قرآن کا تعارف قرآن سے

 
 
قرآن کا بہترین تعارف قرآن خود کراتا ہے :

قرآن و سنت اسلام کی بنیاد ہے- قرآن پر عمل سے ہی صحیح اسلام ممکن ہے اور فرقہ واریت کا سد باب کیا جاسکتا ہے- قرآن کی ہر آیات اہم ، قابل غور و فکر و عمل ہے-

قرآن کے تین احکام :

اِنَّمَاۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ رَبَّ ہٰذِہِ الۡبَلۡدَۃِ الَّذِیۡ حَرَّمَہَا وَ لَہٗ کُلُّ شَیۡءٍ ۫ وَّ اُمِرۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿ۙ۹۱﴾وَ اَنۡ اَتۡلُوَا الۡقُرۡاٰنَ ۚ فَمَنِ اہۡتَدٰی فَاِنَّمَا یَہۡتَدِیۡ لِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ ضَلَّ فَقُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُنۡذِرِیۡنَ ﴿النمل ۹۲﴾

“مجھے تو بس یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے پروردگار کی عبادت کرتا رہوں جس نے اسے حرمت والا بنایا ہے جس کی ملکیت ہرچیز ہے اور مجھے حکم دیاگیا ہے کہ میں مسلمان بن کرر ہوں- اور یہ قرآن پڑھ کر سناؤں ۔ اب جو ہدایت اختیار کرے گا وہ اپنے ہی بھلے کے لیے ہدایت اختیار کرے گا ۔ اور جو گمراہ ہو اس سے کہہ دو کہ میں تو بس خبر دار کر دینے والا ہوں “۔(قرآن 27:91,92)

“I have been commanded to worship the Sustainer of this City, Who has made it sacred, and unto whom all things belong, and I am ordered to be one of the Muslims. And to convey this Qur’an. Whoever is guided is guided for his own good, and if they go astray, then say, “I am simply a warner.”(Quran;27:91-92)

قرآن سے دوری کی شکایت رسول الله بروز قیامت کریں گے :

وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا ﴿٧٣ الفرقان﴾

اور جب انہیں ان کے پروردگار کی آیتوں کے ذریعہ سے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ بہرے اور اندھے ہوکر ان پر گر نہیں پڑتے (بلکہ ان میں غور و فکر کرتے ہیں)۔ (25:73الفرقان)

قرآن کے متعلق الله نے واضح  کر دیا کہ :

  1.  قرآن مجید رب العالمین کا نازل کردہ کلام حق ہے (آل عمران 3:60)
  2. قرآن سے ملنے والا علم وہ حق ہے جس کے مقابلے میں ظن و گمان کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ (النجم 53:28)
  3. قرآن مجید کلام الٰہی ہے اور اس کے کلام الٰہی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ یہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرہ 2:2)
  4. اس کلام کو اللہ نے نازل کیا ہے اور وہی اس کی حفاظت کرے گا۔(الحجر15:9)
  5. قرآن ایسا کلام ہے جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں جو بالکل سیدھی بات کرنے والا کلام ہے (الکہف 18:1,2)
  6. قرآن کو واضح عربی کتاب کہا گیا کہ لوگ سمجھ سکیں (یوسف18:1,2)۔
  7.  باطل نہ اس کلام کے آگے سے آ سکتا ہے نہ پیچھے سے۔ (الفصلت 41:42)
  8. یہ کتاب میزان ہے۔ یعنی وہ ترازو ہے جس میں رکھ کر ہر دوسری چیز کی قدر وقیمت طے کی جائے گی۔ (الشوریٰ42:17)
  9. یہ کتاب فرقان یعنی وہ کسوٹی ہے جو کھرے اور کھوٹے کا فیصلہ کرتی ہے۔(الفرقان 25:1)
  10.  تمام سلسلہ وحی پر مہیمن یعنی نگران ہے۔ (المائدہ5:48)
  11. قرآن کریم  لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کرنے کے لیے اتاری گئی ہے۔ (البقرہ2:213)
  12. یہی وہ کتاب ہدایت ہے جس کو ترک کر دینے کا مقدمہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مخاطبین کے حوالے سے پیش کریں گے۔ (الفرقان25:30)

آیاتِ” محکمات” اور “متشابہات”:

قرآن کو درست طریقه سے سمجھنے کے لیے آیاتِ” محکمات” اور “متشابہات” کے فرق کو مکمل طور پر سمجھنا بہت ضروری ہے- اس میں غلطی گمراہی کا راستہ کھول دیتی ہے اور اس کی سمجھ صراط مستقیم پر ڈال دیتی ہے-

هُوَ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِيْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا يَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ ( قرآن 3:7 )

اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں: ایک محکمات، جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دُوسری متشابہات۔ جن لوگوں کو دلوں میں ٹیڑھ ہے، وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور اُن کو معنی پہنانے کی کو شش کیا کرتے ہیں، حالانکہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بخلا ف اِ س کے جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ”ہمارا  اُن پر ایمان ہے، یہ سب ہمارے رب ہی کی طرف سے ہیں” ( قرآن 3:7 )

”آیاتِ محکمات“ :

”آیاتِ محکمات“ سے مراد وہ آیات  ہیں، جن کی زبان بالکل صاف ہے، جن کا مفہوم متعین کرنے میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں ہے (“حکَم” پکّی اور پختہ چیز کو کہتے ہیں)، جن کے الفاظ معنی و مدّعا پر صاف اور صریح دلالت کرتے ہیں، جنہیں تاویلات کا تختہٴ    مشق بنانے کا موقع مشکل ہی سے کسی کو مِل سکتا ہے۔ یہ آیات”کتاب کی اصل بنیاد ہیں“، یعنی قرآن جس غرض کے لیے نازل ہوا ہے ، اُس غرض کو یہی آیتیں پُورا کرتی ہیں۔ اُنہی میں اسلام کی طرف دُنیا کی دعوت دی گئی ہے، اُنہی میں عبرت اور نصیحت کی باتیں فرمائی گئی ہیں، اُنہی میں گمراہیوں کی تردید اور راہِ راست کی توضیح کی گئی ہے۔ اُنہی میں دین کے بُنیادی اُصُول بیان کیے گئے ہیں۔ اُنہی میں عقائد ، عبادات، اخلاق ، فرائض اور امر و نہی کے احکام ارشاد ہوئے ہیں۔ پس جو شخص طالبِ حق ہو اور یہ جاننے کے لیے قرآن کی طرف رُجوع کرنا چاہتا ہو کہ وہ کس راہ پر چلے اور کس راہ پر نہ چلے، اس کی پیاس بُجھانے کے لیے آیات محکمات ہی اصل مرجع ہیں اور فطرةً اُنہی پر اس کی توجہ مرکوز ہو گی اور وہ زیادہ تر اُنہی سے فائدہ اُٹھانے میں مشغول رہے گا۔

متشابہات ، یعنی وہ آیات جن کے مفہُوم میں اشتباہ کی گنجائش ہے۔

یہ ظاہر ہے کہ انسان کے لیے زندگی کا کوئی راستہ تجویز نہیں کیا جا سکتا، جب تک کائنات کی حقیقت اور اس کے آغاز و انجام اور اس میں انسان کی حیثیت اور ایسے ہی دُوسرے بُنیادی اُمور کے متعلق کم سے کم ضروری معلومت انسان کو نہ دی جائیں۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ جو چیزیں انسان کے حواس سے ماورا ہیں ، جو انسانی علم کی گرفت میں نہ کبھی آئی ہیں ،  نہ آسکتی ہیں، جن کو اس نے نہ کبھی دیکھا، نہ چھُوا ، نہ چکھا، اُن کے لیے انسانی زبان میں نہ ایسے الفاظ مل سکتے ہیں جو اُنہی کے لیے وضع کیے گئے ہوں اور نہ ایسے معروف اسالیبِ بیان مِل سکتے ہیں ، جن سے ہر سامع کے ذہن میں ان کی صحیح تصویر کھِنچ جائے۔ لامحالہ یہ ناگزیر ہے کہ اس نوعیت کے مضامین کو بیان کر نے کے لیے الفاظ اور اسالیبِ بیان وہ استعمال کیے جائیں، جو اصل حقیقت سے قریب تر مشابہت رکھنے والی محسُوس چیزوں کے لیے انسانی زبان میں پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ مابعد الطبیعی مسائل کے بیان میں قرآن کے اندر ایسی ہی زبان استعمال کی گئی ہے اور متشابہات سے مراد وہ آیات ہیں ، جن میں یہ زبان استعمال ہوئی ہے۔

لیکن اِس زبان کا زیادہ سے زیادہ فائدہ بس اتنا ہی ہو سکتا ہے کہ آدمی کو حقیقت  کے قریب تک پہنچا دے یا اس کا ایک دُھندلا سا تصوّر پیدا کردے۔ ایسی آیات کے مفہوم کو متعین کرنے کی جتنی زیادہ کوشش کی جائے گی ، اتنے ہی زیادہ اشتباہات و احتمالات سے سابقہ پیش آئے گا، حتٰی کہ انسان حقیقت سے قریب تر ہونے کے بجائے اَور زیادہ دُور ہوتا چلا جائے گا۔ پس جو لوگ طالبِ حق ہیں اور ذوقِ فضول نہیں رکھتے، وہ تو متشابہات سے حقیقت کے اُس دُھندلے تصوّر پر قناعت  کر لیتے ہیں جو کام چلانے کے لیے کافی ہے اور اپنی تمام تر توجہ محکمات پر صرف کرتے ہیں، مگر جو لوگ بُوالفضول یا فتنہ جو ہوتے ہیں ، اُن کا تمام تر مشغلہ متشابہات ہی کی بحث و تنقیب ہوتا ہے۔

یہاں کسی کو یہ شبہہ نہ ہو کہ جب وہ لوگ متشابہات کا صحیح مفہُوم جانتے ہی نہیں،  تو ان پر ایمان کیسے لے آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک معقول آدمی کو قرآن کے کلام اللہ ہونے کا یقین محکمات کے مطالعہ سے حاصل ہوتا ہے، نہ کہ متشابہات  کی تاویلوں سے۔ اور جب آیات ِ محکمات میں غور و فکر کرنے سے اس کو یہ اطمینان حاصل ہو جاتا ہے کہ یہ کتاب واقعی اللہ ہی کی کتاب ہے، تو پھر متشابہات اس کے دل میں کوئی خلجان پیدا نہیں کرتے۔ جہاں تک ان کا سیدھا سادھا مفہُوم اس کی سمجھ میں آجاتا ہے ، اس کو وہ لے لیتا ہے اور جہاں پیچیدگی رونما ہوتی ہے، وہاں کھوج  لگانے اور موشگافیاں کرنے کے بجائے وہ اللہ کے کلام پر مجمل ایمان لا کر اپنی توجہ کام کی باتوں کی طرف پھیر دیتا ہے-(تفہیم القرآن)

متشابہات سے گمراہی کی ایک مثال:

متشابہات کی پیروی کی وجہ سے نصاریٰ جس قسم کی گمراہیوں میں مبتلا ہوئے اس کو ایک مثال سے واضح کرنا مفید رہے گا۔ قرآن اور انجیل دونوں اس امر میں باہم متفق ہیں کہ حضرت مسیحؑ کلمۃ اللہ ہیں۔ کلمتہ اللہ کا مفہوم بالکل واضح ہے کہ اس سے امر و حکم کی تعبیر کی جاتی ہے۔ حضرت مسیحؑ کی پیدائش چونکہ فطرت کے عام ضابطے کے خلاف ہوئی تھی اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے کلمہ سے تعبیر کیا یعنی ان کی ولادت اللہ تعالیٰ کے کلمہ ’’کن‘‘ سے ہوئی ہے۔ یہ اس حقیقت کا اظہار تھا کہ اصل شے کسی چیز کے واقع ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ کا حکم ہی ہے۔ اسباب محض ظاہر کا پردہ ہیں۔ یہ بات قرآن میں نہایت وضاحت سے بیان ہوئی ہے اور اس میں کسی قسم کا ایچ پیچ نہیں ہے جس سے کسی صاف ذہن کے آدمی کے اندر کوئی الجھن پیدا ہو سکے۔ قرآن نے نہایت غیر مبہم الفاظ میں فرمایا ہے۔اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَاللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ خَلَقَہٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ۔ (آلِ عمران۔ ۵۹) (بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک ایسی ہے جیسی آدم کی، آدم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر اس سے کہا کہ ہو جا بس وہ ہو گیا) یعنی آدم کو کلمۂ ’’کن‘‘ کے ذریعے سے حی و ناطق بنایا۔ اسی چیز کو دوسری جگہ نفخ روح سے تعبیر فرمایا ہے۔ بعینہٖ یہی معاملہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہے۔ نصاریٰ نے اس واضح بات میں جو تحریف کی اس کی صورت یہ ہوئی کہ جب ان کو بت پرست قوموں سے سابقہ پیش آیا اور ان کے ساتھ ان کی مذہبی بحثیں شروع ہوئیں تو انھوں نے ان پر یہ اعتراض شروع کیا کہ تم تو ایک مصلوب خدا کی پرستش کرتے ہو، ہم تم سے ہزار درجے افضل ہیں اس لیے کہ ہم آسمانی دیوتاؤں کی پرستش کرتے ہیں۔ نصاریٰ نے اپنے حریفوں کے اس اعتراض سے بچنے کے لیے یہ کوشش کی کہ اپنے عقیدے کو بھی انھی کے عقیدے کے سانچے میں ڈھال دیں۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ مسیح تو ابن اللہ ہیں، وہ مخلوق نہیں ہیں۔ اپنے اس نئے عقیدے کی آرائش کے لیے انھوں نے ایک طرف تو یونانیوں، مجوسیوں اور ہندوؤں کے فکر و فلسفہ سے مواد لیا اور دوسرے ان یہودی متکلمین کے علم کلام سے رہنمائی حاصل کی جو یہود کے آخری دور کی پیداوار تھے اور جو نہ صرف خالق اور مخلوق کے درمیان وسائل و وسائط کے قائل تھے بلکہ ان کو مستقل ذوات کا درجہ دیتے اور ان کو کلمتہ اللہ کہتے تھے۔ نصاریٰ نے بعینہٖ یہی عقیدہ حضرت عیسیٰؑ کے لیے اختیار کر لیا۔ کچھ عرصے تک تو بات اسی حد تک رہی لیکن آہستہ آہستہ گمراہی سے گمراہی پیدا ہونی شروع ہوئی اور انھوں نے ان کو خدا کا کفو، اسی کے جوہر سے اور ازل سے اس کے ساتھ قرار دے دیا۔ اور پھر اس عقیدے کی تائید کے لیے انجیل یوحنا کے آغاز میں تحریف کے چور دروازے سے بعض عبارتیں بھی داخل کر دیں تاکہ باہر سے برآمد کیے ہوئے اس عقیدے کے لیے گھر کی ایک دلیل بھی فراہم ہو جائے۔ وَمَا یَعْلَمُ الآیۃ، پر وقف ہے: وَمَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَہٗ اِلَّا اللّٰہ (اور اس کی اصل حقیقت نہیں جانتا مگر اللہ ) اوپر کی تفصیلات سے یہ بات آپ سے آپ واضح ہو گئی کہ یہاں وقف ہے۔ یہی مذہب جمہور اہل سنت کا ہے اور یہی حضرت ابن عباسؓ ، حضرت عائشہؓ، حضرت علیؓ، حضرت حسنؓ، مالک بن انسؓ، کسائی اور فراسے منقول ہے۔(تدبر قرآن)

(The Book He has sent down bears an important Principle.) He it is Who has revealed to you (O Prophet) the Scripture. In it some verses are Literal, while some verses are Allegorical. The verses that pertain to Permanent Values have been presented literally. These verses, MUHKAMAT, are the Essence of the Divine Law. On the other hand, abstract phenomena, historical events, and the World of the Unseen are described in similes, metaphors and allegories for your understanding (MUTASHABIHAT). But those who are given to crookedness in their hearts pursue the allegories and try to give them literal meanings, thus creating dissension. None knows their final meaning (of such as the Essence of God, His Throne, His Book of Decree, the Eternity) but Allah. Those who are well founded in knowledge understand why the allegories have been used and they keep drawing lessons from them (74:31). They proclaim the belief that the entire Book is from their Lord. As the human knowledge evolves, many of the other allegories will unfold their literal meaning (41:53). But only the men and women of understanding will bear this fact in mind. (Each of the verses in the Qur’an is MUHKAM, Absolute Truth and you can understand which ones are to be taken literally and which ones are to be taken allegorically, by the context (11:1), (47:20). And each verse in the Book complements the other (39:23)).

Quran on Quran 6.55 Minutes English & Urdu

قرآن کو ‘حدیث’ بھی کہا گیا:

فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ( المرسلات 77:50)

اب اِس (قرآن) کے بعد اور کونسا کلام  (حدیث) ایسا ہو سکتا ہے جس پر یہ ایمان لائیں؟ ( المرسلات 77:50)

.فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ (الأعراف 7:185)

پھر(قرآن) کے بعد کس حدیث پر یہ لوگ ایمان لائيں گے (الأعراف 7:185)

.تِلْكَ آيَاتُ اللَّـهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّـهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ(الجاثية45:6)

یہ الله کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل سچی پڑھ کر سناتے ہیں پھر اللہ اور اس کی آیتوں کو چھوڑ کر کونسی حدیث پر ایمان لائیں گے، (الجاثية45:6)

.فَلْيَأْتُوا بِحَدِيثٍ مِّثْلِهِ إِن كَانُوا صَادِقِينَ ﴿ الطور 52:34﴾

اگر یہ اپنے اِس قول میں سچے ہیں تو اِسی (قرآن کی) شان کی ایک حدیث  (بِحَدِيثٍ مِّثْلِهِ) بنا لائیں ( الطور 52:34)

قرآن کی عظمت، آیات کا منکر اورعذاب

اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں قرآن مجید کی حیثیت بیان کی ہے- جو کچھ قرآن مجید کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے وہ کسی دوسری چیز کے بارے میں نہیں کہا۔ قرآن مجید کے سوا کسی اور مذہبی کتاب، کسی پیغمبرسے منسوب کلام، کسی عالم اور محقق کی رائے کے بارے میں اللہ تعالیٰ اس طرح کی کوئی بات نہیں کہتے۔ اس لیے جو کوئی بھی قرآن کی آیات مبارکہ کے بارے میں شک شبہ ، تامل کرے ، اگر مگراورتاویلوں سے ان کو بے اثر کرنے کی کوشش کرے, انکار کرے تو وہ اچھی طرح سمجھ لے کہ وہ الله کی نافرمانی کی جرأت کر رہا ہے۔ اصحاب سبت  کا واقعہ ایک سبق ہے- (قرآن 7:163,166, 2:65,66).

1.وَيْلٌ لِّكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ﴿٧﴾ يَسْمَعُ آيَاتِ اللَّـهِ تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا ۖ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ  (الجاثية45:7)

ہر سخت جھوٹے گناہگار کے لیے تباہی ہے (7) جو آیات الہیٰ سنتا ہے جو اس پر پڑھی جاتی ہیں پھر نا حق تکبر کی وجہ سے اصرار کرتا ہے گویاکہ اس نے سنا ہی نہیں پس اسے دردناک عذاب کی خوشخبری دے دو  (الجاثية45:8)

2.هَـٰذَا هُدًى ۖوَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّن رِّجْزٍ أَلِيمٌ  (الجاثية45:11)

“یہ (قرآن) تو ہدایت ہے اور جو اپنے رب کی آیتوں کے منکر ہیں ان کے لیے سخت دردناک عذاب ہے”(الجاثية45:11)

  1.  لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّـهِ [ کلمات اللہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ہے] (یونس 10:64)

قرآن اور أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ , سنت رسول الله ﷺ 

لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّـهَ كَثِيرًا ﴿ الأحزاب٢١

در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے ( الأحزاب 21)

أَطِيعُوا الرَّسُولَ

الله کا  نے رسول الله ﷺکی اطاعت کا حکم  بھی دیا ہے (أَطِيعُوا الرَّسُولَ)

وَمَآاَرْسَلْنَامِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ  (قرآن 4:64)

“اور ہم نے جو پیغمبر بھیجا ہے اس لئے بھیجا ہے کہ خدا کے فرمان کے مطابق اس کا حکم مانا جائے”(قرآن 4:64)

  1. قُلْ أَطِيعُوا اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ ﴿آل عمران: ٣٢﴾
  2. وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ﴿آل عمران: ١٣٢﴾
  3. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا ﴿النساء: ٥٩﴾
  4. وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَاحْذَرُوا فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿المائدة: ٩٢﴾
  5. يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنفَالِ قُلِ الْأَنفَالُ لِلَّـهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّـهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَسُولَهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿الأنفال: ١﴾
  6. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿الأنفال: ٢٠﴾
  7. وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّـهَ مَعَ الصَّابِرِينَ ﴿الأنفال: ٤٦﴾
  8. قُلْ أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿النور: ٥٤﴾9. وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ﴿النور: ٥٦﴾
  9. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ ﴿محمد: ٣٣﴾
  10. أَأَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَتَابَ اللَّـهُ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَاللَّـهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ﴿المجادلة: ١٣﴾
  11. وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَإِنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿التغابن: ١٢﴾

دین اسلام اپنے کمال ، عروج پر پہنچ گیا ، جب حجتہ الوداع کے دن یہ آیت نازل ہوئی:

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ

(اور) آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا (perfected) اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا (قرآن 5:3)

رسول الله کے بعد بھی خلفاء راشدین نے قرآن پر توجہ مرکوز رکھی ، کتابت مکمل ہوئی اور قرآن کے نسخے اسلامی دنیا میں پھیلا دیے. مگر کتاب الله صرف ایک ، کتابت حدیث پر بہت غور و فکر کے بعد حضرت عمر نہیں فیصلہ دیا کہ  کتاب الله کے علاوہ کوئی کتاب نہیں ہو گی ، پہلی اقوام کتاب الله کو چھوڑ کر تباہ و گمراہ ہو گیئں- سنت رسول موجود تھی اور تواتر سے سینہ بہ سینہ ، نسل در نسل منتقل ہوتی رہی- اسلام کے بنیادی احکام اور عبادات میں کوئی کمی نہ ہوئی – نماز ، زکات ، روزہ ، حج کے احکام تو قرآن میں موجود ہیں مگر تفصیل اور طریقه رسول الله ﷺ کی سنت سے منتقل ہوتا رہا-متواتر سنت کو امام جلال الدین سیوطی نے اکٹھا کیا جو 113 کی تعداد ہے یہ اتنے جم غفیر ، زیادہ لوگوں نے بیان کیا کہ ان میں کوئی شک نہیں رہتا ، ان میں بنیادی عبادات اور احکامات بھی ہیں- ان کو کتاب “قطف الازہر متناتھرہ فی الخبار المتواتر” [ Qatf al-Azhar al-Mutanathara fi al-Akhbar al-Mutawatirah] میں لکھ دیا- کہتے ہیں کہ  متواتر سنت کی حثیت قرآن کی آیات کے قریب ہے ، ان کا انکار کفر کہا جاتا ہے- احادیث کی مشہور کتب تیسری صدی حجرہ میں اس وقت موجود زبانی رویات اور تحریروں کی مدد سے بہت محنت سے کتابی صورت میں ایک عظیم علمی خزانہ ہے، جس سے صرف نظر کرنے کی کوئی گنجائش نہیں- اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جاتا ہے ، کچھ تحقیقی مضامین پڑھے جا سکتے ہیں-الله نے عقل و شعور عطا کیا ہے ، قرآن و سنت کی موجودگی میں اسلام محفوظ ہے اس کو کوئی خطرہ نہیں-

اگر تمام دنیا سے تمام کتابیں ختم ہو جایئں، تو بھی لاکھوں ، کروڑوں مسلمان حفاظ ہر گاؤں، شہر میں بیٹھ کر قرآن لکھ ڈالیں گے ، اور تمام عبادات اور اسلام کے بنیادی ستون .. عملی پریکٹس سے موجود رہیں گے تا قیامت …

مسلمان نماز میں “آمین ” بلند آواز سے کہیں یا آھستہ ، رفع یدین ایک مرتبہ کریں یا ہر رکعت میں، فروعی اختلافات فرقہ واریت کا جواز نہیں، جس کی قرآن میں سختی سے ممانعت ہے – (مزید پڑھیں )

فرقہ واریت کی ممانعت:

قرآن میں اللہ تعالٰی نے مسلمانوں میں اختلاف پیدا کرنے اور مختلف فرقوں میں بٹ جانے سے منع فرمایا ارشاد باری تعاٰلی ہے:

إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ ۚ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّـهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ( ١٥٩ سورة الأنعام)

“جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے یقیناً ان سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں، ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے، وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے-

وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ

’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘( آل عمران،3 :103)

تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈالا اور اختلاف کی انہی لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے۔ (ال عمران۔ ١٠٥)

علم حدیث , فرقہ واریت اورقران – تحقیقی  مضامین >>>>>

کلام الله پرایمان  عمل مسلمان پرفرض ہے:

1.وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ (2:256قرآن )

ہم نے حکم سنا اور اطاعت قبول کی (2:256قرآن )

2.وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَ ۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِ مُلْتَحَدًا (قرآن18:27

اور اپنے پروردگار کی کتاب جو تمہارے پاس بھیجی جاتی ہے پڑھتے رہا کرو۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاؤ گے(18:27قرآن)

3.وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا (قرآن18:28)

اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے اس کا کہا نہ ماننا (18:28قرآن)

4.وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا (قرآن25:73)

“اور جب انہیں ان کے پروردگار کی آیتوں کے ذریعہ سے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ بہرے اور اندھے ہوکر ان پر گر نہیں پڑتے (بلکہ ان میں غور و فکر کرتے ہیں)۔  (قرآن25:73)

…………………….

قرآن کریم قطعی طور پر ایک مکمل و با ضابطہ کتاب هے، چند الہٰی احکام اور کلمات پیش خدمت هیں.!
اور یہ برکت والی کتاب همیں نے اتاری هے، پس اسی کا اتبّع کرو اور مقام خدا سے ڈرو تا کہ تم پر رحم کیا جا سکے؛ (القرآن)
جو تم پر تمہارے پروردگار کی جانب سے نازل هوئی هے صرف اسی کی پیروی کرو اور اسکے سوا دیگر ولیوں کے پیروکار نہ بنو؛ (القرآن)
بیشک یہ قرآن وه راستہ هے کہ جو مومنوں اور صالح عمل کرتے والوں کو بشارت دینے والا هے کہ انکے لئے بہت بڑا اجر هے؛ (القرآن)
اور هم نے اس قرآن میں سب باتیں تمام تر مثالیں دیکر بیان کر دی هیں، مگر لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد اسکو قبول نہیں کرتی اور اس بات سے انکاری هے؛ (القرآن)
اور اپنے پروردگار کی کتاب جو تم پر نازل کی گئی هے بس اسے پڑهتے رها کرو بیشک اسکی باتوں کا کوئی متبادل نہیں هے؛ (القرآن)
اور قرآن میں انسانوں کے سمجهنے کیلئے تمام تفصیلات طرح طرح کی مثالیں پیش کر کے بیان کر دی گئیں هیں مگر انسانوں کی ایک کثیر تعداد هر شئے میں جهگڑتی هی رهتی هے؛ القرآن)
اور هم نے قرآن کو عربی میں اسطرح نازل کیا هے کہ اس میں طرح طرح کی تنبیہیں هیں تا کہ لوگ اتقاء کریں اور ان باتوں سے انکے لئے عبرت پیدا هو سکے؛ (القرآن)
اور کفار کہتے هیں کہ اس پر قرآن ایک هی دفعہ اکٹها کیوں نازل نہیں هوا، اسے اس طرح آہستہ آہستہ اسلئے اتارا گیا هے کہ اس سے تمہارے قلب کو قائم رکهیں، اور اس واسطے هم اسکو ٹهہر ٹهہر کر پڑهتے هیں، اور یہ لوگ جو تمہارے پاس اعتراضات والی باتیں لاتے هیں هم تمہارے پاس اسکا برحق جواب اور بہترین تفسیر بهیج دیتے هیں؛ (القرآن)
اور وه کہ جب انکو پروردگار کی آیات بتائی جاتی هیں تو وه ان پر اندهے اور بہرے هو کر گر نہیں پڑتے؛ (القرآن)
اور هم نے لوگوں کے سمجهنانے کیلئے اس قرآن میں تمام باتفصیل مثالیں بیان کر دی هیں؛ (القرآن)
یہ کتاب جو هم نے تم پر نازل کی هے بہت بابرکت هے تا کہ لوگ اسکی آیات پر تدبر کریں اور اهل عقل و علم نصیحت پکڑ سکیں؛ (القرآن)
اور هم نے لوگوں کیلئے اس قرآن میں باتفصیل هر طرح کی مثالیں بیان کر رکهی هیں تا کہ لوگ نصیحت حاصل کر سکیں،یہ قرآن عربی میں هے جس میں کسی قسم کی کوئی نقص و کمی نہیں تا کہ وه ڈریں سکیں؛ (القرآن)
اور هم نے قرآن کو سمجهنے کیلئے بیحد آسان کر دیا هے پس کوئی هے کہ جو غور و فکر کرے؛ (القرآن)

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

قرآن حکیم سب سے بڑا معجزہ

اور کہتے ہیں کہ یہ (پیغمبر) اپنے پروردگار کی طرف سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے۔ کیا ان کے پاس پہلی کتابوں کی نشانی نہیں آئی؟ .[Continue reading…]

علم حدیث , فرقہ واریت اورقران – تحقیقی  مضامین >>>>>

حدیث کی کتابت قران کی طرح خلفاء راشدین نے کیوں نہ کی ؟
حادیث کے وحی ہونے یا نہ ہونے کی جہت سے بعض علماءِ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کے دو حصے مقرر کر دیئے اور کہا کہ آپؐ کا ہر قول و فعل تو وحی نہیں البتہ آپؐ...[Continue reading…]

وحی متلو (قرآن ) اور غیر متلو (حدیث ) – تحقیقی جائزہ

قرآن کے بعد سنت رسول الله ﷺ اسلام کے بنیادی ماخذ میں شامل ہیں – قرآن کو جس  محتاط اور خاص انداز میں زبانی اور تحریری طور پر محفوظ کیا گیا ، احادیث کے معاملہ میں ابتدائی صدی میں ایسا اہتمام مفقود ہے – روایات… [Continue reading…]

اقوام کے عروج و زوال کا قانون اور قرآن [Continue reading…]

فہم و تدبر قرآن

قرآن کا بہترین تعارف قرآن خود کراتا ہے : قرآن مجید اور سنت اسلام کی بنیاد ہے- قرآن پر عمل سے فرقہ واریت کا سد باب کیا جاسکتا ہے- قرآن کی ہر آیات اہم ، قابل غور و فکر…[Continue reading…]

مزید مضامین… قرآن  ::>>>>>  

…………………………………………………….