تورات اور تالمود Torah and Talmud

یہود نے الله کی کتاب تورات کو پس پشت ڈال  دیا اور دوسری کتب ، تلمود پر زور دیا ، اس طرح وہ صحیح راستہ سے دور ہو گیے- قرآن  اللہ کی آخری کتاب ، سمجھنے میں آسان ہے ، مکمل ہدایت ہے جس میں کوئی شک نہیں-  حضرت عمر رضی الله نے کتابت حدیث پر بہت غور کے بعد فیصلہ کیا کہ اللہ کی کتاب کے بعد کسی کتاب کی ضرورت نہیں ، پہلی قومیں برباد ہوئیں کہ انہوں نے الله کی کتاب کو چھوڑ کر دوسری کتابوں میں مشغول ہو گئے-  یہاں یہود اور نصاریٰ (مسیحی) کی طرف اشارہ ہے –

مسیحیت میں چار مختلف انجیلیں ہیں جوگمنام لکھنے والوں نے حواریوں کے ناموں سے منسوب کردیں، ان  کا بغور جائزہ سے توحید کے آثار ملتے ہیں اسی اسی وجہ سے دوہزار سال سے مسیحیت میں آج تک توحید کے عقیدہ پر ایمان رکھنے والے مسیحی افراد اور گروہ موجود رہے ہیں مشہور سائنس دان نیوٹن،  امریکی صدر تھامس جیفرسن توحید پرست  مسیحی  [   Monotheist ، Nontrinitarian Christian] تھے- اصل انجیل جو حضرت عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئی معدوم ہے- “مسیحیت” کے مشرکانہ نظریات کا حضرت عیسی علیہ السلام  کی تعلیمات اور اصل انجیل سے کوئی خاص تعلق نہیں، ان کے مذہبی پیشواوں نے رومن ، یونانی مشرکین اور بت پرسست مذھب کو مکس کرکہ نیا مذھب بنا  کرحضرت عیسی علیہ السلام سے منسوب کردیا- یہود کے پاس حضرت موسی علیہ السلام پر نازل “تورات” تحریف کے باوجود بہتر حالت میں موجود ہے مگر انہوں نے “تالمود” کو زیادہ اہمیت دی اور صراط مستقیم سے بھٹک گئے – حضرت عمر رضی الله کا اشارہ انہی کی طرف تھا – ضرورت ہے کہ اس بات کا جائزہ لیا جایے  کہ یہود نےالله کے کلام مقدس کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ یہود کیا مسلمان بھی یہود کے راستے پر تو نہیں چل نکلے جس کا حضرت عمر رضی الله کو خدشہ تھا؟

[ یہ بھی پڑھیں … “حدیث” کی کتابت قران کی طرح خلفاء راشدین نے کیوں نہ کی ؟Continue Reading]

یہودی حاخامات کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے طورسینا پر موسی علیہ السلام پر دو شریعتیں نازل کی: (١) مکتوب شریعت (٢) زبانی شریعت- یہود کے مطابق   یہی زبانی شریعت اصل شریعت ہے، جو اللہ کی مراد اور مکتوب شریعت یعنی تورات کی حقیقی تفسیر ہے۔ چنانچہ یہود کے اندر دہری شریعت کا آغاز ہوا اور 40 نسلوں تک یہ سری شریعت زبانی منتقل ہوتی رہی اور یہودی حاخامات زبانی و سری شریعت کی آڑ میں تورات کی من مانی تفسیر کرتے رہے۔ زبانی شریعت کے مکتوب نہ ہونے کی وجہ سے یہودی قوم متعین عقائد پر متفق نہیں تھی۔ ہر یہودی ربی کی اپنی تشریح و تفسیر ہوتی، جس پر اس کے خاندان اور متبعین یقین رکھتے تھے۔ یہودیوں کی مقدس کتب تورات اور تالمود Torah and Talmud

موجودہ بائبل میں پرانے عہد نامے کی پہلی پانچ کتابوں کے مجموعے کو تورات کہتے ہیں۔  تورات یا توریت ( תּוֹרָה‎‎، “تدریس، تعلیم”) یا اسفار خمسہ یہودیت کی مرکزی کتاب ہے۔ اس میں درج ذیل کتابیں شامل ہیں۔ پیدائش، کتاب خروج، کتاب احبار، کتاب گنتی، کتاب استثنا

The Talmud and the Torah

  1. According to Jews Torah is the written law given to Moses,  Talmud as  explanation or oral law.
  2. Talmud was completed some 1700 years after the receiving of the written Torah.
  3. Talmud is 70% Aramaic, Torah is 100% Hebrew.
  4. 2,711 pages of the Babylonian Talmud discuss the details of 613 commandments of the written Torah.
  5. Talmud has (now) a fixed pagination, so one refers to the exact page in Talmud, the Torah is printed freely, and is referenced by chapters.
  6. Talmud is a compendium of sayings of hundreds of different sages, Torah is believed to be all said by God.
  7. Talmud has two versions: Babylonian (main) and Jerusalem, Torah’s one.
  8. Talmud has many missing volumes (tractates), Torah is complete till the last letter.
  9. Talmud has omissions, sometimes different versions, different wording etc, Torah is the same all over the world for thousand of years.
  10. There’s a commandment to read the Torah out loud in public, there’s no such commandment for Talmud.
    Torah has Teamim (intonation variations) to be read properly in public, Talmud has not.
  11. Written printed Torah is always punctuated and vocalized, printed Talmud has no punctuation and no vocalization (makes it very difficult to read).
  12. Talmud is studied thoroughly in the Orthodox Jewish educational system, written Torah is not. [Talmud has taken over the Torah!]

یہودیوں نے تورات میں حسب منشا ترمیم کر لی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گو اس میں تقریباً وہی قصص اور احکام پائے جاتے ہیں جو قرآن میں ہیں لیکن عقائد اور مسائل میں زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے۔ محمد صلی علیہ وسلم سے تورات کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ کتابوں کو نہ سچ کہو نہ غلط۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ہم اللہ اور اس کی کتابوں پر ایمان لائے۔ البتہ علمائے اسلام کے تورات میں یہود کی تحریف کی نوعیت کے متعلق مختلف نقطہائے نظر ہیں:

1 بعض کہتے ہیں کہ یہودی نے اسکے الفاظ بدل ڈالے تھے

2 جبکہ بعض کا خیال یہ ہیکہ الفاظ میں معمولی تبدیلی کے ساتھ ساتھ اصل تحریف وہ تورات کی تفسیر بیان کرنے میں کرتے تھے

اسلام کے  مطابق اب تورات کی شریعت منسوخ ہوچکی ہے اور اس شریعت کے جتنے بھی محاسن تھے وہ اسلام میں شامل ہوگئے ہیں ، چنانچہ اب یہودیت پر ایمان لانے سے کوئی مسلمان نہیں کہلائے گا بلکہ ہر یہودی کو ناجی ہونے کیلئے شریعت محمدیہ پر ایمان لانا ہوگا ،البتہ اسلام نے اپنے ماننے والوں پر اس بات کا ایمان لازم کردیا ہے کہ توریت وانجیل وغیرہ کتب کو بھی خدا کی کتب مانیں ،اگرچہ وہ ابھی خدا کی بھیجی ہوئی خالص شکل میں نہیں ،اس لیے اس کو پڑھ کر نہ اس کی تصدیق کرنی چاہئیے اور نہ تکذیب۔

 تالمود

یہودیوں کی انتہائی مقدس کتاب تالمود، جو کوئی یہودی اس کتاب کو کسی غیر یہودی تک پہنچانے کا ذمہ دار ھوتا ہے اس کی سزا موت ھے۔ دنیا کی تمام مذھبی کتابیں، قران حکیم، بائبل، گیتا وغیرہ آپ کو آسانی سے ھر جگہ مل سکتی ھے لیکن تالمود تک آپ کی رسائی ناممکن ھے۔ آئیے دیکھتے ھیں اس کتاب میں کیا ھے۔۔۔۔۔ اس میں عیسائی مذھب اور دین اسلام اور غیر یہودی انسانوں کے بارے کیسا زھر بھرا ھوا ھے اور یہودی کس طرح اپنے آپ کو ھر انسان سے افضل سمجھتے ھیں۔
یہودی ’’ خاخاموں (علماء )‘‘ نے برسوں توریت پر مختلف خود ساختہ شرحیں اور تفسیریں لکھیں ہیں۔ ان تمام شرحوں اور تفسیروں کو خاخام ’’ یوخاس‘‘ نے 1500 ء میں جمع بندی کر کے اس میں کچھ دوسری کتابوں کا جو 230 ء اور 500 ء میں لکھی گئی تھیں اضافہ کر دیا۔ اس مجموعہ کا ’’تلمود‘‘یعنی تعلیم دیانت و آداب یہود کے نام سے موسوم کیا گیا۔
یہ کتاب یہودیوں کے نزدیک بہت تقدس کی حامل ہے اور توریت و عہد عتیق کے مساوی حیثیت رکھتی ہے۔ ( بلکہ توریت سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہے جیسا کہ گرافٹ نے کہا:

جان لو کہ خاخام کے اقوال پیغمبروں سے زیادہ بیش قیمت ہیں۔

یہودیوں کی خود پرستی اور انسایت مخالف یہودی عقائد سے آشنائی کے لیے اس کتاب کےچند جملے نقل کئے جا رہے ہیں۔  ایسے کلمات نقل نہیں کئیے جن میں اللہ تعالی ۔ حضرت آدم و حوا علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ و حضرت مریم علیہ السلام کی شان میں شدید گستاخی کے حامل تھے۔ اس  پڑھ کر بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ یہ الله کی طرف سے نہیں بلکہ یہودی علماء ، کا خودساختہ کلام  ہے :

1 جب خدا نے ہیکل کو برباد کرنے کا حکم دیا ، تو غلطی پر تھا۔ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے رو پڑا اور کہنے لگا:’’ مجھ پر وائے ہو کہ میں نے اپنے گھر کو برباد کرنے کا حکم دیا اور ہیکل کو جلوا دیا اور اپنے فرزندوں کو تباہ کر دیا‘‘۔
خدا یہود کو اس حالت میں مبتلا کرنے کی وجہ سے بہت زیادہ پشیمان ہے اور ہر روز اپنے چہرے پر تھپڑ مارتا ہے اور گریہ و زاری کرتا ہے کبھی کبھی اس کی آنکھوں سے آنسو کے دو قطرے سمندر میں گر جاتے ہیں اور اتنی زور دار آواز ہوتی ہے کہ ساری دنیا اس کے گریہ کی آواز سنتی ہے۔ سمندر کا پانی متلاطم ہو جاتا ہے اور زمین لرز اٹھتی ہے۔

2 یہودیوں کی روحیں غیروں کی روحوں سے افضل ہیں۔ اس لیے کہ یہودیوں کی روح خداوند عالم کا جزء ہیں اسی طرح جس طرح بیٹا باپ کا جزء ہوتا ہے۔ یہودیوں کی روحیں خدا کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہیں اس لیے کہ غیروں کی روحیں شیطانی اور حیوانات کی ارواح کے مانند ہیں۔
غیر یہودی کا نطفہ بقیہ حیوانات کے نطفہ کی طرح ہے۔

3 بہشت یہودیوں سے مخصوص ہے اور ان کے علاوہ کوئی بھی اس میں داخل نہیں ہو سکتا لیکن عیسائیوں اور مسلمانوں کا ٹھکانہ جہنم ہے گریہ و زاری کے علاوہ ان لوگوں کے نصیب میں کچھ بھی نہیں ہے اس لیے کہ اس کی زمین بہت زیادہ تاریک اور بدبودار مٹی کی ہے۔کوئی پیغمبر مسیح کے نام سے مبعوث نہیں ہوا ہے اور جب تک اشرار (غیر یہودی) کا خاتمہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک مسیح ظہور نہیں کرے گا جب وہ آئے گا تو زمین سے روٹی کا خمیر اور ریشمی لباس اگیں گے یہ وہ موقع ہو گا جب یہودیوں کا تسلط اور بادشاہی ان کو واپس ملے گی اور تمام اقوام و ملل مسیح کی خدمت کریں گی اس وقت ہر یہودی کے پاس دو ہزار آٹھ سو غلام ہوں گے۔

4 یہودیوں پر لازم ہے کہ دوسروں کی زمینوں کو خریدیں تاکہ کوئی اور کسی چیز کا مالک نہ ہو اور اقتصادی طور پر یہودی تمام غیروں پر مسلط ہو سکیں۔ اور اگر غیر یہودی پر غلبہ حاصل کر لے تو یہودیوں کو چاہیے کہ اپنے آپ پر گریہ کریں اور کہیں ہم پر ملامت ہو یہ کیا عار و ننگ ہے کہ ہم دوسروں کے ہاتھوں ذلیل ہو رہے ہیں۔
اس سے پہلے کہ یہودی اپنی عالمی حکومت اور بین الاقومی غلبے کو حاصل کر لیں ضروری ہے عالمی جنگ برپا ہو جائے اور دو تہائی انسان نابود ہو جائیں۔ سات سال کی مدت میں یہودی جنگی اسلحوں کو جلا ڈالیں گے اور بنی اسرائیل کے دشمنوں کے دانت بائیس بالشت (جو عام طور پر دانتوں کی مقدار سے ایک ہزار تین سو بیس گنا زیادہ ہے) ان کے منہ سے باہر نکل آئیں گے۔ جس وقت حقیقی مسیح دنیا میں قدم رکھے گا یہودیوں کی دولت اپنی ہو جائے گی کہ اس کے صندوقوں کی چابیاں تین سو گدھوں سے کم پر نہیں ڈھوئی جا سکیں گی۔
عیسائیوں کو قتل کرنا ہمارے مذہبی واجبات میں سے ہے اور اگر یہودی ان کے ساتھ کوئی پیمان باندھیں تو اس کو وفا کرنا ضروری نہیں ہے، نصرانی مذہب کے روساء پر جو یہودیوں کے دشمنوں ہیں ہر روز تین مرتبہ لعنت کرنا ضروری ہے۔

  • 5 اسرائیلی خدا کے نزدیک ملائکہ سے زیادہ محبوب اور متعبر ہیں۔ اگر غیر یہودی، یہودی کو مارے تو ایسے ہے جیسے اس نے عزت الہیہ کے ساتھ جسارت کی ہو اور ایسے شخص کی سزا موت کے علاوہ کچھ بھی اور نہیں ہو سکتی لہذا اس کو قتل کر دینا چاہیے۔
    اگر یہودی نہ ہوتے تو زمین سے برکتیں اٹھا لی جاتیں سورج نہ نکلتا اور نہ آسمان سے پانی برستا۔ جس طرح انسان حیوانوں پر فضیلت رکھتا ہے یہودی دوسری اقوام پر فضیلت رکھتا ہے۔
    غیر یہودی کا نطفہ گھوڑے کے نفطہ کی طرح ہے۔
    اجنبی (غیر یہودی) کتوں کی طرح ہیں ان کے لیے کوئی عید نہیں ہے اس لیے کہ عید کتوں اور اجنبیوں کے لیے خلق ہی نہیں ہوئی ہے۔
    کتا غیر یہودیوں سے زیادہ با فضیلت ہے اس لیے کہ عید کے موقعوں پر کتے کو روٹی اور گوشت دیا جانا چاہیے لیکن اجنبیوں کو روٹی دینا حرام ہے۔
    اجنبیوں کے درمیان کسی طرح کی کوئی رشتہ داری نہیں ہے۔ کیا گدھوں کے خاندان اور نسل میں کسی طرح کی قرابت اور رشتہ داری کا وجود ہے؟
    اجنبی (غیر یہودی) خدا کے دشمن ہیں اور سور کی طرح ان کو قتل کر ڈالنا مباح ہے۔
    اجنبی یہودیوں کی خدمت کرنے کے لیے انسان کی صورت میں خلق ہوئے ہیں۔
    یسوع مسیح کافر ہے اس لیے کہ دین سے مرتد اور بتوں کی پرستش میں مبتلا ہو گیا تھا ہر عیسائی جو یہودی مذہب نہ اختیار کرے دشمن خدا، بت پرست اور عدالت سے خارج ہے اور ہر انسان جو غیر یہودی کے ساتھ ذرا سی بھی مہربانی کرے عادل نہیں ہے۔
    غیر یہودیوں کو دھوکا دینا اور ان کے ساتھ فریب دہی کرنا منع نہیں ہے۔
    کفار (غیر یہودیوں ) کو سلام کرنا برا نہیں ہے اس شرط کے ساتھ کہ در پردہ اس کا مضحکہ اڑائے۔

6 چونکہ یہودی عزت الہیہ کے ساتھ مساوات رکھتے ہیں لہذا دنیا اور مافیہا ان کی ملکیت ہے اور ان کو حق ہے کہ وہ جس چیز پر چاہیں تصرف کریں۔
یہودی کے اموال کی چوری حرام ہے لیکن غیر یہودی کی کوئی بھی چیز چرائی جا سکتی ہے اس لیے کہ دوسروں کا مال سمندر کی ریت کی طرح ہے جو پہلے اس پر ہاتھ رکھ دے وہی اس کا مالک ہے۔
یہودی شوہر دار عورتوں کی طرح ہیں جس طرح عورت گھر میں آرام کرتی ہے اور گھر کے باہر کے امور میں شوہر کے ساتھ شریک ہوئے بغیر اس کے اخراجات برداشت کرتا ہے اسی طرح یہودی بھی آرام کرتا ہے دوسروں کو چاہیے کہ اس کو روزی فراہم کریں۔

7 اگر یہودی اور اجنبی شکایت کریں تو یہودی کے حق میں فیصلہ کیا جانا چاہیے چاہے وہ باطل پر ہی کیوں نہ ہو۔
تمہارے لیے جائز ہے کہ کسٹم کے عہدیداروں کو دھوکا دو اور انکے سامنے جھوٹی قسم کھاو، خاخام (صموئیل) سے سبق لو کہ صموئیل نے ایک اجنبی سے ایک سونے کا پیالہ چار درہم میں خریدا مگر بیچنے والا اس کے سونا ہونے کے بارے میں نہیں جانتا تھا اس کے باوجود اس نے اس کا ایک درہم بھی چرا لیا۔
سود کے ذریعہ دوسروں کامال ہڑپ جانا کوئی عیب نہیں ہے اس لیے کہ خداوند غیر یہودیوں سے سود خوری کا تم کو حکم دیتا ہے۔
جو یہودی نہ ہو اس کو قرض نہ دو سوائے اس کے کہ اس سے سود لو۔ اس صورت کے علاوہ غیر یہودیوں کو قرض دینا جائز نہیں ہے اور ہم کو حکم دیا گیا ہے کہ غیر یہودیوں کو نقصان پہنچائیں۔
دوسروں کی زندگی و حیات تک یہودیوں کی ملکیت ہے ان کے اموال کسی شمار و قطار میں نہیں ہیں جب بھی کسی غیر یہودی کو پیسے کی ضرورت ہو تو اس سے اتنا زیادہ سود لینا چاہیے کہ وہ اپنی تمام دولت کو کھو بیٹھے۔

8 غیر یہودی کتنا بھی نیک اور اچھے کردار کا مالک ہو اس کو مار ڈالنا چاہیے۔
غیر یہودی کو نجات دینا حرام ہے یہاں تک کہ اگر وہ کنویں میں گر جائے تو فورا اس کنویں کو پتھر سے پر کر دو۔
اگر کسی اجنبی (غیر یہودی) کو مار ڈالیں تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے راہ خدا میں قربانی کی ہو اور اگر ایک یہودی غیر یہودی کی مدد کرے تو اس نے ایک ایسے گناہ کا ارتکاب کیا ہے کہ جو ناقابل عفو و بخشش ہے۔
اگر غیر یہودی دریا میں ڈوب رہا ہو تو اسے نجات نہ دو اس لیے کہ وہ سات قومیں جو سر زمین کنعان میں تھیں اور یہودی ان کو مار ڈالنے پر مامور ہوئے تھے سب کے سب قتل نہیں کئے جا سکے تھے ممکن ہے کہ یہ ڈونبے والا شخص انہیں میں سے ایک ہو۔
جہاں تک تمہارے امکان میں ہو غیر یہودیوں کو قتل کرو اور اگر تم نے کسی غیر یہودی کو قتل کرنے پر قدرت حاصل کرنے کے بعد اس کو قتل نہ کیا تو گناہ انجام دیا ہے۔
عیسائی کو ہلاک کرنا ثواب ہے اور اگر کوئی اس کے قتل پر قادر نہ ہو تو کم از کم اسے اس کی ہلاکت کے اسباب ضرور فراہم کرنا چاہئیں۔
جو لوگ مرتد ہوں (یعنی جو یہودی آئین کی خلاف ورزی کریں) اجنبی ہیں اور ان کو پھانسی دینا لازم ہے سوائے اس کے کہ دوسروں کو دھوکہ دینے کے لیے مرتد ہوئے ہوں۔

9 غیر یہودیوں کی ناموس پر تصرف اور ان کی آبرو ریزی می کوئی قباحت نہیں ہے اس لیے کہ کفار حیوانوں کے مانند ہیں اور حیوانات کے درمیان کوئی شادی بیاہ کا رواج نہیں ہوتا ہے۔
یہودیوں کو حق ہے کہ غیر مومن (غیر یہودی) عورتوں کو بالجبر حاصل کریں اور غیر یہودی کے ساتھ زنا اور لواط کی کوئی سزا نہیں ہے۔
یہودی کے لیے کوئی قباحت نہیں ہے کہ وہ اپنے مال و شہوات کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔

10 قسم کھانا جائز مخصوصا غیر یہودی کے ساتھ معاملے کی صورت میں۔
قسم کھانے کا اصول جھگڑوں کو ختم کرنے کے لیے شریعت نے بیان کیا ہے لیکن یہ اصول کفار ( غیر یہودیوں ) کے لیے نہیں ہیں کیونکہ وہ انسان نہیں ہیں۔ جھوٹی گواہی بھی دینا جائز ہے ( باجودیکہ جانتا ہو کہ حق یہودی کے ساتھ ہے مگر جھوٹی گواہی دے سکتا ہے) چنانچہ لازم ہے کہ اگر بیس جھوٹی قسمیں بھی کھانا پڑیں تو بھی اپنے یہودی بھائی کو خطرہ میں نہ ڈالو یہودیوں پر لازم ہے کہ ہر روز تین مرتبہ عیسائیوں پر لعنت کریں اور ان کی نابودی کے لیے خدا سے دعا کریں۔
ہم پر لازم ہے کہ نصاریٰ کے ساتھ حیوانات جیسا سلوک روا رکھیں۔
نصرانیوں کے کلیسا گمراہیوں کا مسکن ہیں اور ان کو ڈھانا واجب و لازم ہے۔

11 ہم خدا کی منتخب کردہ قوم ہیں لہذا ہمارے لیے انسانوں کی شکل میں حیوانات خلق ہوئے ہیں اس لیے کہ خدا جانتا ہے کہ ہم کو دو طرح کے حیوانوں کی ضرورت ہے ایک بے زبان اور بے شعور حیوانات مثلا چوپائے اور دوسرے باشعور اور زبان رکھنے والے حیوانات مثلا عیسائی، مسلمان اور بودھ مذہب کے پیروکار، ان تمام حیوانات پر سواری کرنے کے لیے خداوند عالم نے ہم کو تمام دنیا میں متفرق کر دیا ہے تاکہ اپنی خوبصورت اور حیسن و جمیل بیٹیوں کو غیر یہودی بادشاہوں اور سلاطین کو دیکر دنیا پر حکومت کر سکیں۔

اس  سے بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ یہ الله کی طرف سے نہیں بلکہ یہودی علماء ، کا خودساختہ کلام  ہے- ان تمام چیزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیت ایک ایسا خطرناک گروہ ہے جو عوام کو دھوکا دے کر دنیا پر حکوت کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے جس نے آج خود کو ایک مذہب کی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔
حوالہ جات
1: یہ یہودیوں کی ایک وحشتناک کتاب ہے جو حقیقتا چند جلدوں سے زیادہ پر مشتمل نہیں ہے تھی مگر بعد میں اس میں 12 جلدوں کا مزید اضافہ کیا گیا ہے اور آج یہ کتاب 24 جلدوں پر مشتمل ہے ۔ تلمود یہودیوں کی شرارتوں کا خزانہ ہے۔
2: ماخوذ از کتاب خطر الیہودیہ العالمیہ۔۔۔

  1. http://magazine.mohaddis.com/shumara/235-sep-1978/2616-bani-israel-mazhabi-letretur
  2. https://en.wikipedia.org/wiki/Nontrinitarianism
  3. http://salaamone.com/american-christian-zionism-sehoneyat/

Hadith حدیث