آخری کتاب یا کتب ؟ The Last Book or Books?

اس ریسرچ پیپر میں دین اسلام اور تاریخ کے سب سے اہم موضوع کو زیر بحث لایا گیا ہے …

This is not an ordinary Thesis, it touches the most important topic of Islamic theology and history, a grave error (or deception?) ignored for twelve centuries, discussion is considered taboo…. Keep reading ….[……]


بسم الله الرحمن الرحيم 

 لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ مُحَمَّدٌ رَسُوُل اللّهِ

شروع اللہ کے نام سے، ہم اللہ کی حمد کرتے ہیں اس کی مدد چاہتے ہیں اوراللہ سے مغفرت کی درخواست کر تے ہیں. جس کواللہ ھدایت دے اس کو کوئی  گمراہ نہیں کرسکتا اورجس کو وہ اس کی ہٹ دھرمی پر گمراہی پر چھوڑ دے اس کو کوئی ھدایت نہیں دے سکتا. ہم شہادت دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد ﷺ اس کے بندے اورخاتم النبین ہیں اور انﷺ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں ہے. درود و سلام ہوحضرت محمّد ﷺ  پر اہل بیت (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اور اصحاب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اجمعین پر. جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا.


آخری کتاب یا کتب؟

پہلی صدی ہجری کے اسلام دین  کامل کو واپسی کی جدو جہد

تحقیق و تجزیہ : بریگیڈیئر آفتاب احمد خان (ر)

https://QuranSubjects.wordpress.com/last-book/

جامع خلاصہ

[مکمل تحقیقی مقالہ   http://bit.ly/2uI2213 ]

Executive Summary English:PDF: http://bit.ly/2Vdaxfq , Google Doc: http://bit.ly/3bTqSvX

2302202020

دین اسلام کی بنیاد قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر ہے۔ قرآن مجید آخری رسول محمد صلی الله علیہ وسلم  پر تئیس سالوں میں نازل ہوا ، جو حفظ و تحریر کے ذریعہ محفوظ  کیاگیا- پہلے دوخلفاء راشدین مہدیین کی کوششوں کے نتیجہ میں ،. کتاب کی شکل میں قرآن مجید کی کاپی تیار کی گئی اور بعد میں دوبارہ جانچ پڑتال کے بعد ، تیسرے خلیفہ حضرت عثمان (رضی الله) نے قرآن کی مستند کاپیاں تیار کرواکہ امت میں قسیم کردیں ۔  

قرآن تا قیامت بنی نوع انسان کے لئے ہدایت کی آخری کتاب (تحریری ہدایات) ہے۔ سنت ,  رسول صلی الله علیہ وسلم , قرآن کے نفاذ کا عملی نمونہ ہے ، جس کا آپ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نےعملی طور پر مظاہرہ کیا گیا (جیسے نماز روزہ زکات اور اس طرح کی دیگربنیادی عبادات و اہم معاملات)۔ سنت کتابی نہیں , عملی طور پر   نسل در نسل تسلسل سے منتقل ہوتی رہتی ہے (تواتر)۔ احادیثرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورصحابہ اکرام سے منسوب، الفاظ، اعمال اور تاریخی واقعات کا بیان ہے-  احادیث کی تحریر کو نبی اکرم نے ممنوع قرار دیا تھا ، بعد میں خلیفہ راشدین نے قرآن کی طرح ایک کتاب کی صورت میں مرتب نہیں کیا ، بلکہ زبانی ترسیل کومناسب سمجھا۔ ایسا نہیں ہے کہ ان کی کچھ ذاتی ومسئلہ تھا، بلکہ  ماضی کی امتوں (یہودی اور مسیحیت ) کے تجربے، گمراہی کی وجہ سے بہت منطقی مضبوط وجوہات ہیں۔ 

یہ مطالعہ اورتحقیقی جائزہ, قرآن وسنت کی روشنی میں قرآن کے علاوہ دیگر کتب (حدیث) کے وجود کو جانچنے کے لئے کیا گیا ہے ، مندرجہ ذیل پہلو اہم ہیں: 

  1. کیا صرف قرآن الله کی آخری کتاب ہے یا کوئی دوسری کتابیں بھی ہیں؟ 
  2. حقائق کو سب کے علم کےلیے  سامنے لایا جانا چاہئے ، چاہے وہ کتنے ہی تلخ کیوں نہ ہوں ، تاکہ علماء، ماضی کی تاریخی غلطیوں کا دفاع کرنے کی بجایے ، پہلی صدی ہجرہ کے  اصل، خالص ،آسان ، کامل دین اسلام کی بحالی کے لئے اپنا مثبت ، تعمیری کردار ادا کرسکیں-
  3. اسلام میں کسی کاہن ,مذہبی پیشواؤں کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ یہودی اور عیسائیوں نے  اپنے علماء اور راہبوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا تھا ۔ مسلمان صرف ایک ہی رب پر ایمان  رکھتے ہیں ، جو اللہ ہے۔

دوسرے خلیفہ راشد ، حضرت عمر (رضی الله) کا اسلام میں  بہت اہم اور اعلی مقام ہے , آپ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ترین ساتھیوں میں شامل ہیں– حضرت عمر (رضی الله) نے مکمل غور و فکر کے بعد ، اللہ پاک کی کتاب قرآن مجید کے علاوہ کوئی اور کتاب نہ رکھنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ سابقہ امتیں (یہودی اور عیسائی) کتاب الله  (تورات و انجیل) کو نظرانداز کرکے گمراہ ہوگئے اللہ کیا اور غیر ضروری مباحث میں ملوث ہو گیے،– مزید برآں ان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ کتاب (تورات) میں کوئی چیز شامل نہ کریں اور نہ حذف کریں جس کی انہوں نے خلاف ورزی کی ۔ 

عبد اللہ بن یسار کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ، انہوں نے کہا کہ جس کے پاس قرآن کے علاوہ کوئی تحریر ہے اسے گھر واپس جا کراسے ختم کرنا ہوگا ، کیونکہ پچھلی قومیں گمراہ ہوئیں جب انھوں نے الله کی کتاب کو ترک کیا اور اپنے علماء کے مباحثوں , قیل وقال میں ملوث ہوگیے-

کتاب الله  , تورات کی 5853 آیات ہیں، جبکہ علماء یہود کی تحریر کردہ کتاب , تلمود ، 38 جلدوں میں 10 ملین سے زیادہ الفاظ پر مشتمل ہے۔ یہود تورات پر تلمود کو اہمیت دیتے ہیں-

مسیحیوں کی مقدس  کتاب “عہد نامہ جدید”  میں 7،959 آیات ہیں، جن میں سے 1،599 مسیح علیہ السلام سےمنسوب اقوال ہیں۔ اگرالفاظ کی گنتی کریں تو “عہد نامہ جدید”  میں الفاظ 181،253 ہیں۔ ان میں سے صرف 36،450 الفاظ مسیح علیہ السلام  سےمنسوب ہیں – بمشکل 20 فیصد سے زیادہ۔ یسوع مسیح نے پادریوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور صحیفہ کی حقیقی تعلیمات پر عمل کرنے کی رہنمائی کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ان  کے خلاف ہوگئے۔

قرآن مجید کی 6،236 آیات ہیں ، جبکہ 25000 سے زیادہ احادیث ،75 کتابیں موجود ہیں، تعداد بڑھ سکتی ہے کیونکہ ان کتابوں میں وہ لاکھوں حدیثیں شامل نہیں ہیں جن کو لکھنے والوں نے اپنی صوابدید پر شامل نہ کیا (کیا ایسی نامکمل انسانی کوشش دین کی بنیاد بن سکتی ہے؟)۔  ایک حدیث میں الفاظ کئی آیات سےبھی زیادہ سکتے ہیں. اسطرح قرآن اور احادیث کے الفاظ کے اندازہ کا تناسب 10: 90 ہو سکتا ہے- کیا یہ یہود کی تقلید نہیں ؟ امام شافعی کے مطابق پوری تاریخ میں کوئی بھی شخص مکمل احادیث کےعلم کا دعوی نہیں کرسکتا ، یہ انسانی طور پر ناممکن ہے۔ احادیث کے درجات بھی بدلتے رہتے ہیں۔  

امام سیوطی کے مطابق ، بعض رسومات ، جیسے نماز ، روزے وغیرہ سے متعلق مستند (تواتر / لگاتار) احادیث صرف 113 ہیں. 

تاریخی روایت کےمطابق خلیفہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس500 روایات تھیں ، اور یہ اپنی بیٹی عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے کردی گئیں۔ اگلی صبح ، انہوں نے اسے اس سے واپس لیا اور اسے تباہ کردیا ، یہ کہتے ہوئے: “میں نے وہی لکھا جو میں نے سمجھا تھا۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ اس میں کچھ ایسی چیزیں ہونی چاہئیں جو نبی کے ارشادات کے مطابق متن کے مطابق نہ  ہوں۔

عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، عمار بن راشد سے یہ روایت ہے کہ آپ کی خلافت کے دوران ، عمر نے ایک بار حدیث کی سند کے موضوع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا۔ جس کی تائید کی۔ اس کے باوجود عمر(رضی الله)  ہچکچاتے رہے اور ہدایت کے لئے پورے مہینے الله سے دعا کرتے رہے۔ آخر کار ، انہوں نے یہ کام نہ کرنے کا فیصلہ کیا ، اور کہا: “سابقہ ​​لوگوں نے کتاب الہی کو نظرانداز کیا اور صرف انبیاء کے طرز عمل پر ہی توجہ مرکوز کی میں کتاب الله تعالی  , قرآن اور رسول اللہ کی حدیث کے مابین الجھن کا امکان پیدا نہیں کرنا چاہتا [ڈاکٹر۔ محمد حمید اللہ]

ایک اور روایت: “عمر ابن الخطاب نے ایک بار حدیث کو تحریر کے مرتکب کرنے کے مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جن سے مشورہ کیا ، ان کی حوصلہ افزائی کی ، لیکن انھیں اس بات کا زیادہ یقین نہیں تھا کہ وہ آگے بڑھیں گے یا نہیں۔ ایک دن ، خدا کے الہام سے متاثر ہوکر ، اس نے اپنا ذہن اختیار کرلیا اور اعلان کیا: “میں رسول اللہ (حدیث) کی روایات لکھنا چاہتا تھا ، لیکن مجھے خدشہ ہے کہ خدا کی کتاب کو گھیر لیا جائے اوراس پرحاوی ہو۔ اس لئے میں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا ۔ لہذا ، اس نے اپنا نظریہ بدلا اور صوبوں بھر کے مسلمانوں کو ہدایت کی: “جس کے پاس کوئی احادیث کی کوئی دستاویز ہے ، اسے ختم کردے گا۔” لہذا ، حدیث ، زبانی طور پر پھیلتی رہی اور اسے المامومن کے عہد تک جمع نہیں کیا گیا۔ (169-217 ہجری) [محمد حسین ہیکل]

قرآن نہیں چاہتا ہے کہ کوئی بھی دوسری کتاب یا حدیث پر ایمان لایا جایے، سوائے قرآن کے ، جس کو بہترین حدیث کہا ، کچھ آیات اورترجمہ [اکثرمترجمین “حدیث” مروجہ معنی چھپاتے ہیں  , لفظ “حدیث” کےتمام معنی شامل ہیں: 

(1) .اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحۡسَنَ الۡحَدِیۡثِ کِتٰبًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِیَ ٭ۖ تَقۡشَعِرُّ مِنۡہُ جُلُوۡدُ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ ۚ ثُمَّ تَلِیۡنُ جُلُوۡدُہُمۡ وَ قُلُوۡبُہُمۡ اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ یَہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ (قرآن 39:23)

اللہ نے بہترین حدیث ( أَحْسَنَ الْحَدِيثِ) اس کتاب (قرآن) کی شکل میں نازل کیا ہے جس کی آیتیں آپس میں ملتی جلتی ہیں اور بار بار دہرائی گئی ہیں کہ ان سے خوف خدا رکھنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اس کے بعد ان کے جسم اور دل یاد خدا کے لئے نرم ہوجاتے ہیں یہی اللہ کی واقعی ہدایت ہے وہ جس کو چاہتا ہے عطا فرمادیتا ہے اور جس کو وہ گمراہی میں چھوڑ دے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے (قرآن 39:23)

(2.) .تِلْكَ آيَاتُ اللَّـهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّـهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ(الجاثية45:6)

یہ الله کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل سچی پڑھ کر سناتے ہیں پھر اللہ اور اس کی آیتوں کو چھوڑ کر کونسی حدیث پر ایمان لائیں گے، (الجاثية45:6)

(3) .فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ( المرسلات 77:50)

اب اِس (قرآن) کے بعد اور کونسی حدیث پر یہ ایمان لائیں؟ ( المرسلات 77:50)

(4). فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ (الأعراف 7:185)

پھر(قرآن) کے بعد کس حدیث پر یہ لوگ ایمان لائيں گے (الأعراف 7:185)

(5) اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۗ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّـهِ حَدِيثًا ﴿٨٧﴾ 

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، وہ تم سب کو اُس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شبہہ نہیں، اور اللہ کی بات سے بڑھ کر سچی حدیث اور کس کی ہوسکتی ہے (النساء 4:87)

“اسی طرح ہم نے شیطان سیرت انسانوں اور جنوں کو ہر نبی کا دشمن بنایا۔ جو دھوکہ دینے کی غرض سے کچھ خوش آئند باتیں ایک دوسرے کے کانوں میں پھونکتے رہتے ہیں۔ اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرسکتے۔ سو انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیجئے اور ان باتوں کو بھی جو وہ افترا کرتے ہیں” (قرآن 6:112)

قرآن مجید مسلمان کےعلاوہ کسی اور نام کوبھی منظور نہیں کرتا , قرآن میں “مسلمان” 44 مرتبہ تاکید کی گئی ہے اورفرقہ واریت کو سختی سےمسترد کیا ہے :

هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَـٰذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ۚ  (سورة الحج22:78)

اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام “مسلم” رکھا تھا اور اِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ .  (سورة الحج22:78)

جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور کئی فرقے بن گئے، ان سے آپ کو کچھ سروکار نہیں۔ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ پھر وہ خود ہی انہیں بتلا دے گا کہ وہ کن کاموں میں لگے ہوئے تھے”ا۔(قرآن 6:159)

خلفائے راشدین کا احادیث کی کتابت کرنے کا فیصلہ , حکم ,  قرآن اورسنت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق تھا ، جس پر پہلی صدی ہجری کے اختتام تک سختی سے  عملدرآمد ہوتا رہا- جب تمام صحابہ اکرام وفات چکے توخلفاء راشدین , قرآن ، اور سنت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم  کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ، احادیث کی مشہور کتابیں تیسری صدی میں مرتب کی گئیں ، تاریخی اہمیت کےعلاوہ لہذا ان کی شرعی , قانونی حیثیت پرسوالیہ نشان ہے۔   

مذہب کی بنیاد لوگوں کی نفسانی خواہشات پر نہیں ،  بلکہ قرآن و سنت پر ہے۔ ۔کیا  بہتر ہے اور کیا بہتر نہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی طرف سے مخصوص لوگوں کو اہم فیصلے کرنے کے لئے نامزد کردہ خاص افراد  [خلفاء راشدین ] بہترسمجھتے ہیں۔ اللہ کی اطاعت ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اوران کےنامزد خلفاء راشدین بالترتیب اسلام کی اساس کی تشکیل کرنے میں اہم کردارادا کرتے ہیں- 

قرآن اس پہلو پر روشنی ڈالتا ہے:

اس رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جو اطاعت کرے اسی نے اللہ تعالٰی کی فرمانبرداری کی اور جو منہ پھیر لے تو ہم نے آپ کو کچھ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا ۔۔(قرآن 4:80)

اور جو شخص اللہ تعالٰی کی اور اس کےرسول  (ﷺ) کی نافرمانی کرے اور اس کی مُقّررہ حدوں سے آگے نکلے اسے وہ جہنّم میں ڈال دے گا  ، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ، ایسوں ہی کے لئے رُسوا کُن عذاب ہے ۔ (قرآن 14: 4)

اے لوگوجوایمان لائے ہو! اﷲ تعالیٰ کی اطاعت کرواوراﷲ تعالیٰ کے رسول کی اطاعت کرواوراپنے میں سے حکم دینے والوں کی اطاعت کرو،پھراگرکسی چیزپرتم آپس میں جھگڑپڑوتو اس کواﷲ تعالیٰ اوراس کے رسول کی طرف لوٹادو،اگرتم اﷲ تعالیٰ اورآخرت کے دن پرایمان رکھتے ہو،یہ بہترہے اورانجام کے لحاظ سے زیادہ اچھاہے۔ ۔(قرآن 4:59)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

” تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا۔  پس میری سنت اور خلفاء راشدین مہدیین کی سنت کو لازم پکڑو ۔ اس سے تمسک کرو اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑ لو۔ خبردار ( دین میں )  نئی باتوں سے بچنا کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت ضلالت ہے۔” (سنن ابی داود ، کتاب السنة ، باب لزوم السنة)  رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم  نے حضرت ابوبکر کے بعد حضرت عمر( رضی الله) کی جانب رجوع کرنے کا حکم دیا۔ نام لے کر صرف یہ دو صحابی ہی ہیں جن کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے-(صحیح ابن ماجہ#٩٧،و انظر الحدیث ٤٠٦٩ ، صحیح ااصحیحہ ١٢٣٣، و تراجیع البانی ٣٧٧، صحیح الضعیف سنن ترمزی #٣٨٠٥)۔

اسلام اور مسلمانوں کی زندگیوں میں قرآن مجید ، سنت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم , سنت خلفاء راشدین اور صحابہ اکرام کے مطابق ، قرآن مجید کے مرکزی مقام کی بحالی کی اشد ضرورت ہے تاکہ فرقہ واریت ، اخلاقی زوال اور فکری جمود اور دیگر امور سے نمٹا جاسکتا ہے۔ 

نتیجہ

تفصیلی مطالعہ، تحقیق اور تجزیہ سے واضح ہوتا ہے کہ :

  1. قرآن مجید قرآن کے علاوہ کسی کتاب  , کلام , حدیث پرایمان کی اجازت نہیں دیتا ہے 
  2. حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ، احادیث لکھنے سے منع فرمایا –
  3. اگر کسی نے احادیث کو لکھاتو یہ حفظ کے لئے تھا اور پھر مٹا دیا گیا , کتاب کی شکل میں کتابت کسی نے نہ کی ۔
  4. پہلے دو خلفاء راشدین نے خصوصی انتظامات کے تحت قرآن مجید کو کتاب کی شکل میں جمع کیا اور تیسرے خلیفہ نے دوبارہ چیک کرکہ مدون کرکہ نسخے تقسیم کیے۔
  5. حضرت عمر (رضی الله) نے حدیث جمع کرنے کے معاملے پر غوروفکر کیا اور قرآن کے علاوہ کسی بھی کتاب کےوجود سے سےانکارکردیا ، کیوں کہ پچھلی جماعتیں کتاب الہی کو نظرانداز کرکے اور اسے دیگر کتابوں کے ساتھ ملا کر گمراہ ہو گئیں۔
  6. دوسرے خلیفہ کے فیصلے کی توثیق باقی خلفاء راشدین نے بھی کی (جن کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مطابق مسلمانوں کی پیروی کرنے کا حکم دیا گیا تھا)۔ ان کا حکم / عمل دوسری صدی ہجرہ تک نافذ العمل رہا جب تمام صحابہ اس دنیا سے جا چکے تھے-
  7. سنت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق عمل سےہے (نماز پڑھنا وغیرہ) ، جو تواترسےنسل در نسل منتقل ہورہی ہے یہ حدیث کی کتابوں یا تحریروں پر منحصر نہیں ہے۔
  8. تیسری صدی ہجری میں جو حدیث کی مشہور کتابیں تحریر کی گئی ان کا استعمال اس صورت میں ممکن ہوسکتا تھا گویا کہ پہلی دو صدیوں کے دوران کچھ بھی موجود نہیں تھا یا ختم ہو چکا ہوتا جبکہ ایسا درست نہیں قرآن و سنت ہمیشہ بغیر کسی وقفے کے موجود ہے جس پر مسلسل عمل درآمد ہوتا رہا ہے- یہ تحریریں فوائد کے ساتھ ساتھ  , منتقلی ، مسخ , تفہیم اور تشریحات میں فرق کی وجہ سے نئے مذہب , فرقوں کی تشکیل میں مددگا ہوئی ہیں- جبکہ 10 ہجری حج الوداع کو اسلام دین کامل قرار دیا جا چکا تھا –(قرآن؛ 5: 3)– مسلمان قرآن و سنت اور خلفاء راشدین کی سنت کے برخلاف یہود و نصاری کے علماء کی پیروی پر چل پڑے جس کا خدشہ تھا-
  9. فرقہ واریت کی قرآن میں سختی سےممانعت ہے ,  اللہ نے قرآن مجید میں کم از کم 44 مرتبہ اہل ایمان کا نام مسلمان رکھا ہے۔ تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے فرقہ وارانہ القاب ،  سابقوں اور لاحقوں , ناموں کو ترک کریں اور اللہ کے دیئے ہوئے نام (الۡمُسۡلِمِیۡنَ ،مُّسْلِمَةً ،مُّسْلِمُونَ،مُّسْلِمًا) پر متفق ہو جائیں۔
  10. دین اسلام کوپہلی صدی حجرہ کی کامل ،خالص حالت میں بحالی کے لئے قرآن , سنت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم,سنت خلفاء راشدین و صحابہ کرام کےذریعہ جدوجہد کریں, جو کچھ ان کے برخلاف ہو منسوخ, مسترد ہے- 

اللہ فرماتا ہے:

پھر کیا وہ قرآن پر غور نہیں کرتے ، یا ان کے دلوں پر تالے لگتے ہیں؟ (قرآن 24 :47)

“رسول کہیں گے ، اے میرے رب ، میری قوم نے درحقیقت قرآن کو مسترد کردیا” (قرآن 25:30)

“اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں کو واضح کرے اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے ۔ وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجّہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے ، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی- ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ. اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے (قرآن 4:26,27,28)


براہ کرم اردو زبان میں لکھا ہوا “مقالہ / تحقیق” مکمل طور پر<< پڑھیں>> ، اس کے علاوہ اس صفحے اور تحقیقی مقالے کا ترجمہ گوگل ترجمے کے ذریعے کسی بھی زبان میں کیا جاسکتا ہے۔ ذیل میں مزید آپشنز / لنک ملاحظہ کریں:

Full Research Paper – Download  / Read Online:

  1. English: https://QuranSubjects.wordpress.com/last-book  
  2. Read English Translation  <<here>> | Executive Summary: http://bit.ly/3bTqSvX
  3. Executive Summary English:PDF: http://bit.ly/2Vdaxfq , Google Doc: http://bit.ly/3bTqSvX
  4.  جامع خلاصہ : آخری کتاب یا کتب؟ ترجمہ PDF: http://bit.ly/39Zvyi3  GoogleDoc: http://bit.ly/39VT92S 

Urdu  – مکمل تحقیقی مقالہ اردو 

  1. PDF (A4  Size for printout) :(4.6 MB)  http://bit.ly/2uI2213
  2. PDF (A5) for Mobiles: (5MB) http://bit.ly/2OGJtB9
  3. Google Doc : http://bit.ly/31lYQV3      
  4. EPUB: (8 MB)  http://bit.ly/2SMsRZZ
  5. https://salaamone.com/last-book/ 
  6. Urdu:https://QuranSubjects.blogspot.com/
  7. https://www.facebook.com/QuranSubject/posts/127125452151189

Comments / Suggestions: 

https://www.facebook.com/QuranSubject/inbox

Related… http://SalaamOne.com/muslim-first

———————

The Author:

Brigadier Aftab Ahamd Khan, studied at FC College Lahore and later Government College [now GC University]. Took a break to get one year’s military training in newly introduced National Service as a volunteer. The military training culminated in his participation in 1971 war around Lahore-Kasur, and adopting military as a career, retired in 2003. He also served in Saudi Arabia. During service, the quest for knowledge led him to obtain Masters in Business Administration’ and in ‘Political Science’ , Strategic Studies. Besides military, he also worked in the ‘Corporate Sector’ in multinational environments. He observed divergent cultures during his world wide travels to the USA, Europe, Middle East, China, Far East and Australia. Twenty years ago he developed a special interest in religious studies, especially Abrahamic religions. He studied the Bible, The Quran and held dialogue with Jewish, Christian and Muslim scholars via the internet. He regularly writes in “The Defence Jouranal” Kacrachi on Islam, Muslims and related issues. He has authored many books. An active blogger and social media activist, runs “SalaamOne Network” visited by millions. His research work has been compiled in the form of e-books, articles, blogs, social media posts, videos and magazines. [ https://SalaamOne.com/about/ ]


سورة الفاتحة

بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ﴿١﴾ الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿٢﴾ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ﴿٣﴾ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ﴿٤﴾ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ﴿٥﴾ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ﴿٦﴾ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (قرآن1:7)

اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے (1) تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام کائنات کا رب ہے (2) رحمان اور رحیم ہے (3) روز جزا کا مالک ہے (4) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں (5) ہمیں سیدھا راستہ دکھا (6) اُن لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا، جو معتوب نہیں ہوئے، جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں (قرآن1:7)

In the name of God, the Most Gracious, the Most Merciful. (1) All praise is due to God, the Lord of the Universe; (2) the Beneficent, the Merciful; (3) Lord of the Day of Judgement. (4) You alone we worship, and to You alone we turn for help. (5) Guide us to the straight path: (6) the path of those You have blessed; not of those who have incurred Your wrath, nor of those who have gone astray. (Quran 1:7)

آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آپ کیا اللہ کی کتاب قرآن،   رسول اللهﷺ ، خلفاء راشدین (رضی الله )، امام ابو حنیفہ (رح ) کے ساتھ کھڑے ہیں یا ان مذہبی پیشواؤں کے ساتھ جنہوں نے دھوکہ سے  دین کامل ، دین اسلام کی  اصل صورت ہیئت کو تبدیل کر دیا ..کیاآپ پہلی صدی حجرہ کے دین کی بحالی کی کوشش میں شامل ہو کر سرخرو ہونا پسند کریں گے یا  دوسرا راستہ اختیار کریں گے؟


 

قرآن، سنت رسول اللهﷺ ، خلفاء راشدین اور صحابہ اکرام کی سنت کی روشنی میں

Comeback to Quran & Sunnah

Plea to Reclaim The Original Islam of 1st Century Hijrah

Research Work

Brigadier Aftab Ahmad Khan (R)

قرآن و سنت رسول اللهﷺ کی طرف واپسی

تحقیقی و تجزیہ 

  1. .حدیث کی کتابت قران کی طرح خلفاء راشدین نے کیوں نہ کی ؟
  2. علم حدیث , فرقہ واریت اورقران – تحقیقی مضامین….
  3. .کتابت حدیث کی تاریخ – نخبة الفکر – ابن حجرالعسقلانی – ایک علمی جایزہ:
    اسلام ؛ قرآن اور سنت پر عمل کرنے کا نام ہے۔اسلام کی بنیاد صرف رسول اللہﷺ سے نقل وسماع ہے، قرآن کریم بھی رسول اللہﷺ ہی کے ذریعہ ملا ہے؛ انھوں نے ہی بتلایا اور آیات کی تلاوت کی ،جوبطریقۂ تواتر…[Continue reading….]
    کتابت حدیث – عسقلانی

    حادیث کے وحی ہونے یا نہ ہونے کی جہت سے بعض علماءِ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کے دو حصے مقرر کر دیئے اور کہا کہ آپؐ کا ہر قول و فعل تو وحی نہیں البتہ آپؐ...[Continue reading…]

  4. دو اسلام – ڈاکٹر غلام جیلانی برق: https://wp.me/p9pwXk-1dYLast B
  5. Last Book-s Folder 
  6. متواتر احادیث
  7. Salaam, Islam, Muslim – سلام , اسلام ،مسلم