مسلمان کی تعریف Who is a Muslim?

عربی لغت میں مسلمان کا معنی یہ بیان کیا گیا ہے کہ :”المسلم هو مظهر للطاعة”.’مسلمان وہ ہے جو سراپا اطاعت ہے‘‘۔ (ابن منظور،لسان العرب، ماده مسلم ج12، ص293)

Who is a Muslim? : In general terms a Muslim is someone who follows or practices Islam, a monotheistic Abrahamic religion. The Quran, holy book, is the verbatim word of God as revealed to the Prophet and messenger Muhammad (peace be upon him). The majority of Muslims also follow the teachings and practices of Prophet Muhammad (pbuh), called ‘Sunnah’ as recorded in traditional accounts (hadith). Muslim is obedient to Allah, there is no mention of any sect: “O ye who believe! Enter into Islam wholeheartedly; and follow not the footsteps of the evil one.”(Quran;2:208). Keep reading …[…….]

یعنی جس کا وجود اطاعت الہٰی اور اطاعت رسول سے عبارت ہے۔ اس کے وجود میں اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات کا رنگ نظر آتا ہے۔

ھُوَ سَمّٰىکُمُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ۬ ۙ مِنۡ قَبۡلُ وَ فِیۡ ہٰذَا( سورة الحج22:78)

مفھوم :”اسی اللہ.نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے، اس سے پہلے اور اس (قرآن) میں بھی تمہارا نام مسلم.ہے”۔

“المسلم هو التام الاسلام”.’’مسلمان وہ ہے جس نے خود کو اسلام میں ڈھال لیا ہے‘‘۔ (لسان العرب). یعنی جس کا وجود چلتا پھرتا اسلام ہے۔ اسلام کی تعلیمات کا عملی اظہار وجود مسلم سے ہوتا ہے۔

هو مومن بها.’’مسلمان وہ ہے جو تعلیمات اسلام پر ایمان رکھتا ہے‘‘ (لسان العرب). یعنی اس کو یقین حاصل ہے کہ اسلام کا ہر عمل اور ہر امر و نہی اس کے نفع کے لئے ہے۔

“المسلم هوا لمستسلم لامر الله”.’’مسلمان وہ ہے جو اللہ کے حکم کے سامنے جھک جائے‘‘(لسان العرب).
یعنی مسلمان وہ ہے جو اللہ کے حکم کو اپنا قول و فعل اور اخلاق و کردار بنائے۔ جو اپنے نفس امارہ کی خواہش سے اٹھنے والے حکم کو ترک کرے اور اس کے بجائے اللہ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردے۔

“المسلم هوالمخلص لله العبادة” .’’مسلمان وہ ہے جو عبادت کو اللہ ہی کے لئے خالص کرلے‘‘۔(لسان العرب)

یعنی مسلمان وہ ہے جو ایاک نعبد کا پیکر بن جائے، جو صرف اور صرف اللہ ہی کی عبادت کرے۔ اس کے وجود سے عبادتِ غیر کی ہر صورت کا خاتمہ ہوجائے۔ عبادت میں اس بندے کا اخلاص بڑھتے بڑھتے اس کو ایسا کردے کہ اس کا ہر کام اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہو۔

مسلمان کا مطلب ہے دین اسلام کا پیروکار ہونا

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک صرف وہی شخص مسلمان ہے جس کا وجود دوسروں کے لئے منبع امن و عافیت اور سر چشمہ امن و سکون ہو۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے :

’’مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور جس کی زبان سے دوسرے مسلمان کے جان و مال اور عزتیں محفوظ رہیں۔‘‘ [بخاري، الصحيح، 1 : 13، کتاب الايمان، رقم : 10]

ارشاد باری تعالی  ہے:

1.لَا شَرِیۡکَ لَہٗ ۚ وَ بِذٰلِکَ اُمِرۡتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ(سورة الأنعام 6:163)

“اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا مسلمان ہوں.”(سورة الأنعام 6:163)

2. وَ اُمِرۡتُ لِاَنۡ اَکُوۡنَ اَوَّلَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ (الزمر 12)

اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا مسلم (فرماں بردار) بن جاؤں۔” (الزمر 12)

3. وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ﴿10:72 یونس ﴾

اور مجھے حکم ہے کہ میں مسلمانوں سے ہوں( 10:72)

4. یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَ لَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿ سورة آل عمران 102﴾

“اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہرگز نہ مرنا مگر مسلمان”.﴿ سورة آل عمران 102﴾

5.إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَـٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِي حَرَّمَهَا وَلَهُ كُلُّ شَيْءٍ ۖ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴿٩١﴾ وَأَنْ أَتْلُوَ الْقُرْآنَ ۖ فَمَنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن ضَلَّ فَقُلْ إِنَّمَا أَنَا مِنَ الْمُنذِرِينَ ﴿٢٧:٩٢ النمل﴾

“مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ اِس شہر کے رب کی بندگی کروں جس نے اِسے حرم بنایا ہے اور جو ہر چیز کا مالک ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلم بن کر رہوں (91) اور یہ قرآن پڑھ کر سناؤں” اب جو ہدایت اختیار کرے گا وہ اپنے ہی بھلے کے لیے ہدایت اختیار کرے گا اور جو گمراہ ہو اُس سے کہہ دو کہ میں تو بس خبردار کر دینے والا ہوں  (النمل 27:92)

6. وَ وَصّٰی بِہَاۤ اِبۡرٰہٖمُ بَنِیۡہِ وَ یَعۡقُوۡبُ ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰی لَکُمُ الدِّیۡنَ فَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿سورة البقرة 132)

“اور اسی دین کی وصیت کی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے کہ اے میرے بیٹو! بیشک اللہ نے یہ دین تمہارے لئے چن لیا تو نہ مرنا مگر مسلمان ۔” ﴿ سورة البقرة 132)

7. اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی کریم کے توسط سے سب اھل کتاب کو اس بات پر متفق ہونے کی دعوت دی.

قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ تَعَالَوۡا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍۢ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمۡ اَلَّا نَعۡبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَ لَا نُشۡرِکَ بِہٖ شَیۡئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُوۡلُوا اشۡہَدُوۡا بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ ﴿سورة آل عمران 64﴾

“آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالٰی کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں ،نہ اللہ تعالٰی کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں ،پس اگر وہ منہ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلمان ہیں.”﴿سورة آل عمران 64﴾

8. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلا مسلم ہونے کے لیئے حکم دیا گیا مگراللہ کے حکم اور  ان کی سنت کو چھوڑ کر ہم نے فرقے بنا لیے-

تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ  (12:101)

میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجام کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا” (12:101)

مسلمان کی تعریف احادیث نبویہ ﷺ کی روشنی میں:

حضرت جبرائیل علیہ السلام انسانی بھیس میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آکر یوں گویاہوئے:
“اے محمد( ﷺ ) مجھے اسلام بتائیے، آپ نے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمدؐ اﷲ کے رسول ہیں اور تم نماز قائم رکھو اورزکوٰۃ دیتے رہو اور رمضان کے روزے رکھو اور حج بیت اﷲ کرو، اگر وہاں جانے کی طاقت ہو۔ اس شخص نے کہا آپ نے سچ کہا۔ ہم متعجب ہوئے کہ پوچھا بھی ہے، پھر تصدیق بھی کرتا ہے۔پھر اس نے کہا مجھے ایمان بتائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ یہ ہے کہ تم اﷲ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اوراس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور قیامت کے دن پر اور تقدیر پر،چاہے اچھی ہویابری،اس شخص نے کہا آپ نے سچ فرمایا۔ ” (مسلم شریف ج۱ص۲۷، کتاب الایمان)

“جس نے ہماری نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہمارے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور کھایا۔ تو یہ وہ مسلمان ہے کہ اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کی ذمہ داری میں ہے۔ تو اﷲتعالیٰ کی ذمہ داری میں اس کے ساتھ دغا بازی نہ کرو۔ (بخاری ج۱ص۵۶، باب فضل استقبال القبلۃ)
حضرت صدیقؓ نے منکرین زکوٰۃ کے ساتھ جہاد کیا۔ جس سے معلوم ہوتاہے کہ زکوٰۃ نہ دینا یا اس کاانکار کفر ہے۔
حضرت صدیقؓ نے منکرین ختم نبوت اور مدعیان نبوت سے جہاد کیا۔ جس سے معلوم ہوا کہ ختم نبوت کا مسئلہ بھی جزو ایمان ہے اوراس کا منکر اسلام سے خارج ہو جاتاہے۔ اس پر امت مسلمہ کا چودہ سو سال سے اجماع ہے –

(تحقیق: آفتاب خان)

مکمل تحقیق پڑہیں>>>>>

فرقہ واریت کا خاتمہ : پہلا قدم

http://www.khatmenbuwat.org/threads/4324/