Molana Fazal Ur Rehman مولانا فضل الرحمان کی مذہبی سیاست کی حقیقت

آپﷺ نے فرمایا میرے بعد جھوٹ بولنے اور ظلم کرنے والے بادشاہ ہوں گے جو ان کے جھوٹ کو تسلیم کرے اور ان کے ظلم میں ان کی طرفداری نہ کرے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں ۔ ( تفسیر ابن کثیر 18:45)

وہ علماء جو اپنے آپ کو روحانی اور دینی پیشوا کہلائیں گے۔ اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر مذہب کے نام پر امت میں تفرقے پیدا کریں گے، ظالموں اور جابروں کی مدد و حمایت کریں گے۔ اس طرح دین میں فتنہ و فساد کا بیج بو کر اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کریں گے۔ (مشکوۃ شریف ۔ جلد اول ۔ علم کا بیان ۔ حدیث 263)

” تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو او ر میرے غضب سے بچوباطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو”  (قرآن٤٢- ٢:٤١)

“تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لیے کہتے ہو، مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے؟  (قرآن٢:٤٤)

ٱتَّخَذُوٓا۟ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَٰنَهُمْ أَرْبَابًۭا

” انہوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو الله کے سوا رب بنا لیا ہے..” (سورۃ التوبہ،آیت 31)

اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ ؕ اَفَاَنۡتَ تَکُوۡنُ عَلَیۡہِ وَکِیۡلًا ﴿ۙ۴۳﴾

کیا آپ نے اسے بھی دیکھا جو اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہے کیا آپ اس کے ذمہ دار ہوسکتے ہیں؟ [سورة الفرقان (25) آیات (43)]

بدترین علماء

وَعَنْ عَلِیِّ رَضِیَ اﷲُعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ یُوْشِکُ اَنْ یَّاْتِیَ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یَبْقَی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّا اسْمُہۤ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْاٰنِ اِلَّا رَسْمُہ، مَسَاجِدُ ھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِنَ الْھُدٰی عُلَمَآءُ ھُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ اٰدِیْمِ السْمَآءِ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)

” اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدتر ہوں گے۔ انہیں سے (ظالموں کی حمایت و مدد کی وجہ سے ) دین میں فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا (یعنی انہیں پر ظالم) مسلط کر دیئے جائیں گے۔” (بیہقی)

یہ حدیث اس زمانہ کی نشان دہی کر رہی ہے جب عالم میں اسلام تو موجود رہے گا مگر مسلمانوں کے دل اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہوں گے، کہنے کے لئے تو وہ مسلمان کہلائیں گے مگر اسلام کا جو حقیقی مدعا اور منشاء ہے اس سے کو سوں دور ہوں گے۔ قرآن جو مسلمانوں کے لئے ایک مستقل ضابطۂ حیات اور نظام علم ہے اور اس کا ایک ایک لفظ مسلمانوں کی دینی و دنیاوی زندگی کے لئے راہ نما ہے۔ صرف برکت کے لئے پڑھنے کی ایک کتاب ہو کر رہ جائے گا۔ چنانچہ یہاں ” رسم قرآن” سے مراد یہی ہے کہ تجوید و قرأت سے قرآن پڑھا جائے گا، مگر اس کے معنی و مفہوم سے ذہن قطعاً نا آشنا ہوں گے، اس کے اوامر و نواہی پر عمل بھی ہوگا مگر قلوب اخلاص کی دولت سے محروم ہوں گے۔

مسجدیں کثرت سے ہوں گی اور آباد بھی ہوں گی مگر وہ آباد اس شکل سے ہوں گی کہ مسلمان مسجدوں میں آئیں گے اور جمع ہوں گے لیکن عبادت خداوندی، ذکر اللہ اور درس و تدریس جو بناء مسجد کا اصل مقصد ہے وہ پوری طرح حاصل نہیں ہوگا۔

اسی طرح وہ علماء جو اپنے آپ کو روحانی اور دنی پیشوا کہلائیں گے۔ اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر مذہب کے نام پر امت میں تفرقے پیدا کریں گے، ظالموں اور جابروں کی مدد و حمایت کریں گے۔ اس طرح دین میں فتنہ و فساد کا بیج بو کر اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کریں گے۔ (مشکوۃ شریف ۔ جلد اول ۔ علم کا بیان ۔ حدیث 263)

افتراق کی سبب دو چیزیں ہیں، عہدہ کی محبت یا مال کی محبت۔ سیدنا کعب بن مالک انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا:

”ماذئبان جائعان أرسلا في غنم بأفسد لھا من حرص المرء علی المال و الشرف لدینہ” دو بھوکے بھیڑئیے ، بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیئے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور عہدہ کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لئے نقصان دہ ہے۔   (الترمذی:۲۳۷۶ وھو حسن)

منافق کی نشانیاں

عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرْبَعٌ مَنْ کُنَّ فِیہِ کَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ کَانَتْ فِیہِ خَصْلَۃٌ مِنْہُنَّ کَانَتْ فِیہِ خَصْلَۃٌ مِنْ النِّفَاقِ حَتَّى یَدَعَہَا إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَإِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا عَاہَدَ غَدَرَ وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ. [صحیح البخاری:340 الإیمان، صحیح مسلم:58 الإیمان]

ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چار خصلتیں ہیں، جس شخص میں وہ پائی جائیں گی وہ خالص منافق ہو گا، اور جس کے اندر ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو گی اس میں نفاق کی ایک خصلت پائی جائے گی حتی کہ اسے ترک کر دے، [ وہ خصلتیں یہ ہیں ]

(١)جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے 

(٢) جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے 

(٣) جب کوئی عہد کرے تو بے وفائی کرے اور

(٤) جب جھگڑا کرے تو ناحق چلے۔

[صحیح البخاری:340 الإیمان، صحیح مسلم:58 الإیمان]

تاریخی طور پر علماء سیاست اور طاقت و حکمرانی میں عمل دخل سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھتے تھے اور ان کی توجہ دین کی تعلیم و تبلیغ پر رہی- مگر آج کل پاکستان میں علماء سیاست میں داخل ہو کر تنقید کا نشانہ بنتے ہیں اور اپنےلیے دین اسلام کو ڈھال کے طور پر استمال کرتے ہیں.علماء کی ساکھ   (credibility) خراب ہوتی ہے، لوگ ان کی درست مذہبی باتوں پر بھی دھیان دینا چھوڑ دیتے ہیں، یہ اسلام کے ساتھ زیادتی ہے.

مولانا فضل الرحمٰن پاکستان کے مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علماء اسلام (ف) گروپ کے مرکزی امیر اور اسی جماعت کے سابق سربراہ اور صوبہ خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ مولانا مفتی محمود کے صاحبزادے ہیں۔ وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت، پی پی پی کے بھی  اتحادی رہے  جبکہ اسی حکومت میں بطور رکن قومی اسمبلی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔ اہل سنت کے مدرسہ دیوبند کے پیروکار ہونے کے باعث وہ دیوبندی حنفی کہلاتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کی جما عت جمعیت علما اسلام (ف) پاکستان کے صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں اثر ورسوخ رکھتی ہے۔ بلوچستان میں ہمیشہ انکی جماعت کے بغیر کوئی پارٹی حکومت نہیں بنا سکی ہے۔ اور خیبر پختونخوامیں بھی اس وقت اپوزیشن لیڈر جمعیت علما اسلام (ف) کے جناب مولانا لطف الرحمن ہیں جو مولانا فضل الرحمن کے چھوٹے بھائی ہیں جبکہ سینٹ میں ڈپٹی چیئرمین مولانا عبد الغفور حیدری بھی جمعیت علمائے اسلام ہی کے ہیں جو جماعت کے مرکزی جنرل سیکرٹری بھی ہیں- 2018 کے الیکشن میں مولانا کو شکست ہوئی اور وہ سخت تنقید کر رہے ہیں ، عدلیہ اور فوج پر بھی- منسٹری کے مزے ختم ہوئے تو مولانا فضل الرحمان سے سرکاری رہائش گاہ چھن گئی، مولانا نے تیرہ سال بعد منسٹراینکلیو کا بنگلا نمبر بائیس خالی کر کے بوریا بستر سمیٹ لیا، تبدیلی نے مولانا فضل الرحمان کی سیٹ ہی نہیں چھینی انھیں بے گھر بھی کردیا سرکاری آشیانہ چھن گیا۔

Read full…. http://freebookpark.blogspot.com/2014/06/role-of-ulema-islamic-scholars-in.html

پاکستان کی آزادی کی جدو جہد میں علماء کا  کیا کردار رہا ؟

بہت  علماء نے ہندو کانگریس کا ساتھ دیا جس میں دارلعلوم  دیوبند پیش پیش تھا، (سواے مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا شببراحمد عثمانی اور ان کے ساتھیوں کے) مگر  اکثریت جن میں مجلس احرارلأسلام سب سےآگے تھی نے ڈٹ کر قیام پاکستان کی مخالفت کی. وقت نے ثابت کیا کیہ یہ ان کی بڑی سیاسی غلطی تھی جوان میں سیاسی بصیرت کے فقدان کو ظاہرکرتی ہے.
جنگ آزادی میں مدارسِ اسلامیہ کے علماء کرام نے قربانیاں دیں جو قابل تعریف ہیں.
محمّد علی جناح اور علامہ اقبال پر کفر کے فتوے بھی لگے مگر وہ اوران کے ساتھی، مسلمانوں کے لیے علیحدہ آزاد وطن، پاکستان حاصل کرنے کے عزم پر ڈٹ گیئے.

تحریکِ پاکستان کی مکمل حمایت کرنے کے لئے سنی  اور بریلوی صوفی علماء کرام نے شرکت کی۔ محدث کچھوچھوی صدر آل انڈیا بنارس کانفرنس سید اشرفی جیلانی “اہل سنت” کے بہت بڑے رہبرورہنما تھے۔  کرسٹوف اپنی کتاب پاکستان اور اس کے ماخذ کی تاریخ میں لکھتا ہے کہ بریلوی علماء، تحریکِ پاکستان کے روحِ رواں تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے 1948ء میں “جمیعت علمائے پاکستان” کی بنیاد رکھی، جو ٹکڑوں می بٹ گیئ.
[نوٹ مولانا فضل الرحمان کی “جمیعت علمائے پاکستان”  اس کا دھوکہ چربہ ہے جو کانگرسی پاکستان ملاووں کا ورثہ ہے]

مسلمانان ہند کی اکثریت نے بغیر فرقہ واریت کے قائداعظم محمّد علی جناح کی قیادت پر مکمل اعتماد کیا جو کلین شیو(clean shaved) مغریبی تعلیم یافتہ،انگریزی سوٹ  میں ملبوس،انگریزی میں یا ٹوٹی پھوٹی اردو میں تقریر کرتا تھا.(اسماعیلی شیعہ، بعد میں اثنا عشری) وہ ایک ایمان دار، سچا اور مخلص شخص تھا. وہ علماء کے مسلمانی کے معیارپر پورا نہیں اترتا تھا, اس کے باوجود اگر اہل مذہب کے ایک بڑے طبقے نے قائد اعظم کو اپنی سیاسی قیادت کے لیے منتخب کیا تو کیوں؟
اس کا جواب جماعت علی شاہ صاحب نے دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مسلمان قوم کو ایک مقدمہ درپیش ہے اور اسے ایک وکیل کی ضرورت ہے۔ وکیل میں یہ صفات ہونی چاہئیں کہ وہ دیانت دار ہو اور اہل ہو۔ قائد اعظم میں یہ دونوں خصوصیات موجود ہیں۔
مکمل تفصیل لنک ۔۔۔ 

https://salaamone.com/wake-up-now-جاگو-جاگو-جاگو-امت-مسلمہ/

Read in Urdu:  اردو میں پڑھیں http://goo.gl/reWFXA

مولانا فضل الرحمن کی اسلامی یا ذاتی مفادات کی  سیاست؟

سب جانتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن  کا اور ان کے بزرگوں کا تعلق ایک ایسی مذہبی جماعت سے تھا جو قیام پاکستان کی مخالف تھی۔

مسلم لیگ کے مقابلے میں ان کے بزرگوں کی جماعت نے کانگرس کا ساتھ دیا تھا۔

مولانا اسی پاکستان کی قومی اسمبلی میں کئی برس رکن رہے، ان کے بزرگوں نے جس کی مخالفت کی تھی۔ اسی پاکستان سے انواع و اقسام کی مراعات حاصل کیں۔ کشمیر کمیٹی کے صدر رہے۔ وفاقی وزیر کے برابر ان کا عہدہ تھا۔ اسی پاکستان کی حکومت سے سرکاری رہائش گاہ لی اور سالہا سال اس میں ایک آرام دہ زندگی گزاری۔

مولانا کے قریبی اعزہ نے کس طرح اس ریاست پاکستان سے بھرپور فوائد اٹھائے،کیا یہ کرپشن اسلامی ہے؟

إِنَّ اللَّهَ يَأمُرُكُم أَن تُؤَدُّوا الأَمـٰنـٰتِ إِلىٰ أَهلِها وَإِذا حَكَمتُم بَينَ النّاسِ أَن تَحكُموا بِالعَدلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمّا يَعِظُكُم بِهِ إِنَّ اللَّهَ كانَ سَميعًا بَصيرًا [﴿٥٨﴾… سورة النساء]

’’ اللّٰہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ جو لوگ امانتوں کے حقدار ہیں، انہیں یہ امانتیں ادا کردو ۔ اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کرو ۔ اللّٰہ تعالیٰ یقیناً تمہیں اچھی نصیحت کرتا ہے اور وہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔‘‘ [﴿٥٨﴾.. سورة النساء]

حکومت کے عہدے اور منصب جتنے ہیں، وہ سب اللّٰہ کی امانتیں ہیں جس کے [بالخصوص] امین وہ حکام اور افسر ہیں جن کے ہاتھ میں عزل و نصب کے اختیارات ہیں، ان کے لئے جائز نہیں کہ کوئی عہدہ کسی ایسے شخص کے سپرد کر دیں جو اپنی عملی یا علمی قابلیت کے اعتبار سے اس کا اہل نہیں ہے، بلکہ ان پر لازم ہے کہ ہر کام اور ہر عہدہ کے لئے اپنے دائرہ حکومت میں اس کے مستحق کو تلاش کریں ۔

ایک حدیث میں رسول کریمﷺ کا ارشاد ہے کہ جس شخص کو عام مسلمانوں کی کوئی ذمہ داری سپرد کی گئی ہو پھر اس نے کوئی عہدہ کسی شخص کو محض دوستی و تعلق کی مد میں بغیر اہلیت معلوم کئے ہوئے دے دیا، اس پر اللّٰہ کی لعنت ہے نہ اس کا فرض مقبول ہے نہ نفل، یہاں تک کہ وہ جہنم میں داخل ہو جائے ۔(جمع الفوائد: ص ٥٢٣)‘‘

اور نبی کریمﷺ نے فرمایا: “لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ “

’’اس شخص کا کوئی ایمان نہیں جس کو امانت کا پاس نہیں۔ اور جو عہد کی پاسداری نہیں کرتا، اس کا کوئی دین نہیں۔‘‘ [مسند احمد: رقم 12383، قال شعیب ارناؤط: حدیث حسن]

اب ملاحضہ فرمائیں فضل الرحمن صاحب نے قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کے لیے اپنے ہی صاحبزادے اسد محمود کو نامزد کر دیا تو حیرت کیسی؟

مولانا فضل الرحمان کی راہ حق میں استقامت کی کہانی بہت طویل ہے۔

متحدہ مجلس عمل کا دور اقتدار توسب کو یاد ہی ہو گا جب یہ سب اکابرین بقلم خود کے پی کے میں نفاذ اسلام کی جدوجہد میں مصروف تھے۔ یہ انہی مبارک دنوں کی بات ہے:

مولانا کے چھوٹے بھائی ضیاء الرحمن  متحدہ مجلس عمل کے دور اقتدارکے دنوں پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ انجینئر تھے۔

مارچ 2005ء میں اچانک وزیر اعلیٰ کے حکم پر انہیں افغان ریفیوجیز کمیشن میں پراجیکٹ ڈائریکٹر لگا دیا گیا۔یہ سب اتنی عجلت میں کیا گیا کہ پہلے سے موجود پراجیکٹ ڈائریکٹر فیاض درانی کو ان کے منصب سے الگ کیے بغیر مولانا کے بھائی کو یہاں تعینات کر دیا گیا

۔فیاض درانی پوچھتا ہی رہ گیا کہ جو سیٹ خالی ہی نہیں اس پر کسی کو کیسے تعینات کر دیا گیا۔لیکن تعینات ہونے والا مولانا کا بھائی تھا اس لیے فیاض درانی دیواروں سے ٹکریں ہی مارتا رہ گیا۔

دو سال مزید گزرے۔مولانا کے بھائی کو شاید یہ محکمہ کچھ زیادہ ہی پسند آ گیا۔چنانچہ وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی نے ایک خصوصی سمری تیار کی ،اکتوبر 2007 ء میںگورنر علی محمد جان اورکزئی نے اس سمری کو منظور کر لیا اور یوں ایک اسسٹنٹ انجینئر کو سپیشل کیس کے طور پر صوبائی سول سروس کا حصہ بنا دیا گیا اور انہیں اسی افغان ریفیوجیز کمیشن میں ایڈیشنل کمشنر لگا دیا گیا۔

2013ء میں مرکز میں مسلم لیگ ن کی حکومت بنی تو جے یو آئی اس حکومت کا حصہ بن گئی۔درانی صاحب نے وزیر کا حلف اٹھا لیا۔ 25 فروری 2014ء کو ایک نیا نوٹیفیکیشن جاری ہوا اور مولانا کے بھائی کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سپرد کر دی گئیں۔اور انہیں ڈی سی او خوشاب بنا دیا گیا۔ ایک اسسٹنٹ انجینئر مقابلے کا امتحان دیے بغیر سول سروس کا حصہ بھی بن گیا اور ڈی سی او بھی لگ گیا۔

اپریل 2016ء میں اسسٹنٹ انجینئر ، معاف کیجیے ڈی سی او صاحب ، کی خدمات سیفران کے حوالے کر دی گئیں اور سیفران نے انہیں کمشنر افغان ریفیوجیز کے عہدے پر تعینات کر دیا۔ یہ گریڈ 20 کی پوسٹ تھی جو مولانا کے بھائی کی خدمت میں پیش کر دی گئی۔

محمد عباس خان چیختا رہ گیا کہ یہ اس کی حق تلفی ہے۔ اس نے سی ایس ایس کر رکھا ہے، 19ویں گریڈ کا افسر ہے ، اٹلی سے ریفیوجی لاء کورس کر رکھا ہے ، آ کسفورڈ یونیورسٹی سے ’ فورسڈ مائیگریشن‘ کا سمر سکول اٹینڈ کیا ہوا ہے ۔اس منصب پر ایک ایسا شخص کیسے تعینات ہو سکتا ہے جس نے نہ سی ایس ایس کیا ہے ، نہ وہ اس گریڈ کا استحقاق رکھتا ہے ، نہ ریفیوجیز کے حوالے سے اس کے پاس کوئی مہارت ہے۔لیکن مولانا کے بھائی جان اس منصب پر تعینات فرما دیے گئے۔

مولانا کے ایک اور بھائی مولانا عطاء الرحمن ہیں۔

پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں جب مولانا فضل الرحمن آصف زرداری کے ساتھ مل کر اسلامی انقلاب لانے کی کوششیں کرتے رہے تو ان دنوں مولانا عطا ء الرحمن وفاقی وزیر بنا دیے گئے۔2008ء سے 2010ء تک وہ وزیر سیاحت رہے۔ 1988ء میں پارٹی کے انتخابات ہوئے تو انہی کو الیکشن کمشنر بنا دیا گیا۔

جے یو آئی کے پی کے ، کے جوائنٹ سیکرٹری بھی انہی کو بنا دیا گیا۔ 2002ء میں یہ پارٹی کے ڈپٹی الیکشن کمشنر بنے ، اس کے بعد انہیں کے پی کے جماعت کا نائب امیر بھی بنا دیا گیا۔

2003 ء اور 2008ء میں جب اسلامی انقلاب لانے کے لیے الیکشن لڑ کر اسمبلی میں جانے کا وقت آیا تو علمائے اسلام کی جمعیت میں کوئی اس قابل نظر نہ آ یا چنانچہ اس بھاری ذمہ داری کے لیے ایک بار پھر انہی کو چنا گیا۔

2013ء کے انتخابات میں مولانا فضل الرحمن نے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور لکی مروت سے قومی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ضمنی الیکشن کا مرحلہ آیا تو ایک بار پھر نظر انتخاب اپنے ہی بھائی پر پڑی اور انہیں لکی مروت این اے 27 سے ٹکٹ جاری فرما دیا گیا۔یہ الگ بات کہ صاحب ہار گئے۔

سینیٹ کے انتخابات کا مر حلہ آیا تو مولانا نے ان کو ایک بار پھر اقتدار کے ایوانوں تک لا پہنچایا اور سینیٹر بنوا دیا۔ اس وقت مولانا صاحب سینیٹر ہیں۔

ایک مولانا اور بھی ہیں۔ یہ ان کے بھائی مولانا لطف الرحمن ہیں۔

کے پی میں تحریک انصاف کی حکومت بنی تو قائد حزب اختلاف کے لیے بھی علمائے اسلام کی جمعیت میں مولانا فضل الرحمن کے بھائی جان کے علاوہ کوئی بندہ نہ ملا چنانچہ مولانا لطف الرحمن اپوزیشن لیڈر قرار پائے۔

ایک اور مثال حاجی غلام علی صاحب کی ہے جو مولانا کے سمدھی ہیں اور سینیٹر بھی رہ چکے ہیں۔

دوست ذبیح اللہ بلگن نے خبر دی ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے اپنے صاحبزادے کو ڈپٹی سپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کرنے پر مجلس عمل میں تنائو ہے اور سراج الحق سمیت کچھ رہنما اس سے خفا ہیں۔ یہ ہمارے دوست کی خواہش تو ہو سکتی ہے ، اسے خبر ماننا بہت مشکل ہے۔

سراج الحق کیسے خفا ہو سکتے ہیں؟ ان کی قومی اسمبلی میں نمائندگی ہی کتنی ہے؟شاید صرف ایک ایم این اے؟ اپنی لایعنی اور بے سمت پالیسیوں سے انہوں نے جماعت اسلامی کا آملیٹ بنا دیا ہے اور ابھی تک استعفی نہیں دیا۔

وہ اگر اعتراض کریں اور آ گے سے مولانا پوچھ لیں کہ قاضی حسین احمد کے دور میں ان کی صاحبزادی کو آپ نے ایم این اے کیوں بنا یا تھاتو سراج الحق کے پاس کیا جواب ہو گا؟

صوبائی اور قومی اسمبلی تو اب ان کے لیے ایک خواب سا بن کر رہ گیا ہے حالت یہ ہے کہ کونسلر کا انتخاب ہوتا ہے اور لیاقت بلوچ اور فرید پراچہ کے صاحبزادے شیر اور بلے کے نشان پر الیکشن لڑتے ہیں۔

تو کیا شاہ اویس نورانی مولانا فضل الرحمن سے سوال کریں گے؟

اگر مولانا نے آگے پوچھ لیا کہ بیٹے کیا شاہ احمد نورانی مر حوم کے بعد پاکستان کے علماء کی جمعیت میں کوئی ایسا رجل رشید باقی نہ تھا جو آپ کو یہ ذمہ داری اپنے نازک کندھوں پر اٹھانا پڑی تو اویس نورانی کیا جواب دیں گے؟

یا اگر مولانا نے اویس نورانی اور سراج الحق کو اکٹھے بٹھا کر پوچھ لیا کہ حضرت آپ دونوں بتا دیں آپ میں سے یا آپ کی جماعتوں میں سے کس کو ڈپٹی سپیکر کے لیے نامزد کروں تو ان دونوں شخصیات کا متفقہ جواب کیا ہو گا؟

اب آپ بتائیے مولانا نے اپنے صاحبزادے اسد محمودکو ڈپٹی سپیکر کے لیے نامزد کر دیا ہے تو اس میں حیرت کیسی؟

” تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو او ر میرے غضب سے بچوباطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو”  (قرآن٤٢- ٢:٤١)

تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لیے کہتے ہو، مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے؟  (قرآن٢:٤٤)

سیاست یہاں ایک کاروبار بن چکا ہے۔ کارکن مدرسے کا ہو یا سکول کا ، اس کا کام صرف نعرے لگانا اور اپنے اپنے قائدین کی مہم جوئی کا ایندھن بننا ہے۔ جاہل عوام ان مولانا کی اندھی سیاسی تقلید کرتے ہیں … ان کے غلط اقدام کی بھی توجیہات پیش کرتے ہیں جھوٹ کو سچ بنانے کی کوشش کرتے ہیں ، جیسے مسیحی اور یہودی کرتے تھے ، جن کے متعلق آل نے فرمایا …..

ٱتَّخَذُوٓا۟ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَٰنَهُمْ أَرْبَابًۭا

” انہوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو الله کے سوا رب بنا لیا ہے..” (سورۃ التوبہ،آیت 31)

اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ ؕ اَفَاَنۡتَ تَکُوۡنُ عَلَیۡہِ وَکِیۡلًا ﴿ۙ۴۳﴾

کیا آپ نے اسے بھی دیکھا جو اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہے کیا آپ اس کے ذمہ دار ہوسکتے ہیں؟ [سورة الفرقان (25) آیات (43)]

قائد محترم مولانا فضل الرحمان  ایک طویل عرصے سے کشمیر کمیٹی کے چیئر مین تھے۔

سوال یہ ہے کہ کشمیر کاز سے آپ کی جو وابستگی ہے وہ تو سارے جہاں کو معلوم ہے اس کے باوجود کشمیر کمیٹی ہی آپ کا انتخاب کیوں ٹھہری؟

اور بھی تو بہت ساری کمیٹیاں تھیں ، مزاج اور ذوق کے مطابق کسی اور کو چن لیا ہوتا، مسلسل کشمیر کمیٹی ہی پر نظر کرم کیوں فرمائی جاتی رہی؟

اس کا شاید سب سے آسان جواب یہ ہے کہ یہ صرف کشمیر کمیٹی ہے جس کے چیئر مین کا مرتبہ وزیر نہ ہوتے ہوئے بھی وفاقی وزیر کا ہوتا ہے

۔یہ واحد کمیٹی ہے جس کا سربراہ وفاقی وزراء کے لیے مختص کالونی میں قیام پزیر ہوتا ہے

گاڑی ملتی ہے اور پٹرول بھی۔

اب اگر صاحبزادے ڈپٹی سپیکر بن جاتے ہیں تو سرکاری مراعات اور نوازشات کا ایک جہان ہے جو پھر سے آباد ہو سکتا ہے۔

کیا آپ نے حمزہ شہباز صاحب کی گفتگو کبھی سنی؟یہ صاحب ابھی کل تک پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے امیدوار تھے۔ کبھی آپ نے سوچا موصوف شریف خاندان میں پیدا نہ ہوتے تو کیا کر رہے ہوتے؟

یہی سوال ان صاحب کے لیے بھی ہے جو ڈپٹی سپیکر کے امیدوار ہیں۔

سیاست شاید ان خاندانوں کا کاروبار ہے جو وراثت میں نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔اس وراثت میں اپنے حصے کے بے وقوف بھی تقسیم کیے جاتے ہیں ۔معلوم نہیں، یہ سیاست ہے یا کاروبار لیکن جو بھی ہے مولانا نے اس کا حق ادا کر دیا ہے۔ واہ مولانا ! واہ [منقول ،اصف محمود ،جمعه 10  اگست 2018ء، 92 نیوز]

مولانا فضل الرحمان نے اپنے قریبی ساتھیوں میں سے کسی کو سینیٹ کا ڈپٹی چیئرمین منتخب کرایا اور کسی کو اسلامی نظریاتی کونسل کے صدارتی منصب پر متمکن کرایا۔

جس پاکستان کی مخالفت کی، اسی پاکستان کے حکمرانوں سے قریبی تعلقات رکھے۔ زرداری صاحب ہوں یا جنرل مشرف، بے نظیر بھٹو ہوں یا میاں نوازشریف، ان کی ہر ایک سے گاڑھی چھنتی رہی۔ مگر اس سارے عرصہ میں انہوں نے قائداعظم کو کبھی قائداعظم نہ کہا۔

ان کے منہ سے بانی پاکستان کا کبھی نام نہ نکلا۔

ان کے مزار پر فاتح خوانی کے لیے وہ کبھی نہ گئے۔

پاکستانی عوام کو خوش کرنے کے لیے وہ اپنے اور اپنے بزرگوں کے ماضی سے برات کا اظہار کرتے۔ قائداعظم کی خدمات کوتسلیم کرتے، سراہتے اور مانتے کہ تقسیم کا فیصلہ درست تھا، ان کے مزار پر جاتے۔ 23 مارچ اور 14 اگست کے دن مناتے بالکل اسی طرح جس طرح انہوں نے گزشتہ سال اپنے بزرگوں کی جماعت (جمعیۃ علمائے ہند) کا سوسالہ جشن منایا۔

نظریاتی حوالے سے وہ کانگرس کے موقف پر آج بھی قائم ہیں۔ یہ ایک بین حقیقت ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا جمعیت علمائے ہند اور کانگرس کے موقف پر آج بھی قائم ہیں۔

اس سارے عرصہ میں تحریک پاکستان کے حوالے سے انہوں نے کبھی کچھ نہ کہا۔

مولانا ایک بلند پایہ مقرر ہیں۔ فن تقریر میں انہیں کمال حاصل ہے۔ اگر ان کے سیاسی موقف میں تبدیلی رونما ہوئی ہوتی تو یوم پاکستان اور یوم آزادی پر وہ پاکستان کے حق میں، تحریک پاکستان کی تعریف میں اور قائداعظم کی خدمات کے سلسلے میں عالی شان تقریریں کرتے مگر انہوں نے پاکستان، بطور ریاست، کے حق میں شاید ہی کبھی کچھ کہا ہو۔

اس سارے عرصہ میں بھارت کے مسلمانوں پر مصیبتوں کے بڑے بڑے پہاڑ ٹوٹے۔

بابری مسجد شہید کی گئی۔ گجرات میں مسلمانوں کے خون کے ساتھ ہولی کھیلی گئی۔ ان تمام مواقع پر سوچنے سمجھنے والے پاکستانی کے منہ سے بے اختیار نکلا کہ لاکھ لاکھ شکر ہے خدا کا کہ پاکستان بنا ورنہ غیر منقسم ہندوستان میں مسلمان اسی طرح اقلیت ہوتے جس طرح آج کے بھارت میں اقلیت ہیں اور ان پر اسی طرح ہندو اکثریت نے ظلم ڈھانے تھے جیسے آج بھارت کے مسلمان پر ڈھا رہی ہے مگر کشمیر کمیٹی کے صدر نے کبھی ایسے جذبات کا اظہار نہ کیا بلکہ انہوں نے اس کے برعکس کام کیا۔

بھارت گئے تو کہا کہ ایک عدد گول میز کانفرنس بلا کر پاک بھارت سرحد ختم کی جا سکتی ہے۔ جناب ہارون الرشید کئی بار لکھ چکے ہیں کہ قاضی حسین احمد نے مولانا کے اس ’’بھارتی‘‘ بیان کو تاویل کے پردے میں چھپانا چاہا مگر منور حسن نہ مانے۔ مولانا نے یا ان کے کسی ترجمان نے کبھی اس بیان کی تردید نہیں کی۔

مولانا کے کسی ساتھی، ان کی جماعت کے کسی قابل ذکر رکن نے بھی کبھی قائداعظم کا یا تحریک پاکستان کا ذکر نہیں کیا۔ یہی حال ان کے زیر اثر مدارس کا ہے۔

ان مدارس میں پڑھنے پڑھانے والے طلبہ اور اساتذہ بھی قائداعظم کے رول سے اور تحریک پاکستان سے مکمل بے نیاز بلکہ مخالف ہیں۔

یہ تمام حضرات قائداعظم کو جناح صاحب کہتے ہیں۔ اگر آپ ان کی نجی گفت گوئیں سنیں تو آپ کو یہ دیکھ کر حیرت ہوگی کہ کتنا شدید معاندانہ رویہ ہے ان کا قائداعظم اور تحریک پاکستان کے ساتھ۔ گاندھی نہرو اور پٹیل کے بارے میں ان حضرات نے کبھی کچھ نہیں کہا۔

مولانا کا کشمیر کمیٹی کا صدر بننا پھر اتنے برس اس صدارت پر فائز رہنا او ربے تحاشا مراعات سے فیض یاب ہونا پاکستانی تاریخ کا ایک درد ناک Paradox ہے۔

یہ اسی طرح ہے جیسے بنگلہ دیشی حکومت بنگلہ دیش اور پاکستان کو دوبارہ متحد کرنے کے لیے کمیٹی بناتی اور شیخ مجیب الرحمن یا حسینہ واجد کو اس کمیٹی کا سربراہ بناتی۔ یا پاکستانی حکومت بھارت کے ساتھ ثقافتی یا تجارتی تعلقات بڑھانے کے لیے کمیٹی بنائے اور اس کی ذمہ دار حافظ سعید کو سونپ دے یا تقسیم سے پہلے کے مذاکرات میں مسلم لیگ اپنی نمائندگی کے لیے مولانا ابوالکلام آزاد کو منتخب کرتی۔

یعنی جن حضرات نے برملا کہا کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے، ان کے سپرد کشمیر کی آزادی کا کام کردیا گیا۔ تاریخ میں شاید ہی اتنا مضحکہ خیز واقعہ کہیں پیش آیا ہو اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے زخموں پر اس سے بدتر نمک شاید ہی چھڑکا جا سکے۔

2017ء میں جب مولانا نے جمعیت علماء اسلام کی صد سالہ تقریبات منانے کا اعلان کیا تو تاریخ پاکستان کے معروف محقق جناب منیر احمد منیر نے ایک تفصیلی مضمون لکھ کر اس مجوزہ صد سالہ تقریب کی حقیقت کو واشگاف کیا۔

منیر صاحب لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے بارے میں ہندوئوں کے شدید متعصبانہ رویے سے تنگ آ کر 1937ء کے انتخابات کے لیے مسلم لیگ، احرار اور جمعیت علماء ہند نے مشترکہ پارلیمانی بورڈ تشکیل دیا۔

مولانا حسین احمد مدنی مسلم لیگ کے حق میں بیانات دیتے رہے اور یہاں تک کہا کہ جو مسلمان مسلم لیگ کے نمائندے کو رائے نہیں دے گا۔ دونوں جہانوں میں روسیاہ ہو گا۔ مگر پھر مولانا آزاد کی کوششیں بار آور ثابت ہوئیں اور جمعیت علماء ہند کانگرس کے ساتھ مل گئی۔ وہی جمعیت اب مسلم لیگ کے خلاف بیانات دینے لگ گئی۔ اس پر مولانا شبیر احمد عثمانی نے لکھا کہ ’’جو چیز 1937ء میں جنت تھی، اب 1945ء میں جہنم کس طرح بن گئی۔‘‘

“جمعیت علماء ہند” کے مقابلے میں تحریک پاکستان کے حامی علما کرام نے “جمعیت علماء اسلام” قائم کی۔

1945ء میں مولانا عثمانی کی قیادت میں کلکتہ میں اس کی تشکیل ہوئی۔ مولانا حفظ الرحمن سیوہاری نے مولانا شبیر احمد عثمانی سے شکوہ کیا کہ ’’جمعیت علماء اسلام محض ہماری جمعیت کے مقابلے میں اس کو توڑنے کے لیے قائم کی گئی۔‘‘

دارالسلام دیوبند کے طلبہ مولانا مدنی کے زیر اثر تھے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی نے خود بتایا کہ ان طلبہ نے ان کے قتل تک کے حلف اٹھائے۔ اس نو تشکیل شدہ جمعیت علماء اسلام نے تحریک پاکستان کے لیے کام کیا۔

مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا ظفر احمد عثمانی اور مفتی محمد شفیع نے مولانا اشرف علی تھانوی کی قیادت میں تحریک پاکستان کے لیے انتھک محنت کی۔ آج اگر جمعیت علماء اسلام کا کوئی وارث ہو سکتا ہے تو وہ مفتی محمد شفیع کے فرزند مفتی رفیع عثمانی اور مولانا تقی عثمانی ہیں جو اب بھی، آج بھی، تحریک پاکستان کا ہرفورم پر دفاع کرتے ہیں اور قائداعظم کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہیں۔

جمعیت علماء ہند کے وارث۔  جمعیت علماء اسلام میں کس طرح شامل ہو گئے؟

یہ ایک معمہ ہے ؎ یوں بھی ہوتا ہے کہ آزادی چرا لیتے ہیں لوگ قیس کے محمل سے لیلیٰ کو اٹھا لیتے ہیں لوگ منیر صاحب کے بقول جب ان حضرات نے جمعیت علماء اسلام تلے پناہ ڈھونڈی تو مفتی محمد شفیع صاحب نے برملا لکھا کہ:

’’اس کے شرکا عموماً وہ لوگ ہیں جو پاکستان کے نظریہ سے ہمیشہ مختلف رہے اور جمعیت علماء اسلام کے خلاف جمعیت علماء ہند سے وابستہ رہے۔‘‘

یہ ہائی جیکنگ کس طرح ہوئی اور جمعیت علماء اسلام۔ مولانا مدنی کے سیاسی جانشینوں کے ہتھے کس طرح چڑھ گئی؟

التماس ہے کہ محترم مفتی رفیع عثمانی اس موضوع پر قلم اٹھائیں تاکہ تاریخ پاکستان کے طلبہ استفادہ کرسکیں۔ آج اگر مولانا فضل الرحمن نے چودہ اگست نہ منانے کا اعلان کیا ہے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ اقتدار سے محرومی کے بعد ان کا پہلا ہدف یوم آزادی بننا ہی بننا تھا۔ مولانا نے اپنے نظریات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔  (محمد اظاہرالحق ماخوز ،92 نیوز )

…………………………………………………

جشن آزادی اور مولانا فضل الرحمان کا انکار !

مولانا فضل الرحمان الیکشن میں شکست سے دل برداشتہ ہو کر فرمایا کہ  ہم 14اگست کو جشن آزادی نہیں منائیں گے ، عرض ہے کہ اس سے پہلے آپ نے کب جشن آزادی منایا؟

جس ’’ گناہ‘‘ میں شریک نہ ہونے پر آپ کے بزرگ نازاں تھے اس پر آپ جشن منا بھی کیسے سکتے ہیں؟

وصل لیلائے اقتدار کی آس میں تڑپتے قائدین انقلاب کاتو ایک ہجوم ہے، اس کے ہجر میں یوں برہم بزرگ پہلی بار دیکھ رہے ہیں ۔

جب تک کشمیر کمیٹی کی سربراہی تھی ، وفاق میں وزارتیں تھیں ، ریاستی وسائل تھے ، سرکاری رہائش تھی، گاڑی تھی ، پٹرول تھا ، نوکر چاکر اور ملازم تھے تب تک سب ٹھیک تھا ، جیسے ہی مراعات کا یہ بحرلکاہل خشک ہوا صاحب نے ریاست ہی کو نشانے پر لے لیا ۔

تہتر کے آئین کے تناظر میں کل تک جو اسلامی جمہوریہ پاکستان تھا اب وہ نہ اسلامی رہا نہ جمہوریہ نہ ہی آزاد۔

خلق خدا نے جب دستر خوان ہی لپیٹ دیا تو کاہے کا جشن؟

حیرت ہے مولانا نے کس رسان سے فرما دیا کہ چودہ اگست کو جشن آزادی نہیں منائیں گے؟

لاہور: (دنیا نیوز) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف لاہور کے شہری نے اندراج مقدمہ کی درخواست دے دی۔ درخواست راوی لنک روڈ کے رہائشی جان محمد رمضان نے تھانہ راوی روڈ میں درج کرائی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے 8 اگست کے جلسے کے دوران نظریہ پاکستان کی توہین کرتے ہوئے یومِ آزادی نہ منانے کا اعلان کیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اپنی تقریر کے دوران مولانا فضل الرحمٰن نے پاک فوج اور چیف جسٹس کے خلاف بھی نازیبا الفاظ استعمال کئے، لہٰذا ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ پولیس درخواست پر قانونی کارروائی سے گریز کر رہی ہے۔ مقدمہ درج نہ کرنے کی صورت میں وہ عدالت سے رجوع کرے گا۔

گویا اس سے پہلے تو چودہ اگست کا سب سے بڑا جشن تو ڈی آئی خان سے مولانا کے مدرسے میں ہوتا ہو جہاں مولانا فضل الرحمن رات گئے تک ملک کی سلامتی کی دعائیں کراتے ہوں اور تہجد کے نوافل کے بعد بانی پاکستان حضرت قائد اعظم ؒ اور ان کے رفقائے کار کی بلندی درجات کی دعائیں کی جاتی ہوں؟

کیا مولانا بتا سکتے ہیں اپنی پوری زندگی میں انہوں نے کب چودہ اگست کا جشن اہتمام سے منایا تھا؟

کتنی مرتبہ چشم فلک کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ اس نے مولانا کے سینے پر قومی پرچم لگا دیکھا ہو؟

حب الوطنی پر کسی کی اجارہ داری نہیں اور نہ ہی کسی کو کسی کی حب الوطنی پر سوال اٹھانے کا حق ہے۔لیکن جب کوئی جشن آزادی کی نفی کر کے قوم کے شعور کی توہین کر تا ہے تو پھر سوالات اٹھتے ہی:

١.پہلا سوال یہ ہے کہ مولانا کی جمعیت علمائے اسلام نے آج تک کتنی بار چودہ اگست کو جشن آزادی منایا؟

٢.اس کے مرکزی دفتر میں آج تک کتنی بار جشن آزادی کی تقاریب ہوئیں؟

٣. اہل علم نے کتنی بار کسی دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا؟

٤. کتنی بار یہ ہوا کہ جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی اور صوبائی دفاتر میں چودہ اگست کو قومی پرچم لہرایا گیا اور پاکستان کی سربلندی اور بانی پاکستان کے لیے دعائیں کی گئیں؟

٥. کیا کبھی مولانا فضل الرحمن کی صدارت میں ڈی آئی خان میں یا مولانا شیرانی کی صدارت میں کوئٹہ میں ایسی کوئی تقریب ہوئی ہو؟

٦. پاکستان میں کتنے مدارس ہیں جو جمعیت علمائے اسلام سے کسی نہ کسی صورت میں وابستہ ہیں۔ان میں سے کتنے مدارس ایسے ہیں جہاں چودہ اگست کو کوئی جشن منایا جاتا ہو؟

٧. کیا مولانا فضل الرحمن ہماری رہنمائی فرما سکتے ہیں کہ ان میں سے کتنے مدارس چودہ اگست کو قومی پرچم لہرانے کا تکلف کرتے ہیں؟

٨.کیا کوئی ایک مدرسہ بھی ایسا ہے جہاں دن ، مہینے یا ہفتے میں نہیں سال بھر میں کبھی قومی ترانہ پڑھا جاتا ہو؟

٩.کتنے مدرسے ہیں جن کے درودیوار نے کبھی ’’ پاک سر زمین شاد باد ‘‘ اور ’’ سایہ خدائے ذو الجلال‘‘ کی آواز سنی ہو؟

١٠. جے یو آئی جمعیت علمائے ہند کی نسبت سے صد سالہ تقریبات تو کر لیتی ہے کیا کبھی اس نے پاکستان کے حوالے سے بھی کوئی تقاریب کیں؟

١١. پاکستان کے پچاس سال پورے ہونے ملک بھر میں جشن کا سا سماں رہا کیا اس موقع پر جے یو آئی نے کوئی ایک تقریب بھی منعقد کی؟

١٢. آپ کا ارشاد بجا کہ آپ چودہ اگست کو جشن نہیں منائیں گے لیکن اتنا تو بتا دیجیے آپ پہلے کب یہ جشن مناتے تھے؟

جمعیت علمائے ہند کی مثال ہمارے سامنے ہے۔

دارالعلوم دیوبند میں بھارت کا ترنگا بھی لہرایا جاتا ہے ۔ بہت سے دیگر مدارس میں بھی۔

دارالعلوم کے ترجمان مولانا اشرف عثمانی کا کہنا ہے کہ بھارت بھر میں ہمارے مدارس پر ترنگا لہراتا ہے۔ بھارت کے قومی پرچم کے بیجز بھی لگائے جاتے ہیں۔یہاں تک کہ طلباء تک سے کہا گیا وہ اپنے گھروں پر بھی ترنگا لہرائیں۔

عثمانی صاحب فرماتے ہیں بھارت ہماری دھرتی ہے سب مسلمان گھروں پر ترنگا لہرائیں۔

بھارت کے شہری کے طور پر ان کا رویہ بالکل درست ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا ہی رویہ ہمارے ہاں کیوں نہ پنپ سکا؟

١. ہمارے ہاں مدارس پر سبز ہلالی پرچم کیوں نہیں لہراتا؟

٢.جے یو آئی کے کسی رہنما نے کبھی قائد اعظم ؒ کے بارے میں کلمہ خیر کہا ہو تو بتائیے؟

بغض کی حکایات تو بہت سی ہیں اور عینی شاہدین بھی درجنوں۔اس کے باوجود پاکستانی سماج نے انہیں کھلے دل سے قبول کیا۔ اہم ترین عہدوں پر وہ فائز رہے۔ کیا اب یہ مناسب طرز عمل ہے کہ ایک دفعہ اپوزیشن میں بیٹھنا پڑا اور سرکاری رہائش خالی کرنا پڑی تو آپ اگست کے مہینے میں قوم کی شعوری توہین کریں کہ ہم جشن آزادی نہیں منائیں گے؟

سیاست میں اختلاف بھی ہوتے ہیں اور یہ اختلاف گاہے تلخ ترین سطح پر بھی پہنچ جاتے ہیں ۔لیکن دھرتی تو ماں ہوتی ہے۔ایک نشست ہارنے کا ایسا بھی کیا صدمہ کہ بندہ اس حد تک اتر آئے کہ ریاست کی کنپٹی پر پستول رکھ کر سیاست کرنے لگے۔

پاکستان کے علاوہ ایسا تماشا کہیں اور نہیں لگتا۔

یہ آزادی صرف پاکستان میں ہے کہ اسے کھائو، پیو ، نچوڑو اور پھراسے گالی بھی دو۔ یہاں جس کا مزاج برہم ہوتا ہے وہ پاکستان کو سینگوں پر لے لیتا ہے۔

بلیک میلنگ کی سیاست کا کلچر عام ہو چکا۔ ایک چلاتا ہے ؛ کالاباغ ڈیم بنایا تو ملک ٹوٹ جائے گا۔دوسرا چیختا ہے : مجھے کیوں نکالا ایسے تو ملک ٹوٹ جائے گا۔تیسرا دہائی دیتا ہے میں کیسے ہار گیا اس طرح تو پھر تصادم ہو گا۔پیغام واضح ہے : ہمارے مفاد ، ہمارے مزاج اور تجوری کا خیال رکھا گیا تو پاکستان زندہ باد ورنہ ہم جشن آزادی نہیں منائیں گے۔

باہمی اختلافات سے قطع نظر قوم کے کچھ اجتماعی دن ہوتے ہیں۔ ان کاا حترام کیا جاتا ہے۔

چودہ اگست ہماری اجتماعی خوشیوں کا دن ہے۔ مولانا فضل الرحمن کسی طفل مکتب کا نہیں سیاست کے گرگ باراں دیدہ کا نام ہے۔انہوں نے جو بات کہی ہے اس کے آزار سے وہ خوب آگاہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ چاہتے کیا ہیں؟

ایک طویل عرصہ وہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے ۔ خوب مراعات انجوائے کیں۔اس وقت اسی کشمیر میں آ گ لگی ہے اور لاشے گر رہے ہیں۔یہ کیا معاملہ ہے کہ وہ اس موقع پر کشمیر کے حوالے سے ایک رسمی سا بیان بھی جاری نہیں فرما سکے ۔

ارشاد فرمایا بھی تو کیا : جشن آزادی نہیں منائیں گے۔ سنتے تھے اقتدار آدمی کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ آج معلوم ہوا اقتدار سے محرومی بھی یہی کام کر گزرتی ہے۔ دیکھیے اب داغ دہلوی یاد آ گئے: ہو گئی بارِ گراں بندہ نوازی تیری تو نہ کرتا اگر احسان تو احساں ہوتا-

(اصف محمود)

علماء کا کام قرآن کریم کے مطابق کیا ہے ؟
لوگوں کی دینی تعلیم و تربیت یا حکومت و سیاست ؟
اب علماء مختلیف تاویلیں کر کہ اپنے لیے جواز پیدا کر لیتے ہیں یہ ان کا اپنا دین ہے خود ساختہ پھر وہ اپنے نفس کی بات کو اسلام سے نہ جوڑیں ….
“تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو او ر میرے غضب سے بچوباطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو” (قرآن٤٢- ٢:٤١)
“تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لیے کہتے ہو، مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے؟” (قرآن٢:٤٤)

سیاسی علماء کہتے ہیں کہ کیا ہم ملک کو کرپٹ سیاست دنوں کے رحم پر چھوڑ دیں ؟

“امر با المعروف نہیں منکر” ہما ری بھی ذمہ داری ہے لیے ہم حکومت شامل ہوتے ہیں یہ ضروری ہے . مگر یہ انوکھی لاجک صرف پاکستان میں نمایاں ہے دنیا نےپریسٹ سے چھٹکارا پا کر ترقی کی ہےاسلام میں تو ملایت کا کوئی تصور نہیں علماء یہ کا م با خوبی حکومت سیاست سے با ہر ہو کر کر سکتے ہیں بلکے تاریخ گواہ ہے کہ علماء نے حکومت سے باہر باشاہوں خلیفہ پر تنقید کی . آج تاریخ ان کی عزت کرتی ہے .

ایک اور پواینٹ “اسلام مذہب نہیں بلکہ دین ” ہے جو انسانی زندگی کے تمام . معاملات میں رہنمائی کرتا ہے.

سیاست دین سےعلیحدہ نہیں سکتی بلکل درست اسلام دین ہے مگر یہ نہیں کی اسلام ملا ہے علماءاسلام میں ہیں اسلام ملا میں نہیں . اسلام وسیع ہے اسلام مسلمان کی زندگی میں ہے سیاست میں بھی. ایک مسلم سیاست دان اچھا مسلم تو اچھے کام گا. قرآن علماء کی بنیادی ذمہ داری بیان کرتا ہے اگر وہ یہ کم کرلیں تو کافی ہے اچھے مسلمان اچھے سیاستدان خود گندے کھیل میں شامل ہو کر اپنا اصل کام چھوڑ دینا درست نہیں
اگر سیاست میں حصہ لینا ہے تو شوق سے لیں مگر دین اسلام کی اڑ میں نہیں اپنے عالم ھونے پر ووٹ کے لیے بھیک نہ مانگیں اپنے کردار سے اہل ثابت کر کہ شوق سے اقتدار میں آیئں وعدہ کریں پورا کریں –
کسی عالم کے لیے دین اسلام کے نام پر اپنے لیے ووٹ لینے کو مذہبی فریضہ قرار دینا ایک دھوکہ اور دین کے ساتھ ظلم ہے
علماء سیاست میں داخل ہو کر تنقید کا نشانہ بنتے ہیں اور اپنےلیے دین اسلام کو ڈھال کے طور پر استمال کرتے ہیں . یہ ایک بد دیانتی اور اسلام پر ظلم ہے
اسلامی ملک میں زیادہ مسلمان ہیں کون اچھا بہتر مسلمان ہے الله جانتا ہے اپنے آپ کو قاضی مت بنیں جو کچھ سامنے ہے اس پر اکتفا کریں
اگر علماء سیاست سے پرہیز کریں تو تمام لوگ متفقہ طور پر ان کی بات پر دھیان دیں گے اور وہ سیاست پر مثبت طور پر اثر انداز ہو سکیں گے
سید ابواعلیٰ مودودی – تفہیم القرآن میں کیا فر ما تے ہیں ملاحظہ فرما ییں ….

یہاں اتنی بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ تعلیم عمومی کے جس انتظام کا حکم اس آیت میں دیا گیا ہے اس کا اصل مقصد عامۃ الناس کو محض خواندہ بنانا اور ان میں کتاب خوانی کی نوعیت کا علم پھیلانا نہ تحا بلکہ واضح طور پر اس کا مقصدِ حقیقی یہ متعین کیا گیا تھا کہ لوگوں میں دین کی سمجھ پیدا ہو اور ان کو اس حد تک ہوشیار و خبردار کر دیا جائے کہ وہ غیر مسلمانہ رویۂ زندگی سے بچنے لگیں۔ یہ مسلمانوں کی تعلیم کا وہ مقصد ہے جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے خود مقرر فرمادیا ہے اور ہر تعلیمی نظام کو اسی لحاظ سے جانچا جائے گا کہ وہ اس مقصد کو کہاں تک پورا کرتا ہے ۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اسلام لوگوں میں نوشت و خواند اور کتاب خوانی اور دنیوی علوم کی واقفیت پھیلانا نہیں چاہتا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام لوگوں میں ایسی تعلیم پھیلانا چاہتا ہے جو اوپر کے خط کشیدہ مقصد تک پہنچاتی ہو ۔ ورنہ ایک ایک شخص اگر اپنے وقت کا آئن شتائن اور فرائڈ ہو جائے لیکن دین کے فہم سے عاری اور غیر مسلمانہ رویّۂ زندگی میں بھٹکا ہوا ہو تو اسلام ایسی تعلیم پر لعنت بھیجتا ہے۔

اس آیت میں لفظ لِیَتَفَقَّھُؤا فِی الدِّیْنِ جو استعمال ہوا ہے اس سے بعد کے لوگوں میں ایک عجیب غلط فہمی پیدا ہو گئی جس کے زہریلے اثرات ایک مدّت تک مسلمانوں کی مذہبی تعلیم بلکہ ان کی مذہبی زندگی پر بھی بُری طرح چھائے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو تَفَقُّہُ فِی الدِّیْنِ کو تعلیم کا مقصود بتایا تحا جس کے معنی ہیں دین کو سمجھنا، اس کے نظام میں بصیرت حاصل کرنا ، اس کے مزاج اور اس کی رُوح سے آشنا ہونا، اور اس قابل ہو جانا کہ فکر و عمل کے ہر گوشے اور زندگی کے ہر شعبے میں انسان یہ جان سکے کہ کونسا طریقِ فکر اور کونسا طرزِ عمل روح دین کے مطابق ہے۔ لیکن آگے چل کر جو قانونی علم اسطلاحًا فقہ کے نام سے موسوم ہوا اور جو رفتہ رفتہ اسلامی زندگی کی محض صورت (بمقابلہ ٔ روح) کا تفصیلی علم بن کر رہ گیا ، لوگوں نے اشتراکِ لفظی کی بنا پر سمجھ لیا کہ بس یہی وہ چیز ہے جس کا حاصل کرنا حکم الہٰی کے مطابق تعلیم کا منتہائے مقصود ہے۔ حالانکہ وہ کُل مقصود نہیں بلکہ محض ایک جزو ِ مقصودتھا۔اس عظیم الشان غلط فہمی سے جو نقصانات دین اور پیروان ِ دین کو پہنچے ان کا جائزہ لینےکے لیے تو ایک کتاب کی وسعت درکار ہے۔ مگر یہاں ہم اس پر متنبہ کرنے کے لیے مختصراً اِتنا اشارہ کیے دیتے ہیں کہ مسلمانوں کی مذہبی تعلیم کو جس چیز نے روح دین سے خالی کر کے محض جسم دین اور شکل دین کی تشریح پر مرتکز کر دیا، اور بالآخر جس چیز کی بدولت مسلمانوں کی زندگی میں ایک نِری بے جان ظاہر داری ، دین داری کی آخری منزل بن کر رہ گئی، وہ بڑی حد تک یہی غلط فہمی ہے۔
سید ابواعلیٰ مودودی – تفہیم القرآن

http://www.tafheemulquran.net/1_Tafheem/Suraes/009/120.html

موددی صاحب نے جماعت اسلامی کو سیاسی جماعت بنایا تو ان کے کچھ ساتھیوں نے اختلاف کیا اور جماعت سے علیحدہ ہو گئے [ Machi goth 1956] انہوں نے کفر نہیں کیا آج وقت نے سا بت کیا کہ ووھہ درست تھے مودودی صاحب بھی اپنے اس اقدام پر شاید پچھتا تے ہوں
إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّـهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ
یقیناً خدا کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے

Verily, the worst of all creatures in the sight of God are those deaf, those dumb people who do not use their intellect.(Quran;8:22)

http://freebookpark.blogspot.com/2014/06/role-of-ulema-islamic-scholars-in.html

  1. https://roznama92news.com/مولانا-کے-دفاع-میں
  2. https://roznama92news.com/1-واہ-مولانا
  3. https://roznama92news.com/جشن-زادی-اور-مولانا
مزید پڑھیں:
  1. دو قومی نظریہ – نظریہ پاکستان
  2. پاکستان- چلینجز اور راه حل
  3. سپریم کون پارلیمنٹ , آیین ،عدالت یا  قرآن ؟ 
  4. پاکستان – مسائل کی دلدل اور ترقی کا راستہ
  5. دین اسلام کے نفاذ کی اسٹریٹجی
  6. دہشت گردی: قومی بیانیہ ’’پیغام پاکستان‘‘
  7. اسلامی ریاست میں تصور اقامتِ دین
  8. اسلام، جمہوریت اور کفر: تحقیقی جائزہ
  9. جمہوریت اورخلافت : تحقیقی جائزہ
  10. ولایت فقه
  11. پاکستانی ’نیم جمہوریت‘ اور دنیا میں جمہوریت پر کم ہوتا اعتماد
  12. ووٹ کی شرعی حیثیت

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *