Social Media Etiquette سوشل میڈیا پر ڈسکشن کے آداب

 سوشل میڈیا ڈسکشن:

١.علم انسان کی ترقی اور تنزلی کی چابی ہے- تاریخ اور تجربہ سے ثابت ہے کہ جن اقوام اور افراد نے علم سے استفادہ کیا انہوں نے ترقی اور عزت حاصل کی-

٢. ہم مخلف ذرائع سے علم حاصل کرتے ہیں اور علم کی بنیاد پر مختلف موضوعات پر اپنی رائےقائم کرتے ہیں- کوئی انسان کسی موضوع  مکمل علم کا دعوی نہیں کر سکتا- اس لیے ہماری ہماری رائے مضبوط ہو سکتی ہے مگر حتمی نہیں، بہتری کی گنجائش رہتی ہے- مختلف افراد کا علم اپنی دلچسپی اور مطالعہ کے مطابق کم یا زیادہ ہو سکتا ہے- ہم الله سے علم میں اضافہ کی دعا کرتے ہیں :

رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا ﴿١١٤﴾

“اور دعا کرو کہ میرے پروردگار مجھے اور زیادہ علم دے” (20:114 قرآن )

٣.سوشل میڈیا پر ڈسکشن آپس میں تبادلہ خیال کے ساتھ ساتھ  ایک دوسرے سے علم حاصل کرنے اور  رائے  میں اضافہ یا تبدیلی کا زریعہ ہو سکتا ہو سکتا ہے – ہم مسلمان کی حثیت سے قرآن و سنت رسول الله ﷺ پر عمل کے دعوے دار ہیں، مگر بحث مباحثہ کرتے ہوے الله، رسول ﷺ کی سنت و احکام کو بھول کر ابوجاہل کا رویہ اپنا لیتے ہیں- جن کے لیے ارشاد ہوا:

“اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے راہ والوں کو،” (سورة النحل6:125)

سوشل میڈیا ایک زریعہ ہے جو استعمال ہو سکتا ہے …  اللہ کے بندوں کو راہ مستقیم اور ہدایت والے راستہ کی رہنمائی کرنے  اور اور برے راستہ سےروکنے میں۔ یہ کسی عالم یا مولوی کی نہیں ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ، نیک ہوں یا گناہگار!

كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ۝۰ۭ ﴿آل عمران:۱۱۰﴾

“(مومنو) جتنی امتیں (یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو”

٤. اگر کوئی مضبوط دلائل دے جو آپ کی عقل کو قبول ہوں تو قائل ہو کر رائے کو  تبدیل کرنے میں کوئی حرج نہیں- اگر جواب میں مناسب دلائل  نہیں تو ضد، ہٹ دھرمی بے فائدہ  فضول ہے-

٤.گالی  گلوچ اور بدتمیزی سے دوسرا شخص تو قائل نہ ہوگا مگر آپ ابنی علمی اور جہالت کا اظھار کر رہے ہیں ، جو قطعی   غیر مناسب ہے-

سوشل میڈیا  ایک ٹرم “پٹواری”جس کی مونث  “پٹوارن ” بہت مقبول ہے- اس کے لغوی معنی  تو سب جانتے ہیں مگر استعارہ کا جو مطلب سمجھ میں اتا ہے کہ: “پٹواری” ان افراد کو کہ جاتا ہے جو اپنے نظریات پر سختی سے قائم رہتے ہیں، کسی عقلی یا نقلی  دلیل کو تسلیم نہیں کرتے اور اپنے نظریات پر نظر ثانی  نہیں کرتے- یہ اصطلاح اگرچہ مخصوص سیاسی گروپ کے خلاف مستعمل  ہے مگر ہر گروپ اور شعبہ  میں “پٹواری” موجود ہے- بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ہم سب اس مائنڈ سیٹ کا شکار  ہوتے ہیں، کچھ لوگ جلد اس سے چھٹکارا پا لیتے ہیں مگر اکثریت اس میں پھنس کر رہ جاتے ہیں ..  یہ ایک رویہ ہے- قدیم مثال مکہ کے “ابو جاہل” کی ہے جو اپنی فہم و فراست کی وجہ سے “ابو حکمہ” کہلاتا تھا-

مذہبی معاملات اور عقائد جن کا منبع قرآن و سنت ہو ایسا غیر متزلزل ایمان قابل فہم ہے مگر دنیاوی، سیاسی معاملات  جواکثر افراد کی اپنی سوچ اور کام سے متعلق  ہوتے ہیں اس طرح  کا بے لچک رویہ منفی ہی ہو سکتا ہے – سیاسی رہنما انسان ہوتے ہیں جو اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کے لیے نظریات بدلتے رہتے ہیں ان کی اندھی تقلید گمراہ کن اور نقصان دہ ہو سکتی ہے-

اگر ہم کسی غلط بات کی سپورٹ کرتے ہیں یا دلیل کے طور پر استعمال کرتے ہیں تو اچھائی یا  برائی میں حصّہ دار بن جاتے ہیں، لہٰذا مناسب یہ ہے کہ اچھی بات کی تایید اور غلطی  پر تنقید کریں- اگر کسی رہنما کو ہم محبت کرتے ہیں وہ اچھے کام  کرتا ہے مگر کرپشن میں بھی ملوث پایا جاتا ہے تو ہم اس کی کرپشن کا دفاع  کیوں کریں؟ ہم گناہ اور برائی می حصہ دار کیوں بنیں؟ اگر کوئی مذھب کے نام پر اچھی پاتیں کرتا ہے، اچھے کام کرتا مگر دہشت گردی اور قتل و غارت کو جائز کہتا ہے تو ہم اس کے اس حرام فعل کی سپورٹ کر کہ قتل و غارت میں حصہ دار کیوں بنیں؟

اس ضمن  میں قرآن ہماری رہنمائی فرماتا  ہے:

مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا (النسا،85)

” جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے (قرآن ;4:85)

إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّـهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ (8:22 قرآن)

یقیناً خدا کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے ( قرآن8:22)

لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ

جو ہلاک ہو، دلیل پر  ہلاک ہو اور جو زنده رہے، وه بھی دلیل پر زنده رہے (قرآن ;8:42)

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ ۚ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ ﴿١٨﴾

“بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر پھینک مارتے ہیں پس سچ جھوٹ کا سر توڑ دیتا ہے اور وه اسی وقت نابود ہو جاتا ہے، تم جو باتیں بناتے ہو وه تمہاری لئے باعﺚ خرابی ہیں”(قرآن ;21:18)

٥.اگر کسی “پٹواری” یا  “پٹوارن”  سے واسطہ پر جائیے توبہتر ہے کہ خوشگوار طریقه سے سلام کر کہ  الوداع کریں- کمنٹس کو ڈیلیٹ کرنا ، دھمکی دینا یا بلاک کرنا ، غیر مہذب رویہ ہے جس سے اجتناب کرنا چاہیے-

وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا [ الفرقان 63:25 ]

” رحمن کے (سچے) بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی (آہستگی) کے ساتھ چلتے ہیں اور جب بے علم لوگ ان سے (جاہلانہ) باتیں کرنے لگتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے۔”

ہم مسلمان کی حثیت سے قرآن و سنت رسول الله ﷺ پر عمل کے دعوے دار ہیں، مگر بحث مباحثہ کرتے ہوے الله، رسول ﷺ کی سنت و احکام کو بھول کر ابوجاہل کا رویہ اپنا لیتے ہیں- جن کے لیے ارشاد ہوا:

اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے راہ والوں کو، (سورة النحل6:125)

خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ (7:199)

آپ درگزر کو اختیار کریں نیک کام کی تعلیم دیں اور جاہلوں سے ایک کناره ہو جائیں (7:199)

اگر کوئی وہم، شک ہو تو تحقیق کریں ، غیر مصدقہ ، جھوٹی ، مشکوک انفارمیشن سے پرہیز کریں-

ا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ ﴿٦﴾

“اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو (49:6قرآن )

یہ اللہ کے بندوں کو راہ مستقیم اور ہدایت والے راستہ کی رہنمائی کرتے ہیں اور برے راستہ سےروکتے ہیں ۔اور خود بھی عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی حکمت و دانائی سے عمل کی ترغیب دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں

كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ۝۰ۭ ﴿آل عمران:۱۱۰﴾

“(مومنو) جتنی امتیں (یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو”

“لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ۔ اور بہت ہی ااچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔ جو اس کے رستے سے بھٹک گیا تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے اور جو رستے پر چلنے والے ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے (16:125سورة النحل)

إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّـهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ (8:22 قرآن)

یقیناً خدا کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے ( قرآن8:22)

لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ

جو ہلاک ہو، دلیل پر  ہلاک ہو اور جو زنده رہے، وه بھی دلیل پر زنده رہے (قرآن ;8:42)

کوئی ضروری نہیں کہ اتفاق رائے ہو ،علمی اختلاف میں بھی بہتری ہو سکتی ہے-

وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا [ الفرقان 63:25 ]

” رحمن کے (سچے) بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی (آہستگی) کے ساتھ چلتے ہیں اور جب بے علم لوگ ان سے (جاہلانہ) باتیں کرنے لگتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے۔”

Salander Lies غیبت، جھوٹ اور بہتان بازی سنگین گناہ

  • ………………………
  • فیس بک اور واٹسایپ  کی اس وسیع دنیا میں جہاں آپ کو کچھ کام کی باتیں ملیں گیں وہیں آپ کو انواع اقسام کی خرافات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ 
  • یہاں آپ کو کبھی کوئی بلی کسی ویڈیو میں نماز پڑھتی نظر آئے گی، 
  • کبھی کوئی پرنده سجده کرتا دکھائی دے گا۔ 
  • کبھی تربوز میں اللہ محمد لکھا نظر آئے گا
  • کبھی خانہ کعبہ کے اوپر ایک فرشتہ نمودار ہوگا جو خود بیت الله میں کسی کو دکھائی نہیں دے گا مگر ہم فیس بُکی مسلمانوں کو نظر آئے گا۔ 
  • کبھی مائیکل جیکسن زین بہیکا کی آواز میں مشہور انگریزی حمد (say thanks to ALLAH) گا رہا ہوگا اور سب اندھا دھند سبحان الله، سبحان الله کہه رہے ہوں گے۔
  • فیس بُکی دنیا میں ہی کبھی کسی دیوار یا صفحے کی کھدائی کریں تو یہ بات بھی آپ کے علم میں آئے گی کہ مشہور خلاء باز نیل آرم اسٹرانگ جب چاند پر گئے تو انہیں وہاں صرف ایک آواز سنائی دی جو کہ اذان کی آواز تھی اور انہوں نے چاند سے واپسی پر فی الفور اسلام قبول کر لیا۔
  • اب اس تفصیل میں کون جائے کہ چاند پر فضا ( atmosphere) زمیں جیسا نہیں اور وہاں آواز سنائی نہیں دیتی، نہ ہی کوئی اس تحقیق میں پڑے گا کہ اس امریکی خلاء باز کے چاند پر جانے اور نہ جانے کے بارے میں بھی دو رائے ہیں۔
  • کبھی بھارتی نژاد امریکی خلاباز سنیتا مارشل کو چاند سے کعبہ صاف نظر آیا تو وہ بھی مسلمان ہو گئی۔ یہ اور بات ہے کہ سنیتا مارشل کبھی بھی چاند پر نہیں گئی اور خلا میں ابھی بھی اپنے ساتھ وید (ہندو وں کی مذہبی کتاب) ساتھ لے کر جاتی ہے۔
  • کبھی بدھ مذہب کے رہنما دلائی لاما ہمارے حضور پاک صلی الله علیه و سلـّم کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام امن کا دین ہے تو ہم اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس ویڈیو کو اتنا شیئر کرو کہ تمام مسلمانوں کو اس بات کا یقین/علم ہوجائے…. کوئی مجھے بتائے کہ ہمارے عقیدے اس قدر کمزور ہیں کہ ہمیں محمد صلی الله علیه و سلـّم کی ذاتِ اقدس کی عظمت کی گواہی ان غیر مسلموں سے لینی پڑے گی!!!!!
  • یہیں آپ کو سچے اور پکے مسلم بہن بھائیوں کی طرف سے پیش کی گئی وہ پوسٹ بھی نظر آئی گی کہ جو آپ نے آگے شیئر نہ کی تو آپ دائرة الاسلام سے خارج ہوجائیں گے اور اگر ماشاء الله اور سبحان الله نہ کہا گیا تو آپ دنیا کے سب سے بڑے کنجوس کہلائے جائیں گے۔
  • *الله کے بندو!* 
  • کچھ تو زور اپنے ذہن پر بھی ڈالا کرو کہ اسے زنگ نہ لگ جائے۔ اس بات سے کسے انکار ہے کہ الله کی تمام مخلوق، چرند پرند، آسمان و زمین اور اس کے درمیاں کی ہر شئے اُس کی حمد میں مصروف ہے۔ مگر اُن کا طریقہ ہم سے مختلف ہے، نماز ہم پر فرض ہے نہ کہ ان بلیوں پر جنہیں مسلمان بنانے کی تگ و دو میں آپ لگے ہیں۔
  • کسی چیز کو شیئر کرنے یا نہ کرنے سے لوگ کافر ہونے لگے تو ہوگیا کام، ہم سب تو پھر دائرة الاسلام سے خارج قرار پائیں گے۔ اور اگر شیئر کرنے سے ہی مسلمان ہونا ثابت ہوتا ہے تو فیس بک اور واٹسایپ سے پہلے کی دنیا میں کون مسلمان تھا !!
  • ضرورت اس اَمر کی ہے کہ اندھی تقلید کرنے کے بجائے کسی بھی چیز پر یقین اور شیئر کرنے سے پہلے اس بات کو یقینی بنا لیا جائے کہ آیا یہ سچ ہے یا اس کی کوئی حیثیت ہے بھی کہ نہیں۔۔۔۔۔
  • *یہ پوسٹ اگر آپ نے 20 لوگوں کو شیئر نہ کی تو یقین کریں کوئی گناہ نہیں ہو گا۔۔۔۔*
  • گزارا کرنا سیکھیں: 
  • ایک دوست سے بات ہورہی تھی کہ سیاسی تقسیم بڑھتی جا رہی ہے،جس کا نتیجہ تلخی کی صورت میں نکل رہا ہے۔ اب نوبت یہاں تک آ گئی کہ گھروں میں نواز شریف، عمران خان کے چکر میں میاں بیوی لڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ ایک عزیزہ بتا رہی تھی کہ ان کے جاننے والوں میں ایسی ہی ایک سیاسی بحث میں تلخ کلامی ہوگئی اور رشتہ ٹوٹتے ٹوٹتے بچا ہے۔ 
  •    ہمیں چاہیے کہ اپنی عام زندگی اور فیس بک پر سیاسی اختلاف رائے برداشت کرنا سیکھیں اور مخالف سوچ رکھنے والوں سے گزارہ کریں۔ خاص کر فیس بک پر میں نے پچھلے کچھ عرصےمیں اچھے خاصے گہرے دوستوں کو ان سیاسی ،نظریاتی ایشوز پر الگ الگ ہوتے دیکھا ہے۔ یہ نہایت افسوسناک بات ہے۔ 
  •   میری اپنے تمام فیس بک فرینڈز سے درخواست ہے کہ ہم مختلف ایشوز پر اپنا موقف لکھتے اور دیتے رہتے ہیں۔ کسی موقف سے اختلاف ہو تو اسے برداشت یا نظرانداز کریں۔ جس طرح ہم اپنے دوستوں کے مخالفانہ نقطہ نظر، تحریروں ، حتیٰ کہ مخالف لکھی گئی پوسٹوں کو بھی نظرانداز کرتے ہیں۔ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ہم ہی سچ کا پہاڑ ہوں ۔ دوسرا بھی درست ہوسکتا ہے، ممکن ہے ہم کہیں غلطی پر ہوں تو انتہائی قطعیت کے ساتھ حتمی فیصلے سنانے کے بجائے گزارا کرنا سیکھیں۔ 
  •   مجھے اس وقت ہنسی آتی ہے جب کئی فیس بک فرینڈز یا قاری شکوہ کرتے ہیں کہ پہلے تو آپ یہ نہیں لکھتے تھے، آج کل تیز لکھ رہے ہیں یا ایک خاص پوزیشن لے کر لکھ رہے ہیں۔ بھائی بات یہ ہے کہ ہر وقت درمیان میں نہیں رہ سکتے، ترازو کا پلڑا درمیان سے ویلڈ تو نہیں کرایا جا سکتا۔ جہاں محسوس ہورہا ہے کہ کھل کر لکھا جائے یا جہاں لگے کہ دوسرے کیمپ والے غلط اور کمزور استدلال کو پھیلا رہے ہیں تو پھر رہا نہیں جاتا، اس کا کائونٹر بیانیہ دینے کا جی چاہتا ہے ، جسے ہم درست سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ اس لئے  جسے میری کوئی تحریریا میرا کوئی موقف پسند نہیں تو وہ اسے نظرانداز کر دے۔ ضروری تو نہیں کہ ہر کالم پڑھا جائے یا ہماری ہر تحریر ہی ان کی پسند کی ہو۔ شائستگی سے اختلاف رائے ریکارڈ کرا کر آدمی آگے بڑھ جائے۔ جسے زیادہ ناگوارلگ رہا ہے، وہ کچھ عرصے کے لئے نہ پڑھے۔ یہ یاد رکھیں کہ بدتمیزی کرنے والے کو میں نصف سکینڈ سے بھی کم وقت میں بلاک کر دیتا ہوں اور خاکسار کی یہ عادت نہیں کہ بلاک شدگان کو ’’ان بلاک‘‘ کیا جائے۔ اس لئے بدتمیزی یا غیر شائستگی سے کمنٹ کرنے سے پہلے دو بار سوچ لیں۔ بعد میں مجھے کئی لوگوں کے ان ڈایریکٹ پیغامات آتے ہیں کہ ہمیں ایسے ہی بلاک کر دیا، قصور کچھ نہیں تھا، وغیرہ وغیرہ۔ یہ شکوہ بے جا اور غیر ضروری ہے ۔ میں اختلاف رائے پر کبھی بلاک نہیں کرتا۔ ایسا صرف غیر شائستہ کمنٹ کرنے پر ہوتا ہے۔ 
  •   اپنے دوستوں کے بارے میں میرا اصول سادہ ہے، ان کی اختلافی تحریروں کا کبھی جواب نہ دیا جائے ، نظرانداز کیا جائے۔ میں سیاسی ایشوز پر دوستی خراب نہیں کرتا۔ دوست زیادہ اہم ہیں۔ ان کا دل توڑنے سے بہتر ہے کہ آدمی فیس بک ہی پر لات مار دے۔ میری یہ توقع اپنے دوستوں سے بھی ہے۔ انہیں بھی چاہییے کہ میری اختلافی پوسٹیں برداشت کریں یا نظرانداز کریں۔ اس سیاسی کش مکش کے پیچھے ذاتی تعلق خراب نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی زیادہ اہمیت ہے۔   (عامر خاکوانی)
 
Related:
  1.  http://peace-forum.blogspot.com/2015/12/facebook-nuisance-or-blessing.html
  2. How to Avoid Falling for an Internet Hoax 
  3. The Internet could crash. We need a Plan B – Danny Hillis  
  4. Our addiction to the internet is as harmful as any drug 
  5. Corporate factor in Arab ‘revolutions’ الشركات عامل في ‘الثورات’ العربية  
  6. Neo-Orientalist Islamophobia Is Maligning the Reputation of Prophet Muhammad 
  7. The New Arabs by Juan Cole  
  8. Hello 2013 !  
  9. Internet could trigger religious ‘revolution’ as big as birth of Christianity 
  10. What will the big stories be in 2015?  

Social Media Etiquette – Mashable

mashable.com/category/social-media-etiquette/

 

3 simple ways to avoid making big mistakes as a teen using social media. Rebecca Ruiz. Aug 01,2016. Even teens who may never imagine themselves as a …

17 Social Media Etiquette Rules To Never Break – Ron Sela

www.ronsela.com/social-media-etiquette-rules/

 

Oct 27, 2014 – Social media has become an essential marketing tool for businesses of any size. Here are 17 social media etiquette rules to never break for …

The New Rules of Social-Media Etiquette (and How to Passive …

nymag.com/thecut/2015/03/new-rules-of-social-media-etiquette.html

 

Mar 10, 2015 – In honor of the Cut’s “Our Selfies, Ourselves” week, we’re revisiting six rules of socialmedia etiquette that have changed significantly over the …

Social Media Etiquette – Real Simple

www.realsimple.com/work-life/work-life-etiquette/manners/social-media-etiquette

 

Facebook. Based on a survey of Real Simple readers, Facebook is the gold standard of social media. And while the settings and designs might change more …

What You Need to Know about Social Media Etiquette | Construction …

www.constructionbusinessowner.com/…/march-2016-what-you-need-know-about-soc…

 

What You Need to Know about Social Media Etiquette. March 2016 Issue … Like children with a shiny new toy, adults introduced to social media jumped in and …

Social Media Etiquette | 5 Rules To Know right now – Tanya Foster

https://tanyafoster.com/social-media-etiquette-5-rules-to-know/

 

Jul 25, 2016 – When is social media posting considered rude? … Google social media etiquette and you will find just about everything, …. April 8, 2016.

15 Expert Tips for Social Media Etiquette – OutboundEngine

https://www.outboundengine.com/blog/15-expert-tips-for-social-media-etiquette/

 

Feb 1, 2015 – That’s how you get repeat business and referrals. But to do that successfully in 2016, you need a firm grasp of social media etiquette. Here are …

#Oscars 2016: A Social Media Etiquette Guide – Wall Street Journal

www.wsj.com/…2016…social-media-etiquette…/B72E700C-FB3C-48A2-93E0-A91BBA…

Feb 25, 2016 – Socialfly co-founder and CEO Stephanie Abrams Cartin joins Tanya Rivero with a primer on social media etiquette for #Oscars2016.

3 Practical Social Media Etiquette Rules To Never Forget

www.business2community.com/social-media/3-practical-social-media-etiquette-rules-…

 

Jan 6, 2016 – Case in point; my post 25 Social Media Etiquette Rules to Rock Your Business in 2015 is the … Go Rock Your Social Media Marketing in 2016!

The Complete Guide To Social Media Etiquette |WeRSM – We are …

wersm.com/the-complete-guide-to-social-media-etiquette/ 

(Visited 1 times, 1 visits today)