Only صرف مسلمان