National Narrative Against Terrorism دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘

دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ ’’پیغام پاکستان‘‘ کے متفقہ فتویٰ پر ۹۲۸۱ علماء نے دستخط کیے اور اس بات پر اتفاق کیا کہ:
  1.   پاکستان میں نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال ،
  2. ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی اسلامی شریعت کی رُو سے ممنوع ہے
  3. خود کش حملے حرام ہیں  
  4. جبکہ ان کے مرتکب اسلام کی رُو سے باغی ہیں
  5. پاکستان کی حکومت یا افواج کے خلاف مسلح کاروائیاں بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں اور یہ شرعاً بالکل حرام ہیں۔
 National narrative on extremism, terrorism launched:
In an important development implying the entire nation is on the same page to confront the security challenges, the government Tuesday launched the first ever national narrative on extremism and terrorism. A ceremony to this effect was held at Aiwan-e-Sadr and attended amongst others by religious scholars of all schools of thought, parliamentarians, educationists and other segments of the society. Titled ‘Paigham Pakistan’, the document envisages Fatwa against militancy duly endorsed by religious scholars of all schools of thought. Under the auspices of International Islamic University, the document has been prepared after consultations amongst different segments of the society including religious scholars, parliamentarians, intellectuals and policy makers. The narrative declares armed struggle against the country, its government or armed forces illegal. The document acknowledges that it is the responsibility of the government to fully implement Islamic provisions of the constitution. However, taking up arms to achieve this purpose amounts to Fasaad fil Arz. Quoting verses of holy Quran and Hadith, the document says suicide is unacceptable in Islam and a grave sin. Supporting such attacks has also been declared like supporting a collection of sins. Rejecting terrorism and extremism in all its forms and manifestations, It says that those involved in activities against the government in the name of implementation of Shariah are in fact committing high treason against an Islamic state as per the Islamic injunctions. The document fully supports the anti terror operations against the terrorist elements … [ Keep reading >>>>]
خود کش حملے اورنفاذ شریعت کے نام پر ریاست کے خلاف مسلح تصادم حرام ہی؛علماء کا فتویٰ طاقت کے بل بوتے پر اپنے نظریات دوسروں پر مسلط کرنا فساد فی الارض ہے، جہاد صرف ریاست کا اختیار ہے، فتویٰ انتہا پسندی، تشدد، فرقہ پرستی اور لسانی تعصبات جیسے عوامل کا قلع قمع ضروری ہے- بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے ادارہ تحقیقات اسلامی کی کاوشوں سے یہ بیانیہ فتوی کی شکل میں جاری ہوا-
جاری متفقہ فتوی و اعلامیہ میں کہا گیا کہ طاقت کے بل بوتے پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنافساد فی الارض کے مترادف ہے اور دینی شعائر اور نعروں کو نجی عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنا قرآن و سنت کی رو سے درست نہیں۔ ’’ پیغام پاکستان‘‘ کی دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہادکا وہ پہلو جس میں جنگ و قتال شامل ہیں ، اس کو شروع کرنے کا اختیار صرف اسلامی ریاست کا ہے اور سرزمین پاکستان اللہ تعالیٰ کی مقدس امانت ہے جسے کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں۔
علماء و مفتیان دین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ اسلامی ریاست میں پر امن طریقے سے رہنے والے غیر مسلموں کو قتل کرنا جائز نہیں بلکہ گناہ کبیرہ ہے اور اسلام کی رُو سے خواتین کا احترام اور ان کے حقوق کی پاسداری مردوں کے لیے لازم ہے ۔ متفقہ فتوی میں یہ بھی درج ہے کہ مسلح بغاوت میں شرکت یا اس کی حمایت نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی کھلی نا فرمانی ہے۔
مفقہ فتویٰ و اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مختلف مسالک کا نظریاتی اختلاف ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن اس اختلاف کو علمی اور نظریاتی حدود میں رکھنا واجب ہے۔ متفقہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علماء مشائخ سمیت تمام طبقات ریاست اور افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس ضمن میں پوری قوم ان سے غیرمشروط تعاون کا اعلان کرتی ہے۔
دستاویز میں درج ہے کہ پر امن بقائے باہمی کا فروغ ، پر امن معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے، اس لیے اسلام کے اصولوں کے مطابق جمہوریت ، مساوات، برداشت اور امن و انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل ضروری ہے ۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے غیر مسلم شہری اپنے تہواروں اور اپنی عبادت گاہوں میں اپنے مذاہب کے مطابق عبادت کرنے کا پورا اختیار رکھتے ہیں ۔
اسلامی تعلیمات اور آئین پاکستان کی روشنی میں تشکیل کردہ یہ قومی بیانیہ ہمیں قومی تعمیر کے مراحل تیز رفتاری سے طے کرنے میں مدد دے گا۔
انتہا پسندی، تشدد، فرقہ پرستی اور لسانی تعصبات جیسے عوامل قوم کو تقسیم کر رہے ہیں جن کا قلع قمع کرنا ضروری ہے۔
وحدت فکر کے ذریعے ہی وحدت عمل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور اسلامی یونیورسٹی و ادارہ تحقیقات اسلامی اس عظیم فریضہ پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔
 تخریبی فکر کا مقابلہ کرنے کے لیے تعمیری فکر اور دینی بیانیہ کی ضرورت ہے۔
اس بیانیہ کی بھرپور تشہیر کی جائے گی تا کہ یہ ملک کے چپے چپے اور پوری دنیا تک پہنچ جائے۔ قومی بیانیہ کی ترویج اشاعت میں پاکستانی سفارتخانے اہم کردار ادا کریں گے۔
 دہشت گردی کے خلاف ملک کے تمام طبقات متحد ہیں ۔  دہشت گردی اور اسلام میں تضاد ہے کیوں کہ اسلام عمل کا دین ہے اور دہشت گردی تباہی کی طرف لے کر جاتی ہے۔
پوری قوم سول اور ملٹری اداروں کی پشت پر کھڑی ہے تا کہ دہشت گردی کے عفریت سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔
امن و استحکام کے بغیر ترقی نا ممکن ہے اور دوسروں پر سازشوں کے الزامات لگانے کے بجائے ہمیں خود احتسابی کو اپنانا ہو گا۔
’ پیغام پاکستان‘‘ کی تشکیل اور رونمائی ایک تاریخی عمل ہے جس سے پوری دنیا کو یہ پیغام ملا ہے کہ پاکستانی قوم دہشت گری کو ختم کرنے کے لیے متحد ہے۔
سزا دینے اور کسی بھی قوت کے خلاف اعلان جنگ کرنے کا اختیار صرف اور صرف ریاست کا حق ہے۔
متشدد سوچ اور دہشت گردی کے خلاف اس بیانیہ کی اشد ضرورت تھی لیکن اس ضمن میں عملی اقدامات کا کردار کلیدی ہے۔  پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اوراس بیانیے کو ملک سمیت دنیا بھر کے کونے کونے تک پہنچایا جانا چاہیے۔
اس موقع پر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ریکٹر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ صدر پاکستان نے قومی ضرورتوں کی بنیاد پر اسلامی یونیورسٹی کو ادارہ تحقیقات اسلامی کے ذریعے مذہبی، سماجی اور سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ملکر قومی بیانیہ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی جسے جامعہ نے پایہ تکمیل تک پہنچا دیا ہے۔
اپنی تقریر میں انہوں نے ’’ پیغام پاکستان‘‘ کے اہم نکات کا ذکر کیا اور کہا کہ قومی استحکام اور ترقی کے لیے اس بیانیہ کی تشکیل ایک مسلسل عمل ہے جو قومی تقاضوں کی بنیا د پر آگے بڑھتا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ پیغام پاکستان‘‘ کی ترویج و اشاعت کے لیے تفصیلی منصوبہ بندی کی گئی ہے اس ضمن میں’’دختران وطن‘‘،’’ بین المسالک ہم آہنگی‘‘، ’’بھائی چارہ ‘‘، ’’بین المسالک مکالمہ ‘‘جیسے پراجیکٹ شروع کیے جا رہے ہیں۔
عالمی برادری کو یہ باور کراناچاہتے ہیں کہ پاکستان پر امن ملک ہے اور اس کے امن کو سبو تاژ کرنے والوں کی قبیح سازشیں کبھی بھی کامیاب نہیں ہونے دی جائیں گی۔
بین المذاہب مکالمہ عصر ِحاضر کی اہم ضرورت ہے۔ قبل ازیں ادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈائریکٹر جنرل، ڈاکٹر محمد ضیاء الحق نے ’’پیغام پاکستان‘‘ کی تشکیل کے مراحل اور اس ضمن میں ادارے کے ساتھ تعاون کرنے والے افراد و دیگر اداروں کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔