دو اسلام – ڈاکٹر غلام جیلانی برق

میں مسلسل چودہ برس تک   حصول علم کے لئے مختلف علماء و صوفیا کے ہاں رہا۔ درس نظامی کی تکمیل کی۔ سینکڑوں واعظین کے وعظ سنے۔ بیسیوں دینی کتابیں پڑھیں, ڈاکٹر غلام جیلانی برق لکھتے ہیں کہ  بالآخر مجھے یقین ہو گیا کہ اسلام رائج کا ما حاصل یہ ہے:
1۔ فرائض خمسہ یعنی توحید کا اقرار اور صلٰوۃ ، زکوٰۃ، صوم اور حج کی بجا آوری۔
2۔ اذان کے بعد ادب سے کلمہ شریف پڑھنا۔
3۔ مختلف رسوم مثلاً جمعرات، چہلم، گیارہویں وغیرہ کو باقاعدگی سے ادا کرنا۔
4۔ قرآن کی عبارت پڑھنا۔
5۔ اللہ کے ذکر کو سب سے بڑا عمل سمجھنا۔
6۔ قرآن اور درود کے ختم کرانا۔
7۔ اُچھل اُچھل کر حق ہو کے ورد کرنا۔
8۔  نجات کے لئے کسی مرشد کی بیعت کرنا۔
9۔ مردوں سے مرادیں مانگنا۔
10۔ مزاروں پر سجدے کرنا۔
11۔ غلیظ لباس کو پیغمبری لباس سمجھنا۔
12۔ سڑکوں اور بازاروں میں سب کے سامنے ڈھیلا کرنا۔
13۔ تعویذوں اور منتروں کو مشکل کشا سمجھنا۔
14۔ آنحضرت کو عالم الغیب نیز حاضر و ناظر قرار دینا۔
15۔ کسی بیماری یا مصیبت سے نجات  حاصل کرنے کے لئے مولوی جی کی ضیافت کرنا۔
16۔ گناہ بخشوانے کے لئے قوالی سننا۔
17۔ غیر مسلم کو ناپاک و نجس سمجھنا۔
18۔ امام ابو حنیفہ کی فقہ پر ایمان لانا۔
19۔ صحاح ستہ کو وحی سمجھنا۔
20۔ تمام علوم جدیدہ مثلاً طبعیات ، ریاضیات، اقتصادیات ، تعمیرات وغیرہ کو کفر خیال کرنا۔
21۔غور و فکر اور اجتہاد  و استنباط کو گناہ قرار دینا۔
22۔ صرف کلمہ پڑھ کر بہشت میں پہنچ جانا۔
23۔ ہر مشکل کا علاج عمل اور محنت  سے نہیں بلکہ دعاؤں سے کرنا مثلاً سوتے وقت یہ دعا پڑھو ۔ اللھم باسمک اموت و احیی خواب میں خواجہ خضر کی زیارت ہو گی۔ جاگو تو بسم اللہ الذی احیانی بعد ما  اماتنی کا ورد کرو  حوریں تمھارا منہ چاٹیں گی سبحان اللہ و بحمد ہ کا جملہ منہ سے نکالو تو  ساری زندگی کے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ وضو میں منہ دھوتے وقت جعلت قرۃ عینی فی الصلوۃ
کا ورد کرو تو تمھیں حضرت آدم علیہ السلام کے دس لاکھ حج کا ثواب ملے گا۔ نماز کے بعد  لاحول و لاقوۃ پڑھو تو سات آسمانوں اور سات زمینوں جتنا ثواب حاصل ہو گا۔ وغیرہ وغیرہ۔ برق صاحب سے مزید تفصیلات آگے موجود –

کمنٹس :
ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی تحقیق کا مرکزی نقطہ احادیث کی حفاظت ، لکھنے یا حفظ اور دو صدی بعد کتب حدیث کی کتابت پر مرکوز ہے، دوسرے نقطے بھی زیر بحث ہیں- لیکن اہم ترین نقطہ جس تک وہ نہ پہنچ سکے شاید اس لیے کہ ساتھ ستر سال قبل انٹرنیٹ نہ تھا بہت سی اہم عربی کتب  پاکستان میں دستیاب اب بھی نہیں ان کتب تک ان کی رسائی شاید نہ ہو سکی- مگر احقر نے اس موضوع پر بہت تحقیق کی تمام ضروری کتب حاصل کیں ، گوگل سے اردو / انگریزی ترجمہ ممکن ہے- کچھ کتب کے انگریزی تراجم امریکہ میں مسلم سکالرز نے کیے – ان سب کو حاصل کیا تو حیرت انگیز انکشافات ہوے جس کا خلاصہ ہے :  ایک الله ، ایک رسول حضرت محمّد ﷺ  ، ایک کتاب قرآن — تجدید اسلام کی سخت ضرورت ہے کہ ہم گمراہی اور جھوٹ سے نجات حاصل کریں اور رسول اللہ (ﷺ) , خلفاء راشدین اور صحابہ کے دین کامل اسلام پر ایمان لائیں اور اسے بحال کریں- صرف ایک مختصر بات ہے کہ دین اسلام میں  ایمان کے 6 بنیادی اراکین:
اصول دین
بنیادی اعتقادات کو “اصول دین” یعنی مذہب کی جڑیں کہا جاتا ہے۔اصول دین  چھ  ہیں جن  کو اسلام کی جڑ کہا جاتا ہے۔ اسلام کے  چھ بنیادی عقائد اور پانچ ارکان ہیں-
 چھ بنیادی عقائد، ان عقائد کا ماخذ قرآن سے ہے :1).اللہ تعالیٰ پر ایمان 2) فرشتوں پر ایمان 3) رسولوں پر ایمان 4) الله کی  نازل کردہ کتب پر ایمان 5).یوم آخرت پر ایمان 6).تقدیر پر ایمان (تفصیل. لنک )
نمبر 3، 4 پر تمام رسولوں اور تمام کتب الله ، جن میں آخری کتاب قرآن پر ایمان شامل ہے- 1400 سال سے ارکان اسلام میں کوئی تبدیلی نھیں ہوئی ، جس کس نے بھی  1400 سال میں یا مرزا قادیانی نے نمبر 3 کو چھیڑ ا تو کافر قرار پایا ، اور نمر 4 کے متعلق کیا خیال ہے جب قرآن کے علاوہ کس اور کتاب پر ایمان لازم کر لیں؟ اصول دین کی بنیاد قرآن ہے ، ان کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا تو کیا یہ نیا نمبر 2 اسلام ہے جس میں 7 ارکان ہیں؟ کس پر حضرت جبریل نازل ہوے کہ خاموشی سے عملی طور پر  یہ تبدیلی ہو  گیئی اور سب خاموش کیوں ہیں ؟ رسول اللہ (ﷺ) کا نام استعمال کرکہ دھوکہ دیا جا رہا ہے کہ جو بولے اسے “منکر حدیث” کا لفظ گالی کر طرح استعمال کرکہ خاموش کرا دیں- کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ “تجدید الاسلام” حدیث کے خلاف ہے یا احادیث کو ضائع کرنے کے لیے ہے۔ ایک مسلمان اپنے محبوب اور پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب الفاظ اور عمل کے خلاف سوچ بھی نہیں سکتا، حقیقی محبت کا اظہار اطاعت  رسول اللہ ﷺ  ہے نہ کہ نہ  نامانی- قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم “ کتب حدیث” سے منع کرتے ہیں لیکن وہ احادیث جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ معیارکے مطابق ہوں ان کی ترسیل بذریعه حفظ و بیان مستحب اور باعث ثواب ہے- [علماء اور ماہرین جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ ممکنہ ترسیل کا شرعی جائزہ لے سکتے ہیں]
اسلام کے چھ بنیادی عقائد، میں احادیث کی کتب ( اب  75 کتب سے زیادہ ، اوسط 5 کتب ہر صدی ، اضافہ جاری ہے ) پر ایمان شامل کیوں نہیں؟
اسلام دنیا کا  ایک واحد مذھب ہے جس کے پاس مستند ، بہترین مکمل، محفوظ  کتاب الله ، قرآن موجود ہے مگر اس کے ساتھ کتب احادیث جن کو رسول اللہ (ﷺ) سے نسبت کی وجہ سے مقدس کتب کا درجہ دیا جاتا ہے مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ وحی کا سلسہ 1400 سال سے ختم ہو چکا !

اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحۡسَنَ الۡحَدِیۡثِ کِتٰبًا (اللہ نے بہترین حدیث اس کتاب (قرآن) کی شکل میں نازل کیا ہے (قرآن 39:23)[83]

فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ  (اب اِس (قرآن) کے بعد اور کونسی حدیث پر یہ ایمان لائیں؟ ( المرسلات 77:50)

قرآن ہر بار بار دہراتا ہے :  فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّـهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ(الجاثية45:6)، فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ( المرسلات 77:50)، . فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ (الأعراف 7:185)، وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّـهِ حَدِيثًا ﴿٨٧﴾ اللہ  سے بڑھ کر سچی حدیث اور کس کی ہوسکتی ہے (النساء 4:87)

کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں:

  1. قرآن واضح ترین الفاظ میں قرآن کو “احۡسَنَ الۡحَدِیۡثِ کِتٰبًا” بہترین حدیث کی کتاب کہتا ہے اورپھر کہتا ہے اس کے بعد کس کون سی حدیث پر ایمان لاوو گے ؟
  2. اگر کوئی قرآن پر عمل کرتے ہوے کسی بھی کتاب حدیث پر ایمان نہیں لاتا اور جو لاتا ہے ان کی شرعی پوزشن کیا ہے ارکان اسلام کے حوالہ سے؟
  3.  پہلی دو صدی جب یہ کتب حدیث نہ تھیں تو کیا ان سب مسلمانوں کا ایمان نا مکمل تھا ؟ (استغفراللہ )
  4. یا ان کا ایمان نامکمل تھا یا دوسروں کا ایمان نامکمل؟
  5. منکر حدیث  (جو ایک گالی بن چکی ہے ) کون ہے اور منکر قرآن کون ہے ؟

دین اسلام کا تیسرا اہم جزو  “رسولوں پر ایمان”:

 تمام رسولوں حضرت آدم علیہ السلام سے نوح ، ابراهیم ، اسماعیل ، اسحاق ، یعقوب ، داوود ، سلیمان ، موسی ، عیسی علیہ السلام اور (جن کے  نام  کا یہاں ذکر  نہیں)  سے آخری نبی و رسول حضرت محمد (ﷺ) پر ایمان ہے. اس کا مطلب، اب صرف رسول اللہ ﷺ پر نازل کتاب الله اور تعلیمات (سنت ) پر بلا حیل و حجت عمل کرنا ہے-  رسول اللہ ﷺ پر قرآن نازل ہوا حفظ و تحریر میں محفوظ ہوا مگرقرآن  دو جلد میں کتاب کی شکل میں مدون نہ تھا جب  رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے-  رسول اللہ ﷺ نے وصیت اور حکم  فرمایا کہ  :” میں تمہیں اللہ سے ڈرنے ، امیر کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں ، خواہ وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ، اس لیے کہ جو میرے بعد تم میں سے زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا ، تو تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت  کو لازم پکڑنا ، تم اس سے چمٹ جانا ، اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑ لینا ، اور دین میں نکالی گئی نئی باتوں سے بچتے رہنا ، اس لیے کہ ہر نئی بات بدعت ہے ، اور ہر بدعت گمراہی ہے [10a]

صحابہ اکرام  کے پاس  ذاتی نوٹس صحیفے موجود تھے یا حفظ میں محفوظ تھے سب سے اہم کام قرآن کو محفوظ کرنا تھا ، جو حضرت ابوبکر صدیق نے  حضرت عمر (رضی الله) کے اصرار پر اکٹھا کروایا،  بعد میں حضرت عثمان (رضی الله) نے اس کی کتاب کی شکل میں تدوین کی، حضرت علی (رضی الله) نے کوئی تبدیلی نہ کی-  خلفاء راشدین نے قرآن کی تدوین کی اور احادیث کی تدوین نہ کی، بلکہ منع فرما دیا کہ یہود و نصاری دوسری کتب لکھ کر کتاب اللہ کو پس پشت دال کر گمراہ ہو گئے، اور مسلمانوں کو یہ غلطی نہیں دہرانا 

  1. قرآن کی تدوین و کتابت سنت خلفا راشدین ہے-
  2. حدیث کی کتابت نہ کرنا بھی سنت خلفاء راشدین ہے- 

  یہ دونوں اہم ترین کام  قرآن ، سنت  رسول اللہ ﷺ   کے عین مطابق تھے،  اور یہ  چاروں خلفاء راشدین کا اجماع سنت بھی بن گیا کیونکہ اختلافات کی صورت میں رسول اللہ ﷺ نے خلفاء راشدین کی سنت کو دانتوں سے پکڑنے کا حکم دیا  (10a) اور بدعات سے بچنے کا-[54] بھی اس لیے  اس میں تبدیلی, نظرثانی کی گنجائش نہیں- خلفاء راشدین کے اس فیصلہ کو صحابہ نے قبول کیا اور اس پر ایک صدی سے زیادہ عرصۂ تک سختی سے عمل ہوا- پھر تاویلوں اور جھوٹ کے زور پر یہود و نصاری کی طرح  نافرمانی اور بدعة کا آغاز ہوا جو اب تک جاری ہے-  

اگر کوئی شخص ایک ، دو صدی ، چار صدی یا چودہ صدی کے بعد حساب کتاب اور تفتیش (inquiry) شروع کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فلاں فلاں  کو حدیث  لکھنے کی اجازت دی تھی لہٰذا حدیث کی کتاب لکھنا جائزہے تو اس کا مطلب :

 محمد رسول اللهﷺ کی رسالت و سنت  کا واضح انکار ہے:

  1.  رسول اللہ ﷺ کی سنت کا انکار، آپ  ﷺ نے نہ صرف حدیث کی کتاب لکھنے سے منع فرمایا بلکہ اپنی سنت میں  کوئی کتاب نہ چھوڑی- کتاب لکھنا رسول اللہ ﷺ کی سنت کے خلاف ہے- 
  2.  رسول اللہ ﷺ نے اپنے بعد اختلافات میں اپنی سنت اور سنت خلفاء راشدین پر سختی سے عمل دانتوں سے پکڑنے اور بدعات سے دور رہنے کا حکم دیا تھا- یہ قرآن و سنت اور عقل کے مطابق ہے- کیونکہ  خلفاء راشدین نے قرآن کو مدون کیا جس پر ہم نے دانتوں سے پکڑ کرسختی سے عمل کرنا ہے اور قرآن کسی اور کتاب حدیث سے منع کرتا ہے-  رسول اللہ ﷺ کے اس حکم کا انکار کرنا رسالت کا کھلم کھلا انکار ، بغاوت ہے کہ خلفاء راشدین جو  رسول اللہ ﷺ کے قریب ترین ساتھی اور َعزیز تھے اور وہ تمام حالات سے اور رسول اللہ ﷺ کے خیالات اور تعلیمات سے بخوبی واقف تھے جن  پر رسول اللہ ﷺ نے اعتماد کیا، جس کو جنت کی بشارت ملی ، جس کے فضائل و درجات پی کتب کا ڈھیر ہے،  ان  خلفاء راشدین کے فیصلوں پر عدم اعتماد کرنا اور اپنی تفتیش کرکہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا کہ ان کا فیصلہ غلط تھا ، ہم کو صدیوں بعد زیادہ بہتر طور پر حالات کا علم ہے اور یہ کہ حدیث کی کتب لکھنا جائز ہے- 
  3. جو تفتیش وہ کرتے ہیں وہ بھی جھوٹ اور من گھڑت کمزور دلائل پر ہے (ملاحظہ – تحقیق )
  4. یہ دین میں نیی نئی چیز کا اضافہ ہے ،  بدعة ہے جس سے  رسول اللہ ﷺ نے سختی سے منع فرمایا-

ایسی بدعة جو اسلام  میں ایمان کے  دو بنیادی ارکان کے انکار، قرآن اور  رسول اللہ ﷺ کے انکار پر کھڑی  ہو وہ دین اسلام کا حصہ کیسے ہو سکتی ہے؟

الله تعالی ہمارے ایمان کی حفاظت فرمایے اور بدعة سے محفوظ رکیھے-

فیصلہ آپ کی عقل و دانش پر  …. کہ آپ کو رسول اللہ ﷺ ، خلفاء راشدین والا اسلام چایے یا کچھ اور … کیونکہ اسلام صرف ایک ہے دو نہیں صرف ایک !

إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّـهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ ﴿٢٢﴾
یقیناً اللہ کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے (قرآن 8:22)
 قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ‎﴿١١١﴾‏
پنی دلیل پیش کرو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو (2:١١١)
 لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ ۗ وَإِنَّ اللَّهَ لَسَمِيعٌ عَلِيمٌ(قرآن : ‎(8:42
تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے، یقیناً اللہ  سُننے والا اور جاننے والا ہے (قرآن : ‎(8:42
جب  حق ہونا ظاہر ہوجائے اس سے حجت تام ہوگئی اس کے بعد جو گمراہ ہوگا وہ وضوح حق کے بعد ہوگا کہ جس میں عذاب کا پورا استحقاق ہوگیا اور عذر کی گنجائش ہی نہ رہی اسی طرح جس کو ہدایت ہونا ہوگا وہ حق قبول کرلے گا۔
(لِّیَہْلِکَ مَنْ ہَلَکَ عَنْم بَیِّنَۃٍ ) یعنی حق کے واضح ہوجانے میں کوئی ابہام نہ رہ جائے بہت تلخ حقائق ہیں ، افسوس ہوتا ہے کے صدیوں سے جھوٹ اور دھوکہ ہوا ہمارے ساتھ ، کسی علم  نے جھوٹ کو بے نقاب نہ کیا –

امام ابوحنیفہ (رح) (پیدائئش 80 ھ) کی لاکھوں احادیث تک پہنچ تھئ شاگردوں اور ساتھیوں سے مشاورت سے فقہ مرتب کیا. ان کے 97 طالب علم[38] حدیث کے مشہور عالم تھے ، اور ان کی بیان کردہ احادیث صحیح بخاری ، صحیح مسلم اور حدیث کی دیگر مشہور کتابوں میں مرتب کی گئیں۔ امام بدرالدین العینی[39] نے 260 طالب علموں کو شامل کیا جنہوں نے امام ابو حنیفہ (رح) سے حدیث اور فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ مگر امام ابوحنیفہ (رح)  نے حدیث کی کتاب نہیں لکھی- وہ سنت  رسول اللہ ﷺ، سنت خلفا راشدین و صحابہ پر سختی سے کاربند تھے۔

دوسری صدی حجرہ میں بدعة کا آغاز ہوا اور احادیث کی کتب لکھی جانے لگیں ، آج 75 کتب احادیث ہیں ، یہود و نصاری کو پیچھے چھوڑ دیا اور فرمان و سنت  رسول اللہ ﷺ ، سنت خلفاء راشدین کو دانتوں سے پکڑنے کی بجایے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا- یہ لوگ دین اسلام پر قابض ہو گۓ، فرقہ بازی، اور بدعة سے اسلام کا چیرہ مسخ کر دیا اور آج کسی کو معلوم نہیں کہ کیا ہوا تھا؟ یہ دھوکہ مسیحیت میں سینٹ پال کے دھوکے کی یاد تازہ کرتا ہے- اکثر مسلمانوں کو یہ بھی  معلوم نہیں کہ سینٹ پال کا دھوکہ[40]،[41] کیا تھا؟ 1400 سال گزرگئے کسی نے کوشش نہ کی کہ جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا:

“کیا تم الله  کی کتاب کے علاوہ کوئی اور کتاب چاہتے ہو؟ اس  سے پہلے قومیں  (یہود و نصاری) صرف اس لیے گمراہ ہوئیں کہ انہوں نے کتاب الله کے ساتھ کتابیں لکھیں[42]

رسول اللہ ﷺ کے فرمان کو چھپانے کی کوشش کی، حدیث کی مشہور کتب میں شامل نہ کیا، تجزیہ تو دور کی بات ہے- جو لوگ مسئلے کا حصہ ہیں وہ کیسے حل دے سکتے ہیں؟

?How can those who are part of the problem give a solution

یہ  من گھڑت کہانی صدیوں سے پھیلا دی کہ پہلے قرآن اور حدیث مکس ہونے کا خدشہ تھا تو پابندی تھی بعد میں پابندی ختم ہو گی- یہ کھلم کھلا جھوٹ جس کوئی سند نہیں،حضرت ابو ھریرہ  (رضی الله)  7 یا 8 حجرہ کو مسلمانوں میں شامل ہوے اور صرف دو(2) ، سوا دوسال رسول اللہ ﷺ (وفات 10ھ) کے نزدیک رہے، ان کو  رسول اللہ ﷺ نے حدیث لکھنے سے منع فرمایا یہ اسلام کا آخری دور تھا جب قرآن کو نازل ہوتے ہوے 20 سال ہو چکے تھے- نیک لوگوں کا جھوٹ بولنا عام ہے (مسلم 40)[43]–  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی گئی، جسے وہ جانتا ہے، پھر اس نے اسے چھپایا تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی۔“[44]-(متواتر ، 62 راوی، متواتر احادیث صرف 113 )  بہت جھوٹ پکڑے ہیں تفصیل موجود ہے ..نمر 1 دین اسلام  وہ ہے قرآن ، رسولرسول اللہ ﷺ ، خلفاء راشدین سے ثابت ہے …. .. پڑھیں   >>>..

[پڑھیں :اسنت , حدیث اور متواتر حدیث]

ای بک داؤن لوڈ کریں : http://bit.ly/2uI2213 Down load e-Book


اسلامی مذہبی تاریخ کے  گہرے مطالعه سےحیران کن ناقابل یقین حقائق[1] سامنے آئے مگر یہ تلخ حقائق[2]   پہلی صدی ہجری کے دین کامل اسلام کے احیاء کی ایمیت اور ضرورت کو واضح کرتے ہیں۔ “اسلام کے بنیادی اصولوں پر کاربند رہتے هوئے، “تجدید الإسلام” مسلمانوں کے انداز فکرو عمل میں مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ  ثابت ہوگی، جس  کا آغاز[3] ہو چکا ہے-

یہ تحقیقی مطالعہ بریگیڈیئر آفتاب احمد خان (ریٹائرڈ) نے کیا ہے جو فری لانس مصنف ، محقق اور بلاگر ہیں۔ انہوں  نے پولیٹیکل سائنس، بزنس ایڈمنسٹریشن، اسٹریٹجک اسٹڈیز میں ماسٹرزکیا ہے او قرآن کریم، دیگر آسمانی کتب، تعلیمات اور پیروکاروں کے مطالعہ میں دو دہائیوں سے زیادہ وقت صرف کیا ہے –  وہ 2006 سے “دی ڈیفنس جنرال[4] کے لیے لکھ رہے ہیں۔ ان کی منتخب تحریریں پچاس سے  زائد  ای کتب میں مہیا [5] ہیں۔ ان کے علمی و تحقیقی  کام کو 4.5 ملین[6] تک رسائی حاصل ہو چکی ہے۔

~~~~~~~~~~~

ISLAMIC REVIVAL (مقدمہ) تجديد الإسلام

No Description

تجديد الإسلام

پہلی صدی کے اسلام دین کامل کی بحالی

بسم الله الرحمن الرحيم

لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ مُحَمَّدٌ رَسُوُل اللّهِ

شروع اللہ کے نام سے، ہم اللہ کی حمد کرتے ہیں اس کی مدد چاہتے ہیں اوراللہ سے مغفرت کی درخواست کر تے ہیں. جس کواللہ ھدایت دے اس کو کوئی  گمراہ نہیں کرسکتا اورجس کو وہ اس کی ہٹ دھرمی پر گمراہی پر چھوڑ دے اس کو کوئی ھدایت نہیں دے سکتا-  ہم شہادت دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد ﷺ اس کے بندے اورخاتم النبین ہیں اور انﷺ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں ہے. درود و سلام ہوحضرت محمّد ﷺ  پر اہل بیت، خلفاء راشدین واصحاب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اجمعین  پر- .دین میں ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی (ضَلَالَۃٌ) ہے- جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا –

پیش لفظ

السلام علیکم !

اسلامی تعلیمات میں اتحاد اور اجتماعیت پربہت زور ہے اور فرقہ واریت سخت نا پسندیدہ عمل ہے جو کہ مشرکوں  کا طریقہ ہے –[1] چھوٹی چھوٹی باتوں پرمعمولی اختلافات کی وجہ سے مسلمانوں میں فرقے بن چکے ہیں جو کہ قابل افسوس ہے-[2] اپنے مخالفین پراپنی من پسند  کتب سے دلائل کی بنیاد پر گمراهی کے الزامات لگایے جاتے ہیں۔ تاہم صرف ایک کتاب قرآن، اللہ کی رسی[3] ہے جو فرقہ واریت کا خاتمہ کر کہ مسلمانوں کو متحد رکھ سکتی ہے-   کئی سال قبل، رسول اللہﷺ ، خلفاء راشدین  اور صحابہ اکرام[4] رضی اللہ عنہم کی طرف سے احادیث کی کتب  مرتب نہ کرنے کی وجوہات جانچنے کے لیے ایک تحقیقی منصوبہ شروع کیا-  بظاھر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر رسول اللہﷺ کے بعد قابل احترام شخصیات میں سے کسی کی طرف سے یہ کام کیا جاتا تو مسلمانوں میں اختلافات، تنازعات کم ہوتے اور فرقہ واریت بھی کم ہوتی- مگر ایسا نہ ہو سکا- کیا یہ کسی خاص منصوبہ، مصلحت کی وجہ سے تھا یا محض ایک بھول یا غلطی؟ (استغفر الله) جسے بظاھر تیسری اور چوتھی صدی کے  “دانشمند علماء و محدثین” نے “درست” کیا؟

اگر اسے بھول یا غلطی سمجھا جایے تو یہ غلط ہو گا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مشن مکمل کر لیا تھا اور آخری حج میں بہت بڑے ہجوم نے اس کی گواہی دی اور قرآن (5:3)  نے بھی تکمیل اسلام کا اعلان کیا- رسول اللہﷺ نے اپنے بعد اختلافات کےحل کے  ذمہ داران اور طریقه کو بھی وصیت کر دیا تھا-[5] اتنی تفصیل کے بعد تو کوئی بچہ بھی گمراہی کے راستہ پر نہیں چل سکتا اور ایسا ہی ہوا پہلی صدی میں مکمل طور پر، لیکن پھر بعد میں رسول اللہ ﷺ کی وصیت کی نافرمانی کرنے درستگی (استغفراللہ ) کرنے والے پیدا ہو گئے اور بدعة کا غلبہ ہوا-

بظاھر یہ عجیب لگتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ) ، خلیفہ حضرت عمر[6] (رضی اللہ) احادیث کو آگ لگاتے ہوئے پائے جاتے ہیں،حضرت ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) بھی اپنا ذخیرہ مٹاتے ہیں۔ حضرت عثمان (رضی الله) تدوین قرآن کے بعد بھی کتابت حدیث نہیں کرتے- حضرت علی رضی اللہ عنہ لوگوں سے کہتے ہیں کہ احادیث مٹا دیں۔  خلفاء راشدین اور کوئی صحابی حدیث کی کتاب نہیں لکھتا اور پہلی صدی گزر جاتی ہے۔[7] (نجی نوٹ اور کتاب مدون کرنا دو مختلف چیزیں ہیں) امام ابوحنیفه (رح) فقہ مرتب کرتے ہیں جس پر مسلمانوں کی اکثریت عمل پیرا ہے، مگر وہ بھی حدیث کی کتاب نہیں لکھتے۔ بڑی الجھن ہے، ان سب کو کون روک رہا تھا؟ رکاوٹ کیا تھی؟ قرآن کہتا ہے کہ قرآن بہترین حدیث  ہے۔ اور پھر آپ کس حدیث پر ایمان لاؤگے؟[8]

اسلام میں ایمان کے بنیادی اصولوں[9] میں بھی کتاب اللہ کے علاوہ کسی اور  کتاب یا کتب[10] پر ایمان لانا شامل نہیں-

بہت سی کتابوں کے مطالعہ سے بھی شبہات کا ازالہ نہ ہو سکا- مذہبی لوگوں کے واٹس ایپ گروپ کا رکن تھا جو احادیث سے گہرا تعلق رکھتے  ہیں-  وہاں پر کچھ دنوں تک[11]اسلام ، مسلم[12] ، فرقہ واریت اور احادیث” پر طویل بحث مباحثے کیۓ- ایک جید محترم” علامہ صاحب[13] بھی ساتھیوں کے ساتھ شریک بحث ہوئے جو ہفتہ بھر جاری رہی- اس ڈسکشن سیشن کو ویب سائٹ پراپلوڈ کر دیا ہے۔[14]

ایک اور مولانا صاحب ، جو اسلامی یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ مکمل کر رہے تھے، رابطے میں آئے۔ ہم نے ایک علیحدہ واٹس ایپ گروپ بنایا جس میں مذہبی ذہن و علم رکھنے والے سات ممبرز تھے جن میں: پروفیسرز، ڈاکٹرز ، اعلیٰ  پولیس اور فوجی افسران اور ایک مدرسے کے اعلی تعلیم یافتہ سربراہ (پی ایچ ڈی) شامل تھے۔ یہ مباحثہ بھی کئی دنوں تک جاری رہا، جسے اپ لوڈ  کر دیا گیا ہے۔[15]

یہ مباحث بہت مفید تھے، بہت سے متعلقہ اہم سوالات اٹھائے گئے، مزید مطالعہ اور ریسرچ سے تحقیقی مقالہ کو بہتر اور مظبوط بنانے میں مدد ملی-

اس تحقیق کے نتائج اتنے حیران کن[16] ہیں کہ وہ ناقابل یقین دکھائی دیتے ہیں لیکن سچائی سے بچا نہیں جا سکتا۔ قرآن ، پیغمبرﷺ اور اسلامی علم حق کو چھپانے (کتمان حق ([17]کا نتیجہ جہنم کی آگ ہے۔ لہذا خاموش رہنے کے بجائے، تحقیق کو Defence Journal/[18])   (میں دو مرتبہ ستمبر2020 اور2021 کو شائع کردیا اور ساتھ ساتھ نیٹ اور سوشل میڈیا پربھی شیرکیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ کے تمام انتباہات اور کے باوجود، دوسری، تیسری صدی حجرہ میں کچھ علماء نے  یہود و نصاریٰ [19]کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، احکام کو نظر انداز کرکہ دوسرا راستہ اختیار کیا- اگرچہ قرآن اور اسلام کے بنیادی اصولوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی-   لیکن ان اقدام سے قرآن کے اثرات میں کمی اوربتدریج ترک کرنے میں مدد ملی-  قرآن (25:30)[20]  نے یہ واضح کیا ہے۔ اس صورت حآل کا تقاضہ، “تجدیدالاسلام”،  پہلی صدی ہجری کے دین کامل اسلام کا احیاء ہے۔

ریسرچ پیپر کا سائزبہت بڑھ چکا تھا، اس لیے انگلش[21] اور اردو[22] میں خصوصی ویب سائٹس قائم کیں جن میں ای کتب، مضامین ، خلاصے، ویڈیوز اور متعلقه پوسٹس شامل ہیں۔ سوشل میڈیا کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے- وزیٹرز کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی ہے جو بتدریج بڑھ رہی ہے۔

اس غیر معمولی کام میں زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کی شمولیت  سے  پہلی صدی ہجری کے کامل اسلام کے احیاء کے لیے مسلمانوں میں اتفاق رائے (إجماع) پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ قرآن ، سنت ، احادیث اور تاریخ سے [23]واضح دلائل کی وجہ سے “اجماع شرعی کی ضرورت نہیں ہے مگر مسلم اتحاد، ہموار موافقت اور بتدریج عمل درآمد کے لیے اتفاق رائے (اجماع) کی حکمت عملی کو ترجیح دی گئی ہے، تفرقہ کی کوئی گنجائش۔

پچھلے سال کوویڈ 19 سے صحت یاب ہونے کے بعد یقین پختہ ہوا کہ اللہ تعالی نے اس مطالعے کو مزید جامع بنانے کے لیے مزید کوششوں اور نظر ثانی کے لیے کچھ اضافی وقت دیا ہے۔

تحقیقی مقالہ اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد اور دیگر سرکاری و غیر سرکاری اداروں ، معروف دارالعلوم ، پاکستان ، بھارت کے علماء (اسلامی اسکالرز)، اسلامی ممالک کے سفارت خانوں، مدینہ ، الازہر یونیورسٹی اور کئی نامور صحافیوں کو بھیجا گیا۔ تاہم ردعمل سرد مہری ہے – ایسا لگتا ہے کہ کوئی بھی اس موضوع پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

اس دوران ایک عجیب بات ہوئی ، ایک انتہائی اہم اسلامی ملک نے احادیث کو اس کی مناسب جگہ پر رکھ کر قرآن کو قانون کا اعلیٰ ماخذ بنانے کا اعلان[24]  کیا۔ اصلاحاتی پیکج میں کچھ اہم نکات بھی شامل ہیں جو اس تحقیق کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں۔ [یہ کیسے ممکن ہوا؟ واللہ اعلم]۔ وجہ کچھ بھی ہو، یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ یہ تحقیق صحیح راستے پر ہے!  ہم  دنیا میں اکیلے نہیں اس پر عمل کرنے والے بھی موجود ہیں.

سعودی عرب اسلام اور مسلم دنیا کا مرکز ہے۔ کوئی بھی طاقتور  فرد  اپنے علماء کی مکمل تحقیق اور تعاون کے بغیر دینی معاملات میں اپنی مرضی زیادہ دیر تک مسلط نہیں کر سکتا۔[25] بین الاقوامی سیاست اوراندرونی پالیسیوں کو الگ رکھتے  ہوے، قرآن و سنت کے مطابق کسی بھی حقیقی کوشش کو نظر انداز کرنا درست نہ ہوگا –

یہ تحقیق قرآن اور نبی (ﷺ) کے کچھ زندہ معجزات بھی ظاہر کرتی ہے جو پہلے معلوم نہیں تھے، وہ سکرپٹ کا حصہ ہیں۔ مذہبی تجربہ  [26]Religious Experience) جس کا مشاہدہ اللہ کی طرف سے قرآن اور دیگر ذرائع سے رہنمائی سے ہوا، ایمان کی تجدید اور تقویت میں مددگارہے۔

پاکستان میں اوسط عمر 67 سال ہے ، اللہ کے اس بندے نے تین سال پہلے یہ لائن عبور کی۔ اس وقت کسی بھی قسم کی مذہبی ، علمی ، فکری مہم جوئی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔  ہم ہرنماز میں بار بار دعا کرتے رہتے ہیں کہ :

(یا اللہ ) ہمیں سیدھا راستہ دکھا اُن لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا، جو معتوب نہیں ہوئے، جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں (قرآن 1:6,7)[27]

اس کوشش کا مقصد مسلمانوں میں بیداری پیدا کرنا ہے تاکہ مسلمانوں کے درمیان “تجدید الاسلام”  کے لیےاتفاق رائے (إجماع) پیدا ہو سکے اور فرقہ واریت کی لعنت کو ختم کرنے، ماضی کی غلطیوں اور بدعات کا خاتمہ  کرنے کے لیے مناسب اصلاحی اقدامات کیے جا سکیں-  احادیث سے صرف رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ میعار[28] کے مطابق ہی درست طریقہ سے  راہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے-  رسول اللہ ﷺ کے طریقہ کو ترک کرنا بدعة،  و ضلالہ، گمراہی کا راستہ ہے-[29]

قرآن [30] ہدایت کی بلا شک آخری مکمل محفوظ  کتاب ہے قرآن، کلام الله تعالی  کسی اور کتاب سے بندھا ہوا  (مھجور) نہیں، قیامت کے دن جب:

“پیغمبر کہیں گے ،” پروردگار ، میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا تھا۔ ”  (سورة الفرقان،25:30﴾[13]

ہمیں قرآن چھوڑنے والوں میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔

آئیے اس تحقیق کو اچھی طرح سمجھ)  ( comprehend کر اسے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں تک پہنچائیں تاکہ ہم سب “تجدید الاسلام”[پہلی صدی ہجری کے کامل اسلام کے احیاء] کے لیے مسلمانوں میں اجماع (consensus) پیدا کرنے کی کاوش میں شامل ہوں:

 “جو شخص کسی اچھے مقصد کی سفارش کرتا ہے اور اس کی مدد کرتا ہے تو اس کو اس (کے ثواب) میں سے حصہ ملے گا…” (قرآن 4:85)

…………………………
کیا ڈاکٹر برق واقعی نادم تھے؟

آپ ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی زندگی اور ان کے علمی کام کا جائزہ لیجیے، آپ کی زیادہ تر کنفیوژن ختم ہو جائے گی، باقی کنفیوژن کے خاتمے کے لیے میری خدمات حاضر ہیں، ڈاکٹر برق1901ء میں پیدا ہوئے، خاندان مذہبی بھی تھا اور سید بھی۔

ڈاکٹر صاحب کا شمار اسلامی دنیا کے ان چند اسکالرز میں ہوتا ہے جو مدارس سے نکل کر یونیورسٹی تک پہنچے، وہ عربی زبان میں گولڈ میڈلسٹ تھے اور انگریزی زبان پر اس قدر دسترس رکھتے تھے کہ اپنا تھیسس انگریزی میں لکھا اور آکسفورڈ اور ہارورڈ یونیورسٹی نے پاکستان بننے سے سات سال قبل یعنی 1940ء میں ان کی پی ایچ ڈی کی ڈگری کی تصدیق کی، وہ پاکستان بننے سے قبل ان بیس عالموں میں شمار ہوتے تھے جن کے پاس پی ایچ ڈی کی ڈگری تھی، ڈاکٹر صاحب نے زندگی میں 17 کتابیں اور سیکڑوں مضامین لکھے۔

’’دو اسلام‘‘ ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی پہلی تحقیقی کتاب تھی، یہ کتاب 1949ء میں شایع ہوئی، یہ کتاب اسلامی تاریخ میں طویل مدت بعد نئی تحقیق کی شکل میں سامنے آئی، وہ عالموں کا زمانہ تھا، اس زمانے میں ’’دو اسلام‘‘ کے بارے میں دو آراء سامنے آئیں، علماء کرام ، صوفیاء کرام اور پڑھے لکھے طبقے نے کتاب کو بے انتہا پسند کیا جب کہ مولوی حضرات، ملاؤں اور جعلی پیروں کی طرف سے اس پر شدید نقطہ چینی ہوئی لیکن اس تنقید کے باوجود یہ کتاب مسلسل شایع ہوتی رہی،  ڈاکٹر صاحب کی دوسری تصنیف ’’دو قرآن‘‘ تھی، یہ کتاب 1942ء میں برصغیر کے مشہور دینی اور علمی جریدے ’’ البینان‘‘ میں قسط وار شایع ہوئی۔

’’دو قرآن‘‘ کی اقساط 14 ماہ تک جاری رہیں، یہ اقساط بعد ازاں کتاب کی شکل میں شایع ہوئیں،ڈاکٹر صاحب کی تیسری تصنیف ’’ایک اسلام‘‘ تھی، یہ کتاب 1952ء میں شایع ہوئی، آپ اگر دو اسلام، دو قرآن اور ایک اسلام کے بارے میں تحقیق کریں تو یہ تینوں کتابیں 1940ء سے لے کر 1952ء کے دوران لکھی گئیں اور یہ شایع ہوئیں، یہ تینوں کتابیں اسلام کے علمی پہلو پر مبنی تھیں، یہ انسان کو کام پر راغب کرتی تھیں، یہ مسلمانوں کو اللہ کی فلاسفی بتاتی تھیں۔

ان کتب کا مرکزی نقطہ عمل، کام، سعی اور تحقیق تھا، ڈاکٹر صاحب اہل ایمان کو یہ بتانا چاہتے تھے یہ دنیا اس کی ہے جو محنت کرے گا، آپ کو کھیتوں سے لے کر فیکٹریوں تک اور اسکولوں سے لے کر لیبارٹری تک دن رات ایک کرنا ہو گا، آپ تب جا کر زندگی میں آرام اور آسائش پا سکیں گے، اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا رب ہے، یہ ٹام کا بھی اتنا ہی خدا ہے جتنا یہ عبدالرحمن کا ہے، اللہ محنت پسند کرتا ہے، یہ محنت کرنے والوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا، لوئی پاسچر ہو، نیوٹن ہو، مادام کیوری ہو یا آئن سٹائن ہو یا پھر الخوارزمی، بو علی سینا اور امام غزالی ہوں دنیا میں جو محنت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے نوازے گا۔

ڈاکٹر صاحب چاہتے تھے مسلمان خانقاہوں تک محدود نہ ہوں، یہ وظائف کے ذریعے دنیا مسخر کرنے کی کوشش بھی نہ کریں،یہ محنت کریں، علم حاصل کریں اور اپنی دنیا آپ پیدا کریں، ڈاکٹر صاحب تاریخ اسلام کے نباض تھے، وہ سمجھتے تھے غیر مسلموں کے ہاتھوں مسلمانوں کی 128 ریاستیں تباہ ہوئیں، چنگیز خان، ہلاکو خان اور فرڈی نینڈ نے مسلمانوں کی ایسی ایسی لائبریریاں جلا کر راکھ بنا دیں جن میں صحابہؓ کے ہاتھوں سے لکھے قرآن مجید اور اماموں کے ہاتھوں سے تحریر احادیث کے نسخے تھے،عیسائیوں نے مسجد قرطبہ کو چرچ بنا دیا، ہلاکو خان نے مساجد میں گھوڑے باندھے لیکن مسلمانوں کی مدد کے لیے آندھیاں آئیں۔

زلزلے اترے اور نہ ہی دشمن کا راستہ روکنے کے لیے سیلاب بھجوائے گئے، ہلاکو خان، چنگیز خان اور فرڈی نینڈ کا دور قطب اور ابدال کا زمانہ تھا، آپ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ،حضرت داتا گنج بخش ؒ ،حضرت معین الدین چشتی  ؒاجمیری اور حضرت نظام الدین اولیاءؒ کا زمانہ نکالیں، ان عظیم روحانی شخصیات کے مقابر اس وقت شاد اور آباد تھے، ہلاکو خان نے فروری1258ء میں بغداد پر حملہ کیا، اس وقت حضرت عبدالقادر جیلانیؒ کے مزار پر سیکڑوں زندہ پیر موجود تھے لیکن مسلمان تمام تر برکات کے باوجود سقوط بغداد سے بچ سکے۔

خوارزم کی ریاست بچا سکے اور نہ ہی ہندوستان کو ان ظالم حملہ آوروں سے بچا سکے جنہوں نے لاہور سے لے کر دلی تک مسلمانوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، ہم مسلمان اپنی تمام تر روحانی قوت کے باوجود انگریزوں سے ہندوستان بچا سکے، غرناطہ اور نہ ہی خلافت عثمانیہ، ہم ساڑھے 13 سو سال مار کھاتے رہے، ڈاکٹر صاحب کا خیال تھا مسلمانوں کو اسلام کا اصل پیغام سمجھنا ہوگا، انھیں علم، دفاع اور معیشت تینوں پر توجہ دینی چاہیے، انھیں دعا سے قبل کھیت میں ہل جوتنا ہو گا، زمین میں بیج بونا ہو گا اور کھیت کو پانی دینا ہو گا ورنہ دوسری صورت میں صرف دعا سے فصل نہیں اگ سکے گی۔

ڈاکٹر غلام جیلانی برق کا یہ پیغام ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے اجنبی تھا، ہم ہندوستانی مسلمانوں کو ایک طویل عمل کے ذریعے عملی اسلام سے دور کر دیا گیا تھا اور ہم نے یقین کر لیا تھا اللہ نے دنیا غیر مسلموں اور آخرت مسلمانوں کے لیے وقف کر دی ہے اور ہم اگر آخرت میں سرفراز ہونا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں دنیا میں رسوا ہونا پڑے گا۔

ہمارے ذہن میں یہ راسخ کر دیا گیا تھا یہ دنیا دنیاوی کتوں کے لیے ہے چنانچہ ہم نے دفاع، علم، تحقیق، انڈسٹری اور معیشت دنیاوی کتوں پر چھوڑ دی اور اپنے لیے ان کتوں کی غلامی پسند کر لی یوں دنیاوی کتے اہل ایمان کے حکمران بن گئے، دنیا مسائل کا حل تلاش کرتی رہی، یہ اینٹی بائیوٹک، گاڑیاں، جہاز، کیڑے مار ادویات اور میزائل بناتی رہی اور ہم وظائف، پھونکوں اور تعویذوں کے ذریعے دشمنوں کی توپوں میں کیڑے پڑنے کا انتظار کرتے رہے، ہمیں یقین دلا دیاگیا تھا، تم صرف عبادت کرو، وظائف اور پھونکیں مارو اور غیروں کو کام کرنے دو چنانچہ پورا عالم اسلام دنیاوی کتوں کا غلام ہو کر رہ گیا۔

ہم نے اپنی غلامی کو امر ربی بھی بنا لیا تھا، ہم اسے اللہ کا حکم سمجھ کر چپ چاپ بیٹھ گئے تھے،ہم نے اپنے زوال، اپنی غربت اور اپنی مصیبتوں کو روحانیت کی شکل بھی دے دی تھی، ڈاکٹر صاحب کی سوچ سمجھوتے کی غلامی کے جوہڑ میں بھاری بھرکم پتھر ثابت ہوئی اور ملک پاکستان میں ان پر اعتراضات شروع ہوگئے، لوگوں نے دعویٰ کیا ’’ڈاکٹر غلام جیلانی برق روحانیت کے خلاف ہیں، یہ احادیث کو بھی تسلیم نہیں کرتے‘‘ یہ پروپیگنڈا غلط تھا کیونکہ ڈاکٹر صاحب نے زندگی کا بڑا حصہ احادیث پر صرف کیا تھا، یہ سید زادے بھی تھے۔

ان کے والد کا نام محمد قاسم شاہ تھا، یہ گاؤں لسبال میں امام مسجد بھی تھے اور یہ بیعت بھی کرتے تھے، ڈاکٹر صاحب نے1960ء میں روحانیت کی مخالفت کا داغ دھونے کے لیے ’’من کی دنیا‘‘ لکھی، یہ کتاب روحانیت کے بارے میں تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے’’من کی دنیا‘‘ میں ان مغربی علماء اور اسکالرز کے حوالے دیے جو مسلمان نہیں تھے لیکن اس کے باوجود اسلام کی روحانیت سے اتفاق کرتے تھے، یہ کتاب 1960ء میں شایع ہوئی۔

آپ اب ڈاکٹر غلام جیلانی برق کے کام کا جائزہ لیجیے، ’’دو اسلام‘‘ 1949ء میں شایع ہوئی۔ ’’دو قرآن‘‘ 1942ء میں البینان میں شایع ہونے لگی۔ ’’ایک اسلام‘‘ 1952ء میں شایع ہوئی اور ’’من کی دنیا‘‘ 1960ء میں سامنے آئی، ڈاکٹر غلام جیلانی برق 12 مارچ 1985ء تک حیات رہے، ڈاکٹر صاحب 1960ء کے بعد 1985ء تک 25 سال حیات رہے، اس عرصے میں انھوں نے سیکڑوں صفحات پر مشتمل مضامین اور دس کے قریب کتابیں لکھیں، ڈاکٹر صاحب کے انتقال تک ان کی چاروں کتب شایع ہوتی رہیں۔

ڈاکٹر صاحب کی حیات میں ’’دو اسلام‘‘ کا آخری ایڈیشن 1981ء میں شایع ہوا لیکن ڈاکٹر صاحب نے انتقال تک اپنی کسی تحریر، اپنے کسی انٹرویو میں یہ نہیں فرمایا ’’ میں اپنی سابق کتابوں پر نادم ہوں یا میرا سارا کام دور جاہلیت میں لکھا گیا‘‘ میں چیلنج کرتا ہوں آپ ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی کتاب ’’ من کی دنیا،، یا ان کی 1985ء تک کی تحریروں سے مجھے وہ فقرہ یا نوٹ نکال کر دکھا دیجیے جس میں انھوں نے ’’دواسلام‘‘ ’’دو قرآن‘‘ اور ’’ایک اسلام‘‘ پر ندامت کا اظہار کیا ہو یا اسے اپنے دور جاہلیت کا کام قرار دیا ہو۔

ہم ایک لمحے کے لیے یہ فرض بھی کر لیں ڈاکٹر غلام جیلانی برق 1960ء میں ’’من کی دنیا‘‘ لکھتے وقت اپنی ماضی کی کتب پر نادم ہو گئے تھے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے ڈاکٹر صاحب نے من کی دنیا میں اس کا اعتراف کیوں نہیں کیا؟ یہ 1981ء تک اپنی دور جاہلیت کی پیداوار کو شایع کیوں کرواتے رہے؟ ڈاکٹر صاحب اپنے پبلشر کو ایک خط لکھ دیتے اور کتابوں کی اشاعت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتی۔

ڈاکٹر صاحب اپنے کسی مضمون میں اعتراف جرم کر لیتے۔ یہ اپنی آٹو بائیوگرافی ’’میری داستان حیات‘‘ ہی میں اپنی ’’جہالت‘‘ کا اعتراف کر لیتے یا اپنے کام، اپنی تحقیق پر عالم اسلام سے معذرت کر لیتے تو آج صورتحال مختلف ہوتی مگر ڈاکٹر صاحب نے ’’من کی دنیا‘‘ سے لے کر اپنے آخری مضمون تک کسی جگہ یہ اعتراف نہیں کیا، یہ آخری وقت تک اپنی کتابیں بھی شایع کراتے رہے اور ان کتب کی رائلٹی بھی وصول کرتے رہے لیکن میرے دوست کو اچانک کشف ہوا۔

ڈاکٹر صاحب 1960ء میں اپنے 1949، 1950 اور 1952ء کے کام پر نادم تھے یا یہ عمر عزیز کے آخر میں اپنے اس کام کو ’’دور جاہلیت‘‘ کا کارنامہ قرار دیتے تھے جس نے لسبال کے مولوی غلام جیلانی کو عالم اسلام کا عظیم اسکالر ڈاکٹر غلام جیلانی برق بنایا، ایسا اسکالر جس کی محفل میں مولانا مودودی سے لے کر ڈاکٹر باقر، ڈاکٹر عبداللہ، شورش کاشمیری، پروفیسر اشفاق علی خان، جنرل عبدالعلی ملک، مولانا زاہد الحسینی، پروفیسر ڈاکٹر اجمل، ڈاکٹر حمید اللہ، پروفیسر سعادت علی خان، عنایت الٰہی، مولانا عبدالماجد دریا آبادی، حفیظ جالندھری، طفیل ہوشیار پوری، جنرل شیریں دل خان نیازی، پروفیسر سعداللہ کلیم، صوفی غلام مصطفی تبسم، شیخ عبدالحکیم، کرنل محمد خان، جنرل شوکت، جنرل شفیق الرحمن، احمد ندیم قاسمی اور جسٹس کیانی جیسے علماء، ادباء اور استاد بیٹھتے تھے، یہ محفلیں بھی ڈاکٹر صاحب کی آخری سانس تک جاری رہیں۔

یہ بڑے لوگ تھے اور ڈاکٹر صاحب نے ان میں سے بھی کسی کے سامنے اپنے ’’دور جاہلیت‘‘ کے کام پر ندامت کا اظہار نہیں کیا، پھر میرے دوست کو کیسے معلوم ہو گیا؟ میرا خیال ہے یہ میرے دوست کی روحانی طاقت ہے جس نے عالم ارواح میں جھانک کر معلوم کر لیا 1985ء میں انتقال فرمانے والے ڈاکٹر غلام جیلانی برق اپنے کام پر نادم ہیں۔

میری اپنے دوست سے درخواست ہے آپ اب مہربانی فرما کر علامہ اقبالؒ کی روح سے بھی رابطہ کریں، ہو سکتا ہے علامہ صاحب بھی’’ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ جیسے ترانے پر کف افسوس مل رہے ہوں، آپ اپنی روحانیت کے ذریعے قوم کو گوادر کاشغر روٹ پر قائداعظم کی رائے سے بھی مطلع فرما دیں تا کہ قوم بانی پاکستان کے تازہ ترین خیالات سے مستفید ہو جائے اور اگر ہو سکے تو ملکہ سبا کو بھی اطلاع کر دیں آپ کے یمن پر حوثیوں کا قبضہ ہو چکا ہے۔

[جاوید چوہدری] [https://www.express.pk/story/351560]

نوٹ :
“دو اسلام” کتاب پر شدید اعتراضات ہوے سینکڑوں تنقیدی  تبصرے اور کتابیں لکھی گییں. سب سے مشہور مولانا مسعود احمد بی۔ایس۔سی  کی  تفہیم اسلام بجواب دو اسلام ہوئی۔ کھا جاتا ہے کہ اس کتاب  کو پڑھ کر غلام جیلانی برق صاحب نے اپنے موقف سے رجوع کیا اور کتاب “تاریخ حدیث” لکھی۔ 
لیکن ڈاکٹر غلام جیلانی برق اپنی تحقیق میں جس نقطہ تک نہ پہنچ چکے: ایک الله ، ایک آخری رسول حضرت محمّد ﷺ  ، ایک کتاب قرآن —  اہم ترین تاریخی حیران کن انکشافات پڑھیں   >>>
یہاں تمام  کتب مہیا کر دی گیئ ہیں تاکہ اہل علم اور سچائی کے متلاشی، کھلے دماغ کے لوگ  ساری کتابوں سےاستفادہ کر کہ اپنی آزادانہ راے قایم کر سکیں. تنگ نظر، فرقہ پرست، اندھی تقلید کے شکار لوگ ان کتابوں کو پڑھنے سے گریز کریں. یہ ان کے لیے نہیں:
یقیناً اللہ کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے (8:22 قرآن) 

خلاصہ : تجديد الإسلام

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:  أَكِتَابًا غَيْرَ كِتَابِ اللَّهِ تُرِيدُونَ؟

1.کیا تم  کتاب الله کے علاوہ اور کتابیں چاہتے ہو؟

2.پہلی اقوام, کتاب اللہ کے ساتھ دوسری کتابیں لکھ کر گمراہ ہوگئیں۔  اس پر ابو حریرہ (رضی الله) نے احادیث کو آگ لگا دی اور پھر مرتے دم تک حدیث نہ لکھی حفظ کرکہ بیان کرتےکیونکہ الله تعالی اکا فرمان ہے: “اس رسول ﷺ کی جو اطاعت کرے اسی نے اللہ تعالٰی کی فرمانبرداری کی اور جو منہ پھیر لے تو ہم نے آپ کو کچھ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا ۔” (قرآن 4:80)

3.خلفاء راشدین نے بھی اسی وجہ سے کتابت  حدیث نہ کی

4.رسول اللہ ﷺ نےخلفاء راشدین کو اختلافات میں فیصلہ کا اختیار عطا فرمایا ان کی سنت پر سختی سے عمل کا حکم دیا- رسول اللہ ﷺ کا انکار الله تعالی کا انکار ہے- حضرت عمر و علی (رضی الله) نے سختی سے کتابت حدیث  سے منع فرمایا-

5.حضرت عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ)کے مطابق قرآن کے علاوہ کتب ،  “فِتْنَةٌ وَضَلَالَةٌ وَبِدْعَةٌ”  ہے- بہترین حدیث قرآن اور بہترین ہدایت رسول اللہ کی –

6.کچھ صحابہ کو حفظ کی کمزوری پر مشروط انفرادی اجازت ملی اکثر صحابہ احادیث لکھنا مکروہ سمجھتے تھے-

7.امام ابو حنیفہ (رح) نے بھی سنت خلفاء راشدین کی پیروی کی ، حدیث کی کتاب نہ لکھی –

8.دوسری تیسری صدی میں احادیث کی مشہور کتب لکھی گیئں

9.اب  رسول اللہ ﷺ کے حکم کے برخلاف مذہبی پیشواؤں کی من گھڑت تاویلوں کی بنیاد پر حدیث کی 75  کتب موجود ہیں.

10.رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:  أَكِتَابًا غَيْرَ كِتَابِ اللَّهِ تُرِيدُونَ؟ کیا تم  کتاب الله کے علاوہ اور کتابیں چاہتے ہو؟ پہلی اقوام, کتاب اللہ کے ساتھ دوسری کتابیں لکھ کر گمراہ ہوگئیں۔

11.رسول اللہ ﷺ و خلفاء راشدین کی نافرمانی کی بنیاد پر کوئی  نیک اور اچھا عمل کیسے ہو سکتا ہے؟

12.یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰہَ ۚ وَ مَنۡ تَوَلّٰی فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ عَلَیۡہِمۡ حَفِیۡظًا ﴿ؕ۸۰﴾

“اس رسول ﷺ کی جو اطاعت کرے اسی نے اللہ تعالٰی کی فرمانبرداری کی اور جو منہ پھیر لے تو ہم نے آپ کو کچھ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا ۔” (قرآن 4:80)

کتب احادیث ; بدعت یا نافرمانی؟    تحقیق و تفصیل >>>>

ڈاکٹر غلام جیلانی برق لکھتے ہیں (اقتباس ):
جب علمائے کرام کے فیض سے میں تعلیمات اسلامی پر پوری طرح حاوی ہو گیا تو  یہ حقیقت بھی مجھ پر واضح ہو  گئی کہ خدا ہمارا، رسول ہمارا، فرشتے ہمارے، جنت ہماری، حوریں ہماری، زمین ہماری، آسمان ہمارا، الغرض سب کچھ کے مالک ہم ہیں اور باقی قومیں اس دنیا میں جھک مارنے کے لئے آئی ہیں۔ ان کی دولت ، عیش اور تنعم محض چند روزہ ہے۔ وہ بہت جلد جہنم کے پست ترین طبقے میں اوندھے پھینک دئیے جائیں گے اور ہم کمخواب و زربفت کے سوٹ پہن کر  سرمدی بہاروں میں حوروں کے ساتھ مزے لوٹیں گے۔
زمانہ گزرتا گیا  ۔انگریزی  پڑھنے کے بعد علوم جدیدہ کا مطالعہ کیا۔ قلب و نظر میں وسعت پیدا ہوئی۔ اقوام و ملل کی تاریخ پڑھی تو مجھے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی 128 سلطنتیں مٹ چکی ہیں۔ حیرت ہوئی کہ جب اللہ ہمارا اور صرف ہمارا تھا تو اس نے خلافت عباسیہ کا وارث ہلاکو جیسے کافر کو کیوں بنایا۔ ہسپانیہ کے اسلامی تخت پہ فرونیاں کو کیوں بٹھایا۔ مغلیہ کا تاج الزبتھ کے سر پر کیوں رکھ دیا۔ بلغاریہ، ہنگری، رومانیہ سرویہ، پولینڈ، کریمیا، یوکرائین، یونان اور بلغراد سے ہمارے آثار کیوں مٹا دئیے۔ فرانس سے بیک بینی دو گوش ہمیں کیوں نکالا۔ ٹیونس، مراکو، الجزائر اور لیبیا سے ہمیں کیوں رخصت کیا؟
میں رفع حیرت کے لئے مختلف علماء کے ہاں گیا۔ لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ میں نے اس مسئلے پر  پانچ سات برس  تک غور و فکر کیا۔ لیکن کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔ بدقسمتی سے یہ وہ دور تھا جب میں اسلام سے سخت دلبرداشتہ ہو چکا تھا اور سالہاسال سے تلاوت کلام اللہ ترک کر رکھی تھی۔
ایک دن سحر کو بیدار ہوا۔ اوپر طاق میں قرآن شریف رکھا تھا۔ شغلاً اٹھایا ، کھولا اور پہلی آیت جو سامنے آئی وہ یہ تھی۔
أَلَمْ يَرَوْا كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّن لَّكُمْ وَأَرْسَلْنَا السَّمَاءَ عَلَيْهِم مِّدْرَارًا وَجَعَلْنَا الْأَنْهَارَ تَجْرِي مِن تَحْتِهِمْ فَأَهْلَكْنَاهُم بِذُنُوبِهِمْ وَأَنشَأْنَا مِن بَعْدِهِمْ قَرْنًا آخَرِينَ ﴿سورة الأنعام ٦﴾
کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں جن کا اپنے اپنے زمانہ میں دور دورہ رہا ہے؟ اُن کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار بخشا تھا جو تمہیں نہیں بخشا ہے، ان پر ہم نے آسمان سے خوب بارشیں برسائیں اور ان کے نیچے نہریں بہا دیں، (مگر جب انہوں نے کفران نعمت کیا تو) آخر کار ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں تباہ کر دیا اور ان کی جگہ دوسرے دور کی قوموں کو اٹھایا (Qur’an, 6:6)
 میری آنکھیں کھل گئیں۔ اندھی تقلید کی وہ تاریک گھٹائیں جو دماغی ماحول پر محیط تھیں یک بیک چھٹنے لگیں۔ اور اللہ کی سنت جاریہ کے تمام گوشے بے حجاب ہونے لگے۔ میں نے قرآن میں جا بجا یہ لکھا ہوا دیکھا کہ یہ دنیا دار العمل ہے۔ یہاں صرف عمل سے بیڑے پار ہوتے ہیں۔ ہر عمل کی جزا و سزا مقرر ہے۔ جسے نہ کوئی دعا ٹال سکتی ہے اور نہ دوا۔
لیس للانسان الا ماسعی  ۔ یہاں صرف اپنی کوششیں ہی کام آتی ہیں۔ (القرآن)
میں سارا قرآن پڑھ گیا، اور کہیں بھی محض دعا یا تعویذ کا کوئی صلہ نہ دیکھا۔ کہیں بھی زبانی خوشامد کا اجر زمردیں محلات ۔ حوروں اور حجوں کی شکل میں نہ پایا۔ یہاں میرے کانوں نے صرف تلوار کی جھنکار سنی اور  میری آنکھوں نے غازیوں کے وہ جھرمٹ دیکھے جو  شہادت کی لازوال دولت حاصل کرنے کے لئے جنگ کے بھڑکتے ہوئے شعلوں میں کود رہے تھے۔ وہ دیوانے دیکھے جو عزم و ہمت کا علم ہاتھ میں لئے معانی حیات کی طرف  باانداز طوفان بڑھ رہے تھے۔ اور وہ پروانے دیکھے جو کسی کے جمالِ جاں افروز پہ رہ رہ کے قربان ہو رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ حدیث و قرآن کی بتائی ہوئی راہوں میں اتنا فرق کیوں ہے۔ احادیث کی تاریخ پڑھی تو منکشف ہوا کہ کہیں تو اعدائے اسلام نے توہین اسلام کے لئے اور کہیں ہمارے ملا نے  قرآن کے تیغ و سناں والے اسلام سے بچنے کی خاطر  تقریباً چودہ لاکھ احادیث وضع کر رکھی ہیں۔ جہاں ایک ایک دعا کا صلہ لاکھ لاکھ محل دیا ہوا ہے۔
اس انکشاف کے بعد مجھے یقین ہو گیا کہ مسلمان ہر جگہ محض اسی لئے ذلیل ہو رہا ہے کہ اس نے قرآن کے عمل، محنت اور ہیبت والے اسلام کو ترک کر رکھا ہے۔ وہ اوراد  و اوعیہ کے نشے میں مست ہے۔ اور اس کی زندگی کا تمام سرمایہ چند دعائیں اور چند تعویذ ہیں اور بس۔
اور ساتھ ہی یقین ہو گیا کہ اسلام دو ہیں۔ ایک قرآن کا اسلام جس کی طرف اللہ بلا رہا ہے۔ اور دوسرا وضعی حدیث کا اسلام جس کی تبلیغ پر ہمارے اسی لاکھ مُلا قلم اور پھیپھڑوں کا سارا زور صرف کر رہے ہیں۔
آئیے ذرا اس “حدیثی اسلام” پر ایک تنقیدی نظر ڈالیں۔
برق
کیمبل پور۔25 ستمبر 1949ء
حدیث میں تحریف؟
جب پہاڑ کے دامن سے کوئی چشمہ پھوٹتا ہے تو  اس کا پانی صاف شفاف ہوتا ہے۔ لیکن جوں جوں وہ میدانوں کی طرف  پڑھتا ہے ، خس و خاشاک اور  خاک و غبار کی کی وجہ سے گدلا ہو جاتا ہے۔ یہی حال مذہب کا ہے۔ آج سے 1368 برس پہلے اسلام کا چشمہ دامن فاران سے پھوٹا اور کئی دھاروں میں بٹ کر  مشرق و مغرب کی طرف بڑھا۔ مررورِ زمانہ کے ساتھ ساتھ اس میں مختلف الانواع کثافتیں شامل ہوتی گئیں۔ کہیں عیسائیوں کی رہبانیت  اس میں آملی اور کہیں آریوں کا نظریہ حلول و وحدت الوجود، راہ میں کئی تصوف کی دلدلیں آ گئیں اور کہیں کلام و اعتزال کے خاکستان۔ ان مختلف گزر گاہوں سے ہوتا  اور اس طویل راہ گرد کی آلودگیوں کو سمیٹتا ہوا  جب یہ چشمہ ہم تک پہنچا  تو ہم فیصلہ نہ کر سکے کہ یہ الہامی بلندیوں کا مقطر آب تھا یا کسی بدرو کا مکدر پانی۔ اہل نظر لرزے ، اور متلاشیان حق بے تابانہ منبع کی طرف بڑھے۔ تاکہ ان مقامات کا کھوج لگائیں۔ جہاں سے کثافت اس چشمے میں شامل ہو رہی تھی ، سفر لمبا تھا  منزل کٹھن ، راہبر ناپید، خانہ ساز عقائد کی گھٹائیں محیط اور راہ تاریک ماحول میں گُم۔
 ظلمات بعضھا فوق بعض     (ظلمت تہ بر تہ)
بیسیوں جی ہار کر بیٹھ گئے اور کچھ ان ستاروں کی مدھم روشنی میں آگے بڑھتے گئے جو گھٹاؤں کی چلمن سے ان راہ نوردوں کا تماشہ دیکھ رہے۔ جوں جوں وہ بڑھتے گئے۔ گھٹائیں چھٹتی گئیں، ظلمت سرکتی گئی۔ پردے اٹھتے گئے۔ یہاں تک کہ وہ ایسے خطوں میں جا پہنچے جہاں آفتاب الہام کی تجلیوں سے نگاہیں خیرہ ہوئی جاتی تھیں اور دل و دماغ منور۔ ہر حقیقت وہاں عیاں تھی اور ہر راز بے حجاب ، انھوں نے ملت کو بلند آواز سے پکارا اور کچھ کہا۔ یہ آواز چند کانوں سے ٹکرائی اور پھر گونج بن کر دشت کی پنہائیوں میں گم ہو گئی۔
 
جانتے ہو انھوں نے کیا کہا تھا؟ یہی کہ ہمارے شکم پرست اور خود بین سامریوں نے حرم حقیقت میں سینکڑوں بت بنا رکھے ہیں۔ جن میں ایک کا نام “وضعی احادیث” ہے۔ یعنی وہ اقوال جو لوگوں نے تراش کر حضورؐ کی طرف منسوب  کر دئیے تھے اور آج وہ اقوال رسولؐ کے ساتھ یوں غلط ملط ہو چکے ہیں کہ حق کو باطل سے علیحدہ کرنا ناممکن ہو رہا ہے۔
 
اس میں کلام نہیں کہ ہمارے بعض علماء نے سچ کو جھوٹ سے علیحدہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ راویوں کا سراغ لگایا، ان کے حالات جمع کئے بہ اندازہ ہمت تحقیق کی۔ لیکن معاملہ اس قدر الجھ چکا تھا کہ اسے سلجھانا انسانی دسترس سے باہر تھا۔ وہ زمانہ ہی ایسا تھا کہ علم کم تھا ، لکھنے والے محدود اور ذخائر علم معدوم۔ صحابہ کی تمام تر توجہ قیام سلطنت ، نشر اسلام اور  تعمیر ملت پر صرف ہو رہی تھی۔ ان کے پاس خود رسولؐ موجود تھے اور رسولؐ کے بعد آپ کا دیا ہوا مکمل و اتم ضابطہ حیات یعنی قرآن۔
 
انھیں کیا خبر تھی کہ صرف  صدی کے بعد  لوگ قرآن کو چھوڑ کر احادیث پہ جھک پڑیں گے۔ احادیث کا ذخیرہ بڑھتے بڑھتے چودہ لاکھ تک پہنچ جائے گا۔ ہزارہا اہل غرض لاکھوں احادیث گھڑ کر اس مقدس ذخیرے میں شامل کر دیں گے اور اس وقت مسلمانوں کو صحیح و غلط میں امتیاز کی ضرورت پیش آئے گی۔ اگر انھیں یہ معلوم ہوتا  تو ممکن تھا کہ وہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال جمع کر جاتے۔ لیکن انھوں نے ایسا نہ کیا۔ اس کی بڑی بڑی وجوہ دو تھیں۔
 
اول: وہ قرآن کی موجودگی میں کسی اور کتاب کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے تھے۔ صحیح بخاری میں مذکور ہے کہ جب رحلت سے پہلے حضور نے فرمایا کہ
 
ایتونی بکتاب و قرطاس اکتب لکم شیاءً لن نضلوا بعدی
 
لاؤ قلم دوات اور کاغذ میں تمھیں ایک ایسی چیز لکھ کر دے جاؤں کہ میرے بعد تمھاری گمراہی کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔
تو حضرت عمر ؓ بن خطاب جھٹ بول اٹھے ہمیں مزید کسی تحریر کی ضرورت نہیں ، اس لئے کہ;
حسبنا کتاب اللہ
ہمارے پاس کتاب الٰہی  موجود ہے جس میں انسانی فلاح و نجات کے مکمل گُر درج ہیں ، اور یہ کتاب ہمارے لئے کافی ہے ۔ حضرت فاروق کا یہ جملہ رسالت پناہ کے حضور میں جسارت معلوم ہوتا ہے۔ لیکن وہ مجبور تھے اس لئے کہ کچھ عرصہ پیشتر  قرآن کی یہ آیت نازل ہو چکی تھی;
 
الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی
 
آج میں نے تمھارے دین کو مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تمھیں پوری طرح عطا کر دی ہے۔
 
اس آیت کی رو سے نسل انسانی کی یہ کتاب ہر طرح مکمل اور پوری ہو چکی تھی۔ اس آیت کے ہوتے ہوئے کسی مزید ہدایت کا انتظار بےکار تھا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ایمان کا امتحان لے رہے ہوں۔ اس لئے حضرت فاروقؓ کا یہ جواب نہایت برمحل معلوم ہوتا ہے۔
 
دوم: حضور نے حدیث لکھنے سے روک دیا تھا۔
 
عن ابی سعید الحذری قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا تکتبوا عنی و من کتب عنی شیئاً غیر القرآن فلیمحہ (صحیح مسلم)
 
ابی سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کے بغیر میرا کوئی اور قول قلمبند نہ کرو۔ اور اگر کوئی شخص ایسا قول لکھ چکا ہو تو  اسے مٹا دے۔ 
اور اس کی دو وجہیں تھیں۔
 
اول: کہ کہیں غلطی سے احادیث قرآن کے متن میں شامل نہ ہو جائیں۔ بعض گذشتہ انبیا کے الہامی صحائف  میں ان کی احادیث بھی شامل ہو گئی تھیں اور کتاب الٰہی  کا حلیہ بگڑ گیا تھا۔
 
 دوم: خود رسول کریم صلعم کی زندگی  میں ان کے اقوال محترف ہو چکے تھے اور یہ ہے بھی ایک فطری چیز۔ آدمی کو اپنی کہی ہوئی بات  تک یاد نہیں رہتی ، وہ دوسرے کی کیا یاد رکھ سکتا ہے۔ فرض کرو کہ ایک محفل میں چھ آدمی گھنٹہ بھر گفتگو کرتے رہے ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اختتام مجلس پر تمام گفتگو بالفاظہ دہرا سکیں ؟ نا ممکن ہے۔ اسی طرح فرض کرو کہ ایک واقعے کو پچاس آدمی دیکھتے ہیں۔ اگر آپ ان کے پاس علیحدہ علیحدہ جا کر اس واقعے کی تفصیل قلمبند کریں، تو  آپ کو ان تفاصیل میں کافی اختلاف  نظر آئیں گے۔ اور اگر  چھ ماہ یا سال بعد  انھی لوگوں کے پاس  جا کر اسی واقعے کی تفصیل دوبارہ قلمبند کریں تو یہ اختلاف اور نمایاں ہو گا۔ اور مرُور زمانہ کے ساتھ ساتھ یہ تفاصیل یوں بدلتی جائیں گی کہ ان کا تعلق حقیقت سے منقطع ہو جائے گا۔
 
حضور علیہ السلام انسان کی اس فطری کمزوری سے آگاہ تھے۔ اس لئے آپ نے حکم دے دیا تھا کہ میری حدیث قید کتابت میں مت لاؤ۔ صرف چند صحابہ کو حفظ کی کمزوی پر انفرادی اجا زت ملی جو ذاتی ٹوٹس لکھتے اکثر حفظ کرکہ مٹا دیتے کچھ نہیں نہ ، مگر یہ افرادی فعل تھا عام اجازت نہ تھی ، بہت صحا بہ کو اجازت نہ ملی جن میں ابو ھریرہ ، خضری اور کی صحابہ شامل ہیں- [تفصیل لنک پر ]
ممکن ہے کہ آپ یہ کہیں کہ انسان اپنے یا اپنے ساتھی کی بات تو بھول سکتا ہے لیکن وہ اپنے رہبر اور محبوب پیمبر کی بات نہیں بھول سکتا۔ میں عرض کروں گا کہ آپ یہاں بھی غلطی پر ہیں۔ آپ میں سے لاکھوں نے اپنے محبوب و محترم  لیڈر حضرت قائد اعظمؒ کی بیسیوں تقاریر سنی ہوں گی۔ جنھیں بعد میں پاکستان ریڈیو نے بھی بارہا دہرایا۔ لیکن آپ میں سے کتنے ایسے ہیں جنھیں آج ان تقاریر کے تین فقرے بھی یاد ہوں۔ انسان ہے ہی فراموش کا ر ، وہ سنتا ہے اور بھول جاتا ہے۔
 
 آپ کو تاریخ کا ایک اہم واقعہ یاد ہو گا کہ کچھ عرصۂ بعد عراق کا  قرآن حجاز سے مختلف ہو گیا تھا۔ کیوں؟ اس لئے نہیں کہ کوئی بد نیت تحریف قرآن پہ تل  گیا تھا۔ بلکہ اس لئے کہ ان کے سامنے قرآن کا کوئی نسخہ موجود نہیں تھا۔ اس لئے بعض آیات حافظہ سے اتر گئیں۔ اور بعض میں کچھ رد و بدل ہو گیا تھا۔ حضرت فاروقؓ نے اس کا علاج یہ کیا کہ قرآن کے محصف جمع کرکہ حضرت حفصہ رضی الله کے پاس رکھوا دیا ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ نے دوبارہ کمیٹی بنا کر قرآن کے مستند نسخے لکھوا کر قلمرو کے مختلف حصوں میں بھیج دئیے اور قرآن تحریف سے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔
آنحضرت صلعم نے کتاب حدیث سے منع فرما دیا تھا ، کچھ صحابہ کو خراب حافظہ پر ذاتی نوٹ لکھنے کی اجا زت عطا فرمائی اور کچھ کو انکار ہوا – مگر کتاب صرف ایک  قرآن ، کہ پہلی قومیں کتاب الله کے ساتھ دوسری کتب لکھ کر گمراہ ہوائیں، اسی پالسی پرخلفاء راشدین کاربند رہے جن کی سنت پر عمل کرنے کا رسول الله نے حکم دیا تھا -یہ  قرآن.. کے   حکم  کے  مطابق  تھا –
خلفا  اور جو چیز لکھی نہ جائے وہ لازماً پہلے بگڑتی ہے اور بلا آخر مٹ جاتی ہے۔ حضورؐ کا مقصد بھی یہی تھا کہ قرآن کریم کے بغیر کوئی اور کتاب ہدایت باقی نہ رہے۔ اس لئے حضورؐ اور ان کے صحابہؓ قرآن کو ایک مکمل ضابطہ حیات تصور فرماتے تھے۔ اور اس کی موجودگی میں کسی اور کتاب کی قطعاً ضرورت نہیں سمجھتے تھے۔ورنہ اگر صحابہ کو ایک لمحے کے لئے بھی یہ خیال آتا کہ قرآن کی تفصیل، تکمیل، تفسیر یا امت کی رہبری کے لئے حدیث کا زندہ رہنا ضروری ہے تو ان کے لئے حدیث کی تدوین نہایت آسان تھی۔
 پانچ چھ ہزار احادیث کا  ایک مجموعہ تیار کرا نا مشکل نہ تھا۔ تمام صحابہ زندہ تھے ان کی بیشتر تعداد مدینہ میں موجود تھی۔ اور بعض روایات کے مطابق حضرت عبداللہ بن عمروؓ حضرت انس بن مالکؓ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے پاس احادیث کی کافی تعداد لکھی ہوئی بھی تھی۔ راویوں کا لمبا چوڑا جھمیلا بھی نہیں تھا۔ ان حالات میں اگر حضرت صدیقؓ یا فاروقؓ (عثمان یا علی رضی الله ) چاہتے تو صرف ایک مہینے میں سرور عالمؐ کے تمام اقوال جمع ہو سکتے تھے۔
لیکن انھوں نے ایسا نہ کیا۔ کیوں ؟ کیا انھیں اقوال رسولؓ سے معاندت تھی؟ عیاذاً باللہ!  کیا انھیں اسلام سے محبت نہ تھی ؟ استغفراللہ ! بات یہی تھی کہ اقوال رسول میں تحریف ہو چکی تھی۔ نیز رسول اکرم صلعم کا حکم تھا کہ احادیث مت لکھو۔  مزید برآں  انھیں اس حقیقت پر بھی محکم ایمان تھا کہ قرآن ہر لحاظ سے مکمل ہے۔ اس لئے انھوں نے احادیث کو در خور اعتنا نہ سمجھا۔

…………………..

 ترکی میں احادیث کی جدید تحقیق اور ترتیب: 
…………………………………….

علامہ ڈاکٹرمحمد اقبال کسی تعارف کے محتاج نہیں، وہ پاکستان کے قومی شاعر، جدید مسلم فلاسفر، مفکر، دانشور اور قانون دان کےعلاوہ بانیان پاکستان میں بھی شامل ہیں. ان کی شا عری بہت مشہور ہے مگر مسلمانوں کی فکری تجد ید پر ان کے سات لیکچروں [ Reconstruction of Religious Thought in Islam]  “اسلام میں تفکر کا انداز جدید” پر بہت کم توجہ دی گیئ.  ان لیکچروں کو سمجھنے ،غور و فکر، تجزیہ ،پھہلا ؤ اور بتدریج  عملی اقدام کی ضرورت ہے تاکہ  امت  مسلمہ صدیوں  کے   جمود  سے نکل کر  جدید  دنیا  میں اپنا   حقیقی  مثبت  کردار ادا کر سکے –  علامہ اقبال نے یہ لیکچر مدراس، حیدر آباد، اور علی گڑھ (انڈیا)  میں دیے جو کہ ١٩٣٠ میں کتابی شکل میں شا یع ہوے- تمام لیکچرز انگریزی اور اردو  زبان میں اور ویڈیو لیکچرز  کی شکل میں مہیا کر دی ہیں-
علامہ اقبال کا لیکچر نمبر 6 “اسلام کی تعمیر میں اصول حرکت”; در اصل “اسلام میں تفکر کا انداز جدید” کے تمام لیکچروں میں سب سے زیادہ اہم ہے کیوں کہ اقبال کا “اسلامی تفکر جدید” کا تصور اسی موضوع کے گرد گھومتا ہے جو کہ “اجتہاد” یعنی قانونی معاملات پر آزادانہ رایے قائم کرنا- قرآن سے ماخوز قانونی اصول، بدلتے  زمانہ اور حالات کے مطابق پھیلاؤ اور ترقی کی صلاحیت رکھتے ہیں-  حضرت عمر رضی اللہ نے حالات کے مطابق اجتہاد کیا. چہار فقہی مکاتب کے بعد اسلامی فقہ جمود کا شکار ہو گیا  کیونکہ مختف وجوہ کی بنا پر اجتہاد کے دروازے بند کر دیے گیۓ. اس سے مسلم امت کو کچھ فائدے مگر نقصانات زیادہ ہوے. ابن تیمیہ ر ح پھر عبد الوہاب ر ح نے جمود کو توڑنے کی کوشش کی .
شاہ ولی اللہ کے مطابق (بنیادی عقاید کے علاوہ) عام شریعیت اس وقت کے معاشرہ کی ضروریات کے مد نظر تھیں اور ان پر عمل ہمیشہ کے لیے حتمی نہیں کہ مستقبل کی نسلوں پرمکمل طور اسی طرح  پر نافذ کیا جا سکے. اس لیے امام ابو حنیفہ نے “استحسان” اختیار کیا- اقبال اس نتیجہ پر پہنچے کہ آج کے مسلمان موجودہ حالات کے مطابق اپنی معاشرتی زندگی کی ‘تعمیر نو’ اسلام کے بنیادی اصولوں کی روح کے مطابق کریں-

 <<چھٹا خطبہ>> اس پر روشنی ڈالتا ہے.مکمل کتاب، لیکچر اردو، انگریزی اور  ویڈیوز << یہاں>> حاصل کریں- تخلیص و ترجمہ : خطبات اقبال – ڈاکٹر خللیفہ حکیم 
…………………………………….

دو اسلام” کتاب پر شدید اعتراضات ہوے سینکڑوں تنقیدی  تبصرے اور کتابیں لکھی گییں. مولانا مسعود احمد بی۔ایس۔سی  کی  “تفہیم اسلام”  بجواب” دو اسلام” مشہور ہوئی۔ وہ بعد میں گمراہ ہو گیے ایک نیا تکفیری فرقہ بنا کر مرچکے ہیں –  کھا جاتا ہے کہ غلام جیلانی برق صاحب نے اپنے موقف سے رجوع کیا اور کتاب “تاریخ حدیث” لکھی (٢٠٠٩)-  جس میں تاریخ تدوین  حدیث    کی مختصر  تاریخ  ہے ، مگر صرف  سات سو  غیر  متنازعہ احادیث  جو،  ان  کے  پرانے نقطہ نظر  (قرآن سے مطابقت رکھنے پر مشروط )  بیان  کیں ۔مگر   “حرف  ثانی” کے  مطابق،  ١٩٥٦ تک وہ اپنے نقطہ نظر پر قایم نظر آتے ہیں –(واللہ  عالم)

درج ذیل لنک  پر  کتب اور ریفرنس  مہیا کر دی گے ہیں تاکہ اہل علم اور سچائی کے متلاشی، کھلے دماغ کے لوگ  علمی زخیرہ  سےاستفادہ کر کہ اپنی آزادانہ راے قایم کر سکیں. 

یقیناً اللہ کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے (8:22 قرآن) 

  • دو اسلام – ڈاکٹر غلام جیلانی برق 
  • تفہیم اسلام جواب، دو اسلام” مولانا مسعود احمد بی۔ایس۔” 
  • تاریخ حدیث – ڈاکٹر غلام جیلانی برق

کتابیں یہاں پڑھیں یا داؤن لوڈ کریں :

  1. https://goo.gl/kUKTxW  
  2. http://goo.gl/kszg5a
  3. http://kitaben.urdulibrary.org/Pages/DoIslam.html
  4. Dual Islam [English version of DOO ISLAM دو اسلام ]: https://goo.gl/GOZwbf  Pdf
  5.  ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی تمام << کتابیں >>

تجديد الإسلام [پہلی صدی کے اسلام دین کامل کی بحالی]

  1. Urdu اردو

    English

حوالہ جات References /Links 

 تبصرے، تنقید  اور خیالات – Controversies & Discussion
This book created a lot  of controversies, hundreds of books and articles were written, some links can be found below. 

دو اسلام کے جواب میں سینکڑوں کتب تحریر کی گئیں۔ جن میں سے مولانا سرفراز خان صفدر نے صرف ایک اسلام، مفتی احمد یا خان نعیمی نے ایک اسلام، حافظ محمد گوندلوی نے دوامِ حدیث، مولانا مسعود احمد بی۔ایس۔سی نے تفہیم اسلام بجواب دو اسلام اس کتاب میں مسعود احمد صاحب نے “دو اسلام” کے ایک ایک پیرا کا علیحدہ علیحدہ جواب لکھا ہے۔ کھا جاتا ہے کہ اس کتاب (تفہیم اسلام بجواب دو اسلام) کو پڑھ کر غلام جیلانی برق صاحب نے اپنے موقف سے رجوع کیا اور کتاب تاریخ تدوین حدیث لکھی۔

غلام جیلانی برق نے اپنی پہلی تین کتب، ایک اسلام، د واسلام، اور دو قرآن سے رجوع کر لیا تھا یا نہیں، اس پر ان کی زندگی میں بھی اور بعد از وفات بھی بحث جاری ہے۔ رجوع کے حامی ان کے کچھ مکتوبات جو جیلانی برق کی حیات میں مختلف کتب میں شائع ہوئے، جن میں انھوں نے اپنی کتب کے مندرجات سے رجوع کیا ہے۔اور دیگر کتب میں ان کتب میں پیش کردہ نظریات کے برخلاف دوسرا نقطہ نظر پیش کیا، جیسے تدیون حدیث، اور محدثین کی زندگی پر کتاب لکھ کر۔ حالیہ برسوں میں پاکستان میں دو معروف کالم نویسوں جاوید چودھری ، اوریا مقبول جان کے درمیان بھی یہ بحث جاری ہے:
  1.  http://www.urduweb.org/mehfil/threads/دو-اسلام-از-ڈاکٹر-غلام-جیلانی-برق.89899/page-2 
  2. Controversy: http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2015/04/28/41732
  3. http://urdu.alarabiya.net/ur/politics/2015/04/26/-دو-اسلام-.html
  4. http://www.urduweb.org/mehfil/threads/برقیائی-گئی-پانچ-اسلامی-و-تاریخی-کتب-۔.30424/page-3
  5. http://kitaben.urdulibrary.org/Pages/DoIslam.html
  6. دو اسلام از ڈاکٹر غلام جیلانی برق – 1 http://awarafikar.blogspot.com/2016/05/1.html 
  7. https://www.facebook.com/Quddusia/posts/665511020221231
  8. https://ur.wikipedia.org/wiki/غلام_جیلانی_برق
  9. http://baazauq.blogspot.com/2010/12/inkaar-e-hadees-se-taarikhe-hadees-tak.html
  10. تاریخ حدیث-  ڈاکٹر مرتضیٰ مطھری: http://kitaben.urdulibrary.org/Pages/Tarikh2.html
  11. تفہیم اسلام  بجواب دو اسلام  http://ia600503.us.archive.org/35/items/Tafheem-e-Islam/Tafheem-e-Islam.pdf
  12. Dual Islam- English version: http://freebookpark.blogspot.com/2016/05/dual-islam.html
  13. دو اسلام – ڈاکٹر غلام جیلانی برق https://wp.me/p9pwXk-1dY
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
مزید پڑھیں:
    1. بدعة،  گمراہی (ضَلَالَۃٌ)
    2. اسلام ، مسلم فرقہ واریت کا خاتمہ 
    3. قرآن اور عقل و شعور
    4. اصول دین (بنیادی عقائد) اور فروع دین ( ارکان اسلام )
    5. مسلمانوں کا قرآن کو ترک ( مھجور) کرنا (25:30)
    6. اہم احادیث 
    7. حادیث لکھنے کی ممانعت
    8. احادیث پر احادیث – تقييد العلم للخطيب البغدادي
    9. رسول اللہ ﷺ وصیت  (ابی داوود 4607, ترمزی 266 )  کا انکار اور بدعت 
    10. سنت خلفاء راشدین کی شرعی حثیت اور کتابت حدیث  کیوں نہ کی؟
    11. رسول اللہ ﷺ کا حدیث کی درستگی اور پہچان کا میعار
    12. مسلمان بھی یہود و نصاری کے نقش قدم پر
    13. قرآن و حدیث اور” توریت و تلمود” موازنہ
    14. تجدید اسلام کا آغاز 
    15.  تجديد الإسلام کا آغاز  / MBS Video 
    16. تدوین قرآن مجید 
    17. ‎قرآن احسن الحدیث
    18. قرآن کا تعارف قرآن سے
    19. اہم آیات قرآن
    20. موضوع تحقیق (تھیم)
    21. خلاصہ تحقیق –  تجديد الإسلام-1
    22. : احیاء دین کامل 
    23. حدیث لسٹ https://wp.me/scyQCZ-list  Hadith List
    24. اہل قرآن اور اہل حدیث کے مغالطے
    25. سینٹ پال ، سینٹ پطرس اور امام بخاری (رح ) کے خواب
    26.  من گھڑت داستانوں سے حقائق  مسخ ، رسول اللہﷺ کی حکم عدولی
    27. حضرت عمر (رضی الله) کا اہم ترین کارنامہ(1)
    28. حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اجتہاد
    29. حضرت عمر بن خطاب  ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ (سیرہ)
    30. عظیم فاتح: اﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ یا ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ؟
    31. Caliph Umer & Hadith
    32. Uumar Ibn Al-khattab By Micheal Hart
    33. البدعة الكبيرة Big Bid’ah
    34. تجديد الإسلام  (ای – بک)
    35. آخری رسول اور آخری کتاب – قرآن : اطاعت رسول و سنت
    36. حدیث کی قبولیت ، قرآن سے مشروط ( مودودی )
    37. اسنت , حدیث اور متواتر حدیث
    38. وحی متلو اور غیر متلو تحقیقی جائزہ (1)
    39. وحی متلو  اور غیر متلوتحقیقی جائزہ (2) [قرآن کا مثل ؟]
    40. الله ، قرآن پر غلط بیانی کرنا حرام [Don’t Hide Truth ]
    41.  “کتاب حدیث” ممنوع – قرآن 
    42. کتمان حق : آیات قرآن اور علم حق کو چھپانا سنگین جرم 
    43. فقیہ و محدثین
    44. احیا  دین کامل -٩٩: تحقیق کے اہم نقاط و نتائج
    45. دلیل روشن کے ساتھ ہلاک یا زندہ -( سورة الأنفال42)
    46. حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تین جھوٹ: حدیث اور اسرائیلیات
    47. فقیہ و محدثین
    48. عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
    49. عالم، محدث، مفسرین صحابہ نے  حدیث لکھنے کی ممانعت  پر مکمل عمل کیا  
    50. تجديد الإسلام- خلاصہ تحقیق-2
    51. مچھلی سمندری ، آبی جانور حلال: قرآن
    52. تجديد الإسلام: سوشل میڈیا پوسٹثس سمری
    53. شیعہ اصلاحات