دو قومی نظریہ – نظریہ پاکستان



پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا جس کے لیے مسلمانان ہند نے قائد اعظم محمد علی جناح کے قیادت اور علامہ محمد اقبال کی نظریاتی رہنمائی اورعظیم قربانیوں کے بعد حاصل کیا تاکہ مسلمان آزادی سے اسلام کے اصولوں کی بنیاد پر، امن و بھائی چارہ سے جدید ترقی یافتہ قوم کی زندگی گزار سکیں، اسلام اقلیتیوں کو تحفظ اور آزادی دیتا ہے- قائد اعظم کے مد نظر میثاق مدینہ کا ماڈل تھا- افسوس آج عوام کو سیکولرازم کے نام سے گمراہ کیا جا رہا ہے- “قرارداد مقاصد” جو  اور  1956 کے آیین اور موجودہ 1973 کے آیین کا حصہ ہے اس کی ضمانت اور ثبوت ہے- پاکستان مخالف لوگ اقتدار اور میڈیا پر اثر انداز ہو کر پاکستان کی اساس کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں-

The two-nation theory is the ideology that the primary identity and unifying denominator of Muslims in the Indian subcontinent is their religion, rather than their language or ethnicity, and therefore Indian Hindus and Muslims are two distinct nations, regardless of ethnic or other commonalities. The two-nation theory was a founding principle of the Pakistan Movement (i.e. the ideology of Pakistan as a Muslim nation-state in South Asia), and the partition of India in 1947. [keep reading …. ]

 

کہا جا رہا ہے کہ ہندو اور ہمارا کلچر ایک ہے، زبان ایک ہے، نسل ایک ہے، بس ایک بارڈر کی مصنوعی لائن ہم کو جدا کرتی ہے، اس کو مٹا دو- ہندوستان میں مسلمانوں پر ظلم، قتل و غارتجانوروں سے بدتر سلوک ان کو نظر نہیں آتا، عقل پر پردے پڑ چکے ہیں-

عوام ایسی ہر ناپاک سازش کو ناکام بنا دیں گے- ضرورت ہے کے اس معاملہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا جاینے-

نظریہ پاکستان اور قرارداد مقاصد پر تنقید کو قاںونی طور پر جرم قرار دے دیا جایے-

اس سلسلے میں مبہم نہیں، واضح قانون سازی کی جایے- تمام محب وطن پاکستانیوں کو میڈیا اور سیاسی پارٹیوں پر دباؤ pressure ڈالنا ہے-

یورپ میں دوسری جنگ عظیم میں نازیوں کے ہاتھ ٦ لاکھ یہودیوں کے قتل عام (holocaust denial) کا انکار ، قابل سزا جرم ہے، تو پاکستان میں اس کے بنیادی نظریے کی تنقید جرم کیوں نہیں ہو سکتی؟ >> مزید پڑھیں >>>

……………………………………………………

دو قومی نظریہ جس کی بنیاد پر 1947 میں نڈیا کی تقسیم ہوئی اور پاکستان بنایا گیا، اس کا اعلان سب سے پہلے خلیل اللہ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا ہے، امّتِ محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دوسری تمام امتوں نے حسب ہدایت یہی طریقہ اختیار کیا، اور عام طور پر مسلمانوں میں قومیت اسلام معروف ہوگئی، حجة الوداع کے سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک قافلہ ملا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کہ تم کس قوم سے ہو، تو جواب دیا: نحن قوم مسلمون (بخاری) پرھتے جائیں >>>>

………………………………………………………………..

نظریہ پاکستان سے مراد یہ تصور ہے کہ متحدہ ہندوستان کے مسلمان، ہندوؤں، سکھوں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں سے ہر لحاظ سے مختلف اور منفرد ہیں ہندوستانی مسلمانوں کی صحیح اساس دین اسلام ہے اور دوسرے سب مذاہب سے بالکل مختلف ہے، مسلمانوں کا طریق عبادت کلچر اور روایات ہندوؤں کے طریق عبادت، کلچر اور روایات سے بالکل مختلف ہے۔ اسی نظریہ کو دو قومی نظریہ بھی کہتے ہیں جس کی بنیاد پر 14 اگست 1947ء کو پاکستان وجود میں آیا۔ پاکستان کا مطلب کیا : لا الہ الا اللہ

خیال رہے کہ اسلام میں ملایت یا پوپ کا تصور نہیں-
پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا جس کے لیے مسلمانان ہند نے قائد اعظم محمد علی جناح کے قیادت اور علامہ محمد اقبال کی نظریاتی رہنمائی اورعظیم قربانیوں کے بعد حاصل کیا تاکہ مسلمان آزادی سے اسلام کے اصولوں کی بنیاد پر، امن و بھائی چارہ سے جدید ترقی یافتہ قوم کی زندگی گزار سکیں، اسلام اقلیتیوں کو تحفظ اور آزادی دیتا ہے- قائد اعظم کے مد نظر میثاق مدینہ کا ماڈل تھا- افسوس آج عوام کو سیکولرازم کے نام سے گمراہ کیا جا رہا ہے- “قرارداد مقاصد” جو  اور  1956 کے آیین اور موجودہ 1973 کے آیین کا حصہ ہے اس کی ضمانت اور ثبوت ہے- پاکستان مخالف لوگ اقتدار اور میڈیا پر اثر انداز ہو کر پاکستان کی اساس کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں-

کہا جا رہا ہے کہ ہندو اور ہمارا کلچر ایک ہے، زبان ایک ہے، نسل ایک ہے، بس ایک بارڈر کی مصنوعی لائن ہم کو جدا کرتی ہے، اس کو مٹا دو- ہندوستان میں مسلمانوں پر ظلم، قتل و غارتجانوروں سے بدتر سلوک ان کو نظر نہیں آتا، عقل پر پردے پڑ چکے ہیں-

عوام ایسی ہر ناپاک سازش کو ناکام بنا دیں گے- ضرورت ہے کے اس معاملہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا جاینے-

نظریہ پاکستان اور قرارداد مقاصد پر تنقید کو قاںونی طور پر جرم قرار دے دیا جایے-

اس سلسلے میں مبہم نہیں، واضح قانون سازی کی جایے- تمام محب وطن پاکستانیوں کو میڈیا اور سیاسی پارٹیوں پر دباؤ pressure ڈالنا ہے-

یورپ میں دوسری جنگ عظیم میں نازیوں کے ہاتھ ٦ لاکھ یہودیوں کے قتل عام (holocaust denial) کا انکار ، قابل سزا جرم ہے، تو پاکستان میں اس کے بنیادی نظریے کی تنقید جرم کیوں نہیں ہو سکتی؟

……………………………………………………

دو قومی نظریہ جس کی بنیاد پر 1947 میں نڈیا کی تقسیم ہوئی اور پاکستان بنایا گیا، اس کا اعلان سب سے پہلے خلیل اللہ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا ہے، امّتِ محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دوسری تمام امتوں نے حسب ہدایت یہی طریقہ اختیار کیا، اور عام طور پر مسلمانوں میں قومیت اسلام معروف ہوگئی، حجة الوداع کے سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک قافلہ ملا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کہ تم کس قوم سے ہو، تو جواب دیا: نحن قوم مسلمون (بخاری) پرھتے جائیں >>>>

………………………………………………………………..

 نظریہ پاکستان اور قرارداد مقاصد

 نظریہ پاکستان ، دو قومی نظریہ – مسلمانوں کی تاریخ کا ایک اہم باب

بنیادی بات یہ ہے کہ مسلمان پہلے دن سے ایک نظریاتی امت ہیں۔ اس اُمت کی بنیاد رنگ پر نہیں، نسل پرنہیں، زبان پر نہیں ، خطے پر نہیں ہے، مفادات پر بھی نہیں ہے، حتیٰ کہ مشترکہ تاریخ پر بھی نہیں ہے، بلکہ اس کی بنیاد عقیدے اور ایمان پر ہے ۔ اس کی بنیاد نظریے پر ہے، جو قرآن وسنت سے ماخوذ ہے۔ یہی ہماری شناخت ہے مگر ہماری قیادتوں نے نہ صرف یہ کہ اس کا احترام نہیں کیا ہے، بلکہ عملاً اس سے انحراف بھی کیا ہے۔

برعظیم میں آنے والا پہلا مسلمان محمد بن قاسم نہیں تھا، بلکہ دورِ رسالت مآبؐ میں صحابۂ کرامؓ سندھ میں تشریف لائے تھے۔ ان کے بعد محمد بن قاسم آئے اور اسلامی حکمرانی قائم ہوئی۔ پھر شمال سے مسلمان آئے تو مسلمانوں کے اقتدار کا دور شروع ہوا۔

تاریخ کا کوئی بھی منصف مزاج طالب علم اور اسکالر یہ کبھی نہیں کہہ سکتا کہ برعظیم پاک و ہند کے پورے دور میں کبھی مسلمانوں نے اسلام دوسروں پر زبردستی مسلط کیا۔ یہی نہیں بلکہ ہندوئوں کے ذات پات کے نظام اور ستّی کے رواج سے شدید اختلاف اور انقباض کے باوجود اسے ختم کرنے کے لیے سرکاری طاقت کا استعمال کرنے سے اجتناب برتا اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کیا۔ زبردستی مذہب قبول کرنے کاکوئی تاریخی واقعہ نہیں ملتا۔ اورنگ زیب عالم گیر کے بارے میں جو باتیں کہی گئی ہیں، وہ صریح تاریخی جھوٹ ہے۔ اس کی تردید خود بھارت کے غیرمسلم محققین نے کی اور کررہے ہیں۔

مسلمانوں نے اپنے تشخص اور اپنی اجتماعی زندگی کی بہتری کے لیے ادارے قائم کیے اور غیرمسلموں کو بھی پورا پورا موقع دیا کہ وہ  اپنے عقیدے اور روایات کے مطابق کام کریں۔ صرف دعوت وتبلیغ سے برہمن ازم میں دراڑیں پڑیں اور لوگ اس کے چنگل سے نکل آئے۔علماے کرام اور صوفیاے عظّام نے اس سلسلے میں بڑی روشن اور تاب ناک خدمات انجام دیں۔ تاہم، مسلمانوں کی طرف سے کوئی واقعہ ظلم وجبر کا اس زمانے میں نہیں ملتا اور ریاستی قوت کے ذریعے کبھی اسلام کو مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں تک بھی تاریخ کا مطالعہ کریں مسلمانوں کے پورے دورِ حکمرانی میں ہندو مسلم فسادات کاکوئی تصور نہیں ملتا۔ بلاشبہہ ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان جنگیں ہوئی ہیں، مگر اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی وسعت ِ قلبی اور   حُسنِ سلوک کے باعث مسلمانوں کی فوج میں ہندو جرنیل اور ہندو سپاہی بھی رہے۔ مسلمان سلاطین کی حکومتوں، وزارتوں اور انتظامیہ میں بھی ہندو رہے، کبھی کم اور کبھی زیادہ، لیکن ہندوئوں پر اعتماد کیا گیا اور بعض اوقات انھیں اہم ذمہ داریاں بھی سونپی گئیں۔

ہندو مسلم اتحاد میں دراڑ

پہلی مرتبہ ۱۹ویں صدی کے آخری عشرے میں یہ تذکرہ سامنے آنا شروع ہوتا ہے کہ مسلمانوں اور ہندوئوں میں فاصلے بڑھ گئے ہیں۔ اس وقت سے برطانیہ نے آپس میں لڑانے کے لیے رسوخ پیدا کرلیا تھا۔ اس سے قبل ہم البیرونی کا سفرنامہ پڑھتے ہیں، جس میں اس نے بتایا ہے کہ ہندستان کے ہندوکیسے ہیں، بدھ مت کے پیروکار کیسے ہیں، مسلمان کیسے ہیں اور کس طرح باہم رہتے بستے ہیں؟ یہ ہماری تاریخ ہے جس میں ایک طرف مسلمانوں نے اپنی شناخت کو محفوظ کیا اور چارچاند لگائے ہیں، تو دوسری طرف دوسروں کی شناخت کی بھی حفاظت کی ہے۔ اس طرح ایک حقیقی تکثیری (Pluralistic) معاشرے کو تاریخ میں قائم کرکے روشن مثال پیش کی ہے۔

بلاشبہہ تاریخ میں نشیب و فراز کا ظہور ایک حقیقت ہے، اور جو لوگ اقتدارمیں رہے، ان میں اچھے بھی تھے اور بُرے بھی ۔ وہ بھی رہے ہیں جنھوں نے اسلام کانفاذ کیا ، اسلامی نظام کو ترویج دیا، اور وہ بھی رہے جنھوں نے اسلام سے اِعراض کیا اور اس کی تعلیم کو اور تاریخ کو بھی بدلنے کی کوشش کی۔ لیکن دو چیزیں مشترک اور محکم ہیں: ایک یہ کہ اپنی نظریاتی ، دینی اور تہذیبی شناخت کا تحفظ و ترقی، اور دوسرے یہ کہ اوروں کی تہذیب اور معاشرتی روایات کا احترام، اور دین کے معاملے میں جبر سے اجتناب۔

تاریخ یہ بتاتی ہے کہ بیرونی قوت نے جب کسی ملک پر قبضہ کیا اور وہاں حکمرانی کرنے کے بعد کسی وجہ سے اسے جانا پڑا، تو جاتے ہوئے اُس نے اقتدار اسی طبقے کو دیا، جن سے اقتدار چھینا تھا۔ یہ تاریخ کی روایت تھی۔ اسی لیے مسلمانوں کو یہ گمان تھا کہ انگریز جب جائے گا تووہ اقتدار ہم کو دے کر جائے گا، کیوں کہ اس نے ہم سے اقتدار چھینا تھا، اس لیے ہم ہی آئیں گے۔ پھر آزادی کی تحریک میں بھی مسلمان پیش پیش تھے۔ اسی پس منظر میں ۱۸۵۷ء کا واقعہ ہوا اور اس سے پہلے تحریک ِ مجاہدین کی جدوجہد ، بنگال میں فرائضی تحریک یا اس کے بعد کے سرفروشانہ واقعات ہوں___ تاہم، آہستہ آہستہ مسلمانوں پر یہ حقیقت روشن ہوگئی کہ اب جمہوریت کادور ہے اور یہ گنتی کا معاملہ ہے۔ اس میں جس کی تعداد زیادہ ہوگی وہی حاوی (dominate) ہوگا۔ میونسپل ریفارمز کی تحریک ہندستان میں ۱۸۹۰ء کے عشرے میں شروع ہوگئی تھی۔ سرسیداحمدخاں ان پہلے لوگوںمیں سے ہیں، جنھوں نے اس کا ادراک کیا۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں اور غیرمسلموں کے سیاسی مستقبل کی ازسرِنو تشکیل کرنی پڑے گی، وگرنہ مسلمان اس خیال میں تھے کہ ہم غالب آجائیں گے۔

خوش قسمتی یا بدقسمتی کے ملے جلے رنگوں کے ساتھ تحریکِ خلافت جیسی پہلی عوامی تحریک کا کردار ہے۔ اس تحریک کا نیوکلیس اور جوہر مسلمان ہی تھے۔ یہ ایک ایسی عوامی تحریک تھی جس میں کئی لاکھ افراد شامل تھے اور اس کی قیادت مسلمان کررہے تھے۔ ہندوئوں نے محسوس کیا کہ اگر یہ عوامی تحریک ہی آزادی کی تحریک بن جاتی ہے او رمسلمان اس کی قیادت کرتے ہیں تو سیاسی نقشہ مختلف ہوگا۔ یہ تھی وہ چیز جس کے سبب انڈین نیشنل کانگریس اور دوسری ہندو تنظیموں نے ایک جارحانہ ہندو قوم پرستانہ حکمت عملی تیار کی۔ سرسیّد احمد خاں مرحوم کے دیے ہوئے شعور کے مطابق مسلمان یہ بات سمجھنے لگے تھے کہ عددی اکثریت کی موجودگی سے مسلمانوں کو نقصانات پہنچیں گے۔

اسی احساس کے تابع 1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ، ڈھاکہ میں قائم ہوئی۔ بنیادی مقصد یہ تھا کہ مسلمانوںکے مفادات کاتحفظ ہو۔ مسلمانوں کو ان کی ثقافت، ان کے دین اور ان کی تعلیم و معاشرت اور ان کی روایات، ان کے حقوق سے آگاہی ہو۔ اس طرح مسلم لیگ1906ء سے لے کر ۱۹۳۶ء تک محض مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے آواز بلند کرتی رہی۔ اس عرصے میں ایک بڑا اہم سنگ ِ میل دسمبر1914ء کا ’میثاقِ لکھنؤ ‘ ہے۔ پھر اگست1928۸ء میں ’نہرو رپورٹ‘ آئی،  جو واضح طور پر ہندو مفادات کی محافظ تھی۔ اس کے جواب میں قائداعظم کی زیرصدارت مسلم لیگ نے مارچ 1929ء میں ’ 14کات‘ پیش کیے، جو مسلم مفادات کے تحفظ کی نہایت اہم دستاویز تھی، جو آگے چل کر قیامِ پاکستان کی بنیاد بنی۔ اس میں جداگانہ انتخاب، مسلمانوں کے جداگانہ وجود کے تحفظ کا وسیلہ بنے۔ یہ اقدامات مسلمانوں کا سیاسی وزن بڑھانے کے لیے کیے گئے۔ پھر ان کے سیاسی، تعلیمی اور معاشرتی حقوق کے تحفظ کو زبان دی گئی۔ یاد رہے کہ سائمن کمیشن رپورٹ 1930ء کو ہندوئوں نے جس طریقے سےاستعمال کیا اور جس طرح یہ واضح کر دیا کہ ہندو غلبہ ہی ہندستان کاسیاسی مستقبل ہوگا، تو یہ تھا وہ موقع جب مسلمان ہل گئے اور پھر انھوں نے ایک نئی حکمت ِعملی وضع کی۔ آخری منزل  جن کی دو قومی نظریے کے تحت مسلمانوں کے لیے جداگانہ اور آزاد ملک کا حصول ٹھیرا۔

دو قومی نظریے کی اساس

غالباً 1888ء میں عبدالحلیم شررنے اس پہلو پر ایک متعین شکل میں توجہ دلائی تھی۔ اُن سے لے کر کے ڈاکٹر سیّدعبداللطیف تک تقریباً 170 افراد نے کھل کرکے یااشارتاً،سیاسی زبان میں یا علمی اسلوب میں تقسیمِ ہند اور دو قومی نظریے کی بات کی۔ لیکن اس میں فیصلہ کن چیز 1930ء میں علامہ محمد اقبال کا خطبۂ الٰہ آباد ہے۔ اس میں علامہ اقبال نے اپنی سوچ کو بڑی قوت اور دلیل کے ساتھ اور دردمندی اور سیاسی فہم و فراست کے ساتھ پیش کیا ہے۔ خود میری نگاہ میں قراردادِ پاکستان کی صورت گری کے مرحلوں کو سمجھنے کے لیے 1930ء کاخطبۂ اقبال ایک جوہری حیثیت رکھتا ہے۔ اس کو اگر آپ تنقیدی نگاہ سے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ یقینی طورپر اقبال نے بڑے دُور رس اثرات کے حامل امکانات کا نقشہ واضح کیا تھا۔

اقبال نے اپنے خطاب میں کہا تھا: ’’یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ بہ حیثیت ایک اخلاقی نصب العین اور نظامِ سیاست، اس آخری لفظ سے میرا مطلب ایک ایسی جماعت ہے، جس کا نظم و انضباط کسی نظامِ قانون کے ماتحت عمل میں آتا ہو، لیکن جس کے اندر ایک مخصوص اخلاقی روح سرگرمِ کار ہو۔ اسلام ہی وہ سب سے بڑا جزوِ ترکیبی تھا، جس سے مسلمانانِ ہند کی تاریخِ حیات متاثر ہوئی۔ اسلام ہی کی بدولت مسلمانوں کے سینے ان جذبات سے معمور ہوئے، جن پر جماعتوں کی زندگی کا دارومدار ہے۔ ہندستان میں اسلامی جماعت کی ترکیب صرف اسلام کی رہینِ منت ہے‘‘۔

آگے چل کر انھوں نے یہ بھی کہا تھا: ’’میں دوسری قوموں کے رسوم و قوانین اور ان کے معاشرتی اور مذہبی اداروں کا دل سے احترام کرتا ہوں، بلکہ بہ حیثیت مسلمان میرایہ فرض ہے کہ اگر ضرورت پیش آئے تو قرآنی تعلیمات کے حسب ِ اقتضا، میں اُن کی عبادت گاہوں کی حفاظت کروں۔ تاہم، مجھے اس انسانی جماعت سے دلی محبت ہے، جو میرے طور طریقوں اور میری زندگی کا سرچشمہ ہے۔ جس نے اپنے دین اور اپنے ادب، اپنی حکمت اور اپنے تمدن سے بہرہ مند کر کے مجھے وہ کچھ عطا کیا، جس سے میری موجودہ زندگی کی تشکیل ہوئی۔ یہ اُسی کی برکت ہے کہ میرے ماضی نے ازسرِنو زندہ ہوکر مجھ میں یہ احساس پیدا کر دیا ہے کہ وہ اب میری ذات میں سرگرمِ کار ہے‘‘۔

دوسری طرف ہم قائداعظم کے ہاں تدریج دیکھتے ہیں۔ قائداعظم پہلے ’ہندو مسلم اتحاد‘ کے نقیب تھے۔ لیکن جب انھوں نے محسوس کیا کہ ہندو قوم اور قیادت کے اصل عزائم کیا ہیں؟ تو وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اس مصنوعی ’اتحاد‘ میں مسلمانوں کا مفاد نہیں۔1929ء سےلے کر ۱۹۳۶ء تک وہ   اس موقف پر واضح اور مطمئن ہوگئے کہ مسلمانوں کے لیے الگ ریاست ضروری ہے۔ 1938ء کے انتخابات اور ہندوئوں کی زیادتیوں نے اس موقف کو مزید تقویت دی۔

یہ ہے وہ پس منظر ، جس میں مارچ 1940ء میں قراردادِ لاہور پاس ہوئی۔ اس میں پہلی بات یہ کہی گئی ہے کہ مسلمان ایک قوم ہیں، ان کا اپنا نظام ہے۔ اس حیثیت سے ان کا سیاسی مستقبل بھارت یاہندوئوں کے ساتھ مل کر چلنے میںنہیں ہے، انھیں اپناراستہ الگ نکالنا چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ جن جن صوبوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، ان پر مبنی مسلمانوں کی ایک ریاست بنادی جائے۔ قرارداد میں لفظ states استعمال ہوا ہے۔ گمان غالب یہ ہے کہ قرارداد کے مختلف مسودے تھے، جن میں اسے آخری شکل دی گئی۔ جمع کے اس صیغے کو ٹائپ کی غلطی یا تسوید کا ابہام ہی قرار دیا گیا، ورنہ یہ کیسے ممکن تھا، قیامِ پاکستان تک کبھی ایک سے زیادہ مسلم ریاستوں کی بات نہ ہوئی، بلکہ ایک ہی ریاست کی بات ہوئی اور یہ سب رضاکارانہ طور پر بڑی جان دار قیادت کے ہاتھوں ہوا۔ جو اس بات کی دلیل ہے کہ سب کے ذہنوں میں ایک ہی مسلم ریاست، پاکستان کا قیام پیش نظر تھا، جب کہ ۱۹۴۱ء سے لے کر ۱۹۴۶ء تک کی قائداعظم کی تمام تقاریر سے یہ ظاہر ہے اور جسے اپریل ۱۹۴۶ء میں مسلم لیگ کے منتخب ارکانِ اسمبلی کی قرارداد میں دوٹوک الفاظ میں واضح کردیا گیا۔

تیسری بات یہ کہ جہاں مسلمانوں کا اقتدارہوگا، وہاں غیرمسلم آبادی کے حقوق کاتحفظ ہوگا۔ ایک اور نکتہ جس کی طرف عام طورپر ہم توجہ نہیں کرتے، وہ یہ ہے کہ اجلاس ۲۲مارچ کوشروع ہوا، ۲۳مارچ کو قراردادپیش ہوئی اور ۲۴ مارچ ۱۹۴۰ء کو منظور ہوئی۔ لیکن مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے چند ہی ہفتے کے بعد یہ اعلان کیا ہے کہ قراردا دِ لاہور ۲۳مارچ سے منسوب ہوگی، اور اس قرارداد کو ۲۳مارچ کی قرارداد کہا جائے گا، اور ۲۳مارچ ہی کا دن ہرسال منایا جائے گا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کیوں؟ جہاں تک میں نے غور کیا ہے اس میں حکمت یہ ہے کہ اصل چیز قراردادکے الفاظ اور منظوری نہیں بلکہ اصل چیز وہ جوہری ٹرننگ پوائنٹ ہے، جو اس قرارداد میں واضح کیاگیا تھا، کہ اب تک ہم اپنے حقوق کے لیے ایسے فریم ورک میں راستے تجویز کر رہے تھے جو ایک ہندستان میں تھا۔ اب ہم نے یہ طے کرلیا ہے کہ ہندو انڈیا اور مسلم انڈیا پر مشتمل ایک فیڈریشن نہیں چلے گی بلکہ دو الگ ممالک ہونے چاہییں۔

اس تاریخی اجلاس میں سب سے اہم تقریر قائداعظم کی ہے۔ ان کے علاوہ مولوی فضل الحق، خلیق الزماں، قاضی عیسیٰ ، بیگم محمد علی جوہر اور دوسرے افراد نے بڑی اہم تقریریں کیں۔ سب نے اسی ایک نکتے پر بات کی۔

اس کے بعد اپریل ۱۹۴۶ء کی قرارداد کو میں سنگِ میل قراردیتاہوں۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے منتخب اراکینِ پارلیمنٹ جن میں مرکزی وصوبائی دونوں اسمبلیوں کے افراد شامل تھے، ان کی کانفرنس ہوئی۔ اس میں انھوں نے ایک ریاست کا وجود واضح کیا۔ یہ قرارداد حسین شہید سہروردی نے پیش کی تھی، جب کہ مارچ ۱۹۴۰ء کی قرارداد مولوی فضل الحق نے پیش کی تھی (ان دونوں حضرات کا تعلق بنگال سے تھا)۔ قرارداد کے الفاظ تھے:

ہرگاہ کہ اس وسیع برصغیر پاک و ہند میں بسنے والے مسلمان ایسے دین کے پیرو ہیں، جو ان کی زندگی کے ہرشعبے(تعلیمی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی) پر حاوی ہے، اور جس کا ضابطہ محض روحانی حکمتوں، احکام، اعمال اور مراسم تک محدود نہیں۔

میں اس دوسری کانفرنس میں ایک کارکن کی حیثیت سے شریک تھا۔ ہمارے اسکول کی عمارت میں یہ اجلاس ہوا تھا۔ اس میں کچھ لوگوں نے اپنے خون سے دستخط کیے تھے۔ اس قرارداد کے ساتھ ایک حلف نامہ پڑھا گیا جس کا آغاز اس آیت سے کیا گیا تھا: اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ  o (الانعام ۶:۱۶۲)’’میری نماز، میرے تمام مراسمِ عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے‘‘۔ اور یہ کہ ہم عہد کرتے ہیں کہ اس قرارداد میں پاکستان کے قیام کے لیے: ’’جو خطرات اور آزمایشیں پیش آئیں گی، اور جن قربانیوں کا مطالبہ ہوگا، انھیں برداشت کروں گا۔ آخر میں یہ دُعا درج تھی: رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ  o  (البقرہ ۲:۲۵۰) ’’اے ہمارے رب، ہم پر صبر کا فیضان کر، ہمارے قدم جما دے اور اس کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب کر‘‘۔ اس دستاویزپر ہرایک رکن نےدستخط کیے۔

قیام پاکستان کے وقت پاکستان کا آئین نہیں تھا آئین 1935ء میں ترامیم کرکےعبوری آئین کے طور پر نافذ کیا گیا پاکستان اس وقت لاتعداد مسائل میں گھرا ہوا تھا لاکھوں مہاجرین ہندوستان سے پاکستان میں پناہ لے رہے تھے ان کی رہائش اور خوراک کا بندوبست ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔ مغربی پاکستان میں غیر مسلموں کی تعداد تقریباً 3 فی صد جبکہ مشرقی پاکستان میں غیر مسلموں کی تعداد 22 فی صد تھی اس لیے بہت سے ایسے سیاست دان تھے جو 25 فی صد غیر مسلم آبادی والا ملک کہتے ہوئے ایسے آئین کا مطالبہ کر رہے تھے جو سیکولر ہو جبکہ علمائے کرام کا ایک گروہ اس نقطہ پر زور دے رہا تھا کہ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا لہٰذا پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہوگا نواب زادہ لیاقت علی خان ان حالات سے آگاہ اور باخبر تھے وہ بھی علماء کے خیالات سے متفق تھے اس لیے انہوں نے علمائے کرام کے تعاون سے ایک قرارداد تیار کی جسے قرارداد مقاصد کا نام دیا گیا قراردادِ مقاصد ایک قرارداد تھی جسے پاکستان کی آئین ساز اسمبلی نے 12 مارچ 1949ء کو منظور کیا۔ یہ قرارداد 7 مارچ 1949ء کو وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان نے اسمبلی میں پیش کی۔ اس کے مطابق مستقبل میں پاکستان کے آئین کا ڈھانچہ یورپی طرز کا قطعی نہیں ہوگا، بلکہ اس کی بنیاد اسلامی جمہوریت و نظریات پر ہوگی۔

2 مارچ 1985ء کو صدر پاکستان محمد ضیاء الحق کے صدارتی فرمان کے ذریعہ آئین پاکستان میں آٹھویں ترمیم کی گئی جس کے مطابق قراردادِ مقاصد کو آئین پاکستان میں شامل کر لیا گیا۔ صدارتی فرمان 14 کے تحت آئین پاکستان کی دفعہ نمبر 2 کے بعد اُس کے ضمیمہ کے طور پر Article 2-A کے نام سے شامل کر لیا گیا۔ اِس صدارتی فرمان کے آخر میں ضمیمہ کے مطابق کہا گیا تھا کہ قراردادِ مقاصد آئین پاکستان کے متن میں شامل سمجھی جائے گی۔ 

آئین پاکستان مجریہ 1973ء کی دفعہ نمبر 2 کے مطابق اسلام مملکتی مذہب ہوگا جبکہ دفعہ نمبر 2 کے ضمیمہ میں قراردادِ مقاصد کو آٹھویں ترمیم صدارتی فرمان 2 مارچ 1985ءکے مطابق شامل کر لیا گیا ہے جو یوں ہے:

“ضمیمہ میں نقل کردہ قراردادِ مقاصد میں بیان کردہ اُصول اور احکام کو بذریعہ ہذا دستور کا مستقل حصہ قرار دیا جاتا ہے اور وہ بحسبہ مؤثر ہوں گے۔” 
قراردادِ مقاصد سے متعلق آراء و بیانات
جسٹس حمود الرحمٰن نے قراردادِ مقاصد کے متعلق کہا تھا کہ:

اِسے ابھی تک کسی نے منسوخ نہیں کیا، نہ کسی عہدِ حکومت، فوجی یا سول میں اِس سے اِنحراف کیا گیا۔ بلاشبہ یہ ہو بھی نہیں سکتا۔ یہ اُن اساسی اُصولوں میں سے ایک ہے جنہیں قرآن میں تقدس حاصل ہے. 

پاکستان بننے کے بعد قراردادِ مقاصد (مارچ 1949ء) کا بھی اگر تجزیہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اسلامی، جمہوری، فلاحی اور وفاقی ان چاروںبنیادوں کے اوپر ریاست کی تشکیل کا عہد اور اعلان کیا گیا ہے:

قرارداد مقاصد کا متن

٭ ”اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلا شرکت غیر حاکمِ مُطلَق ہے۔ اس نے جمہور کے ذریعے مملکت پاکستان کو جو اختیار سونپا ہے، وہ اس کی مقررہ حدود کے اندر مقدس امانت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ مجلس دستور ساز نے جو جمہور پاکستان کی نمائندہ ہے، آزاد و خودمختار پاکستان کے لیے ایک دستور مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

٭ جس کی رُو سے مملکت اپنے اختیارات و اقتدار کو جمہور کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔

٭ جس کی رُو سے اسلام کے جمہوریت، حریت، مساوات، رواداری اور عدلِ عمرانی کے اصولوں کا پورا اتباع کیا جائے گا۔٭ جس کی رُو سے مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو قرآن و سنت میں درج اسلامی تعلیمات ومقتضیات کے مطابق ترتیب دے سکیں۔

٭ جس کی رُو سے اس امر کا قرار واقعی اہتمام کیا جائے گا کہ اقلیتیں اپنے مذاہب پر عقیدہ رکھنے، عمل کرنے اور اپنی ثقافتوں کو ترقی دینے کے لیے آزاد ہوں۔٭ جس کی رُو سے وہ علاقے جو اب تک پاکستان میں داخل یا شامل ہو جائیں، ایک وفاق بنائیں گے جس کے صوبوں کو مقررہ اختیارات و اقتدار کی حد تک خود مختاری حاصل ہوگی۔

٭ جس کی رُو سے بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے گی اور ان حقوق میں جہاں تک قانون و اخلاق اجازت دیں، مساوات، حیثیت و مواقع، قانون کی نظر میں برابری، عمرانی، اقتصادی اور سیاسی انصاف، اظہارِ خیال، عقیدہ، دین، عبادت اور جماعت سازی کی آزادی شامل ہوگی۔

٭ جس کی رُو سے اقلیتوں اور پسماندہ، پست طبقوں کے جائز حقوق کے تحفظ کا قرار واقعی انتظام کیا جائے گا۔

٭ جس کی رُو سے نظامِ عدل گستری کی آزادی پوری طرح محفوظ ہوگی۔

٭ جس کی رُو سے وفاق کے علاقوں کی صیانت، آزادی اور جملہ حقوق، بشمول خشکی و تری اور فضا پر صیانت کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔

٭ تاکہ اہل پاکستان فلاح و بہبود کی منزل پا سکیں اور اقوام عالم کی صف میں اپنا جائز و ممتاز مقام حاصل کریں اور امنِ عالم اور بنی نوعِ انسان کی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں‘‘۔ (دنیا ڈاٹ کام)

دو قومی نظریہ: چند غورطلب پہلو

یہاں اس بات کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ دوقومی نظریہ کوئی نئی چیز نہیں ہے، یہ پہلے دن سے ہے۔ دوقومی نظریے کی بنیاد اسلام کا یہ تصور ہے کہ زندگی گزارنے کے دو ہی طریقے ہیں۔  ایک یہ ہے کہ اللہ کو الٰہ مان کر اس کی عبادت اور اس کی اتباع میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا طریق زندگی اختیار کیا جائے، جب کہ دوسرا راستہ چاہے وہ کسی دوسرے مذہب پر مبنی ہو، یا لادینیت کی بنیاد پر یا الحاد کے نا م پر ہو، یا کسی بھی نام پر، وہ الگ راستہ اور الگ نظریہ ہے۔ اس کی تلقین ہمیں سورئہ فاتحہ میں دن میں پانچ نمازوں میں بار بار کرائی جاتی ہے کہ  اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ o صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ لا غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَo ’’ہمیں سیدھا راستہ دکھا، اُن لوگوں کا راستہ جن پر تُو نے انعام فرمایا، جو معتوب نہیں ہوئے، جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں‘‘۔ یہ دو واضح طریقے ہیں۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ دوقومی نظریہ اس بات کی ضمانت ہے کہ اسلام سے ہٹ کر جو نظام ہوگا، اسے بھی باقی رہنے کا حق ہے۔ یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ اللہ نے انسان کو یہاں ایک مقصد کے لیے پیدا کیا ہے ، اور وہ مقصد اس کی آزمایش ہے۔ آزمایش یہ ہے کہ اسے عقل دی گئی ہے، تقویٰ دیاگیا ہے اور ساتھ ساتھ اسے اختیار بھی دیا گیا ہے، فَاَلْہَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰھَا (الشمس ۹۱:۸) ، یعنی بدی اور پرہیزگاری کے اختیارمیں سے اب اسے منتخب کرنا ہے خیر یا شر ، اسلام یا غیر اسلام، حلال یا حرام ، اللہ کی عبادت یا طاغوت کی عبادت۔ لیکن جو انتخاب بھی وہ کرلے، اسے اس پر قائم رہنے کا حق ہے۔ کسی دوسرے کو اختیارنہیں کہ زبردستی اس کے اوپر اپنی بات کو ٹھونسنے کی کوشش کرے۔ اسی طرح جو استدلال وہ اختیار کرے گا اس کے نتائج بھی اسے بھگتنے پڑیں گے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ لیکن اختیار بہرحال اسے حاصل ہے، جس سے اس کو محروم نہیں کیا جاسکتا۔ لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ لا (دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں۔ البقرہ ۲:۲۵۶)اور لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ o(تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔  الکافرون ۱۰۹:۶) میں اس حقیقت کو دوٹوک الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے۔

سورۃ البقرۃ میں لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ   کا جو پس منظر ہے وہ یہ واضح کردیتا ہے کہ پہلے   آیۃ الکرسی ہے، جس میں اللہ کے دین کا شعور ہے، اس کی کرسی اور اس کے اقتدار کا تذکرہ ہے۔   پھر اس آیت کے بعد فرمایا گیا: قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ ج  فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْم بِاللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی ق (البقرہ ۲:۲۵۶)’’صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے۔ اب جو کوئی طاغوت کا انکار کرکے اللہ پر ایمان لے آیا، اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا، جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں‘‘۔

گویا  لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی دلیل کے ساتھ غلط اور صحیح کو واضح کر دیا گیا ہے، خیر اور شر کو ایک دوسرے سے واضح کردیاگیا ہے، اور حق اور باطل کو واضح کردیاگیا ہے۔ اب جو اللہ کا راستہ اختیار کرے گا، وہ ظلمات میں نہیں نُور میں رہے گا، اور جو طاغوت کی عبادت کرے گا وہ نُو رسے دُور رہے گا۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دو قومی نظریے کی اس بنیاد کے باوجود، جو اس سے ہٹ کر رہنا چاہتا ہے اسے اپنے کیے کا آخرت میں جواب دینا ہے۔

جو لوگ کہتے ہیں کہ دوقومی نظریہ اگر پاکستان کی بنیاد بنتا ہے تو پھر کیا باقی لوگوں کے لیے یہاں رہنے کی گنجایش نہیں ہے؟

وہ بات کو اُلجھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ بلاشبہہ یہ اُن کا انتخاب ہے کہ وہ اسلام قبول کریں، لیکن اگر وہ اسلام قبول نہیں کرتے تو ملک سے وفاداری کے تقاضے پورے کرنے کے ساتھ وہ ایک شہری کی حیثیت سے اپنے تمام حقوق وفرائض کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔اگر ایسا ہے تو سرآنکھوں پر۔ ہمارا یہ عہد ہے کہ ہم قوت سے اسلام مسلط نہیں کریں گے۔ بلاشبہہ ان دوسرے مذاہب یا افکار کے حاملین کو بھی مسلمانوں کے حقیقی جذبات و احساسات کا پاس و لحاظ رکھنا ہوگا۔  اگر وہ اس میدان میں بے ضابطگی کا ارتکاب کریں گے تو قانون کے مطابق انھیں جواب دہ بھی ہونا پڑے گا۔ آزادیِ افکار کا حق انھیں حاصل ہے، مگر دستور اور قانون کے دائرے کے اندر۔ اس طرح خود مسلمانوں کو بھی جو حقوق حاصل ہیں، وہ قانون کے دائرے کے اندر ہیں۔ کسی کو بھی قانون اپنےہاتھ میں لینے کا اختیار نہیں ہے۔ اسلامی معاشرے کے بھی یہ آداب ہیں، اور ایک معروف جمہوری معاشرے میں بھی ان آداب کا احترام لازمی امر ہے۔

حال ہی میں عوامی راے کے جائزے پیش کرنے والے اداروں PEW اور گیلپ نے جو سروے شائع کیے ہیں، ان میں آپ دیکھیں گے کہ بہت سے مسلم ممالک میں تو مسلمانوں کی  اس اُمنگ کا اظہار کرنے والوں کی تعداد کہ شریعت کو ہماری اجتماعی زندگی کی بنیاد ہونا چاہیے، ۷۰سے ۹۹ فی صد آبادی تک نے کیا ہے۔ باقی ممالک میں بھی مسلمان ۲۰سے ۴۰فی صد تک کہتے ہیں کہ شریعت کو ہمارا قانون اور نظام ہوناچاہیے۔ اگر جمہور کی عظیم اکثریت کا یہ فیصلہ ہے تو اس کا احترام دوسرے مذاہب کے لوگوں کے لیے بھی ضروری ہے، ورنہ یہ سب ’اقلیت کے استبداد‘ (Tyranny of the Minority) کے مترادف ہوگا۔

دوقومی نظریے کی حکمت عملی یہ ہے کہ مسلمان جہاں اکثریت میں ہیں اور جہاں اس پوزیشن میں ہیں کہ اپنے مستقبل کو خود طے کرسکتے ہیں، وہاں ان کے لیے صحیح راستہ یہی ہے کہ وہ اپنی زندگی اسلام کے مطابق گزاریں اور نظام حکومت اس کی بنیاد پر کارفرما ہو۔ جہاں وہ اقلیت میں ہیں تو ان کے لیے صحیح راستہ یہ ہے کہ وہاں امن سے رہیں۔ وہ دوسروںکے حقوق کا بھی خیال کریں، لیکن اپنے نظریے ، کمیونٹی، معاشرت ، روایات کی جس حدتک حفاظت کرسکتے ہیں، ان کا تحفظ کریں۔ اس تشخص کو تحلیل نہ ہونے دیں۔ اس کے لیے جدوجہد کریں اور دعوت وتبلیغ کاعمل جاری رکھیں، البتہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ آج کی اقلیت کل کی اکثریت میں بدل سکتی ہے، لیکن یہ عمل دعوت و تبلیغ کے ذریعے جاری رکھنا چاہیے۔

جہاں مسلمان کسی ایسے نظام میں رہ رہے ہیں، جو ظالمانہ اور جابرانہ نظام ہے، وہاں بھی آپ اپنے وجود کے لیے اس نوعیت کی جدوجہد کرسکتے ہیں، جس میں ان اخلاقی حدود کا پورا پورا خیال رکھا جائے جو اللہ اور اس کے آخری رسولؐ نے اُمت کو تعلیم کی ہیں۔اسی لیے اسلامی تاریخ اور قانون کے اندر عدل، توازن اور توسع کی تعلیم دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ جہاد کا ایک مستقل ضابطہ اور طریقہ ہے، جو اسے دہشت گردی سے یک سر مختلف بنادیتا ہے۔ یہ محض اقتدار کی جنگ نہیں ہے۔ سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ ہو، اور پھر دوسری شرط یہ ہے کہ جہاد ان آداب، قیود اور اصولوں اور ضابطوں کے مطابق ہو، جو اللہ اور اس کے رسولؐ نے طے کیے ہیں۔ اس سے ہٹ کر کوئی راستہ جائز نہیں ہے۔ گویا کہ دو قومی نظریہ ایک ابدی اصول ہے اور اس کے یہ مختلف ماڈل ہیں۔

جہاں اکثریت ہے، وہاں کم ازکم اسلامی نظام کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔ جہاں پر اکثریت یا عددی طاقت حاصل نہیں ہم وہاں کے حالات کے مطابق اپنے تشخص کی حفاظت کی کوشش کریں، اپنے حقوق کی حفاظت کی کوشش کریں اور ان مشترکات میں، جن میں دوسرے بھی شریک ہیں ہم ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلیں۔ اس فریم ورک پر چل کر ہم پُرامن اور کامیاب پیش رفت کے لیے راستہ نکال سکتے ہیں۔

دستور سازی اور نظریہ پاکستان

پاکستان میں دستور سازی کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جنرل ایوب خان نے 1956ء کے متفقہ دستور کو منسوخ کرنے کے ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا تھا کہ پاکستان ایک سیکولر ریاست ہوگا، نیز ان کے اس وقت کے شریکِ کار صدر اسکندر مرزا صاحب سے منسوب یہ بات بھی زبان زدعام کی گئی تھی کہ وہ لوگ جو اسلامی دستور کی بات کرتے ہیں ان کو کشتیوں میں بٹھاکر بحیرۂ عرب کی لہروں کے سپرد کردیا جائے گا۔ البتہ مشیت اور تاریخ کا فیصلہ کچھ اور تھا۔ فوجی انقلاب کے ایک ماہ کے اندر ہی اسکندر مرزا کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا، اور پھر اسلام کے داعیوں کو نہیں بلکہ خود ان کو سمندرپار رخصت کر دیا گیا، فَاعْتَبِرُوْا یٰٓاُولِی الْاَبْصَارِ۔

1962ء میں انھی فیلڈ مارشل ایوب خان نے ملک کو دستور دیا۔ جس میں ملک کا نام ’اسلامک  ری پبلک آف پاکستان‘ (اسلامی جمہوریہ پاکستان) کے بجاے ’ری پبلک آف پاکستان‘ (جمہوریہ پاکستان) تھا، اور اس میں سے قراردادمقاصد کے چند نمایاں دینی پہلو نکال دیے گئے۔ ۱۹۵۶ء کے دستور میں جو ایک دفعہ تھی کہ: ’’کوئی قانون سازی قرآن وسنت کے خلاف نہیں ہوگی‘‘ اسے بھی تحلیل کردیا گیاتھا۔

بہرحال اقتدار کے زور پر 1962ءمیں یہ دستور نافذ کیا گیا۔ اس کے تین ماہ بعد پاکستان کی قومی اسمبلی بنی اور اس اسمبلی کے اندر جو پہلی بھرپور بحث ہوئی وہ ’سیاسی پارٹیوں کے قانون‘ پر ہوئی تھی۔ اس اسمبلی نے اس قانون میں زور دے کر یہ شق شامل کی تھی کہ پاکستان کی ہرسیاسی پارٹی کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ اسلامی آئیڈیالوجی سے مطابقت رکھے۔ اس پر بحث کے دوران سیکولر طبقے نے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا کہ اسلامی نظریے اور اس سے مطابقت کی شرط قانون میں نہ آئے، مگر اس میں انھیں بُری طرح شکست ہوئی اور ایوب خان کے دستور ہی کے تحت بننے والی اسمبلی نے سیکولرزم کو مسلط کرنے کی سازش کو شکست دی اور پاکستان کی اسلامی شناخت کو بحال اور تحفظ دینے کا اہتمام کیا۔

واضح رہے کہ اس وقت جسٹس محمد منیر وزیرقانون تھے اور یہ اس قانون کو پیش کررہے تھے۔ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ ہماری اعلیٰ عدلیہ میں منیرصاحب جیسا فرد بھی موجودتھا، جس نے پاکستان کی اسلامی بنیاد اور شناخت پر ضرب لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، لیکن بالآخر اس کو منہ کی کھانا پڑی اور اس کی بھی دیانت کا پردہ چاک ہوگیا۔ واضح رہے کہ انھوں نے اپنی کتاب From Jinnah to Zia میں لکھا ہے کہ: ’’اسلامی آئیڈیالوجی یا پاکستان آئیڈیالوجی کا لفظ جنرل ضیاء الحق نے متعارف کرایا‘‘۔ لیکن آپ ۱۹۶۲ء کی اسمبلی کی کارروائی اٹھا کر پڑھ لیں۔ اس شخص نے سب سے پہلے تو اسلامک آئیڈیالوجی کے الفاظ کی نفی کی۔ لیکن پھر جب اسمبلی نے اصرار کیا کہ ہم یہ رکھیں گے تو اس نے یہ کہاکہ:’’سلکیٹ کمیٹی نے آئیڈیالوجی آف پاکستان کی تعریف بطور اسلام کی ہے، تاہم میں اس سے بے تعلق ہوں کہ آئیڈیالوجی ہونا چاہیے یا نکال دینا چاہیے، یا اس کی تعریف بطور اسلام کی جانی چاہیے‘‘ ( قومی اسمبلی رُوداد، ۱۱جولائی 1962ء)۔ یہی جسٹس منیرصاحب اگلے روز کہتے ہیں: ’’میں نے اس معاملے پر خوب غوروفکر کیا ہے اور میں یہ قرارداد پیش کرتا ہوں کہ آئیڈیالوجی کے الفاظ کو شامل کرنا کسی بھی طرح اقلیتوں کی مذہبی آزادی کو متاثر نہیں کرے گا اور یہ اقلیتوں کو اجازت دے گا کہ وہ اپنی سیاسی سرگرمیوں کو ایسے پروپیگنڈے میں تبدیل نہ کریں جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہوں‘‘(ایضاً، ۱۲جولائی 1962ء)۔ یہ الفاظ تھے پاکستان میں سیکولرزم کے علَم بردار جسٹس محمد منیر کے اور ہماری تاریخ کاحصہ ہیں۔

1962 ء کے دستور میں پہلی آئینی ترمیم ہوئی تو وہ یہ تھی کہ پاکستان کا نام ’اسلامک ری پبلک آف پاکستان‘ ہوگا۔ قرارداد مقاصد کو ان الفاظ کے ساتھ، جن میں وہ مارچ 1962ء میں پاس ہوئی تھی بحال کیاگیا اور دستورکی یہ شق کہ: ’’قرآن وسنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہوگی‘‘، اسے بھی اصل شکل میں بحال کیاگیا۔ یہ تینوں چیزیں 1962ء میں اس وقت منظور ہوئیں۔

اسلامی آئیڈیالوجی کا یہی تسلسل 1973ء کے دستور میں بھی ملے گا۔ یاد رہے کہ جب اس کا پہلا ڈرافٹ پیپلزپارٹی نے پیش کیا تو اس میں ملک کو سوشلسٹ ری پبلک آف پاکستان قرار دیاگیا۔ مجوزہ آرٹیکل ۳یہ تھا کہ: ’’پاکستان ایک سوشلسٹ ریاست ہوگی‘‘ مگر پیپلز پارٹی نے عوام کی اسلام سے وابستگی کا احترام و اعتراف کیا۔ بالآخر ایک محدود، لادین اور سوشلسٹ اقلیت کی راے پر عوام کی اُمنگوں کو ترجیح دی۔ پھر دستور کے اندر وہ تمام اسلامی شقیں جو 1956ء کے دستورکاحصہ تھیں، ان کو اور زیادہ بہتر انداز سے دستور کا حصہ بنالیا۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ 1973ء کا دستور بنیادی طور پر ایک اسلامی، جمہوری، فلاحی اور ایک وفاقی دستور ہے۔ یہ دستور مذکورہ چاروں خوبیاں رکھتا ہے اور یہ دستور بھی ۱۰اپریل 1973کو منظور ہوا۔ اور ۱۴اگست1973ء کو نافذالعمل ہوا۔ اس طرح ۲۳مارچ 1940ء میں جس سفر کا آغاز ہوا تھا، اور جس کے نتیجے میں اپریل ۱۹۴۶ء،  مارچ ۱۹۴۹ء اور مارچ 1956ء میں ایسے سنگ ہاے میل طے کیے تھے کہ جن سے ہمیشہ کے لیے پاکستان کی شناخت اور منزل کا تعین ہوگیا۔

 قرارداد پاکستان – ٢٣ مارچ 1940

مارچ 1940ء کی قرارداد کی حقیقت کو سمجھنا بہت ضروری ہے مگر بدقسمتی سے آج کل ایک خاص گروہ کی طرف سے اس کی غلط تشریح کی جارہی ہے۔

23 مارچ  1940 کے حوالے سے ہماری قومی تاریخ میں کم ازکم تین پہلو بہت اہمیت رکھتے ہیں:

  1. 23 مارچ 1940ء کو قرارداد پیش ہوئی، جو سیرحاصل بحث کے بعد منظور کی گئی۔ اگرچہ سیاسی و اجتماعی زندگی میں قراردادیں بہت سی پیش ہوتی ہیں اورقبول بھی ہوتی ہیں، لیکن وہ قراردادیں جو تاریخ کے رخ کوموڑ دیں، وہ بہت کم ہوتی ہیں۔ اس پہلو سے  23 مارچ 1940ء کی  قراردادِ لاہور کا منظورہونا ایک بڑے اہم اور تاریخی فیصلے کی بنیاد بنا۔

  2. اسی تسلسل میں دوسری بڑی اہم قرارداد، اپریل ۱۹۴۶ء میں دلّی میں مسلم لیگ کے منتخب ارکان قومی و صوبائی اسمبلیوں کے کنونشن کی قرارداد ہے، جو  23 مارچ 1940ء کی قرارداد کی تکمیل، اس کی تشریح اور تعبیر اور اسے عملی شکل دینے کا ذریعہ بنی۔ اس قرارداد کے ساتھ ایک عہدنامہ بھی تھا، جس پر تمام منتخب ارکان اسمبلی نے دستخط کیے، اور اس میں تحریک ِ پاکستان کے محرک اور منزل دونوں کا معتبرترین تصور ہمیشہ کے لیے متعین اور محفوظ کر دیا گیا۔

  3. اس سلسلے کا تیسرا سنگ ِ میل قراردادِ مقاصد ہے، جو پاکستان کی دستورساز اسمبلی میں ۹مارچ 1949ء کو پیش ہوئی اور ۱۲مارچ 1949ء کو منظور ہوئی۔ پاکستان کی پہلی دستورسازاسمبلی جو پاکستان بنانے کی جدوجہد میں ہراول دستہ تھی، اور جسے پوری قوم نے یہ کام سونپا تھا کہ ملک کا مستقبل، اس کا آیندہ کانظام ، اس کا دستور، اس کی منزل متعین کرے۔ یہ قرارداد اسی اسمبلی کا کارنامہ تھی۔

  4. چوتھا سنگ ِ مل 1956ء کا متفقہ دستورِ پاکستان تھا۔ اس دستور کا نفاذ بھی  23 مارچ 1956ء کو ہوا اور ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان متعین کیا گیا۔ یہ ہماری تاریخ کا بہت بڑا سانحہ ہے کہ  جنرل محمد ایوب خان نے اکتوبر1958ء میں اس دستور کو منسوخ کردیا۔ 1956ء کا دستور آج بھی پاکستان میں دستور سازی کی تحریک اور تاریخ کا سنگِ بنیاد ہے۔ منسوخی کے باوجود، بعد میں جتنے دساتیر بنے، وہ اس بنیاد سے نہ ہٹائے جاسکے، جو بنیاد اس دستور نے فراہم کی تھی۔

مسلم دنیا: درپیش چیلنج

جہاںتک مسلم دنیا کا تعلق ہے ،ہم اس وقت بلاشبہہ ایک بہت بڑی آزمایش اور بڑے ہی نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ ۲۰ویں صدی میں ہم پر اللہ کے بے پناہ انعامات برسے ہیں، لیکن ہم نے ان کا حق ادا نہیں کیا۔ بیسویں صدی کاآغاز اس طرح ہوا تھا کہ صرف چار مسلم ممالک دنیا کے نقشے پر آزاد نظر آتے تھے، باقی ساری مسلم دنیا مغربی سامراجی طاقتوں کی غلام تھی ۔

یہ تقریباً ۲۰۰ سال کا تاریک دور تھا، تاہم ۲۰ویں صدی میں مسلمان دوسروں کی سیاسی غلامی سے نکلنے میں کامیاب ہوئے اور آج آزاد مسلمان ممالک کی تعداد ۵۷ ہے۔ ۱۹۷۳ء تک دنیا کی معاشی قوت، مغربی ممالک کے ہاتھوں میں تھی، لیکن اکتوبر ۱۹۷۳ء میں سعودی فرماں روا شاہ فیصل کی جانب سے امریکا کوتیل بند کرنے کی دھمکی کے ایک معمولی سے جھٹکے نے، مغرب کے ہوش ٹھکانے لگادیے۔ اس طرح تیل کی قیمتوں پر مغربی معاشی اجارہ داری کا توازن تبدیل ہوگیا۔ پھر ۲۰ویں صدی میں اللہ نے دین کاصحیح تصور پیش کرنے کے لیے پے درپے عظیم شخصیات پیدا فرمائیں۔ ۱۸ویں اور ۱۹ویں صدی میں اسلامی احیائی جدوجہد کے لیے حضرت شاہ ولی اللہ اور سیّداحمدشہید کا بڑاحصہ ہے۔ لیکن ۱۹ویں صدی کے آخر اور ۲۰ویں صدی میں مولانا شبلی نعمانی، مولاناابوالکلام آزاد ، علامہ محمد اقبال، مولانا مودودی، امام حسن البنا، سید قطب شہید، مالک بن نبی، سعید نورسی جیسے بڑے علما کی ایک کہکشاں ہے، جس نے بڑی وسعت کے ساتھ اپنا موقف پیش کیا ۔ ان کے بیانیے میں اختلافات بھی ہیں، لیکن ایک ہی مرکزی نکتے پر سب کا اتفاق بھی تھا۔ وہ یہ کہ اسلام ایک مکمل نظامِ زندگی ہے، اور اُمت مسلمہ کی کامیابی کا انحصار جہاں انسانوں کی زندگی اور کردار کو تقویٰ اور للہیت پر تعمیر کرنا ہے، وہیں ان کی خاندانی، معاشی، اجتماعی، سیاسی، قومی اور بین الاقوامی زندگی کو بھی اللہ کی ہدایت کی روشنی میں تشکیل و تعمیر کرنا ہے۔ گویا ایک ہی مکمل نظام کو قائم کرنے کی پوری کوشش ہمارا فرض ہے۔

مجھے یہ بات سن کر الجھن ہوتی ہے، جب لوگ کہتے ہیں کہ: ’’ریاست کو اسلامی نہیں کہنا چاہیے‘‘۔ قانونی اعتبار سے ریاست ایک ’قانونی وجود‘ ہے اور ایک ’قانونی وجود‘ کی طرح اس کا ایک طبعی مقام ہے۔ بالکل اسی طرح اس کا سیاسی اور نظریاتی وجود اور مقام بھی ہے۔ اگر ایک ریاست کرسچن ریاست ہوسکتی ہے، ایک جمہوری ریاست ہوسکتی ہے، ایک ویلفیئر اسٹیٹ ہوسکتی ہے، ایک یہودی اسٹیٹ ہوسکتی ہے، ایک بدھسٹ اسٹیٹ ہوسکتی ہے ، ایک ہندو اسٹیٹ ہوسکتی ہے، تو ایک اسلامک اسٹیٹ کیوں نہیں ہوسکتی؟

مسلمانوں کا ایک گروہ کہتا ہے: ’’اس کے لیے کوشش کی ضرورت نہیں بلکہ یہ تو ایک انعام ہے‘‘۔ لیکن وہ اس بات کا جواب نہیں دیتا کہ ریاست تو کیا زندگی میں کوئی بھی چیز آپ سے آپ حاصل نہیں ہوسکتی، بلکہ اس کے لیے کوشش کرنا ہوگی۔ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانے سے یہ انعام نہیں مل سکتا۔ رزق اللہ کی نعمت ہے، لیکن کیا رزق کے لیے کوشش نہیں کی جاتی۔ اسلامی ریاست کا وجود اللہ کی نعمت اور انعام ہے تو اس کے قیام کے لیے جدوجہد اور کوشش بھی ضروری ہے۔ اور پھر جب قرآن خود کہتا ہے کہ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ  اور امربالمعروف ونہی عن المنکر یعنی ہمیں یہ کہاجاتا ہے کہ جہاں تم نماز قائم کرتے ہو، زکوٰۃ ادا کرتے ہو، وہاں امربالمعروف ونہی عن المنکر کی ذمہ داری ادا کرنا بھی تمھارا فرضِ منصبی ہے۔’امر‘ کے معنی درخواست کرنا نہیں اور ’نہی‘ کے معنی محض متنبہ کرنا نہیں ہے، بلکہ نیکی کو قائم کرنا اور بدی سے روکنا ہے۔ یہ کام ریاستی قوت کا متقاضی ہے۔ محض وعظ و تلقین اس کے لیے کافی نہیں۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ ریاست بھی ان حدود کی پابند رہے، جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرما دیے ہیں۔

۲۰ویں صدی کے آخری عشروں میں بدقسمتی سے ہم نے اُس معاشی انعام کا فائدہ نہیں اُٹھایا جو اللہ تعالیٰ نے مسلم اُمہ کو عطا کیا تھا۔ ہمارے ریاستی نظام اور ہماری قومی قیادتیں جاہلیت کی بنیاد پر خود مسلمانوں ہی کے خلاف ظلم و زیادتی کا ارتکاب کرتی چلی آرہی ہیں۔ تاہم، اس ظلم و جَور اور بے اعتنائی کے باوجود اصلاح اور تبدیلی کی قوتیں ہرجگہ کارفرما ہیں۔ اگر مصر میں ۴۰ سال تک الاخوان المسلمون پر پابندی عائد کرنے اور ہزاروں کی تعداد میں کارکن شہید کرنے یا جیلوں اور تعذیب خانوں میں ڈالنے کے باوجود اسلام وہاں اُبھر سکتا ہے تو پھرمایوسی کیوں؟ ترکی جہاں اذان دینا ممنوع تھا، سر پر ٹوپی اوڑھ نہیں سکتے تھے، کوئی کتاب عربی میں نہیں چھاپ سکتے تھے لیکن وہاں بھی آخرکار مثبت تبدیلی آئی ہے۔ وسطی ایشیا میں ۷۰سال تک کیا مسلمانوں کو محکوم نہیں رکھا گیا؟ اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ گولیاں چلے بغیر وسطی ایشیا کے ممالک ماسکو کی غلامی سے نکل کر خودمختاری کی راہ پر چل نکلے۔ تمام خرابیاں، تضادات اور کمزوریاں اپنی جگہ، مگر ہمارے پاس وہ استعداد و قوت اور جذبہ بھی موجود ہے، جسے متحرک ، منظم اور علمی و اخلاقی اعتبار سے تقویت بہم پہنچانے کی ضرورت ہے، اور جہاں جہاں ہم کوشش کریں گے، ان شاء اللہ اس کے نتائج بھی ملیں گے۔ نشیب وفراز اپنی جگہ، لیکن ان سب کے باوجود ان شاء اللہ حالات بدلیں گے اور تبدیلی کی یہ اُمید بالخصوص نوجوانوں سے ہے ۔ آج مسلم دنیا کی ۵۰سے ۶۰فی صد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ ایک بڑا قیمتی اثاثہ اور بہت بڑی قوت ہے۔ ان سب کے لیے ہمارا ایک ہی مشورہ ہے کہ زندگی کو محض کھانے پینے اور آرام کے لیے استعمال نہ کریں، بلکہ زندگی کا مقصد پہچانیں، سمجھیں اور پھر اس مقصد کے مطابق اپنے آپ کو تیار بھی کریں اور اس مقصد کو بروے کار لانے کی کوشش بھی کریں۔

تبدیلی کے لیے کام انفرادی سطح پر بھی ہورہا ہے اور اجتماعی سطح پر بھی۔ یہ کام کرتے ہوئے جو کچھ ہمیں کرنا ہے، اسے اگر تین لفظوں میں ادا کروں تو وہ ہیں: خداشناسی، خود شناسی اور خلق شناسی۔

  • خداشناسی سے مراد یہ ہے کہ اللہ کو پہچانیں کہ اُس کے وجود کا جو پیغام ایک بندئہ خاکی کے لیے پیغمبروںؑ نے پہنچایا ہے، اس کے مطابق زندگی گزاریں۔

  • خودشناسی یہ ہے کہ میں خود کیسا ہوں اور اللہ اور اس کے رسولؐ مجھے کیسا دیکھنا چاہتے ہیں اور قرآن وسنت میں میرے لیے کیا نمونہ دیا گیا ہے ، کیا ہدایت دی گئی ہے۔

  • پھر ہے خلق شناسی، یعنی اس کے نتیجے میں اللہ کی مخلوق سے میرے تعلقات کیسے ہوں۔ اپنے اعزا، خاندان، محلے، بہن بھائیوں، دوستوں، دشمنوں،کافروں، مسلمانوں ،اداروں، یعنی خاندان سے لے کرریاست تک اپنی منصبی ذمہ داری معلوم ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے نوجوانوں سے یہی گزارش ہے کہ زندگی کا مقصد متعین کیجیے اوور پھر مقصد کو سنجیدگی سے قبول کرکے اس کے تقاضوں کو قبول کیجیے۔

[ ماخوز – تحریک ِ پاکستان سے تعمیرِ پاکستان تک:پروفیسر خورشید احمد]

Related:

 کیا قائد اعظم سیکولر تھے ؟ از ڈاکٹر صفدر محمود

ڈاکٹر صفدر محمود کسی تعارف کے محتاج نہیں۔حال ہی میں حضرت قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کے دین و مذہب کے بارے میں ایک بار پھر بے سروپا باتیں کی گئیں تو ان کا جواب ڈاکٹر صاحب 25 اگست سے روزنامہ نوائے وقت میں قسط وار لکھ رہے ہیں۔ آج اس تحقیقی مضمون کی چوتھی قسط شائع ہوئی ہے۔ چاروں اقساط پیش ہیں۔
قسط۔1 :
سوال یہ ہے کہ کیا بانی¿ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ سیکولر تھے۔سیکولر کے لغاتی معانی ہیں لادین، دنیاوی، لیکن عام مفہوم کے مطابق سیکولر ایسے شخص کو سمجھاجاتا ہے جو دین اور دنیا کو الگ الگ تصور کرتا ہویعنی مذہب کو محض ذاتی معاملہ سمجھتا ہو اور قومی سیاست کو اپنے مذہب یا دین سے بالکل پاک اور علیحدہ رکھنے کا قائل ہو۔اس ضمن میں مغربی ممالک کی مثال دی جاتی ہے جہاں چرچ اور ریاست جدا جدا ہیں اور سیاست پر مذہب کی پرچھائیاں نہیں پڑتیں۔ پاکستان میں ایک عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ کیا قائداعظمؒ پاکستان میں سیکولر نظام قائم کرناچاہتے تھے؟ ایک اقلیتی دانشور حلقہ یہ ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے کہ قائداعظمؒ پاکستان کے سیاسی ڈھانچے کو اسلام سے بالکل پاک اور صاف رکھنا چاہتے تھے۔ ان کے نزدیک قیام پاکستان کا مقصد ایک سیکولر جمہوری ریاست کا قیام تھا۔یہاں اقلیتی حلقہ سے مراد چھوٹا گروہ ہے۔دوسری طرف اکثریتی حلقے کا اصرار ہے کہ پاکستان اسلام کی بنیاد پر ہی معرض وجود میں آیا، مذہب ہی پاکستان کے مطالبے کا طاقتور ترین محرک تھا اس لئے پاکستان کے ریاستی ڈھانچے اور آئین و سیاست کی بنیاد اسلامی اصولوں پر استوار کرکے ہی تصور پاکستان کو شرمندہ تعبیر کیاجاسکتا ہے۔نظریاتی حلقے کے دانشوروں کا خیال ہے کہ اگرچہ تحریک پاکستان کے محرکات میں معاشی،سیاسی،سماجی اور تاریخی عوامل وغیرہ نے اہم کردارسرانجام دیا لیکن ان میں سب سے زیادہ موثر فیکٹر مذہب کا تھا جس کے سبب عوام نے بے پناہ قربانیاں دیں، صعوبتیں برداشت کیں، آگ اور خون کے سمندر سے گزر کر پاکستان پہنچے۔اس سے قطع نظر اگر پاک و ہند کے مسلمانوں کے اجتماعی لاشعور کا تجزیہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کے ذہنوں میں یہ احساس پوری طرح جاگزیں ہوچکا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں اور اسلام کی صحیح معنوں میں بقاءکیلئے ایک مسلمان ریاست کا قیام ضروری ہے۔ دراصل یہ احساس ہندوستان میں مسلمانوں کی ہزار سالہ تاریخ کے تجربات کا نتیجہ تھا۔خود قائداعظمؒ نے بھی اپنی تقریروں میں یہ بات کئی بار کہی۔
کسی بھی شخصیت کے نظریات اور تصورات کو سمجھنے کیلئے اس کی ذاتی زندگی میں جھانکنا اور اس کی عوامی زندگی کا مطالعہ ناگزیر ہوتا ہے اور عوامی زندگی کو سمجھنے کیلئے تقریریں،تحریریں، رجحانات اور سرگرمیاں مشعل راہ کا کام دیتی ہیں۔ مثلا ہم نے قائداعظمؒ کی ہر سوانح عمری میں یہ واقعہ پڑھا ہے کہ جب وہ لندن میں بیرسٹری کیلئے داخلہ لیناچاہتے تھے تو انہوں نے لنکزان کو اپنی درسگاہ کے طورپر اس لیے منتخب کیا کہ لنکز ان میں دنیا کے عظیم ترین آئین یا نظام قانون دینے والوں(Greatest Law Givers) کی فہرست میں ہمارے نبی آخر الزمان حضرت محمد کا نام گرامی بھی شامل تھا۔چنانچہ قائداعظم ؒ نے اس سے متاثر ہوکر لنکز ان میں داخلہ لیا اور بیرسٹری کا امتحان پاس کیا چونکہ اس واقعہ کا انکشاف خود قائداعظمؒ نے کراچی میں عید میلاد النبی کے موقع پر کیا تھا اس لیے یہ ایک مصدقہ حقیقت ہے۔اسی حوالے سے میں خود بھی لندن میں خاص طور پر لنکز ان دیکھنے گیا تھا۔
میں نے بھی جب یہ واقعہ پڑھا تو اسے اس کے صحیح تناظر میں نہ سمجھ سکا کیونکہ بظاہر قائداعظمؒ مغربی طرز حیات کا نمونہ نظر آتے تھے، وہی مغربی لباس، وہی انگریزی زبان، وہی اطوار…. اس کے برعکس اس بنیاد پر لنکز ان کو منتخب کرنے کا فیصلہ صرف وہی شخص کرسکتا تھا جس کا دل حب رسول سے منور ہو کیونکہ عام حالات میں ایک سترہ سالہ کم سن نوجوان اور پھر لندن کی آزاد فضا میں کون ان باتوں کی پرواہ کرتا ہے۔ خاص طور پر جبکہ قائداعظمؒ کا تعلق ایک تجارت پیشہ خوجہ فیملی سے تھانہ کہ علامہ اقبال کی مانند ایک ٹھوس مذہبی گھرانے سے…. بچپن کا ذکر میں اس لیے کررہا ہوں کہ عام طورپر نوعمری کی تربیت کے شخصیت پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ مجھے قائداعظمؒ کے لنکز ان کے انتخاب کا صحیح پس منظر اور مفہوم اس وقت سمجھ میں آیا جب میں نے سید رضوان احمد کی کتاب ”قائداعظمؒ کی زندگی کے ابتدائی تیس(30) سال“ پڑھی۔اس کتاب میں مصنف نے گہری تحقیق کے بعد قائداعظمؒ کے بچپن کے بارے میں کچھ ایسی معلومات کا انکشاف کیا ہے جو اس سے قبل منظر عام پر نہیں آئی تھیں۔ مثلاً یہ کہ قائداعظمؒ کے والد گرامی تجارت کے ساتھ ساتھ مشن ہائی سکول کراچی میں پڑھاتے بھی تھے لیکن انہوں نے اپنے بیٹے کو شروع میں سندھ مدرستہ الاسلام میں داخل کروایا کیونکہ مشن سکول میں عیسائیت کا پرچار بھی کیا جاتا تھا جبکہ سندھ مدرستہ الاسلام میں بچوں کی دینی تربیت پر توجہ دی جاتی تھی۔ مدرستہ الاسلام کے ریکارڈ کے مطابق محمد علی جناح کے نام کے سامنے والے خانے میں حسب رواج خوجہ لکھنے کی بجائے محمڈن لکھایاگیا۔ قائداعظمؒ سندھ مدرستہ الاسلام چھوڑ کربمبئی گئے تو وہاں بھی انجمن اسلامیہ کے سکول میں داخل ہوئے۔ بعد ازاں لندن جانے سے قبل وہ مختصر سے عرصہ کیلئے کراچی کے مشن سکول میں بھی طالب علم رہے۔سید رضوان احمد کی تحقیق کے مطابق قائداعظم محمد علی جناح کے والد جناح بھائی پونجا مذہبی رجحانات رکھتے تھے اور شام کے وقت محلے کے بچوں کو قرآن مجید پڑھایا کرتے تھے جبکہ قائداعظمؒ کی والدہ بچوں کو تاریخی کہانیاں سنایا کرتی تھیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قائداعظمؒ کی تربیت قدرے مذہبی ماحول میں ہوئی اور اسی مذہبی تربیت کا اثر تھا کہ قائداعظمؒ نے لندن میں لنکز ان کا انتخاب کیا۔
حصول تعلیم کے بعد عملی زندگی کا آغاز کرنے کیلئے قائداعظمؒ1896ءمیں بمبئی پہنچے۔اس وقت ان کی عمر بیس برس تھی۔اسلام اور مسلمانوں سے ان کی دلچسپی کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے بمبئی میں فروکش ہوتے ہی انجمن اسلامی بمبئی کی سرگرمیوں میں دلچسپی لینا شروع کی اور اس کی میٹنگوں میں شرکت کرنے لگے۔ انہوں نے انجمن اسلامی بمبئی کی میٹنگ میں پہلی بار8جولائی 1897ءکو شرکت کی اور پھر اسی سال 14اگست کو انجمن اسلامی نے عید میلاد النبی کے ضمن میں جلسہ کیا تو قائداعظمؒ اس میں بھی شریک ہوئے۔عید میلاد النبی کی تقریب کی نواب محسن الملک نے صدارت کی اور اس تقریب میں سیرت النبی پر تقریروں کے علاوہ نعتیں پڑھی گئیں اور سرور کائنات کی خدمت میں عقیدت کا نذرانہ پیش کیا گیا۔ قائداعظمؒ کی حضور نبی کریم سے عقیدت کا اس سے پتا چلتا ہے کہ سیاسی و قانونی زندگی کی بے پناہ مصروفیات کے باوجود اکثر عید میلاد النبی کی تقریبات میں شرکت کرتے رہے۔
قائداعظمؒ1910ءمیں امپیریل لیجسلیٹو کونسل(اعلیٰ ترین قانون ساز اسمبلی) کے رکن منتخب ہوئے تو انہوں نے مسلمانوں کے ایک دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ پریوی کونسل کے ایک فیصلے کے نتیجے کے طورپر مسلمانوں کے روایتی نظام وقف علی الاولاد پر زد پڑی تھی جس سے نہ صرف مسلمانوں کے مفادات متاثر ہوئے تھے بلکہ ان کا ایک صدیوں پرانا سسٹم بھی غیر موثر ہوکر رہ گیا تھا۔چنانچہ مسلمان نہایت پریشان تھے اور برطانوی حکومت کے سامنے اپنے آپکو بے بس محسوس کرتے تھے۔
قائداعظمؒ نے کونسل کارکن منتخب ہونے کے بعد وقف علی الاولاد کابل کونسل میں پیش کیا اور پھر انکی کئی برس کی محنت اور مسلسل کوشش سے وہ قانون بن گیا۔ امپیریل لیجسلیٹو اسمبلی میں یہ پہلا بل تھا جو کسی مسلمان رکن نے مسلمانوں کے بارے میں پیش کیا اور وہ قانون بنا۔
1918ءمیں انہوں نے بمبئی کی ممتاز شخصیت سرڈنشا کی بیٹی رتی سے شادی کی تو شادی سے قبل قبول اسلام کی شرط رکھی۔ رتی ڈنشا پہلے مسلمان ہوئیں اور پھر ان کا نکاح محمد علی جناح ؒ سے ہوا۔میں نے اس حقیقت کی مولانا شاہ احمد نورانی سے تصدیق کی ہے کہ محمد علی جناحؒ رتی ڈنشا کو مولانا نورانی کے سگے تایا مولانا نذیراحمد صدیقی کے پاس لیکر گئے جنہوںنے انہیں مسلمان کیا اور ان کا نکاح قائداعظمؒ سے پڑھوایا۔ مولانا نذیر احمد صدیقی اہل سنت تھے اور مولانا نورانی صاحب کے بقول قائداعظم ؒ ان سے مذہبی معاملات میں رہنمائی لیا کرتے تھے۔ ان کا انتقا ل مدینہ منورہ میں ہوا اور وہ جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ قائداعظم ؒ نہایت ذہین اور محتاط انسان تھے اور ہر قدم سوچ کر اٹھاتے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق اثنائے عشری سے تھا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انکے خاندان کا مذہبی پس منظر یہی تھا تو پھر انہوں نے اپنی ہونے والی بیوی کو قبول اسلام اور اپنے عقد میں لینے کیلئے اور نکاح پڑھوانے کیلئے کسی ایسی مذہبی شخصیت کا انتخاب کیوں نہ کیا جس کا تعلق اثنائے عشری سے ہوتا۔ ظاہر ہے کہ شیعہ علما کی بمبئی میںکوئی کمی نہ تھی اگرچہ میرے نزدیک یہ کوئی اہم مسئلہ نہیں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ قائداعظمؒ مذہبی فرقہ پرستی سے ماوراءتھے اور اس صورت حال کی بہتر وضاحت انکے ایک جواب میں ملتی ہے ۔

 یک دفعہ کسی صاحب نے محض شرارت کرنے اورمسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کیلئے قائداعظم ؒ سے یہ سوال پوچھا تھا کہ آپکا تعلق سنی فرقے سے ہے یا شیعہ فرقے سے؟ تو قائداعظم ؒ کا جواب تھا کہ ہادی اسلام حضور نبی کریم کا مذہب کیا تھا؟ یہ جواب ان کی سوچ، شخصیت اور مذہبی ر جحان کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔
یہ ایک حیرت انگیز حقیقت اور دلچسپ اتفاق ہے کہ قائداعظم ؒ کی واحد اولاد یعنی انکی بیٹی دینا جناح نے 14 اور15 اگست 1919ءکی درمیانی شب کو جنم لیا۔ایک مورخ کے بقول انکی دوسری ”اولاد“ اسکے صحیح اٹھائیس برس بعد 14 اور 15 اگست 1947ءکی درمیانی شب کو معرض وجود میں آئی اور اسکا نام پاکستان رکھا گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم ؒ اپنی اولاد کو دل و جان سے چاہتے تھے اور خاص طور پر دینا جناح انکی زندگی کی پہلی محبت کی آخری نشانی تھی لیکن اسکے باوجود جب دینا نے کسی مسلمان نوجوان کی بجائے ایک پارسی نوجوان نیوائل وادیا سے شادی کا فیصلہ کیا تو قائداعظمؒ نے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اس سے تعلق توڑ لیا۔ دینا ا کے جگر کا ٹکڑا تھی، اس سے بیٹی کی حیثیت سے تعلقات رکھے جا سکتے تھے۔ ہمارے ہاں اس قسم کی لاتعداد مثالیں ہیں کہ لبرل قسم کے مسلمان مذہبی رشتہ ٹوٹنے کے باوجود اولاد سے سماجی تعلقات نبھاتے رہے لیکن تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ قائداعظم ؒ نے بیٹی سے مذہب کا رشتہ منقطع ہونے کے بعد اس سے ہر قسم کے رشتے توڑ لئے۔ دوستوں سے کبھی دینا کا ذکر تک نہ کیاجیسے ان کی کوئی اولاد ہی نہ تھی اور پھر مرتے دم تک دینا کی شکل نہ دیکھی۔ شادی کے بعد دینا نے چند ایک بار اپنے والد گرامی کو خطوط لکھے۔ قائداعظم ؒ نے ایک مہذب انسان کی مانند ان خطوط کے جوابات دیئے لیکن ہمیشہ اپنی بیٹی کو ڈیئر دینا“ یا پیاری بیٹی کہہ کر مخاطب کرنے کی بجائے مسز وادیا کے نام سے مختصر جواب دیئے۔ (بحوالہ سٹینلے والپرٹ، جناح آف پاکستان صفحہ 370)
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان بننے کے بعد قائداعظم ؒ کی بیٹی مسز وادیا اپنے باپ سے ملنے اور اپنے باپ گورنر جنرل کو دیکھنے کیلئے پاکستان آنا چاہتی تھی، اس نے اجازت چاہی، دوستوں نے قائداعظم ؒ سے درخواست کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا چنانچہ دینا پہلی اور آخر بار قائداعظم ؒ کی وفات کے موقع پر ہی پاکستان آ سکی اور مرحوم باپ کی میت پر آنسو بہا کر واپس چلی گئی۔ حضرت قائداعظم ؒ کی نماز جنازہ ممتاز مذہبی شخصیت مولانا شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی جن کا مسلک اظہر من الشمس ہے۔
وزیرآباد کے جناب محمد شریف طوسی صاحب عالم و فاضل انسان تھے۔ انہوں نے اس مشکل دور میں ملازمت کی مجبوری کے باوجود انگریزی زبان میں مسلمانوں کے مطالبات کے حق میں اتنے مدلل مضامین لکھے کہ تہلکہ مچا دیا۔ یہ مضامین قائداعظم ؒ کو بہت پسند آئے چنانچہ قائداعظم ؒ نے انہیں ڈھونڈا اور بمبئی بلا کر چھ ماہ اپنے پاس رکھا۔ اس طرح طوسی صاحب کو قائداعظم ؒ کو نزدیک سے دیکھنے اور انکی ذاتی لائبریری کو کھنگالنے کا موقع ملا کیونکہ قائداعظم ؒ ان سے تحقیق اور لکھنے کا کام لیتے تھے۔ طوسی صاحب کا بیان ہے کہ قائداعظم ؒ کی لائبریری میں سیرت النبی اسلامی تاریخ و قانون اور خلفائے راشدین پر بہت سی کتابیں موجود تھیں اور قائداعظم ؒ اکثر اوقات خلفائے راشدین اور تفسیر پر کتابیں پڑھتے رہتے تھے۔
غزوہ بدر کے بعد کا واقعہ کہ جب مسلمانوں کو فتح نصیب ہو چکی تھی حضرت ابوبکرؓ کے بیٹے عبدالرحمن جنہوں نے ابھی تک اسلام قبول نہیں کیا تھا، اپنے والد گرامی سے ملے اور کہنے لگے کہ غزوہ بدر کے دوران ایک مقام ایسا آیا کہ آپ کی گردن میری تلوار کی زد میں تھی لیکن مجھے فوراً خیال آیا کہ آپ میرے والد ہیں چنانچہ میں نے ارادہ بدل لیا۔ اس کے جواب میں حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ خدا کی قسم اگر تمہاری گردن میری تلوار کی زد میں میں آجاتی تو میں ہرگز باز نہ آتا اور تمہاری گردن مار دیتا…. گویا اسلام میں رشتے خون کے حوالے سے نہیں بلکہ دین کے حوالے سے قائم ہوتے ہیں۔ حضرت قائداعظم ؒ نے اپنی اکلوتی بیٹی سے رشتہ توڑ کر اسی اصول کی پیروی کی کیونکہ دینا نے اسلام سے رشتہ توڑ لیا تھا۔
مجھے اندازہ ہے کہ کچھ حضرات قائداعظم ؒ کی بیٹی کی وادیا سے شادی کو محمد علی جناحؒ کی انا کا مسئلہ قرار دے کر ”ذاتیات“ کا رنگ دینگے لیکن اگر سارے واقعے کو اپنے صحیح پس منظر میں پرکھا جائے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قائداعظم ؒ کیلئے یہ انا کا نہیں بلکہ دین ہی کا مسئلہ تھا۔ سٹینلے والپرٹ اپنی کتاب ”جناح آف پاکستان“ میں لکھتا ہے کہ دینا نے وادیا سے شادی کا ارادہ کیا تو اس نے اپنی اس خواہش کا اظہار اپنے والد سے کیا۔ جنہوں نے کبھی اسکی بات کو ٹالا نہیں تھا۔ قائداعظم ؒ نے اپنی بیٹی کو اس فیصلے سے باز رکھنے کیلئے بہت سمجھایا اور کہا کہ ہندوستان بہتر سے بہتر مسلمان نوجوانوں سے بھرا پڑا ہے تم جس مسلمان نوجوان کو بھی منتخب کرو گی وہ تم سے شادی کرنا اعزاز سمجھے گا۔ میری خواہش ہے کہ تم کسی بھی مسلمان نوجوان سے شادی کرو۔ جب دینا اپنی بات پر اڑی رہی تو قائداعظم ؒ نے یہ کہہ کر اس سے منہ موڑ لیا کہ آج سے میرا اور تمہارا رشتہ ختم ہے، جو چاہو کرو۔ قائداعظمؒ کا فقط یہ اصرار تھا کہ تم مسلمانوں میں شادی کرو، وہ کسی مخصوص نوجوان یا خاندان میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے کہ یہ ان کےلئے ذاتی انا کا مسئلہ ہوتا۔ انہوں نے مسلمان کی شرط لگا کر واضح کر دیا تھا کہ یہ مسئلہ دین کا ہے، دنیا کا نہیں۔
مولانا حسرت موہانی نہایت درویش، صالح حق گو، بیباک اور کھرے انسان تھے۔ وہ شاید مسلم لیگ کے واحد رکن تھے جو بھری میٹنگو ں میں اٹھ کر قائداعظم پر تنقید کر لیتے اورپھر قائداعظم ؒ اپنے موقف کے حق میں دلائل دے کر انہیں مطمئن کرتے۔ انہوں نے ساری زندگی مسلم لیگ کےساتھ رہ کر جدوجہد کرتے گزار دی، کئی بار جیل گئے اور قید بامشقت بھگتی۔ حصول پاکستان انکا سب سے بڑا خواب تھا لیکن انہوں نے قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرنے کی بجائے باقی ماندہ زندگی ہندوستان میں ہی گزار دی کیونکہ ان کی جدوجہد مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کیلئے تھی نہ کہ اپنے ذاتی مفاد کیلئے…. مالی تنگی اور عسرت کے باوجود مولانا حسرت موہانی نے گیارہ حج کئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں بارہ عمرے نصیب کئے۔ مولانا حسرت موہانی کا کہنا ہے کہ ایک بار وہ صبح ہی صبح ایک نہایت ضروری کام کے سلسلے میں قائداعظم ؒ کے گھر پہنچے کیونکہ انہیں علم تھا کہ قائداعظم ؒ سحر خیز ہیں۔ چوکیدار نے انہیں انتظار کے کمرے میں بٹھا دیا کہ ابھی صاحب باہر نہیں نکلے آپ انتظار کریں۔ مولانا حسرت موہانی قدرے بے چین طبیعت کے مالک تھے۔ کچھ دیر تو انتظار کرتے رہے پھر سوچا کہ میں خود ہی ان کو تلاش کر لیتا ہوں۔
مولانا حسرت موہانی کا بیان ہے کہ وہ کمرے کے درمیانی دروازے سے دوسرے کمرے میں داخل ہوئے اور اس کمرے کا پردہ اٹھا کر اگلے کمرے میں گئے تو انہیں کسی شخص کے رونے اور آہ و زاری کی آواز آئی۔ مولانا فرماتے ہیں کہ وہ رونے کی آواز سن کر پریشان ہوئے اور رک گئے…. پھر یہ معلوم کرنے کےلئے کہ کون رو رہا ہے، انہوں نے خاموشی سے اگلے کمرے کا پردہ سرکا کر دیکھا تو حیران رہ گئے کہ قائداعظم ؒ سجدے میں گرے ہوئے تھے اور گڑ گڑا کر رو رہے تھے ۔مولانا حسرت موہانی کا کہنا ہے کہ وہ یہ منظر دیکھ کر دبے پاﺅں واپس آ گئے۔ ظاہر ہے سجدے میں گر کر وہی شخص گڑگڑائے گا جس کے دل میں خوف خدا ہو اور جس کا باطن تیقن،یقین کامل، حب الٰہی اور سوز دروں کے نور سے مالا مال ہو۔
مولانا حسرت موہانی کا ذکر ہوا تو یاد آیا کہ محترم ظہیر الاسلام فاروقی صاحب نے اپنی کتاب ”مقصد پاکستان“ میں لکھا ہے کہ مولانا حسرت موہانی 1946ءکے انتخابات کے سلسلے میں ملک بھر کے دورے کر رہے تھے۔ ایک بار ریل کے سفر کے دوران مستقبل کے حوالے سے گفتگو چل نکلی تو مولانا نے کہا آپ فکر نہ کریں انشاءاللہ پاکستان بن کر رہے گا‘ اس سے آگے کی فکر کریں۔
پیر علی محمد راشدی صاحب نے پوچھا کہ آپکو اس قدر یقین کیوں ہے کہ پاکستان بہرحال بن کر رہے گا کیونکہ کانگریس اور انگریز حکومت دونوں اس مطالبے کے مخالف ہیں۔ مولانا نے جواب دیا کہ مجھے اسلئے یقین ہے کہ مجھے خواب میں حضور نبی کریم کی زیارت ہوئی اور آپ نے مجھے قیام پاکستان کی بشارت دی۔ آپ اس سے اندازہ کیجئے کہ مولانا حسرت موہانی خود کتنی عظیم اور روحانی حوالے سے کتنی بزرگ ہستی تھے جنہیں خواب میں حضور کی زیارت نصیب ہوئی اور جنہیں خود حضور نے بشارت دی۔

قائداعظمؒ کے کردار کی عظمت پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور زمانہ گواہ ہے کہ وہ ایک سچے‘ کھرے‘ بااصول اور باوقار انسان تھے۔ انکے بدترین دشمن بھی انکے کردار کی عظمت کے معترف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مسلمانان ہند و پاکستان ان پر جان چھڑکتے تھے اور ان پر اندھا اعتماد کرتے تھے۔ میرے نزدیک قائداعظمؒ کی راست گوئی اور عظمت کردار سیرت النبی کے گہرے مطالعے کا اعجاز تھی۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ قائداعظمؒ کوئی روحانی بزرگ‘ صوفی یا مذہبی شخصیت نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے کبھی ایسا دعویٰ کیا۔ وہ بار بار کہتے رہے کہ میں ”مولانا“ نہیں‘ ایک عام مسلمان ہوں۔ بشری کمزوریوں سے پاک شخصیات صرف انبیاءاور اولیاءکی ہوتی ہیں۔ قائداعظمؒ بھی بہرحال ایک بشر ہی تھے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں وہ نمود و نمائش‘ منافقت اور دوہرے معیار سے نفرت کرتے تھے۔ ان کی تقریریں اور ان کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ ان کے باطن اور دل کی گہرائیوں کی عکاسی کرتے تھے اور انہوں نے کبھی عوام کو جذبات میں بہلانے‘ بہکانے یا اپنے بارے میں غلط تاثر دینے کی کوشش نہیں کی۔
قائداعظمؒ کے مزاج کے اس پس منظر میں ان کی تقریریں پڑھیں تو احساس ہوتا ہے کہ مسلمانوں سے محبت‘ اسلام کی بقا اور عظمت‘ اسوہ حسنہ‘ اپنے ضمیر اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی جیسے احساسات و تصورات ان کے خون میں شامل تھے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی تقریریں ان الفاظ ا ور ترکیبات سے اس قدر معطر ہیں کہ ہر دوسری تیسری سطر میں مسلمان اور اسلام کے الفاظ سجے ہوئے ہیں۔ ان تقریروں کو پڑھ کر یوں احساس ہوتا ہے کہ جیسے قائداعظمؒ ہمہ وقت مسلمان اور اسلام کے بارے سوچتے رہتے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کے حقوق‘ مسلمانوں اور اسلام کے مستقبل کے حوالے سے سینکڑوں تقریریں کیں اور ان میں بار بار کہا کہ ہمیں کہیں سے بھی جمہوریت کا سبق لینے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم نے جمہوریت آج سے تیرہ سو برس پہلے سیکھ لی تھی‘ جمہوریت ہمیں اسلامی ورثے میں ملی ہے‘ اسوہ حسنہ ہمارے لئے نمونہ ہے اور نبی کریم نے جس طرح یہودیوں اور دوسری اقلیتوں سے معاہدے کئے ہم انہی اصولوں سے روشنی حاصل کر کے اقلیتوں کو برابر کے حقوق دیں گے۔ ظاہر ہے کہ قائداعظمؒ بار بار یہ باتیں صرف اسلئے کرتے رہے کہ یہ ان کی سوچ و فکر اور باطنی شخصیت کا پختہ حصہ تھیں اور وہ ان پر مکمل یقین رکھتے تھے ورنہ وہ عوامی داد یا سستی شہرت سے ہمیشہ دور رہے۔
مسلمانوں سے بے لوث محبت‘ اسلام سے گہرا لگا¶‘ ضمیر کی گواہی اور خدا کے سامنے جوابدہی صرف اور صرف ایک سچے مسلمان کی شخصیت کا ہی حصہ ہو سکتے ہیں اور میرے نزدیک یوم حساب کا خوف بخشش کا ذریعہ ہے۔ اس حوالے سے قائداعظمؒ کی آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ 1939ءمیں کی گئی تقریر کے چند فقرے نمونے کے طور پر پیش خدمت ہیں انہیں پڑھئے اور غور کیجئے۔ ان الفاظ کے باطن میں جھانکئے تو آپ کو اصل جناح کا سراغ ملے گا‘ وہ جناح جو بظاہر انگریزی بولتا‘ مغربی لباس پہنتا اور مغربی طور طریقوں پر عمل کرتا تھا لیکن وہ باطنی طور پر اس کے برعکس تھا۔
”مسلمانوں میں نے دنیا کو بہت دیکھا‘ دولت‘ شہرت اور عیش و عشرت کے بہت لطف اٹھائے اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ میں مسلمانوں کو آزاد اور سربلند دیکھوں۔ میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کہ میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی…. میں آپ کی داد اور شہادت کا طلب گار نہیں ہوں۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرا اپنا دل‘ ایمان اور میرا ضمیر گواہی دے کہ جناح تم نے مدافعت اسلام کا حق ادا کر دیا‘ جناح تم مسلمانوں کی حمایت کا فرض بجا لائے۔ میرا خدا یہ کہے کہ بے شک تم مسلمان پیدا ہوئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبے میں علم اسلام کو سربلند رکھتے ہوئے مسلمان مرے۔“
(روزنامہ انقلاب 22 اکتوبر 1939ئ)
یوم حساب خدا کے حضور سرخروی کا خیال‘ مسلمانوں اور اسلام کی سربلندی کا علم بلند کئے ہوئے مرنے کی آرزو اور رضائے الٰہی کی تمنا صرف اور صرف وہ شخص کر سکتا ہے جو سر تا پا سچا مسلمان اور پکا مومن ہو اور جس کا باطن خوف خدا کے نور سے منور ہو۔ غور کیجئے کہ جب قائداعظمؒ نے یہ تقریر کی اس وقت ان کی عمر تقریباً 53 سال تھی اور ان کی شہرت اوج ثریا پر تھی۔
اس پس منظر میں جب میں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کے ایک خواب کا احوال پڑھتا ہوں تو میرا دل گواہی دیتا ہے کہ یہ خواب سچا ہے۔ مولانا اشرف علی تھانوی نہ صرف عالم و فاضل شخصیت اور مفسر قرآن تھے بلکہ ایک بلند روحانی مرتبہ بھی رکھتے تھے اور ان کے لاکھوں معتقدین ہند و پاکستان میں بکھرے ہوئے ہیں۔ ”تعمیر پاکستان اور علمائے ربانی“ کے مصنف منشی عبدالرحمن نے صفحہ نمبر 111 پر لکھا ہے کہ مولانا اشرف علی تھانوی کے خواہرزادے مولانا ظفر احمد عثمانی فرماتے ہیں کہ ایک روز حضرت تھانوی نے مجھے بلایا اور فرمایا ”میں خواب بہت کم دیکھتا ہوں مگر آج میں نے ایک عجیب خواب دیکھا ہے۔ ایک بہت بڑا مجمع ہے گویا کہ میدان حشر معلوم ہو رہا ہے۔ اس مجمع میں اولیا‘ علما اور صلحا کرسیوں پر بیٹھے ہیں اور مسٹر محمد علی جناح بھی عربی لباس پہنے ایک کرسی پر تشریف فرما ہیں۔ میرے دل میں خیال گزرا کہ یہ اس مجمع میں کیسے شامل ہو گئے تو مجھ سے کا گیا کہ محمد علی جناح آج کل اسلام کی بڑی خدمت کر رہے ہیں اسی واسطے ان کو یہ درجہ دیا گیا ہے۔“ یقینا اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کا اتنا صلہ تو ضرور ہو گا۔ انہی مولانا اشرف علی تھانوی نے 4 جولائی 1943ءکو مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا ظفر احمد عثمانی کو طلب کیا اور فرمایا ”1940ءکی قرارداد پاکستان کو کامیابی نصیب ہو گی۔ میرا وقت آخری ہے‘ میں زندہ رہتا تو ضرور کام کرتا‘ مشیت ایزدی یہی ہے کہ مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ وطن قائم ہو‘ قیام پاکستان کیلئے جو کچھ ہو سکے کرنا اور اپنے مریدوں کو بھی کام کرنے پر ابھارنا۔ تم دونوں عثمانیوں میں سے ایک میرا جنازہ پڑھائے گا اور دوسرا عثمانی جناح صاحب کا جنازہ پڑھائے گا۔“ (بحوالہ ”قائداعظمؒ کا مذہب و عقیدہ“ از منشی عبدالرحمن صفحہ نمبر 249 اور ”قائداعظمؒ کی شخصیت کا روحانی پہلو“ از ملک حبیب اللہ صفحہ نمبر 59-60)
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قیام پاکستان سے کئی برس قبل اللہ کو پیارے ہو گئے لیکن چشم فلک نے دیکھا کہ پاکستان قائم ہوا‘ مولانا ظفر عثمانی نے تھانوی صاحب کی نماز جنازہ پڑھائی اور سوا پانچ سال قبل کی گئی پشین گوئی کے مطابق قائداعظمؒ کی نماز جنازہ مولانا شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی۔
قائداعظمؒ سیاست میں مذہب کے عمل دخل کو پسند نہیں کرتے تھے اور شاید وہ سمجھتے تھے کہ مذہب اور سیاست کے ملاپ سے انتہا پسندی کے دروازے کھلیں گے جس سے مسلمانوں اور بعدازاں پاکستانی قوم کا اتحاد بری طرح متاثر ہو گا۔

7 فروری 1935ءکو مرکزی قانون ساز اسمبلی میں آزاد رکن کی حیثیت سے تقریر کرتے ہوئے قائداعظم ؒنے کہا کہ ”میں حزب مخالف کے قائد سے پوری طرح متفق ہوں کہ مذہب‘ نسل اور زبان کو سیاست میں دخل نہیں دینا چاہیے‘ مذہب انسان اور خدا کا معاملہ ہے لیکن براہ کرم غور کیجئے کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں‘ وہ مذہب کا معاملہ نہیں بلکہ میں تو اقلیتوں کی بات کر رہا ہوں جو ایک سیاسی مسئلہ ہے کیونکہ ہمارے ملک میں اقلیتوں کے مسائل ہیں اور ہمیں ان مسائل کو حل کرنا ہے۔“ (قائداعظم کی تقریریں جلد اول ازخودشید احمد خان یوسفی صفحہ 69-70)اسی تقریر میں آگے چل کر اقلیت کی تشریح کرتے ہوئے قائداعظمؒ کہتے ہیں کہ اقلیت کا مذہب‘ تمدن‘ کلچر اور بعض اوقات آرٹ میوزک بھی اکثریت سے مختلف ہوتا ہے۔ اس لئے اقلیت کو تحفظات کی ضرورت ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ اپنے سیاسی کیریئر کے آغاز میں محمدعلی جناح مسلمانوں کے بحیثیت اقلیت تحفظات کیخلاف تھے۔
محمدعلی جناح نے اولین بار 28 جولائی 1904ءکو کانگرس کے اجلاس میں شرکت کی۔ کانگرس کے اجلاس منعقدہ 28 دسمبر 1906ءمیں ایک مسلمان ممبر نے ایک قرارداد کے ذریعے مسلمانوں کیلئے کوٹے کا مطالبہ کیا جس کی مخالفت کرتے ہوئے محمد علی جناح نے کہا کہ مسلمانوں اور ہندوﺅں کو برابر سمجھا جائے اور ان سے ایک جیسا سلوک کیا جائے کیونکہ کانگرس کی بنیاد ہی برابری کے اصول پر رکھی گئی ہے۔ (ورکس آف قائداعظمؒ از ڈاکٹر ریاض احمد جلد اول صفحہ 81)
یہی محمد علی جناح بعدازاں مسلمانوں کے سب سے بڑے رہنما بن کر ابھرے اور قیام پاکستان تک مسلمانوں کیلئے نہ صرف حقوق اور تحفظات بلکہ جداگانہ حق رائے دہی کیلئے دن رات جدوجہد کرتے رہے۔ کانگرس اور ہندو اکثریت کے ارادے بھانپنے کے بعد قائداعظمؒ نے مسلمانوں کو اقلیت کے چکر سے نکال کر ایک منفرد قوم ثابت کیا اور اسی قومیت کے حوالے سے ایک علیحدہ خطہ زمین کے حصول کو اپنی منزل بنا لیا۔
دراصل قائداعظمؒ کو زندگی بھر اقلیتوں کے مسئلے سے واسطہ رہا اور وہ اس سے نپٹنے کی کوششیں کرتے رہے۔ متحدہ ہندوستان میں مسلمان سب سے بڑی اقلیت تھے اور اس اقلیت کے سب سے بڑے رہنما محمد علی جناح تھے۔ چنانچہ متحدہ ہندوستان کا خواب ٹوٹنے کے بعد (جس کا نقطہ عروج 1948ءکی نہرو رپورٹ کو قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ قائداعظمؒ نے اسے پارٹنگ آف دی ویز یعنی راستوں کی علیحدگی قرار دیا تھا) قائداعظمؒ پہلے پہل مسلمان اقلیت کے حقوق اور بعدازاں مسلمان قوم کے حقوق کیلئے اس وقت تک مسلسل لڑتے رہے جدوجہد کرتے رہے جب تک قیام پاکستان کے امکانات واضح نہیں ہوئے۔ مسلمان اقلیت سے مسلمان قوم کے سفر میں 1940ءکی قرارداد لاہور یا قرارداد پاکستان ایک طرح سے اہم ترین سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ اس کے بعد قائداعظمؒ اور مسلم لیگ کا م¶قف یہ رہا کہ مسلمان ایک اقلیت نہیں بلکہ ہر تعریف‘ معیار اور تصور کے مطابق ایک قوم ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس قومیت کی اہم ترین بنیاد مذہب تھی۔ اسی طرح جب قیام پاکستان کا مرحلہ قریب آیا تو قائداعظمؒ کیلئے سب سے اہم سوال اور مسئلہ پھر اقلیتوں کا تھا کیونکہ پاکستان میں بھی کئی مذہبی اقلیتیں آباد تھیں اور ادھر ہندوستان میں بھی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کی ہی تھی جس کے تحفظ کیلئے قائداعظمؒ پریشان رہتے تھے۔ (ملاحظہ ہو قائداعظمؒ کی پریس کانفرنس 14 جولائی‘ بیانات 15 ستمبر اور 17 ستمبر‘ 25 اکتوبر 1947ئ) چنانچہ قیام پاکستان سے چند ماہ قبل اور چند ماہ بعد تک ان سے بار بار اقلیتوں کے مستقبل کے بارے میں سوالات پوچھے جاتے رہے جس کی وہ بار بار وضاحت کرتے رہے۔ اس دور میں قائداعظمؒ نے جو تقاریر کیں یا بیانات دیئے ان کا صحیح مفہوم سمجھنے کیلئے ان کا مطالعہ اس مسئلے کے تناظر میں کرنا چاہئے۔
اس ضمن میں قائداعظمؒ کے خیالات سمجھنے کیلئے ان کی اس پریس کانفرنس کا حوالہ دینا ضروری ہے جو انہوں نے پاکستان کا گورنر جنرل نامزد ہونے کے بعد 14 جولائی 1947ءکو نئی دہلی میں کی۔ اقلیتوں کے ضمن میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”میں اب تک بار بار جو کچھ کہتا رہا ہوں اس پر قائم ہوں‘ ہر اقلیت کو تحفظ دیا جائے گا۔ ان کی مذہبی رسومات میں دخل نہیں دیا جائے گا اور ان کے مذہب‘ اعتقاد‘ جان و مال اور کلچر کی پوری حفاظت کی جائے گی۔ وہ ہر لحاظ سے پاکستان کے برابر کے شہری ہوں گے۔“ اسی پریس کانفرنس میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان ایک مذہبی (Theocratic) ریاست ہو گی؟ تو قائداعظمؒ نے کہا کہ ”آپ مجھ سے ایک فضول سوال پوچھ رہے ہیں۔ گویا میں اب تک جو کچھ کہتا رہا ہوں وہ رائیگاں گیا ہے۔ آپ جب جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آپ نے اسلام کا مطالعہ نہیں کیا۔ ہم نے جمہوریت تیرہ سو سال قبل سیکھ لی تھی۔“ (بحوالہ ”جناح: تقریریں اور بیانات 1947-48“ از ایس ایم برک مطبوعہ آکسفورڈ پریس صفحات 12-16) سوال یہ ہے کہ تیرہ سو برس قبل مسلمانوں نے کون سی جمہوریت سیکھی تھی؟ کیا وہ سیکولر جمہوریت تھی یا نظریاتی اور اسلامی جمہوریت؟
اس بحث کی ایک اہم کڑی قائداعظمؒ کی 11 اگست 1947ءکی تقریر ہے جو انہوں نے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا پہلا صدر منتخب ہونے پر اسمبلی میں کی۔ یہی وہ تقریر ہے جس کی توضیح یا تشریح کر کے کچھ حضرات یہ مفہوم نکالتے ہیں کہ قائداعظمؒ پاکستان کیلئے سیکولر جمہوری نظام چاہتے تھے جبکہ دوسرا مکتبہ فکر اس توضیح سے اس بنیاد پر اختلاف کرتا ہے کہ اول تو قائداعظمؒ کی تقریر سے ہرگز یہ مفہوم نہیں نکلتا اور دوم یہ تاثر غیر منطقی ہے کیونکہ قائداعظمؒ جیسے عظیم لیڈر کی ایک تقریر کو ان کی دوسری لاتعداد تقریروں اور بیانات سے جو انہوں نے اس سے قبل یا بعدازاں دیئے‘ الگ یا علیحدہ کر کے صحیح نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
سوال یہ ہے کہ قائداعظمؒ نے گیارہ اگست کی تقریر میں کیا کہا جو اس قدر بحث و نزاع کا سبب بن گیا۔ دراصل انہوں نے اس تقریر میں ان بنیادی مسائل کی نشاندہی کی جو پاکستان کو اس وقت درپیش تھے اور اسکے ساتھ ساتھ بابائے قوم (فادر آف نیشن) ہونے کے ناطے کچھ نصیحتیں بھی کیں۔ اس تقریر کا مکمل ادراک حاصل کرنے کیلئے پوری تقریر کو اسکے سیاق و سباق اور پس منظر میں پڑھنا ضروری ہے۔ قائداعظمؒ نے کہا کہ ہم آپکی مدد سے اس اسمبلی کو مثالی بنائینگے۔ حکومت کا پہلا فرض امن عامہ قائم کرنا ہے تاکہ شہریوں کی جائیداد اور مذہبی اعتقادات کی حفاظت کی جا سکے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ رشوت اور کرپشن ہے۔ اس اسمبلی کو اس زہر کے خاتمے کیلئے م¶ثر اقدامات کرنے ہیں۔ ایک اور لعنت بلیک مارکیٹنگ یعنی چور بازاری ہے جس کا تدارک آپ کو کرنا ہے۔ اسی طرح ہمیں اقربا پروری اور ظلم و زیادتی کو بھی کچلنا ہے۔ مجھے علم ہے کہ کچھ لوگوں نے بنگال اور پنجاب کی تقسیم کو تسلیم نہیں کیا۔
میرے نزدیک اس مسئلے کا اور کوئی حل نہیں تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے؟ اگر ہم پاکستان کو خوشحال اور عظیم ریاست بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں ہمہ وقت عوام کی خوشحالی اور بہتری پر توجہ دینا ہو گی۔ اگر آپ ماضی کی تلخیوں کو دفن کر کے رنگ و نسل اور عقیدے کے اختلافات کو پس پشت ڈال کر تعاون اور برابری کی فضا میں کام کرینگے تو آپکی ترقی کی کوئی انتہا نہیں ہو گی۔ اگر ہم اس جذبے کے ساتھ کام کریں تو وقت گزرنے کےساتھ ساتھ اکثریت اور اقلیت…. مسلمان اور ہندو ….کے درمیان پیچیدگیاں ختم ہو جائیں گی کیونکہ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے ان میں بھی پٹھان‘ پنجابی‘ شیعہ‘ سنی وغیرہ ہیں۔ اسی طرح ہندو¶ں میں برہمن‘ ویش‘ کھتری‘ شودر‘ بنگالی اور مدراسی ہیں۔ یہی تقسیم ہندوستان کی آزادی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ ہمیں اس سے سبق سیکھنا چاہئے۔ آپ آزاد ہیں مندر میں پوجا کریں یا مسجد میں عبادت کریں۔ آپ کا کس مذہب‘ ذات یا عقیدے سے تعلق ہے‘ اس سے حکومت کا سروکار نہیں۔ کسی زمانے میں انگلستان کے حالات نہایت خراب تھے اور وہاں رومن کیتھلک اور پروٹسٹنٹ ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارا آغاز ان سے بہت بہتر ہے۔ آج انگلستان میں رومن کیتھلک اور پروٹسٹنٹ فرقوں کے درمیان اختلافات ختم ہو چکے ہیں اور وہ اپنے ملک کے یکساں شہری ہیں۔ اگر آپ بھی اپنے سامنے یہی آئیڈیل رکھیں تو وقت گزرنے کے ساتھ ہندو¶ں اور مسلمانوں کے درمیان فرق مٹ جائے گا‘ مذہب کے حوالے سے نہیں کیونکہ ہر شخص کا اپنا مذہب ہوتا ہے بلکہ سیاسی حوالے سے کیونکہ سبھی ایک ریاست کے شہری ہونگے۔“ (تفصیل کیلئے دیکھیں ایس ایم برک بحوالہ گذشتہ صفحات 25-29)
(بحوالہ روزنامہ نوائے وقت پچیس تا اٹھائیس اگست 2012 )

…………………………………………………..

قائداعظم پر بہتان لگانے والے

صبح بخیر…
ڈاکٹر صفدر محمود
گزشتہ چھ دہائیوں سے یہ بحث جاری ہے کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا تصور ِ پاکستان کیا تھااور اگر وہ زندہ رہتے تو پاکستان کا آئینی، سیاسی، سماجی اور نظریاتی نقشہ کن خطوط پر استوار ہوتا۔ جہاں تک قائداعظم کے تصور ِ پاکستان کا تعلق ہے ان نقاط پر تقریباً سارے دانشور، لکھاری اور محققین متفق ہیں کہ وہ پاکستان کو ایک ایسی جمہوری ریاست بنانا چاہتے تھے جس کے آئین اور حکومتی ڈھانچے کی بنیاد اسلامی اصولوں پررکھی جائے، جہاں قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی، انسانی مساوات اور سماجی و معاشی انصاف کا بول بالا ہو۔ قائداعظم جاگیرداری نظام کاخاتمہ چاہتے تھے اور انہوں نے یہ واضح کیا تھاکہ انہیں ایسا پاکستان نہیں چاہئے جو جاگیرداروں کی جاگیر ہو بلکہ وہ ایسا پاکستان چاہتے تھے جو عوام کی حاکمیت ہو۔
آگے بڑھنے سے قبل یہ وضاحت ضروری ہے کہ جہاں تک قانون کی حکمرانی، انسانی برابری، سماجی اور معاشی انصاف کا تعلق ہے۔ دراصل یہ سب اسلامی نظام کے درخشاں اصول ہیں جن کی نبی کریم کے دورسے لے کر خلافت راشدہ تک بے شمار مثالوں سے تاریخ بھری پڑ ی ہے۔ سیکولر حضرات انہیں سیکولرازم قرار دیتے ہیں جبکہ ہم انہیں اسلام کا ناگزیر حصہ سمجھتے ہیں۔ ذرا رک کر پہلے اتنا سا فیصلہ تو کرلیجئے کہ کیاہم نے قائداعظم کے بتائے ہوئے اُن اصولوں کواپنایا اور عمل کیا جن پرکوئی اختلاف ِ رائے نہیں کیونکہ اختلاف تو صرف ایک نقطے پر ہے، ان اصولوں کو تو سبھی مانتے ہیں ۔
قائداعظم نے گیارہ اگست 1947 والی تقریر میں زور دے کر کرپشن، سفارش، سمگلنگ، اقرباء پروری اورذخیرہ اندوزی کے خاتمے کا وعدہ کیا اور واضح کیا کہ وہ پاکستان میں ان خرابیوں کو برداشت نہیں کریں گے۔
کیا ہم نے ان موذی امراض پر قابو پالیا ہے؟ کیا ان بیماریوں کے کینسر نے گزشتہ باسٹھ برسوں میں پاکستان کے باطنی وجود کو چاٹ چاٹ کر کمزور نہیں کردیا؟میری بات یاد رکھئے کہ کسی بھی قوم یا ملک کو باطنی طور پر مضبوط کرنے کے لئے عوام کو ملکی ڈھانچے میں احساس شرکت دینا ضروری ہوتا ہے اور احساس شرکت اس وقت پروان چڑھتا ہے جب معاشرے میں انسانی مساوات اور سماجی و معاشی انصاف کاراج ہو، کرپشن، سفارش اور اقرباء پروری کا خاتمہ ہو چکا ہو اور ہر شخص کو زندگی کے برابرمواقع مہیا ہوں کیونکہ جہاں کرپشن، سفارش اور اقرباء پروری سکہ رائج الوقت ہوں وہاں عوام کاوہ طبقہ مستقل طور پر احساس محرومی کا شکا ر ہوکر ریاست سے بدظن ہو جاتا ہے جو سفارش، اثر و رسو خ اور سماجی و معاشی انصاف سے محروم ہو۔ یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہے جب ملک میں قانون کی حکمرانی ہو۔ یہی قائداعظم کا خواب تھا اور یہی اسلامی نظام کی بنیادیں ہیں۔
اسی لئے قائداعظم نے قیام پاکستان سے قبل 101 مرتبہ اور قیام پاکستان کے بعد 14بار یہ وضاحت کی کہ پاکستان کے آئین اور ریاستی ڈھانچے کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی یہ اضافہ بھی کردیا کہ آئین کیسا ہوگا؟ اس کا فیصلہ منتخب دستو ر ساز اسمبلی اور عوام کریں گے۔ یہ بیان ایک طرح سے ان کے جمہوری طرز فکر کی غمازی کرتا ہے۔ جب فیصلہ عوام کو کرنا ہے تو یہ بات ذہن میں رکھئے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان بہت بڑا سیکولر تھا، انگریز کی فوجی زندگی کے حوالے سے اس کی زندگی سیکولر ازم کے مطابق پروان چڑھی تھی، وہ مطلق العنان بھی تھا اور ریاستی طاقت بھی اس کے پاس تھی لیکن جب اس نے اپنے تشکیل کردہ آئین میں پاکستان کو صرف جمہوریہ قراردیا تو اس پر اتنا دباؤ پڑا کہ اسے طوعاً کرعاً اسلامی جمہوریہ پاکستان قرار دینا پڑا۔
یہ عوامی امنگوں کی ترجمانی تھی ورنہ پاکستانی عوام نے کبھی بھی مذہبی جماعتوں کو اقتدار نہیں سونپا اور نہ ہی وہ پاکستان کو مذہبی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ دراصل تھیو کریسی کا اسلام میں تصور ہی موجود نہیں اسی لئے قائداعظم بھی بار بار وضاحت کرتے رہے کہ پاکستان ہرگز مذہبی ریاست نہیں ہوگی۔ کچھ سیکولر حضرات کا کہنا ہے کہ اگر قائداعظم اسلامی ریاست کا مطالبہ کرتے تو جماعت اسلامی او ردیگر مذہبی طاقتیں ان کی مخالفت نہ کرتیں۔ یہ دلیل انتہائی سطحی ہے کیونکہ مولانا مودودی کی تحریریں گواہ ہیں کہ انہیں اعتراض اس بات پر تھا کہ مسلم لیگ اور قائداعظم اسلامی ریاست کا مطالبہ تو کر رہے ہیں لیکن مسلم لیگی قیادت اسلام نافذ نہیں کرسکے گی۔ رہی جمعیت علماء ہند تو وہ سرے ہی سے وطنیت اورتصور ِ پاکستان کی مخالف تھی لیکن قیام پاکستان کے بعدان کے ممتاز رہنما مولانا حسین احمد مدنی نے پاکستان کے حوالے سے واضح طور پر کہا تھا کہ مسجد کی جگہ پر تو اختلاف ہوسکتا ہے لیکن جب مسجد بن جائے تو پھر اختلاف کی گنجائش نہیں رہتی۔ گویا انہوں نے پاکستان کو مسجد سے تشبیہ دی تھی۔
کہا جاتا ہے کہ پاکستان ہندوستان کے مسلم اقلیتی صوبوں کی حمایت سے بنااور یہ کہ قائداعظم سیکولر پاکستان چاہتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیا 1945-46 کے انتخابات میں مسلم اقلیتی صوبوں اور مسلمان عوام نے سیکولر پاکستان کے لئے ووٹ دیئے تھے؟اگر سیکولر پاکستان کے لئے ہی اتنی قربانیاں دینا تھیں تو پھر سیکولر ہندوستان میں کیا تکلیف تھی؟ نماز پڑھنے، روزہ رکھنے اور حج کرنے پر تو سیکولر ہندوستان میں بھی کوئی پابندی نہیں۔ مسلم اقلیتی صوبے ہوں یا ہندوستان کے مسلمان عوام، انہوں نے اسی لئے پاکستان کے مطالبے کی حمایت کی تھی کہ قائداعظم کے وعدے کے مطابق پاکستان کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جانا تھی۔ اسے ایک اسلامی جمہوری ملک ہونا تھا نہ کہ مذہبی ریاست۔ اس حوالے سے سیکولر دانشوروں کاکہنا ہے کہ قائداعظم نے کبھی اسلامی ریاست کی اصطلاح استعمال نہیں کی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان کے منہ سے کبھی سیکولر کا لفظ نکلا؟ دوئم آپ یہ تو انکار نہیں کرسکتے کہ قائداعظم نے قیام پاکستان سے پہلے باربار کہا کہ پاکستانی ریاست کے ڈھانچے کی بنیاد اسلام پر استوار کی جائے گی بھلا اس میں اور اسلامی ریاست میں کیا فرق ہے؟
ویسے اطلاعاً عرض ہے کہ قائداعظم نے فروری 1948 میں امریکی عوام کے لئے براڈکاسٹ میں پاکستان کو پریمیئر اسلامی ریاست قراردیا تھا اور ایک بار پھر اعادہ کیا تھا کہ پاکستان کے دستو ر کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی۔ انہوں نے سبی دربار کے خطاب میں 14فروری 1948 کو بھی وضاحت کی کہ ”میرے ذہن میں ہمیشہ ایک اصول رہا ہے وہ اصول ہے مسلم جمہوریت کا۔ میرا ایمان ہے کہ ہماری کامیابی اور نجات کا رازنبی کریم کے دیئے گئے سنہری اصولوں کی پیروی میں ہے۔آیئے ہم اسلامی آئیڈیلز اور اصولوں کی بنیاد پر جمہوریت کی عمارت تعمیر کریں۔“ گویا قائداعظم نے ایک بار پھر واضح کردیا کہ وہ ایسی جمہوریت کے حامی ہیں جس کی بنیاد اسلامی اصولوں پرہو،انہی اصولوں کے مطابق قائداعظم نے ان گنت بار اقلیتوں کو برابر کے حقوق کی یقین دہانی کرائی اوربار بار وضاحت کی کہ اسلام نے جو فراخدلانہ سلوک اقلیتوں سے کیا ہے اس کی مثال دوسرے مذاہب میں نہیں ملتی۔ یہاں مجھے یہ کہنے دیجئے کہ قائداعظم سیکولر تھے یا اسلامی اصولوں کے حامی تھے یہ نہ میرا ذاتی مسئلہ ہے نہ میرا کوئی ایجنڈا یا سیاسی مقصد ہے میں تو فقط یہ کوشش کرتا ہوں کہ قائداعظم کے نظریات کو مسخ نہ کیا جائے اور انہیں اپنے صحیح تناظر میں سمجھا جائے۔
میں نے قائداعظم کو جتنا پڑھا اور سمجھا ہے میری دانست میں وہ ہرگز سیکولر سوچ کے حامل نہیں تھے۔ وہ پاکستان کو ایک ایسی جمہوری ریاست بنانا چاہتے تھے جس کی بنیاد اسلامی اصولوں پراستورہو لیکن وہ ہرگز مذہبی ریاست نہ ہو کیونکہ مذہبی ریاست شہریوں پر مذہب نافذ کرتی ہے جبکہ اسلامی جمہوری ریاست میں لوگ اپنے اپنے عقیدے کے مطابق آزادانہ زندگی گزارتے ہیں اور بحیثیت شہری سب کو برابر کے حقوق حاصل ہوتے ہیں۔
اگر آپ ذرا سا غور فرمائیں تو آپ کو احساس ہو گا کہ قائد اعظم پر سیکولر ازم کا بہتان لگانے والے تین قسم کے حضرات ہیں۔ اوّل وہ لوگ جو دین سے بیگانہ ہیں، دوم وہ جو دین سے بدظن ہیں اور سوم وہ جو دین سے برگشتہ ہیں۔
اس گروہ کا قائد ان کا وہ پسندیدہ مورخ ہے جو ببانگ دہل ٹیلی ویژن پر کہتا رہتا ہے کہ ہمیں قرآن و حدیث سے بالاتر ہو کر سوچنا چاہئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی مسلمان قرآن سے بالاتر ہو کر سوچ سکتا ہے؟ اس کے ”فرمودات“ سن کر مجھے یوں لگا جیسے وہ شخص اپنے مسلمان ہونے پر شرمندہ ہے۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ قائد اعظم کی ذاتی زندگی پر اسلام کی چھاپ نظر نہیں آتی اس لئے وہ سیکولر نظام کے حامی تھے۔ ظاہر ہے کہ قائداعظم کوئی مولوی یا صوفی منش انسان نہیں تھے نہ ہی وہ کوئی مذہبی شخصیت تھے لیکن وہ عقیدے کے حوالے سے ایک پکے اور سچے مسلمان تھے، اُن کی سچائی، حق گوئی اور دیانت کی گواہی ان کے شدید ترین مخالف بھی دیتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم گرامی دنیا کے عظیم ترین قانون دینے والی شخصیات میں پڑھ کر لنکز ان میں داخلہ، وقف الاولاد کا بل اور محترمہ رتی سے شادی کرنے سے قبل اسے بمبئی کی جامع مسجد کے امام مولانا نذیر احمد صدیقی کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام کروانا اور اپنی اکلوتی بیٹی وینا سے غیر مسلمان نوجوان سے شادی کے باعث لاتعلق ہو جانا ایسے اقدامات ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے باطن میں ایک مسلمان بستا تھا۔ یاد رہے کہ مولانا نذیر احمد صدیقی مرحوم مولانا شاہ احمد نورانی کے تایا تھے۔ ایک لکھاری نے دعویٰ کیا ہے کہ قائداعظم کبھی کسی مذہبی تقریب میں نہیں گئے۔ یہ بھی جھوٹ ہے کیونکہ انگلستان سے واپس آ کر بمبئی میں انہوں نے جس پہلے جلسے میں شرکت کی وہ عید میلاد النبی کا جلسہ تھا جس میں راجہ محمود آباد نے سیرت نبوی پر ایمان افروز تقریر کی، نعتیں پڑھی گئیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ہدیہٴ عقیدت پیش کیا گیا۔ گورنر جنرل بننے کے بعد اور وفات سے آٹھ ماہ قبل بھی انہوں نے عید میلاد النبی کے موقع پر 25جنوری 1948ء میں کراچی لاء بار ایسوسی ایشن سے خطاب کیا اور پاکستان میں شریعت کی بنیاد پر قانون سازی کا اعلان کیا۔ کیا قائد اعظم کو سستی شہرت یا ووٹوں کی ضرورت تھی کہ وہ اسلامی جمہوریت، شریعت کے نفاذ یا پاکستان کے آئین کی اسلامی اصولوں پر بنیاد کا اعلان کر رہے تھے اور بار بار کر رہے تھے۔ ان کی صداقت، اصول پرستی اور سچائی مسلمہ حقیقتیں ہیں۔
اسی لئے میں محسوس کرتا ہوں کہ جو دانشور قائداعظم پر سیکولرازم کا بہتان لگاتے ہیں وہ خود تضاد بیانی کا شکار ہیں کیونکہ وہ مانتے ہیں کہ قائداعظم ایک سچے کھرے انسان تھے وہ ہرگز منافق نہیں تھے لیکن یہ تسلیم کرنے کے باوجود ان کی نیت پر شبہ کرتے ہیں اور ان کے الفاظ پر اعتبار نہیں کرتے۔ قائد اعظم نے آزادی سے قبل اور قیام پاکستان کے بعد ایک سو بار سے زیادہ بار یہ کہا کہ پاکستان کے نظام کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی ۔ ہم نے جمہوریت تیرہ سو برس پہلے سیکھ لی تھی۔ ہماری تعلیمات اور قوانین کا منبع قرآن مجید ہے اور اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسلام دوسرے مذاہب کی مانند صرف مذہبی عبادات کا مجموعہ نہیں۔
اگر آپ قائد اعظم کی تقریریں پڑھیں تو آپ کو ان میں مسلسل ان باتوں کی تکرار ملتی ہے اس لئے جب ہمارے سیکولر حضرات قائد اعظم کے تصور پاکستان پر سیکولرازم کا بہتان لگاتے ہیں تو وہ گویا تضاد بیانی کے مرتکب ہوتے ہیں کہ وہ قائداعظم کو سچا اور کھرا انسان بھی مانتے ہیں اور ان کے اعلانات کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔ دراصل مذہب سے خوفزدہ یہ حضرات قائد اعظم کے سیدھے سادے الفاظ سے اپنا من پسند مفہوم نکالنے کی کوششیں کرتے ہیں اور ان کی اِن کوششوں کا شاہکار11/ اگست 1947ء کی تقریر ہے۔
اوّل تو سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کیا قائد اعظم نے زندگی بھر ایک ہی تقریر کی؟ آپ حضرات ان کی سینکڑوں تقریروں کو کیوں درخور اعتنا نہیں سمجھتے؟ گورنر جنرل کا حلف اٹھانے کے بعد انہوں نے چودہ اگست 1947ء کو اسمبلی میں جو تقریر کی آپ اسے کیوں توجہ کے قابل نہیں سمجھتے وہ اس لئے کہ اس تقریر میں قائد اعظم نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا رول ماڈل اور نمونہ یا اسوئہ حسنہ قرار دیا اور یہی وہ بات ہے جو ان آزاد خیال اور مذہب بیزار لوگوں کو پسند نہیں۔ گیارہ اگست کو قائد اعظم نے فقط یہ کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے اور یہ بات تو میثاقِ مدینہ کا حصہ ہے۔ دوم انہوں نے کہا کہ تمام شہریوں کو مذہبی آزادی حاصل ہو گی یعنی کس پر مذہبی جبر کیا جائے گا نہ مذہب تھونپا جائے گا تو اس میں سیکولر ازم کہاں سے آ گیا کیونکہ یہ اسلامی نظام کے بنیادی اصول ہیں۔ جب قائد اعظم ”ہماری جمہوریت کی بنیاد اسلام پر ہو گی“ کا تکرار کرتے تھے تو اس میں اس شخصی آزادی کا تصور موجود ہے جس کی ضمانت جمہوریت دیتی ہے۔ جب وہ قانون کی حکمرانی ، انسانی مساوات، سماجی و معاشی انصاف اور عدل کی بات کرتے تھے ، جاگیرداری ، سمگلنگ، ذخیرہ اندوزی ، اقربا پروری اور سفارش کے خاتمے کا وعدہ کرتے تھے تو ساتھ ہی یہ بھی کہتے تھے کہ یہ ہمارے دین اور مذہب کے سنہری اصول ہیں جبکہ سیکولر حضرات انہیں سیکولرازم کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ انہیں ہر اچھی چیز سیکولرازم میں اور ہر خطرہ مذہب میں نظر آتا ہے کیونکہ بدقسمتی سے ہمارا مذہب انتہا پسندوں، فرقہ واریت کے علمبرداروں اور مذہبی سوداگروں کی جولانگاہ بن گیا ہے جبکہ سمجھنے والے سمجھتے ہیں کہ یہ انتہا پسندی اور فرقہ واریت مذہب نہیں بلکہ سیاست کا شاخسانہ ہے ورنہ مذہب تو ان تمام عوامل کی نفی کرتا ہے۔۔
تاریخی حقیقت یہ ہے کہ قائد اعظم نے مسلمانان ہند و پاکستان سے اسلامی جمہوری ریاست کے قیام کا مینڈیٹ لیا تھا اور اسی منشور پر 1945-46 کے انتخابات جیتے تھے۔ اسلام ہی کے نام پر مسلمانوں نے اَن گنت قربانیاں دی تھیں اور عالمی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی تھی۔ قائد اعظم جیسا دیانتدار لیڈر اس مینڈیٹ سے کبھی بھی انحراف نہیں کر سکتا تھا۔ وہ مورخین جن کا کہنا ہے کہ قائد اعظم نے اسلام کا نعرہ لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے لگایا دراصل قائد اعظم پر بہتان لگاتے ہیں اور اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہیں کہ اگر قائد اعظم ایسا نہیں چاہتے تھے تو پھر قیام پاکستان کے بعد انہوں نے بارہ ماہ کی زندگی میں چودہ بار اسلام کو پاکستان کے نظام کی بنیاد کیوں قرار دیا؟ قیام پاکستان کے بعد زندگی کے آخری سال میں انہیں ایسی کونسی مجبوری تھی کہ انہوں نے شریعت کے نفاذ کا وعدہ کیا؟ ہمارے سیکولر دانشور شوشے چھوڑتے رہتے ہیں اور کنفیوژن پھیلاتے رہتے ہیں۔ یہ حضرات قرارداد مقاصد سے نہایت الرجک ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے مذہبی انتہا پسندی پیدا ہوئی ہے۔ پھر وہ اس صدمے سے بھی نڈھال ہیں کہ قرارداد مقاصد سے ڈر کر وفاقی ہندو وزیر منڈل ہندوستان بھا گ گیا تھا۔
ان کو قرارداد مقاصد اس لئے ناپسند ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اقتدار اعلیٰ کا اعلان کر کے یہ پیغام دیتی ہے کہ پاکستان میں مسلمانوں کو اپنی زندگیاں اسلام ، قرآن اور سنت سے اخذ کردہ اصولوں کے مطابق گزارنے کے مواقع فراہم کئے جائیں گے ۔ اگرچہ اس قرارداد میں اقلیتوں کو مذہبی و شہری حقوق کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن کیا کیجئے کہ سیکولر دانشوروں کو اسلام سے خوف آتا ہے اور وہ اس افسانے پر آنسو بہاتے ہیں کہ اس قرارداد کی وجہ سے منڈل ہندوستان چلا گیا۔ اس دور میں دونوں ملکوں کے شہریوں کو آنے جانے اور پسند کے مطابق سکونت اختیار کرنے کی آزادی تھی اس لئے منڈل اپنے پسندیدہ معاشرے میں چلا گیا جو اس کا حق تھا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہ قرارداد وزیر اعظم لیاقت علی خان نے 7مارچ 1949ء کو پیش کی جب منڈل وفاقی کابینہ میں وزیر تھے۔ اگر انہیں اعتراض تھا تو وہ استعفیٰ دے دیتے لیکن وہ ستمبر 1950 ء تک وفاقی کابینہ کے رکن رہے اور پھر راتوں رات ہندوستان چلے گئے۔ اگر انہیں قرارداد مقاصد کے خوف سے بھاگنا تھا تو وہ ڈیڑھ برس وزارت کے مزے کیوں لوٹتے رہے؟
ان حضرات کو اس شق سے خوف آتا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی زندگیاں اسلامی تقاضوں، قرآن اور سنت کے مطابق گزارنے کے لئے مواقع فراہم کئے جائیں گے لیکن اس سے فرار کیسے ممکن ہے کیونکہ پاکستان کے مسلمان عوام کے جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے یہ شق 1956ء کے آئین میں بھی موجود تھی اور 1973ء کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں بھی موجود ہے۔ بلکہ ایک قدم آگے جا کر موجودہ آئین کے پالیسی کے اصول نمبر 1 میں یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ مسلمانان پاکستان کی زندگیوں کو اسلامی ڈھانچے میں ڈھالنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے تاکہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں۔
ان دانشوروں کی یہ تحقیق بھی لاجواب ہے کہ قرارداد مقاصد نے پاکستان میں مذہبی انتہاپسندی کو جنم دیا ہے۔ اس وقت ہندوستان میں اکیس مذہبی انتہا پسند تنظیمیں ہندو ازم کے احیاء اور مسلمانوں کو ہندو مت میں واپس لانے کے لئے سرگرم ہیں۔ امریکی تھنک ٹینکس کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کو سب سے بڑا خطرہ مذہبی انتہا پسندی سے ہے۔ کیا ہندوستانی پارلیمنٹ نے قرارداد مقاصد پاس کی ہے؟ دانشوروں کے اسی گروہ نے یہ شوشہ بھی چھوڑا ہے کہ قائد اعظم نے جگن ناتھ آزاد سے ترانہٴ پاکستان لکھوایا۔ میں نے تحقیق سے ثابت کیا اور اسی جگہ لکھا تھا کہ یہ 2010ء کے سال کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ قائد اعظم نہ ہی جگن ناتھ آزاد کو جانتے تھے، نہ انہوں نے اس سے ترانہ لکھوایا اور نہ کبھی اس سے ملے۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ نہ میرا ذاتی مسئلہ ہے نہ میرا کوئی ایجنڈا ہے لیکن قائداعظم کے احترام کا تقاضا ہے کہ ان کے نظریات کو مسخ نہ کیا جائے اور جو بات انہوں نے سینکڑوں بار کہی اس پر اپنی خواہشات کا خول نہ چڑھایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ قائد اعظم پاکستان کو اسلامی جمہوری ریاست بنانا چاہتے تھے، انہوں نے اسی منشور پر عوامی حمایت حاصل کی اور حصول پاکستان کی جنگ لڑی لیکن دین سے خوفزدہ طبقہ قائد اعظم کے نام پر سیکولر پاکستان کا نعرہ لگا کر اپنی خواہشات کے گھوڑے دوڑا رہا ہے اور بابائے قوم پر بہتان لگا رہا ہے۔ اللہ انہیں ہدایت دے-

………………………………………………….

 محمد علی جناح کیسا پاکستان چاہتے تھے، اسلامی یا سیکولر؟

دوسرا پہلو ….

اکثر  یہ سوال اٹھایا جا تا ہے کہ محمد علی جناح کیسا پاکستان چاہتے تھے، اسلامی یا سیکولر؟ اس سوال پر پاکستانی قوم بدستور تقسیم ہے۔ چند مبصرین کے خیال میں جناح خود بھی اس بارے میں واضح نہیں تھے۔

پاکستان اسلام پسندوں اور لبرلز کے مابین شاید پہلے کبھی بھی اتنا منقسم نہیں تھا، جتنا کہ آج ہے۔ پاکستانی ریاست کیسی ہونی چاہئے؟ سیکولر یا اسلامی ؟

کیا پاکستان کے بانی محمد علی جناح، ایک اسلامی ریاست کا قیام چاہتے تھے یا مسلم اکثریت والا ایک ایسا ملک، جہاں دیگر اقلیتوں کو بھی برابری کے حقوق حاصل ہوں؟ دکھائی یوں دیتا ہے کہ پاکستانی باشندے برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے عشروں بعد بھی واضح نہیں ہیں کہ پاکستان کو کس طرح کا ہونا چاہیے ؟

پاکستان میں بہت سے لوگ، جو ملک میں طالبان طرز کا اسلامی نظام حکومت نہیں چاہتے، وہ بھی کسی حد تک یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ملک کو اسلامی قوانین کے تحت ہی چلایا جائے۔ یہ لوگ پاکستان میں اکثریت رکھتے ہیں اور ملک میں سیکولرازم اور مغربی طرز زندگی کے مخالف ہیں۔ پاکستانیوں کی اکثریت کا دعویٰ ہے کہ جناح اور ان کی آل انڈیا مسلم لیگ پارٹی خالصتاﹰایک مذہبی ریاست چاہتی تھی، ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک ایسا ملک، جہاں کا نظام شرعی ہو۔ پاکستانی حکمران بھی گزشتہ چھ دہائیوں سے اسی نظریے کی تائید کرتے آئے ہیں اور کسی نہ کسی طریقے سے اسی کا پرچار کیا جاتا رہا ہے۔

دوسری جانب ملکی سیکولر طبقے کو یقین ہے کہ پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے کا خیال ہی خطرناک ہے اور یہی نظریہ ملک میں کئی عسکری تنظمیوں کے قیام کی وجہ بنا ہے۔ ان کے مطابق جناح مغرب کے تعلیم یافتہ آزاد خیال انسان تھے اور غیر روادار اسلامی ریاست نہیں چاہتے تھے۔ پاکستان کا زیادہ تر لبرل طبقہ تعلیم یافتہ اور شہروں میں آباد ہے۔ اس طبقے کے مطابق ملک میں ان کے لیے جگہ ختم ہوتی جا رہی ہے اور وہ بڑھتی ہوئی اسلامییت پر فکر مند ہیں۔

پاکستان کو ایک جدید سیکولر یا پھر اسلامی ریاست ہونا چاہیے، یہ بحث گزشتہ چند برسوں سے تیز ہوتی جا رہی ہے۔ اسلامی اور سیکولر پاکستانی دونوں ہی طبقے اپنے خیالات کی حمایت میں جناح کی تقاریر اور تحریروں کے حوالہ دیتے ہیں۔

ابہام

کراچی میں ہیومینیٹیز کے پروفیسر، اسلامی تاریخ اور فلسفہ کے ماہر ایس نعمان الحق کے خیال میں جناح خود بھی اس معاملے میں بہت واضح نہیں تھے۔ وہ کہتے ہیں، ’’میرے خیال میں اس معاملے میں بہت ہی ابہام پایا جاتا ہے، یہ معاملہ واضح نہیں ہے۔ ان کے چند بیانات ایسے ہیں، جن سے بہت ہی واضح ہوتا ہے کہ وہ کس قسم کی ریاست چاہتے تھے جبکہ چند ایک واضح نہیں ہیں۔‘‘

نعمان الحق کا مزید کہنا تھا کہ لبرل طبقے کے ایسے دلائل کہ جناح ایک سیکولر پاکستان چاہتے تھے، زیادہ مضبوط نہیں ہیں، ’’ہندوستان سے علیحدہ ہونے کے فوری بعد جناح نے قانون سازوں سے اسلامی بینکاری نظام وضع کرنے کو کہا، اب آپ اس کو کیا سمجھیں گے؟‘‘ ان کے مطابق سیکولر بھارت کے برعکس معرض وجود میں آنے والی نئی ریاست پاکستان کی کچھ تو امتیازی خصوصیات ہونا تھیں۔ ان کے مطابق ’’جناح نے سوچا کہ یہ امتیازی پہلو مذہب ہی ہو سکتا ہے۔‘‘

نعمان الحق کے مطابق جناح کی ذاتی زندگی بہت ہی سیکولر تھی لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ان کے ذاتی رویوں کا اثر ان کی سیاست پر بھی تھا، ’’بعض لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ جناح نے اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں بہت کچھ کہا تھا لیکن اقلیتوں کے بارے میں بات کرنے کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ وہ ایک سیکولر ریاست چاہتے تھے۔‘‘

لیکن کراچی میں بائیں بازو کی سیاست کے لیے کام کرنے والے سرتاج خان جناح کے بارے میں بہت واضح ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’جناح کی سیاست سیکولر تھی۔ وہ مسلمان نسلی گروپوں کی نمائندگی کرتے تھے نہ کہ مذہب کی۔‘‘

کراچی کے صحافی عامر اسحاق سہروردی کا کہنا ہے کہ جناح یقینی طور پر ایسا پاکستان نہیں چاہتے تھے، جیسا کہ وقت کے ساتھ ساتھ اب یہ ملک بن چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے، ’’ یہ کہنا بہت ہی مشکل ہے کہ جناح ایک اسلامی یا پھر ایک سیکولر ریاست کا قیام چاہتے تھے۔ لیکن یہ ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ جناح ایک فلاحی ریاست چاہتے تھے۔ وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ ایک مخصوص عقیدے کا گروپ دوسروں پر غلبہ حاصل کرے۔‘‘

اکثر پاکستانیوں کے خیال میں جناح اور ان کی آل انڈیا مسلم لیگ پارٹی پاکستان کی صورت میں خالصتاﹰایک مذہبی ریاست چاہتی تھی، ایک ایسا ملک، جہاں کا نظام شرعی ہو.  سہروردی کے اس خیال سے شیعہ کارکن سید علی مجتبیٰ زیدی بھی اتفاق کرتے ہیں، ’’مجھے یقین ہے کہ جناح ایسی ریاست نہیں چاہتے تھے، جہاں اسلام کے نام پر شہریوں کو قتل اور مذہبی اقلیتوں کو تنگ کیا جائے۔‘‘

مذہبی شناخت

اسلام آباد میں مقیم فلمساز اور سماجی کارکن وجاہت ملک تو موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ وہ تقسیم ہند کو ’بیس ویں صدی کی سب سے بڑی غلطی‘ قرار دیتے ہیں۔  ایک انٹرویو میں اُنہوں نے کہا،’’تقسیمِ ہند سے مسلمانوں کو کیا فائدہ ہوا، سوائے اس کے کہ اب وہ تین ملکوں (بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش) میں بٹے ہوئے ہیں اور نسلی اور فرقہ ورانہ تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔‘‘

اسلام آباد ہی کی ایک صحافی ماورا باری کے خیال میں مذہب کی بنیاد پر بننے والے کسی ملک کو لازمی طور پر مسائل کا ہی سامنا کرنا پڑے گا۔  اُنہوں نے کہا،’’میں اگر ایک پاکستانی ہوں تو اس کا لازمی مطلب یہ نہیں ہے کہ میں مسلمان بھی ہوں۔ اسی طرح اگر کوئی مسلمان ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ زیادہ محب وطن بھی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ مذہبی نظریے نے پاکستانی شہریوں اور بالخصوص اقلتیوں کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔

لیکن صحافی سہروردی کے مطابق پاکستان کو اپنے زیادہ اہم مسائل کی طرف توجہ دینی چاہیے نہ کہ اس بحث میں وقت ضائع کیا جائے کہ تقسیم ہند کیوں ہوئی اور ملک کے بانی کیا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بہت سے بحرانوں کا سامنا ہے جبکہ تعلیم، معیشت اور قوم کی تعمیر پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ دیگر کے خیال میں پاکستان اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتا، جب تک ملک کے پورے نظریاتی فریم ورک پر نظر ثانی نہیں کی جاتی۔ [ http://www.dw.com/ur/a-18941607 ]

……………………………………………….

پاکستان کا پوٹينشل

پاکستان ميں25 سال سے کم عمر نوجوانوں کي تعداد تقريباً 10 کروڑ 30 لاکھ ہے جو ملکي آبادي کا 63فيصد بنتا ہے جس ميں57.7فيصد نوجوان پڑھے لکھے ہيں اور اس ميں لڑکوں کي شرح تقريباً 60فيصد اور لڑکيوں کي شرح 40فيصد ہے? 18ويں ترميم کے بعد نوجوانوں کي وزارت صوبوں کو منتقل کردي گئي ہے اور قومي يوتھ پاليسي کو ختم کرکے ہر صوبہ اپني اپني يوتھ پاليسياں بنارہا ہے? ميں نے دوران بحث نوجوانوں کو پاکستان کے پوٹينشل کے بارے ميں آگاہ کيا کہ اللہ تعالي? نے پاکستان کو دنيا کي تمام نعمتوں سے مالا مال کيا ہے ليکن افسوس کہ ہم ان سے فائدہ اٹھاکر ملک کو خطے کے دوسرے ممالک کي طرح اتني ترقي نہ دے سکے، آمروں نے ملک ميں جمہوريت کو پنپنے نہ ديا، قيام پاکستان کے بعد سے اب تک تقريباً 30 سال آمروں نے ملک پر حکمراني کي جس کي وجہ سے ملک ميں ادارے اور جمہوريت مستحکم نہ ہوسکے? ہمارا دوسرا الميہ ملک ميں وڈيرانہ اور جاگيردارانہ نظام ہے جبکہ انڈيا نے تقسيم ہند کے بعد اپنے وڈيرانہ اور جاگيردارانہ نظام کو ختم کرديا تھا? ان وڈيروں اور جاگيرداروں جن کا پاکستان کي پارليمنٹ ميں بڑا اثر و رسوخ پايا جاتا ہے نے ملکي ترقي کيلئے وہ قوانين بننے نہ ديئے جو معيشت کے موجودہ تقاضوں کيلئے ضروري تھے? ملک ميں دہشت گردي کے خلاف جنگ کي وجہ سے امن و امان کي ناقص صورتحال اور بجلي و گيس کے بحران نے بھي ملکي وسائل اور معاشي ترقي کو بري طرح متاثر کيا ہے?

اللہ تعالي? نے پاکستان کو معدني دولت سے مالا مال کيا ہے? پاکستان کا جغرافيائي محل وقوع دنيا ميں نہايت اسٹريٹجک ہے? 18 کروڑ سے زائد آبادي اور مسلم امہ کي واحد ايٹمي طاقت رکھنے والا ملک پاکستان ايشياء کا گيٹ وے ہونے کي وجہ سے وسطي ايشياء، ايران، انڈيا اور يورپ کے ممالک کو گيس پائپ لائن کے ذريعے صرف پاکستان کے راستے ہي پہنچائي جاسکتي ہے? دنيا کي 14 بلند ترين چوٹيوں ميں 5 چوٹياں پاکستان ميں ہيں جن ميں K-2، نانگا پربت، کوہ ہندوکش مشہور ہيں? اللہ تعالي? نے پاکستان کو چاروں موسم، زرخيز زمين اور محنت کش افرادي قوت عطا کي ہے? جيولوجيکل سروے کے مطابق ملک ميں 6 لاکھ مربع کلوميٹر کے رقبے ميں معدني ذخائر موجود ہيں جن ميں کوئلے، تانبے، سونے، قدرتي گيس، تيل، ماربل، قيمتي پتھر، گرنائيڈ، نمک اور چونے کے ذخائر قابل ذکر ہيں? سندھ کے علاقے تھر کے مقام پر دنيا کے تيسرے بڑے کوئلے کے175/ارب ٹن کے ذخائر پائے جاتے ہيں جو سعودي عرب اور ايران کے تيل کے مجموعي ذخائر سے زيادہ ہيں? ان کوئلے کے ذخائر سے آئندہ 200 سال تک ايک لاکھ ميگاواٹ بجلي سالانہ پيدا کي جاسکتي ہے ليکن ہم ان ذخائر کو نکال کر اپني توانائي کي ضروريات کو پورا کرنے کيلئے استعمال نہ کرسکے? يہ پاکستان کو تيل سپلائي کرنے والي بين الاقوامي کمپنيوں کي سازش تھي يا ہماري نااہلي? اسي طرح اللہ تعالي? نے ہميں2 ہزار ٹريلين کيوبک فٹ قدرتي گيس کے ذخائر عطا کئے ہيں جن ميں تيزي سے کمي ہورہي ہے کيونکہ ہم ان63 سالوں ميں متبادل توانائي حاصل نہ کرسکے? کان کن کمپني نے بتايا ہے کہ بلوچستان ميں ريکوڈک ميں سونے کے13 ملين اونس اور تانبے کے22/ارب پاؤنڈ کے ذخائر پائے جاتے ہيں جن کي مجموعي ماليت 500/ارب ڈالر ہے? TCC بلوچستان ميں ان ذخائر کي کان کني کيلئے 3.3/ارب ڈالر کي سرمايہ کاري کيلئے تيار ہے ليکن ريکوڈک کا يہ اہم منصوبہ تنازعات کي وجہ سے عدالت ميں زير التوا ہے? گزشتہ ہفتے صدر پاکستان سے ملاقات کيلئے اسلام آباد جاتے ہوئے ميري اس موضوع پر وفاقي وزير تجارت مخدوم امين فہيم اور بلوچستان کے سينيٹر سردار فتح حسني سے گفتگو ہوئي? ميں نے انہيں بتايا کہ اگر ريکوڈک کے مسئلے کو باہمي افہام و تفہيم سے حل نہ کيا گيا تو TCC اس کيس کو عالمي عدالت ميں لے جاسکتي ہے اور ريکوڈک معاہدے کے تحت ان کے اس پروجيکٹ پر آنے والے اخراجات کي مد ميں تقريباً ايک ارب ڈالر تک حکومت پاکستان کو ادا کرنے پڑيں گے? اس کے علاوہ معاہدے سے مکرنے کي صورت ميں بيروني سرمايہ کاروں کو پاکستان ميں سرمايہ کاري کيلئے ايک منفي پيغام ملے گا? حکومت کے پاس اپنے اتنے وسائل اور ٹيکنالوجي نہيں ہے کہ وہ اپنے طور پر اس منصوبے کو پايہ تکميل تک پہنچائے? يوتھ پارليمنٹ ليڈرشپ کانفرنس ميں صوبہ بلوچستان سے آئے ہوئے نوجوان طلباء و طالبات نے اس مسئلے پر ہونے والي بحث ميں نہايت دلچسپي سے حصہ ليا?ميں نے نوجوان طلباء و طالبات کو بتايا کہ پاکستان دنيا ميں گھي پيدا کرنے والا پہلا، چنے، خوردني نمک اور کاٹن يارن کي پيداوار ميں دوسرا، کپڑے کي پيداوار ميں تيسرا، کاٹن، چاول اور خوباني کي پيداوار ميں چوتھا، دودھ کي پيداوار ميں پانچواں، گندم اور کھجور کي پيداوار ميں چھٹا، آم کي پيداوار ميں ساتواں، کينو کي پيداوار ميں آٹھواں، حلال گوشت اور چيني کي پيداوار ميں نواں، سيمنٹ کي پيداوار ميں بارہواں بڑا ملک ہے? کھيلوں کي دنيا ميں بھي پاکستان کا ايک مقام ہے? پاکستان کي ٹيکسٹائل کي صنعت کا سفر زيرو سے شروع ہوا اور آج پاکستان نہ صرف 18 کروڑ عوام کو ہر طرح کي ٹيکسٹائل مصنوعات فراہم کررہا ہے بلکہ ملک کيلئے تقريباً 14/ارب ڈالر کا زرمبادلہ ٹيکسٹائل ايکسپورٹ سے حاصل کررہا ہے? دنيا کے تمام بڑے برانڈز پاکستان ميں مينوفيکچرز کئے جاتے ہيں اور اب ٹيکسٹائل سيکٹر ميں ہمارے حريف ممالک انڈيا اور چائنا بھي ہم سے ٹيکسٹائل مصنوعات جديد اور اچھي کوالٹي کے باعث خريد رہے ہيں? پاکستاني ڈاکٹرز، انجينئرز، بينکرز اور ديگر پروفيشنلز اور جفاکش محنتي مزدور بيروني ممالک ميں اپني پيشہ وارانہ خدمات ميں صف اول مانے جاتے ہيں? بيرون ملک مقيم پاکستاني ہر سال13/ارب ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ ترسيلات زر کي شکل ميں پاکستان بھيج رہے ہيں? پاکستان چين کے ساتھ مل کر جے ايف تھنڈر17 طيارے تيار کررہا ہے جو امريکيF-16 طيارے سے زيادہ جديد ٹيکنالوجي کے حامل ہيں? اسي طرح فرانس کے تعاون سے آگسٹا سب ميرين پاکستان ميں تيار کي جارہي ہے? پاکستان آرمي کے بنائے گئے الخالد ٹينک اور ميزائل دنيا بھر ميں بہترين دفاعي ساز و سامان مانے جاتے ہيں لہ?ذا پاکستان ميں بے انتہا پوٹينشل موجود ہے، ہميں ان وسائل کو ملکي ترقي کيلئے صحيح انداز ميں استعمال کرنے کي ضرورت ہے? يوتھ پارليمنٹ ليڈر شپ کانفرنس کا اختتام ملي نغموں اور ”پاکستان زندہ باد“ کے نعروں کے ساتھ ہونا اس بات کا ثبوت تھا کہ پاکستان کے نوجوان اپنے ملک پر اعتماد اور اس سے محبت کرتے ہيں اور کلمہ کي بنياد پر27رمضان المبارک ميں قائم ہونے والا يہ ملک جسے مسلمانوں نے بے شمار قربانياں دے کر قائداعظم کي رہنمائي ميں حاصل کيا، انشاء اللہ ہميشہ قائم و دائم رہے گا?

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=11442

 مزید

  1. دو قومی نظریہ – نظریہ پاکستان
  2. پاکستان- چلینجز اور راه حل 
  3. سپریم کون پارلیمنٹ , آیین ،عدالت یا  قرآن ؟ 
  4. پاکستان – مسائل کی دلدل اور ترقی کا راستہ 
  5. دین اسلام کے نفاذ کی اسٹریٹجی 
  6. دہشت گردی: قومی بیانیہ ’’پیغام پاکستان‘‘
  7. اسلامی ریاست میں تصور اقامتِ دین  
  8. اسلام، جمہوریت اور کفر: تحقیقی جائزہ
  9. جمہوریت اورخلافت : تحقیقی جائزہ   
  10. ولایت فقه
  11. پاکستانی ’نیم جمہوریت‘ اور دنیا میں جمہوریت پر کم ہوتا اعتماد 
  12. ووٹ کی شرعی حیثیت

More >>>>>

Why Pakistan? Short link: http://goo.gl/fpPe7

 

SalaamOneسلام  is a nonprofit e-Forum to promote peace among humanity, through understanding and tolerance of religions, cultures & other human values. The collection is available in the form of e-Books. articles, magazines, videos, posts at social media, blogs & video channels. .Explore the site English and Urdu sections at Index

علم اور افہام و تفہیم کے لئے ایک غیر منافع بخش ای فورم ہے. علم،انسانیت، مذہب، سائنس، سماج، ثقافت، اخلاقیات اورروحانیت امن کے لئے.اس فورم کو آفتاب خان،  آزاد محقق اور مصنف نے منظم کیا ہے. تحقیقی کام بلاگز، ویب سائٹ، سوشل میڈیا، میگزین، ویڈیو چننل اور برقی کتابوں کی صورت میں دستیاب ہے.اس  نیٹ ورک  کو اب تک لاکھوں افراد وزٹ کر چکے ہیں, مزید تفصیلات>>>  Page Index – Salaam One 

………………………………………………………………..

مزید پڑھیں: 

  1. مسلما نوں اور علماء کے نام کھلا خط : آج کے حالات میں مسلم معاشرہ نظریاتی  ابتری اور انحطاط کا شکار ہے. مادہ پرستی، دہشت گردی، عدم برداشت، اور جہالت انسانیت، امن اور مذھب کے لیے خطرہ بن چکے ہیں- ان حالات میں صاحب علم و ذی فہم حضرات سے ممکنہ حل کی توقع کی جا سکتی ہے. ہمارا مقصد ہے کہ آپ کی توجہ ضروری حل پذیر مسائل کی طرف مبذول کرنا ہے تاکہ جلد حل تلاش کیا جا سکے- آپ کی توجہ اور مدد سے ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ معاشرہ کو اس  گہری دلدل سے نکال سکیں. مکمل خط اس <<< لنک پر پڑھیں>>
  2. نظریاتی اور فکری کنفیوژن اور ممکنہ حل

  3. پاکستان کی دلدل اور امن اور ترقی کا راستہ
  4. علماء اور دور جدید
  5. خاموش انقلاب مگرکیسے؟
  6. ظالم فاسق فاجر حکمران – علماء اور مسلمانوں کا رویہ
  7. ووٹ کی شرعی حیثیت مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیع
  8. نقاب ، حجاب: قرآن , حدیث اور اجماع
  9. التكفير الإرهاب داعیش طالبان :http://takfiritaliban.blogspot.com
  10. عمر ضائع کردی
  11. خطبات اقبال – اسلام میں تفکر کا انداز جدید Reconstruction of Religious Thought in Islam-  http://goo.gl/lqxYuw

~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~  ~ ~ ~  ~

* * * * * * * * * * * * * * * * * * *