Anti Islam propaganda at Social Media سوشل میڈیا پر اسلام دشمن پوسٹ، ڈسکشن اور مسلمان کی ذمہ داری:

Image result for anti islam
 
سوشل میڈیا پراسلام دشمن پوسٹس اور مسلمان کی ذمہ داری:
 
سوشل میڈیا (فیس بک، وہاٹس اپپس وغیرہ) پر بہت سی گمراہ کن اسلام دشمن پوسٹ زیر گردش ہیں جو کہ جھوٹ، لا علمی اور بدنیتی پر مشتمل ہوتی ہیں- ان کا مقصد سادہ لوح عام مسلمانوں کے ایمان پر حملہ آور ہو کر ان کو شکوک و شبھات میں مبتلا کرنا ہوتا ہے- سوشل میڈیا پر فرضی ناموں سے سرگرم دین دشمن عناصر اسلام دشمن طاقتوں کے ایجنٹ ہیں۔ 
جس پوسٹ پر نہ کوئی ویب لنک ریفرنس ہو نہ ہی لکھاری کا اتا پتا معلوم ہو سکےوہ جھوٹ ہے.یقیناً لکھاری کا نام بھی نقلی ہوتا ہے، اکثر مشہور لوگوں یا ان سے ملتے جلتے مسلمان ناموں کا استعمال کیا جاتا ہے، مولانا ، مفتی جیسے مذہبی صیغے لگا کر دھوکہ دیا جاتا ہے- جس شخص کو قرآن پر شک ہو وہ مسلمان ہو ہی نھے سکتا نہ ہی وہ ایسی من گھڑت جھوٹی تحریریں لکھے گا- ہمارا فرض ہے کہ:
1.اسلام دشمن پوسٹ کوشیر نہ کریں- 
مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا ((قرآن ;4:85)) جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے(قرآن ;4:85))
2.قرآن اور اسلام کی سچائی پر یقین رکھیں- مکمل آیات اور ریفرنس سے پہلے اور بعد کی چند آیات کا مطالعہ کرکہ مضمون اور context کو سمجھ لیں-
3. اگر کوئی وہم، شک ہو تو تحقیق کر کہ اپنا ایمان سلامت رکھیں-
ا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ ﴿٦﴾ 
“اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو (49:6قرآن )
4.کسی ایسے دوست یا عالم سے رابطہ کریں جو آپ کی رہنمائی کر سکتا ھو- “سلام فورم” 03004443470 پر sms OR WHATSAPPS کریں-(نو کال، NO CALLS)
5. قانونی کاروائی کے لیے رپورٹ کریں :
متعلقہ سوشل میڈیا پر شکایت ، SPAM, INAPPROPRIATE وغیرہ رپورٹ کریں
http://www.nr3c.gov.pk/contact.html
http://www.pta.gov.pk/index.php?Itemid=785
Please report Blasphemous URLs by email at info@pta.gov.pk and for other complaints please use the following methods:
Telephones
a.  0800-55055 (Toll Free Number)
b.  051-9225325 (Fixed Line Number)
FAX 051-2878127                      E-Mail:  complaint@pta.gov.pk
On-line www.pta.gov.pk
Postal Mail / In person visitation: CPD, PTA Headquarters, Sector F- 5/1, Islamabad.
اس پیغام کو شیر کریں :
مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا ((قرآن ;4:85))

جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے(قرآن ;4:85))

…………………………………….

اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ ﷺ کو تمام امم سابقہ کے مقابلہ میں شرف فضیلت بخشی اور اس کوبہترین جماعت کے خطاب سے سرفراز فرمایا،اس لیے کہ یہ اللہ کے بندوں کو راہ مستقیم اور ہدایت والے راستہ کی رہنمائی کرتے ہیں اور برے راستہ سےروکتے ہیں ۔اور خود بھی عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی حکمت و دانائی سے عمل کی ترغیب دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
 كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ۝۰ۭ ﴿آل عمران:۱۱۰﴾
“(مومنو) جتنی امتیں (یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو”
 
چنانچہ اس آیت مبارکہ میں ایک کھلا پیغام ہے اور اشارہ ہے کہ اے امت محمدیہ ﷺ تم بہترین امت ہو’’ تمہیں لوگوں کے لیے نکالا گیا ہے‘‘(یعنی تم پر یہ فرض کیا گیا ہے ) اس لیے کہ تم لوگوں کو اچھائی کی دعوت دیتے ہواور برائیوں سے روکتے ہو ۔اور تما م انسانوں کے اصلاح کی فکر کرتے ہو۔

 

چنانچہ ہر مسلمان کا یہ ایمانی فریضہ بنتاہے کہ وہ  قانون کی حد میں رہتے ہوے، پرامن طریقه سے معروف (اچھائی) کا حکم دے اور منکر ات(برائی) سے روکے۔
مزید : http://salaamforum.blogspot.com/2017/06/dawah-tableegh.html

~~~~~~~~~~~~~~~~~~

 

سوشل میڈیا پر ڈسکشن کے اصول و آداب:
Image result for social media discussion
سوشل میڈیا پر اکثر بحث مباحثہ ہو جاتا ہے- ضروری ہے کہ ادب آداب اور تہذیب کے دائرہ میں رہ کر بات چیت کی جا ینے، خاص طور مذہبی ڈسکشن میں قرآن و حدیث کے حوالہ جات دینے جاتے ہیں تو خاص اہتمام کریں کہ گستاخی نہ ہو، بحس اپنی جگہ کہیں دنیا و آخرت اور ایمان خطرہ میں نہ پر جایے.
لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ۔ اور بہت ہی ااچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔ جو اس کے رستے سے بھٹک گیا تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے اور جو رستے پر چلنے والے ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے (16:125سورة النحل)
إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّـهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ (8:22 قرآن)
یقیناً خدا کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے ( قرآن8:22)
لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ
جو ہلاک ہو، دلیل پر  ہلاک ہو اور جو زنده رہے، وه بھی دلیل پر زنده رہے (قرآن ;8:42)

١.معزز اشخاص  سے توقع ہے کہ تہذیب کے دائرۂ میں رہ کر ڈسکشن کی جا ے- اختلاف  کا مطلب بد تمیزی ، گلی گلوچ نہیں-

٢. قرآن و سنت سے دلیل عقل سے زیادہ اہم ہے- کیونکہ عقل پرفیکٹ نہیں ، قرآن پرفیکٹ ہے-
٣ ذاتی نظریات کو قرآن کی آیات سے غلط طور پر جوڑ کر نتھی کرنا اسلام نہیں بن جاتا- اگر قرآن سے واضح ثبوت ریفرنس اور لنک کے ساتھ ہو تو درست مگر اپنی ذاتی خیالات و نظریات کو ٹھونسا نہیں جا سکتا- اجتہاد علماء اس معاملہ میں کرتے ہیں جہاں قرآن و سنت اور اصحابہ کی روایات خاموش ہوں-
.٤ صرف مستند علماء دین ، جن کی تفاسیر اور کتابیں موجود ہیں ان کے ریفرنس میریٹ رکھتے ہیں-
٥. دوسروں کو کم عقل کہنا اور اپنے آپ کو عقل کل سمجھنا خود پرستی اور تکبر کی علامت ہے-
٦. ڈسکشن کا مقصد ، کوئی ہار ، جیت کا مناظرہ نہیں، اپنے علم میں اضافہ کرنا اور اگر کوئی غلطی یا اشکال ہو تو اس کی تصحیح کرنا-
٧. کوئی ضروری نہیں کہ اتفاق رائے ہو ،علمی اختلاف میں بھی بہتری ہو سکتی ہے-
٨.بلاک کرنا،پوسٹ یا  کمنٹس ڈیلیٹ کرنا ، ذہنی ناپختگی، اورشکست خوردہ ذہنیت کی عکاس ہے-

٩.اگر ٹوپک سے دلچسپی نہیں تو معذرت کرکہ علیحدہ ، ہو جائیں

١١.ٹاپک سے ہٹ کر بات نہ کریں-
١٢.اگر کوئی سخص مقدس کتب اور مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو اس کو اچھے مناسب طریقه سے وارننگ دیں، لکن اگر وہ مسلسل ایسی گستاخی کرتا ہے تو، اس سے قبل کہ وہ آپ کو بلاک کرے ، سکرین شاٹ لیں، ویب لنک کاپی کریں اور اوپر دیے لنکس پر PTA اور ,,Cyber Crime Cell میں کمپلینٹ لانچ کریں- متعلقہ ویب سائٹ (Facebook, WhattsApp, Twitter وغیرہ ) کو بھی مطلع کریں spam مارک کریں-

﴿ وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا ﴾ [ الفرقان 63:25 ]

” رحمن کے (سچے) بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی (آہستگی) کے ساتھ چلتے ہیں اور جب بے علم لوگ ان سے (جاہلانہ) باتیں کرنے لگتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے۔”

How do I deal with spam? | Facebook Help Center | Facebook

Spam involves contacting people with unwanted content or requests. This includes sending bulk messages,excessively posting links or images to people’s Timelines and sending friend requests to people you don’t know personally. Spam is sometimes spread through clicking on bad links or installing malicious software.
……………………………………….
Everyone should ask themselves the following 12 questions before posting:
  1. Use Recommendations Will anyone really care about this content besides me?
  2. Should I target a specific audience with this message?
  3. Will I offend anyone with this content? If so, who? Does it matter?
  4. Is this appropriate for a social portal, or would it best be communicated another way?
  5. How many times have I already posted something today? (More than three can be excessive.)
  6. Did I spell check?
  7. Will I be okay with absolutely anyone seeing this?
  8. Is this post too vague? Will everyone understand what I’m saying?
  9. Am I using this as an emotional dumping ground? If so, why? Is a different outlet better for these purposes?
  10. Am I using too many abbreviations in this post and starting to sound like a teenager?
  11. Is this reactive communication or is it well thought-out?
  12. Is this really something I want to share, or is it just me venting?
 

Modern Etiquette: Social Media Do’s & Don’ts – Design*Sponge

www.designsponge.com/2013/02/modern-etiquette-social-media-dos-donts.html

 

Social media etiquette is the most requested theme I’ve gotten so far but the one I wanted to discussthe least. Mainly because it’s such a new and rapidly

 ~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
SalaamOneسلام  is a nonprofit e-Forum to promote peace among humanity, through understanding and tolerance of religions, cultures & other human values. The collection is available in the form of e-Books. articles, magazines, videos, posts at social media, blogs & video channels. .Explore the site English and Urdu sections at Index
علم اور افہام و تفہیم کے لئے ایک غیر منافع بخش ای فورم ہے. علم،انسانیت، مذہب، سائنس، سماج، ثقافت، اخلاقیات اورروحانیت امن کے لئے.اس فورم کو آفتاب خان،  آزاد محقق اور مصنف نے منظم کیا ہے. تحقیقی کام بلاگز، ویب سائٹ، سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیو چننل اور برقی کتابوں کی صورت میں دستیاب ہے.اس  نیٹ ورک  کو اب تک لاکھوں افراد وزٹ کر چکے ہیں, مزید تفصیلات>>>  Page Index – Salaam One 
 ………………………………………………………………..
 مزید پڑھیں: 
  1. مسلما نوں اور علماء کے نام کھلا خط : آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں- ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے- آپ کی توجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکال سکیں. مکمل خط اس <<< لنک پر پڑھیں>>
  2. نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل

  3. خطبات اقبال – اسلام میں تفکر کا انداز جدید Reconstruction of Religious Thought in Islam  http://goo.gl/lqxYuw
~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~



* * * * * * * * * * * * * * * * * * *
(Visited 6 times, 1 visits today)