نماز تراویح کی رکعات؟ Taraveeh

اگرکوئي نماز تراویح امام ابوحنیفہ ، امام شافعی ، اورامام احمد رحمہم اللہ کے مسلک کے مطابق بیس رکعت یا امام مالک رحمہ اللہ تعالی کے مسلک کے مطابق چھتیس رکعات ادا کرے یا گیارہ رکعت ادا کرے تو اس نے اچھا کیا ، جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ تعالی نے عدم توقیف کی بنا پر تصریح کی ہے ، تورکعات کی کمی اورزيادتی قیام لمبا یا چھوٹا ہونے کے اعتبار سے ہوگي ۔(شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی )

امام سیوطی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں : صحیح اورحسن احادیث جن میں رمضان المبارک کے قیام کی ترغیب وارد ہے ان میں تعداد کی تخصیص نہیں ، اورنہ ہی یہ ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز تراویح بیس رکعت ادا کی تھیں ، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنی راتیں بھی نماز تروایح کی جماعت کروائی ان میں رکعات کی تعداد بیان نہیں کی گئي ، اورچوتھی رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز تراویح سے اس لیے پیچھے رہے کہ کہيں یہ فرض نہ ہوجائيں اورلوگ اس کی ادائيگي سے عاجز ہوجائيں ۔

رمضان کے مبارک مہینہ میں سوشل میڈیا پر کچھ مسلمان جوش میں ٨ یا ٢٠ تراویح پر بحث شروع دیتے ہیں-  مسلمان کو اجتھادی مسائل میں اس طرح کا معاملہ  نہيں کرنا چاہیے کہ وہ اہل علم کے مابین اجتھادی مسائل کو ایک حساس مسئلہ بنا کراسے آپس میں تفرقہ اورمسلمانوں کے مابین فتنہ کا باعث بناتا پھرے ۔ شیخ ابن ‏عثیمین رحمہ اللہ تعالی دس رکعت ادا کرنے کےبعد بیٹھ کروترکا انتظار کرنے اورامام کے ساتھ نماز تراویح مکمل نہ والے شخص کے بارہ میں کہتے ہیں کہ : ہمیں بہت ہی افسوس ہوتا ہے کہ امت مسلمہ میں لوگ ایسے مسائل میں اختلاف کرنے لگے ہیں جن میں اختلاف جائز ہے ، بلکہ اس اختلاف کو وہ دلوں میں نفرت اوراختلاف کا سبب بنانے لگے ہیں ، حالانکہ امت میں اختلاف تو صحابہ کرام کے دور سے موجود ہے لیکن اس کے باوجود ان کے دلوں میں اختلاف پیدا نہیں ہوا بلکہ ان سب کے دل متفق تھے ۔ اس لیے خاص کرنوجوانوں اورہرملتزم شخص پر واجب ہے کہ وہ یکمشت ہوں اورسب ایک دوسرے کی مدد کریں کیونکہ ان کے دشمن بہت زيادہ ہیں جوان کے خلاف تدبیروں میں مصروف ہیں ۔

ہمیں افراط وتفریط اورغلو زيب نہيں دیتا ، کیونکہ بعض لوگ تراویح کی تعداد میں سنت پر التزام کرنے میں غلو سے کام لیتے اورکہتےہیں : سنت میں موجود عدد سے زيادہ پڑھنی جائز نہيں ، اوروہ گیارہ رکعت سے زيادہ ادا کرنے والوں کوگنہگار اورنافرمان قرار دیتے اور ان کی سخت مخالفت کرتے ہیں ۔ بلاشک وشبہ یہ غلط ہے ، اسے گنہگار اورنافرمان کیسے قرار دیا جاسکتا ہے حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز کے بارہ میں سوال کيا گيا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( دو دو ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں پر تعداد کی تحدید نہیں کی ، اوریہ معلوم ہونا چاہیے کہ جس شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھااسے تعداد کا علم نہیں تھا ، کیونکہ جسے نماز کی کیفیت کا ہی علم نہ ہواس کاعدد سے جاہل ہونا زيادہ اولی ہے ، اورپھر وہ شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خادموں میں سے بھی نہیں تھا کہ ہم یہ کہیں کہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ہونے والے ہرکام کا علم ہو ۔ لھذا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تعداد کی تحدید کیے بغیر نماز کی کیفیت بیان کی ہے تو اس سے یہ معلوم ہوا کہ اس معاملہ میں وسعت ہے ، اورانسان کے لیے جائزہے کہ وہ سو رکعت پڑھنے کے بعد وتر ادا کرے ۔

بہر حال انسان کو چاہیے کہ وہ کسی وسعت والے معاملے میں لوگوں پر تشدد سے کام نہ لے ، حتی کہ ہم نے اس مسئلہ میں تشدد کرنے والے بھائیوں کو دیکھا ہے کہ وہ گیارہ رکعت سے زيادہ آئمہ کو بدعتی قرار دیتے اورمسجد نے نکل جاتے ہیں جس کے باعث وہ اس اجر سے محروم ہوجاتے ہیں جس کے بارہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ :

( جو بھی امام کے ساتھ اس کے جانے تک قیام کرے اسے رات بھر قیام کا اجروثواب حاصل ہوتا ہے ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 806 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح سنن ترمذی ( 646 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

کچھ لوگ دس رکعت ادا کرنے کے بعد بیٹھ جاتے ہیں جس کی بنا پر صفوں میں خلا پیدا ہوتا اورصفیں ٹوٹ جاتی ہیں ، اوربعض اوقات تو یہ لوگ باتیں بھی کرتے ہیں جس کی بنا پر نمازی تنگ ہوتے ہیں ۔ ہمیں اس میں شک نہيں کہ ہمارے یہ بھائي خیر اوربھلائي ہی چاہتے ہيں اوروہ مجتھد ہیں لیکن ہر مجتھد کا اجتھاد صحیح ہی نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات وہ اجتھاد میں غلطی بھی کربیٹھتا ہے ۔


نبی اکرم اکے ارشادات کی روشنی میں امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ نمازِ تراویح فرض نہیں؛ بلکہ سنت موٴکّدہ ہے۔ البتہ ۱۴۰۰ سال سے جاری عمل کے خلاف بعض حضرات ۲۰ رکعت نمازِ تراویح کو بدعت یا خلاف ِسنت قرار دینے میں ہر سال رمضان اور رمضان سے قبل اپنی صلاحیتوں کا بیشتر حصہ صرف کرتے ہیں، جس سے امت مسلمہ کے عام طبقہ میں انتشار پیدا ہوتا ہے؛ حالانکہ اگر کوئی شخص ۸ کی جگہ ۲۰ رکعت پڑھ رہا ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہی تو ہے؛ کیونکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں ساری امت مسلمہ متفق ہے کہ رمضان کی راتوں میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے، نیز حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت سے امت مسلمہ جماعت کے ساتھ ۲۰ ہی رکعت تراویح پڑھتی آئی ہے، حرمین (مسجد حرام اور مسجد نبوی) میں آج تک کبھی بھی ۸ رکعت تراویح نہیں پڑھی گئیں۔

اس موضوع سے متعلق احادیث کا جتنا بھی ذخیرہ موجود ہے، کسی بھی ایک صحیح ،معتبر ،اور غیرقابل نقد وجرح حدیث میں نبی اکرم اسے تراویح کی تعداد رکعت کا واضح ثبوت نہیں ملتا ہے، اگرچہ بعض احادیث میں جن کی سند میں یقینا کچھ ضعف موجود ہے ۲۰ رکعت کا ذکر ملتا ہے۔

خلیفہٴ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں بیس رکعت تراویح اورتین رکعت وتر جماعت کے ساتھ پڑھنے کا اہتمام ہوا،جیساکہ محدثین،فقہاء ، موٴرخین اور علماء کرام نے تسلیم کیا ہے۔ علامہ ابن تیمیہ  فرماتے ہیں کہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے سب صحابہ کو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت میں جمع کیا تو وہ بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھاتے تھے۔ حضرت عمر فاروق ان خلفاء راشدین میں سے ہیں، جن کی بابت نبی اکرم انے فرمایا ہے کہ میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت پر عمل کرو اور اسی کو ڈاڑھوں سے مضبوطی سے پکڑے رکھو۔ علامہ ابن تیمیہ  فرماتے ہیں کہ حضور اکرم انے ڈاڑھوں کا ذکر اس لیے کیا کہ ڈاڑھوں کی گرفت مضبوط ہوتی ہے، لہٰذا حضرت عمر فاروق  کا یہ اقدام عینِ سنت ہے۔ (فتاوی ابن تیمیہ ج ۲ ص ۴۰۱، ج ۲۲ ص ۴۳۴)

ام الموٴمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات ۵۷ یا ۵۸ ہجری میں ہوئی او ر حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے ۱۵ ہجری میں تراویح کی جماعت حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت میں باقاعدہ شروع فرمائی، اگر بیس رکعات تروایح کا عمل بدعت ہوتا تو ۴۲سال کے طویل عرصہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا آٹھ رکعت والی حدیث کو بیس رکعت پڑھنے والوں کے خلاف پیش کرنا ثابت ہوتا؛ حالانکہ ایسا نہیں ہوا، بلکہ سعودی عرب کے نامور عالم ، مسجد نبوی کے مشہور مدرس اور مدینہ منورہ کے (سابق) قاضی الشیخ عطیہ محمد سالم (متوفی ۱۹۹۹) نے نماز تراویح کی چودہ سو سالہ تاریخ پر عربی زبان میں ایک مستقل کتاب لکھی ہے جس میں ثابت کیا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت سے آج تک حرمین (مسجد حرام اور مسجد نبوی) میں کبھی بھی ۲۰ سے کم تراویح نہیں پڑھی گئیں۔ پڑھتے جائیں>>>>>

اہل حدیث کانقطہ نظر>>>>

چودہ سو سالوں سے مسلمانوں کی اکثریت کا ٢٠ تراویح پر اجماع ہے ، اجماع  کی اہمیت کے کیا سے؟

اجماع

فقہ اسلام کی ایک اصطلاح اور اسلامی شریعت کا تیسرا اہم مآخد جس سے مراد علمائے امت کا یا ان کی بڑی اکثریت کا، ہر زمانے میں کسی مسئلہ پر متفق ہوجانا جس کے بارے میں قرآن و حدیث میں واضح حکم موجود نہ ہو۔

اجماع، امت (محمدیہ) کے مجتہدین کے اس اتفاق کا نام ہے جو حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد کسی زمانہ میں کسی بھی امر (بات) پر ہوا ہو.

حجیتِ اجماع قرآن مجید سے

جمہور مسلمین اجماع کی حجیت کے قائل ہیں، اجماع کی حجیت کتاب وسنت سے ثابت ہے، ارشادِ باری تعالٰیٰ ہے :

يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَطيعُوا اللَّهَ وَأَطيعُوا الرَّسولَ وَأُولِى الأَمرِ مِنكُم ۖ فَإِن تَنٰزَعتُم فى شَيءٍ فَرُدّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسولِ إِن كُنتُم تُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ ۚ ذٰلِكَ خَيرٌ وَأَحسَنُ تَأويلًا {4:59}

اے ایمان والو! حکم مانو اللہ (تعالٰیٰ) کا اور حکم مانو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا اور اولولاَمر کا جو تم میں سے ہوں، پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اسے لوٹاؤ اللہ (تعالٰیٰ) اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف، اگر تم ایمان (ویقین) رکھتے ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر، یہ بات اچھی ہے اور بہت بہتر ہے اس کا انجام۔(سورہ-النساء:٥٩)

اس آیات میں ادلہ اربعہ (چاروں دلیلوں) کی طرف اشارہ ہے :
1۔ اَطِيْعُوا اللّٰهَ سے مراد “قرآن” ہے،
2۔اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ سے مراد “سنّت” ہے اور
3۔ اُولِي الْاَمْرِ سے مراد “علما و فقہا” ہیں،
4۔ ان میں اگر اختلاف و تنازع نہ ہو بلکہ اتفاق ہوجاتے تو اسے “اجماعفقہاء” کہتے ہیں .(یعنی اجماعفقہاء کو بھی مانو). اور اگر ان اُولِي الْاَمْرِ(علما و فقہا) میں اختلاف ہو تو ہر ایک”مجتہد” کے اجتہاد و استنباط کو “قیاس_شرعی” کہتے ہیں .

وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَاتَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَاتَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا”۔ (النساء:115)

ترجمہ:جو شخص رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی مخالفت کرے گا اس کے بعد کہ اس پر ہدایت واضح ہوچکی ہو اور اہلِ ایمان کے راستے کے علاوہ دوسرے راستہ کی پیروی کرے گا تو ہم اس کو اس طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھرگیا اور اسے جہنم میں داخل کریں گے۔

آیت بال میں باری تعالٰیٰ نے رسول (صلى الله عليه وسلم) کی مخالفت اور سبیل مؤمنین کے علاوہ دوسروں کے سبیل کی اتباع پر وعید بیان فرمائی ہے اور جس چیز پر وعید بیان کی جائے وہ حرام ہوتی ہے ؛ لہٰذا رسول کی مخالفت اور غیر سبیل مؤمنین کی اتباع دونوں حرام ہوں گی اور جب یہ دونوں حرام ہیں تو ان کی ضد یعنی رسول کی موافقت اور سبیل مؤمنین کی اتباع واجب ہوگی اور مؤمنین کی سبیل اور اختیار کردہ راستہ کا نام ہی اجماع ہے ؛

لہٰذا اجماع کی اتباع کا واجب ہونا ثابت ہو گیا اور جب اجماع کا اتباع واجب ہے تو اس کا حجت ہونا بھی ثابت ہو گیا، قاضی ابویعلیؒ (متوفی:458ھ) اور علامہ آمدی نے اس آیت سے اجماع کی حجیت کے ثبوت پر بڑی نفیس بحث کی ہے جو لائقِ مطالعہ ہے۔ (الاحکام آمدی:1/287۔ اصول الفقہ ابوزہرہ:161۔ ارشاد الفحول:113)

حجیت اجماع احادیث

آپ (صلى الله عليہ وسلم) کا ارشاد ہے :
“عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَايَجْمَعُ أُمَّتِي أَوْقَالَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضَلَالَةٍ”۔

(ترمذی، بَاب مَا جَاءَ فِي لُزُومِ الْجَمَاعَةِ، كِتَاب الْفِتَنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر:2093)

ترجمہ:حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ:اللہ تعالٰیٰ میری امت کو یا (راوی نے کہا) کہ محمد صلى الله عليه وسلم کی اُمت کو ضلالت وگمراہی پر مجتمع نہیں کریگا۔

نیز آپ (صلى الله عليه وسلم) کا فرمان ہے : “فَمَا رَأَى الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَعِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ وَمَارَأَوْا سَيِّئًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ سَيِّئٌ”۔ (مسندِاحمد، حدیث نمبر3600)

ترجمہ:جس چیز کو مسلمان اچھا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہے اور جس چیز کو مسلمان بُرا سمجھیں وہ اللہ تعالٰیٰ کے نزدیک بھی بری ہے۔

ایک اور موقع سے آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: “مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْراً فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ”(مشکوٰۃ:31)

ترجمہ:جوشخص جماعت سے بالشت برابر جدا ہوا تواس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے الگ کردی۔

ایک جگہ ارشاد ہے : “مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةِ مَاتَ مَيْتَةً جَاهِلِيَّةً”۔ (مصنف عبد الرزاق، كتاب الصلاة، باب الأمراء يؤخرون الصلاة، حدیث نمبر:3779)

ترجمہ:جو جماعت سے الگ ہو جائے تواس کی موت جاہلیت کے طرز پر ہوگی۔

یہ تمام احادیث قدرے مشترک اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ امت اجتماعی طور پر خطا سے محفوظ ہے، یعنی پوری امت خطا اور ضلالت پر اتفاق کرے ایسا نہیں ہو سکتا ہے اور جب ایسا ہو تو اجماع امت کے ماننے اور اس کے حجتِ شرعی ہونے میں کوئی کلام نہیں ہے.

مسلمانوں کو چاہئیے کہ جن باتوں پر اجماع امت ہے ان مسائل کو اختلافی نہ بنائیں، فرقہ واریت، فساد سے پرہیز کریں ۔ اور اتفاق پر زور دیں

واضح رہے کہ یہ ساری بحث سنیت کا اعتقاد رکھتے ہوئے رکعات کی تعداد مسنون کے متعلق ہے ورنہ اگر کوئی شخص سنت مؤکدہ کے ارادہ سے آٹھ پڑھ کر بہ نیت نوافل جس قدر زیادہ پڑھنا چاہے اس کے لئے جائزہ ہے جن کا اجراء سے الگ ملے گا مگر ان نوافل کے کوئی تعداد مقرر (نبی ﷺ) یا صحابہ سے ثابت نہیں بلکہ صحابہ سے مختلف تعداد میں نوافل نقل کئے جاتے ہیں۔ مثلاً چھتیس اور چالیس۔ چنانچہ امام ابن الہمام فرماتے ہیں والْبَاقِیْ مُسْتَحَبًّا یعنی آٹھ سے زیادہ مستحب رکعات ہیں-

  1. http://library.ahnafmedia.com/37-books/ramadhan-virtues-and-problems/38-ghair-muqalledeen-k-mauqaf-aur-shubhaat-ke-haqiqat
  2. https://islamqa.info/ur/answers/9036/
  3. http://magazine.mohaddis.com/shumara/124-nov1971/1736-rakat-taraveeh-sunnat-tamil-sahaba
  4. https://ur.wikipedia.org/wiki/اجماع_(فقہی_اصطلاح)