تصورِ اقامتِ دین Implementation of Islam in State

تصورِ اقامتِ دین پر چند اعتراضات؟

مسلمان اہل علم کا ایک  طبقہ اسلام کی جامعیت اور اجتماعی زندگی سے متعلق اس کی تعلیمات کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ لوگ مانتے ہیں کہ اسلام نے ریاست کا تصور بھی دیا ہے، ریاست کے لیے قوانین بھی تجویز کیے ہیں، اور یہ احکام، اسلام اور اسلامی شریعت کا جز ہیں۔ لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ: ’’ان احکام کا تعلق عام مسلمانوں سے نہیں ہے۔ اس کے مخاطب حکمران ہیں۔ اگرکسی کو حکومت او ر اختیار مل جائے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ قانون سازی اور ریاست کے انتظام و انصرام میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرے، لیکن عام مسلمان، جنھیں حکومت یا اقتدار حاصل نہیں ہے، وہ نہ ان احکام کے مخاطب ہیں اور نہ وہ اس کے مکلف ہیں کہ اسلامی شریعت کے ان احکام کی تعلیم، ترویج اور تنفیذ کے لیے کوئی اجتماعی جدوجہد کریں۔ ان کافریضہ بس ذاتی زندگیوں میں اور معاشرے (society) کے جن امور پر انھیں اختیار  حاصل ہے، انھی میں اللہ کے احکام کی تعمیل تک محدود ہے‘‘۔ 

اقامت دین کے تصورات پر بعض مسلم دانش وروں کی جانب سے کی جانے والی تنقید دوطرح کی ہے: ایک تو وہ لوگ ہیں جو سرے سے اس بات کے قائل ہی نہیں ہیں کہ مملکت کے سیاسی اُمور او ر اجتماعی معاملات میں اسلام بھی کوئی رہنمائی کرتا ہے یا اگر کرتا بھی ہے تو آج کے زمانے میں اس کی پیروی لاز م نہیں ہے۔ عصر حاضر کے سیکولر افکار سے متاثر یہ طبقہ سمجھتا ہے کہ: ’’اسلام سمیت تمام مذاہب کا دائرہ، افراد کی ذاتی زندگیوں تک محدود ہے۔ اجتماعی معاملات میں مذہب کی دخل اندازی فتنہ و فساد کا سبب بنتی ہے اور یہ مذہب کا دائرہ کا ر بھی نہیں ہے۔ اسلام کے  وہ احکام جن کا تعلق ریاست کے انتظام اور پالیسی سے یا قانون سازی سے ہے، وہ ایک مخصوص دور کی ضرورتوں کے لیے تھے۔ آج اُن تعلیمات سے روشنی تو حاصل کی جاسکتی ہے لیکن اُن کی ہوبہو پیروی نہ تو ممکن ہے اور نہ اس کی ضرورت ہے‘‘۔اس تحریر میں ہم اس اعتراض کو زیر بحث نہیں لائیں گے کہ یہ اعتراض علیحدہ سے تفصیلی تجزیہ چاہتا ہے۔ اس مکتب فکر کا ذکر ابتدا ہی میں   اس لیے کردیا کہ آگے کے مباحث میں اس کا حوالہ آئے گا۔ یہاں پر اقامت ِ دین کے حوالے سے  مولانا وحید الدین خان صاحب اور جناب جاوید احمد غامدی کے نقطۂ نظر کا خلاصہ پیش کرکے مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

 Implementation of Islamic Law in Modern Times:

The call for implementation of the sharî’a is as old as Islam itself, and is not a whim of the 1970s and 1980s. The implementation of sharî’a does not exist. This review essay shows that there are many possible views between the extreme position of full unconditional implementation of the sharî’a and complete rejection of it.

The views of the three Muslim Arab authors discussed in this essay are interesting for a number of reasons. They are the vanguard of Muslim « moderates » that dare to speak out in the vicious battle between opponents and proponents of implementation of sharî’a law. Their maxim is : Yes, the sharî’a should be applied, but on certain conditions. All three agree that implementation should take place not by revolution, but by an evolutionary process through legislation. Their main concern is that Islamic society benefits from this implementation. Implementation, therefore, should take place in a new adopted form. The authors also agree that the necessary changes in society cannot come about by legislation alone, but need to come from within society.

The conditions by which sharî’a law should be implemented is also an issue of contention between the authors. ‘Ashmâwî argues that sharî’a law is in effect already implemented in Egypt, since Egyptian law in most cases does not contradict sharî’a law. Jâbrî and Bishrî argue that sharî’a law still needs to be implemented, and both advocate the reopening of the doors of ijtihâd. But where Jâbrî advocates a liberal interpretation of sharî‘a rules based on the common interest of the community,Bishrî takes the conservative view that sharî’a rules are not to be altered. [Keep reading …..]

Link: 1http://www.al-mawrid.org  Link-2http://journals.openedition.org/ema/1542

Link-3: http://www.cssforum.com.pk/css-compulsory-subjects/islamiat/4193-implementation-islamic-law-modern-times.html

اقامتِ دین کا تصور
اس سے پہلے کہ ہم اس نقطۂ نظر کا جائزہ لیں، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اختصار کے ساتھ اقامت دین کے بارے میں تحریک اسلامی اور مولانا مودودی کے خیالات کا خلاصہ پیش کردیا جائے۔
جماعت اسلامی ہند کے دستور کی دفعہ ۴میںجماعت کا نصب العین اس طرح بیان کیا گیا ہے:’’جماعت اسلامی ہند کا نصب العین اقامت دین ہے، جس کا حقیقی محرک صرف رضاے الٰہی اور فلاح آخرت کا حصول ہے‘‘۔
اس نصب العین کی تشریح اس دفعہ میں اس طرح کی گئی ہے: ’’اقامتِ دین میں لفظ ’دین‘ سے مراد وہ دینِ حق ہے، جسے اللہ ربُّ العالمین اپنے تمام انبیا علیہم السلام کے ذریعے مختلف زمانوں اور مختلف ملکوں میں بھیجتا رہا ہے اور جسے آخری اور مکمل صورت میں تمام انسانوں کے لیے اپنے آخری نبی حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے نازل فرمایا، اور جو اَب دنیا میں ایک ہی مستند، محفوظ اور عنداللہ مقبول دین ہے اور جس کا نام ’اسلام‘ ہے۔ یہ دین انسان کے ظاہر و باطن اور اُس کی زندگی کے تمام انفرادی و اجتماعی گوشوں کو محیط ہے۔ عقائد، عبادات اور اخلاق سے لے کر معیشت، معاشرت اور سیاست تک انسانی زندگی کا کوئی ایک شعبہ بھی ایسا نہیں ہے، جو اس دائرے سے خارج ہو۔یہ دین جس طرح رضاے الٰہی اور فلاحِ آخرت کا ضامن ہے اسی طرح دنیوی مسائل کے موزوں حل کے لیے بہترین نظامِ زندگی بھی ہے، اور انفرادی و اجتماعی زندگی کی صالح اور ترقی پذیر تعمیر صرف اسی کے قیام سے ممکن ہے۔ اس دین کی اقامت کا مطلب یہ ہے کہ کسی تفریق و تقسیم کے بغیر اس پورے دین کی مخلصانہ پیروی کی جائے اور ہر طرف سے یکسو ہوکر کی جائے۔ اور انسانی زندگی کے انفرادی و اجتماعی تمام گوشوں میں اسے اس طرح جاری و نافذ کیا جائے کہ فرد کا اِرتقا، معاشرے کی تعمیر اور ریاست کی تشکیل سب کچھ اسی دین کے مطابق ہو‘‘۔۱
دستورِجماعت کی دفعہ ۵ اس نصب العین کے حصول کے لیے اختیار کیے جانے والے طریق کار سے بحث کرتی ہے۔اس کے درج ذیل جملے قابل توجہ ہیں:
جماعت اپنے تمام کاموں میں اخلاقی حدود کی پابند ہوگی اور کبھی ایسے ذرائع یا طریقے استعمال نہ کرے گی، جو صداقت و دیانت کے خلاف ہوں یا جن سے فرقہ وارانہ منافرت، طبقاتی کش مکش اور فساد فی الارض رُونما ہو۔جماعت اپنے نصب العین کے حصول کے لیے تعمیری اور پُرامن طریقے اختیار کرے گی ۔یعنی وہ تبلیغ و تلقین اور اشاعتِ افکار کے ذریعے ذہنوں اور سیرتوں کی اصلاح کرے گی اور اس طرح ملک کی اجتماعی زندگی میں مطلوبہ صالح انقلاب لانے کے لیے راے عامہ کی تربیت کرے گی۔۲
ان دفعات میں خاص طور پر درج ذیل باتیں قابل توجہ ہیں:
    ۱-     ’اقامت دین‘ کا مطلب صرف ریاست کی سطح پر اسلامی احکام کانفاذ نہیں ہے بلکہ پوری زندگی میں اسلام کی پیروی ہے۔ اس میں ریاست بھی شامل ہے اور اس کے ساتھ افراد کا اللہ سے تعلق،ان کے جذبات و داعیات، ان کی عبادات،ان کے اخلاق اور معاشرے سے متعلق تمام اُمور و معاملات بھی شامل ہیں۔
    ۲-     دین کا قیام یا زندگی کے تمام گوشوں میں اسے جاری و نافذ کرنے کا کام زور زبردستی کے ذریعے انجام نہیں پائے گا، بلکہ لوگوں کی ذہن سازی یا راے عامہ کی تربیت کے ذریعے انجام پائے گا۔
یہ باتیں اجتماعی کمٹ منٹ اور گہرے احساسِ ذمہ داری کے ساتھ جماعت کے دستور سے بھی واضح ہیں اور ساتھ ہی مولانا مودودی ؒکے افکار میں بھی بڑی وضاحت کے ساتھ ان باتوں کا اعادہ ملتا ہے۔مولانا مودودی ؒ کی تحریروں میںدرج ذیل قسم کی باتیں ہم کو کثرت سے ملتی ہیں:
٭حکومت کا نظام اجتماعی زندگی میں بڑی گہری جڑیں رکھتا ہے۔ جب تک اجتماعی زندگی میں تغیرو اقع نہ ہو، کسی مصنوعی تدبیر سے نظام حکومت میں کوئی مستقل تغیر پیدا نہیں کیا جاسکتا۔ عمر بن عبدالعزیز [م: ۷۲۰ء]جیسا فرماںروا جس کی پشت پر تابعین و تبع تابعین کی ایک بڑی جماعت بھی تھی، اس معاملے میں قطعی ناکام ہوچکا ہے، کیوںکہ سوسائٹی بحیثیت مجموعی اس اصلاح کے لیے تیار نہ تھی۔ ہندستان میں سلطان محمد بن تغلق [م: ۱۳۵۱ء]اور اورنگ زیب عالم گیر [م: ۱۷۰۷ء]جیسا  طاقت ور بادشاہ اپنی شخصی دین داری کے باوجود نظام حکومت میں کوئی تغیر نہ کرسکے۔  یہ اس وقت کاحال ہے جب ایک شخص کی طاقت بہت کچھ کر سکتی تھی۔ اسلامی انقلاب بھی صرف اسی صورت میں برپا ہوسکتا ہے، جب کہ ایک عمومی تحریک قرآنی نظریات و تصورات اور محمدی سیرت و کردار کی بنیاد پر اٹھے اور اجتماعی زندگی کی ساری ذ ہنی، اخلاقی،  نفسیاتی اور تہذیبی بنیادوں کو طاقت ور جدوجہد سے بدل ڈالے۔۳
٭میرا مشورہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ خواہ آپ کو بھوکا رہنا پڑے، گولیاں کھانی پڑیں، مگر صبر کے ساتھ، تحمل کے ساتھ، کھلم کھلا علانیہ طور پر اپنی اصلاحی تحریک کو قانون، ضابطے اور اخلاقی حدود کے اندر چلاتے رہیے۔۴
٭کوئی دوسرا نظام، مثلاً کمیونزم لوگوں پر زبردستی ٹھونسا جا سکتا ہے… لیکن اسلام اس قسم کا نظام نہیں ہے۔ وہ پہلے لوگوں کے دلوں میں ایمان پیدا کرنا ضروری سمجھتا ہے، کیونکہ ایمان کے بغیر لوگ خلوص کے ساتھ اس کے بتائے ہوئے راستوں پر نہیں چل سکتے۔ پھر وہ اپنے اصولوں کا فہم اور ان کے برحق ہونے پر اطمینان بھی عوام کے اندر ضروری حد تک اور خواص (خصوصاً کار فرمائوں) میں کافی حد تک پیدا کرنا لازم سمجھتا ہے، کیوںکہ اس کے بغیر اس کے اصول واحکام کی صحیح تنفیذ ممکن نہیں ہے۔ اس کے ساتھ وہ عوام وخواص کی ذہنیت، انداز فکر اور سیرت وکردار میں بھی اپنے مزاج کے مطابق تبدیلی لانے کا تقاضا کرتا ہے، کیوںکہ یہ نہ ہو تو اس کے پاکیزہ اور بلند پایہ اصول واحکام اپنی صحیح روح کے ساتھ نافذ نہیں ہوسکتے۔ یہ جتنی چیزیں میں نے بیان  کی ہیں، اسلامی نظام کو برپا کرنے کے لیے سب کی سب ضروری ہیں اور ان میں سے کوئی چیز بھی جبراً لوگوں کے دل ودماغ میں نہیں ٹھونسی جا سکتی۔ ۵
اسلامی تحریک کے کارکنوں کو میری نصیحت یہ ہے کہ انھیں خفیہ تحریکیں چلانے اور اسلحے کے ذریعے سے انقلاب برپا کرنے کی کوشش نہ کرنی چاہیے۔ یہ بھی دراصل بے صبری اور جلد بازی ہی کی ایک صورت ہے۔ ایک صحیح انقلاب ہمیشہ عوامی تحریک ہی کے ذریعے سے برپا ہوتا ہے۔ کھلے بندوں عام دعوت پھیلائیے۔ بڑے پیمانے پر اذہان اور افکار کی اصلاح کیجیے۔ لوگوں کے خیالات بدلیے۔ اخلاق سے دلوں کو مسخر کیجیے اور اس کوشش میں جو خطرات اور مصائب بھی پیش آئیں اُن کا مردانہ وار مقابلہ کیجیے۔ اس طرح بتدریج جو انقلاب برپا ہوگا وہ ایسا پایدار اور مستحکم ہوگا، جسے مخالف طاقتوں کے ہوائی طوفان محو نہ کرسکیں گے۔ جلد بازی سے کام لے کر مصنوعی طریقوں سے اگر کوئی انقلاب رُونما بھی ہوجائے تو جس راستے سے وہ آئے گا، اُسی راستے سے وہ مٹایا بھی جاسکے گا۔۶
یہ اقتباسات ہم نے اس لیے نقل کیے ہیں، تاکہ بحث کو آگے بڑھانے سے پہلے یہ واضح رہے کہ تحریک اسلامی اور مولانا مودودی  کے نزدیک’ اقامت دین‘ کا مطلب اور اس منزل تک پہنچنے کا راستہ کیا ہے؟ اقامت دین صرف حکومت کی تشکیل یا تبدیلی کا نام نہیں ہے۔ یہ افراد اور معاشرے کی ہمہ گیر اصلاح کا نام ہے۔ریاست کی تشکیل کا ہدف بھی یقیناً اس میں شامل ہے، لیکن اقامت دین کا تصور صرف ریاست کی اصلاح تک محدود نہیں ہے اور نہ یہ اقامت دین کا اصل ہدف ہے۔ اقامت دین کا جو تصور ان عبارتوں سے واضح ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ اسلام کی دعوت لوگوں کے سامنے پیش کی جائے گی۔ لوگ اس کے قائل ہوں گے، اور ان کے ذہن، اخلاق اور رویے اس دین سے ہم آہنگ ہوں گے، تو اس کے نتیجے میں مثالی اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے راہ ہموار ہوگی اور راے عامہ کی تربیت کے نتیجے میں ریاست بھی اسلامی رنگ اختیار کرے گی۔اقامت دین کا ہدف جب بھی حاصل ہوگا ،دعوت دین اور پُر امن طریقے سے راے عامہ کی تربیت کا نتیجہ ہوگا۔

’تعبیر کی غلطی‘کے اعتراضات
مولانا وحید الدین خان صاحب نے اس تصور اقامت دین پر جو اعتراضات کیے ہیں، ان کا خلاصہ درج ہے:۷
    ۱-     سورۂ شوریٰ کی آیت میں دین کا مطلب، دین کا وہ حصہ ہے جو تمام انبیاؑ کی دعوت میں مشترک ہے۔ اور یہ حصہ صرف توحید، رسالت اور آخرت، یعنی اسلام کے بنیادی عقائد تک محدود ہے۔ اسی کے قیام کا، یعنی اس کی پیروی اور اس کی دعوت کا یہاں حکم دیا گیا ہے۔۸
    ۲-     سورۂ صف کی آیت میں(اسی مضمون کی آیت سورۂ توبہ میں اور اس سے مماثل آیت  سورۂ فتح میں بھی آئی ہے) کوئی حکم یا ہدایت نہیں ہے بلکہ صرف خبر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے دین کو اپنے نبی کے ذریعے غالب کرے گا، یہ اللہ کے ارادے کا اظہار ہے۔ اس میں مومنین کے لیے کوئی حکم نہیں ہے۔۹
    ۳-    دین کا مقصد، بندے اور اللہ کے درمیان تعلق کو مضبوط کرنا ہے۔ یہی ایک مسلمان کا نصب العین ہے۔ ایک مسلمان کو دین پر عمل کرنا چاہیے اور دین کی دعوت پیش کرنی چاہیے۔ حکومت کی تبدیلی کے لیے جدوجہد اس کا کام نہیں ہے۔
مولانا وحید الدین خان صاحب یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ دین کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے لیکن ان کا اصرار یہ ہے کہ سورۂ شوریٰ کی اس آیت میں ، جس میں دین کو قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے، دین کا مطلب صرف ایمانیات ہے اور یہی معنی مفسرین نے لیے ہیں۔ہمارے خیال میں یہ بات صحیح نہیں ہے۔ جن مفسرین نے ایمانیات اور بنیادی باتوں کا ذکر کیا ہے، انھوں نے اس کے ساتھ طاعۃ اللہ فی اوامرہ و نواہیہ کو بھی دین کے مطلب میں شامل کیا ہے۔ اس میں دین کے تمام احکام آجاتے ہیں۔مفسرین کے تفصیلی حوالوں کا یہ مضمون متحمل نہیں ہے ۔مولانا رضی الاسلام ندوی نے اقامت دین اور نفاذِشریعت میں قتادہ، علامہ ابن العربی، زمخشری، قرطبی، خازن البغدادی، العمادی، آلوسی، بیضاوی، ابن کثیر ، رازی  وغیرہم کے اقتباسات نقل کیے ہیں۱۰، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات صحیح نہیں ہے کہ مفسرین یہاں دین کے معنی کو صرف عقائد و ایمانیات تک محدود رکھتے ہیں ۔ اس آیت میں الَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ (الرعد۱۳:۳۰) کا فقرہ بھی شامل ہے جس میں خود بخود وہ سارے احکام آجاتے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے۔ واقعہ یہ ہے کہ انبیاے کرام ؑ کی تعلیمات صرف عقائد اور ایمانیات ہی کے معاملے میں مشترک نہیں ہیں بلکہ ان کی دعوت کی روح بھی ایک ہی ہے۔ ان کی شریعتوں کی بنیادی باتیں بھی ایک ہی ہیں۔ اگر شرائع میں کچھ اختلاف ہے تو وہ جزوی اور فروعی باتوں میں ہے۔اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے اس کی وضاحت مولانا صدر الدین اصلاحی [۱۳نومبر ۱۹۱۶ء-۱۹۹۸ء]نے اس طرح کی ہے:
ان حضرات (یعنی مفسرین کرام ) کے نزدیک دین کی اصولی تعلیمات اور تمام انبیا ؑکے لائے ہوئے دینوں کی مشترک و متفق علیہ ہدایات الٰہی میں ایک اصولی تعلیم اور متفق علیہ ہدایت یہ بھی تھی کہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے سارے اوامر کی بجا آوری کرنی ہوگی اور اس کے تمام نواہی سے رکنا پڑے گا۔ اس جامع اصولی ہدایت کا عملی مفہوم کیا ہوگا اور اس کی عملی تعمیل کس شکل میں ہوسکے گی؟ یہ کوئی ایسا سوال نہیں جس کے جواب میں دو باتیں کہی جاسکیں۔ یہ جواب لازماً ایک ہی ہوگا اور وہ یہ کہ امت ان سارے احکام دین و شریعت کی مکمل پیروی کرے گی، جو اسے اس کے پیغمبر کے ذریعے دیے گئے ہوں۔ یعنی مسلمانوں کے لیے اس پوری شریعت کی پیروی اور اقامت اس آیت کی رُو سے واجب ہوگی، جو حضرت محمد ؐ کے ذریعے انھیں عطا ہوئی ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ  اس آیت میں دوسرے انبیا ؑ کے دینوں کا ذکر اسم موصول عام کے ذریعے کیا گیا ہے لیکن آںحضرت کے دین کا ذکر اسم موصول خاص (الذی) کے ذریعے کیا گیا ہے۔ ۱۱
یہی بات اس آیت سے سمجھ میں آتی ہے اور یہی عام طور پر اس کی تفسیر بھی کی گئی ہے۔ یہاں دین کو اورقیام دین کے حکم کو صرف عقائد و ایمانیات تک محدود کردینے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔
یہ کہنا کہ: ’’مومن کانصب العین رضاے الٰہی ہے اور قیام دین کی جدوجہد ، دین کا تقاضا تو ہوسکتا ہے نصب العین نہیں ہوسکتا‘‘، محض الفاظ اور طرز بیان کا فرق ہے۔ جماعت کے نصب العین کی جو عبارت ہم نے نقل کی ہے ، اس میں رضاے الٰہی اور فلاح آخرت کے حصول کو ’حقیقی محرک‘ کہا گیا ہے اور اس غرض کے لیے اجتماعی طور پر جس ہدف کی خاطر جدوجہدمطلوب ہے ، اُسے نصب العین کہا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اصل محرک اورحتمی ہدف تو رضاے الٰہی ہی ہے ۔ لیکن اللہ کی رضا   کا حصول ایک خاص قسم کی جدوجہد پر منحصر ہے۔ اس جدوجہد کا نشانہ اور ہدف اقامت دین ہی ہونا چاہیے۔ یہ بات بھی صرف دستور جماعت تک محدود نہیں ہے۔ مولانا مودودی اورجماعت کے پورے لٹریچر میں اس کا بار بار اعادہ کیا گیا ہے۔ اب اگر آپ رضاے الٰہی کے حصول کو نصب العین قراردیں اور اقامت دین کو اس کی ضرورت یا تقاضا کہیں تو الفاظ کی اس تبدیلی سے کوئی عملی فرق واقع نہیں ہوتا۔ اقامت دین اس صورت میں بھی ایک فریضے کے طور پر باقی رہتا ہے۔

مدیر ’اشراق‘ کے اعتراضات
    جناب جاوید احمدغامدی مدیر اشراق (لاہور) نے اس تصور پر تفصیلی تنقید اپنے مضمون ’تاویل کی غلطی‘ میں کی ہے، جو ان کی کتاب بُرہان میں شامل ہے۔ ۱۲  اس کے علاوہ انھوں نے اپنی کئی ویڈیوز پر مبنی تقاریر میں بھی اس مسئلے پر اظہارِ خیال کیا ہے،اور اپنے دیگر مضامین اور تفسیر میں بھی اس سے متعلق اشارے فرمائے ہیں۔ ان کی باتوں کا خلاصہ یہ ہے:
    ۱-     اقامت کا مطلب قائم کرنا یا نافذ کرنا نہیں ہے، بلکہ پیروی کرنا اور قائم رکھنا ہے۔ اس لیے سورۂ شوریٰ کی آیت میں صرف دین کی پیروی کا حکم ہے۔
    ۲-     غلبۂ دین کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا۔ اللہ کی سنت ہے کہ جب رسول مبعوث ہوتا ہے تو دین غالب ہوکر رہتا ہے۔یہ سنت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے پوری ہوگئی ۔ ا ب عام مسلمان ان آیات کے مخاطب نہیں ہیں۔
    ۳-     دین کے سیاسی اور اجتماعی احکام کے مخاطب حکمران ہیں اور وہی اس کے مکلف ہیں۔ عام مسلمانوں کا کام صرف اپنے دائرے میں دین پر عمل اور اس کی دعوت ہے۔
جاوید صاحب نے کلاسیکی عربی شاعری وغیرہ کے حوالوں سے تفصیلی بحث یہ ثابت کرنے کے لیے کی ہے کہ:’’اقیموا کے معنی قائم کرنا نہیں ہے بلکہ قائم رکھنا ہے‘‘۔ہمارا خیال یہ ہے کہ اقامت کا ترجمہ’ قائم کرنا‘ کیا جائے یا’ قائم رہنا‘ یا ’قائم رکھنا‘، اس سے اصل موضوع بحث پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ مولانا مودودی نے ترجمہ ’قائم کرنا‘ کیاہے لیکن تفہیم القرآن میں ’قائم رکھنا‘ اِس ترجمے کی گنجایش کو بھی تسلیم کیا ہے۔ دین قائم کرنا یا دین پر قائم رہنا، دونوں کا مطلب یہی ہے کہ   زندگی کے تمام شعبوں میں دین کی پیروی کی جائے۔ اس بات کو جاوید صاحب بھی تسلیم کرتے ہیں اور انھوں نے دین پر قائم رہنے کے معنوں میں قانون و شریعت اور جہاد و قتال وغیرہ سارے احکام شمار کیے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ان کا کہنا یہ ہے کہ: ’’اقیموا کا مطلب صرف دین کے اُس حصے پر عمل تک محدود ہے، جس کا تعلق ہماری ذات سے ہے، اور جن امور کا تعلق ہم سے نہیں ہے ان پر عمل کرانا یا انھیں نافذ کرنے کی جدوجہد کرنا اقیمواکے معنی میں شامل نہیں ہے‘‘۔یہ نقطۂ نظر مفسرین کے بیان کیے ہوئے مطالب سے مختلف ہے ۔
مولاناگوہر رحمٰن۱۳ اور مولانا رضی الاسلام ندوی۱۴ نے اپنی تحریروں میں اُن مفسرین کرام کے تفصیلی حوالوں سے بحث کی ہے، جن کے نزدیک اقیموا کے معنوں میں دوسروں پر دین کا نفاذ بھی شامل ہے۔ یہاں اگر جاوید صاحب کی یہ بات مان بھی لی جائے کہ: اقیموا  کے لغوی معنی صرف خود دین پر عمل کرنا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خود دین کا کیا مطلب ہے؟ کیا دین کے دائرے میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر، دعوت، جہاد ، اللہ کے دین کی نصرت، شہادت علی الناس وغیر ہ جیسے اُمور نہیں آتے، جن کی قرآن میں تسلسل سے تاکید کی گئی ہے؟ جب یہ سب احکامِ دین ہیں اور دین کا جز ہیں (اور جاوید صاحب بھی اسے تسلیم کرتے ہیں) تو اقیموا کے دونوں معنوں میں جو معنی بھی لیے جائیں ’اقامت دین ‘ کے اندر، یہ سب کام خود بخود شامل ہوجاتے ہیں۔ یعنی  اگر اقیموا  کا مطلب صرف یہ ہے کہ دین کے جو مطالبات میری ذات سے متعلق ہیں، ان کی تکمیل کی جائے تب بھی دعوت، جہاد، نصرت دین و غیرہ کے احکام میری ذات سے متعلق ہی ہیں۔ ان کی تعمیل تو اقامت دین کا تقاضا ہی ہوگا۔
واقعہ یہ ہے کہ اقامت دین کا حکم کسی ایک آیت تک محدود نہیں ہے۔ قرآن کی پوری اسکیم میں اسے مرکزی ذمہ داری کی حیثیت حاصل ہے۔ قرآن نے اس کام کو کئی اصطلاحوں میں بیان  کیا ہے۔ ’اظہارِ دین‘، ’قیامِ قسط‘، ’قیامِ عدل‘، ’شہادت علی الناس‘، ’امر بالمعروف ونہی عن المنکر‘، ’دعوتِ دین‘___ ان سب میں اقامت ِدین کا مفہوم پوشیدہ ہے۔ ان سب احکام کا تقاضا یہی ہے کہ دین پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ باقی انسانیت کو دین کی طرف بلانے، دین پر انھیں مطمئن کرنے اور معاشرے میں اللہ کے احکام کی ترویج و تنفیذ کی ممکنہ کوشش کی جائے۔ مولانا مودودی اور اسلامی تحریکیں انھی باتوں کو ’اقامت دین‘ قرار دیتی ہیں۔
جاوید صاحب قرآن کے بہت سے احکام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص کردیتے ہیں۔ حالاںکہ عام قاعدہ یہ ہے کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے جو احکامات دیے ہیں ،وہ تمام مسلمانوں کے لیے ہیں اِلّا یہ کہ نبی کریم ؐکے لیے ان کی تخصیص کی کوئی واضح دلیل ہو۔ اظہارِ دین والی آیات کے سلسلے میں بھی موصوف کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلے میں اللہ کے وعدے اور سنت کا ذکر ہے ۔ وہ یہاں المشرکون کا ترجمہ ’عرب کے مشرک‘ اور دین کلہ  کا ترجمہ ’عرب کے ادیان‘ کرتے ہیں۔ اس تخصیص کی بھی کوئی دلیل اس کے سوا نہیں دیتے کہ غلبۂ دین، رسولؐ کے سلسلے میں انبیا ؑکی سنت ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دین کا غلبہ مکمل فرمایا۔سورۂ صف کی اس آیت میں لِیُظہرہ کے الفاظ دلالت کررہے ہیں کہ یہاں اظہار دین کو نبی کے مشن اور مقصد کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔یہاں صرف اللہ کے ارادے کا ہی اظہار نہیں ہے بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن اور مقصد بعثت کا بھی اظہار ہے۔ صرف غلبۂ دین کے الٰہی ارادے کا اظہار مقصود ہوتا تو نبی کی بعثت کے ذکر اور اس کے بعد، اظہارِ دین کے ذکر کے ساتھ لامِ تعلیل (لِیُظہرہ) کی ضرورت نہیں تھی۔بے شک غلبۂ دین اللہ ہی کا منصوبہ ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے اس منصوبے کو نبی کے ذریعے مکمل کرنا چاہتا تھا ، اسی لیے اس نے نبی کو مبعوث کیا۔ اسی وجہ سے اسے نبی کا مشن کہا جاتا ہے۔اگر یہ نبی کا مشن اور اُن کا کام تھا تو نبی کے بعد آپؐ کی اُمّت کا کام کیوں نہیں ہوگا؟
جاوید صاحب، غلبۂ دین کی سنت الٰہی کا تذکرہ اس طرح کرتے ہیں کہ کہیں کہیں یوں محسوس ہوتا ہے گویا اللہ تعالیٰ اس سنت کی تکمیل اپنے تکوینی امر کے ذریعے کرتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں فرقہ جبریہ نے خدا کے تکوینی اور تشریعی احکام میں بڑا مغالطہ کیا تھا۔زیر بحث فکر میں یہی مغالطہ غلبۂ دین کی سنت کے معاملے میں محسوس ہوتا ہے۔ امرواقعہ یہ ہے کہ ان آیات میں اِرسال رسول کا ذکر واضح طور پر اس بات کی دلیل ہے کہ اظہار دین کی سنت الٰہی ،نبی کی جدوجہد کے ذریعے پوری ہوگی۔ نبی اللہ کی رہنمائی میں لیکن اپنے آزاد ارادے کے ساتھ اظہارِ دین کی جدوجہد کرتا ہے، فیصلے کرتا ہے، حکمت ِعملی بناتا ہے، جہا د کرتا ہے، معاہدے کرتا ہے، جہاں ضرورت ہو لڑتا ہے اور جہاں ضرورت ہو صلح کرتا ہے۔ دعوت، ہجرت اور جہاد کے مراحل سے گزرتا ہے۔ سیاسی حکمت عملی بناتا ہے اور اپنی تدبیروں سے ، خدا کی مشیت کے تحت اس کی سنت کی تکمیل کرتا ہے۔
اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو تمام مسلمانوں کے لیے نمونہ قرار دیا ہے۔ آپؐ کا کام اب اس امت کو جاری رکھنا ہے۔ غلبۂ دین کے مشن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص کردینے اور امت کو اس سے مستثنیٰ کردینے کے لیے کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہے خصوصاً اس لیے کہ دیگر اور نصوص ایسے موجود ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کا غلبہ بعد کے زمانوں میں بھی  اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔ قرآن مجید میں کہا گیا ہے:
 وَلَاتَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ  مُّؤْمِنِیْنَ (اٰل عمرٰن ۳:۱۳۹)، دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہوگے اگر تم مومن ہو۔
وَعَدَ   اللّٰہُ   الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْا  مِنْکُمْ   وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ   لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ  فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ   قَبْلِہِمْ ص  وَلَیُمَکِّنَنَّ  لَہُمْ  دِیْنَہُمُ  الَّذِی  ارْتَضٰی  لَہُمْ  وَ لَیُبَدِّلَنَّہُمْ  مِّنْم  بَعْدِ خَوْفِھِمْ  اَمْنًا  ، (النور ۲۴:۵۵) تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور اْنھوں نے اچھے عمل کیے ہیں، اْن سے اللہ کا وعدہ ہے کہ اْن کو وہ اِس سرزمین میں ضروراُسی طرح اقتدار عطا فرمائے گا، جس طرح اُن سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو اُس نے عطا فرمایا تھا اور اُن کے لیے اُن کے دین کو پوری طرح قائم کردے گا ۔
حدیث میں ہے: اَلْاِسْلَامُ یَعْلُوْ وَلَا یُعْلٰی عَلَیْہِ۱۵   ،یعنی اسلام دنیا میں غالب ہونے کے لیے آیا ہے، سرنگوں ہونے کے لیے نہیں۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں کتاب الامارۃ کے تحت ایک پورا باب باندھا ہے، جس کا عنوان ہے: لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ اُمَّتِیْ ظَاہِرِیْنَ عَلَی الْحَقِّ لَا یَضُرُّھُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ ۱۶   میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا اور اپنے مخالفوں پر غالب آئے گا۔اسی طرح کا ایک باب امام بخاری نے بخاری میں کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ میں باندھاہے ۔ان ابواب میں کئی حدیثیں بیان کی گئی ہیں، جن میں یہ کہا گیا ہے کہ اہل حق کا  ایک گروہ اسلام کے لیے جدوجہد کرتا رہے گا اور اسے غلبہ ملے گا۔ مثلاًمسلم میں حضرت معاویہؓ سے مروی ایک حدیث بیان کی گئی ہے:
مَنْ یُرِدِ اللہُ بِہٖ خَیْراً یُفَقِّہْہُ فِی الدِّیْنِ وَلَا تَـزَالُ عِصَابَۃٌ مِنْ الْمُسْلِمِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ عَلَی الْحَقِّ ظَاہِرِیْنَ عَلٰی مَنْ نَـاوَأَہُمْ اِلٰی یَـوْمِ الْقِیَامَۃِ ، ۱۷  جس شخص کی اللہ بھلائی چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ دیتا ہے اور ہمیشہ ایک جماعت مسلمانوں کی حق پر لڑتی رہے گی اور غالب آئے گی ان پر جو ان سے لڑیں قیامت تک۔

عقلی دلائل
اس مختصر مقالے میں تفصیلی شرعی دلائل کی گنجایش نہیں ہے۔ ضروری باتیں عرض کردی گئی ہیں۔ جو لوگ اور تفصیل سے مطالعہ کرنا چاہیں وہ اس موضوع پر لکھی گئی بعض اہم کتابوں کو دیکھ سکتے ہیں۔اب تک جن کتابوں کے حوالے آچکے ہیں ان کے علاوہ،خصوصاً مولانا احمد عروج قادری کی کتاب اقامت دین فرض ہے اور اُمت مسلمہ کا نصب العین  نیزمولانا صدر الدین اصلاحی کی کتاب فریضہ اقامتِ دین  اور مولانا سیّد جلال الدین عمری کی کتاب معروف و منکر  وغیرہ کا مطالعہ مفید ہوگا۔
اس موقعے پر اس موضوع کو عقل عام (Common Sense) کے پہلو سے بھی زیر بحث لاتے ہیں:
۱- دونوں معترض حضرات یہ بات مانتے ہیں کہ اسلام نے اجتماعی امور سے متعلق تفصیلی ہدایات دی ہیں۔ اور ان ہدایات کی تعمیل آج کے دور میں بھی ضروری ہے اور یہی انسان کی فلاح اور کامیابی کا خدائی نسخہ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اللہ نے اپنے بندوں کے لیے ایک اجتماعی نظام کو پسند کیا ہے، تو پھر آج بندوں کے درمیان اس کو متعارف کرانے، اور اسے جاری کرنے کا کیا انتظام ہے؟ ایک زمانے میں نفاذ کا یہ کام اللہ نے اپنے رسولؐ سے لیا تھا۔ اب اگر آج عام مسلمان اس کے نفاذ کی جدوجہد کے مکلف نہیں ہیں تو پھر یہ کام کس کے ذمہ ہے؟
یہ بات تو عقل عام کے خلاف ہے کہ اللہ نے انسانوں کے لیے ایک مکمل نظام زندگی نازل کیا، بڑی وضاحت کے ساتھ اس کی تفصیلات بتائیں، انھیں محفوظ رکھنے کا بھی انتظام کیا۔  ایک زمانے میں اپنے رسولؐ کے ذریعے اس کی تبلیغ و اشاعت اور اس کی تنفیذ کا بھی انتظام کیا ، لیکن بعد کے اَدوار میں انھیںانسانوں کے درمیان مقبول کرنے اور ا ن کے معاشروںمیں جاری و ساری کرنے کا کوئی انتظام ہی نہیں کیا۔یہ بات توکم از کم آج کے دور میں کوئی معقول آدمی نہیں کہہ سکتاکہ کوئی اجتماعی نظام زندگی صرف اس کے تعارف اور پیش کش کے ذریعے خود بخود نافذ ہوسکتا ہے۔اگر کوئی اس انتہائی سادہ لوح مفروضے پر یقین رکھتا ہے، تو آج کا سارا علمِ سیاسیات اور علمِ سماجیات اس کی تردید و تغلیط کے لیے موجود ہے۔ ہر نظریہ اور نظام اپنے نفاذ کے لیے انسانی جدوجہد چاہتا ہے، اور ایسی جدوجہد چاہتا ہے جو اجتماعی ہو اور مطلوب نظام زندگی کو ہدف بناکر کی جائے۔ اگر صرف نظریہ اور اصولوں کی موجودگی کافی ہوتی تو قرآن کا نزول کافی تھا، رسولؐ کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
انفرادی زندگی سے متعلق اسلامی احکام بھی انسانوں کی فلاح کے لیے ہیں اور یہی معاملہ اجتماعی زندگی سے متعلق احکام کابھی ہے۔جس طرح شرک اور جھوٹ ایک فرد کے لیے نقصان دہ ہے، اسی طرح سود اور قوم پرستی اور انسانوں کی غیر مشروط خود مختاری، یہ انسانی معاشروں کے لیے نقصان دہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اگر اپنے بندوں کی فوز و فلاح مقصود ہے ، اور صرف افراد کی نہیں بلکہ معاشروں کی اجتماعی فلاح بھی مقصود ہے، تو یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنے نازل کردہ ان اصولوں کی تنفیذ کا کوئی انتظام ہی نہ کرے، جو انسانوں کے لیے نہایت ضروری ہیں( ہم یہاں اس بحث کو نہیں چھیڑ رہے ہیں کہ افراد کی اصلاح کا بھی ایک بڑا پہلو سماجی اور معاشرتی اصلاح سے ہے)۔  اللہ تعالیٰ اپنے دین کی ترویج و تنفیذ کا کام انسانوں ہی سے لیتا ہے۔ اسی لیے قرآنِ مجید میں اللہ نے اپنے بندوں سے دین کی نصرت اوراللہ کا مددگار بننے کا حکم دیا ہے:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْٓا اِنْ  تَنْصُرُوا اللّٰہَ یَنْصُرْکُمْ  وَیُثَبِّتْ  اَقْدَامَکُمْ (محمد ۴۷:۷) اے ایمان والو، اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو وہ تمھاری مدد کرے گا اور تمھارے قدم جمادے گا۔
یٰٓاَیُّہَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْا  کُوْنُوْٓا  اَنْصَارَ اللّٰہِ ( الصف ۶۱: ۱۴)، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے مددگار بنو۔
اس کا مطلب اس کے سوااور کیا ہوسکتا ہے کہ دین کے معاملے میں منشاے الٰہی کی تکمیل کے لیے جدوجہد کی جائے۔اگر منشاے الٰہی یہ ہے کہ یہ دین زندگی کے تمام انفرادی و اجتماعی معاملے میں انسانوں کا رہنما بنے، تو اس منشا کی تکمیل کے لیے جدوجہد ہی دین کی نصرت قرار پائے گی۔ اسی جدوجہد کو اسلامی تحریکیں ’اقامت ِدین‘ کی جدوجہد کہتی ہیں۔
انسانی معاشروں میں ہمیشہ ایسی قوتیں کارفرما رہی ہیں، جو انسانی زندگی کی تنظیم گمراہ کُن شیطانی اصولوں اور نظریات کی بنیاد پر کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔ کیا یہ بات اللہ کی مشیت اور اس کی اسکیم کا حصہ ہوسکتی ہے کہ معاشرے میں قوم پرستانہ فسطائیت اور کمیونزم کی منظم تحریک جاری و ساری ہو، انتہاپسندانہ سرمایہ داری کے قیام و نفاذ کی منظم جدوجہد ہوتی رہے، نسائیت پرست اور ہم جنس پرست منظم ہوکر اپنے اپنے سیاسی و معاشی تصورات کے نفاذ کے لیے سرگرم رہیں، لیکن  اللہ کا مکمل دین اور انسانی فوز و فلاح کا حقیقی ضامن نظریۂ حیات صرف کتابوں میں بند رہے، یا ایسے حکمران کے انتظار میں راہ تکتا رہے، جو ا ن احکام کی تنفیذ کو اپنی ذمہ داری سمجھے؟ یہ بات بالکل عقلِ عام کے خلاف ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ انسانوں کے لیے کسی مخصوص نظریۂ حیات کو پسند کرتا ہے تو اس کا تقاضا ہے کہ وہ اس کی تنفیذ کے لیے جدوجہد کی ذمہ داری کسی نہ کسی کے سپرد کرے۔ یہ فطری بات ہے کہ یہ ذمہ داری انھی کے سپر د کی جائے گی، جو اس نظریے کے ماننے والے اور اس کے امین ہیں۔
۲- اگر اجتماعی امور میں احکامِ دین کے نفاذ کی ذمہ داری صرف حکمرانوں کی ہے، تب بھی کیا عام مسلمان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے پابند نہیں ہیں؟ اگر حکمران اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کررہے ہیں اور اللہ کے احکام سے علانیہ انحراف کررہے ہیں، تو کیا یہ مسلمانوں کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اس کی طرف اپنے حکمرانوں کو متوجہ کریں؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ لِلہِ وَ لِکِتَابِہٖ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِاَئِـمَّۃِ الْمُسْلِمِیْنَ وَ عَامَّتِھِمْ  ۱۸ ’’دین خیرخواہی کا نام ہے۔ خیر خواہی اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، مسلمانوں کے اماموں کے لیے اور عام مسلمانوں کے لیے‘‘۔
 ابو سعید خدری ؓکہتے ہیں کہ مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا اور نماز عید سے پہلے خطبہ شروع کر دیا ، تو ایک شخص نے کہا : مروان ! آپ نے سنت کے خلاف کیا۔ ایک تو آپ نے اس دن منبر نکالا حالاںکہ اس دن منبر نہیں نکالا جاتا۔ پھر آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کیا ، حالاںکہ نماز سے پہلے خطبہ نہیں ہوتا۔ ابو سعید خدری ؓ نے کہا : اس شخص نے تو اپنا وہ حق جو اس پر تھا ادا کردیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ’’تم میں سے جو شخص کوئی بات خلافِ شرع دیکھے، تو اگر اسے ہاتھ سے روکنے کی طاقت رکھتا ہو تو اسے ہاتھ سے روک دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اس کو دل سے بُرا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔۱۹  
ایک حدیث مبارکہ میں فرمایا گیا : سَتَکُوْنُ اُمَرَاءُ  فَتَعْرِفُوْنَ وَ تُنْکِرُوْنَ فَمَنْ عَرَفَ بَرِیَٔ وَمَنْ اَنْکَرَ سَلِمَ وَلٰکِنْ مَنْ رَضِیَ وَ تَـابَعَ  قَالُوْا اَفَلَا نُقَاتِلُہُمْ قَالَ لَا ، مَا صَلُّوْا ۲۰   ’’یعنی عنقریب ایسے حکمران ہوں گے جنھیں تم پہچانتے ہو گے اور ان کا  انکار کرو گے، پس جس کسی نے ان (کی حقیقت) پہچان لی وہ بری ہوگا، جس کسی نے برملا ان کا انکار کیا وہ تو سلامتی کے راستے پر ہوگا سواے اس کے جو ان پر راضی ہوگیا اور ان کی اطاعت کرنے لگا (یعنی نہ وہ بری ہے اور نہ سلامتی کے راستے پر)‘‘۔ صحابہؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! کیاایسے امرا کے خلاف ہمیں قتال نہیں کرلینا چاہیے؟ آپؐ نے فرمایا: جب تک وہ نماز ادا کرتے رہیں ایسا مت کرنا۔
 امام مسلم نے اپنی صحیح میں جہاں اس حدیث کا باب باندھا ہے، اس باب کا موضوع ہی رکھا ہے: باب وجوب الانکار علی الامراء فیما یخالف الشرع وترک قتالھم ما صلو ونحو ذٰلک (یعنی اس بات کا باب کہ اگر امرا شریعت کی خلاف ورزی کریں تو ان کی نکیر واجب ہے…)۔ گویاجو حکمران اللہ کے احکام کی کھلی نافرمانی کریں ، ان کے خلاف خروج اور قتال کے لیے تو کچھ اور شرائط ہیں، لیکن ان کی نکیر اور ان کو معروف کی تلقین اور اسلام کے نفاذ کے لیے ان کو آمادہ کرنا، یہ کام تو ہر حال میں اہل ایمان کو انجام دینا ہے۔
۳- آج کے زمانے میں ملکوں کے نظام اور قوانین کے لیے صرف حکمران ذمہ دار نہیں ہوتے، عوام بھی ذمہ دار ہوتے ہیں۔ دنیا کے بیش تر ملکوں میں تو جمہوری نظام ہیں۔جمہوری نظام کی تو تعریف ہی یہی ہے کہ وہاں قانونی طور پر عوام ہی اصل حکمران ہوتے ہیں۔ حکومت کے کام انھی کے منتخب نمایندے انجام دیتے ہیں۔ ملک کی قانون سازی اور پالیسی سازی عوامی رجحانات کے مطابق ہی ہوتی ہے۔ اس لیے اب تو یہ بحث بالکل غیر متعلق ہے کہ حکمرانی سے متعلق احکامِ دین کے مخاطب صرف حکمران ہیں، عوام نہیں ہیں۔ اب یہ بات ساری دنیا میں مسلمہ ہے کہ جمہوری حکومتوں میں جو پالیسیاں بھی بنتی ہیں، ان کے لیے عوام پوری طرح ذمہ دار ہیں۔عوام کے سامنے جواب دہ اور عوام کے ووٹ سے منتخب حکومت، اگر اللہ کے احکام کی کھلی خلاف ورزی کرتی ہے اور وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِـمَا اَنْزَلَ اللہُ کی تصویر بنی رہتی ہے، تو اس معاشرے میں رہنے والے مسلمان کیسے اس کی ذمہ داری سے بری ہوسکتے ہیں؟براء ت کی ایک ہی شکل ممکن ہے اور وہ یہ کہ وہ معاشرے کو اسلام کے نفاذ کے لیے تیار کرنے کی بساط بھر کوشش کرتے رہیں۔بلاشبہہ وہ کسی ایسے کام کے مکلف نہیں ہیں جو اُن کی طاقت اور استعدادسے باہر ہو لیکن جو کچھ ان کے بس میں ہے ، اُ س جدوجہد کی ذمہ داری سے وہ کیسے بری ہوسکتے ہیں؟ اسلام میں اجتماعی ذمہ داری کا تصور بھی پایا جاتاہے۔ ہم کو ایسے واضح نصوص بھی ملتے ہیں جن میں معاشرے کی اجتماعی خرابیوں کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے:
وَاتَّقُوْا  فِتْنَۃً  لَّا تُصِیْبَنَّ  الَّذِیْنَ  ظَلَمُوْا  مِنْکُمْ خَآصَّۃً ج  وَاعْلَمُوْٓا  اَنَّ  اللّٰہَ  شَدِیْدُ  الْعِقَابِO (الانفال ۸: ۲۵)،اور بچو اس فتنے سے جس کی شامت مخصوص  طور پر انھی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنھوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو۔ اور جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
جاوید صاحب خود اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں:
دنیا میں خدا کا قانون یہی ہے کہ بعض اوقات ایک گروہ کے جرائم کی سزا پوری قوم کو بھگتنا پڑتی ہے۔ یہ اْس سے متنبہ فرمایا ہے کہ اپنے رویے کی اصلاح کر لو، ورنہ اندیشہ ہے کہ اُس طرح کے کسی فتنے میں مبتلا ہو جاؤ گے جو پوری جماعت، بلکہ آیندہ نسلوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا کرتا ہے۔ اللہ کے دین میں اِسی بنا پر لوگوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ دوسروں کو بھی بھلائی کی تلقین کریں اور برائی سے روکیں۔۲۱
حدیث میں آیا ہے:
مَا مِنْ قَوْمٍ یعْمَلُ فِیھمْ بِالْمَعَاصِي فَلَمْ یُغَیِّرُوا إِلا أَوْشَکَ أَن یَعُمَّھُمُ اللَّہُ بِعِقَابٍ ۲۲   اگر کسی قوم میں گناہ کے کام کیے جاتے ہوں اور ان کاموں کو روکنے کی کوئی کوشش نہ کی جائے تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو عذاب میں گرفتار کرلے۔
۴- کسی نظریے پر پختہ ایمان کا لازمی تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اس کے نفاذ کے لیے جدوجہد کی جائے کہ یہی انسانی  فطرت ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اسلام کے اجتماعی احکام پر عمل ضروری نہیں ہے( اس مکتب فکر کا ہم نے ابتدا میں ذکر کیا تھا) تو اس کا معاملہ مختلف ہے۔ لیکن اگر کسی کا یہ ایمان ہے کہ اسلام سیاست سمیت زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کرتا ہے، اور یہ رہنمائی ہی انسانوں کی فوزو فلاح کی واحد ضامن ہے، تو اس کے بعد، اس نظریے کے نفاذ کا خواب دیکھنا اور اس کے لیے ممکنہ جدوجہد کرنا خود بخود اس کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔
زندگی کے مشن اور نصب العین کا گہرا تعلق اعتقاد (Belief )سے ہوتا ہے۔ ہر مشن اور  نصب العین کسی اعتقاد کی پیداوار ہوتا ہے اور ہر پختہ عقیدہ کسی نہ کسی نصب العین کو لازماً جنم دیتا ہے۔اعتقاد اور زندگی کے مشن (Life Mission) کے درمیان یہ گہرا تعلق آج علم انتظامیات، سماجی نفسیات ، سماجیات وغیرہ علوم کا مسلمہ اصول ہے۔ان سب علوم میں یہ بحثیں موجود ہیں کہ آدمی اپنے بارے میں اور دیگر انسانوں اور کائنات کے بارے میں جو نقطۂ نظر یا اعتقاد رکھتا ہے اور  جن قدروں (Values) اور اصولو ں کو اپنے لیے اور دیگر انسانوں کے لیے درست اور صحیح سمجھتا ہے، اسی نظامِ اقدار سے اس کی زندگی کا مشن تشکیل پاتا ہے۔ کسی بھی میدان میں تبدیلی کی ضرورت پر پختہ یقین آدمی کو اس تبدیلی کی تحریک چلانے پر مجبور کرتا ہے۔اس لیے، اقامت دین کا نصب العین اس عقیدے کا لازمی نتیجہ ہے کہ اسلام اللہ کا دین ہے اور اسی میں انسانوں کی نجات ہے۔ عقلی اعتبار سے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ آدمی کا عقیدہ تو اسلام میں ہو، لیکن اسلام کا قیام اس کا نصب العین نہ بنے۔
اگر آج میں کینسر کی ایک نئی دوا ایجاد کرلو ں او ر میرے اندر یہ مستحکم یقین پیدا ہوجائے کہ اس دوا سے کینسر کا ہر مریض لازماً شفا پالے گا اور یہ کہ اس انمول دوا کی ترویج اس وقت عالم انسانیت کی ایک بڑی ضرورت ہے، تو اس عقیدے کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ اس دوا کی ترویج، اور ملک کے نظامِ صحت میں اس کی قبولیت میرا نصب العین بن جائے گا۔اگر اس دوا کے کارگر ہونے پر کامل یقین کے باوجود میں اسے لے کر گھر میں بیٹھا رہوں، تو میری یہ خاموشی انسانیت کے خلاف ہی تصور کی جائے گی اور میرے ضمیر بلکہ میری انسانی فطرت کے خلاف ہوگی۔ مختلف ازم کے علَم بردار اپنے اپنے نظریات کے قیام و نفاذ کے لیے اس بات کے محتاج نہیں ہیں کہ ان کی کتابوں کی عبارتوں کی لغات کے ذریعے تشریح کرکے بتایا جائے کہ اس کا قیام و نفاذ تمھاری ذمہ داری ہے۔ ان اصولوں کی صحت پر یقین اور اُن کے انسانوں کے لیے مفید اور موزوں ہونے پر یقین بذاتِ خود اس بات کے لیے کافی تصور  کیا جاتا ہے کہ وہ ان کے نفاذ کو اپنی زندگی کا نصب العین قرار دے دیں۔
یقیناً اسلام نے یہ اصول دیا ہے کہ نفاذکا یہ کام زور زبردستی کے ساتھ نہیں ہوگا۔ میں کینسر کی دوا بھی کسی مریض کو بندوق کی نوک پر نہیں پلائوں گا۔ ڈاکٹروں کو بھی اس کی اجازت نہیں ہوتی۔میں دوسروں کا یہ حق بھی تسلیم کروں گا کہ اگر کوئی اس دوا کو مؤثر نہیں سمجھتا ہے یا نقصان دہ سمجھتا ہے تو وہ بھی اپنی بات لوگوں کے سامنے پیش کرے، لیکن میں آخری کوشش اس مقصد کے لیے ضرور کروں گا کہ لوگ اس کی افادیت کے قائل ہوجائیں، اس کے حق میں راے عامہ بن جائے اور اس کی تنفیذ ممکن ہوجائے۔ بالکل یہی کام مجھے اسلام کے سلسلے میں بھی کرنا ہے۔

(بشکریہ : سیّد سعادت اللہ حسینی، ترجمان القرآن )

حواشی وحوالہ جات
۱-      دستور جماعت اسلامی ہند، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، دہلی، مئی ۲۰۱۶، ص۷
۲-    ایضاً، ص۸
۳-    سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، تحریک آزادی ہند اور مسلمان، دوم، لاہور، ص۱۷۵-۱۷۶
۴-    سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، تصریحات(مرتبہ: سلیم منصور خالد)، لاہور ص ۲۵۷- ۲۵۸
۵-    ایضاً ،ص ۳۲۰ تا ۳۲۲
۶-    سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، ،تفہیمات، سوم ، اسلامک پبلی کیشنز، لاہور، ستمبر ۱۹۶۴ء، ص۱۶۲-۱۶۳
۷-    تعبیر کی غلطی،مولانا وحید الدین خان ، مکتبہ الرسالہ ، نئی دہلی، تیسراایڈیشن، اکتوبر ۱۹۸۶
۸-    سورۂ شوریٰ کی آیت ۴۲:۱۳ کی طرف اشارہ ہے: شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ  نُوْحًا  وَّالَّذِیْٓ  اَوْحَیْنَآ  اِلَیْکَ  وَمَا  وَصَّیْنَا  بِہٖٓ اِبْرٰھِیْمَ وَ مُوْسٰی وَعِیْسٰیٓ اَنْ  اَقِیْمُواالدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ ط (اُس نے تمھارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اْس نے نوحؑ کو دیا تھا، اور جسے (اے محمدؐ!) اب تمھاری طرف ہم نے وحی کے ذریعے سے بھیجا ہے، اور جس کی ہدایت ہم ابراہیمؑ، موسٰی اور عیسیٰؑ کو دے چکے ہیں، اِس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اِس دین کو اور اْس میں متفرق نہ ہو جاؤ۔[ترجمہ مولانا مودودیؒ])
۹-    سورۂ صف کی آیت۶۱:۹ کی طرف اشارہ ہے: ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْکَرِہَ الْمُشْرِکُوْن (وہی تو ہے جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کر دے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو [ترجمہ مولانا مودودیؒ])۔ یہی بات سورۂ توبہ کی آیت ۳۳ میں بھی کہی گئی ہے اور اس سے مشابہ مضمون سورۂ فتح کی آیت ۲۸ میں بھی آیا ہے: ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ط وَکَفٰی بِاللہِ شَھِیْدًا ( وہی تو ہے جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کر دے اور اس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے)۔
۱۰-    ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی، اقامت دین اور نفاذ شریعت، نئی دہلی، مئی ۲۰۱۲ء، ص۱۰ تا ۱۸
۱۱-    مولانا صدر الدین اصلاحی، ’ خط مولانا صدر الدین ، ماہنامہ تجلّی، دیوبند ، فروری و مارچ ۱۹۶۵ء، ص۵۱
۱۲-    جاوید احمد غامدی، تاویل کی غلطی ، مجموعہ مقالات بُرہان، المورد ، لاہور، ۲۰۱۰ء، ص ۱۶۹ تا ۱۸۰
۱۳-    مولانا گوہر رحمٰن ، تفہیم المسائل، جلد پنجم، مکتبہ مدرسہ تفہیم القرآن، مردان، ۲۰۰۰ء،ص ۳۶۷ تا ۴۰۹
۱۴-    ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی، اقامت دین اور نفاذ شریعت، ص۲۷تا ۳۱
۱۵-    بیہقی ،  دارقطنی، البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
۱۶-    مسلم، کتاب الامارۃ، حدیث: ۳۶۳۶
۱۷-    مسلم، کتاب الامارۃ، حدیث: ۳۶۴۱
۱۸-    صحیح مسلم ، کتاب الایمان، باب الدین النصیحہ، رواہ تمیم الداری، حدیث: ۱۰۷
۱۹-    سنن ابن ماجہ، باب امر بالمعروف و نہی عن المنکر، رواہ ابو سعید الخدریؓ۔
۲۰-    صحیح مسلم ، کتاب الامارۃ، روایت اُمِ سلمہؓ
۲۱-    جاوید احمد غامدی، البیان ، تفسیر سورۂ انفال آیت ۲۵
۲۲-    ابن ماجہ  ۱۳/۱۲، نمبر ۳۹۹۹، مسند احمد ۱۹۵/۳۹، البانی نے اسے حسن قراردیا ہے۔
۲۳-    سورۂ نور ، آیت ۵۵، ترجمہ جاوید احمد غامدی

http://salaamone.com/democracy-caliphate-ur/