Great Jihad جہاد کبیرہ

مسلمان صدیوں  تک دنیا کی سب سے بڑی سیاسی ،فوجی اور معاشی طاقت تھے ، جو تہذیب ، سائنس، علوم اور فنون لطیفہ میں سب سے آگے تھے۔ مسیحی یورپ کو بربریت اور کفر کے بیرونی اندھیرے کے طور پر دیکھا جاتا تھا جہاں سے سیکھنے اور ڈرنے کے لئے کچھ نہیں تھا۔ اور پھر سب کچھ بدل گیا۔ مغرب نے ایک کے بعد ایک پے در پے فتوحات حاصل کیں، سائنس ، علوم ، میدان جنگ میں اور پھرتجارت کی منڈیوں میں کامیابیاں حاصل کیں۔  مسلمان محکوم ہو گیے- مسلمان سوچتے ہیں کہ: ایسا کیوں ہوا؟ ہم کیسے دوبارہ کھویا ہوا مقام کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟   

تجزیہ سے مسلمانوں کے زوال کے بنیادی طور پر تین بڑے اسباب معلوم ہوتے ہیں:  (١) قرآن سے لا تعلقی  (٢)  قانون علت و معلول (cause and effect) کو نظر انداز کرنا اور  (٣) اخلاقی انحتاط – [1]

قوموں کے عروج و زوال سے متعلق اللہ تعالیٰ کا ایک قانون ہے جو مسلم و غیر مسلم تمام اقوام پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔ اس قانون کے مطابق اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق ایسی اقوام کو عروج بخشا ہے جو علمی اعتبار سے وہ اپنی ہم عصر اقوام سے ممتاز ہوں، سائنس اور ٹیکنالوجی پر عبور، سیاسی، اقتصادی ، فوجی ،سماجی نظام دوسروں سے بہتر ہو (17:18)– مزید اخلاقی اعتبار سے وہ دوسری اقوام سے بہتر درجے پر فائز ہوں۔ (لیکن جب اانحتاط، حد کو پار کر لے تو تباہی ہوتی ہے) مسلمانوں کو اس عارضی چمک دمک سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں (15:88)–  مسلمانوں کے لیے مزید شرط الله کی کتاب پر عمل ہے ، کیونکہ قرآن پر عمل ہی اسلام ہے جو مسلمان کی شناخت ہے اور “دنیا و آخرت” میں کامیابی کا زریعہ بھی- تاریخ گواہ ہے کہ عرب قوم جس کی دنیا میں کوئی اہمیت نہیں تھی جب قرآن کے وارث  بنے تو دنیا تبدیل کر دی-  جب تک امت مسلمہ قرآن پر عمل کرتے رہی ، اپنے زمانے کی دیگر اقوام کے مقابلے میں نسبتا بہتر مقام پر موجود رہی، دنیا میں اسی کا سکہ چلتا رہا۔ عالمی تجارت اور دنیا کے سیاسی معاملات اسی کی مرضی سے چلتے رہے، لیکن جب امت مسلمہ نے قرآن کو چھوڑ دیا تو ان معیارات میں بھی اپنی معاصر اقوام سے پیچھے رہ گئی اور دنیا کا اقتدار دوسری اقوام کو منتقل ہوا۔  اب بھی اگر ہم چاہتے ہیں کہ امت مسلمہ کا عروج واپس آجائے تو اس کے لئے مسلمانوں کو قرآن پر عمل کرتے ہوے علمی اور اخلاقی اعتبار سے بہتر بنانا ہوگا ورنہ ہمارا ہر خواب محض ایک سراب بن کر رہ جائے گا۔ پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے ، آغاز یھاں سے ہم کو کرنا ہوگا – افراد اور بالآخر قوم کی حالت کو تبدیل کرنے کے لیے قرآن مجید کے ذریعہ مسلمانوں کو جہاد کبیرہ (وَجَاهِدْهُم بِهِ جِهَادًا كَبِيرً‌ا) کرنا ہو گا-

دعوت جہاد کبیرہ :

آج ہمیں اپنے قومی و ملکی مسائل کے حل کے لیے قرآن کی تلوار ہاتھ میں لے کر جہاد کرنے اور قرآنی دعوت کے ذریعے سے ِ ایک بھر پور انقلابیّ جدوجہد برپا کرنے کی ضروت ہے۔ ہمارے اجتماعی مسائل کا حل بھی یہی ہے اور ہمارے اندرونی امراض کی دوا ” وَشِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُورِ “(  یونس : ٥٧ ) بھی اسی میں ہے:

“پس آپ کافروں کا کہنا نہ مانیں اور قرآن کے ذریعے ان سے پوری طاقت سے بڑا جہاد کریں” (25:52)

وَ مَنۡ جَاہَدَ فَاِنَّمَا یُجَاہِدُ لِنَفۡسِہٖ ؕ اِنَّ  اللّٰہَ لَغَنِیٌّ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶﴾

“اور ہر ایک جہاد کرنے والا اپنے ہی بھلے کی کوشش کرتا ہے ۔  ویسے تو اللہ تعالٰی تمام جہان والوں سے بے نیاز ہے” (29:6)

جہاد کبیرہ کے ساتھ  ساتھ بیک وقت، زوال کی دوسری واضح وجوہات، تعلیم ، جہالت ، سائنسی ترقی ، جدیدیت وغیرہ کے لیے بھی سخت کوشش کرنی ہوگی، دنیاوی ترقی بھی اسلام  کا حصہ ہے-  قرآن مجید سے ہم مسلمانوں اور انسانیت کو قرآن کا پیغام سمجھنے ، اس پر عمل کرنے اور پہنچانے کے لئے پوری کوشش کریں۔

Invitation for Great Jihad:

In order to solve our problems at national and global level, we need to take the sword of the Qur’an in our hands and strive hard to convey the message of Quran to the fellow Muslims and humanity. …… Keep reading ….. […….]

جب ہم قرآن کوسمجھ. کر اس پر عمل کریں گے تو اگلا مرحلہ اس “جہاد کبیرہ ” کو کفار تک پھیلانا ہو گا ، گھوڑوں پر سوار تلوار کے زور پر فتوحات کا دور گزر گیا  … قرآن کے علم حق اور کلام کی طاقت سے ہم کفار کے ذھن و دماغ سے باطل نظریات کو شکست  دے کر فتح کر سکتے ہیں (:9:33) … الیکٹرانک اور سوشل میڈیا ، انٹرنیٹ اور موبائل آج کے دور کا  موثر ہتھیار ہے .. سائبر سپیس (cyber space) میدان جنگ … اسی لیےاردو اور انگلش میں  قرآن کی 99 منتخب آیات  سے آغاز کر رہے ہیں-اس پوسٹ کے آخر میں دونوں زبانوں میں قرآن  کے لنکس موجود ہیں ….

خبر دار! کوئی غلط فہمی نہ رہے کہ جہاد (قتال . جنگ ، حرب) موقوف ہو گیا ؟ موجودہ دور مکی ، مدنی ادوار کا مرکب ہے-
قومی طاقت  کے بنیادی عناصر میں ، جغرافیہ ، خام مال ، قدرتی وسائل ، آبادی اور ٹیکنالوجی ٹھوس عناصر (tangible)  ہیں ، جبکہ نظریہ ، حوصلہ ، قیادت ، شخصیت ، تنظیمی استعداد اور سفارتکاری کا معیار، غیر محسوس (intangible) عناصر ہیں۔  معیشت، فوجی طاقت ان بنیادی عناصر پر منحصر ہوتی ہے- اس کےساتھ ساتھ مزید “سوفٹ پاور،  “ہارڈ پاور (Hard Power، Soft Power) کو بھی مد نظر رکھناچاہیے-  اگرچہ سوفٹ پاور ریاست استعمال کرتی مگر تنظیمیں اور افراد بھی کرسکتے ہیں- دشمن طاقتور ہو تو اسلامی ریاست اور افراد، “سوفٹ پاور(Soft Power)” (میڈیا ،نظریاتی، دعوت و تبلیغ) سے “جہاد کبیرہ ” کریں، جو مسلسل ہے- اور جب  اسلامی ریاست “ہارڈ پاور (Hard Power)”  (فوجی طاقت) کے ساتھ طاقتور ہو، توپھر “سمارٹ پاور”  یعنی، “سوفٹ پاور” اور “ہارڈ پاور” کا امتزاج (قرانی تعلیمات کی حدود میں) کر سکتی ہے-  اسے”ہائبرڈ پاور” یا “ہائبرڈ جہاد” بھی کہ سکتے ہیں، اس میں افراد کا کردار صرف “سوفٹ پاور” (نظریاتی، دعوت و تبلیغ)  تک محدود ہے- “ہارڈ پاور” وہ سرخ لائن ہے جو صرف اسلامی ریاست کے دائرۂ کار میں  ہے- حالیہ تجربہ سے ثابت ہوا ہے کہ اس سرخ لائن کو کراس کرنے والے افراد اور گروہ دانستہ یا نا دانستہ طور پر دشمن کے سہولت کار بن جاتےہیں-

“ہائبرڈ وار” (Hybrid War) کی اصطلاح آج کل “روایتی اور غیر روایتی جنگ” کے مکس کے لیے استعمال ہوتی ہے جس میں فوجی قوت کے ساتھ ، خفیہ آپریشنز ، میڈیا وار ، دہشت گردی  وغیرہ شامل ہیں-وں اسلام میں دہشت گردی اور معصوم شہریوں کی ہلاکت قبول نہیں (17:33)– اس لیے “ہائبرڈ جہاد” اسلام شریعت کے اندر ہی ہوسکتا ہے اور یہ اسلامی ریاست کے دائرۂ کار میں ہے-

 قرآن کے زریعہ “جہاد کبیرہ” (مسلسل  جدو جہد) کرتے ہوے جہاد (قتال . جنگ ، حرب) کی تیاری مکمل رکھیں (8:60) تاکہ جب اسلامی ریاست کو ضرورت پڑے تو دشمنوں کو دندان شکن جواب دے  سکیں-

ایک اہم معامله قابل غور ہے ، کہ یہود نے مسیحیت کی دو ہزار سالہ نفرت اور دشمنی  کومسیحی مذھب کے اندر ایک یہود دوست طاقتور فرقہ  جس کو “مسیحی صیہونی”  (Zionist Christians) کہتے ہیں بنوایا جو امریکہ میں اتنا طاقتور ہے کہ امریکی فارن پالیسی میں اسرائیل مرکزی حثیت رکھتا ہے – امریکی، مسجد الاقصی پر یہود کے تیسرے ٹمپل (Third Temple) کی تعمیر نو میں مددگار ہیں . . یہ ایک مکمل تحقیقی سبجیکٹ ہے جو اس ویب سائٹ پر موجود ہے .. .. یہود نے فوجی طاقت سے امریکہ اور مغرب کو فتح نہیں کیا نہ یہ ممکن تھا، انہوں نے سوفٹ پاور (soft power) سے نظریاتی، مذہبی طور پر (intellectually) مسیحت پر قابو  پا لیا، جنہوں نے نہ صرف اسرئیل کے قیام میں مدد کی، بلکہ مسلسل اس کو”ہارڈ اور سوفٹ پاور” کے امتزاج سے سپورٹ بھی کرتے ہیں. اسرئیل کا قیام سوفٹ اور ہارڈ پاور کے استعمال سے تقریبآ دو صدی میں مکمل ہوا اور اب سرئیل مسلسل “ہارڈ پاور” استعمال کرکہ فلسطنیوں کو ختم کر رہا ہے ….یہ صرف مثال ہے جس سے سافٹ پاور کی برتری ثابت ہوتی ہے اگرچہ وقت لگتا ہے ، کبھی صرف  (١٠+١٣) ٢٣ سال میں کامیابی ممکن ہوئی – عرصہ کا انحصار لیڈرشپ اور حالات پر ہے.

اسلام کے پاس قرآن ہے  جس میں حق کی طاقت ہے، الله کا خالص کلام ، جس کو نہ ہم  گہرائی میں سمجھ سکے نہ ہی اس کی طاقت کو استعمال کرسکتے ہیں ، اپنی لاعلمی ، جہالت  اور لا پرواہی کی وجہ سے- ہم اپنی بربادی پر دوسروں کو مورد  الزام ٹھہراتے ہیں… اسلام واحد مذھب ہے جو بائبل (تورات، انجیل) کو تسلیم کرتاہے اور عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو الله کا پیغمبر مانتا ہے- اسلام اور مسیحیت میں بہت کچھ مشترک ہے (قرآن 3:64)  جس پر توجہ کی ضرورت ہے،  مگر صلیبی جنگوں کی وجہ سے نفرتیں بڑھ گیئں- بہت کم لوگوں  علم ہو گا کہ ہمیشہ سے مسیحت میں توحید پرست موجود رہے جومشرکانہ “نظریہ تثلیث”( Trinity) کا انکار کرتے ہیں- اب بھی بڑی تعداد میں “توحید پرست مسیحی” (Monotheist , Unitarian Christians) موجود ہیں جن سے مکالمہ  ہو سکتا ہے اس طرح اسلام کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈہ، اسلامفوبیا ، نفرت ختم کرنے میں مدد ملے گی – قابل ذکر توحید پرست  کی لمبی لسٹ میں مشہور سائنسدان سر آئزک نیوٹن، ریاستہائے متحدہ کے چار صدور ؛ جان ایڈمز ، جان کوئنسی ایڈمز ، میلارڈ فلور ، اور ولیم ہاورڈ ٹافٹ اور تھامس جیفرسن شامل ہیں- پس مسلمانوں کو یہود کی  طرح جھوٹ ، سازش، مکاری کی ضرورت نہیں- مسلمان قرآن سے مسیحیت اور کسی بھی باطل نظریہ پر غلبہ حاصل کر سکتے ہیں (:9:33) بشرطیکہ ہم کو فضولیات سے فرصت ملے اور قرآن  کو سمجھ سکیں-

قرآن ا للہ کی کتاب ہے ، بلا شبہ پرہیزگاروں کے لئے ہدایت (2:2) [ تفسیر]

قرآن کے ہم پر چار حقوق ہیں :

الله نے نے تمام مسلمانوں کو قرآن کا وارث بنایا (35:32). [تفسیر] قرآن کے حقوق ہر مسلمان نے استطاعت کے مطابق ادا کرنا  ہیں:

1..قرآن پر ایمان 

2. .قرآن کو پڑھنا، سمجھنا، تدبر اور تفکر  

3. .قرآن پر عمل کرنا 

4..قرآن کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانا 

یاد رہے کہ :  قرآن کا پیغام پہنچانا جہاد کبیرہ ہے  (25:52)

روز محشر رسول الله کہیں گے: ”اے میرے رب ! بےشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا “ (25:30) [ تفسیر]

آئیے کوشش کریں کہ ہم اپنے محبوب ، رسول الله ﷺ کو شکایت کا موقع دینے والوں میں شامل نہ ہوں:

قابل عمل تجویز:

ایک آسان ، سادہ ، قابل عمل تجویز پر عمل سے ہم قرآن کے حقوق ادا کرنے کی کوشش اور دین و دنیا میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں:

1..قرآن  کی چھ ہزار سے زائد آیات میں ہر ایک آیت مبارکہ، ہدایت کی روشنی سے مزین ہے- اپنے روزانہ کے تلاوت قرآن اور عبادات کے معمول پر عمل پیرا رہتے ہوئے اضافی کوشش (extra effort) کے طور پرقرآن کی ٩٩ منتخب آیات کو  ایک آیت روزانہ (یا دورانیہ سہولت کے مطابق) سےشیرکرنے کی ابتدا کرتے ہیں- ٩٩ آیات کا خلاصہ درج ذیل ویب پیج کے لنک پر موجود ہیں- 

2..ہر ایک خلاصہ آیت کے ساتھ سورہ اور آیات نمبر درج ہے جو کہ ہائپرلنکڈ  (hyperlinked) ہے- اس کو“کلک” کرکہ اپ خود بخود نۓ ٹیب میں “آن لائین قرآن” کی ویب سائٹ میں مجوزہ نمبر کی آیت دیکھیں گے-

3.آپ مکمل آیات پڑہیں اصل عربی میں اور مختلف تراجم بھی دیکھیں. آیات کے پہلے اور بعد کی آیات یعنی سیاق و سیاق کو بھی ملاحضہ  کریں- اگر مزید تفصیل معلوم کرنا ہو تو ویب پیج کے آخر میں انگلش اور اردو کی تفسیر کے ویب لنک ا(موبائل کے لیے App ایپ لنک) موجود ہیں- احادیث کی کتب کے لنک بھی ہیں-  اس مختصر تحقیق سے آپ کا قرآن سے ایک ذاتی تعلق قائم ہوجاتا ہے- آپ کو قرآن سے بہت کچھ ملے گا- اپ ایسے محسوس کریں گے جیسے ذات باری تعالی آپ سے مخاطب  ہے- 

4.آیت اور ترجمہ  ( مزید ذاتی طور پر منتخب آیات بھی شامل کر سکتے ہیں ) کو کاپی کریں اور سوشل میڈیا پر شیر کریں-

5. وہاٹس ایپ پر ایک ذاتی پرائیویٹ “قرآن گروپ” بنائیں اپنا دوسرا موبائل نمبر یا کس ایک دوست کو شامل کرلیں-  (کم از کم دو ممبر لازم ) اپنی تمام قرآنی پوسٹس، اس ذاتی گروپ میں محفوظ رکھیں اور وہاں سے شیر کرتے رہیں-  

اب سوال کرسکتےہیں کہ یہ کیا بڑی بات ہے؟ ہم روزانہ بہت  قرآن و حدیث کی پوسٹ، فارورڈ ، شیئر کرتے ہیں اور زیادہ محنت بھی نہیں کرنا پڑتی.  لیکن، قرآن کے ہم پر “چار حقوق” کو مد نظر رکھتے ہوۓ ، غور کریں کہ: 

1..اگرچہ یہ ایک احسن عمل ہے مگر اس میں آپ کی شراکت اور جدو جہد کتنے فیصد ہے؟

2. اپ نے آیت کو چند سیکنڈ میں پڑھا اور فارورڈ کر دیا ، سمجھنا، تدبر اور تفکر  ؟

3 . “عمل” کی ترغیب تب ہوگی جب کچھ سمجھ ، تدبر اور تفکر کیا ہو؟ 

4. قرآن کے پیغام کو دوسروں تک پہنچایا، جیسی پوسٹ آپ کو ملی، پیغام کا انتخاب موقع کی مناسبت سےآپ نے نہیں کیا- عبادات کی اہمیت ہے، معاشرہ کی اخلاقیات اگر زوال پزیر ہوں تو؟ سر درد  ہو تو پیٹ خراب کی دوائی موثر نہ ہو گی؟  

اختتامیه:

 اس تجویز پر عمل سے ٩٩ دنوں (تین ماہ سے زیادہ)  میں ٩٩ آیات کا  ایک سیٹ مکمل ہوگا، ویب پیج پر پھر مزید سیٹ تیار ہو چکیں گے، سلسلہ چلتا رہےگا- یاد رہے کہ قرآن ٢٣ سال میں نازل ہوا تھا-

قرآن کے چار حقوق ، .قرآن پر ایمان ، .قرآن کو پڑھنا ، سمجھنا، تدبر اور تفکر ، قرآن پر عمل ، قرآن کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانا ، جہاد کبیرہ میں عملی حصہ داری (active participation)- 

جہاد کا ایک حصہ  قتال (لڑائی ، جنگ) ہے ، جو مخصوص حالات میں ریاست کی ذمہ داری ہے، مگر قرآن سے جہاد کبیرہ تسلسل سے ہماری انفرادی اور  مشترکہ زمہ واری ہے- ہر وقت حالت جنگ میں نہیں ہوتے، ویسے بھی مسلح افواج اس مقصد کے لیے ہمہ وقت موجود ہیں،عوام کو ان کو  سپورٹ کرنا ہے اور جب ضرورت ہو تو   ایک پکار (call) پر افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جائیں مگر تبلیغ ، تعلیم کا سلسلہ بھی چلتا رہتا ہے- (9:122) [ تفسیر]

جب روز محشر رسول الله ﷺ الله سے کہیں گے: ”اے میرے رب ! بےشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا “ (25:30) 

تو امید ہے کہ ہم اپنے محبوب ، رسول الله ﷺ کو شکایت کا موقع دینے والوں میں شامل نہیں ہوں گے- (ان شاءاللہ) اللہ ہماری مدد فرمانے- آمین 

اب بسم اللہ کریں اور اس لنک پر کلک کر کہ، پیج سے ایک آیات سے “جہاد کبیرہ ” کا آغاز کریں …..

  1. تفسیر قرآن – منتخب آیات : ویب بک (Web Book Mobile Friendly )
  2.  قرآن کی 99 منتخب آیات کا خلاصہ:  https://salaamone.com/ethics/#ur-99-ayah
  3. Quran – Summary of 99 Selected Verses on Ethics : https://salaamone.com/ethics
  4.  جہاد بالقرآن اور اس کے پانچ محاذ

وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۖ إِنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (5:2)

“… جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو اللہ سے ڈرو، اس کی سز ا بہت سخت ہے (5:2) [تفسیر]

اس دعوت  ” جہاد کبیرہ “کو شیئر کرکہ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو شامل کریں  …..


.

جہاد

وَ مَنۡ جَاہَدَ فَاِنَّمَا یُجَاہِدُ لِنَفۡسِہٖ ؕ اِنَّ  اللّٰہَ لَغَنِیٌّ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶﴾ (29:6)

 اور ہر ایک جدوجہد  کرنے والا اپنے ہی بھلے کی کوشش کرتا ہے ۔  ویسے تو اللہ تعالٰی تمام جہان والوں سے بے نیاز ہے(29:6)

جہاد بمعنی کسی انسان کی مقدور بھر کوشش جو اسلام کے نفاذ اور اس کی سربلندی کے لئے کی جائے۔ پھر اس جہاد کی اقسام بھی متعدد ہیں اور محاذ بھی متعدد ہیں۔ اقسام سے مراد مثلاً زبان سے جہاد ایک دوسرے کو سمجھانا اور تلقین کرنا یا تقریروں کے ذریعہ تبلیغ کرنا اور قلم، میڈیا سے جہاد یعنی اسلامی تعلیمات کی اشاعت اور اسلام پر وارد ہونے والے اعتراضات اور حملوں کا جواب لکھنا اور پھر اس کے بعد اجتماعی جہاد یا جہاد بالسیف یا قتال فی سبیل اللہ ہے۔ اور جہاد کا سب سے پہلا محاذ انسان کا اپنا نفس ہے۔ پھر اس کے بعد عزیزواقارب پھر اس کے بعد پورا معاشرہ ہے۔ اور آخری محاذ قتال فی سبیل اللہ یعنی ان کافروں نے جنگ کرنا ہے جو اسلام کی راہ میں رکاوٹ بن کر کھڑے ہوگئے ہوں یا اسلام کو نیست و نابود کرنے پر تلے بیٹھے ہوں۔- جہاد اگر نفس سے کیا جائے گا تو جہاد کرنے والے کی اپنی اخلاقی اور روحانی اصلاح ہوگی اگر اجتماعی جہاد اپنے معاشرہ سے کیا جائے گا تو پورا معاشرہ بےحیائیوں سے اور ظلم و جور سے پاک ہوگا اور اگر جہاد بالسیف کیا جائے گا تو اس سے مسلمانوں کو سیاسی فائدے حاصل ہوں گے۔ جس قسم کا بھی جہاد کیا جائے گا، بالآخر اس کا فائدہ جہاد کرنے والے کی ذات کو ہی پہنچے گا۔- یعنی جہاد کرنے والا اگر جہاد نہ کرے تو اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچے گا اور اگر جہاد کرتا ہے تو بھی اللہ کو اس کا کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ اور اللہ کی بےنیازی کا تو یہ عالم ہے کہ اللہ فرماتے ہیں اے میرے بندو اگر تم تمام جن و انس سارے کے سارے اس شخص کی طرح بن جاؤ جو تم میں سے سب سے زیادہ پرہیزگار ہے تو اس سے میری بادشاہی میں ذرہ بھر بھی اضافہ نہیں ہوگا اور اے میرے بندو اگر تم تمام جن و انس سارے کے سارے اس شخص کی طرح ہوجاؤ جو تم میں سے سب سے زیادہ میرا نافرمان اور بدکار ہے تو اس سے میری بادشاہی میں ذرہ بھر بھی کمی واقع نہ ہوگا (مسلم۔ کتاب البروالصلہ۔ باب تحریم القلم)- پھر یہ بات بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اگر کوئی شخص اسلام کی سربلندی کے لئے کوئی کام کرتا ہے تو اس ہرگز یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ وہ اللہ پر کچھ احسان کر رہا ہے بلکہ اسے اللہ کا ممنون احسان ہونا چاہئے اور اس کا شکر ادا کرنا چاہئے جس نے اسے جہاد کی توفیق بخشی جس میں ہر پہلو سے اس کا اپنا ہی بھلا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے کوئی سرکاری افسر ایک شخص کو اپنے ماتحت ملازم رکھ لیتا ہے تو ملاسم کو اس افسر کا ممنون احسان ہونا چاہئے۔ چہ جائیکہ ملازم یہ کہنا شروع کردے کہ میں نے ملازم ہو کر افسر پر احسان کیا ہے-

(وَجَاہِدْہُمْ بِہٖ جِہَادًا کَبِیْرًا ) ” – مکہ میں مشکل حالات میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن کے ذریعے جہاد کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ چناچہ مکہّ میں بارہ سال تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو جہاد کیا وہ جہاد بالسیف نہیں تھا بلکہ جہاد بالقرآن تھا۔ اس جہاد کی آج پھر ہمارے معاشرے میں شدید ضرورت ہے۔ اس موضوع کی تفصیل کے لیے ڈاکٹر اسرار احمد (رحمہ اللہ ) کی کتاب ” جہاد بالقرآن اور اس کے پانچ محاذ “ کا مطالعہ مفید رہے گا ‘۔ بہر حال آج ہمیں اپنے قومی و ملکی مسائل کے حل کے لیے قرآن کی تلوار ہاتھ میں لے کر جہاد کرنے اور قرآنی دعوت ‘ تربیت ‘ تزکیہ ‘ انذار اور تبشیر کے ذریعے سے ِ اقامت دین کے لیے ایک بھر پور انقلابیّ جدوجہد برپا کرنے کی ضروت ہے۔ ہمارے اجتماعی مسائل کا حل بھی یہی ہے اور ہمارے اندرونی امراض کی دوا (وَشِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُورِ ) (یونس : ٥٧) بھی اسی میں ہے –

.

Invitation for Great Jihad:

“Do not yield to those who deny the truth, but launch a Great Jihad (great campaign) against them with the help of the Quran. [to convey its message]. (Quran;25:52)

In order to regain the lost glory, honor and respect, while the Muslims [we start from Pakistan]  have to work hard to address the apparent reasons of decline [lack of education, ignorance, scientific development , modernization etc] and simultaneously take the sword of the Qur’an in our hands and strive hard to understand, practice and convey the message of Quran to the fellow Muslims and humanity. Accomplishment of this gigantic task demands a full revolutionary struggle through the Quranic invitation. The the only solution to our collective problems is to break the shackles of ignorance, immorality and backwardness. When we read the Quran with understanding, it will facilitate to practice the teachings to become a good Muslim.

Thereafter, the next step will be to convey the message of Quran to humanity, to save them from destruction and hellfire. This requires a great effort, hence called Great Jihad  (Jihad Kabira) .Jihad means to strive hard, struggle.  The era of conquests by sword, through charging armies on horseback is gone. This is the era of conquest of minds by purging the false, concocted doctrines and ideologies through the true teachings of Quran revealed by Allah, the Most Beneficent, the Most Merciful. (:9:33).

The electronic, social media, internet and mobile phones are effective weapons and cyber space is the vast global battlefield. We are launching this great effort through  99  selected Verses of Quran here is [link ]. Summary of each verse has a hyperlinked reference, just click and read the complete verse and verses around to understand context. May read exegesis at links below, for further understanding.

Now you are ready, copy and share the verse with translation or with a brief at social media. Daily one verse or as convenient. It will establish your interactive connection with Allah through Quran … full of guidance … here you go …

ریفرنس / لنکس

  1. تفسیر قرآن – منتخب آیات : ویب بک (Web Book Mobile Friendly )
  2. جہاد بالقرآن اور اس کے پانچ محاذ
  3.  مسلمانوں کے زوال کے اسباب
  4. جہاد (قتال، جنگ )ریاست کی ذمہ داری 
  5. Misinterpretation-of-jihad
  6. Christian  Zionism
  7. جہاد بالقرآن اور اس کے پانچ محاذ: 
  8. سابقہ اور موجودہ مسلمان امتوں کا ماضی حال اور مستقبل:
  9. موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں اسلام اور پاکستان کا مستقبل

 

Quran Online: 

  1. تفسیر قرآن – منتخب آیات : ویب بک – Selcected Verses form Quran – (Web Book Mobile Friendly )
  2.  http://corpus.quran.com/translation.jsp
  3. https://www.islamawakened.com/index.php/qur-an
  4. http://tanzil.net/#trans/en.sahih/1:1
  5. Quran Search Multiple Languages: https://www.searchtruth.com/search.php
  6. Quran Search:  https://www.islamicity.org/quransearch/
  7. Quran Topics.. A – Z: https://www.searchtruth.com/quran_topics_index.php
  8. Quran Exegesis :  http://www.islamicstudies.info/tafheem.php
  9. Urdu Exegesis (اردو تفاسیر):  http://myonlinequran.com/
  10. Quran Topics Index (Eng & Urdu): http://quranictopics.com/
  11. http://trueorators.com/
  12. Quran on Quran 120 Verses:
  13. Faith, Belief, ایمان .…. [….]
  14. Manners …. […..]
  15. Introduction to Quran by Quran…. 
  16. قرآن حکیم اور ہماری زندگی https://tanzeem.org/book_categories/quran-e-hakeem-aur-hamari-zindagi/
  17. Moble App: IslamOne [Google Play Store ] 8 Urdu, 2 Eng Tafseers, 13 Urdu, 8 Eng Quran Translations, 11 Best Hdith Books and much more …

 

  1. Quran Translations
  2. Quran Tafsir
  3. Quran Words List
  4. Quran Topics
  5. Quran All Translations
  6. Quran Teacher
  7. Search in Quran