درود شریف (صَلَاة): تحقیقی جائیزہ Darood

جذبہِ عقیدت کے محرکات: درود شریف (صلوات) کا ایک جائزہ

تمہید: زبان اور روحانیت کا ملاپ

نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کا عمل اسلامی تقویٰ کا سنگِ میل اور ایک مومن کی روحانی زندگی کی دھڑکن ہے۔ تاہم، اس عمل کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہونے والی زبان خود ثقافتی اور الٰہیاتی باریکیوں کا ایک حسین مرقع پیش کرتی ہے۔ عربی اصطلاح ’صلوات‘ (جو ’صلاۃ‘ یعنی نماز کی جمع ہے) دہرا مفہوم رکھتی ہے؛ یہ بیک وقت پانچ وقت کی فرض نمازوں کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے اور نبی کریم ﷺ پر رحمت کی دعا بھیجنے کے مخصوص عمل کے لیے بھی۔ اسی دوسرے، انتہائی قریبی مفہوم میں قرآنِ پاک ایک الٰہی حکم جاری کرتا ہے:(یہ انگریزی مضمون کا ترجمہ ہے لنک آخر پر ،  ترجمہ کی محدودات ملحوظ خاطر رکھیں )

“بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود (رحمت) بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجا کرو۔” (القرآن، 33:56)

یہ آیت اس عمل کو محض ایک تعریف و توصیف سے بڑھا کر ایک شراکت داری کے عمل میں بدل دیتی ہے، جہاں ایک مومن آخری رسول ﷺ کی عزت و تکریم میں کائنات کے آسمانی نظام (فرشتوں) کے ساتھ شامل ہو جاتا ہے۔

پاک و ہند کے لسانی تناظر میں، اس عقیدت مندانہ عمل کو عام طور پر ’درود‘ کہا جاتا ہے، جو فارسی سے لیا گیا لفظ ہے اور اس کے معنی ’سلام‘ یا ’دعا‘ کے ہیں۔ اس لغوی انتخاب کا مقصد نیت کو واضح کرنا تھا، تاکہ نبی ﷺ پر درود بھیجنے کے عمل کو فرض نماز (صلاۃ) سے ممتاز کیا جا سکے، کیونکہ دونوں کی اصل ’صلوات‘ ہی ہے۔ چنانچہ ’درود شریف‘ اس عمل کا مقامی نام بن گیا جو ہر نماز کے آخری حصے میں واجب ہے، جمعہ کے دن اس کی کثرت کی تاکید کی گئی ہے، اور نبی ﷺ کا نام سنتے ہی بے ساختہ زبان پر آ جاتا ہے۔ یہ الٰہی حکم اور بندے کی محبت کے درمیان ایک پل ہے، جو احترام اور سلامتی کی لفظی صورت گری ہے۔

درودِ ابراہیمی کا حکم اور پس منظر

اگرچہ درود کے کئی صیغے موجود ہیں، لیکن سب سے مکمل اور عالمگیر سطح پر پڑھا جانے والا صیغہ ’درودِ ابراہیمی‘ ہے، جو خود نبی کریم ﷺ نے سکھایا۔ یہ دعا کسی تاریخی خلا میں موجود نہیں، بلکہ یہ جان بوجھ کر حضرت محمد ﷺ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نبوت کے درمیان ایک روحانی ربط قائم کرتی ہے۔ قرآنِ پاک میں نبی ﷺ کی ’آل‘ پر درود کا براہِ راست ذکر نہیں، بلکہ یہ دعا اللہ سے التجا کرتی ہے:

“اے اللہ! رحمتیں نازل فرما محمد (ﷺ) پر اور آلِ محمد (ﷺ) پر، جیسا کہ تو نے رحمتیں نازل فرمائیں ابراہیم (ع) پر اور آلِ ابراہیم (ع) پر۔ بیشک تو تعریف کے لائق اور بڑی بزرگی والا ہے۔”

“اے اللہ! برکتیں نازل فرما محمد (ﷺ) پر اور آلِ محمد (ﷺ) پر، جیسا کہ تو نے برکتیں نازل فرمائیں ابراہیم (ع) پر اور آلِ ابراہیم (ع) پر۔ بیشک تو تعریف کے لائق اور بڑی بزرگی والا ہے۔”

قرآن میں نبی ﷺ پر درود اور سلام بھیجنے کا عمومی حکم ہے۔ احادیث میں درودِ ابراہیمی کی معروف شکل میں ’آل‘ شامل ہے، تاہم کچھ دیگر روایات ایسی بھی ہیں جن میں ’آل‘ کا ذکر نہیں۔ علماء کے مطابق درودِ ابراہیمی (جس میں آل شامل ہے) سب سے مکمل اور افضل ہے، مگر دیگر صیغے بھی جائز ہیں۔ سلام بھیجنے کا ذکر درودِ ابراہیمی میں نہیں لیکن قرآن (33:56) میں اس کا حکم ہے۔ چنانچہ تشہد (نماز میں بیٹھنے کی حالت) میں ایک مسلمان پہلے براہِ راست نبی ﷺ کو سلام پیش کرتا ہے: “التحیات للہ والصلوات والطیبات، السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، السلام علینا وعلیٰ عباد اللہ الصالحین۔۔۔”

یہ سلام “اللہ کے نیک بندوں (مومنین)” کو بھی شامل کرتا ہے، یوں یہ “سلام بھیجو” کے قرآنی حکم کی براہِ راست تعمیل ہے۔ نماز کے ڈھانچے سے باہر، علماء کی رائے ہے کہ درود کی تلاوت میں درود اور سلام دونوں کے معنی شامل سمجھے جاتے ہیں، جیسا کہ قرآنی آیت کا منشا ہے۔

یہ صیغہ حضرت محمد ﷺ اور ان کی آل کے لیے طلب کی گئی رحمتوں کو ابراہیمی فضل کی مثال سے جوڑ کر اس دعا کی قدر و منزلت بڑھا دیتا ہے۔ تاہم، لفظ ’آل‘ یہاں تشریح کا ایک اہم مرکز بن جاتا ہے۔ ایک سطحی مطالعہ شاید اسے محض ایک نسلی تعلق سمجھے، جس سے تاریخی غلط فہمیاں پیدا ہوئیں (جیسے بعض یہودی مبصرین کا یہ غلط گمان کہ یہ دعا ان کے حوالے سے ہے)۔ قرآنی استعمال واضح کرتا ہے کہ “آلِ ابراہیم” سے مراد کوئی مخصوص نسلی گروہ نہیں بلکہ وہ انبیاء اور نیک گروہ ہیں جنہوں نے ان کی خالص توحید کو برقرار رکھا (قرآن 7:168، 7:159)، ان لوگوں کے برعکس جنہوں نے بعد میں انحراف کیا۔


ایمان کا عہد، نہ کہ محض خون کا رشتہ

قرآن کی سورہ البقرہ کی آیت 124 حضرت ابراہیم (ع) کی نسل کے لیے اللہ کے وعدے کی مشروط نوعیت کو بیان کرتی ہے:

“اور (یاد کرو) جب ابراہیم کو ان کے رب نے چند باتوں سے آزمایا تو انہوں نے وہ پوری کر دیں۔ اللہ نے فرمایا: ‘میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔’ ابراہیم نے عرض کیا: ‘اور میری اولاد میں سے بھی؟’ اللہ نے فرمایا: ‘میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔'”

اس کا مطلب یہ ہے کہ پیشوائی اور قیادت کا الٰہی وعدہ کوئی غیر مشروط موروثی حق نہیں ہے۔ یہ ایمان، تقویٰ اور اللہ کی اطاعت پر منحصر ہے۔ ابراہیم (ع) (یا اس معاملے میں محمد ﷺ) کی اولاد میں سے کوئی بھی اگر نافرمان یا مشرک ہے، تو وہ خود بخود اس عہد سے خارج ہو جاتا ہے۔

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ کے نزدیک حقیقی قیادت روحانی اور اخلاقی ہے، جس کی بنیاد ایمان اور نیک عمل پر ہے۔ اس کا اطلاق بنی اسرائیل کے نیک انبیاء (اسحاق، یعقوب، یوسف، موسیٰ، عیسیٰ علیہم السلام) اور بالآخر آخری نبی حضرت محمد ﷺ پر ہوتا ہے، جو اسماعیل (ع) کے واسطے سے ابراہیم (ع) کی نسل سے ہیں۔ لہٰذا، یہ آیت اس خیال کو مسترد کرتی ہے کہ محض کسی نبی کی حیاتیاتی نسل ہونا الٰہی فضل یا قیادت کی ضمانت دیتا ہے۔

مسیح (ع) نے بھی ان یہودی رہنماؤں سے کہا تھا جو ابراہیم (ع) کی اولاد ہونے پر فخر کرتے تھے لیکن ان کے عمل ابراہیم (ع) کے برعکس تھے:

“اگر تم ابراہیم کے فرزند ہوتے تو ابراہیم کے سے کام کرتے۔ لیکن اب تم مجھ جیسے آدمی کو قتل کرنے کی کوشش میں ہو جس نے تم سے وہ سچائی بیان کی جو خدا سے سنی۔ ابراہیم نے تو ایسا نہ کیا تھا۔” (یوحنا 8:39-40)

قرآن مزید کہتا ہے: “یہودی کہتے ہیں کہ یہودی بن جاؤ تو ہدایت پاؤ گے، اور عیسائی کہتے ہیں کہ عیسائی بن جاؤ تو ہدایت پاؤ گے، آپ کہیے: بلکہ (ہم) ابراہیم کے طریقے پر ہیں جو یکسو تھے اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔” (القرآن 2:135)

اسلام میں حضرت ابراہیم (ع) کو خالص توحید (حنیف) کا قدیم بانی سمجھا جاتا ہے، جو یہودیت اور عیسائیت جیسے مذاہب کے قیام سے بہت پہلے موجود تھے۔ وہ تمام موحدین کے روحانی باپ ہیں۔ لہٰذا یہ پکار ابراہیم (ع) کی اصل توحید کی طرف ہے، نہ کہ کسی بعد میں آنے والے مخصوص مذہبی گروہ کی طرف۔


لفظ ’آل‘ کی وسعت: ایمان کا دائرہ

قرآن و سنت کی روشنی میں ’آل‘ کا مفہوم محض رشتہ داری تک محدود نہیں بلکہ ایمان اور عملِ صالح کی بنیاد پر وسعت پاتا ہے۔ نبی ﷺ کی آل میں وہ تمام لوگ بھی شامل ہیں جو آپ ﷺ کی سنت اور تعلیمات کی پیروی کرتے ہیں۔ لغوی اعتبار سے ’آل‘ کا اطلاق انسان کی اپنی ذات، قبیلے یا پیروکاروں پر ہوتا ہے اور قرآن نے اسے ان تمام معنوں میں استعمال کیا ہے۔

قرآنی شواہد:

  1. آلِ فرعون: اس سے مراد فرعون کے درباری، سپاہی اور حامی ہیں—یعنی ظلم کا پورا نظام، نہ کہ محض اس کا خاندان (قرآن 2:49، 7:130)۔ یہاں ’آل‘ سے مراد پیروکار اور وابستہ لوگ ہیں۔

  2. آلِ لوط: عذاب سے بچائے جانے والے وہ تھے جو ان کے مومن پیروکار تھے؛ واضح رہے کہ ان کی بیوی کو ان کے کفر کی وجہ سے خارج کر دیا گیا تھا (قرآن 66:10)۔ یہاں معیار صرف اور صرف ایمان ہے۔

  3. حضرت نوح (ع) کے بیٹے کا واقعہ: یہ اصول اللہ کے اس جواب میں واضح ہو جاتا ہے جو اس نے نوح (ع) کو ان کے ڈوبنے والے بیٹے کے بارے میں دیا: “اے نوح! بیشک وہ تیرے گھر والوں (اہل) میں سے نہیں ہے؛ بیشک اس کے عمل نیک نہیں ہیں۔” (قرآن 11:46)۔ یہاں خون کا رشتہ عملِ صالح اور ایمان کے مقابلے میں ثانوی قرار دیا گیا۔

آلِ محمد ﷺ کے لیے اس کے اثرات:

اس قرآنی تناظر میں ’آلِ محمد‘ کے دائرے درج ذیل ہیں:

  • اہلِ بیت: مطہر گھرانہ، بشمول آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات (دیکھیے قرآن 11:73، 33:33)۔ نبی ﷺ نے خاص طور پر حضرت فاطمہ، حضرت علی اور حسن و حسین (رضی اللہ عنہم) کو بھی شامل فرمایا۔

  • بنی ہاشم: وہ جن پر زکوٰۃ حرام ہے، جو ایک خاص تاریخی اور اعزازی حیثیت ہے۔

  • صالح امت: وسیع تر معنوں میں ’آل‘ میں آپ ﷺ کی امت کے تمام متقی مومنین شامل ہیں۔ ایک حدیث میں ہے: “بیشک آلِ محمد کسی مخصوص قبیلے کے دوست نہیں، بلکہ ان کے دوست تو صرف متقی لوگ ہیں”۔ (مسند احمد)۔ یہ قرآنی مساوات کے اصول سے مطابقت رکھتا ہے: “بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے”۔ (قرآن 49:13)۔ یہاں کسی خونی رشتے کا ذکر نہیں۔

ایک اور مقام پر جب قرآن میں آیت نازل ہوئی: “اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں” (26:214)، تو نبی ﷺ نے فرمایا: “اے بنو عبدالمطلب! اے بنو عبد مناف! اے بنو قصی!۔۔۔ میں اللہ کے سامنے تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا! اے صفیہ (اللہ کے رسول کی پھوپھی)! اے فاطمہ (محمد کی بیٹی)! میرے مال میں سے جو چاہو مانگ لو، لیکن میں اللہ کے مقابلے میں تمہاری کوئی حفاظت نہیں کر سکتا!” (صحیح بخاری، 2753)

یہ آیات اور احادیث ایک طاقتور الٰہیاتی اصلاح کا کام کرتی ہیں۔ یہ کسی بھی ایسی اندھی عصبیت کو روکتی ہیں جو نبی ﷺ کے خاندان کو اسلامی اصولوں سے جدا کر دے۔ یہ واضح کرتی ہیں کہ خاندان سے حقیقی محبت کا دعویٰ وہ کر سکتے ہیں جو اس تقویٰ اور نیکی کو اپنائیں جس کی انہوں نے تبلیغ کی۔ تقویٰ کا معیار خون کے معیار سے بلند ہے۔ چنانچہ ’آل‘ میں شامل ہونے کا مطلب نبی ﷺ کی تعلیمات کو اپنے کردار میں ڈھالنا ہے۔

اتحاد کا لازوال پیغام اور حاصلِ کلام

درودِ ابراہیمی میں حضرت ابراہیم (ع) اور ان کی آل کا ذکر محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ توحید کے تسلسل کا ایک زندہ اعلان ہے۔ یہ ابراہیم (ع) کو ایک مثالی حنیف اور محمد ﷺ کو ابراہیم (ع) کی اس دعا کی قبولیت کے طور پر تسلیم کرتا ہے جو انہوں نے ایک رسول کے لیے مانگی تھی (قرآن 2:129)۔ درود پڑھتے ہوئے، ایک مومن نبوت کے غیر منقطع سلسلے اور وقت کے پار الٰہی پیغام کی وحدت کی تصدیق کرتا ہے۔

درود شریف (صلوات) کا عمل اسلامی عقیدت کا ایک متحرک ستون ہے۔ یہ بیک وقت الٰہی حکم کی تعمیل، نبی ﷺ سے ذاتی محبت کا اظہار اور ایک گہرا الٰہیاتی بیان ہے۔ محمد ﷺ پر بھیجی جانے والی رحمتوں کو ابراہیم (ع) کی رحمتوں سے جوڑ کر، یہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ حقیقی تعلق—یعنی ’آل‘ ہونا—نسل سے نہیں بلکہ توحید کی وفاداری اور عملِ صالح سے متعین ہوتا ہے۔ ہر بار درود پڑھنا ایمان کے اس لازوال عہد کی تجدید ہے، جو خاتم الانبیاء ﷺ کے لیے، ان سے پہلے کے انبیاء کے لیے اور ان تمام مومنین کے لیے رحمت کی دعا ہے جو تقویٰ کے ذریعے ان کے روحانی خاندان میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔
مصنف: بریگیڈیئر آفتاب خان (ریٹائرڈ)

حوالہ: SalaamOne.com/e-Books

DJ- Eng DJ – Darood

Durood Shareef (Salawat)- A Review By Brigadier Aftab Khan (r) The practice of invoking blessings upon the Prophet Muhammad (peace be upon him) stands as a cornerstone of Islamic piety, a rhythmic heartbeat within the spiritual life of a believer. Yet, the very language used to describe this act reveals a rich tapestry of cultural and theological nuance.