وحی متلو (قرآن ) اور غیر متلو (حدیث ) – تحقیقی جائزہ  Revelations – Quran and Hadith

قرآن کے بعد سنت رسول الله ﷺ اسلام کے بنیادی ماخذ میں شامل ہیں – قرآن کو جس  محتاط اور خاص انداز میں زبانی اور تحریری طور پر محفوظ کیا گیا ، احادیث کے معاملہ میں ابتدائی صدی میں ایسا اہتمام مفقود ہے – روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے رسول الله  نے احادیث لکھنے سے منع فرمایا کہ قرآن کے ساتھ مکس نہ ہو ،مگر بعد میں کچھ اصحاب کو اجازت دی- پھر خلفاء راشدین نے بھی احادیث کی تدوین کا اہتمام نہ کیا جبکہ قرآن سرکاری طور پر تحریر کرکہ اسلامی دنیا میں تقسیم کر دیا گیا- حضرت عمر رضی الله نے کافی غور و فکر کے بعد احادیث کو تحریر میں لانے سے انکار کیا کیونکہ پہلی امتیں کلام الله سے غفلت اور دوسری کتابوں کو ترجیح دے کر گمراہ ہو گییں- حضرت موسی علیہ السلام پر توریت نازل ہوئی  مگر تلمود ہودیوں کی مقدس کتاب بن چکی ہے جو کہ توریت کی تفسیر ہے اور یہودیوں کی من پسند بہت ساری بحثیں اس میں موجود ہیں جو توریت میں نہیں ہیں یہودیوں کے نزدیک ایک خاص اہمیت کی حامل ہے حتیٰ کہ یہودی تلمود کے مطالعہ کو توریت کی تلاوت پر ترجیح دیتے ہیں اور اس پر زیادہ یقین رکھتے ہیں۔  

تقریبا ایک صدی کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) کے دور میں لوگوں کی ذاتی تحریروں اور زبانی روایتوں کو اکٹھا کرنے کا کام شروع ہوا اور تیسری صدی ہجری میں مشہور کتب احادث مرتب ہو گیئں- اس سے مختلف سوالات اٹھتے ہیں- ایک طرف وہ لوگ ہیں جو احادیث کو وحی خفی (غیر متلو )کہتے ہیں اور قرآن کو وحی متلو اور دونوں کو برابر سمجھتے ہیں (‘وحی متلو’ اور وحی ‘غیر متلو’ اصطلاحات قرآن اور حدیث میں موجود نہیں)- الله تعالی نے قرآن میں رسول الله ﷺکی اطاعت کا حکم  بھی دیا ہے-جب ثابت ہو اور یقین ہو کہ کوئی تحریر رسول الله ﷺ کا فرمان ہے تو ‘وحی غیر متلو’ کی بحث میں پڑے بغیر أَطِيعُوا الرَّسُولَ ” سے کوئی مسلمان انکار نہیں کر سکتا- 

اب جبکہ رسول الله ﷺ سے منسوب احادیث کا عظیم خزانہ موجود ہے اور اس پر اجماع بھی ہے، اس سے فائدہ اٹھنا جاری رہنا چاہیے– آج کل ایک طبقہ منکرین حدیث کا بھی ہے جو اس عظیم ذخیرہ کا مکمل انکار کرتا ہے جبکہ دوسری طرف لوگ ان کو وحی غیر متلو قرار دے کر قرآن کے ساتھ جوڑتے ہیں- شدت پسندی اور ہٹ دھرمی کی بجایے خیال رہے کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے غیر ضروری تنقید برائے تنقید غیر مناسب ہے- اس اہم موضوع پر تمام نظریات کا تحقیقی جائزہ قرآن کی روشنی میں لینے کی ایک کوشش ہے :

  • قرآن ایک کتاب میزان ہے۔ یعنی وہ ترازو ہے جس میں رکھ کر ہر دوسری چیز کی قدر وقیمت طے کی جائے گی (الشوریٰ42:17)
  • قرآن کتاب فرقان یعنی وہ کسوٹی ہے جو کھرے اور کھوٹے کا فیصلہ کرتی ہے۔(الفرقان 25:1)
  • قرآن تمام سلسلہ وحی پر مہیمن یعنی نگران ہے۔ (المائدہ5:48)
  •  قرآن کریم  لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کرنے کے لیے اتاری گئی کتاب ہے۔ (البقرہ2:213)

قرآن سے دلائل ہر مسلمان کے لیے قبول ہیں ، قرآن، کتاب اللہ کو کسی صورت پس پشت نہیں ڈالنا کہ :

وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَـٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان 25:30)

اور پیغمبر کہیں گے کہ اے پروردگار میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا” (الفرقان 25:30)

معروف عقائد حدیث پر مضامین  :

#1  صحيح حدیث (سنت نبويہ) اللہ كى جانب سے وحى ہے : از لشیخ محمد صالح المنجد

ہر مسلمان كے دل اور عقل ميں يہ بات بيٹھ جانى چاہيے كہ سنت ـ وہ جو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے افعال يا اقوال يا تقرير كى طرف منسوب كى جائے ـ وحى الہى كى دو قسموں ميں سے ايك قسم ہے جو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر نازل كى گئى، اور وحى كى دوسرى قسم قرآن كريم ہے.  اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:” اور وہ ( نبى ) اپنى خواہش سے كوئى بات نہيں كہتے وہ تو صرف وحى ہے جو اتارى جاتى ہے” النجم ( 3 – 4 )……..[ پڑھتے جائیں …….]

#2: قرآن مجيد كامل ہے تو پھر حديث كى ضروت كيا ہے ؟

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے: { اور ہم نے آپ كى طرف يہ ذكر ( كتاب ) نازل كيا ہے تا كہ لوگوں كى جانب جو نازل كيا گيا ہے آپ اسے كھول كھول كر بيان كر ديں }النحل ( 44 ). ابن عبد البر رحمہ اللہ كہتے ہيں:اس كا بيان رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى جانب سے دو قسموں ميں ہے: پہلى قسم: كتاب اللہ ميں جو مجمل ہے اس كا بيان مثلا نماز پنجگانہ اور اس كے اوقات، اور نماز كے سجود و ركوع اور باقى سارے احكام. دوسرى قسم: كتاب اللہ ميں موجود حكم سے زيادہ حكم…… [پرھتے جائیں ……]

Hadith is also Revaluation -Traditional View:

#1. If the Qur’an is perfect and complete and contains everything needed for the laws and regulations of sharee‘ah, what need is there for the Hadeeth? [Keep reading ….. ]

#2 What is the difference between the Sunnah and the Holy Qur’aan? Is the Sunnah part of the Wahy that was revealed to the Messenger (peace and blessings of Allaah be upon him) or is it just his words and deeds? Is it one of the characteristics of Prophethood or what?. [Keep reading ….. ]

تدوین قرآن (وحی) کا طریقہٴ کار:

قرآن وحی کی آخری کتاب کو محفوظ کرنے کا خاص اہتمام کیا گے تھا – ہر آیت کے نازل ہوتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم لکھوا لیتے تھے اور زمانہ کے لحاظ سے نہایت ہی پائدار چیز پر لکھواتے تھے؛ چناں چہ پورا قرآن مجید بلا کسی کم و کاست کے لکھا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہٴ مبارکہ میں موجود تھا، اس میں نہ تو کوئی آیت لکھنے سے رہ گئی تھی اور نہ ہی کسی کی ترتیب میں کوئی کمی تھی؛ البتہ سب سورتیں الگ الگ تھیں، اور متعدد چیزوں پر لکھی ہوئی تھیں، کتابی شکل میں جلد سازی اور شیرازہ بندی نہیں ہوئی تھی-

  زبانی یاد کرنے اور کرانے کے ساتھ ہی سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیات کی حفاظت کے لیے کتابت (لکھانے) کا بھی خوب اہتمام فرمایا، نزول کے ساتھ ہی بلا تاخیر آیات قلم بند کرا دیتے تھے:

            فکان اذا نَزَلَ علیہ الشئیُ دَعَا بَعْضَ مَنْ کان یَکْتُُبُ فیقولُ: ضعوا ہٰذا في السُّورة التي یذکر فیہا کذا و کذا۔ (مختصر کنزص ۴۸ بحوالہ تدوین قرآن ص۲۷)۔

                (ترجمہ:) چناں چہ رسول اللہ ﷺ پر جب بھی کوئی آیت نازل ہوتی، تو (بلاتاخیر) جو لکھنا جانتے تھے، ان میں سے کسی کو بلاتے اور ارشاد فرماتے کہ: اس آیت کو اس سورت میں لکھو جس میں فلاں فلاں آیتیں ہیں۔

                اور مجمع الزوائد میں یہاں تک ہے: کان جبریلُ علیہ السلام یُملي علی النبيّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ (۷/۱۵۷) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت جبریل قرآن مجید لکھواتے تھے۔

                مسند احمد کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشاد فرمایا: آتاني جبریلُ فأمَرَني۔(کنز العمال ۲/۴۰) یعنی حضرت جبریل علیہ السلام نے آکر مجھے (فلاں آیت کو فلاں جگہ رکھنے کا) حکم دیا۔

                غرض یہ کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم آیات لکھانے کا بھی خوب اہتمام فرماتے تھے، اور لکھانے کے بعد سن بھی لیتے تھے، اگر کوئی فرو گذاشت ہوتی تو اس کی اصلاح فرما دیتے تھے: فإن کان فیہ سَقَطٌ أقَامہ۔(مجمع الزوائد ۱/۶۰) پھر یہ لکھی ہوئی آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاس محفوظ فرما لیتے تھے۔

                صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاکر لکھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سناتے تھے، اس طرح بہت سے صحابہٴ کرام کے پاس سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی لکھائی ہوئی آیات موجود تھیں، بعض کے پاس پورا پورا قرآن مجید لکھا ہوا تھا۔

حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے مشورہ سے جب قرآن مجید کے اجماعی نسخہ کی کتابت کا وقت آیا تو اس وقت حضرت زید بن ثابت کو پابند کیا گیا تھا کہ: جو کوئی بھی لکھی ہوئی آیت لے کر آئے ،اس سے دو گواہوں کی گواہی اس بات پر لیجیے کہ یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لکھی گئی ہے ؛چناں چہ اس پر عمل ہوا (الاتقان ۱/۷۷)

بہت سی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عہدِ نبوی میں بہت سے صحابہٴ کرام کے پاس آیات لکھی ہوئی تھیں؛ بلکہ بعض کے پاس پورا قرآن مجید بھی لکھی ہوئی شکل میں موجود تھا۔ یہاں تک کہ توبہ کی آیت ؛لقد جاء کم رسولٌ مِنْ انفسِکم اخیر سورہ تک“ صرف حضرت ابوخزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پائی، ان کے علاوہ کسی اور کے پاس نہیں پایا، ان کی تنہا شہادت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمی کی شہادت کے قائم مقام قرار دیاتھا (صحیح بخاری ۲/ ۷۴۵، ۷۴۶)

حضرت ابوبکر و عمر اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم سب حافظِ قرآن تھے ،ان کے علاوہ بھی صحابہٴ کرام میں حفاظ کی کمی نہیں تھی، اگر حضرت زید چاہتے تو اپنے حافظہ سے پورا قرآن مجید لکھ دیتے، یا حافظ صحابہٴ کرام کو اکٹھا کرکے محض ان کے حافظے کی مدد سے بھی قرآن مجید لکھا جا سکتا تھا، اسی طرح محض رسول اللہ ﷺ کے زمانہ کی لکھی ہوئی آیتوں سے بھی قرآن مجید لکھا جا سکتا تھا؛ لیکن حضرت ابوبکر نے بیک وقت سارے وسائل کو برروئے کار لانے کا حکم فرمایا، خود بھی شریک رہے، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھی حضرت زید کے ساتھ لگایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اعلان فرمایا کہ:
“جن لوگوں نے جو کچھ بھی آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لکھی ہو، وہ سب لے کر آئیں!” (فتح الباری۹/۱۷) چناں چہ جب کوئی لکھی ہوئی آیت آتی تو بلا چوں و چرا قبول نہ کی جاتی تھی؛ بلکہ اس پر دو گواہی طلب کی جاتی تھی:
وکان لا یَقْبَلُ مِنْ أحدٍ شےئاً حتی یَشْہَدَ شَاہِدَان۔ (الاتقان ۱/۷۷)
(ترجمہ:) اور کسی سے بھی کوئی آیت اس وقت تک قبول نہ کی جاتی تھی جب تک کہ اس پر دو گواہ گواہی نہ دے دیتے (کہ یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لکھی گئی، یعنی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس کی تصدیق ہو چکی ہے کہ یہ واقعتا آیتِ الٰہی ہے )۔
جمع قرآن میں درج ذیل باتیں بھی پیشِ نظر رکھی گئیں:
۱  سب سے پہلے حضرت زید اپنی یاد داشت سے اس کی تصدیق فرماتے تھے۔
۲  حضرت ابوبکر نے حضرت زید اور حضرت عمر دونوں حضرات کو حکم دیا تھا کہ: ”آپ دونوں حضرات مسجدِ نبوی کے دروازے پر بیٹھ جاےئے، پھر جو کوئی آپ دونوں کے پاس کتاب اللہ کی کوئی آیت دو گواہوں کے ساتھ لے کر آئے ،اس کو آپ دونوں لکھ لیجیے! (فتح الباری ۹/۱۷، الاتقان ۱/۷۷)

رسول اللہ ﷺ کے سامنے کتابت ہونے پر گواہیاں لی جانے کی کیا وجہ تھی؟

اس سلسلے میں حافظ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں لکھتے ہیں:

کانَ غزضُہم أن لا یُکْتَبَ الاّ منْ عَیْنِ ما کُتِبَ بین یَدَي النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم لا مِنْ مْجَرَّدِ الحِفظ۔( فتح الباری ۹/۱۷، الاتقان ۱/۷۷)
(ترجمہ:) ان کا مقصد یہ تھا کہ: صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عین سامنے لکھی گئی آیتوں کو ہی لکھا جائے، محض حافظہ سے نہ لکھا جائے۔

حافظ ابن حجر نے ہی ایک دوسری وجہ بھی لکھی ہے کہ: گواہیاں اس بات پر بھی لی جاتی تھیں کہ: دو گواہ اس بات کی گواہی دیں کہ لکھی ہوئی آیت ان وجوہ (سبعہ) کے مطابق ہے جن پر قرآن مجید نازل ہوا ہے (فتح الباری ۹/ ۱۷، الاتقان۱/۷۷)

۳ . لکھنے کے بعد صحابہٴ کرام کے پاس موجود لکھے ہوئے مجموعوں سے ملایا جاتا؛ تاکہ یہ مجموعہ متفقہ طور پر قابلِ اعتماد ہو جائے، (البرہان في علوم القرآن للزرکشی ۱/۲۳۸)

٤. حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جن حضرات کو نسخہٴ قرآن تیار کرنے کے لیے مامور فرمایا تھا، ان حضرات نے اسی نسخہ کو بنیاد بنایا تھا جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تیار کیا گیا تھا، اسی کے ساتھ مزید احتیاط کے لیے وہی طریقہ اختیار فرمایا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اختیار کیا گیا تھا؛ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی متفرق تحریریں جو مختلف صحابہٴ کرام کے پاس محفوظ تھیں، انھیں دوبارہ طلب کیا گیا اور ان کے ساتھ از سرنو مقابلہ کر کے یہ نسخے تیار کیے گئے۔ (علوم القرآن ص۱۹۱) (مکمل تفصیل /ریفرنس.. . )

? قرآن کی تدوین میں رسول اللہ ﷺ کے وقت کی تحریروں ، حفاظ، کاتب وحی، حافظ قرآن کی موجودگی کے باوجود ہر ایک آیت پر دو صحابہ کی شہادت جن کے سامنے رسول الله نے آیت لکھوائی لازم تھا-  کیا یہ میعار نمونہ نہیں احادیث کی تدوین میں؟ 

حدیث اورمستشرقین-چند بڑے اعتراضات کا جائزہ …..

تدوین ِحدیث اور اس کی تاریخ….

خبر واحد؍حدیثِ نبویﷺ کی حجیّت …

تواتر اور خبر واحد میں فرق…..

یہ اصطلاحات ” تواتر” اور “خبر واحد”  علم تاریخ کی ہیں ۔ تاریخ میں کسی بھی قسم کی معلومات کو دوسرے لوگوں اور اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کے بنیادی طور پر دو طریقے استعمال ہوئے ہیں ۔ ان میں سے ایک طریقے کو تواتر اور دوسرے کو خبر واحد کہا جاتا ہے ۔تواتر سے مراد وہ طریقہ ہے جس کے مطابق کسی خبرکو ہر دور میں اتنے زیادہ افراد بیان کرتے ہوں کہ اس کے بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجایش نہ رہے ۔ اس کے برعکس خبر واحد وہ طریقہ ہے جس کے مطابق کسی خبر کو ایک دو یا چند افراد بیان کرتے ہوں اور ان کے بیان میں غلطی یا شک و شبہ کی گنجائش باقی رہ جائے ۔…. [پرھتے جائیں ….]

غامدی صاحب اور خبر واحد 

غامدی صاحب  پر تنقیدی مضامین  …..

کیاسنت صرف ‘تواترعملی’ سے ثابت ہے؟……

حدیث کی اہمیت ..ویڈیو …

…………………………………………

وارننگ

کمزور دل فرقہ پسند حضرات مزید مطالعہ سے پرہیز فرمائیں 

People with week heart with sectarian inclinations to please refrain to proceed any further!

——–Please don’t cross this Red line————

 خلوص دل سے حق کے طلبگاروں کو صرف الله ہدایت دیتا ہے-

کیا رسول اللہ کی ہر بات، فرمان ، قول  وحی ہے ؟

کچھ لوگ سمجھتے ہیں  کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)  کی ہر بات، فرمان ، قول، عمل الله کے حکم سےتھا ، وحی سے تھا، وہ سورہ نجم کی  آیت سے دلیل دیتے ہیں:

وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ﴿٣﴾

“اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں” (نجم  53:3)

اگر یہ آیت  (نجم 53:3) سیاق و ثبات میں  دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات کی نسبت قرآن سے ہے، نہ کہ آپ کے عام ﷺ اقوال اور بات چیت سے:

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَىٰ ﴿٢﴾ وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ﴿٣﴾إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ (قرآن 53:4)

ترجمہ : ” کہ تمہارے رفیق (محمدﷺ) نہ رستہ بھولے ہیں نہ بھٹکے ہیں (2) اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں (3) یہ (قرآن) تو حکم خدا ہے جو (ان کی طرف) بھیجا جاتا ہے (4) ان کو نہایت قوت والے  (یعنی جبرائیل) نے سکھایا(نجم 53:5)

تفسیر ابن کثیر:

آپ کا علم کامل آپ کا عمل مطابق علم آپکا راستہ سیدھا آپ عظیم الشان شریعت کے شارع ، آپ اعتدال والی راہ حق پر قائم ۔ آپ کا کوئی قول کوئی فرمان اپنے نفس کی خواہش اور ذاتی غرض سے نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کی تبلیغ کا آپکو حکم الہٰی ہوتا ہے آپ اسے ہی زبان سے نکالتے ہیں جو وہاں سے کہا جائے وہی آپ کی زبان سے ادا ہوتا ہے کمی بیشی زیادتی نقصان سے آپ کا کلام پاک ہوتا ہے ، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ایک شخص کی شفاعت سے جو نبی نہیں ہیں مثل دو قبیلوں کے یا دو میں سے ایک قبیلے کی گنتی کے برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے ۔ قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر اس پر ایک شخص نے کہا کیا ربیعہ مضر میں سے نہیں ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا میں تو وہی کہتا ہوں جو کہتا ہوں ۔ مسند کی اور حدیث میں ہے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہں میں حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) سے جو کچھ سنتا تھا اسے حفظ کرنے کے لئے لکھ لیا کرتا تھا پس بعض قریشیوں نے مجھے اس سے روکا اور کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ایک انسان ہیں کبھی کبھی غصے اور غضب میں بھی کچھ فرما دیا کرتے ہیں چنانچہ میں لکھنے سے رک گیا پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے کیا تو آپ نے فرمایا لکھ لیا کرو اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری زبان سے سوائے حق بات کے اور کوئی کلمہ نہیں نکلتا یہ حدیث ابو داؤد اور ابن ابی شیبہ میں بھی ہے بزار میں ہے کہ:

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا میں تمہیں جس امر کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا-

مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا میں سوائے حق کے اور کچھ نہیں کہتا ۔ اس پر بعض صحابہ نے کہا حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کبھی کبھی ہم سے خوش طبعی بھی کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا اس وقت بھی میری زبان سے ناحق نہیں نکلتا -……..

کمنٹس :

تفسیر ابن کثیر میں ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیشہ کلمہ حق کہتے تھے جو رسول اللہکی شان ہے- مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ کی ہر ایک بات، کلام وحی ہوتا تھا-

آپ ﷺ کی حق گوئی امانت اور صداقت شک و شبہ سے بالا تھی،جس کے ظہور رسالت سے قبل بھی  کفار معترف تھے جب آپ کو “صادق” اور “امین” کے لقب سے پکارا جاتا تھا- ایک عظیم ترین انسان جو نبی بھی تھا اور جس کو علم و حکمت اللہ نے عطا فرمائی اور مزید قرآن وحی کی صورت میں نازل فرمایا، ان کے ذاتی تدبر اور عظمت کی تضعیف ان کی شان عظمت کے برخلاف ہے-

عام مشاہدہ ہے کہ بہت لوگوں میں سے اگر ایک عقلمند انسان کومنتخب کر کہ تربیت اور ہدایت دے کر کسی خاص مشن پر بھیجا جاتا ہے تو اکثر مطلوبہ نتائج حاصل کرتا ہے- اس کو قدم قدم پر لفظ بلفظ کمپوٹر کی طرح اگر کمانڈ دیں تو وہ انسان نہیں روبوٹ بن جاتا ہے-

وحی تو بہت عظیم رہنمائی ہے، جس سے آج بھی اور قیامت تک انسان ہدایت حاصل کرتے رہیں گے- عملی طریقه اور تفصیلات رسول اللہ نے پیش کر دیں، جو سنت میں محفوظ اور تواتر سےنسل در نسل منتقل ہوتی آئیں جبکہ  ابتدائی دور میں حدیث کی کتب  موجودہ شکل میں مدون نہ تھیں-

خلفاء کے اقدامات بھی اس قرآن کے علاوہ احادیث کے وحی ہونے کے دعوی کی تصدیق نہیں کرتے:

١.حضرت ابو بکر صدیق( رضی اللہ) نے اپنی لکھی پانچ سو احدیث ختم کر دیں-

٢.حضرت عمر( رضی اللہ) نےغور و فکر اور سوچ سمجھ کر احادیث لکھنے سے منع فرمادیا، کہ پچھلی امتیں کلام الله کو چھوڑ کر تباہ ہوئیں-

٣.اگر احادیث کی حثیت وحی کی تھی تو کیا خلفاء راشدین، قریب ترین اصحابہ اس اہم بات سے بے خبر تھے اور اگلی صدیوں میں یہ راز آشکار ہوا ؟

٤. خلفاء راشدین اور دو صدیوں تک کسی مسلمان حکمران نے (ما سوا عمر بن عبداللعزیز ر ح ) نے احادیث کی کتابت کرنے کا اہتمام نہ کیا- بلکہ حضرت عمر رضی الله نے بہت سوچ بچار کے بعد احدیث کی کتابت نہ کرنے کا فیصلہ کیا جس پر بعد کے حکمرانوں نے بھی من و عن عمل کیا-  (تفصیل آخر میں)-

حدیث کی بطور کلام و فرامین رسول اللہ  ﷺ قرآن کے بعد اہم ترین حثیت بلکل عیاں ہے-

امام بخاری( رح) ، امام مسلم ( رح) اور دوسرے محدثین نے ذاتی کاوشوں سے اس عظیم خزانہ کو تیسری ہجری میں اکٹھا کیا جو ہمارے پاس “صحاح ستہ” اور دوسری کتب احادیث و سنن آج موجود ہے-

………………………

تفسیرضیاء القرآن:  

تمہارے رفیق (محمدﷺ) نہ رستہ بھولے ہیں نہ بھٹکے ہیں ، یعنی کوئی غلط قدم اٹھانا، کسی باطل عقیدہ کو اپنانا تو بڑی دور کی بات ہے، ان کا تو یہ عالم ہے کہ وہ حواہش نفس سے لبوں کو جنبش بھی نہی دیتے ، ان کی زبان پر کوئی ایسی بات آتی ہی نہیں ، جس کا محرّک ان کی ذاتی خواہشات ہوں۔ ‘ھو’ کا مرجع قرآن کریم ہے۔ یہ آیت (53:4) ایک سوال کا جواب ہے ۔ جب وہ اپنی خواہش سے بولتے ہی نہیں، تو پھر جو کلام یہ لوگوں کو پڑھ کر سناتے ہیں، یہ کیا ہے؟ اس کا جواب دیا یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کیا جاتا ہے اور جیسے وحی نازل ہوتی ہے، بعینہٖ وہ اسی طرح لوگوں کو پڑھ کر سنا دیتے ہیں، اس میں سرِ مو ردّ و بدل ناممکن ہے۔

بعض علمائ کی رائے ہے کہ “ھُو” کا مرجع صرف قرآن کریم نہیں، بلکہ قرآن کریم اور جو بات حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زبان فیض ترجمان سے نکلتی ہے، وہ سب وحی ہے۔ وحی کی دو قسمیں ہیں؛ جب معانی اور کلمات سب منزل من اللہ ہوں، اسے وحی جلی کہتے ہیں جو قرآن کریم کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے اور جب معانی کا نزول تو من جانب اللہ ہو، لیکن ان کو الفاظ کا جامہ حضور نے خود پہنایا ہو، اسے وحی خفی یا وحی غیر متلو کہا جاتا ہے جیسے احادیث طیبہ ، بعض علماء نے ان آیات کے پیش نظر حضور کے اجتہاد کا انکار کیا ہے ، یعنی حضور کوئی بات اپنے اجتہاد سے نہیں کہتے، بلکہ جو ارشاد ہوتا ہے ، وہ وحی الٰہی کے مطابق ہوتا ہے ، لیکن جمہو رفقہا ء نے حضور کے اجتہاد کو تسلیم کیا ہے اور ساتھ ہی تصریح فرمائی ہے کہ یہ اجتہاد بھی باذن اللہ ہوا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ خود ہی اس اجتہاد کی پاسبانی کرتا ہے۔ حضور جو بات بذریعہ اجتہاد فرماتے ہیں، وہ بھی عین منشاء خداوندی ہوا کرتی ہے۔ علامہ آلوسی لکھتے ہیں: ان اللہ اذا سوغ لہ علیہ الصلوۃ والسلام الاجتہاد کان الجتہاد مایسند الیہ وحیالا نطقا عن الھوا ( روح المعانی)

……………………………………..

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“إِنما أقضِی بَیْنَکُمْ بِرَأْیِی فِیْمَا لَمْ یُنْزَلْ عَلَیَّ فِیہِ” (ابوداؤد، حدیث نمبر:۳۱۱۲)
جس امرکے بارے میں کوئی وحی نازل نہیں ہوتی ہے تو میں اپنی رائے سے تمہارے درمیان فیصلہ کیا کرتا ہوں۔
 
حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ روزہ کی حالت میں میں خود پر قابو نہ پاسکا، اور اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا، پھر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھ سے ایک بڑی غلطی ہوگئی ہے اور اپنا واقعہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا: “أَرَأَيْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ بِمَاءٍ وَأَنْتَ صَائِمٌ قُلْتُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفِيمَ”۔ (مسنداحمد: ۱/۵۲۔ حدیث نمبر:۳۷۲)
تمہاری کیا رائے ہے کہ اگر تم روزہ کی حالت میں پانی سے کلی کرو؟ تو میں نے عرض کیا کہ اس سے تو روزہ نہیں ٹوٹتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بوسہ سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔
گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کی تمہید، منہ میں پانی ڈالنے کے عمل پر جماع کی تمہید بوسہ کو قیاس فرمایا۔ (شرح الزقانی علی الموطا: ۲/۲۲۱)….. [مزید ……..]

…………………………………..

مزید  تحقیق و تجزیہ :

حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) بنی نوع انسان کے آخری پیغمبراورعظیم ترین انسان تھے،جن پر الله کا کلام ، بزریعہ وحی نازل ہوا (کہف ١١٠) آپ ﷺبنی نوع انسان کو الله کی ہدایت پہنچانے کے  مشن پر تھے- دین سے متعلق تعلیمات الله کی مشیت سے ہر طرح سے درجہ کمال پرمکمل ہیں – مگر بحثیت انسان اپ کے کچھ عام دنیاوی اقدامات میں درستگی کی گنجائش محسوس ہوئی ، جس کو تبدیل بھی کیا گیا-

 (66:1،80:1-4، 9:43، 3:128-129، 8:67-68، 48:2 قرآن )

یہ الله کی مشیت تھی تاکہ لوگ غلونہ کریں جس  حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا کا بیٹا بنا دیا – اس کے با وجود بہت لوگ آپ ﷺ کو نور سمجھتے ہیں اور عجیب و غریب نظریات کو قرآن و حدیث سے ثابت کرتے پائے جاتے ہیں-

 قرآن کی حفاظت کا ذمہ الله نے لیا ہے (قرآن 15:9)

ویسے تو کائنات میں ایک پتہ بھی الله کے حکم کے بغیر ہل نہیں سکتا، مگر انسان کو الله نے فہم و عقل عطا کر کہ نیکی اور برائی میں پہچان اور رہنمائی سے اختیار دیا ہے کہ انتخاب کر سکے، یہی امتحان ہے- اللہ کے پیغمبر بھی انسان اور بشر تھے مگرعام نہیں بہت خاص الله کے منتخب شدہ، ان پر الله کا خاص کرم تھا، وہ ان کی رہنمائی اور حفاظت فرماتا ہے- خاص طور پر وحی کے معاملہ میں سخت حفاظت ہے- حضرت یوسف علیہ السلام کو الله کے برہان نے گناہ سے محفوظ رکھا (12:24سورہ یوسف ).

ظاہر ہے کہ رسول الله ﷺہمیشہ حق کی بات کر تے ہیں- کیونکہ وہ الله کی طرف سے ایک مشن پر ہیں- اس کا مطلب یہ نہیں کہ حق بات کرنے کے لیے وحی لازم ہے- آپﷺ کی ہر بات کو وحی قرار دے دینا اور پھر جب کوئی عام دنیوی معاملہ میں غلطی ہو (کھجور کی پولینشن) تو اس کو ذاتی اجتہاد قرار دینا اور پھر الله کی طرف سے اس کی اصلاح .. ایک سادہ بات کو پیچیدہ بنانے کی کیا ضرورت ہے- آپ ہمیشہ حق سچ بات کرتے تھے-

اگر آپ کی ہر بات وحی سے ہوتی تو پھرآپﷺ کی کسی بات میں اصلاح کی ضرورت کیوں پیش آتی؟ [اس میں قرانی نسخ منسوخ کی تاویل بھی شامل کرنا، جس پرعلماء میں اختلاف ہے مزید پیچیدگی پیدا کرتا ہے] اور آپ ﷺکی واضح احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ آپ ﷺ دین کے علاوہ دوسرے معاملات میں بشری تقاضہ کے مطابق آراء دیتے اور تبدیل بھی کرتے تھے

قرآن مجید اور سنت رسول ﷺاسلام کی بنیاد ہے- قرآن پر عمل سے فرقہ واریت کا سد باب کیا جاسکتا ہے- قرآن کی ہر آیات اہم ، قابل غور و فکر و عمل ہے:

وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا ﴿٧٣ الفرقان﴾

اور جب انہیں ان کے پروردگار کی آیتوں کے ذریعہ سے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ بہرے اور اندھے ہوکر ان پر گر نہیں پڑتے (بلکہ ان میں غور و فکر کرتے ہیں)۔ (25:73الفرقان)

قرآن کے متعلق الله نے واضح  کر دیا کہ :

1۔ قرآن مجید رب العالمین کا نازل کردہ کلام حق ہے (آل عمران 3:60)

2.قرآن سے ملنے والا علم وہ حق ہے جس کے مقابلے میں ظن و گمان کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ (النجم 53:28)

3. قرآن مجید کلام الٰہی ہے اور اس کے کلام الٰہی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ یہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرہ 2:2)

4.اس کلام کو اللہ نے نازل کیا ہے اور وہی اس کی حفاظت کرے گا۔(الحجر15:9)

5..قرآن ایسا کلام ہے جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں جو بالکل سیدھی بات کرنے والا کلام ہے (الکہف 18:1,2)

6.قرآن کو واضح عربی کتاب کہا گیا کہ لوگ سمجھ سکیں (یوسف18:1,2)۔

7 ۔ باطل نہ اس کلام کے آگے سے آ سکتا ہے نہ پیچھے سے۔ (الفصلت 41:42)

8. یہ کتاب میزان ہے۔ یعنی وہ ترازو ہے جس میں رکھ کر ہر دوسری چیز کی قدر وقیمت طے کی جائے گی۔ (الشوریٰ42:17)

9۔ یہ کتاب فرقان یعنی وہ کسوٹی ہے جو کھرے اور کھوٹے کا فیصلہ کرتی ہے۔(الفرقان 25:1)

10۔  تمام سلسلہ وحی پر مہیمن یعنی نگران ہے۔ (المائدہ5:48)

11۔ قرآن کریم  لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کرنے کے لیے اتاری گئی ہے۔ (البقرہ2:213)

12۔ یہی وہ کتاب ہدایت ہے جس کو ترک کر دینے کا مقدمہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مخاطبین کے حوالے سے پیش کریں گے۔ (الفرقان25:30)

قرآن کو ‘حدیث’ بھی کہا گیا:

1.فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ( المرسلات 77:50)

“اب اِس (قرآن) کے بعد اور کونسا کلام  (حدیث) ایسا ہو سکتا ہے جس پر یہ ایمان لائیں؟” ( المرسلات 77:50)

2. .فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ (الأعراف 7:185)

“پھر(قرآن) کے بعد کس حدیث پر یہ لوگ ایمان لائيں گے “(الأعراف 7:185)

3.تِلْكَ آيَاتُ اللَّـهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّـهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ(الجاثية45:6)

“یہ الله کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل سچی پڑھ کر سناتے ہیں پھر اللہ اور اس کی آیتوں کو چھوڑ کر کونسی حدیث پر ایمان لائیں گے”، (الجاثية45:6)

4 .فَلْيَأْتُوا بِحَدِيثٍ مِّثْلِهِ إِن كَانُوا صَادِقِينَ ﴿ الطور 52:34﴾

اگر یہ اپنے اِس قول میں سچے ہیں تو اِسی (قرآن کی) شان کا ایک کلام بنا لائیں ( الطور 52:34)

قرآن کی عظمت، آیات کا منکر اورعذاب

اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں قرآن مجید کی حیثیت بیان کی ہے- جو کچھ قرآن مجید کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے وہ کسی دوسری چیز کے بارے میں نہیں کہا۔ قرآن مجید کے سوا کسی اور مذہبی کتاب، کسی پیغمبرسے منسوب کلام، کسی عالم اور محقق کی رائے کے بارے میں اللہ تعالیٰ اس طرح کی کوئی بات نہیں کہتے۔ اس لیے جو کوئی بھی قرآن کی آیات مبارکہ کے بارے میں شک شبہ ، تامل کرے ، اگر مگراورتاویلوں سے ان کو بے اثر کرنے کی کوشش کرے, انکار کرے تو وہ اچھی طرح سمجھ لے کہ وہ الله کی نافرمانی کی جرأت کر رہا ہے۔ اصحاب سبت  کا واقعہ ایک سبق ہے- (قرآن 7:163,166, 2:65,66).

1.وَيْلٌ لِّكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ﴿٧﴾ يَسْمَعُ آيَاتِ اللَّـهِ تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا ۖ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ  (الجاثية45:7)

ہر سخت جھوٹے گناہگار کے لیے تباہی ہے (7) جو آیات الہیٰ سنتا ہے جو اس پر پڑھی جاتی ہیں پھر نا حق تکبر کی وجہ سے اصرار کرتا ہے گویاکہ اس نے سنا ہی نہیں پس اسے دردناک عذاب کی خوشخبری دے دو  (الجاثية45:8)

2.هَـٰذَا هُدًى ۖوَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّن رِّجْزٍ أَلِيمٌ  (الجاثية45:11)

“یہ (قرآن) تو ہدایت ہے اور جو اپنے رب کی آیتوں کے منکر ہیں ان کے لیے سخت دردناک عذاب ہے”(الجاثية45:11)

  3.لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّـهِ [ کلمات اللہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ہے] (یونس 10:64)

أَطِيعُوا الرَّسُولَ

الله تعالی نے رسول الله ﷺکی اطاعت کا حکم  بھی دیا ہے (أَطِيعُوا الرَّسُولَ)

وَمَآاَرْسَلْنَامِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ  (قرآن 4:64)

“اور ہم نے جو پیغمبر بھیجا ہے اس لئے بھیجا ہے کہ خدا کے فرمان کے مطابق اس کا حکم مانا جائے”(قرآن 4:64)

  1. قُلْ أَطِيعُوا اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ ﴿آل عمران: ٣٢﴾
  2. وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ﴿آل عمران: ١٣٢﴾
  3. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا ﴿النساء: ٥٩﴾
  4. وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَاحْذَرُوا فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿المائدة: ٩٢﴾
  5. يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنفَالِ قُلِ الْأَنفَالُ لِلَّـهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّـهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَسُولَهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿الأنفال: ١﴾
  6. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿الأنفال: ٢٠﴾
  7. وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّـهَ مَعَ الصَّابِرِينَ ﴿الأنفال: ٤٦﴾
  8. قُلْ أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿النور: ٥٤﴾9. وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ﴿النور: ٥٦﴾
  9. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ ﴿محمد: ٣٣﴾
  10. أَأَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَتَابَ اللَّـهُ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَاللَّـهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ﴿المجادلة: ١٣﴾
  11. وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَإِنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿التغابن: ١٢﴾
سنت اور حدیث کی اہمیت اور فرق :
 اسلام ؛ قرآن اور سنت پر عمل کرنے کا نام ہے۔اسلام کی بنیاد صرف رسول اللہﷺ سے نقل وسماع ہے، قرآن کریم بھی رسول اللہﷺ ہی کے ذریعہ ملا ہے؛ انھوں نے ہی بتلایا[Continue reading…]

سنت رسول کی اطاعت مسلمان پر لازم ہے ….

………………………………….

حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“میری طرف سے کچھ نہ لکھو اور جس نے قرآن کے سوا کچھ لکھا ہو تو وہ اسے مٹادے-“

(صحیح مسلم،الزھد، باب التثبت فی الحدیث و حکم کتابہ العلم، حدیث:3004)

اگر آپ کا ہر قول وحی تھا تو پھر ایسا حکم کیوں ؟

…………………………….

آپ نے فرمایا: ” کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ ایک اور کتاب بھی لکھی جارہی ہے اللہ کی کتاب کو علحیدہ کرلو اور اسے خالص رکھو-“  (مسند احمد: 3/12، حدیث:11092)

اگر آپ کا ہر قول وحی تھا تو پھر ایسا حکم کیوں ؟

…………………………….

احادیث لکھنے کی ممانعت کی گئی۔ وہ حکمت یہ تھی کہ قرآن وحدیث میں التباس پید انہ ہوجائے جیسا کہ حضور اقدس  صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی سے ظاہر ہے آپ نے فرمایا :۔

امحضوا کتاب اللہ واخلصوہ۔ ….  اللہ تعالیٰ کی کتاب کو ہر قسم کے شائبۂ التباس سے پاک رکھو ۔

اگر آپ کا ہر قول وحی تھا تو پھر ایسا حکم کیوں ؟

……………………………………….

احادیث جن سے ہرعام کلام، بات ، وحی ثابت  نہیں ہوتا:

“نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دروازے پر جھگڑا کرنے والوں کی آواز سنی اور ان کی طرف نکلے۔ پھر ان سے فرمایا کہ میں تمہارے ہی جیسا انسان ہوں، میرے پاس لوگ مقدمہ لے کر آتے ہیں، ممکن ہے ایک فریق دوسرے سے زیادہ عمدہ بولنے والا ہو اور میں اس کے لیے اس حق کا فیصلہ کر دوں اور یہ سمجھوں کہ میں نے فیصلہ صحیح کیا ہے (حالانکہ وہ صحیح نہ ہو) تو جس کے لیے میں کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ کر دوں تو بلاشبہ یہ فیصلہ جہنم کا ایک ٹکڑا ہے۔” (صحیح بخاری ،حدیث نمبر: 7185)

اگر آپ کا ہر قول وحی تھا تو پھر ایسا حکم کیوں ؟

ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

” انما ظننت ظنا و لا تواخذنی باظن و لکن اذا حدثتکم عن الله شیئاً فخذوا به فانی لم اکذب علی الله۔”

” میں نے ایک گمان کیا تھا ، اس لیے میرے گمان پر نہ جاؤ لیکن جب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بات کہوں تو اس کو لازم پکڑو کیونکہ میں اللہ پر جھوٹ نہیں باندھتا۔”( صحیح مسلم ، کتاب الفضائل ، بَاب وُجُوبِ امْتِثَالِ مَا قَالَهُ شَرْعًا دُونَ  ما ذکره من معایش الدنیا علی سبیل)

اگر آپ کا ہر قول وحی تھا تو پھر ایسا حکم کیوں ؟

………………………………………..

فرمانِ رسالت مآب ﷺ ہے :

” انما انا بشر اذا امرتکم بشئ من دینکم فخذوا به و اذا امرتکم بشئ من رائ فانما انا بشر۔”

” بلاشبہ میں انسان ہوں اگر میں دین میں کسی بات کا حکم دوں کو اسے مضبوطی سے تھام لو ، لیکن اگر اپنی رائے سے فیصلہ دوں تو میں انسان ہی ہوں۔”

(صحیح مسلم ٦٠٢٢، کتاب الفضائل ، بَاب وُجُوبِ امْتِثَالِ مَا قَالَهُ شَرْعًا دُونَ  ما ذکره من معایش الدنیا علی سبیل)

اگر آپ کا ہر قول وحی تھا تو پھر ایسا حکم کیوں ؟

…………………………

٢.عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : ” سَيَأْتِيكُمْ عَنِّي أَحَادِيثُ مُخْتَلِفَةٌ، فَمَا جَاءَكُمْ مُوَافِقًا لِكِتَابِ اللَّهِ وَلِسُنَّتِي فَهُوَ مِنِّي، وَمَا جَاءَكُمْ مُخَالِفًا لِكِتَابِ اللَّهِ وَلِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي ”

ضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی صلے اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں کہ میری طرف سے کچھ اختلافی احادیث آئینگی، ان میں سے جو “کتاب اللہ” اور “میری سنّت” کے موافق ہونگی، وہ میری طرف سے ہونگی۔ اور جو “کتاب اللہ” اور “میری سنّت” کے خلاف ہونگی وہ میری طرف سے نہیں ہونگی۔

[سنن الدارقطني: كِتَابٌ فِي الأَقْضِيَةِ وَالأَحْكَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ، كتاب عمر رضي اللہ عنہ إلى أبي موسى الأشعري، رقم الحديث: 392٦(442٧) الكفاية في علم الرواية للخطيب:التَّوَثُّقُ فِي اسْتِفْتَاءِ الْجَمَاعَةِ، رقم الحديث: 311(5٠٠4)؛ذم الكلام وأهلہ لعبد اللہ الأنصاري:الْبَابُ التَّاسِعُ، بَابٌ : ذِكْرُ إِعْلَامِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ ۔.۔ رقم الحديث: 589(٦٠٦)؛الأباطيل والمناكير والمشاهير للجورقاني: كِتَابُ الْفِتَنِ، بَابُ : الرُّجُوعِ إِلَى الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ رقم الحديث:2٧٧(29٠5) الكامل في ضعفاء الرجال  » من ابتدا أساميهم صاد » من اسمہ صالح؛ رقم الحديث: 4284٦) التَّوَثُّقُ فِي اسْتِفْتَاءِ الْجَمَاعَةِ » التَّوَثُّقُ فِي اسْتِفْتَاءِ الْجَمَاعَةِ؛ رقم الحديث: 311]

اگر آپ کا ہر قول وحی تھا تو پھر ایسا حکم کیوں ؟

……………………………………….

احادیث کے مختلف درجات ہیں، صحیح، مرسل، ضعیف،وغیرہ  مگر قرآن کی آیات محکم ہیں، جس پر کوئی شک نہیں اور سنت نبی ﷺ آپ ﷺ کا متواترعمل ہے جو لا تعداد صحابہ نے  دیکھا اور عمل کیا جو نسل در نسل تواتر سے منتقل ہوا اس لیے اس کا سٹیٹس حدیث سے منتقلی کے معیار کی وجہ سے بہتر ہے- رسول اللہ ﷺ کے حکم کے مطابق حدیث کو قرآن و سنت سے پرکھنا ہے- سنت کا نمونہ پیغمرﷺ نے پیش کیا اور پھر اس کے بعد اصحاب اکرام اور تابعین سے ہوتا ہوا موجودہ زمانے تک پہنچا ہے اسی ليے اس میں امت کے اجتماعی درست طریقۂ کار یا ‘راہ’ کا مفہوم بھی شامل ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عموماً اس کے ساتھ الجماعت کا لفظ لگا کر سنت و الجماع بھی کہا جاتا ہے۔

………………………….

شاہ والی الله فرماتے ہیں کہ:”نبی کی تعلیم میں ایک جزو اس کی قوم کے مزاج اور اس کی خصوصیات سے تعلق رکھتا ہے، کوئی نبی تمام اقوام کے مزاج کے مطابق اور مختلف ملتوں کی روایت کے موافق الگ الگ شریعتیں تو پیش نہیں کر سکتا- اسے پہلے اپنی قوم ہی کو تیار کرنا ہے تا کہ اس کی اساس پر ایک کلی شریعت کی تعمیر بعد میں قائم ہو سکے- نبی کلی حقائق کا اطلاق اپنی قوم کے مخصوص حالات پر کرتا ہے اور ان کی اصلاح کی کوشش کرتا ہے- لیکن کسی کل کا ایک جزو کی حالت پر اطلاق جذییت اور ہنگامی اصلاح کو کلی نہیں بنا سکتا- جرائم اور ان کی سزائیں خاص طور پر قومی مزاج سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کا اطلاق ہمیشہ تک تمام اقوام پر نہیں ہو سکتا-“

…………………………………………………

کلام الله پرایمان  عمل مسلمان پرفرض ہے:

1.وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ (2:256قرآن )

ہم نے حکم سنا اور اطاعت قبول کی (2:256قرآن )

2.وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَ ۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِ مُلْتَحَدًا (قرآن18:27

اور اپنے پروردگار کی کتاب جو تمہارے پاس بھیجی جاتی ہے پڑھتے رہا کرو۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاؤ گے(18:27قرآن)

3.وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا (قرآن18:28)

اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے اس کا کہا نہ ماننا (18:28قرآن)

4.وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا (قرآن25:73)

“اور جب انہیں ان کے پروردگار کی آیتوں کے ذریعہ سے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ بہرے اور اندھے ہوکر ان پر گر نہیں پڑتے (بلکہ ان میں غور و فکر کرتے ہیں)۔  (قرآن25:73)

وَعَنْ عَلِیِّ رَضِیَ اﷲُعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ یُوْشِکُ اَنْ یَّاْتِیَ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یَبْقَی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّا اسْمُہۤ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْاٰنِ اِلَّا رَسْمُہ، مَسَاجِدُ ھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِنَ الْھُدٰی عُلَمَآءُ ھُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ اٰدِیْمِ السْمَآءِ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)

” اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدتر ہوں گے۔ انہیں سے (ظالموں کی حمایت و مدد کی وجہ سے ) دین میں فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا (یعنی انہیں پر ظالم) مسلط کر دیئے جائیں گے۔” (بیہقی)

یہ حدیث اس زمانہ کی نشان دہی کر رہی ہے جب عالم میں اسلام تو موجود رہے گا مگر مسلمانوں کے دل اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہوں گے، کہنے کے لئے تو وہ مسلمان کہلائیں گے مگر اسلام کا جو حقیقی مدعا اور منشاء ہے اس سے کو سوں دور ہوں گے۔ قرآن جو مسلمانوں کے لئے ایک مستقل ضابطۂ حیات اور نظام علم ہے اور اس کا ایک ایک لفظ مسلمانوں کی دینی و دنیاوی زندگی کے لئے راہ نما ہے۔ صرف برکت کے لئے پڑھنے کی ایک کتاب ہو کر رہ جائے گا۔ چنانچہ یہاں ” رسم قرآن” سے مراد یہی ہے کہ تجوید و قرأت سے قرآن پڑھا جائے گا، مگر اس کے معنی و مفہوم سے ذہن قطعاً نا آشنا ہوں گے، اس کے اوامر و نواہی پر عمل بھی ہوگا مگر قلوب اخلاص کی دولت سے محروم ہوں گے۔

مسجدیں کثرت سے ہوں گی اور آباد بھی ہوں گی مگر وہ آباد اس شکل سے ہوں گی کہ مسلمان مسجدوں میں آئیں گے اور جمع ہو قرآنں گے لیکن عبادت خداوندی، ذکر اللہ اور درس و تدریس جو بناء مسجد کا اصل مقصد ہے وہ پوری طرح حاصل نہیں ہوگا۔

اسی طرح وہ علماء جو اپنے آپ کو روحانی اور دینی پیشوا کہلائیں گے۔ اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر مذہب کے نام پر امت میں تفرقے پیدا کریں گے، ظالموں اور جابروں کی مدد و حمایت کریں گے۔ اس طرح دین میں فتنہ و فساد کا بیج بو کر اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کریں گے۔ (مشکوۃ شریف ۔ جلد اول ۔ علم کا بیان ۔ حدیث 263)

نزول وحی:

الله نے حضرت محمدﷺ کو وحی بھیجی جس طرح حضرت نوح اور دوسرے پیغمبروں کو بھیجی تھی:

إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَىٰ نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِهِ ۚوَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيسَىٰ وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَيْمَانَ ۚ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا ( قرآن 4:163)

(اے محمدﷺ) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور ان سے پچھلے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی۔ اور ابراہیم اور اسمعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف بھی ہم نے وحی بھیجی تھی اور داؤد کو ہم نے زبور بھی عنایت کی تھی  (4:163)

پیغمبروں کی  ہر بات وحی نہیں ہوتی تھی وہ اپنی طرف سے بات چیت کرتے ہیں انسانوں کی طرح، پیغمبر ہونے کی وجہ سے ان پر الله کا خاص کرم ہوتا ہے کہ وہ حق بات کرتے ہیں مگر بشری تقاضے بھی ہیں- کسی غلطی کی الله اصلاح فرما دیتے ہیں- حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے کافر بیٹے کی جان بچانے کی درخوست کی جس پر اللہ نے تنبیہ فرمائی:

وَنَادَىٰ نُوحٌ رَّبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ ﴿٤٥﴾وَنَادَىٰ نُوحٌ رَّبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ ﴿٤٥﴾قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ۖ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ۖ فَلَا تَسْأَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۖ إِنِّي أَعِظُكَ أَن تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ ﴿٤٦﴾قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ ۖ وَإِلَّا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُن مِّنَ الْخَاسِرِينَ ﴿سورة هود٤٧﴾

“نوحؑ نے اپنے رب کو پکارا کہا “اے رب، میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے” (45) جواب میں ارشاد ہوا “اے نوحؑ، وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے، لہٰذا تو اُس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت تو نہیں جانتا، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے” (46)نوحؑ نے فوراً عرض کیا “اے میرے رب، میں تیری پناہ مانگتا ہوں اِس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں اگر تو نے مجھ معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہو جاؤں گا”( قرآن 11:47)

اسی طرح حضرت محمدﷺ کے واقعات کچھ  قرآن میں بھی بیان ہوے،جو آپ کے ہر اقدام یا فرمان کو وحی ثابت نہیں کرتے (ریفرنس:66:1، 80:1-4، 9:43،  3:128-129، 8:67-68، 48:2)- ایک مثال یہ روایت ہے کہ آپ نے مدینہ کے بعض لوگوں کو دیکھا کہ وہ نر کھجور کے ساتھ مادہ کھجور کی پیوند کاری کرتے تھے ۔آپ نے لوگوں کو ایسا کرنے سے اشارتاً منع کر دیا جس کہ وجہ سے اگلی فصل کم ہوئی تو آپ نے صحابہ کو حکم دیا کہ :”پیوند کاری کرو ،کیونکہ دنیاوی امور کو تم زیادہ بہتر جانتے ہو”۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آپ ﷺ کی ہر بات وحی نہیں ہوتی تھی-

اس موضوع پر کہ ”آپ کا ہر قول ہمارے لیے شریعت نہیں ہے ” شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی کتاب ‘ حجة اللہ البالغة’ میں ‘ المبحث السابع: مبحث استنباط الشرائع من حدیث النبی’ کے تحت مختصر لیکن بہت عمدہ بحث کی ہے ۔

سوره نجم کی آیات(قرآن 53:3,4) میں وحی کی نسبت قرآن کے متعلق  ہے-

الله تعالی نے قرآن کو وحی کہا اور اس کا وارث امت مسلمہ کو قرار دیا، کسی اور وحی کا نہ ذکر ہے نہ وارثت!

وَٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ مِنَ ٱلْكِتَـٰبِ هُوَ ٱلْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ۗ إِنَّ ٱللَّـهَ بِعِبَادِهِۦ لَخَبِيرٌۢ بَصِيرٌ ﴿٣١﴾ ثُمَّ أَوْرَثْنَا ٱلْكِتَـٰبَ ٱلَّذِينَ ٱصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖفَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِۦ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِٱلْخَيْرَٰتِ بِإِذْنِ ٱللَّـهِ ۚذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَضْلُ ٱلْكَبِيرُ۔۔۔ (قرآن ٣٥:٣١،٣٢)

(اے نبیؐ) جو کتاب ہم نے تمہاری طرف وحی کے ذریعہ سے بھیجی ہے وہی حق ہے، تصدیق کرتی ہوئی آئی ہے اُن کتابوں کی جو اِس سے پہلے آئی تھیں بے شک اللہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے (31) پھر ہم نے اس کتاب کا وارث بنا دیا اُن لوگوں کو جنہیں ہم نے (اِس وراثت کے لیے) اپنے بندوں میں سے چن لیا اب کوئی تو ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے، اور کوئی بیچ کی راس ہے، اور کوئی اللہ کے اذن سے نیکیوں میں سبقت کرنے والا ہے، یہی بہت بڑا فضل ہے (قرآن ٣٥:٣١،٣٢)

آیت کا مفہوم بلکل واضح ھے کہ جو کچھ بھی وحی ھے وہ  کتاب یعنی قرآن ھے ۔۔ مزید یہ کہ ” ثُمَّ أَوْرَثْنَا ٱلْكِتَـٰبَ ” سے مزید وضاحت کر دی گئی ھے کہ وحی صرف کتاب ھے ۔۔ جس کا وارث امت مسلمہ کو بنایا گیا ھے ۔۔ امت مسلمہ صرف کتاب کی وارث ھے ،  وحی اگر قرآن سے باھر بھی ھوتی تو یہ امت اس کی بھی وارث قرار پاتی ۔۔ یہ آیت کریمہ ایسی برھان قاطع ھے ، کہ اس کے علاوہ کسی اور دلیل کی ضرورت ھی نہیں رھتی۔ امت مسلمہ صرف قرآن کی وارث ھے اور اس کے اتباع کی مکلف-

لیکن “رسول کی اطاعت” کا بھی قرآن حکم دیتا ہے تو سنت رسول بھی شامل ہو جاتی ہے-

[عربی زبان ، گرامر اور لغت جاننے والے ، اس بات کو سمجھنے میں کوئی مشکل محسوس نہیں کریں گے کہ آیت مذکورہ میں لفظ ” من ” بیانیہ ھے ، اور کسی صورت میں بھی” تبعیضیہ ” نہیں بن سکتا۔۔ کیوں کہ اگر یہاں ” من ” کو ” تبعیضیہ” مانا جائے تو اس کا مطلب یہ ھوگا کہ قرآن کا کچھ حصہ حق ھے اور کچھ باطل ۔۔۔۔۔ جو قطعی طور پر متفق علیہ درست نہیں ۔۔۔۔۔ اس لیے یہاں” من ” بیانیہ ھی لیا جائے گا]

وَٱتْلُ مَآ أُوحِىَ إِلَيْكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَ ۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَـٰتِهِۦ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِۦ مُلْتَحَدًا ۔۔(قرآن ۱۸:۲۷ )

اے نبیؐ! تمہارے رب کی کتاب میں سے جو کچھ تم پر وحی کیا گیا ہے اسے (جوں کا توں) سنا دو، کوئی اُس کے فرمودات کو بدل دینے کا مجاز نہیں ہے، (اور اگر تم کسی کی خاطر اس میں رد و بدل کرو گے تو) اُس سے بچ کر بھاگنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پاؤ گے”۔(قرآن۱۸:۲۷ )

کوئی قرآن کے فرمودات کو بدل دینے کا مجاز نہیں ہے

اگر آپ کا ہر قول وحی تھا تو پھر ایسا حکم کیوں ؟

وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ ۖ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا ﴿٢٨﴾وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ ۖ فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ ۚ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا ۚ وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ ۚ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَاءَتْ مُرْتَفَقًا ﴿٢٩﴾

“اور اپنے دل کو اُن لوگوں کی معیت پر مطمئن کرو جو اپنے رب کی رضا کے طلب گار بن کر صبح و شام اُسے پکارتے ہیں، اور اُن سے ہرگز نگاہ نہ پھیرو کیا تم دنیا کی زینت پسند کرتے ہو؟ کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جس نے اپنی خواہش نفس کی پیروی اختیار کر لی ہے اور جس کا طریق کار افراط و تفریط پر مبنی ہے (28) صاف کہہ دو کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے، اب جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کر دے ہم نے (انکار کرنے والے) ظالموں کے لیے ایک آگ تیار کر رکھی ہے جس کی لپٹیں انہیں گھیرے میں لے چکی ہیں وہاں اگر وہ پانی مانگیں گے توایسے پانی سے ان کی تواضع کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا اور ان کا منہ بھون ڈالے گا، بدترین پینے کی چیز اور بہت بری آرامگاہ! (29)

إِنَّمَآ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَـٰذِهِ ٱلْبَلْدَةِ ٱلَّذِى حَرَّمَهَا وَلَهُۥ كُلُّ شَىْءٍ ۖوَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ ﴿٩١﴾ وَأَنْ أَتْلُوَا۟ ٱلْقُرْءَانَ ۖ فَمَنِ ٱهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِى لِنَفْسِهِۦ ۖ وَمَن ضَلَّ فَقُلْ إِنَّمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلْمُنذِرِينَ ۔(قرآن ٢٨:٩٢)

(اے محمدؐ، اِن سے کہو) “مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ اِس شہر کے رب کی بندگی کروں جس نے اِسے حرم بنایا ہے اور جو ہر چیز کا مالک ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلم بن کر رہوں (91) اور یہ قرآن پڑھ کر سناؤں” اب جو ہدایت اختیار کرے گا وہ اپنے ہی بھلے کے لیے ہدایت اختیار کرے گا اور جو گمراہ ہو اُس سے کہہ دو کہ میں تو بس خبردار کر دینے والا ہوں (قرآن ٢٨:٩٢)

“کتاب” اور “ما انزل” ایک ھی چیز ھے ۔۔

یہ عقیدہ بھی بہت شدت کے ساتھ موجود ھے کہ “کتاب” کا مطلب قرآن ھے ، لیکن “ما انزل” میں قرآن کے علاوہ بھی حضور ۖ  پر کچھ نازل ھوتا تھا ۔۔ انھیں حدیث کا نام دیا جاتا ھے-

“کتاب” اور “ما انزل”  کا مطلب صرف قرآن ھے:

وَهَـٰذَا كِتَـٰبٌ أَنزَلْنَـٰهُ مُبَارَكٌ فَٱتَّبِعُوهُ وَٱتَّقُوا۟ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (قرآن ٦:١٥٥)

اور اسی طرح یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے، ایک برکت والی کتاب پس تم اِس کی پیروی کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو، بعید نہیں کہ تم پر رحم کیا جائے(قرآن ٦:١٥٥)

اگر آپ کا ہر قول وحی تھا تو پھر قرآن کے متعلق خاص حکم اور احدیث کے متعلق ایسا حکم کیوں نہیں ؟

ٱتَّبِعُوا۟ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ ۗ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ (قرآن ٧:٣)

لوگو، جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اُس کی پیروی کرو اور اپنے رب کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو مگر تم نصیحت کم ہی مانتے ہو (قرآن ٧:٣)

غور فرمائیں ، آیت مبارکہ (قرآن ٦:١٥٥)  میں کتاب کی پیروی کا حکم دیا جارھا ھے ، اور آیت ۔ قرآن ٧:٣) میں ” ما انزل “کی پیروی کا حکم دیاگیا ھے ۔۔ جو اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ھے کہ کتاب اور ” ما انزل “ایک ھی سکہ کے دو رخ ھیں ۔۔ کتاب ھی” ما انزل “ھے اور “ما انزل “بھی صرف “کتاب” ھی ھے-

علم حدیث , فرقہ واریت اورقران – تحقیقی مضامین >>>>>

اللہ تعالی نے یہ چیلنج  دیا ھوا ھے ، کہ اگر تم سمجھتے ھو کہ یہ کتاب اللہ یعنی قرآن ، اللہ کی جانب سے نہیں ھے اور یہ محمد ۖ  خود گھڑ لیتے ھیں یا کوئی اور انسان انھیں سکھا جاتا ھے ، تو پھر تم سب مل کر اس کے جیسی ایک سورہ بنا کہ لاؤ :

وَإِن كُنتُمْ فِى رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا۟ بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِۦ وَٱدْعُوا۟ شُهَدَآءَكُم مِّن دُونِ ٱللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ (قرآن ٢:٢٣)

” اور اگر تمہیں اس چیز میں شک ہے جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے تو ایک سورت اس جیسی لے آؤ اور الله کے سوا جس قدر تمہارے حمایتی ہوں بلا لو اگر تم سچے ہو” (قرآن ٢:٢٣)

الله کا چیلنج ہے “مما نزلنا “..  جو محمد ۖ پر نازل ھوا ، فرمایا کہ  اس جیسی ایک سورة بنا لاو- اب سوال یہ ھے کہ ” ما انزل “اگر قرآن کے علاوہ بھی کچھ تھا ، تو یہ چیلنج تو پھر اس  “ما انزل “کے لیے بھی ھے-وہ لوگ جو خارج از قرآن وحی کے دعوے دار ھیں ، کیا ان کی اس خود ساختہ وحی کی بھی سورتیں ھوتی ھیں ۔۔ اور کیا اس کی مثل بھی نہیں بن سکتی ۔۔۔ اور کیا وہ خارج از قرآن وحی ، اس دور میں تحریری شکل میں موجود تھیں ، کہ جن کو دیکھ کر ، وہ لوگ بھی اس کی مثل بنا کر لے آتے ۔۔ اور اگر ایسا نہیں تھا ۔ تو کیا یہ بات کسی ذی شعور انسان سے بھی منسوب کی جا سکتی ھے کہ وہ ایسی بات کو مطالبہ کر ے جس کا کوئی وجود ھی نہ ھو ۔۔ کجا کہ اللہ کریم سے-

اس آیت میں معارضہ” مما نزلنا “کا کیا گیا ھے ۔۔ صرف قرآن کا نہیں ۔۔ یہاں یہ بات بڑی غور طلب ھے ، کہ اگر قرآن کریم کے علاوہ بھی کوئی شئے ، منزل من اللہ ھوتی ، تو اس کے معارضے کی بھی تحدی پیش کی جاتی ، اور ارشاد ھوتا ، کہ  ۔۔

فاتو بسورة او بحدیث من مثلہ ۔۔ لیکن یہاں” مما نزلنا “کو ، صرف سورتوں پر مشتمل قرار دیا گیا ھے ۔ نیز اس آیت مبارکہ میں منزل من اللہ کا محک و میزان ، نکھار کر پیش کر دیاگیا ھے ، کہ منزل من اللہ صرف وہ ھی ھو سکتا ھے کہ جس کی مثل نہ بن سکے ، اور اس معیار پر تو صرف اور صرف یہ کتاب اللہ یعنی قرآن حکیم ھی اترتا ھے ۔ کہ جس کا مثل آج تک نہیں بنایا جا سکا ۔ ورنہ روایات کا مثل تو اس قدر کثیر تعداد میں ھے ، کہ اس کی صحت و سقم جانچنے کے لیے ، مستقل ایک علم درکار ھے ۔ اس کے باوجود آج تک احادیث پر تحقیق اور درجہ بندی کا کام جاری ہے محترم ناصر البانی رح نے بہت سی احادیث کی حثیت تبدیل کی ہے اور مستقبل میں بھی یہ کم جاری رہے گا

١. استدلال کہ آپ کی ہر بات وحی ہوتی تھی  احادیث سے ثابت نہیں ہوتا

٢.خلفاء راشدین جن کی ہدایت پررسول الله نے  مسلمانوں کو چلنے کا حکم دیا تھا ، اور صحابہ اکرام کوعلم نہ تھا کہ احادیث “وحی غیر متلو ، یا وحی خفی” تھیں، وہ کیا احادیث کی اہمیت سے لا علم تھے کہ کتابت حدیث کا اہتمام تب بھی نہ کیا جبکہ قرآن کی کتابت مکمل ہو چکی تھی؟

٣. قرآن اور حدیث کی تمام کتب میں تلاش کیا مگر کہیں  “وحی متلو” اور “وحی غیر متلو” نہ مل سکی- صرف ایک صحیح بخاری حدیث نمبر ٥٠١٩ میں اردو ترجمہ میں بریکٹ میں (وحی متلو) اور اضافی ہے ، عربی سکرپٹ اور انگریزی ترجمہ میں یہ الفاظ موجود نہیں، زبردستی اردو ترجمہ میں ڈالے گئے، ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اصطلاحات نہ قرآن نہ حدیث میں بلکہ بعد کی ایجاد ہے-

حدثنا قتيبة بن سعيد، ‏‏‏‏‏‏حدثنا سفيان، ‏‏‏‏‏‏عن عبد العزيز بن رفيع، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ دخلت انا وشداد بن معقل على ابن عباس رضي الله عنهما، ‏‏‏‏‏‏فقال له شداد بن معقل:‏‏‏‏ اترك النبي صلى الله عليه وسلم من شيء، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ “ما ترك إلا ما بين الدفتين”، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ ودخلنا على محمد بن الحنفية فسالناه، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ “ما ترك إلا ما بين الدفتين”.

“ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالعزیز بن رفیع نے بیان کیا کہ میں اور شداد بن معقل ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گئے۔ شداد بن معقل نے ان سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قرآن کے سوا کوئی اور بھی قرآن چھوڑا تھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (وحی متلو) جو کچھ بھی چھوڑی ہے وہ سب کی سب ان دو گتوں کے درمیان صحیفہ میں محفوظ ہے عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ ہم محمد بن حنیفہ کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے اور ان سے بھی پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی وحی متلو چھوڑی وہ سب دو دفتیوں کے درمیان (قرآن مجید کی شکل میں) محفوظ ہے۔”

Narrated `Abdul `Aziz bin Rufai’: Shaddad bin Ma’qil and I entered upon Ibn `Abbas. Shaddad bin Ma’qil asked him, “Did the Prophet leave anything (besides the Qur’an)?” He replied. “He did not leave anything except what is Between the two bindings (of the Qur’an).” Then we visited Muhammad bin Al-Hanafiyya and asked him (the same question). He replied, “The Prophet did not leave except what is between the bindings (of the Qur’an).[USC-MSA web (English) Reference: Book 61 , Number 537]

http://www.islamicurdubooks.com/Sahih-Bukhari/hadith.php?vhadith_id=5905&zoom_highlight=5019

٤.اگرچہ وحی  غیر متلو قرآن و حدیث میں نہیں ، یہ کہنا کہ آپ اگرذاتی اجتہاد سے کوئی بات کرتے اور اگر وہ درست نہ ہوتی تو الله  درست فرما دیتے تھے، اس کی کیا سند ہے؟ .یہ کس آیات قرآن یا حدیث سے ثابت ہے یا علماء کی ذاتی رائے ؟

٤.اگر آپ ﷺ ہر بات وحی سے کرتے تھے تووحی پراجتہاد کیسا؟

٥. بعد میں درستگی کی کیا ضرورت؟

٦. یہ کہنا کہ جن احادیث میں اختلاف ہیں وہ منسوخ شدہ ہیں،– یہ معاملہ قرآن میں کچھ احکام کے بتدریج نفاذ سے مختلف ہے- قرآن میں نسخ ومنسوخ پرعلماء میں اختلاف ہے، علیحدہ بحث ہے. اگر تسلیم بھی کرلیں توکیس ٹو کیس تفصیل سے ثابت کرنا ہو گا؟

٧. احادیث کی کتابت کا اہتمام نہ قرآن کی طرح ہوا  نہ خلفاء راشدین نے ، تدوین حدیث ایک انسانی کوشش ہے جس میں احادیث کا انتخاب اور تحقیق محدثین پر منحصر تھی، ان کتب میں منسوخ احادیث کو کیوں رکھا ہوا ہے؟ یا ان کے ساتھ منسوخ لکھا جا سکتا ہے تاکہ کنفیوزن نہ ہو- ٨.قران کی طرح احادیث کی کتابت کا اہتمام خلفاء راشدین اور ان کے بعد کی صدی تک کے حکمرانوں نے نہ کیا- حضرت عمر فاروق رضی الله نے سختی سے احادیث کو لکھنے سے منع فرمایا ، جس پر بعد میں بھی کوئی تبدیلی نہ ہوئی-  ان کا قول بہت مشہور ہے-:

“القرآن حسبنا كتاب الله” (ہمارے لیے تو اللہ کی کتاب بس کافی ہے)(صحیح بخاری # 4432)

٩. حضرت عمر فاروق رضی الله کی تشویش کہ قرآن کے ساتھ کسی اور کتاب سے قرآن پر توجہ کم ہو جایے گی جس طرح پہلی اقوام تباہ ہویں کتاب اللہ کو چھوڑ کر وہی حال مسلمانوں کا ہو گا، درست ثابت ہو رہا ہے- وہ صرف قرآن اور سنت پر مطمئن تھے جو تواتر سے نسل در نسل منتقل ہوتی- احادیث بتدریج زبانی روایت پر رہتیں، اس طرح سے احادیث علماء اور محدثین کی دسترس میں محفوظ رہتیں اور اکثریت قرآن پر توجہ رکھتی- ملسمان قرآن کو صرف تلاوت کرتے ہیں ، لا تعداد فرقوں میں تقسیم ہو چکے ہیں کیونکہ اللہ کی رسی قرآن کو چھوڑ چکے ہیں-علماء بھی قرآن کو چھوڑ کر احادیث اور بحث  مباحثوں میں مشغول ہیں-

١٠. قرآن کو ترک کر دینے کا مقدمہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مخاطبین کے حوالے سے پیش کریں گے:

وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَـٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان25:30)

“اور پیغمبر کہیں گے کہ اے پروردگار میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا” (الفرقان)25:30)

١١. قرآن کو چھوڑ کر اسلام سے دوری :

وَعَنْ عَلِیِّ رَضِیَ اﷲُعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ یُوْشِکُ اَنْ یَّاْتِیَ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یَبْقَی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّا اسْمُہۤ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْاٰنِ اِلَّا رَسْمُہ، مَسَاجِدُ ھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِنَ الْھُدٰی عُلَمَآءُ ھُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ اٰدِیْمِ السْمَآءِ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)

” اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدتر ہوں گے۔ انہیں سے (ظالموں کی حمایت و مدد کی وجہ سے ) دین میں فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا (یعنی انہیں پر ظالم) مسلط کر دیئے جائیں گے۔” (بیہقی)

یہ حدیث اس زمانہ کی نشان دہی کر رہی ہے جب عالم میں اسلام تو موجود رہے گا مگر مسلمانوں کے دل اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہوں گے، کہنے کے لئے تو وہ مسلمان کہلائیں گے مگر اسلام کا جو حقیقی مدعا اور منشاء ہے اس سے کو سوں دور ہوں گے۔ قرآن جو مسلمانوں کے لئے ایک مستقل ضابطۂ حیات اور نظام علم ہے اور اس کا ایک ایک لفظ مسلمانوں کی دینی و دنیاوی زندگی کے لئے راہ نما ہے۔ صرف برکت کے لئے پڑھنے کی ایک کتاب ہو کر رہ جائے گا۔ چنانچہ یہاں ” رسم قرآن” سے مراد یہی ہے کہ تجوید و قرأت سے قرآن پڑھا جائے گا، مگر اس کے معنی و مفہوم سے ذہن قطعاً نا آشنا ہوں گے، اس کے اوامر و نواہی پر عمل بھی ہوگا مگر قلوب اخلاص کی دولت سے محروم ہوں گے۔

مسجدیں کثرت سے ہوں گی اور آباد بھی ہوں گی مگر وہ آباد اس شکل سے ہوں گی کہ مسلمان مسجدوں میں آئیں گے اور جمع ہو قرآنں گے لیکن عبادت خداوندی، ذکر اللہ اور درس و تدریس جو بناء مسجد کا اصل مقصد ہے وہ پوری طرح حاصل نہیں ہوگا۔

اسی طرح وہ علماء جو اپنے آپ کو روحانی اور دنی پیشوا کہلائیں گے۔ اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر مذہب کے نام پر امت میں تفرقے پیدا کریں گے، ظالموں اور جابروں کی مدد و حمایت کریں گے۔ اس طرح دین میں فتنہ و فساد کا بیج بو کر اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کریں گے۔ (مشکوۃ شریف ۔ جلد اول ۔ علم کا بیان ۔ حدیث 263)

١٢. اب جبکہ رسول الله سے منسوب احادیث کا ذخیرہ موجود ہے اور اس پر اجماع ہے، اس سے فائدہ اٹھنا جاری رہنا چاہیے-  مدارس میں تحقیق ہونی چاہیے تاکہ جن احادیث کی سند مشکوک ہے ان کو منسوخ کرنے کی تجا ویز دی جا سکیں- یہ ایک طویل محنت طلب اور احتیاط کا  پراسس ہے جس پر کئی عشرے لگ سکتے ہیں مگر کم کا آغاز کے جا سکتا ہے-

١٣. قرآن مجید کو جو اہمیت اور حثیت الله اور رسول اللہ ، صحابہ نے دی اس کو بحال کرنے کے لیۓ ٹھوس اقدامات کی فوری ضرورت ہے- جس میں قرانی عربی کی ترویج ، قرآن کو ترجمہ سے پڑھنا اور سمجھنا بنیادی قدم ہے- ہماری فلاح اور ترقی کا راستہ قرآن و سنت پر عمل سے حاصل ہو سکتا ہے-

١٤. فرقہ واریت کے خاتمہ کے لیے پہلا قدم موجودہ فرقہ وارانہ القاب کو ختم کرکہ صرف قرآن کا عطا کردہ نام “مسلمان” کو فروغ دیا جاۓ- مدارس ، مساجد اور دفاتر سے فرقہ وارانہ ناموں اور نشانات کو ختم کرکہ سادگی اختیار کی جایے –

١٥. مکمل کوشش ہو کہ جدید ترقی پزیر معاشرہ میں قدم بقدم  سادہ اصل اسلامی معاشرہ قائم کرنے میں اخلاص سے کوشش کی جایے – اس میں سول سوسائٹی اور تمام فیلڈز کے ایکسپرٹس کو علماء کے ساتھ مل جل کر کام کرنا ہوگا-

١٦. حکومت ، سیاسی پارٹیوں پر پریشر بلڈ کرنے میں عوام اور تمام شعبہ جات میں لیڈرشپ کردار ادا کر سکتی ہے- پرائیویٹ لیول پر عوام مساجد سے مہم کا آغازکر سکتے ہیں-

١٧. تمام مکاتب فکر کے علماء اور عوام  متفق ہوں قرآن پر جوکہتا ہے کہ اختلافات کا فیصلہ اللہ  کرے گا- قرآن مجید اسلام کی بنیاد ہے- قرآن پر عمل سے فرقہ واریت کا سد باب کیا جاسکتا ہے- قرآن کی ہر آیات اہم ، قابل غور و فکر و عمل ہے:

وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا ﴿٧٣ الفرقان﴾

اور جب انہیں ان کے پروردگار کی آیتوں کے ذریعہ سے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ بہرے اور اندھے ہوکر ان پر گر نہیں پڑتے (بلکہ ان میں غور و فکر کرتے ہیں)۔ (25:73الفرقان)

قرآن کے متعلق الله نے واضح  کر دیا کہ :

1۔ قرآن مجید رب العالمین کا نازل کردہ کلام حق ہے (آل عمران 3:60)

2.قرآن سے ملنے والا علم وہ حق ہے جس کے مقابلے میں ظن و گمان کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ (النجم 53:28)

3.قرآن مجید کلام الٰہی ہے اور اس کے کلام الٰہی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ یہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرہ 2:2)

4.اس کلام کو اللہ نے نازل کیا ہے اور وہی اس کی حفاظت کرے گا۔(الحجر15:9)

5..قرآن ایسا کلام ہے جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں جو بالکل سیدھی بات کرنے والا کلام ہے (الکہف 18:1,2)

6.قرآن کو واضح عربی کتاب کہا گیا کہ لوگ سمجھ سکیں (یوسف18:1,2)۔

7 ۔ باطل نہ اس کلام کے آگے سے آ سکتا ہے نہ پیچھے سے۔ (الفصلت 41:42)

8. یہ کتاب میزان ہے۔ یعنی وہ ترازو ہے جس میں رکھ کر ہر دوسری چیز کی قدر وقیمت طے کی جائے گی۔ (الشوریٰ42:17)

9۔ یہ کتاب فرقان یعنی وہ کسوٹی ہے جو کھرے اور کھوٹے کا فیصلہ کرتی ہے۔(الفرقان 25:1)

10۔  تمام سلسلہ وحی پر مہیمن یعنی نگران ہے۔ (المائدہ5:48)

11۔ قرآن کریم  لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کرنے کے لیے اتاری گئی ہے۔ (البقرہ2:213)

12۔ یہی وہ کتاب ہدایت ہے جس کو ترک کر دینے کا مقدمہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مخاطبین کے حوالے سے پیش کریں گے۔ (الفرقان25:30)

…………………………………………………………………

خلفاء راشدین اور کتابت حدیث:

حضرت ابو بکر، عمر بن خطاب (رضی الله) :

نصِ قرآنی کے مطابق ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اللہ اور اس کے رسول کی معیت میں داخل ہو چکے تھے۔ لَا تَحۡزَنۡ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَنَاۖ ( التوبۃ : 40 ) کہہ کر زبان رسالت ﷺ نے صدیق اکبر کو اللہ اور اپنی دائمی معیت کی سند عطا کر دی: ” ان الله یکره فوق سمائه ان یخطا ابوبکر۔” (” اللہ تعالیٰ آسمان پر اس بات کو پسند نہیں فرماتا کہ ابوبکر سے خطا ہو)۔” [ تاریخ الخلفاء میں یہ روایت طبرانی کے حوالے سے نقل کی گئی ہے۔ ( 1/42)]

……………………..

حضرت عمر( رضی الله):

رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر کے بعد حضرت عمر( رضی الله) کی جانب رجوع کرنے کا حکم دیا۔ نام لے کر صرف یہ دو صحابی ہی ہیں جن کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے-(صحیح ابن ماجہ#٩٧،و انظر الحدیث ٤٠٦٩ ، صحیح ااصحیحہ ١٢٣٣، و تراجیع البانی ٣٧٧، صحیح الضعیف سنن ترمزی #٣٨٠٥)

……………………

سنت رسول الله ﷺ کے بعد خلفاء راشدین کی سنت کا اتباع :

سیدنا صدیق اکبر کے بعد امت کی راہنمائی کا فریضہ سیدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے انجام دیا۔

” فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بعدی فَسَيَرَى اخْتِلافًا كَثِيرًا ، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ ، فَتَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ ۔”  (سنن ابی داود ، کتاب السنة ، باب لزوم السنة)

” تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا۔  پس میری سنت اور خلفائے راشدین مہدیین کی سنت کو لازم پکڑو ۔ اس سے تمسک کرو اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑ لو۔ خبردار ( دین میں )  نئی باتوں سے بچنا کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت ضلالت ہے۔” (سنن ابی داود ، کتاب السنة ، باب لزوم السنة)

…………………………….

ایک روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” لو کان بعدی نبیا لکان عمر۔”  اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتے۔” ( یہ حدیث مسند احمد ، ترمذی اور حاکم میں روایت ہوئی ہے۔ حاکم کے مطابق یہ حدیث صحیح ہے لیکن ان کے تساہلِ حدیث سے حدیث کے طالب علم بخوبی واقف ہیں۔ ترمذی کے مطابق حسن غریب ہے ، البانی حسن قرار دیتے ہیں ، بعض نے حسن لذاتہ قرار دیا ہے اور بعض اہل علم نے اس حدیث کے بعض راویوں کو منکر اور سخت ضعیف قرار دیا ہے۔ تاہم یہ ایک ایسی ضعیف حدیث ہے جس کے شواہد و متابعات موجود ہیں جس کی وجہ سے ترمذی کی اصطلاح کے مطابق یہ حدیث حسن غریب اور عام اصطلاح کے مطابق حسن لذاتہ کے درجے تک پہنچتی ہے۔ مناقب میں اس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے۔)

ایک صحیح روایت میں نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے :

” لقد کان فیمن كان قبلکم من بني اسرائيل رجال ، یکلمون من غیر ان یکونوا انبیاء ، فان یکن من امتی منهم احد فعمر۔”  … ” تم سے پہلے بنی اسرائیل میں ایسے لوگ گزر چکے ہیں جن سے ( پردہ غیب سے ) کلام ہوا کرتا تھا ، اگرچہ وہ نبی نہیں تھے اگر میری امت ایسا کوئی ہوا تو وہ عمر  ہوں گے۔” ( صحیح بخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبی ﷺ ، باب مناقب عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ)

………………………………………………….

حضرت عمر رضی اللہ عنہ اگرچہ خود بہت بڑے فقیہ و مجتہد اور بزبانِ رسالت محدث و ملہم تھے۔ انہیں منصب خلافت بھی حاصل تھی تنہا ان کی رائے بھی فتویٰ کے لیے کافی ہو سکتی تھی۔ لیکن مفادِ عامہ اور احتیاط کے پیشِ نظر وہ اکثر مسائل کو عموماً صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مجلس میں پیش کرتے تھے اور ان مسائل پر نہایت آزادی ، دقت نظری اور نکتہ سنجی کے ساتھ بحثیں ہوتی تھیں۔ بقول علامہ بلاذری : حضرت عمر  نے کسی ایسے مسئلہ کو جو ان سے پہلے طے نہیں ہوا تھا، بغیر صحابہ کے مشورہ کے فیصلہ نہیں کیا ( کتاب الاشراف)

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں : ” کان من سیرة عمر انه کان یشاور الصحابة و یناظر هم حتی تنکشف الغمة و یاتیه الثلج فصار غالب قضایاه و فتاواه متبعةً مشارق الارض و مغاربها۔“

” حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے مشورہ اور مناظرہ کرتے تھے یہاں تک کہ پردہ اٹھ جاتا تھا اور یقین آ جاتا تھا۔ اسی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے فتوؤں کی تمام مشرق و مغرب میں پیروی کی گئی ہے۔” ( حجۃ اللہ البالغہ)

حضرت صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اللہ عنہما کے اجتہادات کو صحابہ کرام کی کثیر تعداد نے قبول کیا۔ بعض اجتہادات سے اصحاب کرام نے اختلاف بھی کیا اور انہیں اس اختلاف کا حق بھی حاصل تھا ، اور یہ وہی اختلاف ہے جو امت کے حق میں رحمت کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن جن مسائل میں اختلاف ہوا وہ خالصتاً اجتہادی نوعیت کے امور تھے ، جن میں ایک سے زائد رائیں ممکن تھیں جن امور کا تعلق تکمیلِ شریعت سے تھا اس پر تمام صحابہ یک زبان و ہمنوا تھے-

…………………………………….

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا‫:

‫’حسبنا کتاب اللہ‘ یعنی ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے ۔

‫(‬ بحوالہ : صحیح بخاری ، کتاب المرضی ، باب قول المريض قوموا عني ، حدیث : 5731 ‫)

امام مالک بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حدیثیں یا ان کی کتابیں لکھنے کا ارادہ کیا، پھر فرمایا کتاب اللہ کے ساتھ کوئی کتاب تحریر نہیں ہوسکتی۔

Hadith of Umar’s ban on hadith

“Umar ibn al-Khattab once tried to deal with the problem of committing the Hadith to writing. The companions of the Prophet whom he consulted, encouraged him, but he was not quite sure whether he should proceed. One day, moved by God’s inspiration, he made up his mind and announced: “I wanted to have the traditions of the Prophet written down, but I fear that the Book of God might be encroached upon. Hence I shall not permit this to happen.” He, therefore, changed his mind and instructed the Muslims throughout the provinces: “Whoever has a document bearing a prophetic tradition, shall destroy it.” The Hadith, therefore, continued to be transmitted orally and was not collected and written down until the period of al-Mamun.”(Muhammad Husayn Haykal)

Dr. Mohammad Hamidullah

“Abu-Dhahabi reports: The Caliph Abu-Bakr compiled a work, in which there were 500 traditions of the Prophet, and handed it over to his daughter ‘Aishah. The next morning, he took it back from her and destroyed it, saying: “I wrote what I understood; it is possible however that there should be certain things in it which did not correspond textually with what the Prophet had uttered.”

As to Umar, we learn on the authority of Ma’mar ibn Rashid, that during his caliphate, Umar once consulted the companions of the Prophet on the subject of codifying the Hadith. Everybody seconded the idea. Yet Umar continued to hesitate and pray to God for a whole month for guidance and enlightenment. Ultimately, he decided not to undertake the task, and said: “Former peoples neglected the Divine Books and concentrated only on the conduct of the prophets; I do not want to set up the possibility of confusion between the Divine Qur’an and the Prophet’s Hadith.”

……………………

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی فضیلت، بصیرت  اور ان کے متعلق رسول اللہﷺ کے ارشادات کی وجہ سے ان کے اس فیصلے کی اہمیت کو نظر انداز کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے-

…………………..

خلفاء رشدین نے احادیث کوسرکاری سرپرستی میں قرآن کی طرح  مرتب کرنے کا اہتمام کیوں نہ کیا؟

  1. کیا ان کو معلوم نہ تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ اصحابہ اکرام جوبراہ راست چشم دیدگواہ ہیں فوت ہو جائیں گے اور یہ علم کا خزانہ ان کے ساتھ دفن ہو جائے گا؟
  2. کیا وہ احادیث کو تحریر کرنے کی  اہمیت کو نہیں سمجھتے تھے جتنے بعد کے لوگ ؟
  3. یا وہ یہ سمجھتے تھے کہ فقط سنت تواترہی کافی ہے؟

………………………………….

حدیث کی کتابت قران کی طرح خلفاء راشدین نے کیوں نہ کی ؟
حادیث کے وحی ہونے یا نہ ہونے کی جہت سے بعض علماءِ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کے دو حصے مقرر کر دیئے اور کہا کہ آپؐ کا ہر قول و فعل تو وحی نہیں البتہ آپؐ...[Continue reading…]

……………………

اسلام ؛ قرآن اور سنت پر عمل کرنے کا نام ہے۔اسلام  کی بنیاد صرف رسول اللہﷺ سے نقل وسماع ہے، قرآن کریم بھی رسول اللہﷺ ہی کے ذریعہ ملا ہے؛ انھوں نے ہی بتلایا اور آیات کی تلاوت کی ،جوبطریقۂ تواتر ہم تک پہنچا ہے-
کتاب اللہ کے بعد رسول اللہؐ کی سنت شریعت کا دوسرا سرچشمہ اور اصل واساس ہے، یہ قرآن کریم کی تشریح اور اس کے اصول کی توضیح اور اجمال کی تفصیل ہے- آپ نے فرمایا کہ: “تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَاتَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ رَسُوْلہِ”۔(مشکوٰۃ شریف:۲۹)” :میں تمہارے درمیان دوچیزوں کو چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم ان دونوں کومضبوطی سے تھامے رہوگے ہرگز گمراہ نہ ہوگے اور وہ کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ ہے۔ “

……………………………………………………….

Non Traditional – Divergent Views on Hadith:

غیر روایتی ، اختلافی نظریات حدیث  

#1 مقام حدیث….. [پڑھتے جائیں  ……]

#2 وحی صرف قرآن میں ھے۔ [ پڑھتے جائیں ……] 

3 # دو اسلام – ڈاکٹر غلام جیلانی برق

4#  قرآن اپنی نظر میں (ڈاکٹر شبیر احمد (MD)

 

References:

Admin takes not responsibility of the contents/material available at the external links.

……………………………………………………………

علم حدیث , فرقہ واریت اورقران – تحقیقی مضامین

وحی متلو (قرآن ) اور وحی غیر متلو (خفی ) احادیث پر مضامین [پڑھیں ……..]

1.کتابت حدیث کی تاریخ – نخبة الفکر – ابن حجرالعسقلانی – ایک علمی جایزہ:  
اسلام ؛ قرآن اور سنت پر عمل کرنے کا نام ہے۔اسلام کی بنیاد صرف رسول اللہﷺ سے نقل وسماع ہے، قرآن کریم بھی رسول اللہﷺ ہی کے ذریعہ ملا ہے؛ انھوں نے ہی بتلایا اور آیات کی تلاوت کی ،جوبطریقۂ تواتر…[Continue reading….]
 
2.حدیث اور اسکی اقسام
 آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین...[Continue reading…].
3.سنت اور حدیث کی اہمیت اور فرق :
 اسلام ؛ قرآن اور سنت پر عمل کرنے کا نام ہے۔اسلام کی بنیاد صرف رسول اللہﷺ سے نقل وسماع ہے، قرآن کریم بھی رسول اللہﷺ ہی کے ذریعہ ملا ہے؛ انھوں نے ہی بتلایا[Continue reading…]
4..حدیث میں تحریف اور اہمیتحدیث کی شرعی حیثیت:
  کتاب اللہ کے بعد رسول اللہؐ کی سنت شریعت کا دوسرا سرچشمہ اور اصل واساس ہے، یہ قرآن کریم کی تشریح اور اس کے اصول کی توضیح اور اجمال کی تفصیل ہے، ان دونوں کے…[Continue reading…].
5.حدیث کی کتابت قران کی طرح خلفاء راشدین نے کیوں نہ کی ؟
حادیث کے وحی ہونے یا نہ ہونے کی جہت سے بعض علماءِ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کے دو حصے مقرر کر دیئے اور کہا کہ آپؐ کا ہر قول و فعل تو وحی نہیں البتہ آپؐ...[Continue reading…]
6.فرقہ واریت, 73 فرقوں والی حدیث:
’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے کہ:  بنی اسرائیل میں سے لوگ بہتر(72) فرقوں میں تقسیم ہوئے اور امت مسلمہ تہتر(73)فرقوں میں تقسیم ہو گی اِن میں سے بہتر فرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک فرقہ جنّت…[Continue reading…]
7.مقلدین اورغیر مقلدین:
مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ ﴿30:32﴾   (اور نہ) اُن لوگوں میں (ہونا) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور (خود) فرقے فرقے ہو گئے۔ سب فرقے اسی سے خوش...[Continue reading…]
8.اسلام میں فرقہ واریت – تاویلیں، دلائل اور تجزیہ
هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَـٰذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ۚ  ( سورة الحج22:78) اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام “مسلم” رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم... [Continue reading…] .
9.انسداد فرقہ واریتانسداد فرقہ واریت مختصر تاریخ اورعملی اقدامات:
وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ ’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘( آل عمران،3 :103) وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا...[Continue reading…] 
11. بدعت، بدا :کسی شے کے عدم سے وجود میں آنے کو بدعت کہتے ہیں۔ اس طرح بدعت کرنے والے فاعل کو مبتدع یا بدعتی اور عربی میں “بَدِيع” کہا جاتا ہے۔ لغوی اصطلاح میں بدعت کسی مفعول کے عدم سے وجود میں آنے اور مبتدع اُسے وجود میں لانے والے فاعل کیلئے استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ قرآنِ مجید میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ (قرآن ٢:١١٧). ترجمہ: (وہی اللہ) موجد (نیا پیدا کرنے والا) ہے آسمانوں اور زمین کا  [Continue reading…]  
12..فرقہ واریت کا خاتمہ : پہلا قدم: 
آج کے دور میں مسلمان کئی فرقوں میں بٹ چکے ہیں اگرچہ ان کی اکثریت اسلام کے بنیادی عقائد اور عبادات پر متفق ہے مگر فروعی اختلافات کی شدت نے نفاق کے بیج اس طرح بو دیئےہیں کہ انتشار…
[Continue reading…]   
13: وحی متلو (قرآن ) اور غیر متلو (حدیث ) – تحقیقی جائزہ  Revelations – Quran and Hadith

14: اہلُ الرّائے (علماۓ فقہ) اور اہل الحدیث (علماۓ حدیث) کا مقام و فرق

 

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *